Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal NovelR50772
Last updated: 10 July 2026
Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal
"خدیجہ میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ پلیز مجھ پر ترس کھا کر ہی میرے سے شادی کر لو"۔ وہ ہاتھ جوڑ کر اس کی منت کر رہا تھا۔
"میں تمہیں ایک بات بتانا چاہتی ہوں"۔ جیسے ہی اس نے کہا کبیر نے سر کو جنبش دی اور ہاتھ نیچے گرا لیے۔
"میں نے تمہیں ہمیشہ اپنا دوست مانا تھا اور میں تمہارے ساتھ زیادہ اٹیچ بھی تھی۔ مگر پھر مجھے سمجھ آنے لگا کہ کسی لڑکے سے اس طرح دوستی رکھنا قطعاً درست نہیں ہے اسلام کی نظر میں۔ جیسے جیسے میں سمجھتی گئی میں نے پردہ کرنا شروع کر دیا۔ سارے برے کاموں سے دور ہو گئی۔ تم بھی نا محرم ہو میرے لیے یہ بات بھی سمجھ لی میں نے"۔ اس نے اصل وجہ بتائی۔
"اور ہاں امی ابو کی پسند آصف ہے۔ اگر میں کہہ بھی دوں کہ کبیر سے میں شادی کرنا چاہتی ہوں یا کبیر مجھ سے پیار کرتا ہے تو تمہیں پتہ ہے ان کا تم پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا۔ میں نہیں چاہتی وہ مجھے بھی غلط سمجھیں"۔
یہ سب سنتے ہی کبیر نے دونوں ہاتھوں سے تالی بجانی شروع کر دی۔ خدیجہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تو وہ رکا۔
"واہ، واہ، واہ کیا کہانی سنائی ہے آپ نے خدیجہ صاحبہ۔ میں، ان جھوٹی کہانیوں سے میں پھنس نہیں سکتا۔ خودغرض خدیجہ۔ کیا دیکھ لیا تم نے اس کے پیسوں میں ، بولو جواب دو"۔ اپنے آخری الفاظ اس نے غصے میں دہراۓ ہی تھے کہ بےساختہ خدیجہ کا ہاتھ اٹھا اور کبیر کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔ "اس سے بہتر جواب نہیں تھا میرے پاس"۔
کبیر کا ہاتھ اپنے گال پر تھا۔ بغیر کچھ بولے وہ تیکھی نگاہ سے خدیجہ کو گھورنے لگا۔ "میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گا"۔ اتنا کہتے ہی وہ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی خدیجہ نے زور سے دروازہ بند کیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
"خدیجہ دیکھ میں اور آصف کی ماں کتنے پیارے سوٹ لاۓ ہیں تیرے لیے"۔ وہ انبساط سے اسے رنگ برنگے سوٹ دکھاتے ہوۓ بولیں۔
"ہاں اماں"۔ خدیجہ نے ان کی خوشی دیکھ کر مسکرا کر کہا۔
"اماں اگر کبیر کی ماں میرا رشتہ مانگ لیتیں آپ سے تو؟"۔ عجلت سے اس نے پوچھا۔
"خدیجہ ماں باپ چاہتے ہیں ان کی بیٹی خوش رہے اور کبیر کی حالت تم جانتی ہو"۔
"کبیر ویسے اچھا لڑکا ہے ناں اسے مجھ سے پیار نہیں ہوا ورنہ تو لڑکے ایسے نہیں ہوتے"۔ اس نے نگاہیں چراتے ہوئے کہا۔
"ہاں اگر اسے ہو جاتا تو میں اس کی شکل بھی نا دیکھتی اور میرا بھروسہ بھی اس پر سے اٹھ جاتا"۔ انہوں نے بیان کیا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ایک ماہ بعد،
کبیر کو اس کی ماں نے خدیجہ کی شادی سے اب تک بے خبر رکھا تھا۔
"بات سنو بیٹا"۔ انہوں نے بڑے پیار سے اسے بلایا۔
"جی"۔ اس نے تردید کی۔
"بیٹا تمہارے انکل کی طبیعت خراب ہے۔ تم اور تمہارے ابو راولپنڈی ہی چلے جاؤ ان کی خیریت معلوم کرنے"۔ وہ بڑی افسردگی سے بتا رہی تھیں۔
"ہمممم!! جی ٹھیک ہے"۔ اضطراب سے اس نے کہا۔ اس کا دل نہیں جانے کے لیے قطعاً راضی نہیں تھا مگر وہ ماں کا حکم ٹال بھی نہیں سکتا تھا۔
___________________
چار دن بعد،
کبیر کے ابو راولپنڈی سے واپس آ گئے تھے مگر اسے مجبوراً وہیں رکنا پڑا تھا۔ دوسری جانب آج خدیجہ کی منگنی بھی ہو چکی تھی۔ پنک قمیض اور گولڈن شرارے میں ملبوس وہ آئینے کے آگے کھڑی جیولری اتار رہی تھی کہ کسی نے اسے پکارا۔
"ہاں مائرہ"۔ وہ اس کے قریب آتے ہوۓ بولی۔
"جب اگلے مہینے شادی ہے تو آج منگنی کیوں رکھی انہوں نے؟"۔ مائرہ بڑے خوشگوار موڈ میں پوچھ رہی تھی۔
"میں بھی یہی سوچ رہی تھی مگر جیسے ان کی مرضی"۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ پھیلا کر بولی۔
"جب تم پارلر سے تیار ہو کر آئی تھی ناں تو آصف تمہیں ہی دیکھ رہے تھے"۔ وہ اسے چھیڑتے ہوئے بولی۔
"بہت تیز ہو"۔ اس نے اس کے ہاتھ پر تھپڑ رسید کرتے ہوئے کہا۔
"کبیر نہیں آیا منگنی پر"۔ مائرہ نے بتایا۔
"جانتی ہوں اس کی امی سے بات ہوئی تھی میری"۔ اس نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بتایا۔
"کیا بات ہوئی تمہاری؟"۔ مائرہ بھی اس کے پہلو میں بیٹھ گئی۔
"انہوں نے کہا تھا کہ وہ جانتی ہیں کہ کبیر مجھ سے پیار کرتا ہے اس لیے انہوں نے کبیر کو میری منگنی اور شادی کی تاریخ کے بارے میں نہیں بتایا اور اس لیے انہوں نے کبیر کو اس کے کسی انکل کے گھر رہنے بھیج دیا ہے"۔ اس نے ساری بات بتائی۔
"ہمم"۔ اس کی بات سننے کے بعد وہ صرف سر ہلا کر رہ گئی۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
کبیر کب سے خدیجہ کو میسج کر رہا تھا مگر خدیجہ نے اس کا نمبر بلیک لسٹ میں ایڈ کر رکھا تھا تو اس لیے اس کا کوئی میسج خدیجہ کو موصول نہیں ہو رہا تھا۔
"خدیجہ بات سنو بیٹا"۔ ولید صاحب نے اسے پکارا تو وہ عجلت میں بھاگی۔
"جی ابا"۔ سر پر دوپٹہ اوڑھ کر اس نے کہا۔
"بیٹھو"۔ انہوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ان کے کہتے ہی وہ جلدی سے بیٹھ گئی۔
"تم خوش ہو اس شادی سے؟"۔ انہوں نے پوچھا۔
"میں کبھی آپ کے کسی فیصلے سے ناخوش ہوئی ہوں؟"۔
"نہیں بیٹی"۔ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔
"بیٹا کبیر سے تمہارا جھگڑا ہوا ہے؟ وہ منگنی پر بھی نہیں آیا، میں نے حنہ سے بھی نہیں پوچھا"۔ پروین بی بی نے پوچھا۔
"نہیں اب میں کبیر سے بات نہیں کرتی اور آنٹی بتا رہی تھیں کہ وہ اپنے انکل کے گھر رہنے گیا ہے"۔ اس نے بتایا۔
"اوہ!! اچھا چلو ٹھیک ہے اب تمہاری شادی ہے تو اس سے بات کرنا مناسب نہیں"۔ ولید صاحب بولے جس پر خدیجہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
"اب سو جاؤ بیٹا"۔ ان کے کہتے ہی وہ اٹھ کر کمرے میں آ گئی۔
"کیسی ہو خدیجہ؟"۔ اس نے میسج جیسے ہی پڑھا ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
"میں ٹھیک ہوں اور آپ؟"۔ اس نے فوری جواب دیا اور اپنی انگلی میں چمکتی انگوٹھی کو ایک بار دیکھا۔
"میں بھی ٹھیک ہوں جاناں"۔ جیسے ہی اس نے جواب پڑھا اس کے دل کی دھڑکنیں بے قابو ہو گئیں۔ بات کرتے کرتے وہ کب سو گئ اسے اندازہ ہی نا ہوا۔
