Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal NovelR50772 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode04
Rate this Novel
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode01 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode02 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode03 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode04 (Watching)Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode05 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Last Episode
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode04
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode04
“کس نے کہا یہ؟”۔ انکا لہجہ تذبذب سے بھر پور تھا۔
“امی بس کر دیں میں جانتا ہوں پچیس کو شادی ہے اسکی اور منگنی بھی ہو چکی ہے، یہ سب مجھے اسکی امی نے بتا دیا ہے”۔ اسنے دوبارہ سے دہرایا۔ مگر حنہ بیگم کا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔
“ہمممممم”۔ انہوں نے مختصر کہا۔ اور کچھ کہنے کے لیے شاید الفاظ نہیں مل رہے تھے۔
“جھوٹ کیوں بولا آپ نے مجھ سے؟ منگنی کا بھی اور شادی کا بھی؟”۔ اس نے استدعا کیا۔
“میں جانتی تھی کہ تم اسے پسند کرتے ہو اور یہ بات تمہیں تکلیف دے گی، یہی وجہ ہے میرے بچے”۔ انہوں نے تحمل سے اسے سمجھایا۔
“امی آپ کیسے جانتی ہیں کہ مجھے وہ اچھی لگتی ہے؟”۔ اسے اس بات کی شیفتگی تھی۔
“جب خدیجہ تم سے بات نہیں کر رہی تھی تو تم نے مجھے بتایا تھا اور اس وقت تم کافی پریشان بھی تھے اور دوسری دفعہ بھی ایسا ہی ہوا، بیٹا میں تمہاری ماں ہوں میں تمہیں سمجھ سکتی ہوں، تم چھپاؤ گے بھی تو مجھے پتہ چل جاۓ گا”۔ انہوں نے اسکے پہلو میں بیٹھتے ہوۓ کہا۔ انکی باتیں سن کر کبیر کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔
“امی پلیز آپ کچھ کریں میں خدیجہ سے ہی شادی کرنا چاہتا ہوں، میں اس سے عشق کرتا ہوں”۔ وہ انکی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ اور اداس آواز میں ان سے التجا کی۔
“نہیں کبیر ایسا نہیں ہو سکتا تم اسے بھول جاؤ بیٹا، یہ آسان نہیں ہے”۔ وہ اسکے بالوں کو سہلاتے ہوئے بولیں۔
“میں کیسے بھول جاؤں آٹھ سال سے وہ میرے ساتھ ہے۔ یہ آسان نہیں ہے”۔ وہ اب بھی رو رہا تھا۔
“دیکھو بیٹا ضروری نہیں ہے کہ ہم جس سے پیار کریں وہ بھی ہم سے کرے، اچھا چلو تم اس سے عشق کرتے ہو ناں تو ایک سوال کا جواب دو”۔
“جی پوچھیں”۔ اسنے اپنے آنسو پونچتے ہوئے کہا۔
“تمہیں گلاب بہت پسند ہے ناں؟”۔ انہوں نے تمہید باندھی۔
“جی امی مجھے محبت ہے گلاب سے”۔ اسنے اثبات میں سر ہلایا۔
“اچھا اب مثال کے طور پر ہمارے گھر کی چھت پر جو گملا ہے اس میں ایک گلاب کا پھول اگ رہا ہے تو تم اسے اتار کر اپنے پاس رکھو گے یا پھر اس کی کیئر کرو گے اسکو پانی دو گے، بتاؤ؟”۔ انہوں نے پوچھا۔
“میں اسکی کیئر کروں گا اسکو پانی دوں گا”۔ اسنے جواب دیا۔
“بلکل ٹھیک کہا، اب غور سے سنو پیار اور عشق میں بھی کچھ یونہی فرق ہے۔ جو پیار ہوتا ہے ناں اس میں عاشق چاہتا ہے کہ اسکا محبوب اس کا ہو جاۓ ہمیشہ اسکے پاس رہے چاہے ساتھ رہنے میں خوش ہو یا نہ ہو۔ اب دیکھو بیٹا جیسے کہ پھول کی مثال ہے۔ تمہیں پھول سے پیار ہے تو تم اسکو توڑ کر اپنے پاس رکھ لو گے حالانکہ تم جانتے ہو کہ پودوں کی خوشی گملوں اور مٹی میں رہنے میں ہے۔ لیکن عشق جانتے ہو کیا ہو گا؟ عشق ہو گا تب جب تم پھول کو گملے میں ہی لگا رہنے دو گے اسے سورج کی روشنی کے قریب رکھو گے روز پانی دو گے۔ اور ایک بات کہ تم خدیجہ سے عشق کرتے ہو تو اسے خوش رہنے دو وہ آصف کے ساتھ خوش رہے گی بیٹا، اسے اس کے پاس ہی جانے دو، عشق میں محبوب کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا”۔ انہوں نے کہا مگر شاید کبیر سو گیا تھا۔ انہوں نے دھیرے سے اسکا سر تکیے پر رکھا۔
“یا اللہ میرے بچے کی مشکلات آسان کر”۔ وہ مسکرا کر اسکے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں اور پھر کچن میں چلی گئیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
خدیجہ اس وقت اپنے کمرے میں تھی۔ اسکا کل آخری پیپر تھا۔ وہ خوب دل لگا کر پڑھ رہی تھی جبکہ دوسری طرف مائرہ بےچین سی تھی۔
“ٹھیک ہے وہ تم رکھ لو”۔ کبیر کی آواز مائرہ کے کانوں میں گونجی تو اس نے ایک نظر اپنی گردن میں پہنے لاکٹ پر ڈالی۔
“کیا مجھے کبیر کو اپنے احساسات کے بارے میں بتا دینا چاہیے؟”۔ تاروں بھرے آسمان کو دیکھ کر اسنے خود سے سوال کیا اور کبیر کے بارے میں سوچنے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کبیر آج کل ٹھیک سے کام نہیں کر رہا”۔ بستر پر لیٹتے ہوۓ حیدر نے بتایا۔
“کیا مطلب؟”۔ وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگیں۔
“اسکا دھیان کہیں اور ہی ہوتا ہے نا جانے کہاں۔ مجھے تو لگتا ہے اس کا کام میں اب دل نہیں لگ رہا”۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا۔
“ارے ارے ایسی بات نہیں ہے، اگر ایسی بات ہوتی تو وہ مجھے ضرور بتا دیتا”۔ انہوں نے تردید کی۔
“ہمممم تم اس بارے میں اس سے ضرور بات کرنا”۔ انہوں نے کافی دیر سوچنے کے بعد جواب دیا جس پر حنہ بیگم نے اثبات میں سر ہلایا۔
“لائٹ آف کر دو”۔ انہوں نے دوسری جانب چہرہ کرتے ہوۓ کہا۔
________________
ساری تیاریاں مکمل تھیں خدیجہ کے گھر میں بھی اور آصف کے گھر میں بھی۔ کل کے دن نکاح تھا۔ سادگی سے ہی شادی رکھی گئی تھی۔
“آصف بھائی یہاں آئیں”۔ واصف نے بلایا۔
“جی بھائی کی جان”۔ نیلی شرٹ اور نیلی جینز میں ملبوس آصف نے قریب آتے ہوۓ کہا۔
“یہ پہن لوں کل میں؟”۔ ایک سیاہ رنگ کا پینٹ کوٹ واصف نے اسکے سامنے کرتے ہوۓ پوچھا۔
“تم دلہن نہیں ہو جو سب تمہیں دیکھیں گے۔ کوئی سا بھی لو تمہیں تھوڑی کسی نے دیکھنا ہے”۔ وہ شرارت سے بولا۔ جس پر غصے سے واصف نے اسے دیکھا۔
“آصف بیٹا بازار سے سامان لا دو”۔ شیریں نے آواز دی۔ اور یہ سنتے ہی واصف کے چہرے پر ہنسی کے آثار آنے لگے۔
“جانی (سرونٹ) کو بھیج دیں امی”۔ اس نے عجلت میں کہا۔
“نہیں تم ہی آؤ”۔ انہوں نے دوبارہ کہا۔
“میری شادی پر بھی میں ہی کام کروں، تم چلے جاؤ نا”۔ آخری جملہ اس نے واصف کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوۓ ادا کیا۔
“نہیں نہیں بھائی مجھے تھوڑی کسی نے دیکھنا ہے ، اس طرح تو میں کیسے سامان لوں گا”۔ اس نے بھی ترکی بہ ترکی کہا جس پر آصف نے اسے گھورا اور ہار مان کر سیڑھیاں اترنے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
دوسری جانب مائرہ نے خدیجہ کو کال ملائی۔ کچھ ہی سیکنڈز میں خدیجہ نے کال اٹھا لی۔
“اسلام و علیکم”۔ اسنے کہا۔
“وعلیکم اسلام خدیجہ جلدی سے آؤ میرے گھر مجھے تم سے کام ہے”۔ وہ کافی عجلت میں بول رہی تھی۔
“مگر میں کیسے؟، تم آ جاؤ، مہمان ہیں یہاں”۔ اسنے دھیرے سے کہا۔
“نہیں پلیز تم آ جاؤ ناں جلدی میرے لیے پلیز، میں انتظار کر رہی ہوں”۔ بس اتنا کہہ کر اسنے لائن ڈس کنیکٹ کر دی جبکہ خدیجہ سوچ میں پڑ گئی۔ یہ سب کبیر کے پلان کا حصہ تھا اور مائرہ کے گھر پر کبیر تھا۔ کیونکہ مائرہ اور اسکی دادی کہیں گئی ہوئی تھیں اور کبیر کے پلان کو انجام دینے کے لیے مائرہ نے گھر کی ڈوپلیکیٹ چابی کبیر کو دے دی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ بہت سوچنے کے بعد خدیجہ نے سر پر دوپٹہ لیا اور نقاب کر کے مائرہ کے گھر کی طرف بڑھی۔ گلی میں اتنی رونق نہیں تھی اس لیے وہ عبایہ پہن کر نہیں گئی تھی۔
“وہ آتی ہو گی کبیر”۔ مائرہ نے میسج کر کے بتایا۔
“ٹھیک ہے”۔ ابھی اس نے مختصر ہی جواب دیا تھا۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ خدیجہ مائرہ کے گھر کے باہر پہنچ گئی۔
“اُف یہ مائرہ دروازے کا بھی دھیان نہیں رکھتی”۔ دروازے کو کھلا ہوا دیکھ کر اسنے افسردگی سے سوچا۔ اور اندر آ کر دروازہ بند کیا۔ گرمی کافی تھی اس لیے اس نے نقاب اتار کر دوپٹہ ایک سائیڈ پر کر کے کندھے پر ڈال لیا کیونکہ مائرہ کے گھر میں اس کی دادی ہی رہتی تھیں۔
وہ جیسے ہی اندر آئی کبیر کو دیکھ کر ششدر رہ گئی۔
“تم یہاں؟”۔ ٹھٹھک کر اس نے کہا۔ اس سے پہلے کے وہ دوپٹہ سر پر اوڑھتی کبیر نے قریب آ کر اسکا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا۔
“یہ۔۔یہ۔۔یہ تم کیا کر رہے ہو؟”۔ ناسمجھی سے اسنے کہا اور اپنا ہاتھ چھڑوانے لگی۔ آج وہ اپنا چشمہ بھی لگا کر نہیں آئی تھی۔ سرخ قمیض کے نیچے سرخ شرارا اسنے پہنا تھا اور دوپٹہ گولڈن رنگ کا اسکے شانے پر تھا۔ بال بھی آج اسکے کھلے تھے۔ چہرے پر ہلکا ہلکا میک اپ بھی تھا۔ کبیر کو وہ آج بہت پیاری لگی تھی۔
“کیا کر رہا ہوں میں؟”۔ انجان بنتے ہوۓ کبیر نے اسکا ہاتھ چھوڑا اور اسکے قریب آنے لگا۔
“دیکھو میں مائرہ کو بلاؤں گی، مائرہ مائرہ”۔ وہ ڈرتے ڈرتے پیچھے ہونے لگی اور مائرہ کو پکارنے لگی مگر گھر پر کبیر کے سوا کوئی نہیں تھا۔ کبیر اسکے مزید قریب آ رہا تھا۔ وہ یونہی پیچھے ہوتی ہوئی دیوار سے جا لگی۔
“دیکھو کبیر میں شور مچا دونگی”۔ اسنے اسے دھمکی دیتے ہوئے کہا۔
“اچھا”۔ وہ بلکل مطمئن لگ رہا تھا۔
وہ کچھ بولنے ہی لگی تھی کہ کبیر نے ایک ہاتھ دیوار پر رکھا اور دوسرا ہاتھ خدیجہ کے لبوں پر رکھا۔
“ہاں تو اب تم مچاؤ شور”۔ وہ اسکے بہت قریب آ چکا تھا۔ خدیجہ نے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔
“خدیجہ میری بات سنو میں تمہارے ساتھ کچھ غلط نہیں کروں گا بس ایک بار میری بات سن لو پھر تم چلی جانا، سنو گی ناں؟”۔ اسنے ایک آس سے پوچھا۔
جس پر دھیرے سے خدیجہ نے آنکھیں کھولیں اور اثبات میں سر ہلایا۔
کبیر نے دھیرے سے اپنا ہاتھ اسکے لبوں سے اور دیوار سے ہٹایا اور کچھ قدم اس سے دور ہو گیا۔
______________
“میں تم سے پھر کہہ رہا ہوں اس سے شادی مت کرو”۔ اس نے اس کے آگے ایک آس کے ساتھ ہاتھ جوڑے۔
“میں ایسا نہیں کروں گی کبیر تم ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔ کل شادی ہے اور میں انکار کر دوں سب کیا سوچیں گے تمہیں اندازہ بھی ہے؟”۔ اسنے اپنا سر پکڑتے ہوۓ کہا۔
“تم، تم تم لوگوں کی پرواہ نہیں کرو ہم دونوں بھاگ جائیں گے خدیجہ”۔ وہ دوبارہ اس کے نزدیک آتے ہوۓ بولا۔
“پاگل ہو گۓ ہو تم؟”۔ وہ تیوری چڑھا کر بولی۔
“ہاں یا ناں؟”۔ اسنے سختی سے پوچھا۔
“تم ہزار بار بھی پوچھو گے تب بھی میرا جواب نا ہی ہو گا کبیر”۔ اسکا لہجہ سپاٹ تھا۔
“میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا تمہیں سمجھ نہیں آتا ایک بار”۔ اسکے شانے جھنجھوڑتے ہوۓ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
“کوئی فرق نہیں پڑے گا مجھے”۔ اس نے اسکے ہاتھ جھٹکتے ہوۓ کہا اور کمرے سے باہر جانے لگی مگر کبیر نے اس کا راستہ روک لیا۔
“تمہارا یہ آخری فیصلہ ہے؟”۔ اسکے لہجے میں اب پہلے جیسی کاٹ نہیں تھی۔
“ہاں، میرا آخری فیصلہ ہے، اگر اب تم نے مجھ سے ایسی کوئی گھٹیا بات کی تو میں تم سے واقعی میں نفرت کرنے لگ جاؤں گی۔ بہتر ہے میں اسی میں خوش ہو جاؤں کے تم میرے دوست بھی تھے یہ نا ہو کہ تمہاری ان حرکتوں سے یہ بات بھی بھلا دوں، اور ایک آخری بات میں اب آصف کو پسند کرنے لگ گئی ہوں تم یہی سمجھ لو کہ مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے”۔ اس نے مقابل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا اور دوپٹہ سر پر لیے باہر چلی گئی۔ کبیر نے پلٹ کر بھی اسے نہیں دیکھا اور وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“ہیلو مائرہ”۔ تھوڑی دیر بعد جیسے ہی وہ گھر گیا اس نے سب سے پہلے کال ملائی۔
“ہاں کبیر ، تم نے کہہ دیا اس سے اور کیا کہا اس نے، مان گئی وہ؟”۔ اسنے دل پر پتھر رکھ کر پوچھا۔
“ہمممم!! ہاں ہو گئی ہے بات اب میں دوبارہ اس کے پیچھے نہیں جاؤں گا”۔ اسنے ایک سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا۔
“کیوں؟”۔ اسے دھچکا سا لگا۔
“کیونکہ میں خدیجہ سے عشق کرتا ہوں اور عشق میں محبوب کی خوشی سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا ہے مائرہ”۔ اسکی آواز ایک دم مدھم ہوئی تھی۔ اسنے فوری ہی کہہ کر لائن کاٹ دی شاید آنسو اسے تنہا پا کر اسکا ساتھ دینے چلے آئے تھے۔
کبیر کا فون جیسے ہی بند ہوا مائرہ نے فوراً خدیجہ کو کال ملائی۔
“کیا ہے اب؟”۔ دوسری جانب خدیجہ درشت سے بولی۔
“ناراض ہو؟”۔ اس نے تفکر پوچھا۔
“ناراض تو اپنوں سے ہوا جاتا ہے ، کیا تم میری اپنی ہو جو میں ناراض ہوؤں تم سے؟”۔ اسنے کہتے ہی فون بند کر دیا۔
“نہیں ایسی بات۔۔۔۔۔۔” وہ کہ ہی رہی تھی مگر کال بند ہو چکی تھی۔
“میں معافی مانگتی ہوں تم سے”۔ اسنے فوراً میسج لکھا۔
“یہ کبیر کا اور تمہارا پلان تھا ہے ناں”۔ وہ پہچان گئی تھی۔
“یقین جانو میں کبیر کو ایسی حالت میں نہیں دیکھ سکتی اس وجہ سے میں نے اسکا ساتھ دیا خدیجہ”۔ اس نے اپنی صفائی بیان کی۔
“تم بہت ہمدردیاں جتا رہی ہو ، ایسا کیوں نہیں کر لیتی کہ تم ہی اس سے شادی کر لو؟”۔ اسنے ایک غصے والا ایموجی بھی جملے کے آخر میں سینڈ کیا۔ یہ پڑھتے ہی مائرہ کا دل دھڑکا تھا۔ مگر اس نے جواب نہیں دیا۔ اور کچھ سوچنے لگی۔
“کیا ایسا بھی ہو جاۓ گا؟
بن کہے وہ میرا ہو جاۓ گا؟”.
از قلم سمعیہ مغل۔۔۔۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ساعت رات کے گیارہ بجنے کی اطلاع دے رہی تھی۔ حیدر صاحب کے سونے کے بعد حنہ بیگم کبیر کے کمرے میں آئیں جہاں وہ بیڈ پر لیٹا کسی سوچ میں گم تھا۔ ان کے آنے پر وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
“سوۓ نہیں تم ؟ کیا خدیجہ کے بارے میں سوچ رہے ہو؟”۔ انہوں نے اسکے پہلو میں بیٹھتے ہوۓ پوچھا۔
“نہیں امی”۔ اسنے جھوٹ بولتے ہوۓ کہا۔
“کبیر تم اپنا دھیان اب ٹھیک سے کام میں کیوں نہیں لگا رہے ہو؟ کوئی پرابلم ہے بیٹا؟ اس وجہ سے تمہارے ابو پریشان ہیں”۔ انہوں نے بھی پریشانی سے بتایا۔
“سوری امی”۔ اسنے فوری معذرت کی۔
“کیا تم کل اسکی شادی پر جاؤ گے میرے ساتھ؟”۔ آخر انہوں نے ہی پوچھ لیا جس پر اسنے اثبات میں سر ہلایا۔
“اچھا امی اب آپ بھی سو جائیں”۔ اسنے فوری ہی کہا اور انہوں نے اسکے سر پر پیار دیا اور “شب بخیر” کہہ کر باہر چلی گئیں۔ جبکہ وہ دوبارہ کسی سوچوں میں گم ہو گیا۔
“میں اب آصف کو پسند کرنے لگ گئی ہوں تم یہی سمجھ لو کہ مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے”۔ خدیجہ کی بات اسکے کانوں میں گونجی۔
جاری ہے
