Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal NovelR50772 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode02
Rate this Novel
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode01 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode02 (Watching)Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode03 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode04 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode05 Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Last Episode
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode02
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode02
“خدیجہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ پلیز مجھ پر ترس کھا کر ہی میرے سے شادی کر لو”۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اس کی منت کر رہا تھا۔
“میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں”۔ جیسے ہی اس نے کہا کبیر نے سر کو جنبش دی اور ہاتھ نیچے گرا لیے۔
“میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا دوست مانا تھا اور میں تمہارے ساتھ زیادہ اٹیچ بھی تھی۔ مگر پھر مجھے سمجھ آنے لگا کہ کسی لڑکے سے اس طرح دوستی رکھنا قطعاً درست نہیں ہے اسلام کی نظر میں۔ جیسے جیسے میں سمجھتی گئی میں نے پردہ کرنا شروع کر دیا۔ سارے برے کاموں سے دور ہو گئی۔ تم بھی نا محرم ہو میرے لیے یہ بات بھی سمجھ لی میں نے”۔ اس نے اصل وجہ بتائی۔
“اور ہاں امی ابو کی پسند آصف ہے۔ اگر میں کہہ بھی دوں کہ کبیر سے میں شادی کرنا چاہتی ہوں یا کبیر مجھ سے پیار کرتا ہے تو تمہیں پتہ ہے ان کا تم پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا۔ میں نہیں چاہتی وہ مجھے بھی غلط سمجھیں”۔
یہ سب سنتے ہی کبیر نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجانی شروع کر دی۔ خدیجہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ رکا۔
“واہ، واہ، واہ کیا کہانی سنائی ہے آپ نے خدیجہ صاحبہ۔ میں، ان جھوٹی کہانیوں سے میں پھنس نہیں سکتا۔ خودغرض خدیجہ۔ کیا دیکھ لیا تم نے اس کے پیسوں میں ، بولو جواب دو”۔ اپنے آخری الفاظ اس نے غصے میں دہراۓ ہی تھے کہ بےساختہ خدیجہ کا ہاتھ اٹھا اور کبیر کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔ “اس سے بہتر جواب نہیں تھا میرے پاس”۔
کبیر کا ہاتھ اپنے گال پر تھا۔ بغیر کچھ بولے وہ تیکھی نگاہ سے خدیجہ کو گھورنے لگا۔ “میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”۔ اتنا کہتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی خدیجہ نے زور سے دروازہ بند کیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“خدیجہ دیکھ میں اور آصف کی ماں کتنے پیارے سوٹ لاۓ ہیں تیرے لیے”۔ وہ انبساط سے اسے رنگ برنگے سوٹ دکھاتے ہوۓ بولیں۔
“ہاں اماں”۔ خدیجہ نے ان کی خوشی دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
“اماں اگر کبیر کی ماں میرا رشتہ مانگ لیتیں آپ سے تو؟”۔ عجلت سے اس نے پوچھا۔
“خدیجہ ماں باپ چاہتے ہیں ان کی بیٹی خوش رہے اور کبیر کی حالت تم جانتی ہو”۔
“کبیر ویسے اچھا لڑکا ہے ناں اسے مجھ سے پیار نہیں ہوا ورنہ تو لڑکے ایسے نہیں ہوتے”۔ اس نے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔
“ہاں اگر اسے ہو جاتا تو میں اس کی شکل بھی نا دیکھتی اور میرا بھروسہ بھی اس پر سے اٹھ جاتا”۔ انہوں نے بیان کیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ایک ماہ بعد،
کبیر کو اس کی ماں نے خدیجہ کی شادی سے اب تک بے خبر رکھا تھا۔
“بات سنو بیٹا”۔ انہوں نے بڑے پیار سے اسے بلایا۔
“جی”۔ اس نے تردید کی۔
“بیٹا تمہارے انکل کی طبیعت خراب ہے۔ تم اور تمہارے ابو راولپنڈی ہی چلے جاؤ ان کی خیریت معلوم کرنے”۔ وہ بڑی افسردگی سے بتا رہی تھیں۔
“ہمممم!! جی ٹھیک ہے”۔ اضطراب سے اس نے کہا۔ اس کا دل نہیں جانے کے لیے قطعاً راضی نہیں تھا مگر وہ ماں کا حکم ٹال بھی نہیں سکتا تھا۔
___________________
چار دن بعد،
کبیر کے ابو راولپنڈی سے واپس آ گئے تھے مگر اسے مجبوراً وہیں رکنا پڑا تھا۔ دوسری جانب آج خدیجہ کی منگنی بھی ہو چکی تھی۔ پنک قمیض اور گولڈن شرارے میں ملبوس وہ آئینے کے آگے کھڑی جیولری اتار رہی تھی کہ کسی نے اسے پکارا۔
“ہاں مائرہ”۔ وہ اس کے قریب آتے ہوۓ بولی۔
“جب اگلے مہینے شادی ہے تو آج منگنی کیوں رکھی انہوں نے؟”۔ مائرہ بڑے خوشگوار موڈ میں پوچھ رہی تھی۔
“میں بھی یہی سوچ رہی تھی مگر جیسے ان کی مرضی”۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلا کر بولی۔
“جب تم پارلر سے تیار ہو کر آئی تھی ناں تو آصف تمہیں ہی دیکھ رہے تھے”۔ وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی۔
“بہت تیز ہو”۔ اس نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
“کبیر نہیں آیا منگنی پر”۔ مائرہ نے بتایا۔
“جانتی ہوں اس کی امی سے بات ہوئی تھی میری”۔ اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
“کیا بات ہوئی تمہاری؟”۔ مائرہ بھی اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
“انہوں نے کہا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ کبیر مجھ سے پیار کرتا ہے اس لیے انہوں نے کبیر کو میری منگنی اور شادی کی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا اور اس لیے انہوں نے کبیر کو اس کے کسی انکل کے گھر رہنے بھیج دیا ہے”۔ اس نے ساری بات بتائی۔
“ہمم”۔ اس کی بات سننے کے بعد وہ صرف سر ہلا کر رہ گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کبیر کب سے خدیجہ کو میسج کر رہا تھا مگر خدیجہ نے اس کا نمبر بلیک لسٹ میں ایڈ کر رکھا تھا تو اس لیے اس کا کوئی میسج خدیجہ کو موصول نہیں ہو رہا تھا۔
“خدیجہ بات سنو بیٹا”۔ ولید صاحب نے اسے پکارا تو وہ عجلت میں بھاگی۔
“جی ابا”۔ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر اس نے کہا۔
“بیٹھو”۔ انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ان کے کہتے ہی وہ جلدی سے بیٹھ گئی۔
“تم خوش ہو اس شادی سے؟”۔ انہوں نے پوچھا۔
“میں کبھی آپ کے کسی فیصلے سے ناخوش ہوئی ہوں؟”۔
“نہیں بیٹی”۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
“بیٹا کبیر سے تمہارا جھگڑا ہوا ہے؟ وہ منگنی پر بھی نہیں آیا، میں نے حنہ سے بھی نہیں پوچھا”۔ پروین بی بی نے پوچھا۔
“نہیں اب میں کبیر سے بات نہیں کرتی اور آنٹی بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے انکل کے گھر رہنے گیا ہے”۔ اس نے بتایا۔
“اوہ!! اچھا چلو ٹھیک ہے اب تمہاری شادی ہے تو اس سے بات کرنا مناسب نہیں”۔ ولید صاحب بولے جس پر خدیجہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“اب سو جاؤ بیٹا”۔ ان کے کہتے ہی وہ اٹھ کر کمرے میں آ گئی۔
“کیسی ہو خدیجہ؟”۔ اس نے میسج جیسے ہی پڑھا ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
