Janam By Reeha Shah Readelle50218 Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
صبح اسکی آنکھ کھلی تو خود کو ایک عجیب سی ویران سی جگہ پر پایا جہاں کسی کو نا پاکر اسکی سانسیں اٹکی تھیں۔۔
سر درد سے دکھ رہا تھا اور یاد کرنے پر بھی کچھ یاد نہیں آرہا تھا۔۔
جسم میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ اٹھ کر بیٹھ سکتی۔
اس سے پہلے وہ کچھ سوچتی سمجھتی کوئی اندر داخل ہوا تھا۔
اس نے جلدی سے آنکھیں بند کیں۔
وہ جو کوئی بھی تھا آہستہ سے اسکے پاس آکر بیٹھا تھا اور اب وہ اسکی نظریں خود پر اچھی طرح محسوس کر رہی تھی۔۔۔
تبھی اسکے لگا کوئی ٹھنڈا لمس اسکے پیروں کو چھو رہا ہے
اس سے یہ ناٹک مزید نہیں ہو رہا تھا کیونکہ وہ جو کوئی بھی تھا اپنے ٹھنڈے ہاتھ اسکے پیروں سے لگا رہا تھا۔۔
وہ ڈر رہی تھی مگر اس میں اتنی سکت میں تھی کہ وہ چیخ چلا سکے۔
بے بی آنکھیں کھولو نا۔۔۔۔
اسکی گردن پر انگلی پھیرتے اس آدمی نے سرسراتے لہجے میں اسکے کان میں سرگوشی کی اور اسکا کان اپنے لبوں میں دبایا ایک سسکی تھی جو اسکے لبوں سے نکلی تھی۔
اس نے بےساختہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھا مگر اب بہت دیر ہوچکی تھی۔۔
اس آدمی نے جھک کر اسکی آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور پھر ناک اور گال سے ہوتا وہ اسکے لبوں تک آیا اور اسکا ہاتھ لبوں سے ہٹانا چاہا مگر اس نے فوراً سے اپنے ہاتھوں سے اسکا ہاتھ روکا تھا۔
کون ہو تم دور رہو مجھ سے۔۔۔ وہ منمنائی مگر اس سے پہلے ہی وہ اسکے نازک لبوں کو اپنی سخت گرفت میں لے گیا تھا۔
وہ آہستہ آہستہ اسکے ہونٹوں کا جام اپنے اندر انڈیل رہا تھا۔
اسکا دوسرا ہاتھ اسکے جسم پر چل رہا تھا اور وہ تکلیف سے تڑپ رہی تھی۔
ارحہ بے بی میری دنیا میں خوشامد۔۔۔۔۔
اسکی شہہ رگ پر لب رکھتا وہ اس سے دور ہوا تو کئی آنسو اسکے گال کو بھگوتے چلے گئے۔۔
ارے رو کیوں رہی ہوں ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں ہے۔۔
“مجھے کچھ مت کرنا دیکھو پلیز۔۔۔۔”
اسکے اپنے سینے کی طرف بڑھتے ہاتھ تھام اس نے التجا کی ۔
“جاننا نہیں چاہو گی کون ہوں میں جو تمہارے جسم و جان کا مالک بن بیٹھا ہے”اسکے ہونٹوں پر انگوٹھا پھیرتے وہ پراسرار سا مسکرایا تھا۔
“کک۔۔۔کون ہو تم؟”اپنا آپ اس سے چھڑاتے اس نے ہکلاتے سوال کیا تو سامنے والے کی شاطر نگاہوں میں ایک تپش سی لپکی تھی۔
“بتا دوں کون ہوں میں؟”اسکے کان کے قریب جھکتے اس نے سرگوشی کے سے انداز میں پوچھا تو وہ فوراً سے ہاں میں سر ہلا گئی۔
“اتنی بھی کیا جلدی ہے ویسے دل کو کر رہا ابھی تم میں سما جاؤں مگر بنا نکاح کے شاید تم پر اپنا حق جمانا کچھ خاص مزہ نہیں دے گا میں چاہتا ہوں تم بھی مجھ سے ویسے ہی محبت کرو جیسے میں تم سے کرتا ہوں مگر تم تو مجھ سے محبت ہی نہیں کرتیں”اسکا چہرہ مٹھی میں دبوچے وہ سخت لہجے میں بولا تو ارحہ کو لگا اسکی سانس رک جائے گی۔
“اب تم تب تک یہاں قید رہو گی جب تک تمہیں مجھ سے محبت نا ہوجائے اور ہاں۔۔۔”وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہوتے ایک دم رکا۔
“تمہارے ماں باپ اور وہ بیچارہ منگیتر بہت پریشان ہیں اگر انہیں دیکھنا ہے اور یہاں سے نکلنا ہے تو تمہیں خود کو مجھے دینا ہوگا۔۔
میں تمہارے جسم و جان کا جب مالک بن جاؤں گا اور تمہیں مجھ سے محبت ہو جائے گی اسی دن تم اپنے ماں باپ کا چہرہ دیکھ سکوں گی اب چاہے اس سب میں تمہیں دن لگے ہفتہ لگے مہینہ یا سال۔۔۔۔۔۔
ہوسکتا ہے اتنے وقت میں تمہارے ماں باپ مر جائیں اور تم انہیں دیکھ نا سکوں۔۔۔
کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر اتنا یاد رکھنا میری دنیا سے اب رہائی ممکن نہیں۔۔”
اسکے لبوں کو چھوتا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی چلا گیا اور اسکے جاتے ہی سسک اٹھی تھی۔
پورا گھر سوگ میں ڈوبا ہوا تھا کل جہاں شادی کے شادیانے بجنے تھے وہاں آج ماتم کا سا سماں تھا
میری بچی کو لے کر آئیں شمس صاحب کیسے بھی کر کے لائیں۔۔۔۔
“کہاں سے لاؤں میں بخت کہاں سے اغوا ہوا ہے اسکا زبردستی لے کر گئے ہیں کوئی مطالبہ بھی نہیں ہوا پولیس ڈھونڈ رہی ہے اسے۔
وہ خود ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے اپنی بیوی کو کہاں سے تسلی دیتے۔۔
امی وہ مل جائے گی آپ پریشان نا ہو اگر آپ کی طبعیت خراب ہوگئی تو۔۔
سدرہ کی بات پر انہوں نے اپنا سر پکڑا۔
سب برباد ہوگیا سب معاشرہ تھوکے گا ہم پر میری بچی کو زندہ درگور کر دے گا یہ معاشرہ کیا غلطی تھی اسکی کیوں اسکے ساتھ ایسا ہوا مجھے میری بچی کا دو کوئی خدا کا واسطہ ہے مجھے میری بچی لا دو۔۔۔
وہ روتی سسکتی جارہی تھی اپنی حالت خراب کر لی تھی مگر وہاں سننے والا کوئی نہیں تھا وہ سب بے بس تھے۔
سدرہ ماں کو اندر لے کر جا میں پولیس اسٹیشن جارہا ہے شاید کوئی سراغ ملا ہو۔
ابا صفیر بھائی کیسے ہیں اب؟
پاگل ہوگیا ہے ڈھونڈتا پھر رہا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آتا کچھ بھی اگر میں بھی ہار مان گیا ٹوٹ گیا تو میری بیٹی کبھی نہیں مل پائے گی۔۔
آپ پریشان نا ہوں آپ دیکھنا جلد آجائیں گی اپی۔۔انہیں تسلی تو دے دی تھی مگر اسکا اپنا خود کا دل رو رہا تھا کیوں ان کی خوشیوں کو نظر لگ گئی تھی۔۔
کمرے میں لال رنگ کی ہلکی روشنی پھیلی ہوئی تھی جو ماحول کو رومانوی بنا رہی تھی۔
بستر پر لیٹے جمیل نے مخمور آنکھوں سے سامنے دیکھا جہان ڈریسنگ کے سامنے وہ حسینہ کھڑی تھی۔
وہ آہستہ سے قدم بڑھاتی اسکی جانب بڑھی
اس سے پہلے وہ اگلا عمل کرتا بجتے فون نے اسکا موڈ خراب کیا تھا۔۔
See translation
