Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Last Episode

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Last Episode

ٹھیک ہے جلدی آ جانا اور دروازہ بند کر جاؤ”۔ انہوں نے لیٹتے ہوۓ کہا جس پر وہ وقت ضائع کیے بغیر باہر بھاگی اور دروازہ بند کر کے فوری ہی بھاگنے لگی اور کبیر کے گھر کا دروازہ بجانے لگی۔ تھوڑی دیر میں دروازہ حنہ بیگم نے کھولا اور اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔
“کیا ہوا آنٹی کبیر کو؟”۔ وہ پریشانی سے پوچھ رہی تھی۔
“میرے ساتھ آؤ”۔انہوں نے کہا اور کمرے میں لے گئیں۔
کبیر کو اس حالت میں دیکھ کر وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی اور رونے لگی۔
“کبیر اٹھو کبیر”۔ وہ اسے جھنجھوڑتے ہوۓ بولی۔
“میں نے ایمبولینس کو کال کی ہے”۔ انہوں نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ وہ دونوں ہنوز رو رہی تھیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
تھوڑی دیر میں ایمبولینس آ گئی تھی اور کبیر کو ہاسپٹل پہنچایا جا چکا تھا۔
“ہمممم!! یہ پولیس کیس ہے آپ کچھ دیر انتظار کریں”۔ ایک ڈاکٹر نے اسے دیکھ کر کہا۔
“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ اگر اسے کچھ ہو گیا تو؟ حالت دیکھی ہے آپ نے اس کی اور آپ کہہ رہے ہیں ہم انتظار کریں؟”۔ حنہ بیگم نے کہا۔
“دیکھیں یہ سب سوسائیڈ کیس میں آتا ہے۔ پولیس کی تفتیش کے بعد ہی کچھ ہو سکتا ہے”۔ ڈاکٹر صاحب کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“ڈاکٹر پلیز آپ یہ سب بعد میں پوچھ لیجیے گا پہلے پلیز کبیر کو دیکھ لیں اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے”۔ مائرہ نے انکے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہا۔
“ہممم!! ٹھیک ہے”۔ کافی دیر سوچنے کے بعد انہوں نے کہا۔
“بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب”۔ مائرہ نے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کچھ دیر بعد ڈاکٹر صاحب کمرے سے باہر آۓ۔
“کبیر ٹھیک ہے ناں؟”۔ حنہ بیگم نے امید سے پوچھا۔ انکا رو رو کر برا حال تھا اور دعائیں انکے لبوں سے جاری تھیں۔
“ابھی انکی حالت ٹھیک نہیں ہے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا، آپ بس دعا کریں”۔ ڈاکٹر صاحب نے جیسے ہی کہا مائرہ اور حنہ بیگم کے آنسو مزید گرنے لگے۔
“آپ یہ دوائیاں اور کچھ چیزیں منگوا دیں”۔ انہوں نے ایک پرچی انہیں دیتے ہوۓ کہا۔
_______________
“کیا!”۔ ڈاکٹر صاحب کی بات سنتے ہی وہ دونوں نڈھال سی ہو کر صوفے پر گر گئیں۔ حنہ بیگم کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ اب کیا کریں۔ حیدر صاحب کو وہ نہیں بتا سکتی تھیں۔
