Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

میرے درد سے بےخبر

ازقلم صبا مغل

قسط 3

وہ حیرت سے ایمان کو دیکھنے لگی ۔۔۔

“انشاء آئندہ خیال رکھنا ان باتوں کا ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ ڈریسنگ روم کی طرف بڑھ گیا اور انشاء اسے جاتا دیکھتی رہی ۔۔۔

اسے اس کے روڈ رویۓ کا دکھ اپنی جگہ تھا پر جتنا اس کا انشاء بلانے کا تھا کیونکہ وہ تو اس کی ساتھی تھی ۔۔۔ انشاء تو غیر اور اجنبیت سا لگا اس کے منہ سے کتنا غیر شناسا سا لگا تھا اس کو ۔۔۔

“ایسا کیا ہوگیا ہے جو اس طرح بات کررہا ایمان مجھ سے ۔۔۔اس نے دکھ سے سوچا ۔۔۔اور اس کے کمرے سے جانے لگی ۔۔۔ ابھی وہ لاؤنج میں پہنچی تھی کہ عیان کی آواز نے اس کے قدم جکڑے ۔۔۔

“انشاء ۔۔۔ عیان صوفے پر بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا ۔۔

“جی عیان بھائی ۔۔۔ اس نے گھبرائے لہجے میں کہا ۔۔۔

“ایک گلاس پانی ۔۔۔ عیان نے بارعب لہجے میں کہا ۔۔۔

“جی ۔۔۔ وہ حکم ملتے ہی پانی لینے فریج کی طرف بڑھی ۔۔۔

وہ گلاس بھرکے اس کے سامنے آئی پر وہ اپنی فائل میں بزی رہا اور اسے پکارنے کی ہمت نہیں کر پارہی تھی ۔۔۔ وہ ہمیشہ ایسی روہانسی ہوجاتی تھی ۔۔۔ اول عیان اسے کبھی اپنا کوئی کام نہ کہتا تھا اور اگر کبھی کہے دیتا وہ بگڑ ہی جاتا ۔ ۔ اس وقت بھی انشاء کو جلدی تھی کیونکہ کالج جانا تھا ایمان کے ساتھ وہ اسے ڈراپ کرتا ہوا جاتا تھا ۔۔

کئی منٹ گذر گۓ پر وہ خاموش کھڑی رہی گلاس تھامے ۔۔۔ عیان کی فائل پر سے نظر ہٹی تو اس کے پاؤن پر پڑی تو اس نے ہاتھ بڑھایا گلاس تھامنے کے لیۓ ۔۔۔ وہ اپنے خیال میں تھی اور گلاس اس نے پہلے چھوڑ دیا اور گلاس زمین بوس ہوگیا ۔۔۔ پانی کی کچھ چھینٹین عیان پر تو کچھ انشاء کو لگے ۔ ۔ گلاس تو چھناکے سے ٹوٹ گیا ۔۔۔

“نانسینس , یہ کیا بےوقوفی کی ہے , اب تک ایک گلاس پانی کے دینے کی تمیز نہیں آئی تم میں ۔

عیان کاغصہ عروج پر تھا اور انشاء سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔

” انشاء بیٹا تم جاؤ میں صاف کر دوں گی۔۔۔ اسی وقت زینب بی بی نے اکر جلدی سے کہا ۔۔۔ انشاء نے جانے کےلیۓ قدم بڑھاۓ اسی وقت عیان کی غصیلی آواز نے اس کے قدم روکے ۔۔

“رک جاؤ , وہ سوالیہ نظروں سے عیان کو دیکھنے لگی ۔۔۔

“زینب بی بی اپ نہیں یہ خود کرے گی اج تک اپ نے ہی اس کے بگڑے کام کیۓ ہیں اب خود کرنا سیکھے ۔۔۔ جلدی صاف کرو انشاء ۔۔۔

عیان نے غصے سے کہا ۔۔۔ زینب بی بی رک گئیں ۔۔۔ بابا اور ایمان بھی لاؤنج میں اگۓ ۔۔۔ پر عیان کے سامنے کوئی کچھ کہنے کی ہمت نہ کرسکا ۔۔۔

ڈر کے مارے انشاء نے جلدی سے انگلیوں کے پوروں سے کانچ چننے لگی ۔۔۔

ایک دم عیان نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا ۔۔۔

“پاغل ہو کیا , زینب بی بی اپ ہی کرلیں یہ کام , بابا دیکھیں اپ کی بیٹی کے کام اور اس کی عقل گھاس چرنے گئی ہے , ہم اس کی شادی کا سوچ رہے ہیں اور بچپنا دیکھیں اس کا ۔۔۔

“چپ کرجاؤ بس بولے جارہے ہو میری بیٹی کو ڈرا دیا تم نے ۔۔۔ جاؤ ایمان فرسٹ ایڈ باکس لاؤ ۔۔۔

عیان نے اسے صوفے پر بٹھایا اپنے ساتھ ۔۔۔ بابا جان اس کے دوسرے طرف بیٹھے ۔۔۔ ایمان جلدی سے باکس لایا اور مہارت سے اس کی پٹی کردی ۔۔۔

“چلو دودھ کے ساتھ یہ دوائی کھالینا ۔۔۔ ایمان نے بڑھائی گولی جو اس کے سامنے دوزانو بیٹھا تھا ۔۔۔

“میں دودھ نہیں پیتی ایمان ۔۔۔ اس نے روتے ہوۓ کہا ۔۔۔

“زینب بی بی دودھ کا گلاس لائیں ۔ عیان نے حکمیہ لہجے میں کہا اور زینب بی بی دو منٹ میں گرم دودھ لے کر اگئی ۔۔۔

“باباجان ۔۔۔ انشاء نے رونی صورت بنا کر کہا ۔۔۔ ابھی بھی وہ عیان اور بابا جان کے بیچ بیٹھی تھی ۔۔۔

“شاباش دودھ کے ساتھ دوائی لو اور ارام کرو , کل چلی جانا کالیج سمجھی ۔۔۔

عیان نے دوٹوک لہجے میں کہا اس کے ایک ہاتھ میں دودھ کا گلاس اور دوسرے میں کچھ گولیان تھیں ۔۔۔ اب انشاء نے مدد طلب نظروں سے سب کو دیکھا پر سب نے نظرین پھیر لیں ۔۔۔ اب کوئی چارہ نہ تھا سواۓ پینے کے ۔

“اب جلدی کرو سب کو اپنے کام پر جانا ہے , ہری اپ ۔ تین گھونٹ میں ختم کرنا ۔۔ عیان نے بچوں کی طرح بچکارا اسے ۔۔۔

ڈر کے مارے اس نے جلدی سے گولیان لے کر اوپر سے دودھ پی لیا ۔۔۔ ایمان اور بابا جان ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراۓ کیونکہ انشاء صرف عیان کی مانتی تھی ۔۔۔ زینب بی بی کو بھی ہنسی آئی اس کے انداز پر ۔

عیان کے حکم پر وہ کمرے کی طرف چلی گئی ۔۔۔ مریل قدموں سے ۔۔۔

“عیان اتنا کیوں کرتے ہو اس کے ساتھ ۔۔۔ بابا جان نے کہا ۔۔۔

“میں نے صرف ایک گلاس پانی مانگا , میرا سارا وقت خراب کردیا اس لڑکی نے ۔۔۔ وہ اپنی فائل بریفکیس میں ڈالتا اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔

“چلتا ہوں دیر ہورہی ہے اپ بھی آفیس ائیۓ گا اج ۔۔۔

“اوکے بیٹا ۔۔۔ وہ اپنے خوبرو بیٹے کو جاتا دیکھنے لگے ۔۔۔ جو بلا کا ہنڈسم اور مغرور مشہور تھا اپنے سرکل میں ۔۔۔ بہت لڑکیوں کا کرش تھا پر اج تک اسنے کسی کو ایک نظر نہ دیکھا ۔۔۔

@@@@@@

“میری بیٹی کیسی ہے اب ۔۔۔ دن کو آفیس سے انے کے بعد بابا جان اس کے کمرے میں آۓ اس کو پوچھنے ۔۔۔

“بابا جان میں تو ٹھیک ہوں پر عیان بھائی سے پوچھین میں اب اٹھ جاؤں ۔۔۔

انشاء نے منہ بنا کر پوچھا ۔۔ اسی وقت ایمان ایا جو اس کی بات سن چکا تھا بابا کے کچھ کہنے سے پہلے بول پڑا ۔۔۔

“تم بھی حد کرتی ہو انشاء بھائی نے کچھ دیر ارام کو کہا تھا تم تو بیڈ ریسٹ پر چلی گئی ۔۔۔ چھوٹی چوٹ ہے چل پھر سکتی ہو۔۔۔

“پھر عیان بھائی غصہ نہ ہوجائیں ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔۔

“کچھ نہیں ہوتا اؤ چلو ۔۔۔ پھر وہ باہر اگئی باباجان اور ایمان کے ساتھ ۔۔۔
“زینب بی بی کھانا لگا دیں سب ساتھ میں کھائیں گے ۔۔۔ بابا جان نے کہا ۔۔۔

وہ بابا کے سینے پر سر رکھے تھی ۔۔۔

“کیا بات ہے انشاء بیٹی , کسی بات پر اداس ہو ۔۔۔ انہوں نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔ وہ محسوس کررہے تھے وہ کچھ بےچین ہے ۔۔۔

“نہیں بابا جان ۔۔ بس خود سے دور مجھے مت کیجیۓ گا پلیز ۔۔۔ انشاء اور شدت سے رونے لگی ۔۔

وہ سمجھ گۓ وہ عیان کی باتوں پر پریشان ہورہی تھی ۔۔۔

“میں کبھی اپنی بیٹی کو خود سے دور نہیں کروں گا ۔۔۔ باباجان نے اس کے انسو پونچھ کر کہا ۔۔۔

“پر کھانا کھاؤ پہلے ۔۔۔ بابا جان نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا ۔۔۔

“جی بابا جان ۔۔۔ انشاء نے کہا ۔۔۔

آج خاموشی تھی ورنہ ہر وقت شور رہتا انشاء اور ایمان کی موجودگی میں اور خاص کر عیان نہ ہو تو اور ہنگامہ برپا کرتے رہتے ۔۔۔

صرف دن کو ہی نہیں رات میں بھی باباجان نے محسوس کیا اس خاموشی کو ۔۔۔

@@@@@

رات کے کھانے کے بعد خاموشی سے انشاء نے قہوہ دیا اور کافی دی عیان کو جانے لگی ۔

“کہان جا رہی ہو بیٹھو ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

انشاء اس کے حکم پر بیٹھ گئی ۔۔۔ ایمان نے بھی انشاء کے اداس چہرے کو دیکھا دونوں کے بیچ بات چیت بند تھی تین دن سے ۔۔۔ پہلی دفعہ تھا دونوں ایک دوسرے کو بتانے سے قاصر تھے نہ انشاء نے وجہ پوچھی نہ ایمان نے پوچھی ۔۔۔ سردمہری دونوں کے تعلق میں اگئی تھی ۔۔۔ خاموشی سے ساتھ جاتے اور واپسی میں اتے ساتھ پر بلا وجہ بغیر ضرورت کے ایک لفظ نہ بولتے ایک دوسرے سے ۔۔

“بھئ تم دونوں کے بیچ کیا ہوا ہے جو اتنی شدید ناراضگی ہوگئی ہے ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہیں ۔۔۔ ہم نے کچھ اور سوچا ہوا تھا پر اب تم دونوں ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور کررہے ہو ۔۔۔

عیان نے دونوں کو دیکھ کر کہا ۔۔۔ انشاء بابا کے ساتھ بیٹھی تھی جبکہ دوسری طرف ایمان بیٹھا تھا جبکہ عیان سامنے والے صوفے پر بیٹھا تھا ۔۔۔

“ایسا کچھ نہیں ۔۔۔ دونوں نے ایک اواز کہا ۔۔ باباجان مسکراۓ اور کہا ۔۔۔

میں تو چاہتا ہوں میری بیٹی اسی گھر میں رہے ہمیشہ اس لیۓ تم دونوں کو ایک خوبصورت رشتے میں باندھ دوں پر تم دونوں کی ناراضگی اب مجھے کچھ اور ۔۔۔۔

“نہیں بابا جان ہم میں کوئی لڑائی نہیں ۔۔۔ پھر دونوں نے ایک ساتھ کہا اور چپ بھی ہوگۓ ۔۔۔ اب کے عیان نے جاندار قہقہ لگایا اور کہا ۔۔۔

“تو تم دونوں نے یہ ڈرامہ اس لیۓ رچایا ہوا ہے کہ ہم اس طرف غور کریں ۔۔۔ انشاء نے نظرین جھکالیں جبکہ ایمان کھل کے مسکرایا اور بابا کو گلے لگایا اور عیان کو بھی ۔۔۔

پر ایمان میں تو اب تم دونوں کی خاموشی پر کچھ اور سوچنے ۔۔۔

پلیز بابا جان جو اپ نے پہلے سوچا وہ بلکل ٹھیک فیصلہ ہے ۔۔۔

انشاء اٹھنے لگی اس چہرہ گلاب کی طرح لال ہوگیا تھا شرم سے اور عیان نے دلچسپی سے دیکھا اور پہلی دفعہ عیان نے کسی لڑکی کو اتنا شرماتے ہوۓ دیکھا تھا ۔۔۔ بابا جان نے انشاء کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بٹھالیا اور اسے دیکھا جس کا سرخ سفید رنگت چہرہ شرم سے لال ہورہا تھا گلابی ہونٹ کپکپا رہے تھے ایمان نے محبت سے دیکھا اسے ۔۔۔ ایمان عیان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا اور دونوں بھائی اب باپ بیٹی کو دیکھنے لگے ۔۔۔

“ایمان کا تو پتا چل گیا اب اپنا فیصلا سناؤ انشاء …. انہون نے کہا ۔۔۔” جو اپ کا فیصلا وہی میرا ہے بابا جان ۔۔۔ اتنا کہے کر وہ بھاگ گئی ۔۔۔

سب ہنس دیۓ ۔۔۔ ایمان بھی اس کے پیچھے گیا ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

“دیکھا اپ نے بابا جان دونوں کتنے چھپے رستم نکلے ۔۔۔

“تم نے بلکل سہی کہا تھا , بس اللہ دونوں کو ساتھ خوش رکھے ۔ آمین ۔۔۔

“آمین ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

اور اگے کی پلاننگ کرنے لگے ۔۔۔۔

@@@@@@@

اس سے پہلے وہ دروازہ بند کرتی ایمان اس کے پیچھے اگیا پاؤں رکھ کے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔

” جاؤ یہاں سے ایمان کے بچے ۔۔۔۔
انشاء نے کہا اور منہ پھیر لیا ۔۔۔
“نہیں جاؤں گا ۔۔ پہلے دیکھنے دو مجھے یہ خوبصورت چہرہ ۔۔۔ وہ گلنار ہوتا اس کا چہرہ دیکھنا چاہ رہا تھا ۔۔۔ جو وہ اس سے چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہی تھی ۔۔۔

وہ بےانتہا خوش تھا ایسا لگا سر سے کوئی بوجھ اترا ہو ۔

” ہاتھی میرا ساتھی شرماتی بھی ہے ۔۔ ایمان نے چھیڑا ۔۔

“نہیں ہوں تمہاری ساتھی , اب انشاء کہنا مجھے ۔۔ اس نے روٹھے لہجے میں کہا ۔۔۔

پُرسکون تو انشاء بھی ہوئی تھی ۔۔۔ اسے یقین نہیں ارہا تھا باباجان اسے بہو بنائیں گے بھی کبھی ۔۔ وہ دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کررہی تھی جس نے بغیر رکاوٹ کے ان کو ملا دیا ۔۔۔

“قطعی نہیں اب تو پکی میری ساتھی بنو گی ۔۔۔
ایمان نے کہا ۔۔۔ وہ بھاگ کر ڈریسنگ روم جانے لگی ۔۔۔ ایمان نے کہا ۔۔۔

“رکو تو سہی میری ساتھی ۔۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھام چکا تھا ۔۔ وہ رک گئی تھی ۔۔۔

“ساری عمر چاہتا رہوں گا میری آخری سانس تک, تم سے محبت کرتا رہوں گا , خدا سے ابھی مانگنا شروع کیا تھا پر بن مانگے میری جھولی بھردی اللہ نے , بہت مہربان ہے میرا رب ۔۔۔
وہ دل سے اظہار کر رہا تھا اور انشاء کا دل اس کی محبت میں دھڑکنے لگا ۔ ۔

“بےشک ۔۔۔ ایمان میں بھی اج بہت خوش ہوں ۔۔۔ اپنے رب کی شکر گذار ہوں ۔۔۔

“ایسے ہستی مسکراتی رہنا , میری ہنسی خوشی سب تم سے ہے انشاء تم ہی میری ہمسفر اور ہاتھی میری ساتھی ہو ۔۔۔

“اف ایمان اب تو سلم ہوگئی ہوں پھر بھی ہاتھی کہتے ہو ۔۔۔

اس نے کمر پر ہاتھ رکھ کر کہا اور گھوری سے نوازا ۔

“مجھے تو اج تک وہ موٹو یاد ہے جسے ہلانے میں , میں ناکام ہوگیا تھا ۔۔۔
ایمان کے بچے بہت ماروں گی اگر سب کے سامنے اب ہاتھی کہا ۔۔۔

“ایمان کے بچے پیدا کرنے کے بعد تم نے ہاتھی ہو ہی جانا ہے ۔ ایمان نے شرارتی انداز میں کہا ۔۔۔۔

“باباجان دیکھیں کیا کہے رہا ہے مجھے ایمان ۔ ۔

انشاء نے ایک دم کہا , جس پر گھبرا کر اس کا ہاتھ چھوڑا اور ایمان نے دروازے کی طرف دیکھا اور انشاء ہنستی ہوئی ڈریسنگ روم گئی اور دروازہ لاک کرلیا ۔۔۔ پھر دونوں کے قہقہوں سے کمرہ گونجنے لگا ۔۔

“اج تو یہ فاؤل کرگئی آئندہ نہیں کرنے دوں گا ۔۔۔ ایمان نے وارننگ انداز میں کہا ۔۔۔

“دیکھ لیں گے ۔۔۔ اندر سے آواز آئی ۔۔۔

“ہممم دیکھیں گے ۔۔۔ اور وہ چلا گیا ۔۔ جانتا تھا اب اس کے جانے بعد ہی انشاء نکلے گی ۔۔۔
ٓ@@@@@@

اگلے دن سے ہی تیاریان شروع کردی تھی زینب بی بی نے ۔۔۔ اور سب رشتیداروں میں مٹھائی بانٹ کر سب کو بتا دیا گیا اس رشتے کے بارے میں۔۔۔ گاؤں سے بھی مبارکباد کی کالیں آئیں ۔۔۔

اب تو گھر میں یہی ایک موضوع رہ گیا تھا ۔۔۔

اس وقت بھی عیان اور باباجان کی بات اسی ٹاپک پر ہورہی تھی ۔۔۔

“انشاء کا کالیج کملیٹ ہوجاۓ پھر شادی کردیں گے فلحال تب تک مگنی ٹھیک رہے گی اور ایمان کی بھی پڑھائی مکمل ہوجاۓ گی ۔۔۔ کیا خیال ہے عیان ۔۔۔

“پر بابا جان مجھے لگتا ہے نکاح کردیتے ہیں پھر رخصتی کردینگے دونوں کی پڑھائی مکمل ہوجانے کے بعد ۔۔۔

“بات تو ایک ہی ہے ۔۔۔ انہوں نے کہا ۔۔۔

“نہیں بابا جان بات الگ الگ ہے کیونکہ مگنی ناپائیدار رشتہ ہے , اس میں لمٹس ہونی چاہیۓ , پر نکاح کردین گے تو دونوں ایک دوسرے کے محرم ہوجائیں گے پھر اس فیز کو انجواۓ کرین گے تو اپ کو اعتراض بھی نہیں ہوگا ۔۔

عیان کی بات پر چپ ہوگۓ تھے حیدرشاہ ۔۔۔

“ٹھیک ہے ۔۔۔ کل تم اور زینب بی بی لے جانا انشاء کو اس کے نکاح کا سوٹ دلوانے ۔۔۔۔

“میں کیوں بابا جان , ایمان اور وہ اپنی پسند کا لیں ۔۔۔ میرا کیا کام ۔۔۔ عیان نے کہا ۔

“عیان تم ہماری روایات کیوں بھول رہے ہو , انشاء میری بیٹی ہے مجھے بیٹی کے باپ کی طرح سوچ اتی ہے ۔۔۔ باباجان نے کچھ سرد لہجے میں کہا , عیان کو اس وقت وہ بالکل ایک بیٹی کے روایتی باپ کی طرح لگے ۔۔۔

پر عیان بھی ان کا بیٹا تھا اور اسی انداز میں کہا ۔۔۔

“تو مجھے ایمان کے باپ کی طرح کے خیالات اتے ہیں اس لیۓ نکاح کی تجویز رکھی میرے پیارے باباجان ایمان اج کا لڑکا ہے وہ ان لمحوں کو انجواۓ کرنا چاہے گا اور ہمیں اس کا بھی سوچنا ہے پیارے باباجان ۔۔۔ عیان نے بھی اسی انداز میں جواب دیا ۔۔۔

“عیان تم تو ۔۔۔۔۔ باباجان کی بات کاٹ کر عیان نے جلدی سے کہا ۔۔۔

“بسس ٹھیک ہے بابا جان جو اپ کا حکم کل میں خود لے جاؤں گا انشاء اور زینب بی بی کو نکاح کا جوڑا لینے کے لیۓ ۔۔۔

“ہممم یہی ٹھیک رہے گا ۔۔۔ باباجان نے کہا ۔۔۔

جاری ہے ۔۔