Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode05

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode05

اسنے اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنکھ سے آنسو بہنے سے روکا اور لائٹ بجھا کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
سورج آسمان پر پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ شام کے پانچ بج رہے تھے۔ خدیجہ پارلر گئی تھی۔ چھے بجے سب نے ہال میں پہنچنا تھا۔ مائرہ اس وقت اپنے گھر میں ہی تیار ہو رہی تھی۔ اسنے جامنی رنگ کی قمیض اور شرارا پہن رکھا تھا اور اسکے لمبے بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ آئینے کے آگے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔
“میں تو ہو گئی ہوں تیار تو نے کب ہونا ہے تیار؟”۔ مائرہ کی اتنی تیاری دیکھ کر وہ بولیں۔
“میری بیسٹ فرینڈ کی شادی ہے دادی جی اس لیے میں بہت پیاری دکھنا چاہتی ہوں”۔ اسنے لپ اسٹک لگاتے ہوۓ شرارت سے کہا۔
“اس کی تو ہو گئی تیری کب ہو گی مائرہ”۔ انہیں الگ ہی فکر لاحق ہوئی۔
“بس کچھ دیر انتظار کر لیں پھر اس بارے میں سوچیں گے ٹھیک ہے”۔ اسنے وقتی طور پر انہیں تسلی دی اور وہ واقعی خوش ہو گئیں۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کبیر بیٹا جلدی چلو ناں”۔ حنہ بیگم نے اسکی تیاری کو دیکھ کر کہا۔ حیدر صاحب کام پر گۓ ہوۓ تھے۔
“ہو گیا ہوں تیار”۔ گھڑی کی جانب نظر دوڑاتے ہوۓ اسنے کہا۔ گھڑی پونے چھے بجنے کی اطلاع دے رہی تھی۔
“ماشاءاللہ نظر نہ لگے میرے بچے کو”۔ انہوں نے اسے دیکھ کر کہا جس پر وہ مسکرانے لگا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
قریب پندرہ منٹ میں وہ ہال میں پہنچ چکے تھے۔ ہال بہت خوبصورت تھا۔ مردوں اور عورتوں کی گیدرنگ الگ الگ تھی۔ ہال میں جانے کے بعد حنہ بیگم ملنے ملانے میں مصروف ہو گئیں۔ جبکہ کبیر ایک سائیڈ پر کھڑا ہو گیا۔ مائرہ کی دادی بھی الگ ہی عورتوں سے باتیں کرنے میں مگن تھیں۔ اسی دوران مائرہ کی نظر کبیر پر گئی جو الگ سے کھڑا تھا۔ اسے دیکھتے ہی وہ صوفے سے اٹھ کر اس کے نزدیک آئی۔
“کبیر”۔ اسنے دھیرے سے اسے پکارا۔
“بات کرنی ہے مجھے تم سے”۔ اسے دیکھتے ہی اسنے اسکا ہاتھ تھاما اور اسے الگ جگہ پر لے آیا جہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ اور آتے ہی اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ کبیر کے لمس سے مائرہ کو کچھ عجیب سا احساس ہوا تھا۔
“کیا بات کرنی ہے؟”۔ اسنے پوچھا۔
“خدیجہ کہاں ہے؟”۔ اسنے بےصبری سے پوچھا۔
“بس آ رہی ہے ابھی بات ہوئی ہے میری اس سے”۔ اسنے بتایا۔
“ہمممممم!! اب تم جاؤ”۔ اسنے کہا۔
“تم سے بات نہیں کر رہی وہ؟”۔ اسنے پوچھا۔
