Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

میرے درد سے بےخبر

ازقلم صبا مغل

EPISODE 17

وہ کافی سروو کرکے جانے لگی ۔۔ کئی دفعہ پلٹ کر انشاء نے دیکھا شاید اسے بیٹھنے کو کہے گا دونوں میں سے کوئی ۔۔۔ پر کسی نے اسے نہ کہا ۔۔۔ اس لیۓ وہ چپ چاپ کمرے میں اگئی ۔۔۔

آج نیند بھی انکھوں سے کوسوں دور تھی جو انے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔
کتنی دیر وہ کروٹ پر کروٹ بدلتی رہی ۔۔۔ پر نیند آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔۔۔

“اپنی اس بےچینی کو کیا نام دوں ۔۔۔ تھک کر انشاء نےخود سے کہا ۔۔۔

“پسند یا محبت ۔۔۔ شاید عیان کو میں پسند کرنے لگی ہوں ۔۔۔ نہیں شاید محبت ۔۔۔ اندر کی اس آواز پر وہ اٹھ بیٹھی ۔۔۔

“نہیں ایسا نہیں ہوسکتا , میں ایمان کے ساتھ بےوفائی نہیں کرسکتی ۔۔۔

انشاء نے اپنا سر دونوں ہاتھوں پر گرالیا “کیوں ہورہا ہے میرے ساتھ کیوں ہورہا یہ سب ۔۔ یا اللہ علیزے چلی کیوں نہیں جاتی وہ چلی جائے عیان کسی اور کو دیکھۓ مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔

خود سے لڑتی لڑتی وہ سوگئی کب پتا ہی نہیں چلا اور صبح انکھ کھلتے ہی سب سے پہلے اس نے اپنے پہلو میں دیکھا عیان کو بےخبر سوتا دیکھ کر دل کو سکوں ایا ۔۔۔ شاید وہ ڈرگئی تھی کہیں کمرے میں ہی آۓ نہ سونے کے لیۓ ۔۔۔

” رات کو کب آئے کمرے میں مجھے محسوس ہی نہیں ہوا اور میں اتنی بے خبر سو رہی تھی کہ میں نے ان کا انا محسوس ہی نہیں کیا ۔۔۔

خود سے کہتی وہ بال سمیٹتی اٹھ بیٹھی ۔۔۔ وہ فریش ہونے کے لیۓ واشروم گئی ۔۔۔

@@@@@@@

وہ ڈائینگ پر ناشتہ لگوا رہی تھی ۔۔۔ اسی وقت عیان اور علیزے ساتھ ارہے تھے نیچے ۔۔۔

عیان نے اج بھی اس کا سلیکٹ کیا سوٹ نہیں پہنا تھا انشاء کے دل میں ہوک سی اٹھی ۔۔۔

اب دونوں کا ساتھ میں انا اسے غور کرنے پر مجبور کررہا تھا ۔۔ وہ دونوں ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے ۔۔ جانے کیوں وہ علیزے کو خود سے کمپیئر کررہی تھی ۔۔۔ ہر بار انشاء کو خود سے زیادہ وہ بہترین لگی ۔۔۔

“شاید میرا دماغ خراب ہوگیا ہے جو ایک لڑکی کو خود کے حواس پر سوار کرلیا ہے ۔۔۔ نازیہ بھابھی نا بتاتی علیزے عیان کو پسند کرتی ہے تو شاید میں اس مشکل میں نہ ہوتی ۔۔ واقعی بےخبری بڑی نعمت ہے ۔۔۔ انشاء نے خود سے کہا اور خود سرزش کی ۔۔۔

“اور شاید تم نے اپنی جگہ خالی نہ چھوڑی ہوتی تو یہ حال نہ ہوتا تمہارا ۔۔۔ اندر سے آواز آئی انشاء کو ۔۔

“عیان تمہاری بیوی خود سے بہت بات کرتی ہے دیکھ لو ۔۔۔ علیزے نے اس کی توجہ انشاء پر کرائی ۔۔۔ انشاء شرمندہ ہوئی اپنی بیوقوفی پر ۔۔۔

“اچھا مجھے تو ایسا نہیں لگتا ۔۔۔ آؤ تم ناشتہ کرو ۔۔۔ وہ دونوں ڈائینگ پر آۓ ۔۔ عیان نے اس کی بات کو چٹکی میں اڑادیا ۔۔

انشاء عیان کے ساتھ والی چیئر پر بیٹھ گئی اور اسے سروو کرنے لگی ۔۔ عیان حیران ہوا اس کی کایا پلٹنے پر ۔

“انشاء ریلکس ہوجاؤ , میں خود لے لوں گا ۔۔ عیان نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔

“جی ۔۔۔

اب سینڈوچ علیزے کی طرف کیۓ ۔۔۔

“آپ لیں علیزے ۔۔ انشاء نے دل پر پتھر رکھ کے کہا ۔۔۔کیونکہ عیان کی خوشی کے لیۓ وہ علیزے کو ویلیو دے رہی تھی ۔۔

“تھینکس۔۔۔ کہے کر ۔۔۔ ایک پیس لیا علیزے نے ۔۔۔

ناشتے کے بعد عیان نے کہا ۔۔۔ ” پھر کیا پروگرام ہے تمہارا چلنا ہے آفیس ۔۔۔ عیان نے علیزے سے کہا ۔۔۔

