Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode03

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode03

“تم کہہ رہی ہو کہ جب عورت ہی وفا نہ کرنا چاہے تو مرد کو زبردستی نہیں کرنی چاہیئے ، لیکن میں کیا کہتا ہوں بتاؤں تمہیں؟”۔
“بولو”۔ وہ سر جھکا کر بولی۔
“میں کہتا ہوں کہ ہمیں جس سے محبت ہو اسے ساری دنیا سے چھین لیا جاۓ چاہے پھر ہمارا محبوب ہمارے ساتھ خوشی سے رہے یا زبردستی”۔ اس کے بول میں کچھ الگ تھا جس سے مائرہ اس کی طرف مائل ہو گئی۔ اس نے سر اٹھا کر کبیر کی آنکھوں میں دیکھا۔
“ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟”۔ کافی دیر تک جب وہ اسے دیکھے گئی تو بیزاری سے اس نے پوچھا۔
“بہت دیر ہو گئی ہے مجھے اب چلنا چاہیے”۔ وہ اٹھتے ہوۓ بولی اور بغیر کچھ سنے چلی گئی۔ جبکہ کبیر ناسمجھی سے اسے جاتا دیکھتا رہا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“آ گئی تم؟”۔ دروازہ کھولتے ہی مائرہ کی بوڑھی دادی نے پوچھا۔
“جی دادی”۔ وہ اندر آ کر صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتے ہوۓ بولی۔
“مل لیا خدیجہ سے؟”۔ انہوں نے پوچھا۔ اور دروازے کی کنڈی لگانے کے بعد وہ بھی اس کے مقابل بیٹھ گئیں۔
“جی ہاں دادی مل لیا”۔ اس نے دھیرے سے ہاں میں سر ہلا کر بتایا اور کمرے میں چلی گئی۔ اس کے گھر میں صرف اس کی دادی اور وہ ہی رہتے تھے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کیوں مجھے کچھ کچھ ہونے لگا ہے۔
من اس کی جانب مائل ہونے لگا ہے۔
کیا قسمت بدلنے لگی ہے میری؟
یا دل پھر سے کچھ کھونے لگا ہے”
از قلم سمعیہ مغل…….
گھڑی رات کے دو بجنے کی اطلاع دے رہی تھی۔ وہ ابھی تک جاگی ہوئی کسی کے خیالوں میں گم تھی۔ نا چاہتے ہوۓ بھی وہ کبیر کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی۔
“میں کیا کروں۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ کبیر خدیجہ سے پیار کرتا ہے میں اس کے بارے میں سوچنے لگی ہوں؟”۔ الجھ کر اس نے سوچا۔ اور پھر کئی دیر اس کے خیالوں میں وہ کھوئی رہی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ساڑھے آٹھ بجے اس کا امتحان تھا اور اس وقت اٹھ بج رہے تھے۔ وہ جلدی گھر سے نکلی۔ اس کے ابو اس سے قبل ہی گھر سے کام کے لیے نکل چکے تھے۔ اس لیے اسے پیدل جانا پڑا۔ وہ تیز قدموں سے چل رہی تھی کہ جانے انجانے میں اسکی ٹکر ایک بوڑھی عورت سے ہو گئی۔ اس بوڑھی عورت کے ہاتھ میں کانچ کی بوتل اور کچھ کھانے پینے کی اشیاء تھیں جو کہ اب زمین پر گر چکی تھیں۔
“آئی ایم سوری آنٹی”۔ وہ خفت سے بولی۔ مگر وہ بوڑھی عورت حسرت سے زمین کو گھور رہی تھی۔
“ایک منٹ”۔ بول کر اس نے بیگ کھولا اور پانچ سو کا نوٹ نکال کر ان کی طرف بڑھایا۔