“آپ بس دعا کریں”۔ اتنا کہتے ہی ڈاکٹر صاحب کمرے میں چلے گۓ۔
“آنٹی پلیز آپ دعا کریں”۔ اسنے انکے انسو دیکھتے ہوۓ کہا۔
“تم گھر چلی جاؤ مائرہ تمہاری دادی پریشان ہو رہی ہوں گی”۔ حنہ بیگم نے پریشانی سے کہا۔
“نہیں آنٹی میں ،میں کبیر کو چھوڑ کر نہیں جاؤں گی”۔ اس نے تیزی سے نفی میں سر ہلایا۔
“جاؤ تم بیٹا شاباش، میں یہ دوائیاں لے آؤں تم تھوڑی دیر بعد آ جانا اور دعا کرتی رہنا”۔ انہوں نے اسے پرچی دکھاتے ہوۓ کہا۔
“جی ٹھیک ہے”۔ اسنے انکی بات مانی اور بنا کوئی بات کیے سیڑھیاں اترتی انکے ساتھ ہی ہاسپٹل سے باہر آ گئی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کیسی ہے اب تیری دوست؟”۔ فرحت نے پوچھا۔
“جی وہ ٹھیک ہے”۔ اسنے مختصر کہا۔
“دوبارہ اگر اسے ضرورت پڑی تو میں دوبارہ چلی جاؤں گی”۔ اسنے کہا جس پر دادی نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ سیدھی اپنے کمرے میں آ کر واشروم میں چلی گئی اور وضو کرنے کے بعد نماز پڑھنے لگی۔ نماز کے بعد اسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاۓ۔
“یا اللہ! آپ دعاؤں کو سننے والے ہیں میری دعا قبول فرمائیں۔ کبیر کو ٹھیک کر دیں مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے۔ میں نے تو اپنے ماں باپ کو بھی ٹھیک سے نہیں دیکھا۔ اے اللہ! کبیر کو مجھ سے دور نہ کیجئے گا۔ پلیز میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ محبت بھی کیا چیز ہے کچھ ہی دن ہوتے ہیں محبت ہوۓ اور لگتا ہے محبوب چھوڑ کر گیا تو ہم ساری زندگی جی نہیں پائیں گے”۔ یونہی دعا کرتے کرتے اس کے آنسو بہنے لگے اور اسے پتہ بھی نا چلا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ہسپتال کا کوریڈور بہت ویران تھا۔ حنہ بیگم کو ہسپتال سے عجیب سی وحشت ہونے لگی تھی۔ کہیں کہیں کوئی لوگ دِکھ جاتے۔
“اے اللہ! میرا ایک ہی بیٹا ہے اسکو زندگی دے دے۔ غلطی ہو گئی اس سے تو تو معاف کرنے والا ہے۔ میر اللہ! اسے ٹھیک کر دے۔ اسے مجھ سے نا چھینیں۔ میں اس کے بغیر کیا کروں گی”۔ وہ بھی روتے ہوۓ مسلسل دعاؤں میں مصروف تھیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جیسے ہی مائرہ نے دعا مکمل کی فرحت اسکی جانب متوجہ ہوئیں۔
“کیا ہوا رو کیوں رہی تھی؟”۔ انہوں نے پیار سے پوچھا۔
“وہ بس اپنی دوست کی وجہ سے”۔ اسنے جھوٹ بولا۔
“میں بھی دعا کر رہی ہوں تیری دوست کے لیے اور رو نہیں بیٹھی اللہ سب ٹھیک کرے گا”۔ جیسے ہی انہوں نے کہا وہ انکے گلے سے لگ کر رونے لگی۔
“اچھا میں چھت پر جا رہی ہوں”۔ شاید آنسو اور آنا چاہتے تھے اس لیے اس نے کہا اور چھت پر چلی گئی۔ جیسے ہی وہ چھت پر گئی خدیجہ کا فون آ گیا۔ اسکا خدیجہ سے بات کرنے کا بلکل دل نہیں کر رہا تھا۔ پھر بھی کال اٹھا لی۔