“علیزے گھر پر رہیں گی , سارا دن کل اپ کو کمپنی دی اج میرے ساتھ وقت گزاریں گی ۔۔ کیوں علیزے ۔۔۔ انشاء نے مسکرا کر جلدی سے کہا ۔۔ علیزے کے جواب دینے سے پہلے ۔۔۔

اب انشاء مسکرا رہی اس کی طرف دیکھ کر ۔۔ انشاء سمجھ رہی تھی علیزے کو تکلیف ہوئی ہوگی اس بات پر ۔۔

عیان دونوں کو عجیب نظر سے دیکھ رہا تھا زیادہ حیرت انشاء پر تھی اسے ۔۔ “لگتا کل رات کی ڈانٹ کا اثر ہے ۔۔ عیان نے سوچا ۔۔۔

“ہان , میں ٹھر جاتی پر مجھے ضروری جانا ہے , کوئی بات نہیں ہم شام میں کمپنی کرلیں گے ۔۔۔ پر علیزے بھی کم نہ تھی اسے دل جلانے والی سمائل دے کر کہا ۔۔۔

“پر علیزے انشاء اتنا دل سے کہے رہی ہے تم ٹھر جاؤ ۔۔ عیان نے کچھ سوچ کر کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ٹھر جاتی ہوں جلدی انا آفیس سے ۔۔۔ علیزے نے افسردہ لہجے میں کہا ۔۔۔ انشاء کو بےانتہا خوشی ہوئی کہ وہ روک پائی اسے جانے سے ۔۔

“اوکے اللہ حافظ … عیان کہے کر چلا گیا ۔۔۔

@@@@@@

نہ انشاء کو دلچسپی تھی علیزے میں اور نہ علیزے کو کوئی خاص انٹرسٹ تھا انشاء میں ۔۔۔ اس لیۓ چند ایک بات کے سوا کوئی بات نہ ہوئی ان کے بیچ ۔۔۔

انشاء تو مجبور تھی اسے کمپنی دینے پر کیونکہ اس نے اسے روکا تھا آفیس جانے سے ۔۔۔ اسی لیے مسلسل دونوں ساتھ ہی بیٹھی تھیں ۔۔۔ اور شاید پہلی دفعہ ہوگا دو عورتین ساتھ بیٹھیں ہوں اور وہ بھی خاموش ۔۔

“کوئی مووی لگادو انڈین ۔۔۔ علیزے نے کہا ۔۔

“میں نہیں دیکھتی ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔۔

“چلو ٹی وی پر کچھ لگادو ۔۔۔ انشاء نے اٹھ کر ٹی وی آن کی ۔۔۔ اور دونوں خاموشی سے دیکھنے لگی ۔۔۔ علیزے مسلسل موبائل پر چیٹنگ میں بزی تھی ۔۔۔ انشاء کو سبکی سی محسوس ہورہی تھی ۔۔۔ علیزے کے ایسے بیہیوو پر ۔۔۔۔

علیزہ نے خود ہی ٹی وی کا کہا تھا خود ہی نییں دیکھ رہی تھی ۔۔۔کشن گود میں رکھے مزے سے ادھی لیٹی پوزیشن میں تھی ۔۔۔

“ابھی عیان یہان بیٹھا ہو تو اس کی زبان نہ رکے بول بول کر ۔۔۔ اور اب دیکھو کیسے بیٹھی ہے گونگی بہری ہو ۔۔۔ انشا نے چڑ کر سوچا۔۔۔

“لا حول کیا بول رہی ہوں میں ۔۔۔ انشاء نے خود کو سرزنش کی ۔۔۔

” کچھ سنیکس وغیرہ لاؤں ۔۔۔ انشاء نے مہمانوازی نبھاتے ہوۓ پوچھا ۔۔۔

“ہان … کےایف سی جیسے فرینچ فرائز بنانا اتے ہوں تو وہ کھانے کا موڈ ہے ۔۔۔ علیزے نے مزے سے کہا ۔۔۔

“مہارانی ہو جیسے اور ہم جیسے اس کے غلام , بول تو کیسے رہی ہے ۔۔۔ انشاء نے سوچا ۔۔۔

“دیکھتی ہوں ملازم سے کہے کر بنواتی ہوں ۔۔۔ انشاء نے اٹھتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ہمممم ٹھیک ہے اور ذرہ نظر رکھا کرو ملازمون پر ٹھیک سے کام کرتے ہیں کہ نہیں ۔۔ علیزے نے اسے کہا ۔۔۔

“ہمممم کہے کر وہ چلی گئی ۔۔۔

@@@@@@@@

ابھی ملازم فرینچ فرائز لے کر ایا تھا اور ٹیبل پر رکھے ۔۔۔ اسی وقت لاؤنج کا دروازہ کھول کر عیان ایا ۔۔۔

انشاء نے حیرت سے دیکھا اسے اس طرح اتے دیکھ کر ۔۔۔ وہ بھی اتنا جلدی ۔۔۔

“کیا ہوا علیزے ایسے کیسے گرگئی دھیان سے نہیں چل سکتی ۔۔۔ عیان نے فکر سے کہا ۔۔۔

اسی وقت علیزے اٹھی اور ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

“دیکھا کیسے بلا لیا ۔۔۔ ہممم آۓ ہو تو چلو گھومنے چلتے ہیں ۔۔۔

“‘تمہارا دماغ درست ہے ایسے بھی کوئی مذاق کرتا ہے ۔۔۔عیان نے تھوڑا تیز لہجے میں کہا ۔۔۔

” انشاء دیکھو تمھارا شوہر کیسے اگیا ۔۔۔ لو میں شرط جیت گئی ۔۔۔ علیزے نے ہنستے ہوۓ اسے اپنے مذاق کا حصہ ظاہر کیا ۔۔۔

“شرط ۔۔۔ کیسی ۔۔۔ انشاء حیران تھی ۔۔۔

“ارے شرط ۔۔۔ لو میں جیت گئی ۔۔۔ علیزے نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔

“عیان میں شدید بور ہورہی تھی ۔۔۔ علیزہ نے بے چارگی سے کہا ۔۔۔ معصوم سے انداز میں منہ بنا کر بیٹھ گئی ۔۔۔

“علیزے تو ایسی ہے شرارتی تم تو سمجھدار ہو انشاء ۔۔ کم ازکم تم تو روک دیتی اسے ۔۔۔ عیان نے انشاء سے کہا ۔۔۔۔

عیان نے ابھی انشاء سے کہا ۔۔۔ پر علیزے نے انشاء کو موقع دیۓ بغیر کہا ۔۔۔

” ہاں انشاء تم مجھے روکتی تو رک جاتی شاید , میں یہ مذاق نہ کرتی عیان سے ۔۔۔ علیزے نے انشاء کو انکھ ماری عیان کی نظر سے بچا کر اور کہا ۔۔۔

انشاء اس جھوٹی لڑکی کی ڈھٹائی پر حیران ہوئی جو اسے بولنے کا موقع بلکل نہیں دے رہی تھی ۔۔۔۔ اب خود مزے سے عیان کو سوری کررہی تھی ۔۔۔ انشاء ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔

“جاؤ عیان کے لیۓ بھی فرائز لاؤ ۔۔۔ علیزے نے انشاء سے کہا ۔۔۔

وہ پلیٹ میں لے کر واپس آئی تو وہ ایک ہی پلیٹ سے کھا رہے تھے ۔۔ انشاء اچھی طرح سمجھ گئی علیزے اسے منظر سے ہٹانا چاہ رہی تھی ۔۔۔

کسی بھی بیوی کے لیۓ یہ تکلیف کا مکان تھا اس کا شوہر کسی اور لڑکی کے اتنا قریب ہو ۔۔۔

“تم جانتی ہو کتنی ضروری میٹنگ سے اٹھ کر ایا ہوں ۔۔۔ عیان اسے بتا رہا تھا ۔۔۔

“ہان جانتی ہوں اس عمر کھمبے نے سنبھال لیا ہوگا ۔۔۔ علیزے نے لاڈ سے کہا ۔۔۔

“اف علیزے تمہارا سدھرنا ناممکن ہے ۔۔۔

“جانتی ہوں ۔۔۔ علیزے نے مزے سے کہا ۔۔۔۔

“منہ کھولو چپس کھاؤ , تمہارا کک کمال کا ہے بلکل کے ایف سی جیسے بناۓ ہیں ۔۔۔ وہ مزے سے اس کے منہ میں چپس ڈالتی ہوئی بول رہی تھی ۔۔۔

انشاء پر حیرتوں کے پہاڑ گررہے تھے ۔۔

انشاء سے برداش نہ ہوا اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔ انکھوں میں پانی سا جمع ہونے لگا ۔۔۔

“اکلوتے پن نے تم کو بگاڑ دیا ہے علیزے , سدھر جاؤ عمر دیکھو اور بچپنا دیکھو تمہارا ۔۔۔ عیان نے شرمندہ کرنا چاہا ۔۔۔

پر وہ علیزے کیا جس کے پروں پر پانی پڑا ہو ۔۔۔ وہ بغیر شرمندگی کے بولی ۔۔۔

“ہمممم تو تم چاہتے ہو تمہاری بیوی کی طرح کم عمری میں خود میں بوڑھی روزح سمالوں ۔۔۔ ہے نا ۔۔۔ علیزے نے کہا ۔۔۔

“اب ایسا بھی نہیں کہا تم سے میں نے ۔۔۔ پر تم تو بلکل بچی بن جاتی ہو کبھی شرارتوں میں ۔۔۔

“وہ تو ہے ۔۔۔ کیا کروں میں ایسی ہی ہوں ۔۔۔ علیزے نے شانے اچکاتے ہوئے کہا ۔۔۔

“ویسے حد ہے انشاء پر شرط کا الزام لگا کر اسے صفائی کا موقع تک نہ دیا تم نے ۔۔۔۔ وہ لفظ چنتی رہے گئی اور تم نے اسے موقع بھی نہیں دیا بولنے کا ۔۔۔ اس کی معصومیت کا زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہو تم ۔۔۔۔

عیان نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ہاہاہا ۔۔۔۔ ویسے ہی تم کو بےوقوف سمجھا میں نے , تم تو بڑے تیز نکلے عیان میان ۔۔۔ شرارتی لہجے میں علیزے نے کہا ۔۔۔

“سدھر جاؤ ۔۔۔ عیان نے ٹوکا ۔۔۔

“اگلے جنم جناب ۔۔۔ علیزے نے کہا ۔۔۔

“اچھا نہیں تنگ کرتی تمہاری معصوم بیوی کو ۔۔۔ اگر تم سمجھ ہی گۓ تھے میرے مذاق کو , تو کیوں اس سے بازپرس کی تھی تم نے ۔۔۔ علیزے نے یاد انے پر پوچھا ۔۔۔

“اس کے ایکسپریشن مزا دے رہے تھے ۔۔ بس اس لیۓ میں نے بھی تھوڑی مستی مارلی ۔۔۔ عیان نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

“کہا تھا نا میرے ساتھ رہوگے تو ایسے ہی لائف انجواۓ کروگے ۔۔۔

علیزے نے فخرایہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔ اور دونوں باتین کرنے لگے ۔۔۔

@@@@@@@

انشا کمرے میں بیٹھ کر سڑتی رہی کڑھتی رہی ۔۔۔ کس طرح علیزے نے اس پر عیان کے سامنے الزام لگا دیا ۔۔۔

“کیا کروں کچھ سمجھ نہیں ارہا ۔۔۔ وہ پریشان ہی تھی ۔۔۔

عیان کمرے میں ایا اور کہا ۔۔۔

” شام میں ریڈی رہنا شاپنگ پر چلیں گے پھر باہر ہی ڈنر کریں گے۔۔۔

الماری سے اپنے کپڑے نکالتا ہوا واشروم چلا گیا بغیر اس کا جواب سنے ۔۔۔

وہ کلس کر رہ گئی ۔۔۔

” میں نے خود اپنا مقام کھو دیا ہے ۔۔۔ کسی سے کیا شکایت کروں ۔۔ بابا جان آپ جلدی آجائیں ۔۔۔ آپ نہیں ہیں تو سب کچھ بکھر رہا ہے ۔۔۔ میری ساری غلطیوں کو آپ اور ایمان ہی تو سنبھالتے تھے ۔۔۔ اب میں بالکل اکیلی اور تنہا ہو گئی ہوں ۔۔۔

وہ خود سے ہی باتیں کرتی اپنے آنسو پوچھنے لگی ۔۔۔

اسی وقت عیان واش روم سے باہر نکلا اور اسے آنسوں پوچھنتا دیکھ کر بغیر طنز کے رہے نہ سکا ۔۔۔

“اب کونسا دکھ تمہیں کھاۓ جارہا ہے سب تمہاری مرضی مطابق ہورہا ہے ۔۔۔ نہیں چلنا چاہتی شاپنگ پر تو بتا دو اس پر بھی تم پر کوئی زبردستی نہیں کی جائے گی ۔۔

عیان نے مٹھیاں بھینچ کر کہا ۔۔۔

” کتنی دفعہ کہوں مجھ سے تمہارا رونا برداشت نہیں ہوتا میرے سامنے مت رویا کرو ۔۔۔

عیان کے انداز پر وہ اور رونا شروع ہوگئی شدت سے ۔۔

عیان کا دل چاہا وہ خود میں بھینچ لے جیسے ہمیشہ کرتا تھا ۔۔۔ پر خود پے ضبط کرتا وہ چلا گیا کمرے سے باہر ۔۔۔
اور وہ اس سے جاتا دیکھتی رہی آنسو بھری انکھوں سے ۔ ۔

@@@@@@

شام میں عیان کا موڈ آف تھا تو انشاء بھی چپ تھی ۔۔۔ پر علیزے نے اپنی شرارتوں سے عیان کا موڈ کافی بہتر کردیا تھا ۔۔۔
عیان کی کافی ہیلپ لے کر علیزے نے شاپنگ کی ۔۔۔” تمہاری پسند بتاؤ عیان ۔۔۔ ہر چیز میں علیزے کہتی ۔۔۔

عیان خوشی خوشی اسے اپنی چوائس بتا رہا تھا اور وہ سب لے رہی تھی ۔۔۔ جبکہ انشاء خاموش تھی ۔۔۔

“جو پسند ہو تم کو لے لو ۔۔۔ عیان نے انشاء کی طرف کارڈ بڑھا کر کہا ۔۔۔

“مجھے کچھ نہیں لینا ۔۔۔ انشاء نے ضبط سے کہا ۔۔۔

“دیکھ لو اسے کچھ نہیں لینا , چلو مجھے تو بہت سی شاپنگ کرنی ہے , چلو مجھے چوائس کرواؤ ۔۔۔ آؤ انشاء ۔۔۔ علیزے اس کی بات رد کرتے ہوۓ عیان اور انشاء دونوں سے کہا ۔۔۔

عیان اور کچھ نہ کہے سکا ۔۔۔ دونوں علیزے کے ساتھ دوسری شاپ میں آۓ ۔۔۔ انشاء بور ہوتی رہی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔

“آپ کچھ لیں نہ میم ۔۔۔ شاپ پر کھڑی لڑکی نے اس سے کہا ۔۔۔

“نہیں مجھے کچھ نہیں لینا ۔۔۔ انشاء نے بیزاریت سے کہا۔۔۔

“میم وہ ہزبینڈ وائف اتنی کررہے ہیں شاپنگ , اپ بھی کچھ لیں ۔۔۔ اپ کی بہن کی چوائس بہت اچھی ہے ۔۔۔

اس لڑکی نے دوبارہ کہا ۔۔۔

اس لڑکی نے انشاء سے کہا جس پر پلٹ کر اس نے دیکھا حیرت سے ۔۔۔ وہ دونوں اپس میں مگن شاپنگ کررہے تھے ۔۔۔ علیزے پرس دکھاتی عیان سے پوچھ رہی تھی ” کیسی ہے ۔۔۔

” ماشاء اللہ, اللہ نظر سے بچائے اس کپل کو ۔۔۔ اس لڑکی نے ہروفیشنلی مسکرا کر کہا ۔۔۔

اب انشاء کی برداشت سے باہر ہوا تو اس نے کہا ۔۔۔

” وہ میرے شوہر ہیں ۔۔۔ اس لڑکی کے جسٹ فرینڈ , مائینڈ یور لیگیونج ۔۔۔

“سوری میم آئی ایم ویری سوری ۔۔۔ سیلس گرل شدید شرمندہ ہوئی اور چلی گئی اور دوسرے کسٹمرز کو ڈیل کرنے لگی ۔۔۔ انشا دیکھ رہی تھی کہ اس کے چہرے کے رنگ اڑ گئے تھے شرمندگی کے مارے ۔۔۔

” غلطی اس کی نہیں ہے ۔۔۔ اس نے جو دیکھا وہی سمجھا اور واقعی دیکھا جائے تو اس وقت وہ اس طرح کھڑے ہیں کہ کوئی بھی دیکھے تو یہی سمجھے وہ دونوں میاں بیوی ہیں ۔۔۔ انشاء نے احتساب کیا تو وہ لڑکی اسے غلط نہ لگی ۔۔۔

” تو کیا واقعی میں اتنا دور رہتی ہوں اپنے شوہر سے کہ لوگ بھی ایسا سوچنے لگے ہیں ۔۔ انشاء کو افسوس ہوا ۔۔ “غلطی ساری میری ہے , مجھے اپنے شوہر کے پاس ہونا چاہیۓ ۔۔ انشاء نے سوچا ایک عزم سے ۔۔۔

وہ عیان کے پاس آئی اس کے بازو پر ہاتھ رکھ کر کہا ۔۔۔

“مجھے آئس کریم کھانی ہے چلیں ۔۔۔ انشاء کے انداز پر عیان شاک ہوا ۔۔۔

“ہممم چلتے ہیں ۔۔۔ عیان نے حیران ہوتے لہجے میں کہا ۔۔۔

“پہلے میری شاپنگ ہوجاۓ پھر ساتھ چلتے ہیں انشاء ۔۔۔ علیزے نے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔

عیان نے بھی تائید کی علیزے کی ۔۔۔ پر انشاء جڑی رہی عیان کے ساتھ ۔۔۔

“تم کچھ لوگی انشاء ۔۔۔ عیان نے ایک نظر اسے اور ایک نظر اس کے ہاتھ پر ڈالتے ہوۓ کہا جو اس کے بازو پر تھا ۔۔۔

“یہ کچھ نہیں لے گی ۔۔۔ تم بتاؤ یہ شرٹ کیسی ہے عیان ۔۔ علیزے نے اس کے بولنے سے پہلے کہا ۔۔

“اچھی ہے علیزے ۔۔۔ بلیک کلر زبردست ۔۔۔ عیان نے کھلے دل سے تعریف کرتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“ہممم تو بس ڈن یہ لے رہی ہوں ۔۔۔ علیزے نے کہا ایک ادا سے ۔۔۔

نامحسوس طریقے سے انشاء نے اس کے بازو سے ہاتھ ہٹانا چاہا پر عیان نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر خود سے لگاۓ رکھا ۔۔۔ انشاء نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا پر عیان کو تو علیزے نے خود کی طرف متوجہ کیۓ ہوۓ تھی ۔۔۔

” یہ میں کیا کر رہی ہوں ۔۔۔ کیا ایسے مجھے میرا شوہر مل جاۓ گا ۔۔۔ انشاء نے دکھ سے سوچا ۔

پھر ڈنر کرکے آئسکریم کھا کر گھر واپس اگۓ وہ تینوں ۔۔۔

@@@@@

اگلے دن علیزے افیس چلی گئی ۔۔۔ انشاء اسے روک کر کرتی بھی کیا کیوں کہ علیزے اس سے بات کرنے میں انٹرسٹڈ نہ تھی ۔۔۔

انشاء گھر میں بولائی پھر رہی تھی ۔۔۔

“کیا بات ہے انشاء بیٹی ۔۔۔ زینب بی اس کے زرد چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

“زینب بی دعا کریں علیزے چلی جاۓ یہاں سے ۔۔۔ انشاء نے ان کے ہاتھ تھام کر کہا ۔۔۔

“وہ عیان کی دوست ہے صرف ۔۔۔ زینب بی نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“نہیں زینب بی , وہ کسی اور مقصد سے آئی ہے ۔۔۔ میرا دل کہتا ہے ۔۔۔ انشاء نے مبہم لہجے میں کہا ۔۔۔

” تمہیں اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے انشاء ۔۔۔ تم اپنے شوہر پر توجہ دو بس ۔۔۔ وہ کچھ دن کی مہمان ہے چلی ہی جائے گی ۔۔۔۔ زینب بی نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔

“وہ مہمان نہیں کچھ اور کی نیت سے ائی ہے ۔۔۔ ایک بیوی کی نظر دھوکا نہیں کھاسکتی زینب بی ۔۔

“اوہ تو یاد اگیا کہ عیان کی بیوی ہو تم ۔۔۔ اگر یاد آ گیا ہے تو اسے بھی یاد کرآؤ کہ اس کی بیوی کو عقل اگئی ہے ۔۔۔

“کیا کروں زینب بی اب عیان کا دل نہیں صاف ہورہا میری طرف سے کیا کروں ۔۔۔ آپ ھی بتائیں کچھ زینب بی ۔۔۔

