No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ناول میرے درد سے بےخبر
ازقلم صبا مغل
Episode 1
وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی اس سنسان سڑک پر بس اس سے بچنےکا یہی ایک راستہ تھا وہ اس کی پہنچ سے دور ہوجانا چاہتی تھی پر پلٹ کر دیکھنے سے ڈر رہی تھی کہیں اس کا حوصلہ نہ ٹوٹ جاۓ ۔۔۔۔ یہ اس کا حوصلہ تھا جو اپنی عزت بچانے کے لیۓ بغیر پرواہ کے بھاگ رہی تھی یہ جانے بغیر کہ وہ ان کی نظر سے اوجھل ہونے میں کامیاب ہوئی کہ نہیں ۔۔۔۔
“تم نے کیوں سانس روک لی ہے ہاتھی میرے ساتھی بچ جاۓ گی ہیروئن جو ہے ۔۔۔
“ایمان چپ کر جاؤ ۔۔۔ جب میں ڈرامہ دیکھوں مجھے ڈسٹرب نہ کیا کرو ۔۔۔
اس کی انکھیں ٹی وی پر مرکوز تھیں اور بول ایمان سے رہی تھی ۔۔۔
“او سنو ۔۔۔ایمان نے گھبرائی آواز میں کہا ۔۔۔۔
“ششششش چپ دیکھنے دو ۔۔۔ انشاء نے ٹوکا ۔۔۔ ساڑی میں بھاگتی ہیروئن اس کی نظر کا محور تھی ۔۔۔
اسی وقت کسی نے ایل ای ڈی بند کی ۔۔۔۔
“کیا بکواس ہے ایمان ۔۔۔ انشاء نے غصے سے کہا پر اگلے لمحے اس کی زبان کو بریک لگا ۔۔۔ وہ شاک میں اگئی ۔۔۔ اب سہی معنیٰ میں اس کی سانس تھمی ۔۔۔۔
“کتنی دفعہ کہا ہے تم دونوں سے کہ انڈین ڈرامہ اور فلم نہ دیکھا کرو کہ تم دونوں کے لگتا ہے سمجھ میں بات ہی نہیں آتی۔۔۔
عیان نے غصے سے کہا ۔۔۔
“بھائی وہ ہاتھی میرے ساتھی نے کہا دیکھنے کو اس کی فرینڈ نے بتایا اسے ۔۔۔
“نہیں عیان بھائی ساری غلطی اس ایمان کے بچے کی ہے ۔۔۔ انشاء نے سب الزام ایمان پر رکھا ۔۔۔
“نہیں ساری غلطی اس ہاتھی میرے ساتھی کی ہے ۔۔۔ ایمان نے کہا ۔۔۔
“چپ کرجاؤ دونوں آواز نہ نکلے دونوں کی جاؤ اپنے اپنے کمروں میں ۔۔۔ اس نے غصے سے کہا ۔۔۔
دونوں نظریں جھکاۓ اپنے کمروں کی طرف بھاگے ۔۔۔ عیان ان کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔
@@@@
“کیا بات ہے عیان وہ دونوں نہیں آۓ کھانے پر ۔۔۔
بابا جان نے پوچھا ۔۔۔ یہ اس گھر کا رول تھا رات کا کھانا ساتھ میں کھایا جاتا ۔۔ ایمان اور انشاء کی غیر موجودگی کو محسوس کیا انہوں نے ۔۔۔
“زینب بی بی ۔ بلائیں دونوں کو ۔۔۔ عیاں نے اس گھر کی پرانی ملازمہ سے کہا ۔۔۔
“وہ عیان بیٹے نے ڈانٹا تھا دونوں کو اس لیۓ انشاء بیٹی تو سوگئی باقی ایمان بیٹے نے منع کردیا ہے ۔
“کیوں ڈانٹا دونوں کو ان دونوں کے دم سے رونق ہے گھر میں اور تم دونوں پر رعب ڈالتے رہتے ہو ہر وقت ۔۔۔