“کیسی ہو؟ آئی کیوں نہیں آج میرے گھر؟ کل ولیمہ ہے تمہیں یاد بھی ہے؟”۔ دوسری طرف سے خدیجہ نے پوچھا۔
“میں نفرت کرتی ہوں تم سے”۔ وہ تلخی سے بولی۔
“کیا ہوا مائرہ؟”۔ اسکی اس بات پر وہ پریشانی سے بولی۔
“تمہاری وجہ سے کبیر ہاسپٹل میں ہے کتنی خودغرض ہو تم خدیجہ تمہاری وجہ سے اسکا یہ حال ہوا ہے۔ نا جانے وہ اب بچے یا نا بچے ڈاکٹرز کو اتنا بھی نہیں پتا”۔ بس اتنا بتا کر وہ رونے لگی۔
“کون کون کونسے ہاسپٹل میں ہے وہ میں آتی ہوں بتاؤ مجھے؟”۔ خدیجہ کو بھی الگ پریشانی لاحق ہوئی۔
“میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں کبیر کو اب اپنی شکل بھی مت دکھانا کبھی”۔ اتنا کہتے ہی اسنے فون بند کر دیا۔ کئی فون پھر خدیجہ نے کیے مگر اسنے ریسیو نا کیا۔
“پلیز اللہ تعالیٰ کبیر کو ٹھیک کر دیں”۔ اسنے اپنے آنسو پونچتے ہوئے کہا اور دادی سے پوچھ کر ہاسپٹل کے لیے نکل گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
خدیجہ اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی۔ اسے کسی چیز کی ہوش نہیں تھی۔
“ٹھیک ہی تو کہا ہے آصف نے ٹھیک ہی تو کہتی ہے مائرہ بھی ٹھیک ہی تو کہا تھا کبیر نے کہ میں خود غرض ہوں۔ مگر کبیر اور مائرہ نے مجھے پیسوں کی وجہ سے خود غرض کہا تھا حالانکہ پیسوں کی وجہ سے تو میں نے خود غرضی دکھائی ہی نہیں۔ بلکہ میں نے جہالت دکھائی۔ مجھے معاف کر دے میرے رب۔ کبیر کو ٹھیک کر دے”۔ وہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے رو رہی تھی۔ اور کبیر کے لیے دعا بھی کر رہی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
جیسے ہی وہ ہاپسٹل پہنچی اسے حنہ بیگم ڈاکٹر سے بات کرتی ہوئیں نظر آئیں۔ کسی انہونی کا اسے خدشہ ہوا۔ وہ بھاگ کر انکے پاس گئی۔ حنہ بیگم اب پہلے سے زیادہ رو رہی تھیں۔
“کیا! کیا، ہوا آنٹی کبیر ٹھیک ہے؟”۔ اسنے جیسے ہی پوچھا حنہ بیگم روتے ہوئے اس کے گلے سے لگ گئیں۔
_____________
“کیا! کیا، ہوا آنٹی کبیر ٹھیک ہے؟”۔ اسنے جیسے ہی پوچھا حنہ بیگم روتے ہوۓ اس کے گلے سے لگ گئیں۔
“بتائیں ناں”۔ اسکی پریشانی میں مزید اضافہ ہوا۔
“وہ، وہ، وہ ٹھیک ہے مائرہ اب بلکل ٹھیک ہے”۔ انہوں نے خوشی کے ساتھ اس سے الگ ہوتے ہوۓ کہا جبکہ مائرہ کے چہرے سے آنسو مزید ٹپکنے لگے اور یہ آنسو غم کے نہیں انبساط کے تھے۔
“اللہ آپ کا بہت بہت شکریہ”۔ مائرہ نے دل میں بے شمار شکر ادا کیا۔
“میں مل سکتی ہوں اس سے؟”۔ وہ بےچینی سے پوچھنے لگی۔
“ابھی پولیس اس سے تفتیش کر رہی ہے بعد میں مل سکتے ہیں ہم ، ڈاکٹر نے یہ دیا ہے کاؤنٹر پر جمع کروانے کا کہا ہے”۔ انہوں نے ایک اور پرچی دکھاتے ہوۓ کہا۔
“چلیں آنٹی میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ”۔ مائرہ نے کہا اور دونوں باتیں کرتی چلنے لگیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کیا ہوا ؟ اتنی چپ چپ کیوں ہو؟”۔ آصف نے اسے یوں دیکھ کر پوچھا۔
“کچھ نہیں”۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔
“چلو جو ہوا اسے اب بھول جاؤ سوئیٹ ہارٹ”۔ اسنے اسکے بالوں پر پیار دیتے ہوۓ کہا۔ مگر خدیجہ کے دل میں کہیں ناں کہیں ایک ندامت ابھی باقی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“تو مائرہ اس طرح جب تم شادی پر کبیر کے پیچھے گئی اور آج اسے میسیجیس بھی کیے اور اس کے لیے گھر آئی اور اتنا روئی بھی تو اس سے مجھے پتہ چلا کہ تم اسے پسند کرتی ہو”۔ حنہ بیگم نے فخر سے بتایا۔
“آپ تو بہت اچھی ہیں آنٹی پر کبیر۔۔۔۔” کہتے کہتے وہ چپ ہو گئی۔
“فکر نہیں کرو میں ہوں ناں اور۔۔۔” ابھی وہ بول ہی رہی تھیں کہ ایک نرس باہر آئی۔
“ایکسکیوزمی! اب آپ مل سکتی ہیں پیشنٹ سے اور کوئی ٹینشن والی بات کرنے سے احتیاط کیجیے گا اور ایک ایک کر کے ملیے گا”۔ نرس نے کہا اور دونوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“آنٹی آپ جائیں”۔ مائرہ نے کہا اور وہ اندر چلی گئیں۔
کبیر کی بازو میں پٹی بندھی تھی اور دوسری بازو میں ڈرپ لگی تھی۔ مصنوعی آکسیجن کی مشین بھی لگی تھی۔
“امی”۔ کہتے ہی اسنے بمشکل اٹھنے کی کوشش کی مگر اس سے اٹھا ہی نا گیا اور وہ دوبارہ لیٹ گیا۔
“کیسے ہو؟”۔ وہ بیڈ پر اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگیں۔
“ٹھیک ہوں آپ؟”۔ اسنے پوچھا۔
“تم نے ایسا کیوں کیا کبیر؟”۔ وہ جیسے تھکی ہوئی آواز میں پوچھ رہی تھیں۔
انکی بات پر اس نے انکا ہاتھ پکڑ لیا “مجھے معاف کر دیں امی، میں نے بہت بے وقوفی کی، مجھے اس کا اندازہ ہو گیا ہے۔ میں خدیجہ کی وجہ سے بہت پریشان تھا، مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، اسلیے میں نے اپنی زندگی ختم کرنا چاہی، مجھے اب اس بات پر افسوس ہے، میں اب کبھی بھی ایسا نہیں کروں گا خدیجہ کے پیچھے نہیں جاؤں گا، امی مجھے اپنی غلطی کا احساس ہے”۔ وہ رک رک کر بول رہا تھا اور واقعی وہ شرمندہ تھا۔
“تمہیں پتہ ہے میں نے کتنی مشکلوں سے پیسوں کا انتظام کیا وہ تو شکر ہے میں نے کچھ بچت کی ہوئی تھی اور تم نے یہ سب کر دیا، تم نے ہم دونوں کے بارے میں نہیں سوچا کہ ابو تمہارے کیا کریں گے”۔ انہوں نے روتے ہوئے پوچھا۔
“ابو کہاں ہے؟”۔ اسے اب انکی فکر ہوئی۔
“میں نے انکو کچھ نہیں بتایا”۔ انہوں نے اپنے آنسو پونچتے ہوئے کہا۔
“نا روئیں میں ٹھیک ہوں اب اور ابو نے کب آنا ہے؟”۔ اسنے انکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے پوچھا۔
“پرسوں آئیں گے”۔ انہوں نے بتایا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا۔
“اب کرو گے ایسا؟ بولو؟”۔ انہوں نے سختی سے پوچھا۔
“نہیں، وعدہ اب میں خدیجہ کے بارے میں نہیں سوچوں گا”۔ اسنے وعدہ کیا۔
“اچھا مائرہ بھی یہیں ہے”۔ انہوں نے جیسے ہی بتایا وہ چونکا۔
“وہ یہاں؟”۔ اس سے اتنا ہی کہا گیا۔
پھر انہوں نے اسے ساری بات بتائی کہ کس طرح مائرہ پریشان تھی ، رو ہی تھی اور یہ بھی بتایا کہ انہیں پتہ چل گیا ہے کہ مائرہ تمہیں پسند کرتی ہے۔
“ہممم!! اچھی ہے وہ اس نے میرا بہت ساتھ دیا امی اور اسنے مجھے کہہ دیا تھا کل کہ وہ مجھ سے پیار کرتی ہے “۔ اسنے بتایا۔
“اچھا مجھے تم سے کچھ کہنا ہے مانو گے؟”۔ انہوں نے کہا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا۔
تھوڑی دیر وہ بات کرتے رہے اور پھر مائرہ بھی اندر آئی۔ اور کبیر کے پاس سٹول کھینچ کر بیٹھ گئی۔
“کیسے ہو؟”۔ اسنے اپنی گود میں رکھی انگلی میں پہنی رنگ کو مسلسل گھوماتے ہوۓ پوچھا۔ اسکی نظریں اپنی انگلیوں پر تھیں۔ یہ وہی انگوٹھی تھی جو کبیر نے خدیجہ کو دی تھی۔
“ٹھیک ہوں اور تم؟”۔ اسنے اب مصنوعی آکسیجن اتار دیا تھا اور وہ اسے دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا۔
“ٹھیک! وہ خدیجہ تم سے ملنے کا کہہ رہی تھی ہاسپٹل میں”۔ اس نے بتایا۔
“میں اس سے نہیں ملنا چاہتا مائرہ بس ایک بار فون پر بات کر لوں گا”۔ جیسے ہی اسنے کہا مائرہ کا فون بجنے لگا۔
“یہ لو خدیجہ کا فون ہے”۔ اسنے فون کو دیکھا اور پھر کبیر کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ کبیر نے فوری کال آن کی۔
“ہیلو مائرہ”۔ دوسری طرف سے خدیجہ کی آواز آئی۔
“میں کبیر ہوں”۔ اسنے مدھم آواز میں بتایا۔
“سنو کبیر تم کیسے ہو؟ میں تم سے ملنے آؤں؟”۔ اسنے عجلت میں پوچھا۔
“نہیں، میں تمہارے لیے نا محرم ہوں سمجھی! شادی ہو گئی ہے تمہاری۔ اب میں تمہارے پیچھے نہیں آؤں گا اور میں شادی کر رہا ہوں”۔ جیسے ہی کبیر نے کہا مائرہ کو بلکل اچھا نہیں لگا وہ دل ہی دل میں دوبارہ رونے لگی۔ اسے دھچکا سا لگا تھا۔
“کیا سچ؟ اور کس سے؟”۔ خدیجہ نے خوشی سے پوچھا۔
“جس سے مرضی کروں”۔ اسنے لاپروائی سے کہا۔
“مجھ سے ایک بار مل لو گے؟”۔ اسنے امید سے پوچھا۔
“میں اب تم سے نہیں ملوں گا اور میں نے تمہیں معاف کیا خدیجہ میں نے تمہیں معاف کیا”۔ بس اتنا کہہ کر اس نے فون مائرہ کی طرف بڑھایا۔ اور مائرہ نے فون لے لیا۔ دوسری طرف خدیجہ کو خوشی بھی تھی اور دل میں ایک ندامت بھی تھی۔ اسنے دوبارہ کبیر کو کال نہیں کی تھی۔
“کیا ہوا رو کیوں رہی ہو؟”۔ کبیر نے اسکے آنسو دیکھ کر پوچھا۔
“تم کس سے شادی کر رہے ہو؟”۔ اسنے ہنوز روتے ہوئے کہا۔
“مجھے یہ رنگ اتار کر دو”۔ کبیر نے تلخی سے کہا۔
“کیوں؟”۔ اسنے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“کیونکہ یہ میں اسے پہناؤں گا جس سے میں نے شادی کرنی ہے”۔ جیسے ہی اسنے کہا مائرہ نے فوری رنگ اتار کر اسکے ہاتھ میں رکھ دی۔ اور اٹھ کر جانے ہی لگی تھی کہ کبیر نے اسے روکا۔
“سنو”۔
“جی”۔ مڑ کر اس نے پوچھا۔
“بیٹھو”۔ اسنے جیسے ہی کہا وہ فوری ہی بیٹھ گئی۔
“اپنا ہاتھ آگے کرو”۔ اسنے سختی سے کہا۔
“ک ک کیوں ؟”۔ وہ اب بھی ڈر رہی تھی۔
“ارے بیٹا تم نے سنا نہیں کہ کبیر نے کہا ہے یہ رنگ وہ اسے پہناۓ گا جس سے اس نے شادی کرنی ہے اس لیے ہاتھ آگے کرو”۔ حنہ بیگم کہتی ہوئیں اندر آئیں اور کبیر کے پاس بیٹھ گئیں۔
“کیا مطلب؟”۔ مائرہ نے ناسمجھے سے پوچھا۔
“ارے بیٹا تم میری بہو بننے والی ہو پگلی! اس لیے فوراً پہن لو رنگ”۔ جیسے ہی انہوں نے کہا خوشی کے مارے مائرہ کی آنکھوں سے اور آنسو بہنے لگے۔ اسنے اپنا ہاتھ آگے کیا اور کبیر نے اسے رنگ پہنا دی۔
“مگر آنٹی یہ کیسے ہوا؟”۔ اسنے پوچھا۔
“بس میں نے کسی نا کسی سے تو کرنی ہے شادی تو سوچا تم سے ہی کر لوں اور تم نے اتنا ساتھ بھی تو دیا ہے میرا”۔
“ہاں میں نے بھی یہی سوچا کہ کسی نا کسی کو تو بہو بنانا ہے تو تمہیں ہی کیوں نا بنا لوں”۔ حنہ بیگم نے بھی کہا۔
“اور ہاں! شادی کے بعد خدیجہ کی کوئی بات نا کرنا مجھ سے اور یہ یاد رکھنا کہ وہ میرا پاسٹ تھی سمجھی”۔ کبیر نے اس سے کہا۔ اور شادی کا نام سن کر مائرہ جھینپ گئی۔ اور اسکے اس ری ایکشن پر کبیر اور حنہ بیگم دونوں ہنس دیے۔
“امی میں نے سیکھا ہے کہ ہمیں لڑکے یا لڑکی سے دوستی ہر گز نہیں کرنی چاہیے۔ کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ جس سے ہم پیار کریں وہ بھی ہم سے پیار کرے۔ خدیجہ نے اسلام کی نظر سے بلکل سہی کیا مگر وہ ایک جگہ غلطی کر گئی کہ اسے یہ سمجھ نا آیا کہ وہ مجھے اپنا محرم تو بنا سکتی تھی ناں مگر میں نے بھی غلط کیا آپ نے ابو نے اتنا کچھ کیا میرے لیے اور میں آپ کو چھوڑ کر جانے لگا تھا وہ تو شکر ہے کہ اللہ نے مجھے ایک اور موقع دے دیا۔ مگر امی لڑکا لڑکی کی دوستی میں زیادہ تر ایک کو پیار ضرور ہوتا ہے اس لیے ہمیں اسلام کی ہر بات پر عمل کرنا چاہیے”۔ کبیر نے کہا اور دونوں باتیں کرنے لگے۔ جبکہ مائرہ دل ہی دل میں خوش ہونے لگی۔ خدیجہ کے دل میں کہیں نا کہیں ندامت تھی پر وہ بھی اپنی زندگی میں خوش تھی۔ ہاں بس اس نے اپنی زندگی میں یہی خود غرضی دکھائی تھی اور پھر اسنے اپنی باقی زندگی بہت احتیاط سے گزارنے کا فیصلہ کیا۔ اور سب سے اچھی بات کہ اسنے اپنی خود غرضی کو مان بھی لیا تھا۔
ختم شد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *