Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 12

میرے درد سے بےخبر

ازقلم صبا مغل

قسط 11

اس کی تڑپ پر عیان نے اس پر گرفت ہلکی کردی ۔۔

“پلیز مجھے چھوڑدیں ۔۔۔ انشاء منمنائی ۔۔۔ گلابی گال, کپکپاتے ہونٹ اور اس پر سرخ ہوتی ناک ۔۔۔

“چھوڑنے کے لیۓ تھاما نہیں ہے ۔۔۔ عیان نے اس کی سرخ ناک سے اپنی ناک رگڑی ۔۔۔

“پلیز ۔۔۔ مجھے میرے حال پر چھوڑدیں ۔۔۔ وہ اس کے بازو اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہ رہی تھی ۔۔۔

“چھوڑ ہی تو نہیں سکتا ۔۔۔ وہ ابھی بھی اسے ستانے کے موڈ میں تھا ۔۔۔

“تمہیں دکھ کس بات کا ہورہا ہے انشاء بولو ۔۔۔ وہ اس کا جھکا سر , ٹھوڑی پر ہاتھ رکھ کے اٹھایا اور انشاء کی انکھوں میں جھانک کر پوچھا ۔۔۔

“تو کیا نہیں ہونا چاہیۓ ۔۔۔ انشاء نے منہ بسورا ۔۔۔ وہ اس کے انداز پر کسمکسائی ۔۔۔

“کیوں میں نے کچھ غلط کیا ہے بتاؤ مجھے ۔۔۔ عیان نے سوال کیا ۔۔۔

تنگ اکر انشاء اس کی گرفت سے نکلی اور دور کھڑی ہوکر تند لہجے میں بولی ۔۔

“تو اپ کو لگتا ہے اپ نے صحیح کیا , بغیر میری اجازت کے میرے وجود پر تسلط جمانا , اپ کو صحیح لگتا ہے ۔۔۔

“تم اس طرح کرکے مجھے شرمندہ نہیں کرسکتی ۔۔۔ مجھے اپنے کسی عمل پر کوئی شرمندگی نہیں ۔۔۔ عیان اس کے انداز پر حیران ہوا ۔۔۔

“جب اپ کو احساس ہی نہیں تو اپ کو سمجھانا بھی بےکار ہے ۔۔۔۔

“آخر تم چاہتی کیا ہو ۔۔۔ عیان نے چڑ کر پوچھا ۔۔

“میرے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا ایا اب تک , جو اب کوئی امید مجھے ہو ۔۔۔ اپ کو زبردستی کرنی تھی اپ نے کرلی ۔۔۔

“انشاء ایک دن تم بہت پچھتاؤگی اپنے ہر اک لفظ پر ۔۔۔ بحرحال تم مجھے روک نہیں سکتی ایک بات ذہن نشین کرلو ۔۔۔

عیان نے بھی دوٹوک لہجے میں کہا ۔۔۔۔

“اگر اپ کو اتنا شوق تو کرلیں دوسری ۔۔۔ انشاء کی اسی رٹ پر غصہ آیا عیان کو اور اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔

“بس اگے ایک لفظ مت بولنا ۔۔ اور میں واپس آؤں مجھے مییری بیوی نارمل انداز میں ملے ۔۔۔

وہ اس کے ڈھیٹ انداز پر حیران ہی ہوئی تھی ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا عیان نے فیصلا کر لیا تھا وہ اس کی کسی بات کو سریس لے گا ہی نہیں ۔۔۔

وہ پیر پختی ہوئی باہر جانے لگی اسی وقت عیان کے آواز پر رکی ۔۔۔

“پہلے میرے کپڑے نکالو اور پھر ناشتہ ساتھ کریں گے ۔۔۔

وہ غصے سے گھورتی کپڑے نکالنے لگی ۔۔۔ اس کے ہر انداز میں غصہ تھا پر ایسا لگ رہا تھا وہ اس کی ڈھٹائی کا مقابلہ کرنے کے لیۓ خود کو تیار کررہی ہو یا پھر ضبط کرنا چاہ رہی ہو ۔۔۔

وہ واشروم کی طرف بڑھ گیا اس پر ایک نظر ڈالتا۔۔۔

@@@@@@

وہ فریش ہوکر ایا تو دیکھا مس میچ کامبینیشن کے اس کے کپڑے نکالے تھے ۔۔۔ وہ براؤن شرٹ کے ساتھ بلیو پینٹ نکال کر گئی اس پر ریڈ ٹاۓ ۔۔۔