بابا جان نے منہ کہا ۔۔۔
” ان کی بھلائی کے لئے کرتا ہوں میں ,
” وہ دونوں بڑے ہیں اپنی بھلائی سمجھ سکتے ہیں تم اتنا رعب نہ ڈالا کرو ۔۔۔
جی بابا جان ۔۔۔ اتنا کہہ کر اٹھنے لگا تو اسی وقت انہوں نے پوچھا اب تم کہاں جارہے ہو۔۔۔
” بابا جان ایمان کو بلانے جا رہا ہوں ۔۔۔
اور پھر واقعی کچھ دیر میں وہ اسے منا کر لے کر آگیا ۔۔۔ دونوں بھائی ساتھ ارہے تھے ۔۔۔
عیان انشاء کو بھی ساتھ لے کر آنا تھا نا ۔۔۔ بابا نے کہا ۔۔
” وہ سو گئی تھی بابا جان ورنہ اسے بھی لے کر آتے ۔۔۔ عیان نے جواب دیا ۔۔
” بابا جان آپ کو پتہ ہے نہ وہ ہاتھی میری ساتھی کتنا ڈرتی ہے عیان بھائی سے اور ان کے خوف سے سوگئی ۔۔۔
ایمان بتا کر ہسنے لگا ۔۔۔
“چپ کرجاؤ ایمان , ڈاکٹر بننے والے ہو پر ہو بچے کے بچے ہی یہ بھی کمال تمہارا ہے جو تم نے اسے مجھ سے اتنا ڈرایا ہوا ہے ۔۔۔
“ارے بھائی میں نے نہیں , یہ اپ کے خود کے کمالات ہیں , کیوں بابا جان ۔۔
“اب چپ کرجاؤ اور کھانا کھاؤ جلدی سے ۔۔۔
اور پھر واقعی خاموشی سے کھانے لگے دونوں ۔۔۔
کچھ دیر کے بعد قہوہ کا دور چلا , حیدرشاہ کی عادت تھی وہ کھانے کے بعد قہوہ ضرور پیتے اور یہ عادت ان کی اہلیہ نے ان میں ڈالی تھی کیونکہ ان کا ہنا تھا کھانے کے بعد قہوہ پینے سے بہت بیماریوں سے انسان بچ جاتا ہے اور تیزابیت کا شکار بھی نہیں ہوتا ہے ۔۔۔ بس تو یہی عادت حیدر شاہ نے اپنے بچوں میں منتقل کی تھی ۔۔۔ پر فارن رہنے کے بعد عیان کی عادت چھوٹ گئی تھی جبکہ انشاء اور ایمان اج بھی ان کا ساتھ دیتے تھے ۔۔۔ جبکہ عیان کافی پینے لگا تھا ۔۔۔
ایک طرح یہ ٹائم ان کا فیملی ٹائم تھا جس میں کوئی بھی ضروری بات کرنا ہو کرلیا کرتے تھے ۔۔۔
اس وقت زینب بی بی نے حیدرشاہ اور ایمان کو قہوہ دیا اور عیان کو کافی دے کر چلی گئی ۔۔۔
اور وہ اپس میں باتیں کرنے لگے ۔ عیان نے دو گھونٹ پی کر کافی چھوڑدی جس پر بابا جان ٹوکا تو جواب میں اس نے کہا۔۔۔
“آج مزا نہیں کافی میں اس لیۓ ۔۔۔
“بابا جان ان کو تو ہاتھی میرے ساتھی کے ہاتھ کی پسند ۔۔۔۔
ایمان ہنستے ہوۓ اور کچھ کہنے لگا پر عیان نے اس کی بات کاٹ کر کہا ۔۔۔
” بس کرو ایمان اس طرح نہیں بلاتے کسی کو اور وہ بھی خاص کر لڑکیوں کو , ہاتھی میرے ساتھی یہ بھی کوئی نام ہوا بھلا , کل اس کی شادی ہوگی اگلے گھر جاۓ گی کیا مناسب لگتا ہے تم اسے ایسے ناموں سے پکارو ۔۔۔
عیان نے تھوڑا رعب سے کہا کیونکہ اسے سخت ناگوار گزرا تھا اس طرح انشاء کو پکارنا ۔۔۔
ایمان اس کی بات سن کر شاک ہوا اور کچھ دیر تو اس سے بولا نہ گیا ۔۔۔
“انشاء کی شادی اگلے گھر ۔۔۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔ وہ خود سے بولا ۔۔۔
“سوری بھائی مجھے سوچنا چاہیۓ تھا ۔۔۔
“ہممم عیان ہنکارا ۔۔۔
کچھ دیر میں ایمان تو اٹھ گیا پر بابا جان بھی گم صم بیٹھے رہے گۓ ۔۔۔
“آپ کو کیا ہوا بابا جان ۔۔۔ عیان نے ایمان کے جاتے باپ سے پوچھا ۔۔۔
“بس باپ کے سامنے کوئی بیٹی کی شادی کی بات کرتا ہے تو ان کو اپنی زمیداری کا احساس جاگ جاتا ہے ۔۔۔
تو بابا جان ہمیں ہی کرنی ہے اس کی شادی اب بیس کی ہوگئی ہے میرا خیال ہے ہمیں کوشش کرنی چاہیۓ ۔۔۔
“پر بیٹا تم بتیس کے ہوگۓ ہو پہلے تمہارا سوچنا ہے پھر انشاء کا ۔۔۔
“بابا جان میں نے پہلے کہے دیا مجھے شادی نہیں کرنی اپنا بزنس سیٹ کروں گا پہلے پھر دیکھوں گا ۔۔۔
“پر عیان تمہاری عمر میں میں دو بچوں کا باپ بن گیا تھا ۔۔ مجھے دیکھ کر کوئی مانتا نہیں اتنے بڑے بیٹے ہیں ۔۔۔
“بس بابا جان وہ دور ایسا تھا ۔۔۔ اج بھی اپ بہت ہینڈسم ہیں میرے تو بڑے بھائی لگتے ہیں ۔۔۔
وہ مسکراۓ اور دراز قد خوبرو بیٹے کو دیکھا اور کہا ۔۔۔
“تو مان جاؤ نا شادی کے لیۓ رونق لگے تمہارے بچوں کو گود میں کھلاؤں ۔۔۔
انہوں نے حسرت سے کہا ۔۔
بابا جان میری چھوڑیں ایمان کی کروادیں ویسے بھی سب اس کا ہی تو ہے , میں اپنا بزنس کروں گا ابھی ایک دو سال رہنے دیں اپ ایمان کی کروادیں ۔۔۔
“تم نہیں مان رہے وہ کیا مانے گا ہے تو تمہارا ہی بھائی , انشاء کی نہیں کرواؤں گا ورنہ میرے گھر کی رونق بھی چلی گئی پھر تو میں اکیلا ہوجاؤں گا ۔۔۔
انہوں نے اداس لہجے میں کہا ۔۔۔
“اف بابا جان اپ بھی نا , بس ایمان کی کروادیتے ہیں شادی ۔۔۔
“عیان ایک بات کہوں ۔۔۔ انہوں نے سرے سے اس کی بات نظر انداز کرتے ہوئے تشویش بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
“بیٹا مجھے انشاء بہت عزیز ہے تم جانتے ہو ۔۔
“جی بابا جان جانتا ہوں ۔۔۔ تو ۔ عیان نے سوالیہ انداز میں کہا ۔
“بس اسی لیۓ میں انشاء کی شادی تم سے کروانا چاہتا ہوں ۔۔۔
“واٹ ۔۔۔ عیان نے شاک بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