“سوری آنٹی آپ یہ رکھ لیں”۔ اس نے ان کے ہاتھ میں تھماتے ہوۓ کہا اور انکا کوئی جواب بھی سننے کے لیے پھر وہ رکی نہیں تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ساڑھے گیارہ کے قریب وہ پیپر دے کر نکلی ہی تھی کہ اسے مائرہ مل گئی۔
“کیسا ہوا پیپر؟”۔ مائرہ نے اس کے قریب آتے ہوۓ پوچھا۔
“اچھا ہوا اور تمہارا؟”۔ وہ اپنا نقاب ٹھیک کرتے ہوۓ بولی۔
“میرا بھی اچھا ہوا، اور تم نے گھر کیسے جانا ہے؟”۔ اس نے پوچھا۔
“پیدل جانا ہے”۔ اب وہ اپنے نقاب پر پن لگا رہی تھی۔
“اچھا تو پھر دونوں ساتھ چلتے ہیں”۔ مائرہ نے خوشی سے کہا اور دونوں ساتھ چلنے لگیں۔
“تم پیدل کیوں؟”۔ اس نے تجسس سے پوچھا۔
“یونہی”۔ اس نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا۔ دراصل وہ خدیجہ کی وجہ سے پیدل جا رہی تھی مگر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔
“اور تم کیوں؟”۔ اس نے پوچھا۔
اس کا سوال سن کر پہلے تو خدیجہ نے اس کی طرف دیکھا اور سارا واقع سنایا۔
“بس اس لیے۔ ورنہ میں نے سوچا تھا کہ دو سو آج آنے جانے کا کرایہ لگ جاۓ گا اور دو سو کل کے لیے رکھ لوں گی۔ سو روپے کا کچھ کھا لوں گی”۔
“اوہ مگر تم نے پانچ سو کیوں دے دیے؟”۔ اس نے تعجب سے پوچھا۔
“میں نے مدد کر دی بس۔ شاید غریب عورت تھیں وہ”۔ اس نے بتایا۔
“ہمم!!”۔ بس وہ اتنا ہی بول سکی۔ کیونکہ مائرہ کے سامنے بھی کئی دفعہ خدیجہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کر دیا کرتی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
باتوں باتوں میں وہ گھر پہنچنے ہی والی تھیں کہ کبیر نے بائیک ان کے پاس روکی۔ اسے دیکھ کر خدیجہ جانے ہی لگی تھی کہ مائرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیا۔
“ہیپی برتھڈے خدیجہ اینڈ سوری”۔ اسنے ایک پیک کیا ہوا باکس اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا۔ مائرہ چونک کر کبیر کو دیکھنے لگی۔ اسے یاد بھی نہیں تھا کہ آج خدیجہ کی سالگرہ ہے۔
“کبیر میں تم سے یہ نہیں لوں گی اور پلیز مجھ سے بات نہ کیا کرو”۔ بس اتنا بول کر وہ اپنے گھر کی گلی میں مڑ گئی۔
دکھ سے کبیر کی آنکھوں سے آنسو نکل گئے اس نے تحفہ وہیں گرا دیا۔ اور بے دلی سے بائیک سٹارٹ کر کے آگے بڑھ گیا۔ جبکہ مائرہ ہکا بکا سی کھڑی تھی۔ اسے دو باتوں سے تکلیف پہنچی تھی۔ اول تو خدیجہ کے کبیر سے اس برتاؤ کی وجہ سے۔ اور دوسرا یہ کہ وہ دونوں یہ بھی بھول گۓ کہ ان دونوں کے علاوہ مائرہ بھی موجود تھی۔ کیسے ان دونوں نے اسے نظر انداز کیا تھا۔ وہ دکھ سے کبیر کو جاتا دیکھتی رہی۔
__________________
اس نے ایک نظر نیچے دوڑائی اور وہ گفٹ افسوس سے اٹھایا۔ اور اپنے بیگ میں رکھ لیا۔ بوجھل قدموں سے چلتی ہوئی وہ گھر پہنچ گئی۔
“ٹک ٹک ٹک!!”۔ اس نے دروازہ بجایا۔ اور کچھ ہی دیر میں فرحت نے دروازہ کھول دیا۔
“اسلام و علیکم دادی”۔ اس نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کبیر بہت ہی اداس ورک شاپ پر آیا تھا۔
“کیا کر رہے ہو کبیر؟”۔ حیدر صاحب نے اسے ٹوکا۔
“کک کچھ نہیں”۔ وہ سنبھل کر بولا۔ خدیجہ کی وجہ سے وہ اتنا ڈسٹرب ہوا تھا کہ کام ٹھیک سے نہیں کر پا رہا تھا۔
“ہممم طبیعت ٹھیک ہے تمہاری؟”۔ وہ اس کے لیے فکرمند ہوۓ۔
“جی ہاں”۔ اسنے مختصر کہا اور وہ مطمئن ہو کر اسے کام سمجھانے لگے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
دوپہر کے چار بج رہے تھے۔ مائرہ اپنے کمرے میں بیٹھی کبیر کا گفٹ کھول رہی تھی۔ جیسے ہی اسنے گفٹ کھولا اندر پیارا سا لاکٹ تھا جس پر دل بنا ہوا تھا۔ اور “کے” لکھا ہوا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر پھیکا سا مسکرائی۔ اسے خدیجہ کے اس برتاؤ پر افسردگی سی محسوس ہو رہی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
سات بجے رہے تھے اور وقت گزر رہا تھا۔ مائرہ اس وقت خدیجہ کے کمرے میں تھی۔
“کیسی تیاری ہے پرسوں کے پیپر کی؟”۔ اس نے پوچھا۔
“اچھی”۔ اسنے مختصر کہا۔
“تم نے آج کبیر کے ساتھ اچھا نہیں کیا”۔ اسنے ناچاہتے ہوئے بھی اسے بتا دیا۔
“مائرہ میں کیا کروں؟ یوں اس کے ساتھ نرم برتاؤ کرتی رہی اور اسکے گفٹس لیتی رہی تو وہ اور میرے پیچھے آۓ گا”۔ اسنے بھی پریشانی سے بتایا اور اسکی بات میں واقعی دم تھا۔
“ہمممم ٹھیک ہے خدیجہ”۔ اسنے سر جھکاتے ہوئے کہا۔ اس سے کبیر کی حالت دیکھی نہیں گئی تھی اور خدیجہ بھی اپنی جگہ درست تھی۔ کچھ دیر دونوں کے درمیان خاموشی چھائی رہی اور پھر مائرہ اپنے گھر آ گئی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
رات کے نو بج رہے تھے مائرہ مسلسل اپنی پڑھائی میں مگن تھی اور سر دوپٹے سے باندھا ہوا تھا کیونکہ اس کا سر شدید درد کر رہا تھا۔
“مائرہ یہ لے دودھ پی لے، اور بس کر کل پڑھ لینا”۔ انہوں نے اسے دودھ کا گلاس پکڑاتے ہوۓ کہا۔
“دادی جی بس کچھ ہی دن تو رہ گۓ ہیں پھر میرا بی-اے کمپلیٹ ہو جاۓ گا”۔ اسنے دودھ کا گھونٹ لیتے ہوۓ کہا۔
“اور آگے کا کیا سوچا ہے تو نے؟”۔ فرحت نے فکرمندی سے پوچھا۔
“پیپرز کے بعد دوبارہ سکول جوائن کروں گی کچھ پیسے تو ہیں، ابھی گزارا ہو جاۓ گا آرام سے”۔ اس نے بتایا۔
“ارے نہیں نہیں میں یہ نہیں پوچھ رہی”۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
“تو پھر؟”۔ اس نے شانے اچکاۓ۔
“شادی کا کیا سوچا ہے؟”۔ انہوں نے فوری ہی کہہ دیا۔
“کیا مطلب؟”۔ اسنے ناسمجھی سے پوچھا۔
“بیٹا دو ہی تو خواہشیں ہیں میری ایک تو یہ کہ تو پڑھے اور دوسرا تجھے اپنی آنکھوں کے سامنے بیاہ دوں، ایک تو تو نے پوری کر دی اب دوسری کب کرے گی؟”۔ انہوں نے جیسے ہی پوچھا کبیر کا چہرہ مائرہ کی آنکھوں کے آگے گھومنے لگا۔
“ہممم میں سوچ کر بتاؤں گی آپ کو”۔ اسنے انہیں کچھ نہیں بتایا۔
“اچھا جلدی سوچ لینا پھر”۔ انہوں نے اسکے گال کھینچتے ہوۓ کہا۔
جبکہ مائرہ اپنی سوچوں میں گم ہو گئی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اگلے دن پھر مائرہ اس کے گھر آئی ہوئی تھی۔