“اب تم خود سوچو , اسے پیار محبت دو , اس لیۓ سج سنور کر رہو اس کے پسند کے کھانے بناؤ ۔۔۔ ہمارے وقت میں تو ایسے ہی شوہر کو قابو کیا جاتا تھا ۔۔۔

زینب بی نے سمجھایا ۔۔۔

” زینب بھی علیزے منظر سے ہٹے گی تو میں نظر آؤں گی عیان کو ۔۔۔ انشا نے اپنی فکر بتائی ۔۔۔

“پاغل ہو تم , علیزے کی فکر مت کرو , اپنی توجہ شوہر پر کرو , اسے کیوں اپنے سر پر سوار کررہی ہو ۔۔ زینب بی بات پر انشاء نے سر پیٹ کر کہا ۔۔۔

” اف زینب بی آپ کچھ نہیں سمجھتی ۔۔۔ علیزے کے ارادے اپ کو نہیں دکھ رہے اپ سادی ہو اپ نہیں سمجھوگی ۔۔۔ انشاء کھل کے کہے نہیں پارہی تھی ۔۔۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد زینب بی نے کہا ۔۔۔

” مجھے تو نہیں سمجھ ارہا اور میرا خیال ہے تم کھل کے علیزے سے بات کر لو وہ چاہتی کیا ہے ۔۔۔ شاید کھل کے بات کرنے سے تمہیں اس کے ارادے صحیح معنوں میں سمجھ آجائیں ۔۔۔

” آپ ٹھیک کہے رہی ہیں , مجھے کھل کے بات کرنی چاہیے علیزے سے ۔۔۔

انشا نے پھر سوچ انداز میں کہا ۔۔۔

@@@@@@

انشاء تیار ہو کر بیٹھی تھی اور دونوں کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔

” اب تک آفس سے نہیں آئے دونوں ۔۔۔ انشاء نے گھڑی دیکھتے ہوۓ سوچا ۔۔۔ گھڑی میں رات کے نو بج رہے تھے ۔۔

اب انشاء کو فکر سی ہونے لگی ۔۔۔ اس نے موبائل دیکھا جس پر کوئی کال نہ تھی عیان کی ۔۔۔

” عمر بھائی سے پوچھ لوں ۔۔۔

اس نے سوچا ۔۔۔

“نہیں نہیں یہ مناسب نہیں لگتا ۔۔ وہ کیا سوچیں گے میرے بارے میں ۔۔۔

عیان کے ایکسیڈنٹ کے بعد سے انشاء نے عمر بھائی کا نمبر اپنے پاس سیو کر لیا تھا ۔۔۔

موبائل کو دوبارہ بند کر دیا اس نے ۔۔۔ خود کی سوچ کی نفی کرتے ہوۓ ۔۔۔

دس بجے وہ دونوں آۓ ایک ساتھ ہنستے ہوۓ کسی بات پر ۔۔ ” کتنے خوش اور مطمئن تھے وہ دونوں ایک ساتھ … انشاء نے سوچا ۔۔۔

عیان کے سلام کا جواب انشاء نے دیا ۔۔۔ شاپنگ بیگز بتارہے تھے وہ شاپنگ پر گۓ تھے اس سے پوچھا تک نہیں دونوں نے ۔۔۔

” میں فریش ہوکر آتا ہوں تب تک ملازم سے کہہ کر کافی بنوا دو ۔۔۔ عیان کا تھکن سے برا حال تھا ۔۔ اس لیۓ انشاء کو کہے کر اوپر چلا گیا ۔۔۔

پر علیزے وہیں بیٹھی رہی اس کے سامنے ۔۔۔

” تو تم سج سنور کر ہمارا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔ علیزے نے دل جلانے والی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے پوچھا ۔۔۔

” تم چاہتی کیا ہوا آخر ۔۔ انشاء نے کلس کر پوچھا ۔

“کیوں تمہیں اب تک سمجھ میں نہیں آیا یا میرے منہ سے سننا چاہتی ہوں ۔۔۔ علیزے نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

“سمجھنے کی بات مت کرو ۔۔۔ کھل کے کہو کیا مقصد ہے تمہارا ۔۔۔ انشاء نے سارے لحاظ بالائے طاق رکھ کر اس سے پوچھا ۔۔۔

” جو تم سمجھ رہی ہو اسی مقصد سے آئی ہوں یہاں ۔۔۔

علیزے کھل کے مسکرائی اور کہا تھا ۔۔۔

” عیان صرف تمہیں اپنا دوست سمجھتا ہے اور تم غلط کررہی ہو ۔۔۔ انشاء نے اسے روکنے کے لیۓ کہا ۔۔۔۔

“تو میں نے کب کہا میں اس کی اچھی دوست نہیں ۔۔۔ میں تو اس کی بہت اچھی دوست ہوں ۔۔۔ اور تمہیں بھی تو یہی سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں کہ اچھی دوستی اچھی بیوی ثابت ہوتی ہے ۔۔۔

“میرے سامنے , اس کی بیوی کے سامنے تمہیں ایسی بات کرتے شرم نہیں ارہی ۔۔۔ انشاء نے حیرت سے اس ڈھیٹ لڑکی کو دیکھا ۔۔۔

“شرم کیسی شرم ۔۔۔ اس میں شرم کی تو کوئی بات ہی نہیں ۔۔۔ ویسے بھی تم دونوں کا جو تعلق کے وہ تو صاف نظر آ رہا ہے ۔۔ نا تمہیں شوہر کی پرواہ ہے اور نہ ضرورت ۔۔۔

“کیا بکواس کررہی ہو یہ سب , تم سے کس نے کہا ۔۔۔ انشاء کنگ لہجے میں کہا ۔۔ غصے میں جل رہی تھی وہ جبکہ علیزے بالکل پرسکون سی بیٹھی مسکرا رہی تھی ۔۔۔

” تم نہیں بتاؤ گی تو کیا ہمیں پتہ نہیں چلے گا نظر تو آرہا ہے نہ سب کچھ بس دیکھنے والے کی قیامت خیز کی نظر ہونی چاہیے اور ویسے بھی علیزے تو اڑتی چڑیا کے پر گن لیتی ہے پھر تم دونوں کے رشتے کی سچائی کو سمجھنا اتنا مشکل بھی نہیں ۔۔۔

” دیکھ لو کل تمہارے ساتھ تمہارا شوہر تھا اتنا خوش نہیں تھا جتنا آج میرے ساتھ گھوم کر ڈنر کر کے خوش ہو کر گھر آیا ہے ۔۔۔
علیزے کے ایک اور وار پر وہ شاک ہوئی ۔۔۔

” میں یہ سب کچھ عیان سے کہوں گی بھی اور پوچھوں گی بھی ۔۔۔ انشاء نے ایک عزم سے کہا ۔۔۔

انشاء کی بات پر علیزے مسکرائی اور تھوڑا اور پھیل کر صوفے پر بیٹھی اور کہا ۔۔۔

” کون روک رہا ہے تمہیں پوچھنے سے تمہارا شوہر ہے پوچھ لو ۔۔۔
ایک لمحے کو رک کر دوبارہ بولی ۔۔۔

” ہر شوہر بیوی سے سچ بولے ضروری نہیں ہے ۔۔۔ دوسری بات مجھ پر کوئی الزام لگاؤ گی کوئی فائدہ نہیں تمہارا شوہر تمہاری نہیں میری سنے گا ۔۔۔ کہو تو کر کے دکھاؤں ۔۔۔ تم سے زیادہ مجھ پر اعتبار کرتا ہے عیان ۔۔۔

وہ حیران ہوئی علیزے کے انداز پر ۔۔۔ اس کے کانفیڈنس کو دیکھ کر انشاء کو اپنے حوصلے ٹوٹتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔

“سوچ لو تمہارا اپنا نقصان ہوگا مجھ پر انگلی اٹھا کر ۔۔

ایک لمحے میں بات بدل کر علیزے بولی ۔۔

“ارے انشاء تم غلط مت سمجھو اپنے شوہر کو ۔۔۔ عیان تو کہے رہا تھا تم سے پوچھنے کا میں نے ہی کہا کل بھی تم بور ہوتی رہی ہو ہمارے ساتھ کیوں نہ اج ہم اکیلے چلتے ہیں ۔۔۔ ہے نا عیان ایسا ہی ہے نا ۔۔۔۔ سیڑھیوں سے اترتے عیان کو دیکھ کر ہراس بھرے لہجے میں کہا علیزے نے ۔۔۔

انشاء حیران ہوئی اس رنگ بدلتی لڑکی پر ۔۔۔

“انشاء تمہیں علیزے کے بجاۓ مجھ سے بازپرس کرنی چاہیۓ ۔۔۔ عیان نے انشاء کو کہا ۔۔۔

“اچھا تم کافی بنواؤ انشاء شدید سر درد ہورہا ہے یار ۔۔۔۔ علیزے نے جلدی سے ان کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔۔

انشاء جزبز سی عیان کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔” کیا واقعی عیان مجھ سے زیادہ علیزے پر بھروسہ کرتا ہے ۔۔۔ اس کا مطلب عنقریب علیزے اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی جائے گی ۔۔۔ انشاء نے دکھ سے سوچا ۔۔۔

“اف میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے عیان ۔۔۔ علیزے نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھام کر دونوں کی توجہ اپنی طرف مبدول کروائی دوبارہ ۔۔۔

” میں ٹیبلیٹ لاتا ہوں تمہارے لیے عیان نے جلدی سے کہا ۔۔۔ بابا جان کے روم کی طرف گیا میڈیسن باکس وہیں رکھا تھا ۔۔۔

” تم یہاں کھڑی ہو کر کیا کر رہی ہو جاؤ جا کر کافی بناو ہمارے لیے ۔۔۔ علیزے نے مسکرا کر انشاء سے کہا ۔۔۔۔

” دیکھ لیا نہ تمہارا شوہر تم سے زیادہ مجھ پر یقین رکھتا ہے اچھا یہی ہوگا جلدی سے کافی لاؤ میرے لیے ورنہ تم پر غصہ کرے گا ۔۔۔۔ علیزے نے انکھ دبا کر اسے کہا ۔۔۔۔

” ڈرامے باز کہیں کی ۔۔۔ دیکھ لوں گی تمہیں ۔۔۔انشاءمنہ ہی منہ میں بڑبڑائی ۔۔۔۔

“علیزے اتنا موقع نہیں دیتی کسی کو ۔۔علیزے نے اس سے کہا ۔۔۔۔ انشاء حیران ہوتی وہاں سے چلی گئی کچن کی طرف ۔۔۔

عیان کا غصہ کم کرنے کے لیۓ جلدی کافی بنانے گئی ۔۔۔

@@@@@@

اگلا دن سوچتی رہی وہ کس طرح عیان سے بات کرے کہ علیزے اس کی دوست ہمارے رشتے کو خراب کرنا چاہ رہی ہے ۔۔ پر موقع مل نہیں رہا تھا رات بھی دیر سے کمرے میں ایا تھا وہ سوچکی تھی ۔۔

صبح بھی علیزے ساتھ ساتھ تھی اور شام میں دونوں جلدی گھر اگۓ تھے ۔۔۔ اکیلے میں بات کرنے کا موقع دستیاب نہیں ہورہا تھا انشاء کو ۔۔۔

رات کے کھانے کے بعد وہ عیان کو کافی دینے اسٹڈی میں آئی ۔۔۔ اسے اکیلا دیکھ کر خوش ہوئی ۔۔۔ ابھی کچھ کہتی علیزے اگئی وہیں اور کہا۔۔۔

“میری کافی ۔۔۔

“ابھی لاتی ہوں ۔۔۔ انشاء سمجھی وہ اپنے کمرے میں پیۓ گی ۔۔۔ اب یہان لانے کے سوا اور کوئی راستہ نہ تھا ۔۔۔

“آج رات جاگتی رہوں گی جب تک عیان روم میں آۓ گا نہیں میں نہیں سونے والی ۔۔۔ اج تو بات کروں گی ضرور ۔۔۔

وہ بےصبری سے اس کا انتظار کرہی تھی ۔۔۔۔ رہا نہ گیا تو اسے دیکھنے آئی ۔۔۔۔

وہ ٹھر گئی ان کی بات سن کر ۔۔۔

“سنو کیا کسی کی دوسری بیوی بننا گناہ ہے جو یہ دنیا اسے گناہ بنادیتی ہے ۔۔

علیزے نے کرب سے کہا ۔۔۔

“گناہ تو نہیں ہے ۔۔۔ پر کیا کریں دنیا نہیں مانتی اسے جائز ۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

انشاء جو وہان عیان کو دیکھنے آئی تھی ۔۔۔ ان کی گفتگو سننے لگی ۔۔ کسی کی چھپ کر باتیں سننا بری بات ہے یہ جانتے ہوۓ بھی دل کی خواہش کو دبا نہ سکی اور خود کو سننے پر مجبور محسوس کررہی تھی ۔۔

“اور اگر میری خوشی اسی میں ہے تو تم کیوں انکار کررہے ہو اعتراض کا تو کوئی جواز نہیں ,جب پہلی بیوی کی مرضی بھی شامل ہے ۔۔۔ پھر کیوں انکار کررہے ہو تم ۔۔۔ پلیز مان جاؤ ۔۔۔

علیزے دھیمے لہجے میں اپنی بات کہے رہی جب کہ باہر کھڑی انشاء کے پیروں کے نیچے سے زمیں سرکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔

اب کچھ کہنے اور سننے کو رہا نہ تھا ۔۔۔۔ سب ختم ہوتا محسوس ہوا اسے ۔۔۔۔

اپنے لفظ اپنا مذاق اڑاتے ہوۓ محسوس ہوۓ ۔۔ ” کتنا فخریہ اسے کہتی تھی تم , دوسری شادی کرلو اور اب سانس گھٹنے لگی تھی صرف سوچ کر ہی ۔۔۔اور جب وہ کرلے گا دوسری شادی تو کیا حالت ہوگی تمہاری ۔۔۔۔ انشاء نے خود سے کہا ۔۔۔

“اور واقعی جس دن میں نے دوسری شادی کرلی اس دن سب سے زیادہ تم پچھتاؤگی ۔۔۔

ایک ایک قدم قدم بھاری ہورہا تھا ۔۔۔۔ دل تھا کہ گہرائیوں میں ڈوبتا جارہا تھا ۔۔۔

“تین دفعہ سے زیادہ تم مجھے دوسری شادی کا کہے چکی ہو انشاء , اب اگے تم سے اجازت لینے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ۔۔۔ کیونکہ اجازت تم دے چکی ہو ۔۔۔

کس طرح وہ کمرے تک پہنچی صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔ قدم قدم پر لڑکھڑائی تھی وہ ۔۔۔ جو اپنے ہاتھوں سے اپنے سہارے کو ٹھوکر مارتے ہیں نا ۔۔۔ پھر جب قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں تو خود کو خود ہی سنبھالنا پڑتا ہے ۔۔۔

“جب مجھے کرنی ہوگی دوسری شادی تو کرلوں گا ۔۔۔ تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔

“چپ ہوجاؤ خدا کے لیۓ ۔۔۔۔ اس نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیۓ جس میں عیان کے کہے لفظوں کی بازگشت ہونے لگی تھی ۔۔۔ جو لفظ دکھ سے عیان کہتا تھا جسے وہ خود مجبور کرتی تھی دوسری شادی کا کہے کر ۔۔۔۔

اصل اذیت کیا تھی ۔۔۔ اج پتا چلا تھا ۔۔۔۔

“تو تمہیں ایمان کی یادوں کے ساتھ جینا تھا ۔۔۔ اب تم آزاد ہو , جاؤ جی لو ان یادوں کو ۔۔۔ اندر سے ضمیر کی آواز کا آخری وار تھا وہ بےہوش ہوچکی تھی خود اذیتی میں ۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