Janam By Reeha Shah Readelle50218 Episode 8
No Download Link
Rate this Novel
Episode 8
وجدان بذات خود اسکے نکاح میں شرکت کے لئے آیا تھا اور ایک بھائی کی طرح اس نے سب کچھ کیا تھا۔
ایک انجان انسان کی اپنی لئے اتنی فکر دیکھ اسکی آنکھوں میں آنسو آئے تھے۔
اور جب وجدان نے اپنا ہاتھ اسکے سر کر رکھا تو اسکی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک رواں ہوا تھا۔
زندگی کے اتنے بڑے دن اسکے ساتھ اسکا کوئی بھی اپنا نہیں تھا دل دکھ سے بھرا ہوا تھا مگر وہ کمزور پڑ کر اپنا تماشہ نہیں بنانا چاہتی تھی۔
وہ صفیر اور اسکی ماں کی شکر گزار تھی کہ ان لوگوں نے اسے اپنایا تھا ورنہ وہ کہاں جاتی یہ دنیا تو اسے نوچ کھاتی۔۔
نکاح کے بعد صفیر کی امی اسے صفیر کے کمرے میں چھوڑ کر گئی تو اسکا دل ایک نئی لے پر دھڑکا تھا کل تک جو انسان اسکی بہن کا تھا آج وہ اسکا ہوگیا تھا یہ سوچ آتے ہی سارے خواب زمین بوس ہو کر بکھر گئے تھے۔۔۔
اس نے سوچ لیا تھا وہ اس رشتے کو نہین نبھائے گی بلکہ اپنی بہن کے واپس آنے پر وہ صفیر اور اس کے بیچ سے نکل جائے گی۔
ابھی وہ اسی سوچ میں تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور صفیر کمرے میں داخل ہوا تھا۔
سلام کرتا وہ اسکے پاس بیٹھا تو وہ خود میں سمٹی تھی۔۔
صفیر نے آگے بڑھ کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے تو اسکی ریڈھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی تھی۔
وہ اسے روکنا چاہتی تھی مگر خود میں اب ہمت نہیں پا رہی تھی۔
“صفیر رحہ”
“شش سب بھول جاؤ یاد رکھو تو یہ کہ میں تمہارا شوہر ہوں اور آج ہماری شادی ہوئی ہے”اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھتے وہ مخمور لہجے میں۔کہتے اسکا دوپٹہ اس سے الگ کرتے بولا تو اس نے سختی سے آنکھیں میچی تھیں۔۔
اسکا سر تکیے پر رکھتے وہ اسکے اوپر آیا تھا اور آہستہ سے اسکی آنکھوں پر اپنے سلگتے لب رکھے تھے۔
اسکے گال چھوتے صفیر نے اسکی ٹھوڑی پر لب رکھے تو وہ سسکی تھی۔
صفیر نے جھک کر اس کے چہرے پر اپنے محبت کی مہر لگائی تھی اور اسکی ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں الجھاتے تکیے سے لگائے تو اس نے زرا سی آنکھیں کھول اس انسان کو دیکھا وہ اسکی کسی نیکی کا صلہ تھا ورنہ جس طرح اسکی بہن غائب ہوئی تو وہ اس پر الزام لگا کر خود ایک طرف ہوجاتا مگر اسکا ظرف بہت بلند تھا وہ ہر قدم پر اسکے ساتھ تھا اور اب وہ اسے ایک ایسے رتبے پر فائز کر رہا تھا جس کا تصور تو کبھی اس نے کیا ہی نہیں تھا۔
اسکی گردن میں جھکتے وہ اسکی خوشبو کو خود میں اتار رہا تھا سدرہ کے لئے یہ سب بہت مشکل تھا اس نے گھبرا کر اسکا کندھا تھاما تھا۔
اسکی شہہ رگ پر لب رکھتے وہ ایک مدہوش سا اپنی شدتیں اس لٹانے لگا تھا اور وہ آنکھیں بند کئے اسکا لمس محسوس کر رہی تھی۔
یہ دنیا کا سب سے خوبصورت احساس تھا کہ کوئی ہے جو اسے اس طرح چاہ رہا ہے پیار کر رہا ہے اسے ایک عزت بھرا مقام اپنی زندگی میں دے رہا ہے۔۔۔
خود سپردگی کے عالم میں اس نے اپنی دونوں بانہیں صفیر کے گرد باندھی اور اپنا چہرہ اسکے سینے میں چھپایا تو صفیر نے اسے خود میں بھینچا تھا اور آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آف کر گیا
اسکی آنکھ کھلی تو خود کو ایک عجیب سی جگہ پر پایا تھا عورتوں کا شور چیخیں۔۔
حواس بحال ہوئے تو اس نے اس سجے سجائے کمرے کی طرف دیکھا۔
کل رات اس نے پانی پیا تھا اور پیتے ہی سو گئی تھی اور اب اٹھی تو اس جگہ۔۔
اسے سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی اسے اس کوٹھے پر لایا گیا تھا۔
اسکا ڈر سچ ثابت ہوا تھا اسکا شوہر اسے بیچ چکا تھا اپنی طلب پوری ہوتے ہی وہ اسکا یہاں سودا کرگیا تھا اور اب اسکے آگے صرف کھائی تھی پیچھے کا راستہ وہ اب چننا چاہتی بھی نہیں تھی۔۔
اس نے اس سب کو قبول کرلیا تھا وہ اتنے مہینوں سے مفت میں دوسرے آدمیوں کے ساتھ تھی اور اب یہاں کی بائی نے جب اسکی بولی لگائی تو رات کے بعد اسکی جھولی میں پیسے ڈالے تو اس نے حیرت سے پیسوں کی جانب دیکھا تھا۔
“ایسے مت دیکھ تیری محنت کی کمائی ہے جہاں دل چاہے خرچ کرنا “بائی کی بات سن اسکی آنکھوں میں آنسو آئے تھے دل تو اب مر گیا تھا بس یہ جسم زندہ تھا دوسروں کی ضرورت پوری کرنے کو تھا جو صرف۔۔۔
وہ اپنا ماضی سوچنا نہیں چاہتی تھی۔
اس نے اس نام نہاد محنت کو دل جمعی سے کیا تھا اور بہت جلد وہ بائی جی خاص لڑکیوں میں شامل ہوگئی تھی۔
محض دو مہینے۔۔۔۔۔ وہ ایک شریف آدمی کی بیٹی سے اس کوٹھے کی مشہور طوائف بن گئی تھی۔۔
اسکا دل پھٹتا تھا وہ خود کو نوچتی تھی چیختی تھی۔۔۔
اور پھر اسکا وقت آیا اور ایک آدمی کا اس پر دل آگیا۔۔
اس آدمی کی اولاد ہوئی تو وہ جیسے بپھر گیا تھا۔
اس نے اس بچی کو اپنانے سے منع کردیا۔
وہ اس آدمی سے محبت کرنے لگی تھی جیسے خود کو سنبھالتی۔
بائی نے اسے کندھا دیا۔ سنبھالا اور اسے ایک ایسا عہدہ دیا کہ ایک وقت آیا جب اس کوٹھے پر صرف اسکا راج تھا اسکے ہاتھ کے اشارے سے لوگ چلتے تھے۔
وہ بائی بنی ماہ جبیں بائی محض سولہ سال کی عمر میں وہ یہاں آئی تھی وہ سب سے کم عمر بائی تھی کسی بھی کوٹھے کی۔۔۔
وہ حسین تھی اور تیس پینتیس کی ہونے کے باوجود وہ بیس سال کی لگتی تھی
اسکے حسن کے چرچے چاروں طرف تھے ایک رات کے لئے وہ لاکھوں روپے سمیٹتی تھی۔
اور وہ اسکا خاص تھا بے حد خاص۔۔۔
جس نے خود کو کنگ کا خطاب دیا تھا۔۔۔
وہ اس دنیا سے لڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا جو اسکے دشمن تھے وہی اس کنگ کے دوشمن تھے وہ دونوں ایک ہی سانپ کے ڈسے ہوئے تھے اب وہ وقت دور نہیں تھا جب وہ دونوں اس آدمی کی زندگی جہنم کردینگے…
“کیوں بے چین ہو رحہ ؟”وہ کب سے یونہی ٹہل رہی تھی تسنیم بیگم نے اس سے پوچھا تو وہ ان کے پاس آکر بیٹھی۔
“امی کیا وجدان کسی سے محبت کرتے تھے ؟”اسکے یوں پوچھنے پر وہ بری طرح چونکی تھی۔
“ایسا کیوں پوچھ رہی ہو خیریت ہے بیٹا ؟”
“جی خیریت ہے بس یونہی”وہ انہیں یہ نا بتا سکی کہ اس نے وجدان کی شرٹ سے کسی کے پرفیوم کی خوشبو سونگھی ہے۔
“پاگل فالتو نا سوچا کر ایسا کچھ نہیں ہے وجدان صرف تجھ سے محبت کرتا ہے ابھی سے نہیں بہت پہلے سے”ان کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی ایسا کیسے ممکن تھا بھلا۔۔۔
