Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 02

وہ بدمزاج سا اندر کمرے میں داخل ہوا تو سامنے اسے دو صوفے پر براجمان پایا۔۔
ایک ہاتھ صوفے کی پشت پر پھیلائے وہ دوسرے ہاتھ سے سیگریٹ پی رہا تھا۔
آگئے اس طوائف کے پاس سے گندگی کر کے؟ اسکے لہجے میں جمیل کے لئے حقارت ہی حقارت تھی۔
باس وہ۔۔۔۔
اس نے کچھ کہنا چاہا مگر وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے روک گیا۔۔
کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے یہ جو کتے تمہاری مالکن کو ڈھونڈ رہے ہیں ان کا منہ بند کرواؤ ۔۔۔
جی کنگ۔۔۔۔ تابعداری کا مظاہرہ کرتا وہ الٹے قدموں واپس ہوا تھا مگر چہرے کے تاثرات سے صاف اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اس کی رنگیں رات کی بربادی اسے پسند نہیں آئی تھی
کیا ہوا اتنا کیوں لٹکا ہوا ہے؟ وہ باہر آیا تو سبحان کی بکواس نے اسکا دماغ خراب کیا تھا۔
کتنی مشکل سے ہاتھ آتی ہے وہ اور کنگ کے اس مسئلے کی وجہ سے سکون بھی نہیں لے سکا میں۔
اسکا موڈ ٹھیک ٹھاک خراب تھا۔
ریلکس ایک بار یہ مسئلہ حل ہو جائے پھر تو موج ہی موج اور ویسے بھی ایسا تو پہلی بار ہوا ہے کہ اپنے باس کو کوئی پسند آئی ہو
ہاں پسند آئی وہ بھی ایک پولیس افسر کی ہونے والی بیوی۔۔
ابے وہ ایک نیا نیا آفیسر بنا ہے اسکی پہنچ اتنی نہیں جتنی اپنے باس کی ہے وہ پاتال میں بھی چلے جائے گا تب بھی نہیں نہیں ڈھونڈ پائے گا اپنی منگیتر کو۔۔۔
سبحان کے لہجے میں غرور تھا اسکی بات پر جمیل سر جھٹک کرسی پر بیٹھ گیا موڈ تو سارا خراب ہو ہی چکا تھا۔
چل نا یار موڈ تو خراب مت کر۔۔۔
اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے سبحان نے کہا تو وہ بس سر ہلا گیا اب کیا بتاتا اس ایک رات کے لئے کتنے پیسے وہ دے کر آیا تھا۔
کچھ کھائے گا یا بس یونہی منہ پھلا کر بیٹھا رہے گا۔
میں نے لاکھ سے اوپر دئیے تھے اس سے ملنے کے لئے اور سب برباد ہوگیا۔
تو جانتا تو ہے اپنا کام پھر بھی۔۔۔۔
تو بتا میں کیا کروں کس کے پاس جاؤ ؟
شادی کر لے..”سبحان کے مشورے پر اسکے آگ لگی تھی
مگر کچھ بولنا اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔۔
ویسے جمیل تو نے کبھی سوچا کہ کنگ آخر دیکھتا کیسا ہوگا؟
نہیں پہلے سوچتا تھا مگر پھر اس چیز کو سوچنا چھوڑ دیا کیونکہ مجھے چڑ ہونے لگی تھی وہ کام کرتا ہے اور کام مانگتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ۔۔۔
اور ویسے بھی جیسے اسکا ماسک ہے سخت ویسے ہی اسکا دل ہے پتھر جیسا مجھے اس معاملے میں تو محبت کہیں سے نہیں لگتی سبی۔۔۔۔
وہ ناجانے کتنے سالوں سے اس کام میں تھا اور کنگ کے ساتھ تھا اپنے تجربے کی بنیاد پر وہ یہ سب کہہ رہا تھا۔
لگتا تو مجھے بھی یہی ہے مگر وہ کنگ ہے اسکا ہر قدم ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی۔۔
دیکھتے اب یہ کونسا دھچکا ہمیں لگنے والا ہے خود کو تیار کرلو اب ۔۔
