No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
میرے درد سے بے خبر
ازقلم صبا مغل
قسط 11
“کیا کہا ایک بار پھر سے کہنا ۔۔۔ عیان حیران ہی تھا اس کے انداز پر ۔۔۔ شاید اسے احساس ہوجاۓ اپنی کہی بات کا اور بات ہی بدل دے وہ اپنی , اسی امید پر عیان نے دوبارہ پوچھا ۔۔۔
وہ کہنے کو کہے گئی ۔۔۔ اب عیان کے غصے سے ڈر بھی لگ رہا تھا ۔
“اپ دوسری شادی کرلیں ۔۔۔ میں نہیں رہ سکتی اپ کے ساتھ ۔۔۔۔ انشاء نے ہمت کرکے دوبارہ کہا ۔۔۔
” تم کون ہوتی ہو مجھے مشورہ دینے والی ۔۔ اور تم سے مانگا کس نے مشورہ۔۔۔ پہلے ایک بیوی تو سنبھال لوں پھر دوسری کروں گا ۔۔۔
عیان کو بےانتہا غصہ ایا ہوا تھا , اس لیۓ جو منہ میں ارہا تھا وہ کہے رہا تھا ۔۔۔ جب وہ اس کا لحاظ نہیں کرتی تو وہ بھی سارے بالاۓ طاق رکھ کر بول رہا تھا ۔۔۔
” اور ہاں اگر کروں گا تو تم سے نہیں پوچھوں گا اور نہ مجھے تمہاری اجازت درکار ہے ۔۔ بہتر یہی ہوگا کہ تم اپنے کام سے کام رکھو۔۔۔ اور آخری بات اپنے مشورے رکھو اپنے پاس ۔۔ ایل لمحے کو سانس لے کر دوبارہ گویا ہوا تھا عیان ۔۔۔
“عیان وہ ۔۔۔۔ انشاء نے دوبارہ کچھ کہنا چاہا اسے ٹوک کر عیان نے کہا ۔۔۔
“چپ ایک لفظ اور نہیں کہنا , تمہارے حق میں یہی بہتر ہوگا تم چپ چاپ میری بات مانو اور مجھ سے فضول بحث اور مجھے فضول مشورے دینے سے گریز کرو ۔۔۔
عیان کے دوٹوک انداز پر وہ چپ ہوگئی ۔۔۔ پر انکھیں بہنے کو تیار تھیں ۔۔۔
“آرام سے اپنے سائیڈ لیٹ کر اپنے رونے کا شوق پورا کرلو کیونکہ اب مجھے عادت جو ہوگئی اس راگ کو روز رات سننے کی ۔۔
عیان کو بےانتہا غصہ ارہا تھا اس کے فضول مشورے پر ۔۔ کیا وہ اتنا مرا جارہا تھا بیوی کی توجہ کے لیۓ جو وہ اسے ایسے مشورے دے رہی ۔۔۔
” کیا واقعی اسے میری قربانی کا احساس بھی نہیں اور نا میری کوئی ویلیو ہے اس کی نظر میں , اتنا گرا پڑا اس نے عیان شاہ کو سمجھ رکھا ہے ۔۔۔ عیان سوچا اور اپنی پیشانی مسلنے لگا سر کا درد بڑھتا ہی جارہا تھا ۔۔۔ اسے ڈانٹ کر خود بھی بے چین ہوتا تھا وہ۔۔۔
کتنی اذیت وہ محسوس کررہا تھا ۔۔۔ انشاء کو ذرہ احساس نہ تھا اس بات کا ۔۔۔ انشاء نے اج اسے شدید مایوس کردیا تھا ۔
” تم مجھے شوہر نہیں مانتی تو مجھے بھی کوئی شوق نہیں ہے کہ تمہیں بیوی کا مقام دوں , میرے احساسات کی بالکل پرواہ نہیں تم کو اور میں تم سے بے پرواہ نہیں ہو سکتا انشاء ۔۔۔ کیونکہ بابا جان سے کیۓ وعدے نے مجھے روکا ہوا ہے ورنہ اس وقت میں تمہیں اس کمرے سے بےدخل کردیتا ۔۔ مجھے اپنی انا بہت عزیز ہے ۔۔
عیان نے کلس کر سوچا پر انشاء سے کہا کچھ نہیں ۔۔۔ وہ ایک بار پھر رونے کا سیشن شروع کرچکی تھی ۔۔
@@@@@
اگلے دن باباجان نے اپنے پہچنے کی خیریت بتائی اور دونوں نے ان سے خوشی سے بات کی ۔
انشاء کو روتا دیکھ کر عیان نے اس سے موبائل لی اور کہا ۔۔
“باباجان اپ سے کل بات ہوگی فی الحال اسے چپ کرواتا ہوں ۔۔ عیان نے پیار سے انشاء کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔
“آپ وقت پر دوائی لیجیۓ گا کل بات کریں گے ہم دونوں اپ سے ۔۔۔ اس نے انشاء کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ پر عیان کی مکمل توجہ بابا کی طرف تھی ۔۔
وڈیو کال ڈسکنیکٹ کی اللہ حافظ کہے کر ۔ ۔
“وہان بیٹھے میرے بابا کو کیوں پریشان کرتی ہو پلیز ان کے سامنے نہ رویا کرو ۔۔۔ عیان نے کلس کر کہا ۔۔
“مجھے ان کی یاد ارہی تھی ان کے لیۓ رورہی تھی کیا کروں مجھ اپنے انسو پر کنٹرول نہیں ۔۔۔ اس نے روتے ہوۓ بےبسی سے کہا ۔۔۔ اور اس کے بےبسی والے انداز پر عیان کو ہنسی آئی تو انشاء نے تڑپ کر اپنے کندھے سے ہاتھ ہٹایا اس کا ۔۔
@@@@@@
عیان اپنے زیادہ تر کام خود کرتا تھا,پر اب انشاء کو مصروف کرنے کے لیۓ اس سے کہنے لگا تھا ۔۔۔
جس پر وہ چڑتی تھی ۔۔۔ جیسے کپڑے نکالنا آفیس جانے کے اور واپس انے کے ۔۔۔ کافی کا اکثر اس سے کہتا ۔۔۔ وہ جانتا تھا انشاء کو اس کے کام کرنے سے پرابلم تھا پر وہ پھر بھی کہتا تھا تاکہ اس کی مصروفیت بڑھے ۔۔۔
“بےچین خود بھی رہتی اور مجھے بھی رکھنے کوئی کسر نہیں چھوڑتی ۔۔۔ اکثر ایسا عیان سوچتا ۔۔۔
ایک بار پھر عیان نے سوچا کہ اسے پڑھنے کے لیۓ قائل کرنے کی کوشش کرکے دیکھے ۔۔۔
“میرا خیال ہے تمہیں اگے پڑھنا چاہیۓ ۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔
“مجھے نہیں پڑھنا ۔۔۔ انشاء نے دو ٹوک کہا ۔۔۔
“تو کوئی کورس کرلو مصروف ہوجاؤ گی اچھا لگے گا تمہیں۔۔ عیان نے پیار سے کہا ۔۔۔ وہ چڑ ہی گئی تھی روز کے ایسے فضول مشوروں سے ۔۔۔ اس لیۓ انشاء نے غصے سے کہا ۔۔۔
“مجھے کچھ نہیں کرنا اور نہ مجھے کچھ اچھا لگتا ہے ۔۔ اگر کرسکتے ہیں تو ایک کام کریں میرے لیۓ ۔۔۔
“کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیۓ ۔ عیان نے دل سے پوچھا۔۔
“میری جان بخش دیں ۔۔۔ مجھے نہیں رہنا اپ کے ساتھ , مجھے اذیت سی محسوس ہوتی اس طح جینے میں , خدارا مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں ۔۔۔ دل چاہتا ہے زہر کھالوں , اس طرح روز روز مرنے سے بہتر ہے ۔۔۔ پر خودکشی حرام ہے اس چیز نے مجھے روکا ہوا ہے ۔۔۔
انشاء کو ذرہ احساس نہ ہوا کس بری طرح سے اس نے عیان کا دل دکھایا وہ جتنا اس کا سوچتا ہے اتنا وہ اس سے بدظن ہونے لگی تھی ۔۔۔
وہ ایک کڑی نظر اس پر ڈال کر آفیس روانہ ہوا بغیر ناشتے کے ۔۔
انشاء کو اپنے سخت لفظوں کا احساس ہوا وہ شرمندہ سی اس کے پیچھے گئ اور کہا ” پلیز ناشتہ کرتے ہوۓ جائیں ۔۔۔
وہ اس کے پیچھے گاڑی تک آئی ۔۔۔
“شکریہ بہت اچھا ناشتہ کرواچکی ہو تم اپنی باتوں سے اس سے زیادہ میں حضم نہیں کرپاؤں گا ۔۔ وہ طنز کرتا ہوا گاڑی میں چلاگیا ۔۔
@@@@@@
آج عمر کی کسی بات پر بھی اس کے ہونٹوں پر ہنسی نہ آئی ۔۔۔ عمر کو احساس ہوا ضرور کچھ ایسا ہوا ہے جو اتنا اپسیٹ تھا عیان ۔۔۔ دو تیں آفیس ایمپلائز کو بری طرح ڈانٹ چکا تھا تھا ۔۔۔
“کیا بات ہے کچھ پریشان ہو ۔۔۔ عمر سے رہا نہ گیا تو آخرکار پوچھ ہی لیا اس نے ۔۔۔
“نہیں تو ۔۔۔ عیان نے کہا سنبھل کر ۔
“اب دوست سے بھی چھپاؤگے عیاں ۔۔۔
“مجھے کیا ضرورت تم سے کچھ چھپانے کی ۔۔۔
“تو بکو یار ۔۔۔ عمر تھا ہی ایسا , اسی طرح گفتگو کرتا تھا اس سے ۔۔۔
“کچھ نہیں ہے عمر کیوں سر کھارہے ہو ۔۔
“کچھ نہیں ہے , اچھا , کوئی معمولی بات نہیں ہے , کوئی بڑی ہی بات ہوگی جو عیان شاہ نے اپنا سیلف کنٹرول کھو دیا ہے اج ۔۔۔ عمر نے فکر سے کہا ۔۔۔ عمر کو احساس تھا اس کی تنہائی کا کہ کتنے مشکل وقت سے گزر رہا تھا وہ ۔۔۔
“عمر میں گھر جارہا ہوں ۔۔۔ عیان نے اسے ٹالنے کے لیۓ بہانا کیا ۔۔
“اتنے دنوں سے پریشان ہو جانتا ہوں , چپ اس لیۓ تھا تم خود بتاؤگے پر اج لگتا ہے پانی سر سے گزرا گیا ہے ۔۔۔ تمہارے چہرے سے صاف پتا چل رہا ہے ۔۔۔
“عمر پلیز ۔۔۔ کچھ باتیں کہنے جیسی نہیں ہوتیں سمجھا کرو پلیز ۔۔ عیان نے بےچینی سے کہا ۔۔۔
“تم نے مجھے اج شرمندہ کیا ہے ۔۔ میری دوستی کو بھی ۔۔۔ عمر بھی عمر تھا جو بات چھوڑ نے والا نہیں تھا ۔۔۔
“اف عمر پلیز ۔۔۔
“تم کیوں جاؤ , میں چلا جاتا ہوں , اج سے ایک روم میں بیٹھنا فضول ہے جب میرا دوست مجھے اپنی تکلیف نہ بتاۓ ۔۔۔ غصے سے عمر آفیس کا روم چھوڑ کر جانے لگا تو ایکدم عیان نے کہا ۔۔
“رکو ۔۔ وہ ٹھر گیا اس کے بلانے پر ۔۔۔
“تم جانے بنا جان نہیں چھوڑو گے ۔۔۔چند لمحے خاموشی کے نظر ہوۓ عمر اپنی جگہ بیٹھ گیا اور اب اس کی مکمل توجہ عیان کی طرف تھی۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر عیان بولا ۔۔۔
“باباجان کی دی ذمیداری میں پوری کرنے میں شدید ناکام ہورہا ہوں ۔۔۔ میں جتنا انشاء کو وقت دے رہا ہوں وہ اس رشتے کو نبھانا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔۔ وہ اتنی بیزار ہے اس تعلق سے کہ مجھے دوسری شادی کا کہے رہی ہے ۔۔۔
عمر شاک ہی ہوا اس کی بات پر ۔۔۔
پر شاید سب کچھ عیان کی برداش سے باہر ہوگیا تھا اب کیونکہ ایک طرفہ رشتے بچانے کی کوشش نے اسے شدید تھکا دیا تھا ۔۔۔ اس لیۓ اج وہ پھٹ پڑا تھا ۔۔
لمحے بھر کو ٹھر کر دوبارہ بات جاری رکھتے ہوۓ بولا ۔۔۔
“یہ رشتہ میرے گلے میں ہڈی کی مانند پھنس گیا ہو جسے نا اگلا جاسکے نا نگلا جاسکتا ہے ۔۔۔ ہر رات میرے بستر پر ہوکر وہ روتی میرے بھائی کے لیۓ ہے , نا اسے روک سکتا ہوں رونے سے نا اسے کچھ کہنے کی ہمت اپنے اندر جھٹا پاتا ہوں ۔۔۔
عیان نے اپنا سر ہاتھوں پر گرا لیا اپنی بات کہے کر ۔۔۔
“کیوں روک نہیں سکتے اسے , تمہیں حق ہے اس پر ۔۔۔ عمر نے کہا ۔
“حق کیسا حق , جب وہ مجھے شوہر ہی تسلیم کرنے کو تیار نہیں , تو کس حق سے روکوں اسے ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔
“پھر تو بلا کے بزدل مرد نکلے تم عیان شاہ ۔۔۔۔۔۔ عمر نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔
“کیا کہا میں اور بزدل ۔۔۔ عیان شاک ہوا اس کے الزام پر ۔
“یہ میری ہمت ہے جو اسے اپنے بھائی لے لیۓ رونے دیتا ہوں , ہر رات میرے پہلو میں ہوکر میرے بھائی کی جدائی کو روتی ہے ۔۔ میری برداش دیکھو۔۔۔ اس سے زیادہ میری برداش کا کیا امتحان ہوگا ۔۔۔
عیان نے تند لہجے میں کہا ۔۔۔
“عیان اس سے تمہاری ہمت اور برداش نہیں تمہاری بزدلی کا پتا چلتا ہے ۔۔۔ تم سارے حق رکھ کر خود کو مضبوط مرد کہنے والا اپنی بیوی کو چپ نہیں کرواسکتا اس کے آنسو نہیں پونچھتا کیوں نہیں ۔۔۔ افسوس یار ۔۔۔ تم کہتے ہو انشاء بھابھی تمہیں شوہر نہیں مانتی حقیقت یہ ہے تم کبھی شوہر بنے ہی نہیں تو وہ کیا تمہیں بیوی بن کر دکھاتیں ۔۔۔
عمر کی باتوں نے اسے جھنجھوڑ دیا تھا ۔۔۔ اس کی چپ پر عمر نے اور کہا ۔۔۔
” تم ان کو شوہر والی محبت دے کر تو دیکھو , بیوی وہ خودبخود بنتی جائیں گی ۔۔
وہ عمر کا ڈھکے چھپے لفظوں میں بات کا مطلب اچھی طرح سمجھ رہا تھا ۔۔۔
“کیا بکواس کہے رہے ہو عمر , میں ایسا نہیں کرسکتا اس کی رضامندی کے بغیر ۔۔۔ عیان نے غصے سے کہا ۔۔۔
“تم ساری عمر ان کو سمجھاتے رہو گے وہ اس رشتے کی حقیقت, ان کو سمجھ نہیں انے والی , ایک حصار سے نکالنے کے لیۓ دوسرا حصار قائم کرنا پڑتا ہے میرے یار ۔۔ عمر نے نرم لہجے سے اسے اپنی بات پر قائل کرنا چاہا ۔۔۔
“میں ایسا نہیں کرسکتا عمر ۔۔۔ عیان نے کچھ سوچ کر کہا ۔
“ایک دن وہ خود تو پاغل ہوجائیں گے اس سراب کے پیچھے اور تمہیں الگ نیم پاغل کردیں گی ۔ ۔ اب کے عمر نے غصے بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
“ہممممم ۔۔ عیان ہنکارا ۔۔۔ جیسے وہ اس کی بات سے متفق ہوں۔۔۔
“اس زندہ حقیقت کو تم دونوں تسلیم کر ہی لو کہ ایمان جا چکا ہے اور جانے والوں کو دنیا والوں کی فکر نہیں رہتی۔۔۔
“میں مانتا ہوں اس بات کو پر مجھے یہ مناسب ۔۔۔ عیان نے کچھ اور کہنا چاہا ۔۔۔
“پر ور چھوڑو ۔۔ میاں بیوی میں سب مناسب ہے ۔۔تو بس بات ختم , جیسا میں کہے رہا ہوں تم وہی کرو اج ۔۔۔ عمر نے اسے ٹوکا ۔۔۔
کافی دیر سمجھانے کے بعد آخرکار وہ اسے اپنی بات پر قائل کرچکا تھا ۔۔۔
@@@@@@@
انشاء کو اج شدید شرمندگی تھی اپنے صبح والے رویۓ پر اس لیۓ اس وقت وہ کچھ بہتر حلیۓ میں بیٹھی عیان کا کھانے پر انتظار کررہی تھی ۔۔۔
عیان جیسے گھر پہنچا , لاؤنج میں اسے بہتر حلیۓ میں دیکھ کر حیران ہوا ۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی جسے لمحے میں اس نے چھپالیا ۔۔۔
آج اس نے غور سے دیکھا تھا اسے وہ ذرہ سی تیاری میں غضب لگ رہی تھی ۔۔ سنہری بال ادھے کلپ میں مقید , کچھ لٹین چہرے کا طواف کررہیں تھیں , گلابی گال اور اس پر گلابی ہونٹ اور کاجل لگی گہری انکھیں اس کا حسن قیامت خیز ہی تھا ۔۔۔ ایک سائیڈ پڑا دوپٹا اس کے جسم کو نمایان کررہا تھا ۔۔۔ آج پہلی دفعہ عیان نے اسے شوہرانہ نظر سے دیکھا تو انشاء نے جلدی سے اپنا دوپٹا سینے پر پھیلایا ۔۔۔ عورت اس معاملے میں سدا تیز رہی ہے کسی کی بھی ایسی نظر لمحوں میں پہچان جاتی ہے ۔۔۔
اج اس کے اس طرح دیکھنے پر وہ حیران ہی تھی ۔۔
“کوئی ایا تھا جو اس طرح تیار ہوکر بیٹھی ہو ۔۔ عیان نے اس کے احساس کو زائل کرنے کی لیۓ کہا ۔۔
“ہان وہ فریحہ آنٹی آئیں تھیں اس لیۓ ۔۔ انشاء نے جلدی سے گڑبڑا کر کہا ۔۔۔
عیان کو حیرت ہوئی اس کے جھوٹ پر کیونکہ دو دن پہلے وحید انکل سے بات ہوئی تھی وہ تو کراچی گۓ تھے اپنی سالی کی بیٹی کی شادی تھی ۔۔۔
“اچھی لگ رہی ہو ایسے ہی سج سنور کر رہا کرو ۔۔ عیان نے اس کے گال کو چھو کر کہا ۔۔۔ جس سے اس کا دل زور سے دھڑکا ۔۔۔ “ان کو کیا ہوا ہے اج ۔۔۔ انشاء نے سوچا ۔۔۔
انشاء اسے کیسے بتاتی وہ صرف اس لیۓ تیار ہوئی تاکہ صبح والی بات کا کچھ ازلہ کرسکے ۔۔۔ انشاء نے سنبھل کر کہا ” کھانا لگا دوں ۔۔۔
“ہمممم لگادو ۔۔ عیان نے کہا ۔
“آپ فریش ہو جائیں میں نے کپڑے نکال دیۓ ہیں ۔۔۔
” اوکے میں چینج کرکے آتا ہوں ۔۔۔
” تب تک میں کھانا گرم کر لیتی ہوں ۔۔۔ وہ اس کی فرمانبرداری پر حیران ہوا ۔۔۔ یہ پہلی بار تھا کہ دونوں نے بیک وقت نارملی بات کی تھی ایک دوسرے سے , ورنہ تو اکثر کسی ایک کا موڈ خراب ہی ہوتا تھا۔۔۔
@@@@@@
انشاء کچھ الجھن کا شکار ہورہی تھی عیان کے اج کے رویۓ پر ۔ اس کی پرشوق نگاہیں اسے الجھا رہیں تھیں ۔۔” پہلے تو کبھی اس طرح نہیں دیکھتے تھے عیان اج ان کے دیکھنے کا انداز ہی مختلف لگ رہا مجھے ۔۔۔ انشاء نے سوچا۔۔۔ اس وقت وہ بیڈ کی چادر درست کررہی تھی ۔۔۔ چادر لگاتے ہوۓ ایسی ہی باتیں اس کے ذہن میں ارہیں تھیں ۔۔۔وہ کشمکش کا شکار ہو رہی تھی ۔۔
اس سے پہلے وہ اور کچھ سوچتی عیان روم کا دروازہ کھول کر اندر اگیا اور کہا ۔۔۔
“میرے لیۓ کافی بنادو ۔۔۔ وہ جو سونے کا سوچ بیٹھی تھی ۔۔۔ اس کے کہنے پر جی ٹھیک ہے کہے کر ۔۔۔ روم سے باہر چلی گئی ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ کافی بنا کر آئی تو عیان صوفے پر بیٹھا لیب ٹاپ پر کچھ کام کر رہا تھا ۔۔۔ انشاء نے ٹرے اس کے سامنے کی ۔۔۔ اس نے کپ لینے کے بجاۓ اس کی کلائی تھام لی وہ حیران ہوئی ۔۔۔
“آؤ بیٹھو ۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے ٹرے تھام کر اسے اپنے پہلو میں بٹھایا ۔۔۔ وہ حیرت سے اس کا یہ انداز دیکھ رہی تھی ۔۔۔
“مجھے سونا ہے ۔۔۔ انشاء نے سنبھل کر کہا ۔۔۔ آج اس کے ہر انداز میں استحاق تھا ۔۔۔
“بعد میں سوجانا , باباجان کو کال لگا رہا ہوں مل کے بات کرتے ہیں ۔۔۔
عیان کی بات سن کر انشاء کے دل کو تسلی ہوئی ۔۔۔
عیان نے کال لگائی اور کافی دیر ان دونوں نے بابا سے بات کی ۔۔۔ بابا ان کو ساتھ دیکھ کر خوش ہورہے تھے ۔۔ نادانستہ عیان اسے چھوکر اس کے حواس گم کررہا تھا ۔۔
جیسے ہی کال ڈسکنٹ ہوئی وہ جلدی سے اس کے پہلو سے اٹھی ۔۔۔
@@@@@@@@
جانے کیوں اس کی انکھیں پھر برسنے لگیں تھیں ۔۔۔ عیان نے کئی منٹ خود پر ضبط کرتا رہا ۔۔ آخرکار لیب ٹاپ بند کرتا اٹھا صوفے سے اور کہا ۔۔۔
“آئندہ اس طرح رویا مت کرو انشاء ۔۔۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے ۔۔۔۔ عیان نے نارمل لہجے میں کہا ۔۔۔
پر اس پر پہلے کبھی اثر ہوا تھا عیان کی بات کا جو آج ہوتا ۔۔ وہ ہنوز رو رہی تھی ۔۔۔
عیان نے زیرو بلب روشن کرتا اس کے پاس ایا اور اس کی کلائی تھام کر اٹھایا اور کہا ۔۔۔
“مجھے تمہاری انکھوں میں آنسو برداش نہیں اج کے بعد تم نہیں روؤگی ۔۔۔ وہ استحاق اس کے انسو پوچھنے لگا ۔۔۔
“اگر پھر بھی روئی تو پھر اپنے طریقے سے صاف کروں گا ۔
انشاء کے لب پھڑ پھڑاۓ اس کے انداز پر ۔۔۔۔ پر کچھ بول نہیں پائی وہ ۔۔۔ وہ شاک تھی اس کے انداز پر ۔۔ وہ حیرت سے عیان کے اس رویۓ کو دیکھ رہی تھی اس کی نظر میں شوخی تھی ۔۔۔۔
وہ نیم اندھیرے میں اس کے تاثرات کو بغور دیکھنے لگی ۔۔
” پوچھو گی نہیں کیسے صاف کروں گا ۔۔۔ اس کے انسو تھم چکے تھے اس کے شوخیا انداز پر ۔۔۔
“نہیں۔۔۔ کیونکہ مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اپ سے پوچھوں ۔۔۔ انشاء نے اپنا لہجہ روڈ بنالیا ۔۔۔ اس کے منہ زور جذبوں کو بند باندھنے کا انشاء کے پاس اور کوئی طریقہ نہ تھا ۔۔۔ وہ اس کی نظر میں شوہرانہ جذبات دیکھ چکی تھی , وہ اتنی بےوقوف نہ تھی جو اس کے بدلے انداز کو نا سمجھی ہو ۔۔
” چلو کوئی بات نہیں تم نہیں پوچھتی تو کیا ۔۔۔ میں تمہیں بتا دیتا ہوں, ارے بتانے کی کیا ضرورت ہے تمہیں پریکٹیکلی میں کر کے دکھاتا ہوں۔۔۔
اس کے کہنے کی دیر تھی اور انشاء اس کے لفظوں کے معنی کو سمجھتی اس سے پہلے عیا نے جھک اس کا چہرہ تھاما اور اس کی دونوں انکھوں کو چوم لیا ۔۔۔ اس کے انسو اپنے ہونٹوں سے چُنے , انشاء نے مزاحمت کی ۔۔۔ اپنا چہرہ اس کی گرفت چھڑا کر کہا ۔۔۔
“یہ کیا کررہے ہیں اپ عیان ۔۔۔ اس کے لہجے میں حیرت ہی حیرت تھی ۔۔۔
” کچھ غلط تو نہیں کر رہا وہی کر رہا ہوں جو ایک شوہر اپنی بیوی سے کرتا ہے ۔۔۔
اس کی بات پر وہ کلس کر بیڈ سے اٹھنے لگی کیونکہ اس سے کوئی بہتر طریقہ نہ تھا اسے روکنے کا۔۔ پر عیان نے اسکی کلائی تھام کر اسے بیڈ پر گرالیا ۔۔
اور ہونٹوں پر جھک گیا وہ اس کے سینے پر مزاحمت کررہی تھی اپنے ہاتھوں سے وہ اس کے دونوں ہاتھ تھام کر اوپر کی طرف کرچکا تھا ۔
وہ اپنے اندر قیامت خیز احتجاج کررہی تھی پر سامنے بھی عیان تھا ۔۔۔ جب مرد اپنی پر آۓ تو عورت کی کیا چلتی ہے۔۔۔ ایسا ہی کچھ انشاء کے ساتھ ہوا تھا ۔۔۔
آنسو ٹوٹ کر انکھوں سے بہے نکلے اس کے لمس پر ۔۔۔ پر عیان نہ رکا ۔۔۔ وہ جابجا اس پر اپنے لمس چھوڑتا اسے اپنی محبت کی بارش میں بگھونے لگا ۔۔۔ اس کے مذاحمت میں شدت آئی تو اس نے اپنے انداز میں شدت لے ایا ۔۔ وہ کب تک ایک مرد کا مقابلہ کرتی وہ مکمل اس پر حاوی ہوچکا تھا ۔۔۔
وہ اس کی ہی بانہوں میں اس کی زیادتی پر روتی رہی اور وہ اس کے انسو ہونٹوں چننے لگا ۔۔۔ وہ لفظ کہنا چاہتی اس کی زیادتی پر تو وہ اس کے ہونٹوں کو قید کرلیتا ۔۔ انشاء تھک کر اس کی بانہوں میں ہی سوگئی ۔۔۔
@@@@@@@@@
وہ تڑپ کر اس کے بانہوں کے حصار سے نکلی صبح کے آٹھ بج چکے تھے ۔۔۔ وہ حیران تھی اتنی گہری نیند پر ۔۔۔ سر درد سے پھٹنے کو تھا ۔۔۔ پر پہلے فریش ہونا ضروری تھا ۔۔۔
وہ اس کے لمس کو اپنے جسم سے کھروچ کے نکالنا چاہتی تھی ۔۔۔ جتنا صابن رگڑتی پر احساس ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا وہ ٹوٹ روپڑی ۔۔
“کاش ایک دفعہ مجھ سے پوچھ لیتے اپ عیان ۔۔۔ پر اس طرح زبردستی کرکے اپ میری نظروں سے گر چکے ہیں ۔۔
وہ تڑپ کر روپڑی ۔۔۔ آخر کتنے دیر وہ باتھ روم میں ماتم کرتی اس لیۓ آخر اسے باہر انا ہی تھا ۔۔۔
وہ نہا کر آئی ایک نظر عیان پر نہ ڈالی , وہ جاگ چکا تھا پر وہ اگنور کرتی شیشے کے سامنے آئی اور ٹاول کو بالوں سے نکالا اور صوفے پر پھینکا غصے سے ۔۔۔
انشاء نے شیشے میں خود کو دیکھا ۔۔ وہ ایمان کی انشاء نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔ خود کو بدلا ہوا محسوس کیا اس نے ۔۔ عیان اس پر اپنا رنگ چھوڑ چکا تھا ۔۔ وہ زیادہ خود کو دیکھ ہی نہ سکی شیشے میں نظریں جھکا لیں ۔۔
سنہری زلفوں سے پانی کی بوندیں ٹپک رہیں تھیں ۔۔۔ انکھیں پانیوں سے بھرنے لگیں کل رات کا منظر انکھوں میں گھوما ایک بار پھر ۔۔
عیان نے پیچھے سے اس کی زلفوں کی خوشبو سونگھی اور اگے کی طرف بائیں کندھے پر رکھیں ۔۔ وہ تھر تھر کانپنے لگی ۔۔۔ وہ ضبط کی انتہا پر تھی اور سامنے والا اس کا ضبط ہی آزما رہا تھا ۔۔ وہ اپنے شوہرانہ حقوق اس سے لے رہا تھا ۔۔۔
انسو تھے بہنے کو تیار تھے گلابی ہونٹ کپکپا رہے تھے وہ شیشے میں اس کے تاثرات دیکھ چکا تھا ۔۔ اس کے کندھے پر اپنے ہونٹ رکھ چکا تھا ۔۔ وہ جی جان سے کانپی کل رات اس کے لمس میں شدت تھی ۔۔۔ اس کا رخ اپنی طرف موڑا اس نے اور جو انسو اس کی پلکوں پر اٹکے تھے اس کی ایک انکھ کو چوم کر پھر دوسری کو چوم کر اس کے انسو اپنے ہونٹوں چن لیۓ اس نے ۔۔۔
وہ خود کو بےبسی کی انتہا پر محسوس کررہی تھی ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
