Janam By Reeha Shah Readelle50218 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
گاڑی روکنے کی آواز سن ان دونوں نے بیچارگی سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔
سبحان کے سر پر پٹی بندھی تھی۔
اسکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اتنا بڑا قدم اٹھا تو لیا تھا مگر اب اگلا لمحہ اسکی سانسیں تک چھین سکتا تھا۔
وہ غیض و غضب کی تصویر بنا وہاں آیا تھا۔
“آخر اتنی بڑی لاپرواہی کیسے؟”ٹیبل کو ٹھوکروں میں اڑاتا وہ آندھی طوفان بنا اندر داخل ہوا تو ان دونوں کی سانس خشک ہوئی تھی۔
“کنگ وہ۔۔۔۔” کپکپاتے لہجے میں۔ جمیل اتنا ہی بول سکا اور آہستہ سے سبحان کی طرف اشارہ کیا۔
جس کے سر پر بندھی پٹی دیکھ کنگ کی آنکھوں میں خون اترا تھا
“ڈھونڈو اسے جیمل ہر حال میں چاہیے مجھے وہ اس سے پہلے وہ اپنے گھر پیچے دبوچ کر لاؤ اسے میرے بندے پر ہاتھ اٹھانے کی کڑی سزا ملے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے “سبحان کا زخمی سر دیکھتے وہ غرایا تھا۔
“کنگ وہ کہیں نہیں ہے میں ڈھونڈ آیا ہوں”.جمیل کی بات پر اس نے کانچ کی ٹیبل کو زور سے ٹہوکر ماری تھی۔
“بندے لگاؤ کام پر جمیل مجھے وہ یہاں چاہیے چاہے کچھ بھی ہو جائے آئی سمجھ”پاگل دیوانہ وہ وہاں سے نکلا تھا۔
اور اسکے جاتے ہی ان دونوں نے سکون کا سانس بھرا تھا
“ڈھونڈو اسے ورنہ کنگ ہمیں ہمیشہ کے لئے گم کر دے گا”اسے خونخوار نظروں سے گھورتے جمیل نے کہا تو وہ سر کھجا گیا۔
ان کی نظر میں اسکا یہاں رہنا ان دونوں کے کام خراب کر رہا تھا
اس لئے ان دونوں نے مل کر اسے یہاں سے آزاد کروایا تھا اور اگر یہ بات کنگ کو پتا چلتی تو وہ دونوں اپنی جان سے جاتے اسی لئے انہوں نے ایسا ظاہر کیا تھا کہ وہ اسے زخمی کر کے بھاگی ہے
“میں زخمی ہوں تم ڈھونڈو اسے “سبحان کے ہری جھنڈی دیکھانے پر جمیل کھول اٹھا مگر فلحال کچھ بھی بول کر وہ اپنا سکون تو بالکل غارت نہیں کر سکتا تھا۔
مندی مندی آنکھیں کھول اس نے اپنے بھاری ہوتے سر کو تھاما تھا۔
جسم میں درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
کمزوری و نقاہت حد سے زیادہ تھی۔
اسے لمحے لگے تھے خود کو نارمل حالت میں لانے میں اور جب دماغ سکون میں آیا تو گزرا وقت کسی فلم کی ماند اسکے سامنے آیا تھا۔
وہ ایک سے گھبرائی تھی۔
اور چاروں طرف نظر دوڑائی تو خود کو ایک کمرے میں پایا۔
یہ کمرہ اس کمرے سے تو ہزار گنا بڑا تھا کھلا ہوا دار۔۔
وہ ابھی سوچوں میں گم تھی جب کمرے کے دروازہ کھلا تھا۔
اور دروازے کی آواز سن اسکا دل حلق میں آیا تھا خوف سے اس نے بیڈ شیٹ کو مٹھیوں میں جکڑا تھا۔
کمرے میں داخل ہوتے وجدان نے بغور اسکے تاثرات دیکھے تھے۔
“ریلکس”اسے اشارے سے ریلکس ہونے کا کہتا ہو اسکے پاس آکر کھڑا ہوا تو رحہ نے سر جھکایا تھا۔
“کون ہیں آپ ؟”جھکے سر کے ساتھ اس نے پوچھا تو وجدان نے اسکا جھکا سر دیکھا
“یہ سوال تو مجھے پوچھنا چاہیے اتنی رات کو میری گاڑی کے سامنے آپ آئی تھیں میں نہیں”
“تو آپ نہیں بچاتے میں مرنا چاہتی ہوں پلیز مجھے یہاں نہیں رہنا “
اتنا کہتے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تو وجدان نے گہرا سانس بھرا۔
“دیکھیں میں ایک پولیس آفیسر ہوں آپ مجھ پر یقین کر سکتی ہیں”
اسکے پاس بیٹھتے وجدان نے اسے اپنا کارڈ دیکھایا تو وہ سوچ میں پڑ گئی۔
اور پھر کچھ سوچتے اس نے سب کچھ اسے بتایا شروع سے آخر تک ایک ایک لفظ اسے بتایا تھا اور اسکی باتوں پر وجدان کو جھٹکا لگا تھا۔
تو کیا یہ انسپکٹر صفیر کی۔۔۔۔
وہ بس سوچ کر رہ گیا۔
“کنگ یہی نام لیا نا آپ نے؟”
“جی”
“وہ ایک بہت خطرناک انسان ہے مجھے حیرت ہے اسکے ساتھ رہ کر آپ اب تک محفوظ کیسے رہی ہیں”
“مجھے نہیں پتا لیکن مجھے بس وہاں واپس نہیں جانا پلیز میری ہیلپ کردیں “
“ٹھیک ہے میں آپ کی مدد کروں گا لیکن کیا آپ اپنے گھر جانا چاہتی ہیں وہ کنگ ہے وہ آپ کو کہیں بھی ڈھونڈ لے گا”وجدان کی بات پر اس نے خوفزدہ ہو کر اسے دیکھا تھا۔
“تو اب میں کہاں جاؤں گی اور میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے”
“فلحال جب تک وہ آپ کی تلاش بند نہیں کردیتا آپ یہاں میرے گھر میں رہ سکتی ہیں”وجدان کو فلحال ایک یہی حل نظر آیا تھا۔
“میں یہاں کیسے؟”اس نے پریشانی سے اسے دیکھا اس سے پہلے وجدان اسے کوئی جواب دیتا اسکا فون بجا تھا۔
نمبر دیکھ اس نے گہرا سانس بھرا تھا۔
“آپ آرام کریں میں بات کر کے آیا”اسے کہتے وہ باہر اپنے روم میں آیا اور فون ریسو کیا
“اسلام وعلیکم”
“وعلیکم السلام کیسی اولاد دی ہے اللہ نے مجھے جو مجال ہے خود سے کبھی ماں کو فون کرکے”تسنیم بیگم کی آواز پر اس دانتوں تلے لب دبایا۔
“یار اماں آپ کو پتا تو ہے میری روٹین “
“ہاں بس اس نوکری کے چکر میں بوڑھا ہوجانا میں بتا رہی ہوں وجدان مجھے تیری دولہن کو دیکھنا ہے تو آ گاؤں یہاں بہت رشتے ہیں کسی سے بھی تیرا نکاح کردوں گی تاکہ مرنے سے پہلے اپنے پوتے پوتیوں کا چہرہ تو دیکھ سکوں”
“اماں۔۔۔”ان کے مرنے کی بات پر وہ تڑپا تھا۔
“کوئی اماں نہیں جب تک مجھے بہو نہیں مل جاتی تو مجھے اپنی ماں نہیں کہے گا اب ایسے تو ایسے ہی سہی۔۔”
غصے سے کھولتے وہ فون بند کرگئیں تو اس نے گہرا سانس بھرا تھا
پہلے ہی زندگی میں اتنے مسئلے تھے اب یہ ایک اور نیا مسئلہ۔
فون بند کر کے وہ جیسے ہی مڑا ڈور بیل کی آواز سن وہ دروازے تک آیا تھا جہاں صبور اس کا منتظر تھا۔
“آجاؤ صبور”
“خیریت ہے سب باس یہ لیڈیز کپڑے؟”اس نے رحہ کے لئے کچھ سامان منگوایا تھا اور وہی صبور دینے آیا تھا۔
“کیا ہوا کیوں پریشان لگ رہے ہیں”اسکے تاثرات دیکھ صبور کو ہنسی آئی تھی مگر وہ یہ گستاخی نہیں کرسکتا تھا۔
صبور کے پوچھنے پر وہ اسے سب بتاتا چلے گیا تو اسکی باتوں پر وہ خود بھی پریشان ہوا تھا مگر یہ پریشانی وقتی تھی۔۔
“میرے پاس ایک حل ہے آپ کے مسئلے کا اگر آپ راضی ہوں”
“کیسا حل؟”
“آپ اور رحہ میڈم شادی کرلیں اس طرح انہیں رہنے کو چھت بھی مل جائے گی اور آپ کو اس شادی نامی بلا سے چھٹکارا آنٹی پھر آپ کے ساتھ زبردستی بھی نہیں کرینگی۔
جب معاملات ٹھیک ہو جائیں تو رحہ میڈم جہاں جانا چاہیں جا سکتی ہیں”
“دماغ خراب ہے تمہارا وہ لڑکی جو مجھے ابھی چند گھنٹے پہلے ملی ہے میں اس سے شادی کرلوں ناممکن”
“باس اس طرح ہمیں کنگ تک رسائی مل سکتی ہے آپ کا فائدہ زیادہ ہے”صبور کی بات وہ سوچ میں ضرور پڑا تھا مگر اتنی جلدی وہ ایسا کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا۔
“آپ سوچیں اس بات پر میں چلتا ہوں کچھ ضروری کام ہے”اسے راستہ دیکھاتا صبور وہاں سے گیا تو وہ اندر کمرے میں آیا جہاں وہ کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی۔
“یہ کپڑے ہیں اور کچھ سامان آپ کے لئے۔۔۔”ٹیبل پر سامان رکھتے اس نے رحہ کو متوجہ کیا تو اس نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سامان کو۔
“آپ پلیز مجھے کسی دارلامان میں چھوڑ آئیں “
“کیوں؟”اسکی بات پر وجدان کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
“میں کسی پر بوجھ نہیں بن سکتی میں نہیں چاہتی کہ میں واپس گھر جاؤں اور میرے گھر والوں کے لئے ایک نئی مصیبت کھڑی ہو”
اسکے آگے ہاتھ جوڑتے وہ روہانسی ہوئی تو وجدان نے لمحے کو کچھ سوچا۔
“میرے پاس اس مسئلے کا ایک حل ہے مگر شاید آپ کے منظور نا ہو”
“کیسا حل؟”اس نے چونک کر وجدان کو دیکھا
“آپ مجھ سے نکاح کر سکتی ہیں جب تک کنگ کا مسئلہ حل نا ہو جائے اس طرح آپ کو کہیں جانا بھی نہیں پڑے گا اور آپ ایک محفوظ جگہ پر رہ لینگی دوسرا میری مدد بھی ہوجائے گی.”
“کیسی مدد؟”اسکی بات پر وہ حیرت زدہ تھی مگر مدد کے نام پر اسکے کان کھڑے ہوئے تھے۔
“میری مدر چاہتی ہیں کہ میں شادی کرلوں مگر میں فلحال کسی بھی رشتے میں بندھنے کا رسک نہیں لے سکتا کیونکہ میری اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں آپ سے نکاح سے ہم دونوں کا فایدہ ہوگا میری ماں بھی مجھے شادی کے لئے فورس نہیں کرینگی اور آپ کو بھی گھر مل جائے گا جب حالات ٹھیک ہو جائیں گے تو آپ جہاں مرضی چاہیں جا سکتی ہیں”
وجدان کی بات پر وہ واقعی سوچ میں پڑ گئی تھی کیا واقعی ایسا کرنے سے اسکے مسئلے حل ہو جائیں گے؟
“دیکھو یہ سب تمہارے مرضی کے ساتھ ہوگا میں بس اس کنگ تک پہنچنا چاہتا ہوں جس نے ناجانے کتنی لڑکیوں کی زندگی برباد کردی تمہیں پتا ہے آج تک ایک بھی لڑکی زندہ نہیں ملی ہے”
“جانتی ہوں میں نے نیوز میں دیکھا تھا مگر میں نہیں جانتی اس نے آج تک کیوں مجھے نقصان نہیں پہنچایا حالانکہ میں نے اس سے بہت زیادہ نفرت کا اظہار کیا تھا”
“وہ اس لئے کیونکہ تم سے ضرور اسکا کوئی نا کوئی مطلب جڑا ہے اور اگر ایسا ہے تو وہ تمہیں ڈھونڈنے کے لئے سب پاگل ہورہا ہو گا “
“تو کیا وہ میرے ماں باپ کو بھی نقصان پہنچائے گا اب ؟”
ایک نئے ڈر نے سر اٹھایا تو وجدان نے اسکا معصوم سا چہرہ دیکھا۔
“جب تک تم ان لوگوں کے پاس نہیں ہو تب تک وہ لوگ محفوظ ہیں وہ سب سے پہلے تمہارے گھر اور قریبی رشتہ داروں میں تمہیں ڈھونڈے گا اگر تم نہیں ہونگی تو وہ انہیں کچھ نہیں کرے گا”
وجدان کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا
“مجھے اپنے گھر کا ایڈریس دو فوراً”وجدان نے اتنے اچانک کہا کہ رحہ نے چونک کر اسے دیکھا
“ان لوگوں کی حفاظت بہت ضروری ہے مس رحہ”
اس کی بات کا مطلب سمجھتے اس نے جلدی سے اپنا ایڈریس اسے لکھوایا تھا
اور پھر بہت سوچنے کے بعد وہ اس فیصلے پر پہنچی تھی کہ اسے وجدان سے یہ نام کی شادی کرنی ہے…
“میں آپ سے شادی کرنے کے لئے تیار ہوں”اسے واپس جاتے دیکھ وہ جلدی سے بولی تو وجدان کے باہر کو بڑھتے قدم رکے تھے۔
“کل میں نکاح خواں کو بلا لونگا.”
“مگر میرے ولی؟”اسے باہر بڑھتے دیکھ وہ ایک بار پھر بولی تو وجدان نے گہرا سانس بھرا۔
“حالات آپ کے سامنے ہیں ہم کسی کو آپ کی یہاں موجودگی کا نہیں بتا سکتے۔۔۔”
“مولوی سے پوچھ لونگا اور پھر اسکے بعد ہی یہ نکاح ہوگا آپ بے فکر رہیں”
اسے کہہ کر وہ رکا نہیں تھا اور اسکے جاتے ہی آنسوؤں نے تواتر سے رحہ کے بال بھگوئے تھے کیوں زندگی اتنی مشکل ہوگئی تھی وہ سمجھ نہیں پارہی تھی۔۔
“کیا خبر ہے تیرے پاس”اس آدمی کی کڑک آواز پر اس نے اپنی ساڑھی میں چھپا وہ انوالپ اسکے آگے پھینکا تھا اور ایسی جرات وہی کر سکتی تھی۔
“اس میں ہے سارہ خبریں اور اگر آئندہ میرے سے ایسے بات کی تو یاد رکھنا تمہارے لئے کام کرنا بند “اسکے لہجے پر وہ سلگ کر بولی تو آدمی کے ماتھے پر بل آئے تھے۔
ایک طوائف ہو کر مجھے تیور دیکھا رہی ہے کیا اوقات بھول گئی ہے اپنی؟”
“مجھے میری اوقات تو بہت اچھے سے بتا ہے سرکار کہ تم جیسے عزت دار لوگ بھی اپنی اوقات بھول کر اکثر ہم طوائفوں کے قدموں میں ڈھیر ہوئے نظر آتے ہو”اسکی کاٹ دار آواز پر سامنے والے کے چہرے کا رنگ سرخ ہوا تھا۔
“بڑی زبان آگئی ہے ماہ جبیں بائی ؟”
“جب کام بڑے کرتی ہوں تو زبان بھی بڑی کرنی ہی پڑتی ہے ورنہ تیرے جیسے مجھے نوچ کھانے کو تیار رہتے ہیں”زہریلے انداز میں کہتی وہ واپسی کے لئے مڑی تھی اس آدمی نے بےبسی سے مٹھیاں بھینچی کیونکہ وہ چاہ کر بھی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا کیونکہ وہ اس جگہ تھی جہاں کوئی نہیں تھا۔
“ایک بار مطلب پورا ہوجائے پھر نکالتا ہوں میں تیری اکڑ”غصے سے بڑبڑاتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا اور اسکے جاتے ہی دروازے کی اوٹ سے ماہ جبیں کی چمچی برآمد ہوئی تھی۔
“بائی اسکا کیا کرنا ہے وہ حد سے زیادہ بکواس کر رہا تھا “
“کرنے دے گلابو کرنے دے ابھی وہ بس زبان ہی چلا سکتا ہے بہت مگر آگے جا کر اسکے قابل بھی نہیں رہے گا”
حقارت سے کہتے وہ قہقہ لگا اٹھی تھی۔
“یہ میری دنیا ہے اور یہاں صرف میری مرضی چلتی ہے میرا سکہ چلتا ہے کتنے آئے کتنے گئے کیا کبھی غائب ہونے والے کی کسی نے خبر لی ؟”
اس کی بات پر گلابو ہنس پڑی۔
“چل جا تیاری کر میری آج بڑے نواب کو عیش کروانے ہے”بال کو چوٹی سے آزاد کرتی وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔
نکاح خواں کے ساتھ صبور اپنے چند دوستوں کو لایا تھا تا کہ یہ نکاح ہو سکے۔
اندر وہ بیٹھی اپنی قسمت کی ستم ظرفی پر ماتم کے سوا کچھ نہیں کر سکتی تھی ایک دلدل سے نکلی تو ایک نئی پریشانی نے اسے گھیر لیا تھا ایک اجنبی جسے وہ جانتی تک نہیں تھی اس سے شادی کرنا اس کے لئے اس دنیا میں سب سے مشکل کام تھا مگر اس نے یہ کرنا تھا اپنے گھر والوں کی حفاظت کے لئے۔
چند دنوں میں ہی اسکی زندگی ایک دم سے تبدیل ہوگئی تھی کہ اس طرح تو اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد نکاحِ خواں آئے اور نکاح کی رسم ادا کی۔
وہ منٹوں میں ایک اجنبی کے ساتھ باندھ دی گئی تھی۔
اب ایک نئی کہانی کا آغاز ہونے لگا تھا جس سے وہ انجان تھی۔۔
