Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

میرے درد سے بے خبر

ازقلم صبا مغل

EPISODE 16

جانے کیوں انشاء کی انکھ میں مرچیں سی بھرنے لگیں اس منظر کو دیکھ کر ۔۔ عیان کا ہسنہ اور علیزے کا کھلکھلانا ۔ یہ احساس یا اس طرح کا کوئی احساس کبھی اس کے اندر نہ جاگا تھا ۔۔۔ شاید وہ دونوں ایک دوسرے میں مگن تھے نہ انشاء نہ زینب بی اور نہ فرقان تھا ان کے بیچ ۔۔۔ وہ دونوں ان کی باتیں اور ان کے اپس کے گلے شکوے بس ۔۔۔

“دوسال سے آۓ نہیں لندن , جب دیکھو عمر کو بھیج دیتے کسی بھی بزنس کے کام کے سلسلے میں , اسی بہانے بندہ دوستوں سے مل لیتا ہے ۔۔۔ شرم کرو تم ۔۔۔ ویسے ہو بڑے بےمروت بندے ۔۔۔۔
علیزے نے ایک اور شکوہ کیا عیان سے ۔۔۔

“ارے , حالات کچھ ایسے ہوگۓ کہ آء ہی نہ سکا کیونکہ ۔۔۔ عیان نے وضاحت دینا چاہی علیزے نے بات کاٹ کر کہا ۔۔

“رہنے دو , بس بہانے بن والو تم سے ۔۔۔دیکھ لو تم نہیں آۓ میں چلی آئی ۔۔۔

خود کو سنبھالتی انشاء سیڑھیوں سے اتر کر ان کے روبرو ہوئی ۔۔۔

اب کے علیزے چونکی اور کہا ۔۔۔

“یہ کون ہے عیان ۔۔۔

انشاء عیان کا چہرہ دیکھنے لگی کہ وہ اپنی دوست کو کیا جواب دیتا ہے اس کے مطلق ۔۔۔

پر عیان کے عجیب تاثرات دیکھ کر انشاء کو شدید مایوسی ہوئی کہ وہ اب اس کا انٹروڈکشن بھی کروانے کا روادار نہیں کیا اتنا بدظن ہوچکا ہے مجھ سے ۔۔ انشاء نے سوچا ۔۔۔

“علیزے یہ انشاء بھابھی ہیں عیان کی بیٹر ہاف ۔۔۔ آخر فرقان نے کہا ۔۔

“واٹ انبلیوو ایبل عیان آۓ ڈونٹ ایکسپیٹ دس فرام یو ۔۔۔ علیزے نے انکھیں دکھائیں ۔۔۔

“علیزے بس کرو ۔۔۔ فرقان نے کہا ۔۔۔

“اچھا اچھا سوری ۔۔۔ وہ جلدی سے انشاء کی طرف مڑی اور کہا ۔۔۔

“میں علیزے گِل , اپ کے شوہر کی بیسٹ فرینڈ سے بھی اوپر کی اوپر ۔۔۔۔ کیوں عیان ۔۔۔ اس نے انشاء سے کہا ۔۔۔ وہ شوخ ہوئی پر انشاء بیچاری سی مسکراہٹ بھی نہ دے سکی ۔۔۔

“ہاں کیوں نہیں ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

انشاء گم صم ہوکر دیکھنے لگی ۔۔۔

اسی وقت زینب بی نے جوس سروو کیا ۔۔۔ سب بیٹھ گۓ ۔۔۔

@@@@@@

“عمر نہیں ایا اب تک ۔۔۔ عیان نے کہا کیونکہ وہ الریڈی اسے دعوت دے چکا تھا ۔۔۔ جوس سے فارغ ہوگۓ تھے لنچ کا وقت ہونے لگا تھا ۔

“تم نے یاد کیا لو اگیا ۔۔۔ عمر اسی وقت ایا اور بڑے جوش سے کہا ۔۔۔

“ہممم شیطان کا نام لیا اور دیکھ لو حاضر ہوگیا ۔۔۔ علیزے نے منہ بنایا ۔

“اور تم شیطان کی دوست ماہا شیطان ۔۔۔ عمر نے بھی حساب بےباق کیا علیزے کو کہے کر ۔۔۔

“لندن سے لے کر اج تک یہ سلسلہ یونہی چلتا ارہا ہے , نہ علیزے پیچھے ہٹتی نہ عمر باز اتا ہے ۔۔۔ فرقان نے ہنستے ہوۓ کہا ۔۔۔

” مجھ سے پوچھو جس کے کان پک گئے دونوں کی لڑائی سن سن کر۔۔۔ عیان نے کانوں کو ہاتھ لگاۓ ۔۔۔

“کھمبےجتنے ہوگۓ ہو لڑکیوں کو شیطان کہتے حیا نہیں آتی تمہیں , کچھ تو شرم کرو ۔۔۔

علیزے نے عمر کو شرمندہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔۔۔ عمر اکر صوفے پر بیٹھا اور کہا ۔۔

“شرم کا پتا نہیں , باقی حیا کل آئی تھی ٹھری نہیں زیادہ دیر وہ الگ بات ہے ۔۔۔ عمر نے سوچنے کی ایکٹنگ کرتے ہوۓ کہا علیزے سے ۔۔۔
ان دونوں کی نوک جھونک سے سب محفوظ ہورہے تھے ۔

“تم کس حیا کی بات کررہے ہو ۔۔۔ علیزے حیران ہوئی اس کی بات پر ۔۔۔

“ہماری پڑوسن حیا کی بات کررہا ہوں میں تو ۔۔ تو تم کس حیا کی بات کررہی ہو ۔۔ عمر نے مزے سے کہا اورسوچنے کی ایکٹنگ کرنے لگا ۔۔۔

“تم سدھر نہیں سکتے ۔۔۔ اب تو ناممکن ہے ۔۔۔ نازیہ بھابھی کو سلام ہے جو تم کو برداش کر رہی ہے ۔۔

علیزے نے کہا ۔۔۔

“چلو مجھے تو نازیہ برداش کررہی ہے پر تمہیں تو اب تک برداش کرنے والا ملا بھی نہیں ہے ۔

عمر کیا کم تھا جو حساب چھوڑتا علیزے پر ۔

“تم فکر مت کرو مجھے مل ہی جاۓ گا ۔۔۔ تم اپنی خیر مناؤ ۔ علیزے نے اس کے طنز کو چٹکیوں میں اڑایا ۔

“بس کرو قسم سے بچوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے تم دونوں ۔ عیان نے دونوں کو ہاتھ جوڑ کر کہا ۔۔۔

“یہ تم نہ ہوتے تو ابھی کان سے پکڑ کر باہر نکالتی اسے ۔۔ علیزے نے عیان کو دیکھتے ہوۓ عمر سے کہا ۔۔۔

“اور میں نے کونسے تمہارے بال چھوڑنے تھے ۔۔۔ اس سے کھینچتا ہوا نکالتا ۔۔ یہ گِل انکل کا ہی لحاظ کرلیتا ہوں ۔۔

عمر نے سامنے سے وار کیا ۔

انشاء منہ کھولے یہ سب سن رہی تھی ۔۔۔ اس طرح لڑتے اس نے پہلی دفعہ دیکھا تھا کسی کو ۔

“یار بس کرو , اب یونی سے نکل آئیں ہیں ۔۔ دو سوتنوں کی طرح لڑتے ہو بلکہ ان کو پیچھے چھوڑ دیا ہے تم دونوں نے ۔۔۔ عیان نے دونوں کو کہا ۔۔۔

“ہمممننممم ۔۔۔ علیزے نے کہا ۔۔۔

“ہمممنننمممم ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔

“نازیہ بھابھی نہیں آئیں عمر بھائی ۔۔۔ انشاء نے پوچھا عمر سے ۔۔۔

“وہ میکے گئی ہے بچوں کے ساتھ ۔۔۔ عمر نے بتایا ۔۔

کچھ دیر کے بعد سب نے مل کر کھانا کھایا ۔۔۔ جس پر بھی نوک جھونک چلتی رہی عمر اور علیزے کی ۔۔۔

کھانے کے بعد سب سے پہلے فرقان روانہ ہوا ۔۔۔ انشاء ان کے پاس بیٹھی تھی خاموش تماشائی کی طرح ۔۔۔

@@@@@

شام ہوگئی تھی ۔۔۔۔

“عیان میرے لیۓ کونسا روم ایٹ کروایا ہے ۔۔ علیزے نے پوچھا ۔

“”یار واقعی باتوں میں پتا ہی نہیں چلا اتنا وقت گزر گیا ۔۔ اب ارام کرنا چاہیۓ تمہیں ۔۔ عیان نے فکر سے کہا ۔۔۔

“آؤ گیسٹ روم دکھا دوں تمہیں ۔۔۔ عیان نے خلوص سے کہا ۔

“میں گیسٹ ویسٹ نہیں ہوں مسٹر ۔۔۔ پہلے بتاؤ تمہارا روم کہاں ہے ۔۔۔ علیزے نے انکھیں دکھاتے یوۓ کہا ۔۔۔

“میرا روم تو اوپر ہے اور گیسٹ روم نیچے ۔۔ اوہ تو میڈم بتائیں کہان رہنا پسند کریں گی ۔۔۔ عیان نے کہا , جانتا تھا اس کی فرینک نیچر کو ۔۔۔۔

“تمہارے روم کے پاس والا کوئی روم ہو وہیں رہوں گی ۔۔۔ علیزے نے ایک ادا سے کہا ۔۔

انشاء حیران ہی تھی اس لڑکی پر جو کتنے مزے سے عیان پر حق جتا رہی تھی ۔۔

” اوکے جو کمرہ تمہیں پسند آئے اوپر اسٹے کرسکتی ہو ۔۔ آؤ اوپر چلتے ہیں گھر دکھادوں تمہیں ۔۔ عیان نے خلوص سے کہا ۔۔۔

“رحیم ۔۔۔ عیان نے دو آوازیں دیں اور وہ بوتل کے جن کی طرح حاضر ہوا۔۔۔

“جی سر ۔۔۔ مودب انداز میں کہا ۔۔۔

“سامان اٹھاؤ علیزے کا اوپر لے کر چلنا ہے ۔۔۔ عیان نے حکم دیا ۔۔

“جی سر ۔۔

علیزے نے اپنی پسند سے اوپر والا گیسٹ روم پسند کیا جو ان کے بیڈروم سے ایک کمرہ چھوڑ کے تھا ۔۔۔

سامان وہان رحیم نے رکھا ۔۔۔

“اب تم ارام کرو پھر ملتے ہیں ۔۔۔ عیان نے علیزے سے کہا ۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔ وہ ریلکس ہوئی ۔۔۔اور وہ دونوں کمرے سے باہر آۓ ۔۔۔

انشاء عیان کے پیچھے کمرے میں آئی ۔۔۔ وہ اس سے بات کرنا چاہ رہی تھی اس سے پہلے وہ کچھ کہتی عیان اپنے کپڑے لے کر واشروم میں چلا گیا ۔۔

وہ اسے جاتا دیکھتی رہی اور بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔ تھکن اعصاب پر اتنی سوار تھی کہ اسے نیند کب اگئی پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔

@@@@@@

وہ اچانک سے اٹھی ۔۔۔ اسے یاد ایا اسے تو عیان سے بات کرنی تھی ۔۔۔ چند لمحے لگے خود کے حواس بحال کرنے میں ۔۔۔

ٹائم دیکھا رات کے آٹھ بج رہے تھے ۔۔

“اتنا کیسے میں سوگئی ۔۔ وہ حیران ہوئی ۔۔۔

” شاید اس لیۓ کہ اتنی دیر ان کے بیچ بیٹھنا پڑا ۔۔۔ کتنا بولتی ہے علیزے , نہیں پر عیان کب سے اتنا بولنے لگے ہیں ۔۔۔ اس نے سوچا ۔ ۔

بال سمیٹتی وہ اٹھی ۔۔۔

نیچے آئی تو دور سے ہی علیزے کی کھنکتی آواز سنی جس کی بات پر عیان ہنس رہا تھا ۔

“اپنے شوہر کو قابو میں رکھنا کڑی نظر رکھنا ۔۔۔ علیزے اس کی دیوانی لگتی ہے ۔۔۔

نازیہ بھابھی کے الفاظ کان میں بازگشت کرنے لگے اس کے۔۔۔

“بچ کے رہنا انشاء ۔۔۔ علیزے اور عیان کی بہت فرینکنیس ہے اور کنواری بھی ہے , یونی کے زمانے میں عیان کو پرپوز کرچکی ہے ۔۔۔ عمر تو کہتا وہ مجھے بھی برداش عیان کی وجہ سے کرتی ہے , وہ ہر وقت عیان سے چپکی رہتی ہے ۔۔۔

نازیہ بھابھی کے کہے الفاظ گونجے جو اس نے عید کی دعوت پر اس سے کہے تھے ۔ ۔

اپنے کہے الفاظ اب اس کے کان میں گونجے ۔۔۔

“مجھے کوئی پرواہ نہیں عیان یا علیزے کی ۔۔۔ میں نے خود اسے دوسری شادی کا کہے رکھا ہے , کیا پتا اس بہانے ہی میری اس ان چاہے رشتے سے جان چھوٹ جاۓ ۔۔۔

اپنے الفاظ اس کا مذاق اڑانے لگے تھے ۔۔۔

“تو کیا واقعی مجھے پرواہ نہیں , کیا اتنی بےپرواہ ہوں میں , اگر واقعی عیان دوسری شادی کرلے تو مجھے فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔

دماغ نے اس سے سوال کیا اور ایک لمحے میں اس کے اندر سے آواز آئی ۔۔

“اللہ نہ کرے جو ایسا ہو , عیان ایسا نہیں کرسکتے , مجھے یقین ہے وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے ۔۔۔

وہ اندر ہی اندر خود سے ہمکلام تھی ۔ ۔

“انشاء وہان کیا کھڑی ہو یہان آؤ ۔۔۔ اچانک عیان کی آواز پر وہ چونکی ۔۔۔

ایک ایک قدم اٹھاتی وہان تک آئی ۔۔۔

“ویسے عیان اتنی خاموش بیوی تم نے کہاں سے دریافت کی ہے ۔۔۔ جو خود سے ہی باتیں کرتی رہتی ہے۔۔۔ ویسے تم بھی اتنے خاموش ہو کم ازکم تمہیں اپنے ساتھی کے طور پر ایک باتوںی لڑکی کا انتخاب کرنا چاہیے تھا ۔۔۔

اس نے مشورہ دیا اور کہے ایسے رہی تھی جیسے خود بہت بڑی سمجھدار ہو ۔۔۔
انشاء اسے دیکھ کر عیان کو دیکھنے لگی ۔۔ جانے کیوں اسے علیزے کی بات بری نہیں لگتی تب تک جب تک عیان جواب نہیں دیتا اور عیان کے جواب کے بعد اسے بہت بری لگنے لگتی تھی ۔۔۔ کیونکہ عیان کا جواب بےتاثر جو ہوتا تھا ۔۔۔۔

” عیان آپ تو ایسے نہیں تھے انشاء نے دل ہی دل میں سوچا۔۔۔

“کیا کریں نصیب کی بات ہے ۔۔۔ عیان نے پھیکی ہنسی سے کہا ۔۔۔

” ویسے جانتے ہو نا فزکس کا لاء اپوزٹ اٹریک اینڈ سیم سیم ریپیل ایچ ادھر ۔۔۔ ہے نا سچ کہے رہی ہوں کیوں انشاء ۔۔۔

انشاء چونکی اس کے پکارنے پر ۔ اور جلدی سے کہا ۔۔

“ہان ہان ۔۔۔ بغیر سوچے سمجھے انشاء نے اس کی بات کی تائید کی۔۔

” بس دیکھلو تمہاری بیوی بھی مان رہی ہے ۔۔۔ کہیں واقعی تم دونوں ایک دوسرے کو ریپیل تو نہیں کرتے ۔۔۔

اس نے اپنی بڑی انکھیں میچ کر کنفرم کرنا چاہا عیان سے ۔۔۔ عیان کو بے ساختہ ہنسی آئی جبکہ انشاء کو شرمندگی ہونے لگی اس نے کیوں تائید کی علیزے کی بات سن کر ۔۔۔

“ہممممم اگر ایسا ہے بھی تو کیا ۔۔۔ شادی کے بعد یہ سب میٹر نہیں کرتا علیزے ۔۔۔

عیان نے جواب تو علیزے کو دیا پر دیکھ انشاء کو رہا تھا ۔۔۔
انشاء نے شرمندگی افسوس سے نظر چرالی ۔۔۔

“بہت میٹر کرتا عیان ۔۔۔ اگر ایسا ہو تو ۔۔ علیزے نے ہونٹوں پر انگلی رکھے پرسوچ انداز میں کہا ۔۔۔

“اچھا چھوڑو , ایسا کچھ نہیں , جیسا تم سمجھ رہی ہے , بس انشاء نۓ لوگوں میں کم گھل ملتی ہے , کچھ دنوں میں تم دونوں کی دوستی ہوجاۓ گی ۔۔۔ کیوں انشاء ۔۔

عیان نے اسے مخاطب کرکے اس کی جھجھک دور کرنا چاہی ۔۔

“جی بلکل ۔ انشاء نے کہا ۔

وہ دونوں کو غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ انشاء کا دل کسی انہونی کا الرام دے رہا تھا ۔

@@@@@@@

رات کے کھانے کے بعد ۔۔۔ انشاء نے قہوا کو پوچھا دونوں سے ۔۔۔ تو عیان کے کہنے سے پہلے علیزے نے کہا ۔

“میرے اور عیان کے لیۓ کافی بنانا ۔۔

انشاء سلگ اٹھی ۔۔۔

“میرے شوہر کو بولنے کا موقع نہیں دیتی بس خود ہی بولے جاتی ہے ۔۔۔
وہ جلتی کڑھتی کچن میں آئی اور خود سے بول رہی تھی ۔۔۔

“اس کے حصے کے جواب خود دیتی ہے ۔ بہت تیز ہے یہ ۔۔۔ کتنے مزے سے کہے گئی ہم ریپیل تو نہیں کرتے ایک دوسرے کو ۔۔۔
کلس کر رہ گئی انشاء ۔۔

ہر چیز پٹخنے کے انداز میں رکھ رہی تھی ایسا لگتا تھا علیزے نے اسے جلتے توے پر بٹھا دیا تو جو اتنا سلگ رہی تھی ۔ ۔

” اف کس سے پوچھو اب کون مجھے بتائے گا میری تو کوئی سہیلی بھی نہیں ہے ۔۔۔ نازیہ بھابھی خود میکے گئیں ہیں ۔۔ کیسے بیویان اپنے شوہر کو ایسی عورتوں سے بچاتی ہیں ۔۔

سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ اس نے سوچا ۔

“اگر موڈ نہیں تھا تو پوچھنے کی کیا ضرورت تھی قہوا کا ۔۔ تم جاؤ ملازم سے کہے کر بنوا دوں گا کافی۔۔

عیان نے اس کو بڑ بڑاتے دیکھ کر کہا ۔۔

اچانک عیان کے کہنے پر انشاء نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“ایسی بات نہیں وہ اپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں ۔۔
انشاء نے اپنی صفائی دینا چاہی ۔۔۔

“تو پھر کیا بات ہے , علیزے میری یونی فرینڈ ہے , اس کے سامنے تو کم ازکم میری عزت رکھ لو , دن سے دیکھ رہا ہوں تم منہ بنا کر بیٹھی ہو ۔۔ پہلے مہمانوں کا لحاظ کرتی تھی اب وہ بھی نہیں رہا تم میں ۔۔۔ میرا تماشہ بنا کر کیا مل رہا ہے تم کو ۔۔۔

“عیان ایسی ۔۔۔ انشاء نے کچھ کہنا چاہا پر عیان نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔

“بس۔۔۔ کسی صفائی کی ضرورت نہیں ۔۔۔ ایک بات میری ذہن میں بٹھا لو اگر تمہیں میرے دوستوں کا یہاں آنا ناگوار گزرتا ہے تو ان کے سامنے منہ بنانے سے بہتر ہے تم کمرے میں بیٹھی رہو , یوں منہ کے زاویۓ بنا کر بیٹھنے سے اپنا اور میرا تماشہ نہ بنواؤ ۔۔

واقعی جب ہم غلطی پر ہوتے ہیں تو ہمیں بولنے کے ہزاروں موقعے مل جاتے ہیں اور جب ہم صحیح بات کرنا چاہتے ہیں تو ایک موقع بھی میسر نہیں ہوتا ۔۔۔۔ ایسا ہی کچھ انشاء کے ساتھ ہورہا تھا ۔

“اب لے کر ارہی ہو یا نہیں ۔۔ عیان نے پوچھا انشاء سے ۔

اس نے آنسو ضبط کرتے ہوئے کہا “ہاں بس لاتی ہوں دو منٹ ۔۔۔

عیان وہان سے چلا گیا ۔۔۔

@@@@@@@

وہ کافی لے کر ارہی تھی ۔۔ عیان کو علیزے سے کہتے سنا ۔۔

“میں شام تک آؤں گا تب تک انشاء ہوگی گھر پر ۔ اور پھر زینب بی بھی ہیں تمہیں بھی بوریت نہیں ہوگی ۔

“نا بابا نا بابا میری توبہ ۔۔۔میں نہیں رکنے والی گھر , حیدر انکل ہوتے تو پھر بھی ٹھر جاتی , ہماری گپ شپ ہوجاتی پر تمہاری بیوی انتہا کی بور ہے , میں تو صبح آفیس چلوں گی تمہارے ساتھ , پورا دن اچھا گزر جاۓ گا عمر کی ٹانگ کھچائی میں ۔۔۔

علیزے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرتے ہوۓ کہا تھا ۔۔۔ انشاء حیران تھی وہ کتنے مزے سے اس پر کمنٹس پاس کررہی تھی عیان روک بھی نہیں رہا اس بدتمیز لڑکی کو ۔ ۔

وہ ان کو کافی سروو کرنے لگی خاموشی سے ۔۔۔ اب تو انشاء ایک سمائیل بھی نہ دے سکی ۔

ایک خاص بات قابل غور تھی کہ علیزے کو ذرہ شرمندگی نہ تھی جو اس نے ابھی کمینٹ کیا انشاء پر ۔۔۔

“کیا واقعی اس ڈھیٹ لڑکی سے میں مقابلہ کرسکتی ہوں ۔۔۔ انشاء نے غور سے علیزے کو دیکھتے ہوۓ کہا ۔۔۔۔

جاری ہے ۔۔۔