Janam By Reeha Shah Readelle50218 Episode 07
No Download Link
Rate this Novel
Episode 07
اسکے سامنے عجیب سی صورتحال تھی تسنیم بیگم نے اسے اسے خود میں بھینچا ہوا تھا اور وہ بے بسی سے وجدان کو دیکھ رہی تھی جو اپنی ماں کو اتنے عرصے بعد اتنا خوش دیکھ رہا تھا۔
“بس کردیں اماں میری بیگم کی جان لینگی کیا”انہیں مسلسل اسے پیار کرتے دیکھ وہ انہیں ٹوک گیا تو ہنس پڑی۔
“تو نے اتنی بڑی خوشی دی ہے مجھے وجی میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکتی ایسی چاند جیسی دولہن تو نے مجھے لا کر دی ہے”اسکا ماتھا چومتے وہ جذباتی ہوگئی تھیں۔
وجدان نے تھوڑا بہت سچ جھوٹ ملا کر انہیں بتایا تھا اور ہو مان گئی تھیں۔
وہ تو اسے سہی وقت پر ان کے آنے کا پتا چل گیا تھا ورنہ وہ لوگ بری طرح سے پکڑے جاتے۔۔
“میں آپ کے لئ
ے چائے لاتی ہوں”ان دونوں کو باتیں کرتا دیکھ وہ فوراً سے اٹھ کر کچن میں آگئی۔
دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ہونٹوں پر ابھی بھی اس شخص کا لمس محسوس ہو رہا تھا جان لبوں پر آگئی تھی۔
زرا سی قربت پر یہ حال تھا جب وہ حقیقت میں قریب آئے گا تب کیا ہوگا یہ سوچ آتے ہی اس کی جان نکلی تھی۔۔
اس کے پسینے چھوٹ گئے تھے حقیقت میں۔
باہر تسنیم بیگم وجدان کی کلاس لے رہی تھیں شادی چھپانے پر مگر اسے سب سے اچھا یہ لگا کہ وجدان نے اس پر زرا سی بھی آنچ نہیں آنے دی تھی۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر گئی تو وہ ان کے پاس بیٹھا انہیں منا رہا تھا اسے دیکھ تسنیم بیگم نے اسے اپنے آنے کو کہا تو وہ آہستہ سے چلتی ان کے برابر آکر بیٹھی تو انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔
“اس کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ رہی میں دیکھ کتنی معصوم سی ہے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ میرے پوتا پوتی تجھ پر نہیں جائیں گے میری بہو پر جائینگے”اسکے گال چٹا چٹ چومتی وہ ہنس کر بولی تو رحہ کو لگا وہ شرم سے سر نہیں اٹھا پائے گی۔۔
“اففف اماں ابھی ہماری شادی ہوئی ہے اور آپ کو پوتا پوتی یاد آرہے “اپنی خفت مٹانے کو وہ جلدی سے بولا۔
“مجھے نہیں پتا بس سب مجھے جلدی سے خوشخبری دو”وہ باضد ہوئیں تو وجدان نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھا جو سر جھکائے بیٹھی تھی۔
“اب یہ بات اپنی بہو سے پوچھیں میں تو تیار ہوں”
اس کے ایک دم پینترا بدلنے پر رحہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
وہ کیا بول رہا تھا یہ۔۔۔۔۔۔
“ہائے ماں صدقے میری بہو کیوں نہیں مانے گی میری بات “اسکے گال چٹا چٹ چومتے وہ خوشی سے بولی تو وہ سر جھکا گئی۔
“جاؤ تم لوگ آرام کرو اب میں بھی آرام کرونگی”اسکی شرم دیکھتے انہوں نے کہا تو وہ فوراً سے وہاں سے بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی تھی۔
یہ اب کونسا نیا تماشہ اسکی زندگی میں آنے والا تھا۔۔
وہ ابھی سوچوں میں گم تھی کہ دروازہ بند ہونے کی آواز پر اس نے چونک کر پیچھے دیکھا تو سامنے وجدان کو کھڑے پایا۔
اسکے دل کی اسپیڈ حد سے زیادہ تیز ہوئی تھی۔
“آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
“تو کہاں جاؤں اماں کی موجودگی میں دوسرے کمرے میں تو میں نے سونے سے رہا اور ویسے بھی شوہر ہوں میں تمہارے ساتھ سو سکتا ہوں۔۔”اسکی طرف قدم بڑھاتے اس نے کہا تو اسکی جان نکلی تھی۔
“لیکن یہ تو مجبوری”.”
“شادی شادی ہوتی ہے رحہ اور اب آپ میرے زمہ داری ہیں اس رشتے کو قبول کرلیں زیادہ اچھا ہے”اسکی کمر کے گرد ہاتھ ڈال اس نے ایک دم سے اسے کھینچا تو وہ اسکے بدلے انداز پر ساکت ہوئی تھی۔
“آپ دور۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی وہ جھک کر اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی گرفت میں لے گیا اور آج کے دن میں یہ دوسرا جھٹکا تھا اس کے لئے۔
آزادی ملتے ہی وہ اس سے دور ہوئی تو وجدان کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“کیا چاہتی ہو اپنی ضرورت کے لئے کسی اور کے پاس جاؤں ؟ اس کے غصے بھرے انداز پر وہ سہمی تھی اور فوراً سے نا میں سر ہلایا تھا ۔
“قریب آؤ میرے فوراً”اس نے سخت لہجے پر وہ کپکپاتے اس کے پاس آئی تو بنا وقت ضائع کئے وہ اسکے چہرے پر جھکا تھا۔۔
مدہوشی سے اسکے ایک ایک نقش کو اپنے سلگتے لبوں سے چھوتا وہ اسے الگ ہی دنیا میں لے جا رہا تھا۔
رحہ نے مضبوطی سے اسکی شرٹ کو اپنی گرفت میں جکڑا تھا۔
وہ اسکے لبوں سے ہوتے اسکی گردن تک آیا تھا اور وہاں اپنے سلگتے لب رکھے تھے اسکی شہہ رگ جو چومتا وہ اسکے کندھے کر اپنے لب رکھ اسے کپکپاتے پر مجبور کرگیا تو اس نے گھبرا کر دروازے کی طرف دیکھا تھا۔
“کوئی آجائے گا”
اسکی گھبرائی آواز وجدان نے اسکا پریشان چہرہ دیکھا۔
“کوئی نہیں آئے گا اماں جو پتا ان کے پوتا پوتی کو لانے کی تیاری ہو رہی “اسکے بے باک لفظوں پر وہ شرم سے لال ہوگئ تھی تبھی اسکے سینے میں سر چھپایا تھا۔
“کیا ہوا شرم آرہی ہے؟”اسکے بال کان کے پیچھے اڑستے وہ جھک کر بولا مگر رحہ سے کوئی جواب نا دیا گیا اس کے لئے تو یہ صورتحال ہی دل دہلانے والی تھی جن حالات میں ان کی شادی ہوئی تھی ان میں اس طرح اس کا یوں اچانک اپنا حق جمانا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا مگر وہ اسے روک نہیں سکتی تھی کیونکہ یہ حق تو خود اس نے وجدان کو دیا تھا اب مکرنے سے وہ خود کا نقصان نہیں کر سکتی تھی اسے صفیر کو بھلا کر ایک نئے رشتے کے لئے خود کو تیار کرنا تھا۔
وجدان آہستہ سے اسکے شولڈر سے گردن تک آیا تھا وہ کپکپا رہی تھی مگر وجدان کو اس پر رحم نہیں آرہا تھا وہ اسے یونہی لئے بیڈ تک لایا اور اسے بیڈ پر گراتے خود اس پر حاوی ہوا تھا۔
اسکے شولڈر کے پاس سے قمیض ہٹاتے وہ دیوانہ وار وہاں اپنے سلگتے لب رکھتے اسے بے حال کر رہا تھا۔
اور وہ مزاحمت کرنے کی بھی ہمت نہیں رکھتی تھی۔
اس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا بجتے فون نے اسے بری طرح ڈسٹرب کیا تھا.
اس نے فون نکال کر دیکھا تو اسکے ماتھے پر پڑے بل خود ہی غائب ہوئے تھے وہ ایک دم سے سیدھا ہو کر بیٹھا تھا۔
رحہ نے اسکا یہ انداز بہت اچھے سے نوٹ کیا تھا۔
“سب ٹھیک تو ہے؟”
“سب ٹھیک ہے مجھے ابھی جانا ہوگا اپنا اور اماں کا خیال رکھنا۔”
اسکے ماتھے پر لب رکھتا وہ بنا لمحے کی دیری کے وہاں سے نکلتا چلا گیا تو رحہ کو حیرت نے گھیرا تھا مگر اپنی جان خلاصی ہونے پر اس نے شکر ادا کیا تھا۔
مگر اسکا یہ بدلہ اسکی واقعی سمجھ نہیں آیا تھا۔
وہ تیزی سے اپنے آفس آیا تھا جہاں صفیر کو پریشانی میں دیکھ اسے بہت کچھ برا ہونے کا ڈر لگا تھا۔
“کیا ہوا ہے انسپکٹر صفیر ؟
“سر کچھ بدمعاشوں نے رحہ کے گھر پر حملہ کیا ہے جب تک پہنچا وہ لوگ اس جگہ کو کافی نقصان پہنچا چکے تھے۔
“اسکے فیملی میمبر ٹھیک ہیں”اسکا دل انجانے خوف سے دھڑک رہا تھا۔
“نہیں سر رحہ کے والد صاحب بہت بری طرح سے زخمی ہوئے ہیں اور اسپتال میں ہیں ان کی حالت ٹھیک نہیں ہے انہیں ہوش نہیں آرہا اور اسکی والدہ کو ہارٹ اٹیک ہوگیا ہے وہ دونوں۔۔۔”اتنا بولتے وہ ایک دم چپ ہوا تھا وجدان اچھے سے سمجھتا تھا وہ لوگ جس کیفیت سے گزر رہے ہیں مگر اسے پرواہ صرف اور صرف رحہ کی تھی وہ کیسے اسے یہ سب بتائے گا۔۔۔
“سدرہ کو میں فلحال اپنے گھر لے گیا ہوں مگر سر میں زیادہ دن تک اسے وہاں نہیں رکھ سکتا میں ہر ممکن کوشش کر چکا ہوں رحہ کو ڈھونڈنے کی “
“صفیر کا تم میری ایک بات مانو گے؟”
وجدان کے کہنے پر اس نے سر ہلایا تو اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔۔۔
“تم سدرہ سے نکاح کرلو دیکھو ایسے دنیا باتیں بھی نہیں بنائے گی اور دوسرا کوئی نہیں جانتا رحہ شمس کب واپس آئے اور اگر آئی بھی تو کیا یہ دنیا اسے قبول کرے گی تم اسے قبول کرو گے؟”وجدان کی بات پر وہ گہری سوچ میں پڑ گیا تھا آنکھوں کے سامنے وہ معصوم سا چہرہ گھوما تھا جس نے کل سے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا وہ تو شکر تھا کل وہ اسکے ساتھ تھی ورنہ وہ آدمی اسے لے جاتے۔
اسکا سوچ کر ہی وہ اتنا پریشان ہوگیا تھا وجدان کا مشورہ اسے بالکل ٹھیک لگا تھا۔
اس لئے وہ خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تبھی صبور اندر داخل ہوا تھا۔
“سر وہ کنگ کے ہی آدمی تھے جو بھابھی کی تلاش میں وہاں آئے تھے مگر ان کے ماں باپ کے سوا وہاں انہیں کوئی نہیں ملا تو کافی توڑ پھوڑ کی ہے انہوں نے”
“یہ تو ہونا تھا صبور ایک نا ایک دن تو اب ہی سہی “
“کیا مطلب سر”اسکے عجیب سے لہجے پر صبور نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
“مطلب کنگ کو اسے ڈھونڈنا تو تھا”
“اب آگے کیا کرنا ہے؟”
“اب تک غائب ہونے والی تمام لڑکیوں کے نام پتا کرو ہر حال میں”
اسے حکم دیتا وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔
“پورا کمرہ پھولوں سے سجا ہوا تھا اور ان پھولوں سے سجی سیج پر وہ معصوم سی گڑیا اپنے شوہر کی منتظر تھی اسکا دل ڈر سے سکتا جارہا تھا آنے والے لمحات کا سوچ اسکی ہتھیلی پر پسینہ نمودار ہوا تھا۔۔
تبھی دروازہ کھلا تھا اور کوئی اندر داخل ہوا تھا۔
قدموں کی چاپ پر اسکا دل اچھل کر حلق میں آیا تھا۔۔
اسکا شوہر اسکے پاس آکر بیٹھا اور آہستہ سے گھونگھٹ اٹھایا تھا۔۔
“بہت حسین”اسکے ہاتھ تھامتے وہ مدہوشی سے بولا تو اس نئی نویلی دلہن کے سر پر دھماکہ ہوا تھا کیونکہ اسکا شوہر نشے میں تھا۔۔
“اپ۔۔۔نشہ۔۔۔”
“شش۔۔۔۔ کچھ نا بولو میری جان آج کچھ بولنا نہیں ہے”اسکے لبوں پر انگلی رکھتے وہ ہولے سے ہنسا تو اسے لگا وہ کسی دلدل میں پھنس گئی ہے۔
“دور رہے ہم سے ایک حرام چیز پی کر آئے ہیں آپ کو احساس بھی ہے؟”اسے خود سے دور کرتے وہ چیخی تو سامنے والے نے ناگواری سے اسے دیکھا تھا۔
“زیادہ نا بک بک کر”اسکے کھینچ کر بیڈ پر گراتے وہ نشے میں دھت ہر چیز بھول رہا تھا۔۔
اسکے ہونٹوں کو ہونٹوں میں قید کئے وہ دیوانہ وار انہیں چوم رہا تھا اور وہ خود کو بچانے کی کوشش میں ہلکان ہورہی تھی۔
وہ شخص ہونٹوں سے سفر کرتا اسکی شہہ رگ پر رکا تھا اور پھر آہستہ سے مزید جھکتا وہ اسکی زپ کھول رونے پر مجبور کرگیا۔۔۔
اپنے اوپر اسکے ہاتھ کا لمس محسوس کر وہ رو رہی تھی مگر سامنے والے کو یہ آنسو سکوں پہنچا رہے تھے اسے صرف اپنی خواہشات سے مطلب تھا۔
وہ دیوانہ وار اس پر جھکا اپنی شدتیں اس پر لٹا رہا تھا اور ہو بن پانی کی مچھلی بنی تڑپ رہی تھی بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اس چیز کی خواہش تو نہیں کی تھی اس نے ۔
وہ شخص اپنا مقصد پورا کر کے اٹھا اور ایک نظر اسکے روتے چہرے کو دیکھا۔
“ابھی تو فلم شروع ہوئی ہے ابھی سے یہ آنسو”خباثت سے ہنستا اس نے ایک دم کسی کو پکارا تو دروازہ کھول کر کوئی اندر داخل ہوا اسکے آنسو تھمے تھے۔
کیا اسکا شوہر اسکا سودا۔۔۔
وہ بے یقین سے آنے والے شخص کو بے لباس ہوتے دیکھ رہی تھی جو اب آہستہ آہستہ اسکے قریب آرہا تھا اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ وہ چیخ سکے مزاحمت کر سکے۔۔۔
اسکا شوہر اسے کسی اور کے حوالے کرتے کونے پر رکھے صوفے پر آنکھیں موندے لیٹ گیا۔
اس شخص نے آہستہ سے جھک کر اسکے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوا تھا اور پھر وہ ایک بار اپنی زات کو روندنے ہر غم منانے لگی تھی۔۔
وہ کیا تھی اسکا وجود ایسے کویں روندا جارہا تھا اس نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا تھا پھر کیوں وہ اس دلدل میں گر گئی تھی کیا قصور تھا اسکا وہ بے بس تھی اسکے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کیا بن باپ کی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔۔
اس کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے مگر وہ ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئی تھی وہ مر گئی تھی اسے جیتے جی مار دیا گیا تھا۔۔۔
وہ شخص اپنی حوس پوری کر پیسے اس کر پھینکتا کب کا جا چکا تھا اور وہاں بچا تھا تو اس کا سانسیں لیتا مردہ جسم۔۔۔
ایک قیامت آکر اس پر سے گزری تھی اور اب وہ جینا نہیں چاہتی تھی مگر وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے چاہنے نا چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔۔۔
“آپ بہت جلد میری بیٹی کا نکاح کر رہے ہیں ابھی تو صرف پانچ سال کی ہے”انہوں نے ایک بار پھر اپنے شوہر کو سمجھانا چاہا۔
“چپ کر جا نیک بخت اپنا داماد کونسا بڑا ہے وہ بھی تو دس سال کا ہے اور ویسے بھی وہ لوگ بہت دولت مند ہیں ہم ایک عرصے سے انہیں جانتے ہیں تو بس چپ ہوجا ان لوگوں کے یہاں سے جانے سے پہلے نکاحِ ہونے دے ورنہ کہاں سے پالیں گے بیٹیوں کو؟ان کی بات پر وہ چپ رہ گئیں یوں وہ چھوٹی سی بچی کسی کے نکاح میں آئی تھی۔۔۔
اس بات سے انجان کے آنے والے کئی سال اس کی زندگی پوری طرح سے بدل کر رکھ دینگے۔۔