“کبیر آ جاؤ جلدی اور بول دو پھر سے خدیجہ کو۔ آنٹی گھر پر نہیں ہیں”۔ اس نے کبیر کو میسج کیا۔ دراصل یہ کبیر کا ہی پلین تھا اور مائرہ اسے سرانجام دینے آئی تھی۔
“ٹک ٹک ٹک”۔ دروازے پر جیسے ہی دستک ہوئی خدیجہ دروازے کی جانب بھاگی۔ مائرہ جانتی تھی کہ کون آیا ہے اس لیے وہ باہر نہیں آئی۔
“تم”۔ کبیر کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک کر رہ گئی۔
“مجھے تم سے بات کرنی ہے”۔ وہ دروازہ دھکیل کر اندر آ گیا اور کہنے لگا۔
“بولو جلدی؟”۔ اسنے دوبارہ سے دوپٹے کا نقاب بنا لیا۔ وہ اس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی مگر اب مجبور تھی۔
“مجھ سے شادی کر لو”۔ اسنے ایک بار پھر منت کی اور ایک چھوٹی ڈبی کھول کر اسکی طرف بڑھائی۔
یہ سب دیکھتے ہی اسکی آنکھوں میں غصہ آنے لگا۔
“چلے جاؤ کبیر”۔ وہ دھیمی آواز میں بولی۔ اور اسکے ہاتھ سے ڈبی لے کر زمین پر پھینک دی۔ آواز سے مائرہ بھی لاؤنج میں آ گئی۔
“پلیز میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر”۔ وہ اسکے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولا۔
“کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا کبیر، اگر تم مر بھی گۓ تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا”۔ اسکا لہجہ سپاٹ تھا۔ یہ سب کبیر سے برداشت نہیں ہوا اور وہ آنکھیں صاف کرتا وہاں سے چلا گیا۔ جبکہ مائرہ کی نظر ابھی بھی اس رنگ کی جانب تھی۔
“یہ رکھو اور اسے دے دینا”۔ خدیجہ نے اسے ڈبی اور رنگ پکڑاتے ہوئے کہا۔ اس نے تاسف سے رنگ پکڑی اور گھر چلی گئی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“پریشان ہو؟”۔ خدیجہ اس وقت چھت پر تھی کہ پروین بی بی نے اس کے ساتھ کھڑے ہو کر پوچھا۔
“نہیں امی”۔ اسنے نفی میں سر ہلایا۔
“تو پھر کیا سوچ رہی ہو؟”۔ وہ تفکر سے بولیں۔
“بس یہی کہ پیپرز اچھے ہو جائیں”۔ اسنے جھوٹ بولا۔ وہ اس وقت کبیر کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ کبیر نے اس کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔ اسے پیار نہیں کرنا چاہیے تھا اور کر بھی لیا تھا تو شادی تک کا تو بلکل نہیں کہنا چاہیے تھا۔ مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ محبت ایک بےاختیار جذبہ ہے۔ محبت یہ نہیں دیکھتی کہ سامنے والا آپکا دشمن ہے یا دوست ہے۔
__________________
وہ اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اور مسلسل رنگ کو دیکھ رہی تھی کہ اسکا فون بجنے لگا۔
“ہاں کبیر”۔ اسنے نام پڑھ کر فون کان سے لگاتے ہوئے کہا۔
“خدیجہ ٹھیک ہے؟”۔ دوسری جانب سے کبیر نے پوچھا۔
“ہمم ٹھیک ہے وہ”۔ اس نے نا چاہتے ہوۓ بھی بتا دیا۔
“اور وہ رنگ لے لی اس نے؟”۔ اس نے بڑی امید سے پوچھا۔
