Janam By Reeha Shah Readelle50218

Janam By Reeha Shah Readelle50218 Last updated: 7 September 2025

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Janam

By Reeha Shah

آئینے میں کھڑی وہ اپنے بال بنا رہی تھی جب صفیر نے پیچھے سے اسے اپنے حصار میں لیا اور آہستہ سے اسکے بال سائیڈ کرتے اپنے لگ اسکی گردن پر رکھے تو شرم سے اسکی پلکیں جھکی تھیں "مارننگ میری جان"کل صبح ایک اہم کام کے سلسلے میں صفیر کو جانا پڑا تھا اور اب رات کا گیا وہ اب آیا تھا۔ "اسلام وعلیکم مارننگ"اپنے پیٹ پر بندھے اسکے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھتے وہ شرمگیں مسکراہٹ کے ساتھ بولی تو صفیر نے مخمور نگاہوں کے ساتھ اسے دیکھا تھا "ناراض تو نہیں ہوں نا مجھ سے میں یوں ہی چھوڑ کر چلا گیا تھا" اسکے کان پر لب رکھتے وہ اس سے پوچھ رہا تھا جو اسکے لمس سے خود میں سمٹی جارہی تھی۔ "میں بھلا کیوں آپ سے ناراض ہونگی یہ تو آپ کا کام ہے نا اور مجھے سمجھنا ہوگا "اسکی بات پر صفیر نے اسکے پچھلی گردن پر اپنے لب رکھے اور پھر آہستہ سے اپنی جیب سے ایک لاکٹ نکال کر اسکی صراحی دار گردن کی زینت بنایا تھا۔ اتنا خوبصورت لاکٹ دیکھ اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں۔ "صفیر یہ۔۔۔۔" "یہ منہ دیکھائی جو میں پہلے ہی دے دیتا اگر مجھے جانا نا ہوتا مگر اب بھی دیر نہیں ہوئی ہے یہ میری طرف سے میری بیوی کو ایک خوبصورت تحفہ" اسکا رخ اپنی طرف کرتے صفیر نے اسکے ماتھے پر لب رکھے وہ سدرہ نے آہستہ سے اپنی آنکھیں موندی تھیں صفیر نے جھک کر ان بند آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوا اور ایسے ہی گال پر لب رکھتے وہ آہستہ سے اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لیتے اسکی سانسوں کو پینے لگا۔۔ سدرہ نے گھبرا کر اسکی شرٹ کو مٹھیوں میں۔ دبوچا تو وہ اسے کمر سے پکڑتا ڈریسنگ پر بیٹھا گیا وہ مدہوش سا اس پر جھکا تھا کہ وہ مزاحمت بھی نہیں کر پارہی تھی کیونکہ وہ بری طرح اسے اپنی گرفت میں لے چکا تھا۔ "صفیر باہر امی"اسے بانہوں میں بھرے وہ بیڈ کی جانب بڑھا تو سدرہ نے بوکھلا کر اسے ہوش دلانے کی کوشش کی "امی کو پتا ہے بیٹا ایک دن بعد گھر آیا ہے بہو آج فارغ نہیں ملے گی"اتنا کہتے وہ اسے بیڈ پر لٹا کر خود اس پر حاوی ہوا تھا۔ اپنی شرٹ اتار کر دور پھینکتے وہ اس پر حاوی ہوا اور اسے لمحوں میں پوری دنیا بھلا گیا۔ وہ آنکھیں بند کئے اسے محسوس کر رہی تھی جان تو تب نکلی جب قمیض کی زپ کھلتی محسوس ہوئی "صفیر" "شش۔۔۔۔ بہت تھک گیا ہوں آج یہ تھکن اتارنے دو"اسکی شہہ رگ کو لبوں سے چھوتے وہ آہستہ سے اسکی شرٹ نیچے سرکا گیا۔۔ سدرہ نے خود کو اس کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا۔۔ __________