“میں ٹھیک ہوں اور آپ؟”۔ اس نے فوری جواب دیا اور اپنی انگلی میں چمکتی انگوٹھی کو ایک بار دیکھا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں جاناں”۔ جیسے ہی اس نے جواب پڑھا اس کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو گئیں۔ بات کرتے کرتے وہ کب سو گئ اسے اندازہ ہی نا ہوا۔
____________________
اگلے دن،
آج وہ کالج نہیں گئی تھی کیونکہ کچھ دن بعد اس کے سالانہ امتحان ہونے والے تھے۔ امتحانات کے دیر سے ہونے کے باعث شادی بھی دیر یعنی امتحانات کے فوری بعد رکھ دی گئی تھی۔ کبیر بھی واپس آ گیا تھا۔
“خدیجہ بات سنو”۔ ہمیشہ کی طرح اس نے اسے میسج کیا مگر کوئی جواب نہ آیا۔ اس کے میسج کا انتظار کرتے کرتے وہ گھر سے باہر نکل آیا۔ کچھ دیر تک وہ یونہی ٹہلتا رہا کہ پھر اسے اچانک خدیجہ کی امی نظر آ گئیں۔ شاید وہ کہیں جا رہی تھیں اس لیے وہ ان کی طرف چل پڑا۔
“اسلام و علیکم آنٹی آپ کہیں جا رہی ہیں؟”۔ اس نے قریب آ کر پوچھا۔
“وعلیکم السلام میں بازار تک جا رہی ہوں”۔ انہوں نے بتایا۔
“اچھا آنٹی کیا میں بھی چلوں آپ کے ساتھ؟”۔ اس نے اجازت مانگی۔
“ہاں بیٹا چلو”۔ انہوں نے اجازت دے دی جس پر وہ خوش ہو گیا۔
“اچھا بیٹا تم کب آۓ راولپنڈی سے؟”۔ انہوں نے چلتے ہوئے پوچھا۔
“میں آج ہی آیا ہوں آنٹی”۔ اس نے بتایا۔ وہ بھی ان کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔
“بہت یاد آئی تمہاری مجھے منگنی پر تم ہوتے تو کام بھی کروا دیتے”۔ انہوں نے کہا۔
“کیا مطلب؟ کس کی منگنی کی بات کر رہی ہیں آپ؟”۔ اس نے ناسمجھی میں پوچھا۔
“خدیجہ کی منگنی کی بات کر رہی ہوں۔ کل تھی ناں اس کی منگنی امی بھی تو آئی تھیں تمہاری”۔ جیسے ہی انہوں نے بتایا کبیر پر تو گویا بم ہی آ گرا ہو۔ اس کا دل ڈوب کر ابھرا مگر ان جذبات کو اس نے قابو میں رکھا۔
“اچھا آنٹی ویسے شادی کی تاریخ کیا ہے؟”۔ اس نے بظاہر خود کو نارمل رکھتے ہوئے پوچھا۔
“مئی کی پچیس تاریخ، پر بیٹا تمہاری امی کو بتایا تو تھا میں نے”۔ انہوں نے اسے بتایا اور کبیر کو کچھ کچھ سمجھ آ رہا تھا۔
“یعنی کہ امی سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن رہی تھیں۔ اس دن انکے لہجے میں الگ سا انداز تھا جو مجھے محسوس ہوا تھا”۔ اس نے دل ہی دل میں اندازہ لگایا جو کہ بلکل درست تھا۔ اب اسے جو کرنا تھا وہ سوچ چکا تھا۔
“اچھا آنٹی اور کچھ بتائیں”۔ اس نے کہا اور پھر دونوں بہت سی باتیں کرتے ہوئے بازار تک چلے گئے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ آصف کا میسج اسے موصول ہوا۔
“کیا کر رہی ہو جاناں؟”۔
“کچھ بھی نہیں”۔ اسنے ایک مسکراتا ہوا ایموجی بھی ساتھ میں بھیجا۔
“اس ایموجی کی بجائے تم مجھے جاناں ، جان یا جانو کہہ دیتی تو مجھے بہت خوشی ہوتی”۔ آخر میں ایک ایموجی تھا جس کے لبوں سے دل نکل رہا تھا۔ 
“میں تو یہ سب نہیں کہہ سکتی ہوں آپ کو”۔ اس نے کہا۔
“کیوں؟ کوئی پروبلم ہے؟”۔ اس نے پوچھا۔
“جی، دراصل یہ سب شادی کے بعد درست ہے اس سے پہلے نہیں اور ایک بات یہ بھی کہ اب شادی کے بعد ہی بات کریں گے مجھے یوں بات کرنا بلکل اچھا نہیں لگتا ہے”۔ اس نے تفصیل سے بتایا۔
“لیکن کیوں؟”۔ اس نے مزید پوچھا۔
“دیکھیں اسلام میں یہ سب ٹھیک نہیں ہے شادی سے پہلے ہم منگیتر سے بھی یوں بات نہیں کر سکتے تو اس لیے میں نے کہا ہے۔ امید ہے آپ میری بات کو سمجھیں گے”۔ اور یہ آخری میسج تھا جو خدیجہ کی جانب سے آصف کو موصول ہوا تھا۔
“ٹھیک ہے جیسا تم کہو میں تمہاری ہر بات کو سمجھتا ہوں”۔ میسج پڑھتے ہی ایک سکون سے بھری مسکراہٹ نے خدیجہ کے لبوں کو گھیر لیا۔ اور اس کے بعد اس نے کتابیں کھول لیں کیونکہ اس کا پرسوں پہلا امتحان تھا۔
______________
شام کو کبیر گھر واپس آ گیا تھا۔ اور اس وقت وہ لاؤنج میں تھا۔
“کہاں گۓ تھے تم؟”۔ حنہ بیگم نے اس کے آگے کافی رکھتے ہوئے پوچھا۔
“یونہی پارک میں چلا گیا تھا”۔ اس نے جھوٹ بولا۔
“تم کل اپنے ابو کے ساتھ چلے جانا بہت دن ہو گئے تم نہیں گۓ”۔ انہوں نے حکم دیا اور کچن میں چلی گئیں۔ جبکہ کبیر فون پر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا۔
“وعلیکم السلام”۔ دوسری طرف سے جواب سن کر اس نے کہا۔
“کبیر تم؟”۔ دوسری طرف سے مائرہ چونکی۔
“ہاں میں، اور مجھے تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے”۔ وہ وقت ضائع کیے بغیر بولا۔
“تمہارے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا؟”۔ اس نے تحیر سے پوچھا۔
“بس مل گیا، کیا تم ساڑھے سات بجے مجھے کافی شاپ پر مل سکتی ہو؟”۔ اس نے عجلت میں پوچھا۔
“ہمم ٹھیک ہے میں آتی ہوں”۔ بہت سوچنے کے بعد وہ بولی۔
“اوکے!! میں تمہیں یہاں سے پک نہیں کر سکتا اس لیے جلدی آؤ”۔ بس اتنا بول کر اس نے کال بند کر دی۔ اپنی کافی کا کپ اٹھا کر وہ کچن میں آ گیا۔
“امی یہ آپ پی لیں میں اپنے ایک دوست سے ضروری مل کر آیا”۔ اس نے کافی پکڑاتے ہوئے کہا۔
“اف ایک تو دوست تمہارے۔۔۔۔۔۔” ان کی بات ادھوری ہی رہ گئی کیونکہ وہ کچن سے جا چکا تھا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“ہمم بولو کبیر”۔ وہ اس کے مقابل کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے بولی۔
“کافی تمہاری”۔ وہ اسکی طرف کافی کا مگ بڑھاتے ہوئے بولا۔
“سوری مجھے دیر ہو گئی”۔ وہ معذرت کرتے ہوئے بولی۔
“کوئی بات نہیں”۔ وہ پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے بولا۔
“کیسے ہو تم؟”۔ اس نے گرم کافی اپنے اندر انڈیلتے ہوۓ پوچھا۔
“ٹھیک، تم؟”۔ اس نے سر کو جنبش دیتے ہوئے پوچھا۔
“میں بھی، کس کام سے یوں بلایا مجھے؟”۔ اس نے پوچھا۔
“خدیجہ کے بارے میں مجھے تم سے بات کرنی ہے”۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملاتے ہوئے بتایا۔
“کیا بات کرنی ہے؟”۔ اس نے جیسے اکتا کر پوچھا۔
“خدیجہ کی منگنی تھی کل۔ رائٹ؟”۔ اس نے پوچھا تھا یا وہ بتا رہا تھا مائرہ فیصلہ نا کر پائی۔
“مطلب؟”۔ وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی انجان بن گئی۔
“میں اس وقت سیریس ہوں مائرہ سو پلیز سیدھا سیدھا جواب دو اور میں جانتا ہوں کل اس کی منگنی تھی اور پچیس مئی کو اس کی شادی بھی ہے”۔ وہ آگے کو جھک کر بولا۔
“ہاں تھی تو میں کیا مدد کر سکتی ہوں تمہاری؟”۔ اس نے بھی اسی کے لہجے میں پوچھا۔
“میں چاہتا ہوں تم میری مدد کرو اس کی شادی نہ ہونے میں”۔ بول کر وہ کافی پینے لگا۔
“تم پاگل ہو کبیر”۔ اسے ایک دم دھچکا سا لگا۔
“بلکل، میں پاگل ہی تو ہوں خدیجہ کے لیے”۔ اس نے دیوانوں جیسے انداز میں کہا۔
“جانتے ہو میری مماں کہتی تھیں جب عورت ہی وفا نہ کرنا چاہے تو مرد کو زبردستی نہیں کرنی چاہیے۔ وہ بتاتی تھیں کہ ایک عورت کی شادی ایسے مرد سے ہو گئی جس سے وہ محبت نہیں کرتی تھی۔ اس مرد کے پاس بہت دولت تھی، شہرت تھی۔ اس نے عورت کو ہر چیز دی۔ لیکن ایک دن اس کے شوہر نے اس سے پوچھا اپنی کوئی خواہش بتاؤ؟ تو وہ کہنے لگی کاش وہ مجھے مل جائے۔ اور تمہیں پتہ ہے جس مرد کی آرزو اس نے کی تھی وہ ایک غریب آدمی تھا۔ اور نکاح کے بعد محبت تب ہی پیدا ہوتی ہے جب دونوں چاہتے ہوں تو۔ مگر تم خدیجہ کے ساتھ زبردستی کر رہے ہو”۔ اس نے تقریر ہی کر ڈالی۔
جاری ہے