“نہیں اس نے مجھے دے دی کہ میں تمہیں دے دوں”۔ اسنے جیسے ہی بتایا کبیر کی ساری امیدیں ٹوٹ گئیں۔
“ٹھیک ہے تم اپنے پاس رکھو”۔ اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
“کیوں پر؟”۔ اس نے ایک دم خوشی سے پوچھا۔
“اگر میں واپس لوں گا تو مجھے دکھ ہو گا کہ خدیجہ نے نہیں لی سو اس لیے تم اپنے پاس رکھو”۔ اسکی آواز میں دکھ واضح تھا۔
“اچھا بات سنو وہ گفٹ بھی میرے پاس ہے لاکٹ والا”۔ اسنے بتایا۔
“ٹھیک ہے وہ تم رکھ لو”۔ اس نے تاسف سے کہا اور لائن کاٹ دی۔ جبکہ مائرہ اس کے بارے میں سوچنے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اب صرف ایک پیپر باقی تھا اور شادی میں قریباً پانچ دن تھے۔ مزید وقت ملنے پر پروین بی بی نے ساری تیاریاں مکمل کر لی تھیں۔ کبیر پیپر والے دن کہیں نا کہیں خدیجہ کو مل ہی جاتا تھا۔ آج بھی وہ گھر جا رہی تھی تو وہ اسے راستے میں مل گیا۔
“خدیجہ”۔ اس نے دوبارہ پکارا اور اسکی ایک ہی پکار پر اسنے اسکی جانب دیکھا۔
“بولو”۔ اسنے زمین کو گھورتے ہوۓ کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ کوئی انکی طرف متوجہ ہو اسی لیے اسے جواب دینا پڑا۔
“مت کرو یہ شادی”۔ اس نے ایک آس سے کہا۔
“اور کچھ کبیر؟”۔ اسنے پوچھا۔
“اور یہ کہ میں تمہارے بغیر مر جاؤں گا”۔ اسنے دوبارہ وہی بات دہرائی۔
“میں نے تم سے پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی کہوں گی کہ کوئی کسی کہ بغیر نہیں مرتا ہے کبیر سنا تم نے، اور تمہارے مرنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا”۔ اس نے تلخی سے کہا اور گھر کا دروازہ کھٹکانے لگی۔ جبکہ کبیر وہاں سے چلا گیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
خدیجہ نے گھر آ کر ہاتھ منہ دھونے کے بعد کھانا کھایا اور اب وہ لاؤنج میں بیٹھی تھی۔
“خدیجہ انہوں نے جہیز نہیں لیا میں تو بہت خوش ہوں اس بات سے”۔ پروین بی بی نے شکر ادا کر کے کہا۔
“ہمم اچھی بات ہے”۔ اس نے کہا۔
“خدیجہ تیرے جانے کے بعد میں اکیلی رہ جاؤں گی”۔ وہ اداس ہونے لگیں۔
“ارے ایسے کیسے؟ ابو ہیں ناں اور میں آؤں گی ناں آپ سے ملنے”۔ اسنے انہیں تسلی دی جس پر انہیں تھوڑا سکون محسوس ہوا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کبیر اس وقت اپنے کمرے میں تھا۔
“بیٹا تم کل پھر سے چلے جانا انکل کی طرف انکی طبیعت کا پوچھ آنا”۔ انہوں نے تمہید باندھی۔
“فون پر بھی پوچھ سکتی ہیں آپ”۔ اسنے منہ بنا کر کہا کیونکہ اسکی ماں پھر سے جھوٹ بول رہی تھیں۔
“نہیں بیٹا یوں اچھا نہیں لگتا ناں”۔ انہوں نے سنبھل کر کہا۔
“اچھا پھر آپ چلی جائیں میں نہیں جا سکتا”۔ اسنے صاف صاف منع کیا۔
“کیوں نہیں جا سکتے؟”۔ انہوں نے سختی سے پوچھا۔
“کیونکہ پچیس کو خدیجہ کی شادی ہے اس لیے”۔ اس نے جیسے ہی بتایا ان پر تو گویا پورا آسمان ہی آ گرا ہو۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *