Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 9

وہ اسکے بانہوں کے حصار میں قید تھی اور وہ اسکے محسوس کرتا اسکے ایک ایک نقش کو اپنے لبوں سے چھو کر معتبر کر رہا تھا.
“مجھے نہیں پتا کیوں مگر یہ آنکھیں مجھے اس دنیا کی سب سے خوبصورت آنکھیں۔ لگتی ہیں”
اسکی آنکھوں پر اپنے لب رکھتے وہ آہستہ سے بولا تو رحہ کے چہرے پر الوہی مسکراہٹ نے ڈیرہ جمایا تھا
مجھے لگتا تھا میں کبھی شادی نہیں کر سکوں گا میں شادی سے بہے خائف تھا اماں کے بار بار کہنے کے باوجود مجھے مجھے یقین تھا کہ میرا صبر رائگاں نہیں جائے گا۔۔”اسکی پلکوں کو چھوتے وہ سرگوشی میں بولا تو رحہ نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا۔
“کیا آپ مجھے پہلے سے جانتے ہیں وجی ؟”اس کے کالر کو مٹھی میں جکڑتے اس نے پوچھا تو وجدان نے بغور اسکا چہرہ دیکھا۔
“اگر میں کہوں کہ ہاں تو؟”
“تو میں جاننا چاہوں گی کہ آپ کب سے مجھے جانتے ہیں”
“تو میں کہوں گا بچپن سے جب سے ہوش سنبھالا صرف ایک کام کیا ہے تم سے محبت کرنے کا”اس کی بات پر اب کے چونکنے کی باری اسکی تھی۔
“وجی۔۔۔۔۔”
“میں وہ انسان ہوں رحہ جس سے نکاح میں تم اس وقت بندھی تھیں جب تمہیں خود کا بھی ہوش نہیں تھا محض پانچ سال کی عمر میں “وہ اسکے سر پر دھماکہ کر گیا تھا اس نے بے یقینی سے اس نے ایک جھٹکے سے اسے دیکھا تھا۔
“ہاں یہی سچ ہے نکاح کے بعد میرے بابا کا تبادلہ ہوگیا تھا اور ہم دوسرے شہر شفٹ ہوگئے بابا کے اچانک انتقال کے بعد ہم واپس آئے تو تم لوگ وہاں نہیں تھے۔
ہم نے سب سے معلوم کروایا مگر تمہارا کچھ پتا نا چل سکا۔
میں ایک عرصے تک تمہیں ڈھونڈتا رہا۔
میں پولیس فیلڈ میں بھی اسی لئے آیا تاکہ تمہیں ڈھونڈ سکوں تب میرے پاس صفیر کیس لے کر آیا تمہارا نام اور پھر تمہارے بابا کا نام سن کر میں چونک اٹھا جب معلوم کروایا تو تم میری ہی رحہ نکلیں۔
میں تمہیں ڈھونڈنے نکلا تو راستے میں تم مجھے مل گئیں۔
میں تمہیں سچ بتانا چاہتا تھا مگر میں جانتا تھا تم سچ پر یقین نہیں کرو گی اور پھر تمہاری حفاظت کرنا میرے لئے بہت ضروری تھا جبھی اتنا بڑا قدم مجھے اٹھانا پڑا۔
اماں تو تمہیں دیکھتے ہی پہچان گئی تھیں مگر میں نے انہیں سمجھایا کہ ابھی تم شاید اس حقیقت کو برداشت نا کر سکو میں تمہیں کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا رحہ”
اسکی باتوں پر رحہ کا دماغ ماضی میں الجھا تھا اسے اب سمجھ آیا تھا کیوں اسکے بابا بار بار اسکی شادی کے لئے زور دیتے تھے کیوں بچپن میں ہی اسکے رشتے ہوکر ٹوٹ جاتے تھے۔
وہ اسکے لئے امیر سے امیر لڑکے ڈھونڈتے تھے اور اس بات سے اس نے اکثر اپنی ماں کو پریشان دیکھا تھا اسے اب سب سمجھ آرہا تھا تو دل کیا چیخے وہ اسکا نکاح کر نکاح کرنا چاہتے تھے اگر وہ اغوا نا ہوتی اگر اسکی صفیر سے شادی ہوجاتی تو وہ زنا جیسے عمل کی مرتکب ہوتی وہ ایک گناہوں بھری زندگی گزارتی۔۔
یہ سوچ آتے ہی اسکے رونگٹے کھڑے ہوئے تھے اور وہ وجدان کے سینے سے لگتے پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔
“شششش۔۔۔ جان اس لئے نہیں بتایا کہ تم یوں رو رو کر خود کو تکلیف دو اس لئے بتایا ہے کہ یہ نیا رشتہ شروع کرنے سے پہلے ہمارے درمیان کوئی جھوٹ نا ہو ہمارے درمیاں کوئی راز نا ہو”اسکی گردن میں جھکتے وہ سرگوشی کرتا اسکے بیوٹی بون کو لبوں دے چھوتا پیچھے ہٹا تو اس نے نم آنکھوں سے وجدان کو دیکھا اور آہستہ سے اپنے لب اسکے لبوں پر رکھ کر خود کو اسکے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔۔
وجدان کے لئے یہ بہت بڑا جھٹکا تھا وہ تو سمجھتا تھا سچ جاننے کے بعد وہ اسے قبول کرنے سے انکار کردے گی اپنے باپ کو کوئی بھی بیٹی کبھی غلط نہیں سمجھتی مگر وہ کیا جانتا تھا کتنا کچھ وہ برداشت کر کے بیٹھی ہے۔۔”
وجدان آہستہ آہستہ اپنی سانسیں اس میں انڈیل کر اسے اپنے ہونے کا احساس دلا رہا تھا اس کا ہاتھ رحہ کے پور پور کو محسوس کر رہا تھا۔
اور وہ آنکھیں موندے اسکا لمس اپنے جسم پر محسوس کر سکون میں تھی۔
یہ وہ سکون تھا جو اسے کسی اور دنیا میں لے گیا تھا۔۔
وجدان نے اسکو ہونٹوں کو آزادی دیتے اسکی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا اور پھر وہاں اپنی محبت کا نشان چھوڑتے اس نے بیوٹی بون پر اپنے لب رکھے تھے۔
اسکی شرٹ کندھوں سے سرکاتے وہ اپنے لب وہاں رکھ گیا اور پھر آہستہ سے وہ پورا اس پر حاوی ہوا تھا اپنے پورے وجود پر اسکے ہونٹوں کا لمس محسوس کر رحہ نے اسکی شرٹ کو مٹھیوں سے تھاما تو وہ زرا سا اٹھ کر اپنی شرٹ اتار دور پھینک گیا۔۔
اسے یوں دیکھ رحہ کا دل بری طرح دھڑکا تھا وہ آہستہ سے اس پر جھکتا اسکے لبوں کو ایک بار پھر اپنی گرفت میں لے گیا۔
وہ اس پر حاوی ہوتا اپنی شدتوں سے اسے روشناس کروا رہا تھا۔
وہ آنکھیں بند کئے بس اسے محسوس کر رہی تھی وہ رفتہ رفتہ اسکی روح میں تحلیل ہوتا جارہا تھا۔۔
رحہ نے زرا سی آنکھیں کھول خود پر جھکے اس شخص کو دیکھا تھا جو اپنی محبت کی بارش کی اسے پور پور کر بھگو رہا تھا
وہ سراپا محبت تھا اسکے لئے وہ ہر حال میں اسکے ساتھ تھا اور یہی یقین اسے مایوس نہیں ہونے دے رہا تھا اسکی وجہ سے اسکی بہن آج محفوظ ہاتھوں میں تھی اور ایک لڑکی کو کیا چاہیے ہوتا ہے وہ اپنے ماضی سے انجان بالکل بھی نہیں تھی مگر ابھی صحیح وقت نہیں آیا تھا کہ وہ ان رازوں سے پردہ اٹھا دے جنہیں وہ خود سے بھی چھپائے بیٹھی تھی۔
وجدان کی گردن کے گرد بانہیں ڈالے وہ اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپا گئی وہ اس وقت صرف اور صرف اسے محسوس کرنا چاہتی تھی جس سے اس نے بے تحاشہ محبت کی تھی بے غرض اور بے لوث


اسپتال کا کاریڈور اس طرف سنسان پڑا تھا۔
پہرداری پر معمور کانسٹیبل سردی کی وجہ سے چائے پینے گئے تھے۔
وہ ماسک پہنے کالی چادر خود پر تانے آہستہ سے اندر داخل ہوا تھا جہاں شمس صاحب بستر پر بے ہوش پڑے تھے ۔
اس نے ایک نظر اس شخص کو دیکھا آنکھوں میں نفرت ہی نفرت تھی کہ شعلے سے لپک رہے تھے۔
اس نے دبے قدموں سے وہ فاصلہ عبور کیا تھا اور پھر بہت خاموشی سے مشین کا بٹن بند کیا تھا۔
ایسے کرتے اسکی آنکھوں میں کئ کرچیاں تھیں مگر وہ کمزور نہیں تھا۔۔
وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی دبے قدموں واپس پلٹ گیا کیونکہ اب یہاں رہنا بے فضول تھا وہ اپنا کام پورا کر چکا تھا اب آگے دیکھنا تھا کہ اسکا کام ہوا ہے یا نہیں ۔
آنکھوں میں ایک عجیب سا تاثر لئے وہ وہاں سے نکلتا چلے گیا اور اسکے جاتے ہی دوسری طرف سے کانسٹبل واپس سے ڈیوٹی پر آئے تھے۔


آئینے میں کھڑی وہ اپنے بال بنا رہی تھی جب صفیر نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اور آہستہ سے اسکے بال سائیڈ کرتے اپنے لگ اسکی گردن پر رکھے تو شرم سے اسکی پلکیں جھکی تھیں
“مارننگ میری جان”کل صبح ایک اہم کام کے سلسلے میں صفیر کو جانا پڑا تھا اور اب رات کا گیا وہ اب آیا تھا۔
“اسلام وعلیکم مارننگ”اپنے پیٹ پر بندھے اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے وہ شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو صفیر نے مخمور نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھا تھا
“ناراض تو نہیں ہوں نا مجھ سے میں یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا”
اسکے کان پر لب رکھتے وہ اس سے پوچھ رہا تھا جو اسکے لمس سے خود میں سمٹی جارہی تھی۔
“میں بھلا کیوں آپ سے ناراض ہونگی یہ تو آپ کا کام ہے نا اور مجھے سمجھنا ہوگا “اسکی بات پر صفیر نے اسکے پچھلی گردن پر اپنے لب رکھے اور پھر آہستہ سے اپنی جیب سے ایک لاکٹ نکال کر اسکی صراحی دار گردن کی زینت بنایا تھا۔
اتنا خوبصورت لاکٹ دیکھ اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
“صفیر یہ۔۔۔۔”
“یہ منہ دیکھائی جو میں پہلے ہی دے دیتا اگر مجھے جانا نا ہوتا مگر اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے یہ میری طرف سے میری بیوی کو ایک خوبصورت تحفہ”
اسکا رخ اپنی طرف کرتے صفیر نے اسکے ماتھے پر لب رکھے وہ سدرہ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں موندی تھیں
صفیر نے جھک کر ان بند آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا اور ایسے ہی گال پر لب رکھتے وہ آہستہ سے اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتے اسکی سانسوں کو پینے لگا۔۔
سدرہ نے گھبرا کر اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں۔ دبوچا تو وہ اسے کمر سے پکڑتا ڈریسنگ پر بیٹھا گیا
وہ مدہوش سا اس پر جھکا تھا کہ وہ مزاحمت بھی نہیں کر پارہی تھی کیونکہ وہ بری طرح اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔
“صفیر باہر امی”اسے بانہوں میں بھرے وہ بیڈ کی جانب بڑھا تو سدرہ نے بوکھلا کر اسے ہوش دلانے کی کوشش کی
“امی کو پتا ہے بیٹا ایک دن بعد گھر آیا ہے بہو آج فارغ نہیں ملے گی”اتنا کہتے وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس پر حاوی ہوا تھا۔
اپنی شرٹ اتار کر دور پھینکتے وہ اس پر حاوی ہوا اور اسے لمحوں میں پوری دنیا بھلا گیا۔
وہ آنکھیں بند کئے اسے محسوس کر رہی تھی جان تو تب نکلی جب قمیض کی زپ کھلتی محسوس ہوئی
“صفیر”
“شش۔۔۔۔ بہت تھک گیا ہوں آج یہ تھکن اتارنے دو”اسکی شہہ رگ کو لبوں سے چھوتے وہ آہستہ سے اسکی شرٹ نیچے سرکا گیا۔۔
سدرہ نے خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔


آج وہ اپنے مقصد کے ایک قدم اور نزدیک پہنچ گیا تھا اب محض کچھ وقت بچا تھا اور اسکا بدلہ پورا ہوجاتا جس مقصد کے لئے وہ کنگ بنا تھا وہ مقصد پورا ہوجاتا وہ خوش تھا آج بے حد خوش اسے آج سے پہلے اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی تھی۔
ماہ جبیں نے اسکے کھلے چہرے کو دیکھ آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی نظر اتاری تھی۔
“میں تمہیں ہمیشہ یونہی خوش دیکھنا چاہتی ہوں”
ماہ جبیں کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔
“اور میں چاہتا ہوں کہ تم خوش رہو تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے ماہ مگر اب وقت آگیا ہے اپنے دشمنوں کو سبق سیکھانے گا گناہگار کو اس کے گناہ کی سزا مل کر رہے گی پھر چاہے کچھ بھی ہو جائے میں اپنا بدلہ لے کر رہوں گا۔
پھر کوئی ہمت نہیں کرے گا میرے آگے آنے کی میرا مقابلہ کرنے کی مجھ سے چالاکی کرنے کی”
اسکی بات پر ماہ جبیں نے مسکرا کر اسکے آگے گلاس رکھا اور خود اسکے پہلو میں دراز ہوئی تھی۔
کنگ نے اسے آہستہ سے کمر سے پکڑ کر اپنے نزدیک کیا تھا۔
“اس سفر میں تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے میں خوش قسمت ہوں جو تم مجھے ملی”وہ کبھی اس طرح نہیں کرتا تھا ج ضرور کچھ ایسا ہوا تھا کہ وہ ایسے کر رہا تھا۔
“تمہیں خوش دیکھ کر میرے دن بھر کر تھکن اتر گئی ہے کنگ میری دعا ہے تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ اور پھر ہم دونوں یہاں سے بہت دور چلے جائینگے جہاں کوئی ہمیں نہیں جانتا ہوگا”اسکی شرٹ کے بٹن سے کھیلتے وہ آنے والے دنوں کا سوچ رہی تھی۔
وہ اپنا جسم بیچنے پر مجبور تھی مگر اب مزید نہیں وہ دونوں اپنے مقصد کے بے حد قریب تھے
کنگ نے آہستہ سے اسے خود پر جھکایا اور اسکے لبوں پر اپنے لب رکھے۔
“وہ ہماری دنیا ہوگی پھر چاہے وہ ہمیں مرنے کے بعد ہی کیوں نا ملے”
اسکی بات سمجھتے وہ مسکرائی تھی۔۔
“مجھے یقین ہے تم پر”اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھامتے وہ پریقین تھی۔


اسکی آنکھ کھلی تو خالی کمرہ دیکھ وہ فوراً سے اٹھ بیٹھی۔
“وجدان آپ باہر ہیں؟”خود کا حلیہ ٹھیک کرتے وہ باہر آئی تو وجدان کہیں نہیں تھا۔
گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی اتنی صبح صبح وجدان کی غیر موجودگی نے اس بے حد اداس کردیا تھا
“لگتا ہے پھر کسی کیس کے سلسلے میں چلے گئے ہیں”خود سے کہتے وہ واپس بیڈ پر آکر بیٹھ گئی رات انہیں سوتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی وہ اپنے آنکھ کھلنے پر حیران تھی لیکن اب دوبارہ سونا مظلھ سر درد کو دعوت دینا۔
وہ اٹھ کر فریش ہوئی اور آئینے کے سامنے آکر اس نے اپنا ایک نیا روپ دیکھا
اسے خود میں وجدان کا عکس دیکھا تھا چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ آئی تھی اپنے گردن پر ہاتھ رکھ اسنے وجدان کے دئے نشاں کو چھوا تھا اسکے ایک ایک پور پر اس شخص کی حکمرانی تھی اسکا نقش تھا۔
اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھتے اسے اس شخص کا لمس یاد آیا تو نگاہیں خود بہ خود جھکی تھیں۔
بھلا کوئی یوں بھی اسے چاہے گا اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا آج وہ مکمل ہوگئی تھی اسکا عشق مکمل ہوگیا تھا اور اب ایک اور چیز تھی جسے مکمل کرنا تھا اور اسکا اسے بے صبری سے انتظار تھا