Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

خاموشی کا راج چار سو چھایا ہوا تھا وہ ابھی تسنیم بیگم کو سلا کر اپنے کمرے میں آئی تھی کافی دیر تک وہ اس سے باتیں کرتی رہی تھیں اسے وجدان کے بچپن کے قصے سناتی رہی تھیں جنہیں سن اسکا ہنس ہنس کر برا حال ہوا تھا۔
یہاں تک کے اسکی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
وہ جلدی سونے کی عادی تھیں اس لئے ان کے سوتے ہی وہ اپنے کمرے میں آگئی تھی وجدان ابھی تک نہیں آیا تھا۔
ایسے میں اپنے گھر والوں کی یاد اسے بری طرح آئی تھی۔
کتنی مگن زندگی تھی ان کی۔۔۔
اپنی سوچوں سے نکلی تو دھیان اسکا سامنے رکھی وجدان کی تصویر پر گیا تھا۔
اس نے وہ تصویر اٹھاتے غور سے دیکھا۔
وہ بے حد حسین تھا کہ کوئی بھی اس پر مر مٹ جاتا مگر وہ اسکا نصیب بنا۔
دن کا منظر یاد آتے ہی اسکے چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ نے ڈیرہ جمایا تھا۔
بے اختیار اسکے ہاتھ اپنے لبوں پر گئے تھے جہاں اسکا لمس ابھی محسوس ہوا تو اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا وہ نا ہو کر بھی ہر جگہ تھا۔
اسے خود میں وہ محسوس ہورہا تھا اسکا لمس اسے اپنے وجود کے ہر حصے پر محسوس ہورہا تھا۔
اس نے آنکھیں موند کر اس کی تصویر کو سینے سے لگایا تھا۔
چہرے پر شرمگیں مسکراہٹ چھائی ہوئی تھی یوں جیسے وہ اس کے سامنے ہو۔
اتنا خوبصورت احساس اس نے آج تک محسوس نہیں کیا تھا اور اب جب یہ احساس محسوس ہوا تو وہ اس سحر سے نکل نہیں پارہی تھی۔۔
گھڑی گیارہ بجا رہی تھی جب گاڑی کی آواز کر وہ اپنی سوچوں سے نکلی تھی۔
یہ آواز وجدان کی گاڑی کی تھی اس نے جلدی سے اسکی تصویر ایک طرف رکھی تھی اور کچھ آنکھیں موندے لیٹ گئی۔
کمرے کا دروازہ کھلا تو اسکا دل تیزی سے دھڑکا تھا۔
وہ خود میں اتنا حوصلہ نہیں پاتی تھی کہ اٹھ کر اس سے کھانے کا ہی پوچھ لے۔
وہ جو تھکا ہارا آیا تھا اسے سوتے دیکھ سکوں کا سانس لیا تھا وہ ابھی اسے کچھ بھی نہیں بتا سکتا تھا اسکے ماں باپ کے متعلق۔۔۔
اسے دھچکا تو اس بات سے لگا تھا کہ اتنی سیکیورٹی کے باوجود اتنا کچھ ہوگیا اور اسے پتا نہیں لگ سکا۔۔۔
وہ پچھتا رہا تھا اپنی لاپرواہی پر اس سے کیسے اتنی بڑی کوتاہی ہو سکتی ہے وہ پاگل ہورہا تھا۔
چینج کر کے وہ باہر آیا اور لائٹس آف کرتا اپنی جگہ پر لیٹا تھا۔
اسکے یوں پاس لیٹنے پر وہ خود میں سمٹی تھی وہ اسکی سوچوں سے یکسر انجان تھی۔
وجدان نے ایک نظر اسکے سوتے وجود کو دیکھا اور سیگریٹ سلگائی۔۔
دل میں ٹسیس سے اٹھی تھی اگر کوئی اسکے اندر جھانک لیتا جو اس کی پریشانی کی وجہ سمجھ جاتا مگر ایسا اب تک کوئی تھا ہی تو نہیں۔
سیگریٹ کی بدبو محسوس کر وہ شرم سائیڈ رکھتی اہک دم سے اٹھی تھی۔
“آپ سیگریٹ کیوں پی رہے ہیں ؟”
“سوری میں نے نیند خراب کر دی؟”شرمندہ ہوتے اس نے سیگریٹ بجھائی تو وہ فوراً سے نا میں سر ہلا گئی۔
“آپ پریشان لگ رہے ہیں سب ٹھیک تو ہے نا؟”
اسکے پریشان ہونے کر وجدان نے گہرا سانس بھر کر خود کو کمپوز کیا تھا۔
“میں ٹھیک ہوں کچھ نہیں ہوا بس ایک کیس کی وجہ سے تھوڑا الجھا ہوا تم سوجاؤ “اتنا کہتا وہ اٹھ کر کمرے سے نکل گیا تو اس نے بدلے انداز پر وہ چونکی تھی۔
اسے اس وقت کیا کرنا چاہیے تھا اسے۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں اور کیا نہیں۔
پھر کچھ سوچ کر وہ اپنی جگہ سی اٹھی اور باہر لاونج میں آئی جہاں وہ صوفے کی پشت سے سر ٹکائے آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا۔
“وجدان کوئی پرابلم ہے تو مجھ سے شئیر کریں ایسے اکیلے تو پریشان نا ہوں”,اسکے پاس بیٹھتے اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ کر رکھا تو اس نے سرخ آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا تھا۔
“میں بہت بے سکون ہوں رحہ حد سے زیادہ”اچانک سے اسکے گلے لگتے وہ بولا تو اسکے لہجے میں نمی محسوس کر اسکا دل دکھا تھا۔
رحہ نے اسکے گرد اپنے بازو سختی سے لپیٹے تو وجدان نے اسکے کندھے کر اپنے لب رکھے تھے۔
“مت ہو بے سکون دیکھئے گا سب ٹھیک ہوگا مجھے دیکھیں میں بھی تو امید پر زندہ ہوں
“رحہ۔۔۔”اسکے لہجے میں ایک عجیب سی بات تھی جسے سن کر وہ بری طرح چونکی تھی۔
“وجدان کیا اس بات کا تعلق میرے بابا سے ہے؟”اسکے سینے سے ہٹتے وہ پوچھ بیٹھی تو کچھ سوچ کر اس نے اسے سب سچ بتانے کا فیصلہ کیا تھا
“کنگ نے تمہارے گھر پر حملہ کردیا ہے تمہارے ماں باپ اسپتال میں ہے ہوش میں نہین ہیں اور سدرہ صفیر کے گھر کل صفیر اور اسکا نکاح ہو جائے گا اگر سدرہ راضی ہوتی ہے”
اس کی بات پر اسے سکتا ہوا تھا اسکی وجہ سے اسکے گھر والوں کے ساتھ اتنا کچھ ہوگیا تھا۔
آنسو اسکی آنکھوں سے رواں ہوئے تھے درد سے اسکا دل بے حال تھا ۔
“رحہ پلیز ہمت کرو”اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے میں وہ اہنے لبوں سے اسکے آنسو چن گیا مگر اس وقت اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا درد بہت تھا حد سے زیادہ۔
وجدان نے اسے اپنے سینے سے لگا کر اسے رونے دیا تھا اگر ایسا نا کرتا تو وہ پینک ہوجاتی۔۔۔
“میں سب ٹھیک کر دوں گا رحہ گناہگار کو اسکے کئے کی سزا ہر حال میں مل کر رہے گی سب تمہیں تھوڑا صبر سے کام لینا ہوگا تھوڑا برداشت کرنا ہوگا میری بات کا یقین کروں میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا آخر میں سب ٹھیک ہو جائے گا رو نہیں”اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ اسے مسلسل پرسکون کرنا چاہ رہا تھا جو اسکا سہارا پا کر اور سسک اٹھی تھی۔
“وجدان مجھے ان لوگوں سے ملنا ہے پلیز”
“ابھی وقت نہیں ہے رحہ ابھی نہیں کنگ کے کتے ہر جگہ گھوم رہے ہیں اور میں بھی نہیں جانتا کہ ہم لوگوں میں سے کون اس سے ملا ہوا ہے ہمیں ہر ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا اگر ابھی تم منظر پر آتی ہو تو وہ تمہیں پھر سے یہاں سے لے جائے گا اور ہم اس تک کبھی نہیں پہنچ پائیں گے “۔
“تو کب تک مجھے یوں چھپنا ہوگا وجی کب تک میرے نا ملنے پر اس نے دیکھیں میرے گھر والوں کے ساتھ کیا کردیا۔
“کچھ نہیں کیا میری بات سنو رحہ وہ صرف کچھ خاص لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور رپورٹ کے مطابق ہر لڑکی اسکے نشانے پر نہیں ہے بلکہ کچھ خاص”وہ بہت کچھ کہتے کہتے رکا تھا کیونکہ ابھی صحیح وقت نہیں تھا۔
“تم مجھ پر بھروسہ کرو پلیز”وجدان کے کہنے پر اس نے سر ہلایا اور اپنا سر اسکے سینے پر رکھا تھا۔
وجدان نے ایسے ہی اسے اپنے بازوؤں میں اٹھایا تھا اور اپنے کمرے میں آکر اسے بیڈ پر لیٹایا تھا۔
خود دوسری طرف آتے اس نے اسکا سر اپنے سینے پر رکھا اور دونوں پر بلینکٹ ٹھیک کیا تھا
وہ اس وقت اسکے حصار میں قید تھی بے بس۔۔۔
“زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے میں ہوں رکھ رہا ہو۔ تمہارے پیرنٹس کا خیال خود کو بالکل بھی اداس نہیں کرنا اور نا اب ان آنکھوں میں آنسو آئیں”اسکی نم آنکھوں کو اپنے لبوں سے چھوتے اس نے سرگوشی کی تھی۔
رحہ نے اپنی بند لزرتی پلکوں پر اسکا سلگتا لمس محسوس کیا تو اسکا گریبان مضبوطی سے تھما تھا۔
وجدان نے آہستہ سے اسکے گال پر اپنے سلگتے لب رکھے اور پھر گال سے ہوتا وہ اسکی ٹھوڑی کو اپنے لبوں سے چھوتا اسکا حسین چہرہ دیکھنے لگا جو رونے کی وجہ سے لال سرخ ہورہا تھا۔
اسکے بند یاقوتی لبوں پر اپنے لبوں کی مہر لگاتے وہ مدہوش سا اسے خود میں قید کرگیا کی اسکا لمس اپنے ہونٹوں پر محسوس کر رحہ نے اسکی گردن کے گرد اپنے ہاتھ باندھے تھے۔
وہ مدہوش سا اسکی سانسوں کی خوشبو کو خود میں اتار رہا تھا۔۔۔
اسکے لبوں کو آزادی دیتے اس نے مخمور نگاہوں سے اسکے بھیگے لبوں کو اپنے انگوٹھے سے چھوا تھا اور پھر آہستہ سے جھک کر اسکی شہہ رگ کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔
اپنی انگلی کی پور سے اسکے چہرے کا ایک ایک نقش چھوتا وہ اسکے کان کو اپنے لبوں سے چھوتا اسکا سر سینے پر رکھتے اسے خود میں چھپا گیا۔
“سوجاؤ جان ابھی صحیح وقت نہیں آیا”اتنا کہتا وہ اسے خود میں بھینچ کر آنکھیں موند گیا تو رحہ نے اسکی گردن میں اپنا چہرہ چھپایا تھا۔۔


وہ کل رات سے یہاں موجود تھی ایک قیامت تھی کو ان لوگوں پر آئی تھی اور اب چیزیں مزید خراب ہوتی چلی جارہی تھیں۔
صفیر کی امی بہت اچھی تھی اسکا بہت خیال رکھ رہی تھیں مگر ابھی جو کچھ صفیر اسے کہہ کر گیا تھا اسنے اس کا دل و دماغ جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔
بھلا وہ کیسے اپنی بہن کے منگیتر کے ساتھ شادی کر سکتی ہے مگر ابھی صفیر کی امی نے اسے بہت کچھ سمجھایا تھا اور اب اسکے پاس اس رشتے کو قبول کرنے کے علاؤہ کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا مل اسکا نکاح ہو جانا تھا اسکی بہن اور ماں باپ کے بغیر مگر اب حالات کا یہی تقاضا تھا اور یہ کڑوا گھونٹ پینا تھا۔۔۔
وہ ابھی انہیں سوچوں میں گم تھی جب کمرے کا دروازہ ناک ہوا تھا وہ ایک سے سنبھل کر بیٹھی تو دروازہ کھلا تھا اور آنے والا صفیر تھا جس کے ہاتھ میں کھانے کی ٹرے تھی۔
“آپ..”
“امی بتا رہی تھی کہ تم نے کھانا نہیں کھایا تو میں کھانا لے کر آیا ہوں”
“سوری بس وہ مجھے بھوک نہیں تھی “شرمندگی سے اس نے سر جھکایا تھا وہ لوگ پہلے ہی ان سب کے لئے اتنا کر رہے تھے اور وہ مزید اسے پریشان کر رہی تھی
“سوری کے بولو میں سمجھ سکتا ہوں آسان نہیں ہے یہ سب قبول کرنا”اسکے پاس بیٹھتے وہ بولا تو وہ زرا سا کھسکی تھی۔
“امی نے بتایا کہ تم نکاح کے لئے راضی ہوگئی ہو تو میں نے سوچا تم سے کچھ باتیں کلیئر کرلو”
“ج۔۔جی”وہ محض اتنا ہی بول سکی۔
“یہ نکاح میں کسی بھی طرح کے دباؤ میں آکر نہیں کر رہا ہوں اور جب تم میرے نکاح میں آؤ گی تو تمہارا وہی مقام ہوگا جو میری بیوی کا ہونا چاہیے۔
رحہ میرا ماضی تھی میں اسکی حفاظت کرونگا اسے ڈھونڈوں گا مگر مجھ پر صرف تمہارا حق ہوگا میں پوری دلی رضامندی سے اس رشتے کو قبول کر رہا ہوں اور تم سے بھی اسی کی امید رکھوں گا۔”
اسکی بات پر وہ آہستہ سے اپنا سر جھکا گئی تھی کیونکہ اب بولنے کو اسکے پاس کچھ نہیں بچا تھا کچھ بھی نہیں۔۔۔
“یہ مت سمجھنا سدرہ کے میں ماضی میں رہ کر تمہارے ساتھ ناانصافی کرو گا۔۔
“مجھے آپ پر یقین ہے صفیر مگر میری بہن میرے بارے میں کیا سوچے گی نہ اسکے منگیتر ہے ساتھ”
وہ بہت کچھ کہتے کہتے چپ ہوگئی ۔
“وہ کچھ نہیں سوچے گی کیونکہ حالات کی نزاکت کا اسے بھی اندازہ ہے میں بنا کسی رشتے کے اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتا اور اگر تمہیں اکیلا چھوڑا تو کنگ تمہیں نقصان پہنچا سکتا ہے یہ کھیل بہت بڑا اور خوفناک ہے یہاں سے نکلنا بالکل بھی آسان نہیں ہے میری بات کو سمجھو اور سب بھول کر آگے بڑھو “
اسکا ہاتھ تھامتے وہ نرمی سے بولا تو وہ سر ہلا گئی اب اسکے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا یہاں سے آزادی حاصل کرنے کا۔۔
“میں سمجھ رہی ہوں میں آپ کے ساتھ کر قدم پر اس کنگ سے اپنی بہن کو بچانے کے لئے مجھے جان بھی دینی پڑے میں دونگی صفیر کیونکہ بنا قصور وار ہوئے ہم لوگوں نے بہت برا وقت دیکھا ہے میرے ماں باپ اسپتالوں ہے بستر پر پڑے ہیں میں بے گھر ہوگئی ہوں اور میری بہن میں نہین جانتی وہ اس وقت کہاں ہے لیکن۔ میں ہر وقت دعا گو رہتی ہوں اس کے لئے کہ اللہ اسے صحیح سلامت رکھے اور وہ جلد ہم لوگوں کے پاس واپس آجائے۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے اسکی آنکھیں نم تھیں وہ رو رہی تھی صفیر نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا اور اسکا سہارا پاتے وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی۔۔


وہ بے حس و حرکت بستر پر پڑی تھی اور وہ درندہ اسے نوچ کھسوٹ رہا تھا آج اسے یہاں آئے تیسرا دن تھا اور ان تین دنوں میں اس کی آبرو ریزی ہوئی تھی اسکی عزت کی دھجیاں بکھیر دی گئی تھیں۔
وہ رو رہی تھی لیکن اب تو رونا بھی جیسے ختم ہوتا جارہا تھا وہ پتھر کی ہوگئی تھی اسے ایسا لگا تھا اسکا شوہر اسکا سودا کئے ناجانے کہاں غائب ہوچکا تھا اور وہ ان درندہ کے رحم و کرم پر تھی۔۔
وہ آدمی اب کسی سے اسکو بیچنے کی بات کر رہا تھا اور وہ جیسے جیسے اس آدمی کی باتیں سنتی جارہی تھی اسے اس دنیا کے لوگوں سے گھن آرہی تھی۔۔۔