Mere Dard Se Be Khabar By Saba Mughal Readelle50039

Mere Dard Se Be Khabar By Saba Mughal Readelle50039 Last updated: 2 July 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mere Dard Se Hain Bekhabar

By Saba Mughal szn 01

وہ سسکتی ہوئی اپنا سر اس کے سینے سے اٹھایا اور اسی لمحے لائیٹ اگئی ۔۔ عیان کے نزدیک اس طرح کھڑا ہونا اور اس کا ضبط سے ہاتھ بھینچنا وہ دل و جان سے کانپ گئی ۔۔۔ شرمندگی ہوئی اسے اپنے لفظوں کے یاد انے پر , اسے افسوس ہوا , اندھیرے نے اس کے حواس گم کردیۓ تھے جو ایسے لفظ بول بیٹھی ۔۔۔ اب حواس بھال ہوۓ تو شرمندگی نے جگہ گھیر لی ۔۔۔

رونے کی وجہ سے آواز بھاری ہو گئی تھی ۔۔۔وہ شرمندہ سی کھڑی تھی ۔۔۔ ایک کڑی نظر اس پر ڈال کر عیان کمرے کے واحد صوفے پر جا بیٹھا ۔۔۔ کافی دیر اپنا سر مسلتا رہا سر درد سے پھٹنے کو تھا ۔۔۔ وہ اب تک وہیں کھڑی تھی اسی پوزیشن میں ۔۔

کتنے لمحے خاموشی کے نظر ہوۓ عیان نے اٹھ کر اس پر اپنا کمبل ڈالا اور لائیٹ آف کی وہ ڈرگئی ۔۔ اسی وقت عیان نے زیرو بلب کھولا تاکہ کچھ روشنی ہو اس کے دل کو کچھ سکوں ایا ۔ ۔

کچھ دیر بعد عیان نے محسوس کیا وہ سسک رہی تھی ۔۔۔ عیان چاہ کر بھی اسے روکنے کی ہمت نہ کرسکا کیونکہ وہ جانتا وہ ایمان کے لیۓ رو رہی ہوگی ۔

پھر کس وقت نیند کی دیوی دونوں پر مہربان ہوئی پتا ہی نہ چلا ۔

اگلی صبح ہمیشہ کی طرح عیان اپنے وقت پر اٹھا اور فجر کی نماز پڑھ کے واک پر چلاگیا ٹریک سوٹ پہن کر ۔۔ ایک گھنٹہ واک کے بعد کمرے میں ایا ۔۔۔ انشاء بھی اٹھ چکی تھی ۔۔۔

وہ اسے دیکھ کر کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔۔

"رکو ۔۔۔ عیان نے کہا ۔۔۔

"جی ۔۔۔ وہ ٹھٹھک کر رکی اور کہا ۔۔۔

"ایک بات میری ذہن میں بٹھالو بابا کو اس ایک ہفتے میں کوئی تکلیف کوئی پریشانی نہیں دینا چاہتا , بہتر ہوگا میرا ساتھ دو , اچھا یہی ہوگا جب وہ سعودی جائیں خوش اور مطئمن ہوکر جائیں کوئی دکھ کوئی پریشانی نا ہو ان کے ساتھ ۔۔۔ آئی سمجھ میری بات ۔۔۔

"جی سمجھ گئی ۔۔۔ یہ کہے کر وہ باہر جانے لگی ۔۔۔

"رکو کیا سمجھی ہو تم ۔۔۔ عیان نے پوچھا ۔۔۔

"کہ کہ ۔۔۔ اس کی زبان لڑکھڑائی ۔۔۔

"بس دیکھ لی تمہاری عقل , جاؤ پہلے یہ بدرنگ کپڑے بدلو اور اچھے کپڑے پہنو , اگے کیا کرنا ہے یہ مجھے بتانا نہ پڑے ۔۔۔ جاؤ بدلو یہ لباس ۔۔۔ عیان نے حکم دیا ۔۔۔

اس کے چند جوڑے رکھے تھے عیان کی الماری میں زینب بی نے ۔۔۔ اتنا اچانک جو یہ سب ہوا تھا زیادہ تیاری کا موقع نہ ملا کسی کو ۔۔۔ پر مسز وحید کل دو تین بوتیک سے ڈریس لائیں تھیں اس کے لیۓ ۔۔۔

کچھ سوچ کر اس نے ان میں سے ایک نکالا اور پہن لایا , ہلکہ پھلکہ میک اپ اس کے سوگوار حسن کو حسین تر بنا رہا تھا ۔۔۔ ایک لمحے کے لیۓ عیان کی نظر پڑی پر اس بلیک اور بلیو کامبینیشن کے ڈریس میں وہ خوبصورت لگی اسے ۔۔۔ انشاء کا حسن کسی تعریف کا محتاج نہ تھا جو دیکھتا لمحے کے لیۓ مبہوت ہوجاتا ۔۔۔ عیان کا بھی کچھ ایسا حال ہوا ۔۔۔ خود کو سنبھال کر اس نے ایک سیٹ اس کی طرف بڑھایا اور کہا ۔۔۔

" یہ میری طرف سے تمہاری منہ دکھائی ۔۔۔ اسے پہن لو ۔۔۔ پھر ساتھ نیچے چلنا ہے ۔۔

یہ منہ دکھائی کا تحفہ بھی عمر کی مرہوں منت تھا ورنہ اسے کہاں اتنی سمجھ تھی ۔۔۔

اتنا کہے کر وہ واشروم کی طرف چلاگیا ۔۔۔ انشاء وہ سیٹ پہننے لگی