وہ اسی ادھیڑ پن میں پریشان ہوتی اپنے کمرے میں آگئی۔
کل جس طرح وجدان نے اسے کہا اور اب اسکی شرٹ سے لڑکی والی خوشبو اسکا دل بے حد دکھ رہا تھا۔
کل وہ اسکا انتظار کر رہی تھی جب وہ آیا مگر بنا کچھ کہے وہ اسٹڈی روم میں بند ہوگیا اور اسکے کپڑوں سے خوشبو ۔۔
پورا دن وہ سوچوں میں گھلتی رہی…
آج وہ پورا دن گھر نہیں آیا تھا جبھی غصہ ہوتے وہ تسنیم بیگم کے سونے کے بعد اپنے کمرے میں آگئی اور کمرے میں اندھیرا کر کے سو گئی کیونکہ کل تسنیم بیگم کو واپس جانا تھا۔۔۔
آدھی رات اسکی آنکھ تسنیم بیگم کی آواز سن کر کھلی تھی۔
وجدان کی جگہ خالی دیکھ اسکا دل ایک بار پھر دکھا تھا ۔
صبور تسنیم بیگم کو لینے آیا تھا۔
“میڈم سر کے کچھ کپڑے دے دیں انہیں ضروری کیس کے سلسلے میں کہیں جانا ہے”
صبور کی بات پر اسکے ماتھے کے بلوں میں۔ اضافہ ہوا تھا مگر بنا کچھ کہے چپ چاپ وجدان کے کپڑے لا کر اسے تھما دئیے۔
پہلے ہی اس گھر میں دل نہیں لگتا تھا اب تسنیم بیگم بھی جانے والی ہیں زندگی اب ایک بار پھر سے عذاب ہو جائے گی۔
یہ سوچتے ہی اسکی آنکھیں نم ہوگئی تھی۔
تسنیم بیگم کو نم آنکھوں سے الوداع کہتے وہ اپنے کمرے میں آگئی اور سونے لیٹ گئی۔
ماں باپ بہن سے دوری ۔۔۔
اور اب یہ سب بہت مشکل تھا اسکا خوش رہنا جہاں وہ خوش رہنے کی کوشش کرتی وہیں کچھ نا کچھ ایسا ہوجاتا کہ وہ واپس سے ڈپریشن میں چلی جاتی۔۔۔
انہیں سوچوں میں گم وہ نیند کی وادیوں میں اتر گئی تھی۔۔۔
ویران بیاباں جنگل کے بیچوں بیچ اسکی نفرت چاروں طرف پھیل چکی تھی آج ایک اہم مشن کے سلسلے میں اسے یہاں آنا پڑا تھا۔۔
وہ پوری تیاری کے ساتھ دشمنوں سے کرنے والے کو تیار بیٹھا تھا۔
اسکا دھیان سارا اپنے دشمن کی جانب تھا۔۔۔
آہستہ سے قدم بڑھاتے وہ آگے ہوا اور سامنے بنے اس کاٹیج کی طرف دیکھا۔۔۔
اسکے اشارے پر ساری نفری چاروں طرف پھیلی تھی اس نے آہستہ سے پیچھے مڑ کر دیکھا دیکھا جہاں سے ماسک میں موجود وہ شخص اسے اشارہ کرتا وہاں سے نکلا تھا اور اشارہ ملتے ہی وہ کاٹیج ایک زور دار آواز کے ساتھ زمین بوس ہوا تھا۔۔۔
“اوووو شٹ باس یہاں اتنا۔۔۔”
“فوراً سے نکلو سب یہاں سے “وجدان کی تیز آواز پر وہ سب چیختے وہاں سے نکلے تھے۔
“سر وہ کنگ اندر ہی ہے”
“وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے تم لوگ نکلو یہاں سے”وجدان کے تیز لہجے پر وہ تیزی سے وہاں سے نکلے تھے۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو گھر میں اندھیرے کا راج تھا تسنیم بیگم کے جانے سے گھر میں ایک دم سے سناٹا ہوگیا تھا۔۔
وہ کمرے میں آیا تو کمرے میں سناٹا تھا اور وہ گہری نیند میں بستر پر نیند میں گم تھی۔
وہ فریش ہو کر اسکے پاس آکر لیٹ گیا جانتا تھا وہ اس سے بدگمان ہو رہی ہے مگر ابھی صحیح وقت نہیں آیا تھا کہ اسے سب سچ بتایا جائے۔۔
اسکے چہرے پر بکھرے بالوں کو سنوارتے وہ جھک کر اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ گیا تو وجدان کا لمس محسوس کر رحہ نے نیند سے بوجھل آنکھوں کو کھولا کر اسے دیکھا تھا۔
اسے جاگتا پاتے وجدان نے آہستہ سے اسکی پلکوں پر اپنے سلگتے لب رکھے۔
“اماں بتا رہی تھیں بدگمان ہو رہی ہو مجھ سے شک کر رہی ہو مجھ پر “
اسکے یوں ڈائیریکٹ کہنے پر وہ شرمندہ ہوتی کروٹ بدل گئی تو وجدان نے مسکراہٹ دباتے اسکے گرد اپنا حصار بنایا اور اسکے کندھے کر اپنی ٹھوڑی ٹکائی تھی
“چلو ٹھیک ہے بیویاں تھوڑی شکی ہوتی ہیں مگر آپ کو کس لئے شک ہوا ہم تو گوڈے گوڈے آپ کے عشق میں۔ ڈوبے ہوئے”
“کچھ وقت میں کسی سے عشق نہیں ہوتا۔۔”
تڑخ کر کہتے اس نے وجدان کی گرفت سے نکلنا چاہا تو وہ اپنا حصار مزید سخت کرگیا۔
“اگر میں یہ کہوں یہ عشق دو دن کا نہیں برسوں کا ہے تو”
اس کی بات پر رحہ نے جھٹکے سے سر اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔
“فضول بات مت کریں ہمیں ملے ہوئے کچھ ہفتے ہی ہوئے ہیں میرا دل رکھنے کے لیے چھوٹ مت بولیں وجدان”اسکے سینے کر ہاتھ مارتے وہ غصے سے بولی تو اسکا ہاتھ تھام اپنے لبوں سے لگا گیا۔
“وقت آنے پر سب کچھ بتاؤ گا بس میرا بھروسہ رکھو اور وہ پرفیوم کی خوشبو سدرہ کی تھی رخصتی کے وقت روئی تو اسے چپ کروایا تھا میں نے ایک بھائی کی طرح”
اسکے پھولے پھولے گالوں کو چھوتے وہ بولا تو حیا سے اسکی پلکیں لرزی تھیں۔۔
“اور رہی بات اس رشتے کو آگے بڑھانے کی تو ابھی کئی رازوں سے پردہ اٹھنا باقی ہے جو یقیناً تمہارے لئے قابل قبول نہیں ہونگے جب تک میں ان رازوں سے پردہ نہیں اٹھا دیتا مجھے وقت درکار ہے میری خواہش ہے کہ جب میں تمہارے پاس آؤ تو ہمارے درمیاں کوئی غلط فہمی نا ہو کوئی اذیت کوئی تکلیف نا ہو”اسکے چہرے کو تھامے میں وہ نرمی سے بولا تو رحہ نے زرا سا اٹھ کر اسکے لبوں کو اپنے لبوں سے چھوا تو اسکے عمل سے وجدان چونکا تھا۔
“ایک آتش فشاں کو بھڑکا رہی ہو”
“مجھے آپ کو محسوس کرنا ہے اس رشتے کو نام دینا ہے وجدان جو ماضی تھا مجھے اس کے بارے میں جاننا مجھے حال میں جینا ہے میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں اور یہ بات مجھے کہنے میں کوئی دقت نہیں ہے”اسکے گرد بانہوں کا حصار بنائے وہ اسکے کانوں میں رس گھول رہی تھی..
“ایسے کرو گی تو بندہ بشر ہوں بیک جاؤں گا”اسکے کان میں سرگوشی کرتے اس نے رحہ کی کان کی لو کو اپنے لبوں میں دبایا تھا کہ ایک سسکی سی اسکے منہ سے نکلی تھی۔۔
وجدان نے غور سے اسکی آنکھوں میں دیکھا تھا جہاں صرف اور صرف اسکا عکس نمایاں تھا۔۔
“یہ کاغذات کیسے ہیں؟”
“طلاقِ کے کاغذات ہیں میں اسے اس رشتے کو ختم کرنا چاہتا ہوں”
“آپ پاگل ہوگئے ہیں پہلے کم عمری میں نکاح اور اب طلاق کیوں ہماری بیٹی کی زندگی برباد کر رہے ہیں ؟”
“برباد نہیں آباد کر رہا ہوں وہ لوگ زیادہ امیر ہیں اور پیسے بھی زیادہ دینگے۔۔”
“تو آپ پیسوں کے لیے ہماری بچی کا سودا کرینگے۔۔”
“سودا نہیں کر رہا اسکا مستقبل بنا رہا ہوں”
“وہ لوگ کبھی طلاق نہیں دینگے اور”
“بس مجھے نہیں پتا کچھ بھی کرتا ہی کیا ہے آخر وہ میری مت ماری گئی تھی جو شادی کر دی مگر اب مجھے نصیحت ہوگئی ہے اب یہ طلاق ہو کر رہے گی ورنہ نکاح کی ویسے بھی کوئی اہمیت نہیں ہے اور۔ نا تم ہماری بیٹی کو اس نکاح کا بتاؤ گی”
اپنے شوہر کی بات پر وہ بس ان کا چہرہ دیکھ کر رہ گئیں۔
