Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode01

Main Khudgharz Tehri by Sumayya Mughal Episode01

گرمی اپنے عروج پر تھی۔ یہاں تک کے سورج کی تپش سے زمین بھی آگ برسنے لگی تھی۔ بےحد گرم ہوا ہر سو چل رہی تھی۔ گویا یہ ہوا سورج سے ہو کر زمین تک پہنچ رہی ہو۔ خدیجہ اس قدر گرمی میں کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ خود کو برقعے اور نقاب سے ڈھانپے ہوئے تھی۔ چہرے کا کوئی اور حصہ سواۓ آنکھوں کے نمایاں نہ تھا۔ آنکھوں پر عینک لگی تھی سو کچھ ہی حصہ دکھ رہا تھا۔ اس نے ایک نظر رسٹ واچ پر دوڑائی۔
“بس کے آنے میں ابھی دس منٹ ہیں۔ لگتا ہے میں جلدی نکل آئی ہوں”۔ جھنجھلا کر سوچتے ہوئے وہ پاس پڑے بینچ پر بیٹھ گئی۔ تب ہی اس کے سامنے ایک بائیک آ کر رکی۔
“خدیجہ تمہاری بس ابھی تک نہیں آئی؟ چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دیتا ہوں”۔ بیٹھے بیٹھے ہی کبیر اس سے مخاطب ہوا۔
“نہیں، اٹس اوکے!! میری بس آنے والی ہے”۔ وہ اس سے نظریں ملاۓ بغیر بولی۔
“خدیجہ تمہیں کیا ہوتا جا رہا ہے؟ تم پہلے تو ایسی نہیں تھی۔ تم تو میرے ساتھ بائیک پر بھی گھر چلی جاتی تھی۔ اب ایسا۔۔۔۔” وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ خدیجہ نے اس کی بات کاٹی۔
“پہلے کی بات اور تھی اب کی بات اور ہے”۔
“کیا مطلب؟ کیا میں تمہیں اب پسند نہیں ہوں؟”۔ وہ تعجب سے پوچھنے لگا۔
“تم یہ کیا بول رہے ہو کبیر؟”۔ وہ ناسمجھی میں پوچھنے لگی۔
“ٹھیک ہے خدیجہ، بہت خودغرض ہو تم”۔ دل برا کرتے ہوئے اس نے جواب دیا۔ اور بائیک سٹارٹ کر کے آگے بڑھ گیا۔
“بہت خودغرض ہوں میں”۔ اس نے کبیر کے الفاظ اپنے لبوں سے دہراۓ۔ “نا جانے کیا بول کر گیا ہے”۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ وہ روز ہی اسے گھر چھوڑنے کا کہتا مگر وہ روز انکار کر دیتی۔ اس کی یہ بات کبیر کے دل پر لگتی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
دو دن بعد،
“خدیجہ تجھے لڑکا کیسا لگا؟”۔ پروین بی بی نے خدیجہ سے پوچھا۔ دو دن پہلے اس کا رشتہ پروین کی دور کی کزن نے مانگا تھا۔ اور کل ہی لڑکے کے گھر والے اسے دیکھ کر پسند بھی کر گۓ تھے۔
“امی لڑکا جیسا بھی ہو آپ نے پسند کیا ہے اور میں جانتی ہوں آپ میرے لیے بہتر سوچ سکتی ہیں”۔ وہ مسکرا کر بتانے لگی۔
اسی پل دروازے پر دستک ہوئی۔ پروین بی بی خدیجہ کے کمرے سے نکل کر دروازہ کھولنے لگیں۔
“ارے!! بیٹا تم”۔ وہ خوش دلی سے ملنے لگیں۔
“جی آنٹی مجھے خدیجہ سے ایک کام ہے۔ اسی سلسلے میں آیا تھا”۔ وہ کھڑا کھڑا بتانے لگا جس پر انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“آ جاؤ بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے”۔ انہوں نے مسکرا کر اسے اندر آنے کا راستہ دیا۔ کبیر ان کے محلے میں رہتا تھا۔ اس کے اور اس کی ماں کے سب سے اچھے تعلقات تھے سو وہ گھر آ جایا کرتا تھا۔
“آنٹی امی آپ کو بلا رہی تھیں”۔ رک کر اس نے بتایا۔
“میں سن آتی ہوں اس کی بات”۔ فوری کہہ کر انہوں نے دوپٹہ سر پر اوڑھا اور باہر نکل گئیں۔
______________
“خدیجہ”۔ تلخی سے کہتا ہوا وہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے اس کے کمرے میں جا پہنچا۔
“تم یہاں”۔ اسے دیکھتے ہی اس نے اپنا دوپٹہ سر پر اوڑھ لیا۔
“اوہ!! اب تم یہ سب بھی کرو گی؟”۔ تاسف اور بےیقینی سے اس نے پوچھا۔
“کیا کِیا ہے میں نے؟”۔ نا سمجھی سے وہ پوچھنے لگی۔
“پہلے تو تم نے مجھے دیکھ کر کبھی یوں سر پر دوپٹہ نہیں لیا”۔ اس نے افسردگی سے بتایا۔
“پہلے کی بات اور تھی کبیر”۔ اس نے بھی سنجیدگی سے الفاظ دہراۓ۔
“کیا بات اور تھی؟ ہاں؟ بولو۔ یہی بات اور تھی ناں کے پہلے آصف نہیں تھا اور اب آصف آ گیا ہے”۔ تلخی میں اس نے سوال کا جواب خود ہی دے دیا۔
“تم ہوش میں تو ہو؟”۔ ماتھے پر بل ڈال کر اس نے پوچھا۔
“اب تم مجھے یہ بھی کہو گی؟ کیا یہ سچ نہیں کہ آصف سے تمہارا رشتہ ہو گیا ہے؟ تم نے پہلے آصف کا کیوں نہیں بتایا؟”۔ اس نے شکایت کی۔
“کیا نہیں بتایا میں نے؟”۔ اسے کبیر کی ذہنی حالت پر شبہ ہوا تھا۔
“یہی کہ تم اس سے پیار کرتی ہو”۔ اس کا لہجہ سپاٹ تھا۔
“تم پاگل ہو؟ مجھے بھی دو دن پہلے آصف کا پتہ چلا ہے۔ میرا رشتہ امی کی مرضی سے ہوا ہے۔ میں کوئی پیار نہیں کرتی تھی اس سے”۔ وہ کافی غصے میں بولی تھی۔
“اوہ!! یعنی کے آنٹی نے تم پر اپنی مرضی مسلط کر دی ہے۔ تم انکار کر دو، تم کہنا کہ تم مجھے پسند کرتی ہو”۔ نا جانے وہ کیا بولتا چلا جا رہا تھا۔
“شٹ اپ!! جسٹ شٹ اپ اینڈ گیٹ لاسٹ کبیر”۔ وہ بےحد غصے میں دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ غصے میں اس کا چہرہ سرخ پڑ رہا تھا۔ اس نے خدیجہ کی آنکھوں کی تپش محسوس کر لی تھی۔ اسی لیے وہاں سے جانے میں ہی عافیت جانی۔ وہ سر پکڑ کر رہ گئی۔ کبیر بڑا پریشان گھر آیا تھا۔ آتے ہی وہ سو گیا تھا۔
“اور کتنا سونا ہے؟”۔ حنہ بیگم اس کے یوں لاؤنج میں صوفے پر سونے سے جل کر بولی تھیں۔
“اٹھ گیا ہوں”۔ سستی میں اٹھتے ہی اس نے نشے کی سی آواز میں کہا۔
“اچھا”۔ انہوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
“امی آپ کو پتہ ہے خدیجہ اب مجھ سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کرتی”۔ اس نے دکھ سے بتایا۔
“ہاں بیٹا اب اس کا رشتہ طے ہو چکا ہے اور شادی بھی ہو جاۓ گی۔ اس صورتحال میں لڑکیاں ایسے ہی کرتی ہیں”۔ انہوں نے بڑے پیار سے سمجھایا۔
“نہیں امی وہ بہت دیر سے اس طرح کر رہی ہے”۔ اس نے مزید کہا۔
“وہ بڑی ہو گئی ہے، وہ ایسے ہی کرے گی”۔ اب وہ سنجیدگی سے بولی تھیں۔
“کیا کرتا ہے آصف”۔ اس نے موضوع بدلا۔ فی الحال وہ ان کی بات سے متفق نہیں تھا۔
“پروین بتا رہی تھی آصف اپنا بزنس کرتا ہے۔ بہت امیر ہے ماشاءاللہ۔ بہت اچھا رشتہ ہے خدیجہ کے لیے”۔ وہ خوشی سے بتا رہی تھیں مگر اس کے چہرے سے ہوائیاں اڑ گئی تھیں۔
“اوہ!! تو اس لیے بدلے ہیں تیور خدیجہ صاحبہ کے”۔ اس نے دل میں غلط فہمی پالی۔ “بہت خودغرض ہو تم”۔
____________
رات کی تاریکی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ خدیجہ قرآن پڑھ کر بستر پر لیٹی تھی کہ کبیر کا میسج اسے موصول ہوا۔
“سنو”۔
“بولو”۔ خراب دل سے اس نے جواب دیا۔
کبیر دل اداس کر کے اپنے کمرے میں لیٹا تھا۔ خدیجہ اس کی بہت اچھی دوست تھی۔ سکول بھی وہ دونوں ساتھ پڑھتے تھے۔ ان کی دوستی کو آٹھ سال ہو چکے تھے۔ جبکہ کبیر اس کے لیے جو محسوس کرنے لگا تھا خدیجہ کبھی نہیں کرتی تھی۔ اور نا ہی اس کے دل میں دوستی کے سوا کوئی اور رشتہ کبیر کے لیے تھا۔
“کیا تم مجھ سے پیار کرتی ہو؟”۔ صاف صاف ہی اس نے پوچھا لیا تھا۔
“کیا مطلب؟”۔ اس نے بےحد غصے میں پوچھا۔ مگر کبیر اس کا غصہ محسوس نہیں کر سکتا تھا۔
“میں تم سے پیار کرنے لگا ہوں۔ کبیر نے صرف تم سے پیار کیا ہے۔ میں تمہیں دل سے چاہتا ہوں۔ تم بھول گئی ہم کتنے اچھے دوست تھے پر اب آصف کا پیسہ دیکھ کر اس کی طرف ہو گئی ہو۔ تم مجھے بھول گئی۔ میں جانتا ہوں میرے پاس اتنا پیسہ نہیں ہے مگر میرے پاس تمہارے لیے پیار آصف سے بھی زیادہ ہے مگر میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم پیسوں کے لیے میرے ساتھ ایسا کرو گی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا تم اتنی خود غرض نکلو گی۔ مگر میں اب بھی تم سے پیار کرتا ہوں۔ تم ایک بار میرے بارے میں ضرور سوچنا۔ میرا دل توڑ کر تم کبھی خوش نہیں رہ پاؤ گی”۔
جیسے ہی اس نے کبیر کا میسج پڑھا اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ اس نے فون پاور آف کر کے اپنے سے دور پھینک دیا۔
“لعنت ہو تم پر کبیر اور لعنت ہو مجھ پر بھی جو میں نے تم جیسی گھٹیا سوچ کے مالک لڑکے سے دوستی کی۔ تم اتنے گھٹیا نکلو گے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔ میں نے دل سے تمہیں اپنا دوست مانا تھا اور تم اپنے گندے دل میں میرے لیے یہ جذبات رکھے بیٹھے تھے”۔ اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا کر وہ بےآواز رونے لگی۔ مگر ضمیر سے تو کچھ اور ہی آواز آئی تھی۔
“خدیجہ غلطی تمہاری ہے کیا تم نے قرآن مجید میں نہیں پڑھا تھا کہ اللہ نے نامحرم سے پردے کا حکم دیا ہے؟ یہ بات اور ہے کہ تم عمل اب کرنے لگی ہو۔ کیا اللہ نے ہمیں نامحرم سے دوستی کرنے کی زرا سی بھی اجازت دی ہے؟”۔ ضمیر کی آواز نے اس کا دل دہلا کر رکھ دیا تھا۔ اسے اپنی غلطی دکھائی دینے لگی تھی۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
ایک سال پہلے،
سفید اور گلابی سوٹ میں ملبوس خدیجہ صرف اور صرف سر ڈھکے سڑک پر کھڑی بس کا انتظار کر رہی تھی کہ تب ہی اسے کبیر دکھائی دیا جو بائیک پر تھا۔ عموماً وہ وہاں سے گزر کر اپنے کام پر جایا کرتا تھا۔ اس نے صرف میٹرک ہی کیا تھا۔ اسکے والد ایک غریب آدمی تھے سو وہ ان کے ساتھ ان کی مدد کرتا تھا۔
“سنو”۔ ہاتھ کے اشارے سے اس نے کبیر کو بلایا۔ اس کی ایک ہی پکار پر وہ فوراً بائیک اس کے پاس لے آیا۔
“جی فرمائیے خدیجہ صاحبہ”۔ بائیک روک کر وہ بڑے پیار سے بولا۔
“اسلام۔۔۔۔” ہاتھ بڑھا کر وہ بول ہی رہی تھی کہ کبیر نے اس کی بات کاٹی۔
“وعلیکم السلام”۔ وہ ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔
“مجھے گھر چھوڑ دو ابھی بس نہیں آئی”۔ ہاتھ ملانے کے بعد وہ اس کے پیچھے بیٹھتے ہوئے بولی۔
“لیکن۔۔۔۔۔۔” کبیر کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ وہ بول پڑی۔
“پلیز، میں تمہارا کچھ نہیں سنوں گی”۔ وہ منہ بنا کر بولی۔
“ویسے تو میں ضروری کام سے جا رہا تھا مگر جیسا تم کہو”۔ اس نے بائیک سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
“کیسے ہو تم؟”۔ چاند رات کو اس نے کبیر کو میسج کر کے پوچھا۔
“ٹھیک ہوں۔ تم سناؤ؟” فوری جواب آیا۔
“میں ٹھیک ہوں۔ بات سنو اماں، ابا گھر نہیں ہیں وہ کسی کام سے گۓ ہیں مجھے بازار جانا ہے جلدی آؤ تم”۔ جلدی جلدی اس نے میسج کیا۔
“لیکن میں نہیں آ سکتا۔ مصروف ہوں”۔ اس نے اعتراض ظاہر کیا۔
“کوئی بہانہ نہیں چلے گا۔ جلدی آؤ ورنہ میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گی”۔ وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھی۔
_____________
“کیا ہوا اتنی رات کو فون کیوں کیا تم نے؟ سب ٹھیک ہے؟”۔ اس نے خمارآلود آواز میں پوچھا۔
اور نظر گھڑی کی جانب دوڑائی مگر اندھیرے کی وجہ سے کچھ سمجھ نا آیا۔ البتہ اس کا سائیڈ لیمپ مدھم روشنی کے ساتھ جل رہا تھا۔
“ہاں سب ٹھیک ہے۔ نیند نہیں آ رہی مجھے”۔ اس نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا۔
“اچھا آپ کو نیند نہیں آ رہی تو ہماری نیند کا ہی خیال کر لیں۔ اور وقت کیا ہو رہا ہے؟”۔ وہ ڈانٹ رہا تھا۔
“کیوں تم نے اپنے فون میں ٹائم نہیں دیکھا؟”۔ خدیجہ اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھی۔
“جی نہیں، مجھے بہت نیند، آ رہی ہے۔ بس تمہارا نام ہی، دیکھا کال پر، اب بتا دو کام کیا ہے؟”۔ وہ رک رک کر بول رہا تھا۔
“کوئی کام نہیں ہے۔ مجھے تم سے کہنا ہے کہ میرے سے باتیں کرو مجھے نیند نہیں آ رہی میں بہت اکیلا محسوس کر رہی ہوں”۔ اس نے پریشانی سے بتایا۔
ان باتوں کو سوچتے سوچتے وہ چونک کر کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ بارش شروع ہو چکی تھی۔ سست قدموں سے چلتی ہوئی وہ کھڑکی کے قریب آئی اور بےدردی سے پردا گرا دیا۔ اس کا دل کبیر کی جانب سے ٹوٹ گیا تھا۔
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
صبح بھی خاصی بارش ہو رہی تھی۔ صبح آٹھ بجے ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ اٹھتے ہی اس نے اپنا فون آن کیا۔ جیسے ہی فون نے سم کے سگنلز کو پکڑا کبیر کے میسج دھڑا دھڑ موصول ہونے لگے۔ جھنجھلا کر اس نے میسج پڑھے اور کبیر جو بلاک کر دیا۔ مگر اس کا دل مطمئن نہیں ہوا تھا۔ اس نے دوبارہ اسے انبلاک کیا۔
“میری بات سنو کبیر میں تم سے نفرت کرتی ہوں۔ اب مجھے کبھی زندگی میں اپنی شکل نا دکھانا تم۔ بلاک کر رہی ہوں تمہیں۔ آئی ہیٹ یو”۔ غصے میں کہتے ہی فوراً اس نے اسے بلاک کر دیا۔ اب کبیر کے میسج کا اسے کوئی انتظار نہیں تھا۔ دوسری طرف یہ میسج پڑھتے ہی کبیر کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔
“کیا ہوا کبیر؟”۔ حنہ بیگم نے کبیر کے پریشان چہرے کو دیکھ کر تفکر سے پوچھا۔
“نہیں کچھ نہیں”۔ اس نے افسردگی سے کہا۔
“مجھے بتاؤ؟”۔ انہوں نے مزید پوچھا۔
“خدیجہ مجھ سے بات نہیں کر رہی”۔ اس نے فون پاکٹ میں رکھتے ہوئے کہا۔
“تو تم بھی مت کرو اس سے بات”۔ انہوں نے بہت آسانی سے کہہ دیا تھا مگر کبیر کے لیے یہ بات بہت کٹھن تھی۔
“کیوں نہ کروں؟”۔ اس نے صاف الفاظ میں پوچھا۔
“بیٹا اس کی شادی ہو جائے گی اور اب اسے تم سے اور تمہیں اس سے بات نہیں کرنی چاہیے”۔ انہوں نے جیسے لاپروائی سے کہا۔ اور کبیر کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روۓ۔
“اس کی شادی کب ہے ویسے؟”۔ اس نے ضبط کرتے ہوئے موضوع ہی بدل لیا۔
“مجھے نہیں پتہ شاید کچھ مہینے بعد یا میرے خیال سے سال بعد”۔ انہوں نے عجیب سے انداز میں کہا اور کبیر کو لگا کہ کچھ تو الگ انداز ہے انکی بات میں مگر وہ نظر انداز کر گیا۔
“اچھا”۔ اثبات میں سر ہلا کر اس نے کہا اور باہر نکل گیا۔
____________
کبیر خدیجہ کے لیے دن بہ دن پریشان ہو رہا تھا۔ مگر خدیجہ اس کے میسج تک کا جواب نہیں دے رہی تھی۔ وہ اس دن کے بعد سے اس سے ملی بھی نہیں تھی۔
“خدیجہ تم اتنے دنوں سے آ کیوں نہیں رہی تھی کالج؟”۔ کالج کے فری لیکچر میں مائرہ نے اس سے پوچھا۔
“یونہی اور ویسے بھی اگلے ماہ پیپرز ہیں اور اس کے فوراً بعد میری شادی ہے”۔ اس نے بتایا۔
“مگر کبیر تو تم سے پیار کرتا ہے نا یار”۔ مائرہ نے تعجب سے بتایا۔
“میں تو نہیں کرتی ناں اس سے پیار”۔ وہ منہ بنا کر بولی۔
“تو کیا تم آصف سے پیار کرتی ہو؟”۔ اس نے ایک اور سوال کیا۔
“نہیں مائرہ”۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
“تو جب تم آصف سے بھی پیار نہیں کرتی تو کبیر سے ہی شادی کر لو”۔ مائرہ نے تھک کر سمجھایا۔
“میں کبیر سے شادی نہیں کر سکتی”۔ اس نے اب کی بار سنجیدگی سے بتایا۔
“کیوں نہیں کر سکتی تم؟ آخر کیا مسئلہ ہے۔ پروبلم ہی کیا ہے؟”۔ وہ اونچی آواز میں بولی۔
“یار آہستہ بولو”۔ خدیجہ نے اردگرد نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔
“اچھا اب بتاؤ”۔ اس نے اب دھیمی آواز میں پوچھا۔
“آصف اماں کی پسند ہے میرے لیے، اور کبیر اماں کی پسند نہیں ہے، میرے لیے”۔ وہ صاف الفاظ میں بتا گئی۔
“کیا مطلب؟”۔ وہ اب بھی نا سمجھ پائی۔
“دیکھو تمہیں نہیں پتا کہ کبیر کی فیملی کی کیا کنڈیشن ہے؟ آئی مین کے وہ امیر نہیں ہے اور اماں کیسے ہاں کر دیں گی؟ ماں باپ کے لیے تو یہ چیز زیادہ امپورٹنٹ ہوتی ہے نا کہ لڑکا کیا کماتا ہے”۔ وہ اس سے نظریں ملا کر بولی۔
“تم ایک بار آنٹی سے بات کر لو”۔ وہ سمجھاتے ہوئے بولی۔
“یہ تم کیا بول رہی ہو؟ اگر میں ان سے بول بھی دوں کہ کبیر مجھ سے پیار کرتا ہے تو وہ مجھے بھی غلط سمجھیں گی اور کبیر کی شکل بھی نہیں دیکھیں گی”۔ وہ اکتا کر بولی۔
“یار تم خودغرض نا بنو”۔ وہ الٹا اس پر برس پڑی۔
“تم تو مجھے سمجھو”۔ اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“نہیں کر سکتی اس سے شادی تو یوں دوستی بھی تو نہیں کرنی تھی نا اس سے۔ میں بھی تو تم دونوں کے محلے میں رہتی ہوں میں نے تو نہیں کی اس سے دوستی۔ واقعی پیسہ سب کچھ کر دکھاتا ہے”۔ کڑوے لہجے میں کہتی ہوئی وہ وہاں سے چلی گئی جبکہ یہ الفاظ سنتے ہی خدیجہ کا دل ڈوب کر ابھرا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ پھوٹ پھوٹ کر روۓ مگر آنسوؤں کا ذخیرہ حلق میں اٹک کر رہ گیا۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
خلافِ معمول اس کی شام بڑی اداس تھی۔ وہ لاؤنج میں اکیلی بیٹھی تھی۔ نیند کے جھونکے نے اسے جیسے ہی چھوا دروازے پر دستک ہونے لگی۔ اس نے سر پر دوپٹہ اوڑھا اور دروازہ کھولا۔
“اماں گھر پر نہیں ہیں”۔ مقابل کھڑے شخص کو دیکھ کر اس نے دوپٹے کا نقاب کیا اور ہاتھ سے پکڑ لیا۔
“مجھے ان سے نہیں تم سے بات کرنی ہے”۔ جیسے ہی اس نے کہا خدیجہ نے اثبات میں سر ہلایا اور دو قدم پیچھے ہو گئی۔ کبیر کے اندر آنے کے بعد اس نے دھیرے سے دروازہ بند کیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *