Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

کنگ کے کتے پاگلوں کی طرح اسے ڈھونڈ رہے تھے اور جمیل اور سبحان ایک طرف کھڑے اسے دیکھ رہے تھے جو بپھرے شیر کی طرح بھڑکا ہوا تھا۔
“کنگ ریلکس وہ مل جائے گی”
“مل جائے گی کیسے ملے گی ہاں زمین کھا گئی یا آسمان نگل گیا جو وہ غائب ہوگئی۔۔”
“کنگ تم نے اپنے بندوں کو لگایا تو ہے کام پر وہ ڈھونڈ لینگے اسے “
“ہممم ملنا تو اسے پڑے گا چاہے وہ پاتال میں ہی کیوں نا چلی جائے “اس کے لہجے میں ایک عجیب سی آنچ تھی۔
“اسکے گھر کے باہر آدمی سب سے پہلے بھیجے تھے مگر وہ ابھی وہاں نہیں گئی ہے کنگ اسکا باپ اور منگیتر اسے ابھی بھی ڈھونڈ رہے ہیں”
“ماں باپ کے پاس جانے کی غلطی وہ کبھی نہیں کرے گی اتنی بیوقوف نہیں ہے وہ کہ اتنا بڑا قدم اٹھائے اور ماں باپ کے لئے مصیبت کھڑی کرے۔ وہ ضرور کسی دارالامان گئی ہوگی۔۔ اس شہر کے سارے دارالامان کھنگالو۔
“باس ہوسکتا ہو شہر سے باہر نکل گئی ہو”سبحان کی بات پر کنگ نے خونخوار نظروں سے اسے دیکھا۔
“یہ سب تمہاری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے شکر کرو کے ابھی تک زندہ سلامت ہو ورنہ آج تمہارے ٹکڑے بھی کسی کو نہیں ملتے۔۔۔”وہ سبحان پر غرایا تو خوف سے اسکا دل کانپا تھا وہ واقعی کنگ تھا جو کچھ بھی کر سکتا تھا۔
“جمیل سارے بس اڈوں اسٹیشن پر آدمی بھیجو وہ مجھے زندہ چاہیے جس دن وہ مجھے مل گئے نا اس دن اسے پتا چلے گا کنگ سے دھوکہ کر کے کتنی بڑی غلطی کی ہے اس نے کنگ اسے سر پر بٹھانے چلا تھا مگر وہ قدموں میں رہنا چاہتی ہے تو ایسا ہی سہی”اس کے لہجے میں سوائے نفرت کے اسکے لئے اور کچھ بھی نہیں تھا
سبحان اور جمیل خاموشی سے اسکا یہ جنون بھرا انداز دیکھ رہے تھے ناجانے کتنی لڑکیاں آئیں اور گئیں مگر کسی لڑکی کے لئے کنگ کی اتنی جنونیت دیکھ وہ دونوں بھی اب خوفزدہ ہوگئے تھے اپنے ساتھ ان دونوں نے اس لڑکی کو بھی ایک نا ختم ہونے والے عذاب میں جھونک دیا تھا۔
وہ ایک آتش تھا ایک آگ کو خود تو جلتی تھی مگر اپنے ساتھ وہ دوسروں کو بھی جلا کر خاکستر کر دیتی تھی۔
ایک ایسا لاوا تھا وہ کو کبھی ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا اور اس آگ پر اس لڑکی کے بھاگنے نے گھی کا کام کیا تھا۔
“سبحان اسے کیسے بھی کر کے ڈھونڈنا ہے ہم نے” جمیل کی بات پر کچھ سوچتا سبحان چونک اٹھا تھا۔
“کیسے ہم میں سے کوئی بھی نہیں جانتا وہ کہاں ہے اس وقت٫
“معلوم کرنا پڑے گا ورنہ کنگ پاگل ہو جائے اور جب وہ اس لیول پر جاتا ہے تو کیا ہوتا ہے یہ تو بھی جانتا ہے”
سبحان اس کی بات پر سر ہلا گیا یہی تو سب سے بڑا ڈر تھا ان دونوں کو کہ وہ جنون کی حد تک نا جائے مگر اب بہت دیر ہوگئی تھی اب اسے ڈھونڈنے کے سوا ان دونوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔۔


بیڈ پر بیٹھے وہ بے آواز رو رہی تھی جس شخص سے اسکی شادی تھی وہ تو کہیں تھا ہی نہیں اور وہ خود کو کسی اور کو سونپ چکی تھی یہ نکاح مجبوری میں ہی سہی مگر اب ہوگیا تھا۔۔
گھنٹوں کے گرد بازو باندھے وہ اداس سی تھی جب کمرے کا دروازہ کھول وجدان اندر داخل ہوا تھا۔
اسے دیکھ وہ خود میں سمٹی تھی۔
“ٹھیک ہو ؟
اسکے پوچھنے وہ آنسو پونچھتے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا گئی۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا بس تھوڑا سا وقت “
مجھے یقین ہے آپ پر”اتنا کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی کہ اچانک اسکا سر بری طرح چکرایا تھا۔
اس سے پہلے وہ زمین بوس ہوتی وجدان نے آگے بڑھ کر اسے تھاما تھا۔
اس نے گھبرا کر وجدان کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا تھا۔
اسکی خوشبو اسکے وجود کو اپنی لپیٹ میں لے گئی تھی۔
وجدان نے اسکی کمر کو مضبوطی سے پکڑا تو دونوں کا دل ایک ہی لے لے دھڑکا تھا۔
رحہ نے آنکھیں کھول اسے دیکھا جس کا چہرہ اسکے بے حد نزدیک تھا اتنا نزدیک کے اگر وہ کچھ کہتی تو اسکے لب وجدان کے لبوں سے ٹکراتے۔۔
وہ ایک دم سے اسکے پاس سے اٹھی تو وجدان ایک دم سیدھا ہوا تھا۔
دونوں کا دل پوری اسپیڈ سے دھڑک رہا تھا۔
“کھانا کھانے آجاؤ “
اتنا کہہ کر وہ رکا نہیں تھا اس کے جاتے ہی رحہ نے کھل کر سانس لی تھی۔۔
فریش ہو کر وہ باہر آئی تو وجدان نے اسکے لئے جگہ بنائی
تب وہ صوفے پر اسکے برابر بیٹھی تھی۔
ان دونوں نے مل کر کھانا کھایا اور پھر وہ سونے کے لئے اپنے کمرے میں آگئی جبکہ وجدان کسی کام سے باہر چلا گیا تھا۔
اتنا بکھرا گھر دیکھ اسے وحشت ہو رہی تھی مگر سر درد کے باعث وہ کچھ نہیں کر سکی اور گہری نیند میں اتر گئی۔
دوسری طرف وہ گھر سے نکل کر سیدھا صبور کے پاس آیا تھا۔
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں آج تو نکاح ہوا ہے آپ کا ؟
صبور کی بات پر وجدان نے گھور کر اسے دیکھا۔
“بہت نارمل حالات میں ہوا ہے نا یہ نکاح “
“باس اب ہو تو گیا ہے دیکھئے گا آخر میں آپ دونوں کو ایک دوسرے کو قبول کرنا پڑے گا “
صبور کی بات پر اس نے بیزاری دیکھائی۔
“فضول باتوں کے لئے ٹائم نہیں ہے میرے پاس “
“اچھا اچھا “
“بتاؤ کیا خبر ہے کنگ کے بارے میں؟”سیٹ پر بیٹھتے اس نے فائل اٹھائی تھی۔
“کچھ خاص نہیں اسکے آدمی ہیں جو یہاں وہاں بھابھی کی تلاش میں ہیں “
“کون بھابھی ؟”وجدان نے اسے چونک کر دیکھا
“باس ابھی تو نکاح ہوا اور آپ بھابی کو بھول بھی گئے؟”
“اپنا منہ بند کرنے کا کیا لو گے صبور ؟”
غصے سے فائل پھینکتے وہ غرایا تو صبور نے ہونٹوں پر انگلی رکھی تھی۔
“سوری باس “
“ویسے سر کلکٹر صاحب غائب ہیں آخر بار انہیں گھر سے نکلتے دیکھا گیا تھا اور اسکے بعد وہ گھر واپس نہیں آئے اتفاق سے وہ اپنا موبائل گھر ہی چھوڑ گئے تھے اس لئے کوئی خبر بھی نہیں ہے ان کی کوئی لوکیشن ٹریک نہیں ہو رہی ہے “
“ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنا بڑا کلکٹر بنا سیکیورٹی کے گھر سے نکلے اور موبائل بھی نا لے جائے”اس کیس کی فائل دیکھتے وہ پریشانی سے بولا۔
“سر بڑے آفیسر تیزی سے غائب ہو رہے ہیں آپ کو بڑے آفیسرز کے ساتھ میٹنگ کرنی چاہیے۔
“میٹنگ نہیں کرنی اب اپنا کام کرنا ہے سب کو الرٹ کردو اور صبور اب وقت آگیا ہے ایکشن کا”
“اوکے سر”اسے سلیوٹ کرتا وہ وہاں سے چلا گیا تو وجدان کے ماتھے پر پرسوچ لکیریں ابھری تھی وہ ایک قابل آفیسر تھا اور اسے جب کون سی چال چلنی تھی وہ بہت اچھے سے جانتا تھا


“کیا ہوا کنگ پریشان ہو”اپنے لب کنگ کی گردن پر رکھتے ماہ جبیں اسکے سینے سے لگی تھی
“وہ لڑکی مجھے ہر حال میں چاہیے ماہ”
“ایسا کیا ہے اس لڑکی میں کہ میں بانہوں میں ہوں اور تمہیں اسکی یاد ستا رہی”
“وہ ایک ایسا مہرہ ہے جو مجھے میرے دشمن تک پہنچائے گا ضرور کوئی ایسا ہے جس کو اس کا پتا تھا تبھی تو اس رات “وہ بہت کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا کیونکہ وہ کنگ تھا ماہ جبیں کو اس سے زیادہ شاید ہی کوئی جانتا ہوگا۔
“پریشان نہیں ہو کنگ وہ مل جائے گی “اسکے لبوں کو چھوتے وہ اسے بے فکر کرنے کی خاطر بولی تھی۔
مگر وہ بے فکر نہیں ہوسکتا تھا اتنے سالوں میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ کوئی اسکے چنگل سے نکل کر بھاگا ہو اور ایسا بھاگا کہ ابھی تک اسکا نام و نشان بھی نہیں مل رہا تھا۔
اسکا سر سینے پر سے ہٹا کر وہ اٹھا تو ماہ جبیں نے اسکی پشت کو دیکھا جو اب شرٹ پہن رہا تھا۔
“مت جاؤ کنگ آج تو مت جاؤ”وہ اس سے محبت کرتی تھی حد سے زیادہ
“یہاں رک کر میں مزید اپنا وقت ضائع نہیں کر سکتا جتنا وقت ضائع کرنا تھا میں نے کر لیا اب میرے پاس زرا وقت نہیں پولیس میرے پیچھے ہے اور مجھے ہر حال میں اس مشکل سے نکلنا ہے وہ دونوں ناکارہ ہو چکے ہیں میں اب دونوں پر بھروسہ نہیں کر سکتا “
اسکے ہاتھ تیزی سے بٹن بند کر رہے تھے۔۔
“تم کیوں ان راہوں پر چل نکلے ہو یہ تو تمہارا راستہ نہیں تھا تم تو ایسے نہیں تھے نا کنگ ؟تم تو کنگ بھی نہیں تھے”
اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ ماہ جبیں نے افسوس سے کہا تو اس نے غور سے سکا خوبصورت چہرہ دیکھا۔
“تم بھی تو ایسی نہیں تھیں نا جیسی ہو گئی ہو تم بھی تو ماہ جبیں بائی نہیں تھی نا”
مجھے حالات نے بائی بنایا ہے”
“اور مجھے کنگ تم اچھے سے میری سچائی جانتی ہو میں ایسا نہیں تھا لیکن ہوگیا کیونکہ مجھے ایسا بنایا گیا ہے میری معصومیت چھین لی گئی اور تم گواہ ہو اسکی اب میں اس ناسور کو ہی ختم کردوں گا جو مجھ سے ناجانے کتنے لوگوں کی زندگیاں برباد کر کے سکون سے بیٹھے ہیں انہیں اب سانس لینا بھی مشکل لگے گا اب انہیں پتا چلے گا کہ آخر کنگ ہے کون “
چہرے پر ماسک پہنتے وہ واپس سے اپنے خول میں گم ہوگیا تھا کوئی نہیں جانتا تھا وہ کیسے دیکھتا ہے سوائے ماہ جبیں کے۔۔۔
“میں روز دنیا کرتی ہوں تم اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ تاکہ کل کو کوئی ماہ جبیں بائی بننے پر مجبور نا ہو کوئی اپنی عزت ہر دوسرے مرد کے آگے ختم نا کرے”اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ وہ نم لہجے میں کہتی اپنے آنسو صاف کرنے لگی اور یہ آنسو صرف اس انسان کے آگے ہی بہتے تھے ان دونوں۔کے دکھ ایک جیسے تھے کیونکہ وہ دونوں بھی ایک جیسے ہی تو تھے
ایک پل میں مظلوم تو دوسرے میں ظالم۔۔


پوری رات اس نے اپنے کیس پر کام کیا تھا سر شدت سے دکھ رہا تھا وہ چائے بھی کئی بار پی چکا تھا مگر درد میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا تھا اور گھر کا سوچ ہی اسے کوفت ہو رہی تھی بکھر گھر اسکا موڈ خراب کر دیتا تھا مگر اب یہاں رہنا بھی محال تھا اسے نیند آرہی تھی اس لئے چابی لیتا وہ باہر آگیا اور گھر کا رخ کیا تھا۔
گاڑی پارک کر وہ اوپر آیا تو دل ودماغ پر بوجھ تھا مگر جیسے ہی اس نے گھر کے اندر قدم رکھا وہ بری طرح چونکا تھا۔
سامنے ہی صاف ستھرا گھر اسکا منتظر تھا پورے گھر میں اشتہا انگیز خوشبو پھیلی ہوئی تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا۔
وہ اپنے کام میں تو سرے سے بھول ہی گیا تھا کہ کل ایک شخص کا اسکی زندگی میں اضافہ ہوا ہے
وہ کچن میں آیا تو وہ دوپٹہ سائیڈ رکھے مصروف تھی وجدان نے غور سے اسکے سراپے کو دیکھا تھا دل میں ایک تڑپ سی جاگیر تھی نظروں کی تپش محسوس کر وہ فوراً مڑی تھی
وجدان نے اس تمام عرصے میں اسے پہلی بار غور سے دیکھا تھا۔
نازک سے نقوش کھلی رنگت کمر کو چھوتے بال۔۔۔
وہ مبہوت ہوا تھا اسکے معصوم حسن کے آگے
جبھی بے اختیار ہوتا وہ اسکے سامنے آیا تھا
اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی وجدان نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنے قریب کیا تھا۔
“یی۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ”دھڑکتے دل کے ساتھ اس نے وجدان کو خود سے دور کرنا چاہا مگر وہ بے اختیار ہوتا جھک کر اسکے نازک لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے گیا۔۔
رحہ کی جان نکلنے کے قریب تھی اس اچانک افتاد پر۔
اس نے شیلف کو مضبوطی سے تھاما تھا
وجدان مدہوش سا اسکے چہرے پر جھکا ہوا تھا تبھی اچانک ان کے پیچھے کچھ گرنے کی آواز آئ تو وہ دونوں ہی ایک دم ایک دوسرے سے دور ہوئے تھے اور جھٹکے سے مڑ کر پیچھا دیکھا جہاں ایک ادھیڑ عمر عورت کو کھڑے دیکھ رحہ نے خوف سے وجدان کا ہاتھ تھاما تھا۔
“مانا کہ شادی ہوگئی ہے مگر تھوڑا خیال بھی کر لیتے ہیں آس پاس کا “کرخت آواز وجدان کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ جھٹکے سے مڑا تھا.
“اماں۔۔۔۔”خوشگوار حیرت کے ساتھ وہ آگے بڑھ کر ان کے گلے لگا تھا۔
“بتایا کیوں نہیں آنے کا میں لینے آجاتا”ان کا ہاتھ تھامے وہ محبت سے بولا تو انہوں نے ایک تھپڑ اسکے کندھے پر رسید کیا تھا۔
“بہو کو مجھ سے کیوں چھپایا وجدان اگر مجھے صبور نا بتاتا تو مجھے تو اندھیرے میں ہی رکھنا تھا تو نے”
“ایسا نہیں ہے اماں بس حالات ٹھیک نہیں تھے سب کچھ بہت اچانک ہوا تھا تو۔۔۔”سر کھجاتے وہ انہیں اپنے حصار میں لے گیا۔
“آج اس سے ملیں اماں یہ رحہ ہے آپ کی بہو اور رحہ یہ میری امی ہیں”آگے بڑھ کر رحہ کا ہاتھ تھام کر اپنے قریب کیا تو اس نے بے ساختہ سر جھکایا تھا۔
“ماشاءاللہ بہت پیاری”وجدان سے الگ ہوتے انہوں نے اسے سینے سے لگایا تو اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔
“تجھے کیا پسند آیا اس بھوت میں لاڈو”ان کی بات پر جہاں وہ حیرت میں مبتلا ہوا تھا وہیں وہ ہولے سے مسکرائی تھی۔۔