“نہیں، اسنے مجھے بلوک کیا ہوا ہے”۔ اسنے ایک جھوٹی مسکراہٹ کا سہارا لے کر بتایا جس پر مائرہ نے سر جھٹکا اور واپس چلی گئی۔
کچھ ہی دیر میں خدیجہ بھی آ گئی تھی اس کا سرخ لہنگا اس پر بہت اچھا لگ رہا تھا۔ میک اپ اور اسکے ہیئر اسٹائل نے اسے اور پرکشش بنایا تھا۔ کبیر نے جیسے ہی خدیجہ کو دیکھا اسکا دل بدلنے لگا تھا۔ کل ہی اسنے فیصلہ کیا تھا کہ وہ خدیجہ کو بھول جاۓ گا مگر اب اسکا دل ہی اسکے ساتھ دغا کر گیا تھا۔
کچھ دیر وہ یونہی اسے دیکھتا رہا تھا۔ مولوی صاحب بھی اب آ چکے تھے بس اب دونوں کا نکاح پڑھانا تھا۔ خدیجہ نے گھونگھٹ بھی نکال لیا تھا۔
کبیر کا دل کیا کہ وہ ابھی جا کر خدیجہ کو روک لے مگر وہ ںےبس ہو چکا تھا۔ مائرہ بھی خدیجہ کے ساتھ کھڑی تھی۔
“آصف ملک ولد ریحان ملک، خدیجہ ولید بنتِ ولید اکبر کو دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت آپ کے نکاح میں دیا جاتا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟”۔ جیسے ہی مولوی نے آصف سے پوچھا کبیر کی حالت خراب ہونے لگی۔
“قبول ہے”۔ آصف نے خوشی سے کہا۔
دوسری بار مولوی نے دہرایا۔
“قبول ہے”۔ آصف نے دوبارہ کہا۔ تیسری بار بھی انہوں نے یہی دہرایا اور آصف کے لبوں سے “قبول ہے” نکلا۔
اسکے بعد مولوی خدیجہ کی جانب متوجہ ہوئے۔
“خدیجہ ولید بنتِ ولید اکبر ، آپ کو دس لاکھ روپے حق مہر سکہ رائج الوقت آصف ملک ولد ریحان ملک کے نکاح میں دیا جاتا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟”۔ انہوں نے جسے ہی پوچھا خدیجہ نے مدھم آواز میں “قبول ہے”۔ کہا دوسری اور تیسری بار جیسے ہی خدیجہ نے “قبول ہے” کہا کبیر پھر وہاں رکا نہیں تھا وہ تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔ مائرہ نے اسے جاتا دیکھ لیا تھا اس لیے وہ بھی اس کے پیچھے بھاگی۔
_________________
“کبیر”۔ جیسے ہی وہ ایک کمرے میں پہنچی اس نے اسے پکارا۔
“کیا؟”۔ اسنے آنسو پونچتے ہوئے کہا۔
“کیوں رو رہے ہو؟”۔ اسنے فکرمندی سے اس کے نزدیک آتے ہوۓ پوچھا۔
“کیا کروں بہت محبت ہے اس سے، کسی اور کا ہوتا ہوا نہیں دیکھا گیا بس”۔ اس نے اب مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ایک بات کہوں کبیر؟ برا تو نہیں مانو گے؟”۔ اسنے دھڑکتے دل سے پوچھا وہ آج اسے اپنا حالِ دل بتانا چاہتی تھی۔
“کہو”۔ اسنے اجازت دی۔
“آئی۔۔۔۔آئی۔۔۔۔لو یو کبیر”۔ بہت ہمت جمع کر کے اسنے کہہ ہی دیا۔
“کیا!”۔ کبیر نے اسکے نزدیک آتے ہوۓ دوبارہ ہوچھا اسے اپنی سماعتوں میں یقین نہیں آیا تھا۔
“میں تم سے پیار کرنے لگی ہوں کبیر آئی ریئلی لو یو، میں تمہیں ایسے نہیں دیکھ سکتی پلیز مت روؤ”۔ اسنے اپنی آنکھیں میچتے ہوۓ کہا۔
“تم کیا کہہ رہی ہو؟ تم جانتی ہو میں خدیجہ سے پیار کرتا ہوں؟”۔ اسنے اسے سنجیدگی سے باور کروایا۔
مائرہ سے کچھ بولا نہیں گیا اور وہ بغیر کچھ کہے تیز قدموں سے چلتی ہوئی وہاں آ گئی جہاں اسکی دادی موجود تھی۔ اسکو اپنا جسم پسینے میں بھیگتا محسوس ہوا۔
رات کے نو بجے رخصتی ہو گئی تھی اور اب گیارہ بج رہے تھے۔ خدیجہ اپنے کمرے میں موجود تھی اور آصف اسکے سامنے ہی بیٹھا تھا۔ یہ خوبصورت بڑا سا کمرہ پھولوں کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔
“خدیجہ کیسی ہو؟”۔ آصف نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ پوچھا۔
“ٹھیک ہوں میں”۔ اسنے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“مجھے بہت اچھی لگتی ہو تم”۔ وہ اسکی جانب دیکھتے ہوۓ بولا۔
“مجھے بھی بہت اچھے لگتے ہیں آپ”۔ اسنے پلکیں جھکاتے ہوۓ کہا۔
“مجھے تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی ہیں”۔ اسنے اسکے ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتے ہوۓ کہا جبکہ خدیجہ مسکرا کر اسے دیکھنے لگی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کیا ہوا ہے تمہارے چہرہ کیوں اترا ہوا ہے؟”۔ ولید صاحب نے پوچھا۔
“بس مجھے خدیجہ کی بہت یاد آ رہی ہے”۔ انہوں نے اداس لہجے میں کہا۔
“ہاں مجھے بھی یاد آ رہی ہے۔ اللہ اسکی زندگی خوشیوں سے بھر دے”۔ انہوں نے دل سے دعا کی جس پر پروین بی بی نے آمین کہا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“دادی آپ کو کبیر کیسا لگتا ہے؟”۔ مائرہ نے ان سے پوچھا وہ دونوں ابھی تک جاگ رہی تھیں۔ آج وہ دونوں ٹی-وی میں کوئی فلم دیکھ رہی تھیں اور جیسے ہی کمرشل آیا مائرہ نے ٹی-وی کا وولیم میوٹ کر کے بات شروع کی۔
“بہت اچھا لگتا ہے پر تو کیوں ایسا پوچھ رہی ہے؟”۔ انہوں نے اسکی جانب دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“میں اس کو پسند کرتی ہوں دادی اور اس سے شادی کرنا چاہتی ہوں”۔ اس نے چہرہ جھکا کر بتایا اور اسکی دادی کو تو جتنی خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر تھی۔
“کیا!!!! سچ ؟ تو نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”۔ انہوں نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات لے کر پوچھا۔
“آپ کو خوشی ہوئی سن کر؟”۔ اسنے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
“ہاں میں بتا نہیں سکتی کہ مجھے کتنی خوشی ہوئی ہے”۔ انہوں نے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا اور مائرہ کو بھی ان پر ڈھیروں پیار آیا۔
“اچھا تو کبیر بھی تجھے پسند کرتا ہے”۔ انہوں نے پوچھا اور پھر وہ سوچ میں پڑ گئی۔
“جی”۔ اسنے جھوٹ بولتے ہوۓ کہا اب وہ انہیں کیا بتاتی؟
“اچھا میں کل ہی جاؤں گی حنہ سے بات کرنے”۔ انہوں نے عجلت میں کہا۔
“نہیں نہیں پہلے میں کبیر کو بتا دوں اس کے بعد ہی”۔ اسنے کہا۔
“ٹھیک ہے، خوش رہو”۔ انہوں نے اسے دل سے دعا دی۔ اور فوری ہی مائرہ نے وولیم اونچا کیا کیونکہ فلم لگ چکی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کبیر اپنے کمرے میں بیٹھا تھا اور اسکا سر بری طرح درد کر رہا تھا۔
“میں کیا کروں مجھے سکون کیوں نہیں مل رہا”۔ اپنی سرخ آنکھوں سے اس نے اپنے بالوں کو کھیںنچا۔ جب سے وہ گھر آیا تھا اسے سکون نہیں مل رہا تھا۔
“خدیجہ تم نے میرے ساتھ اچھا نہیں کیا”۔ اسکی حالت بہت بری ہو رہی تھی۔
مائرہ کے کئی میسجس آ رہے تھے مگر اسنے جواب نہیں دیا جبکہ مائرہ پریشان ہو رہی تھی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اگلے دن،
صبح صبح ہی حیدر صاحب راولپنڈی اپنے بھائی کی طبیعت معلوم کرنے روانہ ہو گئے تھے۔ اب دوپہر کے بارہ بج چکے تھے کبیر ابھی تک کمرے سے باہر نہیں آیا تھا۔ حنہ بیگم نے پہلے اسے ڈسٹرب نہیں کیا تھا مگر اب انہیں اسکی فکر ہونے لگی تھی۔
حنہ بیگم کبیر کو جگانے کے لیے اس کے کمرے کی طرف گئیں جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا ان کے چودہ طبق روشن ہو گۓ۔ اور ایک چیخ انکے منہ سے نکلی۔ کبیر کے پاس ایک چاقو پڑا تھا اور اسکے بائیں بازو کی وین سے بہت خون بہہ رہا تھا۔ فرش پر اسکا بےہوش وجود پڑا تھا۔
___________________
گھڑی میں رات کے تین بج رہے تھے۔ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔
“میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا”۔۔۔
“بہت خود غرض ہو تم”۔۔۔
“خود غرض خدیجہ”۔۔۔
“پلیز میں مر جاؤں گا تمہارے بغیر”۔۔۔
“بہت خود غرض ہو تم”۔۔۔ کبیر کی آواز خواب میں بھی اسے سنائی دینے لگیں۔
“نہیں میں خود غرض نہیں ہوں، میں خود غرض نہیں ہوں، نہیں ہوں”۔ نیند میں کہتے ہی وہ جلدی سے اٹھ بیٹھی اسکا سانس بہت تیز چل رہا تھا۔
“کیا ہوا تم ٹھیک ہو؟”۔ آصف نے بھی اٹھتے ہوۓ فکرمندی سے پوچھا۔
“میں خود غرض نہیں ہوں آصف میرا یقین کرو”۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔
“کس نے کہہ دیا تم سے کہ تم خود غرض ہو؟”۔ اس نے اسکے آنسو ہاتھ سے پونچتے ہوۓ پوچھا۔
“میں میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتی ہوں”۔ اسنے سر جھکا کر کہا۔
“بتاؤ میں سن رہا ہوں”۔ اسنے اجازت دی۔
اور کچھ ہی دیر میں اس نے کبیر کی ساری کہانی سنا ڈالی۔
“آپ ہی بتائیں کیا میں خود غرض ہوں؟”۔ اسنے پوچھا۔
“ہاں خدیجہ سچ پوچھو تو تم نے واقعی خود غرضی دکھائی ہے”۔ آصف نے سوچ کر کہا۔
“ہممم!!”۔ خدیجہ کو اس بات کی توقع نہیں تھی۔
“ہمم ٹھیک ہے تمہیں بعد میں سمجھ آ گیا کہ دین میں یہ سب نہیں ہے تو تمہیں پھر کبیر سے شادی کر لینی چاہیے تھی”۔ اسنے سمجھایا۔
“پر جب اسنے مجھے بتایا تب آپ کا رشتہ آ چکا تھا”۔ اسنے آنسو پونچتے ہوئے بتایا۔
“تم انکار کر دیتی۔ ویسے بھی تم مجھ سے کبھی ملی تو نہیں تھی نام ہی سنا تھا میرا اور تم انکار کر سکتی تھی ناں”۔
“اور امی مان جاتیں؟ کیا وہ کبیر کے کام کو ایشو نا بناتیں؟ میں نے یونہی ان سے پوچھا بھی تھا کہ اگر کبیر کی ماں میرا رشتہ مانگ لیتیں تو آپ کیا کرتیں تو انہوں نے مجھے کہا کہ وہ نا مانتیں”۔ اسنے بتایا۔
“خدیجہ تم ایک بار بات تو کرتی اور آنٹی نے ایسا اس لیے کہا ہو گا کیونکہ میری امی رشتہ مانگ چکی تھیں۔ اگر پھر بھی تم مجھ سے شادی کا انکار کر دیتی تو یقین جانو وہ مان جاتیں۔ تمہیں پتہ ہے کچھ بچوں کی سوچ ایسی ہی ہوتی ہے ماں باپ سے کھل کر بات نہیں کرتے اور خود ہی دل ہی دل میں عجیب باتیں سوچتے ہیں۔ آنٹی نے تمہیں اس لیے کہا تھا کیونکہ ایسا ہوا ہی نہیں تھا اور جب کوئی چیز نا ہو تو اسکا ری ایکشن اور ایک ایسی چیز جو ہو جائے اس کا ری ایکشن ایک دوسرے سے الگ ہوتا ہے کچھ سمجھ آیا؟”۔ اسنے اسکے ہاتھوں کو دباتے ہوئے ہوچھا۔ خدیجہ نے بس اثبات میں سر ہلانے پر ہی اکتفا کیا۔
“ٹھیک ہے اب تم بھی سو جاؤ اور اس بارے میں مت سوچو”۔ آصف نے اسکے گال نرمی سے کھینچتے ہوۓ کہا۔ وہ بنا کچھ کہے لیٹ گئی اور اسکے آنسو ابھی تھمے نہیں تھے۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اگلے دن،
حنہ بیگم کو کچھ یاد آیا تو وہ کبیر کے کمرے کی طرف گئیں جیسے ہی انہوں نے دروازہ کھولا ان کے چودہ طبق روشن ہو گۓ۔ اور ایک چیخ انکے منہ سے نکلی۔ کبیر کے پاس ایک چاقو پڑا تھا اور اسکے بائیں بازو کی وین سے بہت خون بہہ رہا تھا۔ فرش پر اسکا بےہوش وجود پڑا تھا۔
“کبیر اٹھو یہ کیا کر دیا تم نے؟”۔ وہ بھاگ کر زمین پر بیٹھ گئیں اور اسے جھنجھوڑنے لگیں۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس کو بلائیں۔ حیدر صاحب بھی گھر پر نہیں تھے۔ انہوں نے اپنا دوپٹہ اس کے بازو پر باندھ دیا۔ خون ابھی بھی بہہ رہا تھا۔
دوسری طرف مائرہ بھی اسے بار بار میسج کر رہی تھی مگر ابھی بھی کوئی جواب نہیں آیا تھا۔ وہ بے چین سی چھت پر ٹہل رہی تھی۔
“کہیں کبیر کل والی بات پر تو ناراض نہیں ہو گیا”۔ اسنے خوف سے سوچا کہ تب ہی اسکا فون بجا۔
“شکر ہے اللہ کبیر کا فون خود ہی آ گیا”۔ اسنے فون پر کبیر کا نام دیکھ کر شکر ادا کیا اور فون کان سے لگایا۔
“ہیلو مائرہ، مائرہ تم جلدی آ جاؤ گھر”۔ حنہ بیگم نے روتے ہوۓ کہا۔
“کیا ہوا آنٹی سب، سب ٹھیک ہے؟”۔ اسکا دل ڈوب کر ابھرا۔
“نہیں، کبیر ٹھیک نہیں ہے، تم جلدی سے آ جاؤ”۔ وہ ابھی بھی رو رہی تھیں۔
“میں، میں آتی ہوں”۔ مضطرب آواز میں اسنے کہا اور کال بند کر کے نیچے آ گئی۔ سر پر دوپٹہ لیا اور دادی کے کمرے میں گئی۔
“دادی وہ میری ایک دوست کی طبیعت خراب ہو گئی ہے میں آتی ہو ٹھیک ہے”۔ اس نے جھوٹ بولا تا کہ وہ پریشان نا ہو جائیں۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *