Janam By Reeha Shah Readelle50218 Episode 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
آج اسے غائب ہوئے ہفتہ ہونے کو آیا تھا جس گھر میں شادی کے شادی گونجنے تھے وہاں اب صرف ماتم تھا آنسو تھے۔
گھر میں سناٹا چھایا ہوا تھا بخت بیگم بیمار ہو کر بستر سے لگ گئی تھیں جب کہ شمس صاحب بیچارے اسے ڈھونڈنے کے لئے پاگل ہو رہے تھے وہ بڑی عمر کے تھے تھک رہے تھے۔
سدرہ نے بے چینی سے سامنے کمرے کی جانب دیکھا جہاں اسکی ماں بستر سے لگی ہوئی تھی۔
“آجاو رحہ پلیز آجاؤ دیکھو تمہارے بغیر ہمارا کیا حال ہوگیا ہے۔”اسکی تصویر دیکھتے وہ سسکی تھی
کتنی محبت تھی ان دونوں بہنوں میں بچپن سے لے کر اب تک۔
وہ یہ بھی جانتی تھی کہ رحہ کو صفیر سے محبت نہیں ہے مگر وہ پھر بھی اپنے ماں باپ کے لئے قربانی دے رہی تھی لیکن کیا فائدہ ہوا اس سب کا سب کچھ تو برباد ہوگیا وہ اکیلے رہ گئے۔
وہ خاموشی سے ایک طرف بیٹھی رو رہی تھی جب دروازہ بجنے پر وہ چونکی تھی۔
“اس وقت کون آگیا ؟”گھڑی میں وقت دیکھتے وہ چونکی تھی اور پھر اٹھ کر آنسو صاف کر کے باہر آئی تو صفیر کی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
“سدرہ میں ہوں دروازہ کھولو۔۔۔”
“صفیر بھائی”صفیر کی آواز سن اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تو وہ اندر داخل ہوا اسکے اندر داخل ہوتے ہی سدرہ نے دروازہ بند کیا تھا۔
“صفیر بھائی کچھ پتا چلا رحہ کا؟”اسے بیٹھتے دیکھ وہ بے چینی سے پوچھ بیٹھی تو صفیر نے نا میں سر ہلایا
“میں نے اپنے بڑے آفیسر سے بات کی ہے سدرہ اب دیکھو کیا ہوتا ہے انکل آنٹی ٹھیک ہیں اب ؟’
“ٹھیک نہیں ہیں امی کی تو طبعیت ہی نہیں سنبھل رہی ہے ابا بھی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ کمزور ہیں نہیں کر سکتے کچھ کھو دیا ہے ہم نے رحہ کو”اسے بتاتے بتاتے وہ رو دی تو صفیر کو سمجھ نہیں آیا وہ اسے کیسے چپ کروائے۔۔
“پریشان نہیں ہو میں نے اوپر بات کی ہے دیکھنا وہ ہمیں ضرور ملے گی۔۔”اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ صفیر نے اسے تسلی دی تو وہ سر ہلا گئی۔
“آپ تھک گئے ہونگے میں کھانا لاتی ہوں فریش ہو جائیں”اپنی غلطی کا احساس ہوا تو شرمندہ ہوتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی
صفیر اسکی شرمندگی سمجھ گیا تھا جبھی خاموشی سے سر ہلا کر فریش ہونے چلا گیا۔
جب سے رحہ غائب ہوئی تھی وہ شاذونادر ہی گھر جاتا تھا اور اب بھی وہ صبح سے اسکے لئے خوار ہو رہا تھا۔
سدرہ نے اسے کھانا لا کر دیا تو چپ چاپ کھانا کھانے لگا دماغ بالکل کچھ بھی سوچنے سمجھنے کے قابل فلحال نہیں تھا
“صفیر بھائی آپ خود کو پریشان مت کریں ہلکان مت کریں انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا آپ خود کو تھکاو مت “اسکی ٹوٹی حالت پر سدرہ کو ترس آیا تھا وہ خود بھی مضبوط بنی ہوئی تھی کیونکہ اب ماں باپ کا واحد سہارا وہی تھی۔
اس اندھیرے کمرے میں رہ رہ کر وہ روشنی کو بھول گئی تھی وہ شخص اس کا آیا ابھی تک واپس نہیں آیا تھا اور وہ اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی آج اسے یہاں آئے ہفتہ ہوگیا تھا اور یہ گزرا ایک ہفتہ اس کے لئے کسی سال سے کم نہیں تھا اذیت تکلیف۔۔۔
رو رو کر اب آنکھیں بھی خشک ہوگئی تھی زندہ رہنا نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی زندہ رہنا تھا یہ اسکی مجبوری تھی کھانا پانی وقت پر اسکے لئے آ جاتا تھا وہ ابھی تک اپنے اغوا کا مقصد نہیں سمجھ پارہی تھی۔
وہ کوئی امیر ترین لڑکی نہیں تھی کہ جس کی دولت کے لئے اسے اغوا کیا جائے۔
یہ گتھی سلجھنے کے بجائے مزید الجھتی جارہی تھی۔۔
کھانے کی ٹرے ایک طرف کر وہ اپنی جگہ پر آکر بیٹھ گئی اور خود کو چادر میں چھپا لیا۔
اس جگہ اسکے لئے ضرورت ہی ہر چ
شہ دی مگر پھر بھی سب اندھیرا تھا۔
وہ گہری سوچ میں تھی جب دروازہ کھلا تھا
وہ ایک دم سے سمٹی تھی خود میں۔
“اٹھو باہر چلو کنگ کا حکم ہے تمہیں باہر لایا جائے”سبحان کی کرخت آواز پر وہ جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
سبحان کا چہرہ ماسک سے چھپا ہوا تھا۔
چادر کو اچھے سے لپیٹے وہ مرے قدموں سے اسکے ہمراہ باہر آئی تو اتنے دنوں بعد سورج کی روشنی دیکھ اسکی آنکھیں چندھیا گئی تھیں۔
اس نے بے اختیار آنکھوں پر ہاتھ رکھا ۔
سبحان نے پیچھے مڑ کر اسے دیکھا تو گہرا سانس بھرا۔
“جلدی کرو فوراً میرے پیچھے آؤ۔۔۔”
غصے سے کہتا وہ آگے بڑھا تو وہ آہستہ سے اسکے پیچھے چلنے لگی۔
عجیب سی سنسان راہداری یہ کوئی بہت پرانا سا گھر تھا یا کوئی عمارت۔۔
اسکے پیچھے چلتے چلتے وہ ایک کمرے میں داخل ہوئے تھے۔
وہ بڑا سا کمرہ جس کے وسط میں ایک بڑی سی ٹیبل رکھی تھی۔
اور اس ٹیبل کے دوسرے سرے پر وہ براجمان تھا جس سے اسے اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت تھی۔
“کیسا لگ رہا ہے اتنے دنوں بعد سورج دیکھ کر ؟”آہستہ سے آگے ہو کر ہاتھ ٹیبل پر رکھتے وہ مزے سے بولا تو رحہ کا دل کیا اسکے سامنے رکھی بوتل سے اس شخص کا سر پھاڑ دے۔
“جواب نہیں دو گی؟”
اسے آپس میں ہونٹ پیوست کرے دیکھ وہ سپاٹ لہجے میں بولا تو رحہ نے غصے سے منہ پھیرا۔
کنگ کا قہقہ اس کمرے میں گونجا تھا۔
“چلو مت جواب دو میں تمہیں دے دیتا ہوں جواب۔۔”اپنی جگہ سے اٹھتے وہ آہستہ سے اسکی جانب بڑھا تو اسکی جان خشک ہوئی تھی۔
غیر محسوس انداز میں اس نے اپنے قدم پیچھے لئے تھے مگر وہ زیادہ پیچھے ہو نا سکی کیونکہ وہ ایک جست میں اس تک پہنچ اسے دیوار سے لگا گیا۔
“بیت وقت لے لیا اب نکاح کی تیاری کرو آج شام نکاح ہے ہمارا”اسکے چہرے پر آئی لٹ کو پھونک سے پیچھے کرتا وہ اسکی جان اپنے لفظوں سے نکال گیا تھا۔
“نہیں کرنی تم سے شادی مار دو مجھے “اسکے سینے پر ہاتھ مارتے وہ چلائی تو کنگ نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
“تھوڑی آواز رات کے لئے بھی بچا کر۔ رکھو تب زیادہ چلانے کی ضرورت پیش آئے گی۔”زومعنی انداز میں کہتا وہ اسکو شرمندہ کر گیا تھا
“تم سے نفرت ہے تھی اور رہے گی کچھ بھی کر لو مگر دیکھنا تمہیں سزا مل کر رہے گی۔”غصے سے کہتے اس نے اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے آزاد کیا تھا۔۔
“چلو دیکھتے ہیں تم بھی یہی ہو اور میں بھی”اسی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ چیلنج دینے کے انداز میں بولتا اسے آگ لگا گیا۔
سبحان کی ہمراہی میں وہ واپس کمرے میں آتے آتے بہت کچھ سوچ چکی تھی اسے یہاں سے نکلنا تھا ہر حال میں۔۔
ٹیبل پر فائل پھینکتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تو صبور بھی ساتھ اٹھا تھا۔
“اس کیس پر کام کرو مجھے ایک کام سے جانا ہے تو کل تک اسے سالو کر کے رکھنا ۔”
صبور کو ہدایت دیتا وہ اپنے اپارٹمنٹ آیا تھا۔
گھر میں جیسے ہی اس نے قدم رکھا دل پر بوجھ سا آیا تھا
بکھرا گھر ۔۔۔ خالی کچن ۔
وہ اپنے کام میں اتنا مگن رہتا تھا اسے زرا وقت نہیں تھا کہ وہ یہ سب کر سکے دوسرا میڈ نے ابھی نوکری چھوڑی تھی تو ۔۔
“اففففف ” سارا سامان پیروں سے ایک طرف کر وہ الماری کی طرف بڑھا تھا کام تو اس نے کرنا تھا نہین کیونکہ اسے ابھی کسی کام سے جانا تھا۔
اپنی تیاری مکمل کرتا وہ گھر لاک کرتا اپنی منزل پر روانہ ہوا تھا
شام کے سائے گہرے ہوتے جارہے تھے اسکے سامنے دولہن کا لباس موجود تھا جسے اس نے خاموشی سے اٹھایا اور تیار ہونے چل دی۔
سبحان اسے کھانا دینے آیا تو اسے دولہن کے لباس میں دیکھ ٹھٹکا تھا۔
مگر بولا کچھ نہیں۔
آرام سے کھانا کھا کر اس نے خود کو تیار کیا اور پھر انتظار کرنے کے بجائے اس نے آنکھیں بند کر خود کو پرسکون کیا تھا
دماغ تیری سے تانے بانے بن رہا تھا۔۔
“رحہ یہ موقع دوبارہ نہیں ملے گا ہر صورت یہاں سے نکلنا ہے کچھ بھی کر کے”خود سے کہتے اس نے اپنے پلو میں کچھ چھپایا تھا۔
سورج کب کا ڈھل چکا تھا وہ تیار تھی کہ دروازہ کھلا تھا وہ ایک دم سیدھی ہو کر بیٹھی۔
سامنے ہی سبحان تھا۔
“گڈ اچھا ہے تمہارے لئے “اسے خاموشی سے کھڑا ہوتا دیکھ اس نے طنزیہ کہا تو وہ اسے اگنور کرکے آگے بڑھ گئی ۔
اسے آگے بڑھتے دیکھ وہ جلدی سے اسکے آگے آیا تھا تاکہ اسے لے کر جا سکے۔
رحہ کے پاس صرف چند منٹ تھے اسے یہاں سے نکلنا تھا ہر حال میں۔
تبھی تھوڑا اندھیری جگہ آتے کی اس نے ہاتھ میں موجود وہ گولڈن پیس پوری قوت سے سبحان کے سر پر مارا تھا کہ وہ درد سے کراہتا ایک طرف گرا تھا۔
بنا اسکی فکر کئے وہ تیزی سے باہری راستے کی جانب بھاگی تھی۔
دن کی روشنی میں دیکھا گیا راستہ ابھی ڈھونڈنا اتنا مشکل نہیں تھا جبھی تیزی سے بھاگتے وہ اس عمارت سے نکلی تھی۔۔
وہیں دوسری طرف جمیل نے ہاتھ بڑھا کر سبحان کو اٹھایا۔
“ناٹک اچھا کرتے ہو چلو اب”سبحان کو سہارا دئیے وہ اندر کی طرف بڑھا تھا۔
مخملی نائٹی پہنے وہ اس ادھیڑ عمر آدمی کی بانہوں میں قید تھی۔
“یہ زندگی پہلے کبھی اتنی حسین نہیں لگی”ماہ جبیں کی کمر پر ہاتھ رکھ اسے قریب کرتے اس آدمی نے اسکی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا تو وہ ایک ادا سے مسکراتی اپنی نائٹی کا گاؤں اتار گئی۔
“اففففف یہ ادا”اسکے جسم کو چھوتے وہ آدمی مدہوش ہو رہا تھا۔
ماہ جبیں نے شر••ب کا گلاس اسکے لبوں سے لگایا تو وہ مدہوش سا اسے پینے لگا
ماہ جبیں نے آہستہ سے اسکی شرٹ کو اتارا تو وہ جیسے خوشی سے پاگل ہوگیا۔
“سیٹھ تمہارا دھندا تو خوب چل رہا ہے کیا مزے سے یہاں اپنا سامان سپلائے کر رہے”اسکے گال پر لب رکھتے وہ مسکرا کر بولی۔
“ارے یہ تو کچھ نہیں ابھی تو بڑا دور تک میرا مال جانا ہے اگلے ہفتے دبئی ایک کنسائمنٹ جاری ہے دیکھنا تجھے پیسے میں تول دونگا”اسکے لمس سے پاگل ہوتے وہ اس پر قابض ہوگیا تھا اور ماہ جبیں جانتی تھی اپنا کام کیسے پورا کروانا ہے
رات ہو چکی تھی اسے اپنے کام سے فارغ ہوتے ہوتے۔
اب وہ تیزی سے گھر کی جانب جارہا تھا۔
ٹھنڈ بڑھتی جارہی تھی۔
روڈ پر ٹریفک نا ہونے کے برابر تھا۔
اس نے جیسے ہی یو ٹرن لیا کوئی اس کی گاڑی سے آکر ایک سے ٹکرایا تھا
اس سے پہلے بڑا نقصان ہوتا اس نے گاڑی کو بریک لگائی تھی۔
“شٹ”
تیزی سے گاڑی سے اترتے وہ باہر آیا تو سامنے زمین پر دولہن بنی ایک لڑکی کو موجود پایا جس کے ہاتھ پیر پر بندھے رسیوں کے نشان اسے ٹھٹکا گئے تھے۔۔۔
“اے کون ہو تم؟”
اسکے پاس جھک کر بیٹھتے وہ بولا تو رحہ نے زرا سا ہمت کر خود کو سنبھالا تھا۔
“میری مدد۔۔۔۔”
اتنا کہتے وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوئی تھی جب کہ اسکا چہرہ دیکھ وجدان پوری طرح سے ٹھٹکا تھا