عیان کو ہنسی آئی ۔۔۔ وہ دوسرا سوٹ نکالنے لگا ۔۔۔

اسے اندازاہ تھا انشاء کے اس رویۓ کا ۔۔۔

نیچے ایا تو وہ ناشتہ کھارہی تھی ۔۔۔ اسے پتا تھا وہ اسے ساتھ کھانے کا کہے گا تو وہ اس سے پہلے کھالے گی ۔۔۔ یہی تو وہ چاہتا تھا وہ ناشتہ کرلے کہیں ایسا نہ ہو رات کاغصہ کھانا نہ کھاکر نکالے ۔۔۔

وہ خوش تھی اس کی بات نا مان کر ۔۔۔ جبکہ عیان مطئمن تھا کہ اس نے کھانا کھا لیا ۔۔۔

وہ اکر بیٹھا ڈائینگ پر وہ اٹھ کر جانے لگی۔۔۔ تو عیان نے کہا ۔۔۔

“میرا بریفکیس لانا روم سے ۔۔۔

“اپنے کام زینب بی سے کہیں یا کسی اور سے ۔۔۔ انشاء نے غصے سے کہا تلخ لہجے میں ۔ اسے رہ رہ کر اپنی رات کی توہین بھول نہیں پا رہی تھی , اور اس پر عیان کا مطئمن انداز اسے سلگا رہا تھا ۔۔۔

“میں تو تمہیں ہی کہوں گا ۔۔۔ بیوی تم ہو سارے کام تم کروگی میرے ۔۔۔

“جاؤ جلدی لے کر آؤ ۔۔۔ عیان نے غصے سے بھرپور لہجے میں کہا ۔۔۔ اس کے حکمیہ انداز پر ۔۔۔

وہ جلدی سے اٹھی اور سیڑھیان چڑھنے لگی ۔۔۔ وہ واپس آئی تو اس کا منہ پھولا ہوا تھا ۔۔

اس نے جان بوجھ کر آنے میں دیر کی جبکہ تب تک عیان ناشتہ کرکے فری ہوگیا تھا ۔۔۔

انشاء نے بریف کیس بڑھایا تو عیان نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔

اور اسے ساتھ لے جانے لگا ۔۔۔

” یہ کیا کررہے ہیں ۔۔۔

“سب مازم دیکھ رہے ہیں ۔۔۔

حنیف اور رحیم نے نظر جھکالی دونوں پر ایک نظر ڈال کر ۔۔۔
وہ اس کے ساتھ گھسیٹتی ہوئی جانے لگی اور عیان نے بریف کیس لے کر اس کے ہاتھ سے اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔

” اچھی بیویاں شوہر کو دروازے تک چھوڑنے جاتی ہیں ۔۔ اور بہت ہی اچھی بیویاں تو انہیں گاڑی میں بیٹھنے کے بعد ان کی جانب راہ دیکھتی رہتی ہے جب تک منظر سے اوجھل نہیں ہوجاتی شوہر کی گاڑی اور کوئی دعا وغیرہ پڑھ کر پھونک بھی دیا کرتی ہیں ۔۔۔

وہ لاؤنج کا دروازہ کراس کرکے کار پورچ تک آۓ ۔۔ اب ہاتھ اس کی کمر میں ڈالا ۔۔۔

“پلیز چھوڑیں ۔۔۔ انشاء نے شرمندہ سے لہجے میں کہا ۔۔۔

“ڈرو مت ۔۔۔ آفیس تک نہیں لے جارہا ۔۔۔ عیان نے ہنس کر کہا ۔۔۔ وہ شرم سے لال ہورہی تھی ۔۔۔ انشاء کا بس نہیں چل رہا تھا کہ عیان کو کچھ کر ہی ڈالے جو اتنا پھیل رہا تھا ۔۔۔

“اب بتاؤ تم کونسی قسم کی بیوی ہو ۔۔۔

وہ غصے سے گھور رہی تھی اور عیان نے اس کی کمر سے ہاتھ نکالا اور بریفکیس گاڑی میں رکھا اور اس کی طرف مڑ کر کہا ۔۔۔

” یہاں تک آکر تم اچھی بھی بن چکی ہو۔۔ اب یہ بتاؤ کہ بہت اچھی بیوی بننے کا ارادہ ہے یا نہیں ۔۔۔

عیان نے مسکرا کر کہا ۔۔ وہ دوبارہ گویا ہوا ۔۔ ۔ “کچھ بولوں گی بھی یا نہیں یا یونہی مجھے گھورتی رہوگی غصے سے ۔۔۔

” اول تو میں بہت ہی بے کار قسم کی بیوی ہوں کیونکہ میں یہاں تک آئی نہیں ہوں زبردستی لائی گئی ہوں ۔۔۔ جب میں اچھی بیوی نہیں تو بہت اچھی بننے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔

وہ اس کی بات سن کر سخت بدمزاہ ہوا ۔۔۔ گاڑی میں بیٹھا ۔۔۔ اور خود پر کنٹرول کرکے کہا ۔۔۔

“رات کو کھانے پر اہتمام کرلینا عمر اور نازیہ بھابھی آئین گے ۔۔

“میں کچھ نہیں کروں گی اپ کے مہمان ہیں زینب بی سے کہے دیں ۔۔۔

“میں نے تم سے کہے دیا ہے اب تم پر ہے کیا کرتی ہو ۔۔ اتنا کہے کر اس نے گاڑی کی اسپید دی اور چلا گیا بغیر انشاء کا جواب سنے ۔۔

وہ منہ میں بڑ بڑاتی ہوئی اندر چلی گئی ۔۔۔

@@@@@@@

“کیا بات ہے اج میرا یار نکھرا ہوا ہے ۔۔۔۔ میٹینگ کے بعد اکیلے تھے آفیس روم میں تو عمر نے عیان سے کہا ۔۔۔

“شٹ اپ ۔۔۔ عیان کو اس کے شرارتی انداز پر کہنا پڑا ۔۔۔

“کیا کہا تم نے تھینکس کہا اور مجھے شٹ اپ سنائی دے رہا ہے ۔۔۔۔ عمر نے کان کھجاتے ہوۓ کہا ۔۔۔ جیسے واقعی اسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔۔۔

“عمر میں نے شٹ اپ ہی کہا ہے ۔۔۔ عیان نے گھورتے ہوۓ کہا ۔۔ وہ کتنا مطئمن تھا پر انشاء کے آخری لفظ اور تاثرات بہت تکلیف دہ تھے عیان کے لیۓ ۔۔۔ اس لیے سارے موڈ کا بیڑا غرق ہو چکا تھا ۔۔۔

“پر کیوں ۔۔۔عمر نے پوچھا ۔

“کسی پر زبردستی مسلط ہونا غلط لگ رہا ہے مجھے ۔۔۔

“اوہ جناب کو اگنور ہونا گھل رہا ہے ۔۔۔ کیونکہ ہمیشہ لڑکیوں کا کرش رہا ہے جناب سب کا منظورِ نظر , اب کوئی لڑکی وہ بھی مابدولت کی بیوی اپ کی چارمننگ پرسنلٹی سے امپریس نہیں ہورہی ۔۔۔ یہی بات ہے نا ۔۔۔۔

عمر نے بھی کھل کے تبصرہ کیا ۔۔۔ عیان نے نظر چرائی اور کہا ۔۔۔

“ایسا کچھ نہیں ہے عمر ۔۔۔

“یہی بات ہے جانتا ہوں میں ۔۔۔

“تم سدھر نہیں سکتے بلکل لڑکیوں کی طرح تبصرہ کرنے لگے ہو ۔۔۔

“وہ تو ہے ۔۔۔ اب بتاؤ , کونسی بات گھل رہی میرے یار کو کھل کے کہو ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔

” میں کچھ نہیں کہہ رہا تم رات کو خود آرہے ہو ڈنر پر ۔۔۔ دیکھ لو اس کا انداز ۔۔۔ پھر کہنا ۔۔۔

“کیا مطلب ۔۔۔

“آج کھانے پر آؤگے بھی گھر ۔۔ پر بنا ہوا کچھ نہیں ملے گا یہ بھی دیکھنا اور اندازہ کرنا میری ویلیو اس کی نظر میں ۔۔۔

” بس یہی پرابلم ہے سارے مردوں کی کہ ایک رات میں عورت بدل جائے , ایسا کچھ نہیں ہوتا , وقت لگتا ہے تھوڑا ٹائم دو پھر دیکھو انشاء بھابھی میں چینج ۔۔۔۔ صبر اور حوصلہ رکھو میرے یار ۔۔۔

عمر نے اسے سمجھایا ۔۔۔

“اچھا بھابھی کو لانا مت بھولنا ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

“اس کے بغیر آؤں گا بھی نہیں ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔

پھر دونوں اپنی باتیں کرنے لگے ۔۔۔۔

@@@@@@

تھکن سے جسم چور تھا وہ بھی ایسا سوئی کہ پھر شام چار بجے اٹھی ۔۔۔ جلدی نماز ادا کی اور دل ہی دل میں عیان کو سناتی رہی ۔۔۔

“نہیں بنواتی کچھ ۔۔۔ انسلٹ ہوگی تو پتا چلے گا ۔۔

انشاء نے چڑ کر سوچا ۔۔۔

اسی ملگجے حلیۓ میں بیٹھی رہی ۔۔۔

وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی صبح والے حلیۓ میں ۔۔۔ عیان نے ہی سلام کیا ۔۔۔

“کتنی بھی ناراضگی ہو سلام کا جواب دینا چاہیۓ ۔۔۔ اس نے ٹوکا ۔۔۔

“واعلیکم سلام انشاء نے کہا ۔۔۔

“یہ کلر بہت سوٹ کرتا ہے تم پر اچھا ہوا چینج نہیں کیا ۔۔۔ مجھے یقین تھا تم اسی سوٹ میں مجھے ملو گی ۔۔۔ عیان نے مسکرا کر کہا ۔۔۔

وہ جو اسے چڑانے کا سوچے ہوۓ تھی اس کی تعریف پر کلس کر رہ گئی ۔۔

“دیکھ لو دل کی دل سے راہ ہوتی ہے ۔۔۔ عیان نے ایک اور شعلہ پھینکا ۔۔۔

وہ ضبط کرتی رہی ۔۔۔ ” اب ایسی بھی بات نہیں ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔۔

“اچھا چاۓ دے کر پھر جاؤ ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

وہ عیان کی تعریف پر بوکھلاہٹ کا شکار تھی ۔۔۔ کچن کی طرف جاتے ہوئے لانگ مرر میں اس نے خود کو دیکھا ۔۔۔

“میں تو ماسی لگ رہی ہوں پھر عیان نے ایسے کیوں کہا ۔۔۔ انشاء نے سوچا ۔۔۔

چپ چاپ چاۓ بنانے لگی ۔۔۔ اس کے سامنے چائے رکھی تو عیان نے کہا ۔۔۔

” تم اپنی نہیں لآئی ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

“میں پی چکی ہوں ۔۔۔ انشاء نے سہولت سے کہا۔۔

” بیٹھو کہاں جا رہی ہو۔۔۔

” کپڑے چینج کرنے جا رہی ہوں ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔۔ ” ایک تو ایک منٹ بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتے سوال پر سوال کرتے رہتے ہیں ۔۔۔ انشاء نے سوچا پر کہا نہیں ۔۔۔

” پلیز بلیک کلر مت پہننا اس کے علاوہ جو بھی پہنو تمہاری مرضی ۔

انشاء بغیر کچھ کہے چلی گئی ۔۔۔ عیان کو یقین تھا وہ بلیک کلر پہنے گی ۔۔۔

@@@@@@@

اور انشاء نے حقیقت میں بلیک کلر کا سوٹ پہن کر فریش ہوکر شیشے کے سامنے آئی ۔۔۔

“عجیب شخص ہے رات کے کھانے کا پوچھ ہی نہیں رہا ۔۔۔ انشاء دل ہی دل میں سوچ رہی تھی ۔۔

سامنے بیٹھا عیان اس کے حسن کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔۔ یہ اس کے دل کی آواز تھی وہ بلیک کلر میں جچے گی ۔۔۔ اس وقت بلیک کلر پہنے وہ عیانکے دل کو دھڑکا رہی تھی ۔۔۔

انشاء جزبز ہورہی تھی اس کے اس طرح دیکھنے پر۔۔

” ان کو تو بلیک کلر پسند نہیں ہے اس لیے پہنا تھا اور اب دیکھ کیسے رہے ہیں ۔۔۔ انشاء نے دانت پیسے اور سوچا ۔۔۔

وہ سارا غصہ اپنے سنہری بالوں پر نکال رہی تھی ۔۔

“میرا غصہ ان پر کیوں نکال رہی ہو ۔۔۔ عیان نے کہا ۔

” پلیز آپ اس طرح دیکھنا بند کریں مجھے سکوں سے تیار ہونے دیں ۔۔۔ انشاء نے بےتاثر لہجے میں کہا ۔۔۔

“واقعی جس نے کہا تھا صحیح کہا تھا خوبصورت لڑکیوں کی عقل گھٹنوں میں ہوتی ہے ۔۔۔

“یہ اپ کا اشارہ کس کی طرف ہے ۔۔۔ انشاء نے ایک دم اس کی بات پر برش پٹخا اور پلٹ کر اس کے روبرو ہوئی اور کمر پر ہاتھ رکھ پوچھا ۔۔

“اچھا تو تم واقعی خود کو اتنا خوبصورت سمجھتی ہو کہ تمہیں لگتا ہے کہ یہ میں نے تمہارے لئے کہا ہے ۔۔۔

عیان نے شرارتی لہجے میں پوچھا ۔۔۔ انشاء گڑبڑائی اور کہا ۔۔

” تو کیا واقعی میں خوبصورت نہیں ہوں ۔۔۔ انشاء نے بےساختہ پوچھا ۔۔۔

” اس سوال کا جواب تو فرصت میں بیٹھ کر دوں گا , اگر تم سننا گوارا کرو ۔۔۔ عیان نے شوخ لہجے میں کہا ۔۔۔

“مجھے اپ کے یقین دلانے کی ضروت نہیں ۔۔۔ مجھے خود پتا ہے ۔۔۔ عیان کے اس جواب پر وہ بے انتہا شرمندہ ہوئی ۔۔۔ شرمندگی کے مارے جو منہ میں ایا بول گئی وہ ۔۔۔ وہ پلٹی تو ۔۔

اسی وقت عیان نے اس کے ہاتھ تھام لیا اور ڈرار سے باکس نکالا اور اس میں سے کنگن نکالے اور اس کی کلائی میں سجادیۓ ۔۔۔

” ماما کی نشانی ہے اسے خود سے جدا مت کرنا ۔۔ عیان نے پیار سے کہا ۔۔۔

انشاء یوں تو اتار دیتی پر ماما کا سن کر خاموش ہو گئی کیونکہ وہ بڑوں کا احترام کرنا اچھی طرح جانتی تھی ۔۔۔

روم سے باہر چلی گئی ۔۔۔ عیان واش روم چلا گیا چینج کرنے ۔۔۔

@@@@@@@@

عمر اور نازیہ بھابھی بچوں کے ساتھ آۓ تھے ۔۔ زینب بی حیران ہوئی ۔۔

انہیں انشاء نے یہی کہا تھا ” عیان کا ڈنر باہر ہے ۔۔۔ اس لئے صرف نوکروں کا کھانا بنا تھا آج ۔۔ ویسے بھی انشاء کم ہی کھانا کھاتی تھی زیادہ تر رات میں اہتمام مردوں کے لئے ہی کیا جاتا تھا ۔۔۔۔

جانے کیوں اب انشاء شرمندہ ہونے لگی ۔۔۔ کیونکہ عمر اور نازیہ بھابھی کیک فروٹس چاکلیٹ اور گفٹس کے ساتھ آۓ تھے ۔۔۔

نازیہ بھابھی پہلے بھی اس سے پیار ملتی تھی پر اب تو ان کا انداز اور بھی اپنا پن لیۓ ہوۓ ہوتا تھا ۔۔۔
عمر نے بھی احترام میں اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔

” یہ سب لانے کی کیا ضرورت تھی ۔۔۔ عیان نے اتنا کچھ دیکھ کر کہا ۔۔۔

” تمہارے لئے کچھ بھی نہیں کیا سب کچھ بھابھی کے لیے ہے ۔۔ عمر نے چڑاتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“بس بھابھی شادی جلدی میں ہوئی کچھ دے نہ سکے اس لیۓ اب یہ سب کرنا پڑا ۔۔۔ عمر نے کہا ۔۔۔ نازیہ مسکرا رہی تھی۔۔۔

نازیہ اسے سونے کی چین اور ڈریسس دکھانے لگی ۔۔۔ انشاء دل ہی دل میں ان کے خلوص کا اعتراف کیا اور اپنی سوچ پر جی بھر کر شرمندہ ہوئی ۔۔۔

“اب اتنا جلدی کیا بنے گا اور منگوانے میں بھی وقت ضایع ہوگا ۔۔۔ الریڈی رات کے دس بجنے والے تھے ۔۔۔

انشاء کو ٹھنڈے پسینے چھوٹنے لگے اور خود کی بے وقوف پر رونا انے لگا ۔۔۔۔

” کیا ہوا انشاء ۔۔۔ نازیہ نے اس کی بدلتی کیفیت کو بخوبی سمجھا اور پوچھا …

انشا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اس بات کا کیا جواب دے ۔۔۔ وہ عیان کو دیکھنے لگی ۔۔

جاری ہے ۔۔۔۔