لیپ ٹاپ آن کرتا وہ اپنے کام میں نے مگن ہوگیا تو سبحان نے اپنا کام شروع کیا تھا۔۔


اس چھوٹے سے کمرے میں اسکا دم گھٹ رہا تھا زندگی نے کیسے موڑ پر لا کر کھڑا کردیا تھا اسکا تو تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔
اج سے اسکی شادی شروع ہونے والی تھی ڈھولکی مایوں مہندی نکاح۔۔۔
مگر قسمت نے جیسا کھیل کھیلا تھا۔
چہرہ آنسوؤں سے بھیگ چکا تھا۔
ہاتھ کی پشت سے اپنا چہرہ صاف کرتے اس نے سامنے ٹیبل پر رکھے کھانے کو دیکھا تھا
کل سے وہ بھوکی تھی اسکا دل تک نہیں کر رہا تھا وہ کچھ کھائے۔
اس لئے واپس سے گھٹنے میں منہ دے کر وہ سسکی۔
اپنے جسم پر اس آدمی کا رینگتا ہاتھ اسے ابھی تک محسوس ہو رہا تھا اسے یہاں سے فرار چاہیے تھی ہر حال میں۔۔
زندگی کتنی پرسکون تھی وہ اپنے ماں باپ اور بہن کے ساتھ اپنے چھوٹے سے گھر میں رہتی تھی جب صفیر اسکی زندگی میں آیا اس کے ماں باپ کو وہ اتنا پسند آیا کہ انہوں نے لمحہ نہیں لگایا تھا اسکا رشتہ طے کرنے میں۔
ان کی منگنی دو سال سے تھی اس دوران اس نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی اور اب ان کی شادی تھی مگر جس دن اسے پارلر جانا تھا اپنے لئے اسی دن پارلر سے نکلتے ہی اسے کسی نے اغوا کرلیا اور وہ اسی دن سے یہاں تھی۔
وحشت تکلیف اذیت کیا کچھ نہیں تھا جو وہ اس وقت محسوس کر رہی تھی۔
اس نے ہمت کر کے خود کو سنبھالا اور اٹھ کر کمرے کا جائزہ لیا تھا۔
چاروں اور نظریں دوڑانے کے باوجود اسے کچھ نظر نا تو مایوس ہو کر وہ اپنی جگہ آکر بیٹھی تھی۔۔
یا اللہ مجھے یہاں سے نکال خدا کے لئے۔۔
گڑگڑاتے روتے وہ فریاد کر رہی تھی۔
تبھی دروازہ کھلا تھا اور وہ ماسک والا ایک بار پھر کمرے میں داخل ہوا تھا۔
ابھی تک بھوکی بیٹھی ہو کیا مرنے کا اتنا شوق ہے؟
اسکے پاس بیٹھتے کنگ نے کھانے کی پلیٹ کو دیکھا تھا۔
ہاں مرنا ہے مجھے کیونکہ یہاں سے نکل کر تو ویسے بھی پل پل مرنا ہے تو آج ہی سہی مار دو مجھے نہیں رہنا مجھے یہاں مار دو۔۔۔
اسکا ہاتھ اپنی گردن پر رکھتے ہذیانی انداز میں چیخ رہی تھی۔
کنگ نے بغور اسکا یہ ردِعمل دیکھا تو چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔
ایسے کیسے مرنے دوں؟ ابھی تو مرنے نہیں دے سکتا پہلے تمہیں اپنا بنانا ہے۔۔
اسکے بکھرے بال ایک طرف کرتے وہ خباثت سے ہنسا تھا۔
نفرت ہے مجھے تم سے آئی سمجھ دفع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔اسکے سینے پر ہاتھ مارتے وہ چلائی تو کنگ نے ایک نظر اسکے روتے سسکتے وجود کو دیکھا اسکی آنکھوں سے عجیب سی تپش نکل رہی تھی۔۔۔
تو تمہیں مجھ سے نفرت ہے؟انکھوں میں سلگتی آگ جیسے جذبات لئے وہ ایک ایک لفظ پر زور دے کر بولا تو اس نے فوراً سے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
تو بس اب تم دیکھو میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں بس تھوڑا اور انتظارِ پھر تم پچھتاؤ گی اپنے لفظوں پر ۔۔۔
اسکا منہ مٹھی میں دبوچے وہ غرایا تھا۔
اس سے پہلے میں مرنا پسند کرونگی۔۔۔
اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ دوبدو بولی تو کنگ نے ایک جھٹکے سے اسکا چہرہ چھوڑا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔


گاڑی کے سائرن کی آواز چاروں اور گونجی تو سارا اہلکار الرٹ ہوئے تھے۔
سر آگئے ہیں جلدی کرو۔۔
سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر آکر کھڑے ہوئے تھے تبھی ایک گاڑی اسٹیشن کی حدود میں داخل ہوئی۔
تو سب نے ایک ساتھ سلیوٹ کیا۔
ایک اہلکار نے آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا تو وہ گاڑی سے باہر نکلا تھا۔
بلیک کلر کی پینٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ پہنے آنکھوں پر گلاسس لگائے وہ پوری شان سے سامنے آیا تو سب کے ہاتھ ایک ساتھ ماتھے تک گئے۔
سلام۔۔۔ سر۔۔
سب کو اشارے سے جواب دیتا وہ آگے بڑھ گیا اور اس کے اندر آتے ہی ایک طرف کھڑا صفیر اسکے پیچھے لپکا تھا
“سر سر پلیز میری بات سنیں سر۔۔۔۔”
اسکی پکار پر آگے بڑھنے والے کے قدم رکے تھے
اس نے گردن موڑ بغور اس وردی میں موجود اپنے نئے بھرتی ہونے والے آفیسر کو دیکھا تھا جس کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات تھے۔
“سر وجدان پلیز میری بات سنیں پلیز”وہ اس کے پاس آکر گڑگڑایا تو وجدان کے ماتھے پر بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔
“یوں گڑگڑانا ایک پولیس والے کو زیب نہیں دیتا اندر چلو۔۔۔”
اسے کہتے وہ اپنے آفس کی طرف بڑھ گیا تو وجدان اس کے پیچھے آیا تھا۔
“کہو کیا مسئلہ ہوا ہے؟”
“سر میری منگیتر لاپتا ہے سر میں نے کر ممکن طریقے سے اسے ڈھونڈنے کی کوشش مگر کوئی سراغ نہیں مل سکا۔۔”
“ایک آفیسر ہو کر اتنے بے بس؟؟”
“بے بس نہیں ہوں سر بس مجبور ہو اسکی عزت پر آنچ آئی تو اسکے گھر والے مر جائنگے ۔۔”
“تو بہتر یہی ہے اسے واپس نا ڈھونڈو اب تک ناجانے اسکے ساتھ کیا کچھ ہوچکا ہوگا”
وہ بت رحم تھا سب جانتے تھے اسکی سرمئی آنکھوں میں کئی راز پوشیدہ تھے۔
“سر۔۔۔”اسے دھچکا نہیں لگا تھا اس بات پر مگر وہ پھر بھی سہم گیا تھا۔
“مجھ سے کیا چاہتے ہو؟”
“آپ اس کیس کو دیکھیں “وہ التجا کر رہا تھا اور پھر کچھ دیر ان آنکھوں نے سامنے والے کو جانچا تھا۔
“ٹھیک ہے مجھے اپنی منگیتر کی ساری ڈیٹیلز دو میں دیکھتا ہوں کہ کیا کر سکتا ہوں”
اتنا کہتے اس نے اپنی فائل اوپن کر لی۔
یہ اشارہ تھا کہ اب وہ جا سکتا ہے۔
اس لئے وہ خاموشی سے اٹھ کر وہاں سے نکل گیا چہرے پر حزن وملال ملال چھایا ہوا تھا۔
اسکے جاتے ہی وجدان نے نظریں اٹھا کر دروازے کی جانب دیکھا اور پھر فون نکال اس نے ایک مخصوص نمبر ملایا تھا۔
“ہیلو صبور۔۔۔ مجھے انسپکٹر صفیر کی ساری معلومات چاہیے کوئی ایسا پہلو نا ہو جو ہم سے چھپا رہ سکے آئی سمجھ۔”
“جی باس ہوجائے گا”
صبور کے جواب پر اس نے سر ہلا کر فون بند کیا تھا آنکھوں میں کئی سوچ کے پہلو ابھرے تھے۔