Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 9)
Rate this Novel
Ishq Wajib Hai (Episode 9)
Ishq Wajib Hai By Farwa Noor
فنکشن کے اختتام تک وہ بے تحاشہ تھک گئی تھی گیارہ بجے کے قریب حاشر ان لوگوں کو گھر چھوڑ کر گیا تھا ہرے گرارے میں موجود نور کو دیکھ اس نے بمشکل نظریں ہٹائی تھیں۔۔
اور اب بھی فنکشن میں لی اسکی تصویر دیکھتے وہ مبہوت سا ہوا تھا
جبکہ دوسری طرف اسکی فیلنگ سے انجان وہ آنسہ کے پاس بیٹھی تھی
کچھ بات ہی کرلے میں بور ہورہی۔۔وہ سخت بیزار ہورہی تھی
سوجا نور قسم سے سر درد سے پھٹ رہا ہے میرا۔۔۔
دفع ہوجا مر تو۔۔وہ منہ بنا کر کہتی کروٹ بدل گئی۔۔
جبکہ دوسری طرف اس نے اپنے آنسو پونچھے تھے۔۔۔۔
اگلا دن اس کی زندگی میں عجیب سی ویرانی لایا تھا
بارات ان کے چھوٹے سے گھر میں آئی تھی اور زلیخا کے کہنے پر یہ سب ہوا تھا وہ دولہن بنی بے حس و حرکت بیٹھی تھی تبھی زلیخا کمرے میں آئی تھیں
جا نور مہمانوں کو دیکھ۔۔۔
جی اماں۔۔فراک سنبھالتی وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
اتنی شریف ہے تو نہیں جتنی تو بن رہی لیکن خیر آج میں کوئی بدمزگی نہیں چاہتی مگر۔۔
وہ لمحے کو رکی تھیں…
میں نہیں چاہتی کہ دوبارہ کبھی اس گھر میں قدم رکھے۔۔۔ تیرے جو لچھن ہیں وہ میری بیٹی کے کردار پر بھی داغ لگا دینگے۔۔۔
اس نے حیرت سے اس عورت کو دیکھا تھا۔۔
ایسے مت دیکھ اور رہی بات اس مکان اور دوکان کی تو بے فکر رہ وہ تیرا ہی رہے گا بس اپنا منحوس وجود لے کر واپس مت آنا۔۔۔
اپنی بات کہہ کر وہ رکی تھی
جبکہ اس کے پاس تو شاید الفاظ ختم ہوگئی تھے یا آواز گنگ۔۔
خاموشی کے ساتھ وہ باہر آئی تھی رخصتی کے وقت گھونگھٹ لئے اسکی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں گرا تھا
جس کے لئے قربانی دی وہ خود اس کے کردار کو داغدار کرگئی اپنا فیصلہ اس نے اللّٰہ کے سپرد کیا تھا۔۔۔
حیات مینشن میں اسکا استقبال بیت شاندار انداز میں ہوا تھا مگر وہ تو جیسے گونگی بہری ہوگئی تھی
ابراہیم نے کسی بھی طرح کی رسم کرنے سے صاف انکار کردیا تھا
لیکن پھر بھی دادو اور کنزہ نے ضد کر کے رسمیں ادا کی تھیں۔۔
ان سب سے بیزار ہوتا وہ لان میں آیا تھا
اپنا بولا جھوٹ بہت برے طریقے سے اس کے گلے پڑا تھا
سیگریٹ سلگھاتے وہ سخت مضطرب تھا اندر وہ لڑکی اس کی بیوی کے روپ میں موجود تھی جو اسے سخت ناپسند تھی
موبائل نکال کر اس نے ردابہ کی تصویر کھولی تھی اور اسے خود پر غصہ آیا وہ جذبات میں ایک اور غلط قدم اٹھا چکا تھا
اس نے واپس موبائل پاکٹ میں رکھا ہی تھا کہ وہ رنگ ہوا تھا
موبائل پر ردابہ کا نمبر دیکھ اسے ٹھیک ٹھاک جھٹکا لگا تھا
لمحے سے پہلے اس نے کال ریسیو کی تھی
ابراہیم۔۔۔اسے لگا وہ روئی ہے۔۔
کیا ہوا ہے ردابہ آر یو اوکے؟؟ وہ پریشان ہوا تھا
میں ٹھیک ہوں ائم سوری میں ہرٹ کرتی ہوں مگر میں نہیں رہ سکتی تمہارے بغیر۔۔
تو آجاؤ نا واپس۔۔
اسکی آواز سن وہ موم بن کر پگھلا تھا..
ابراہیم تم جانتے ہو نا میں نے اس سب نے لئے کتنی محنت کی ہے اب مجھے چانس ملا ہے تو میں نہیں چھوڑ سکتی پلیز۔۔
بٹ آئی پرامس میں وہاں سے آتے ہی گھر میں بات کرونگی پلیز مینج کرلو۔۔
ٹھیک تم ریلکس کرو میں انتظار کرونگا۔۔
اسے تسلی دیتے اس نے فون رکھا تھا
مگر اب اس کو اگلا لائحہ عمل تیار کرنا تھا اسے ردابہ کے آنے تک اس زبردستی کے ان چاہے رشتے کو گھسیٹنا تھا ۔۔۔
کنزہ اسے کمرے میں بیٹھا کر گئی تو سجے کمرے کو دیکھ اسکو وحشت ہوئی تھی لمحے کو دل کیا سب نوچ ڈالے اس انسان کا گریبان پکڑ کر پوچھے کیوں اس نے اپنی خاطر اس کو ہوں رسوا کروایا
وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی اپنے اوپر سے ایک ایک سامان نوچ نوچ کر اتارتی وہ وحشت زدہ سی ہوگئی تھی۔۔
کوئی اسے اس حال میں دیکھتا تو اسکا دل پھٹ جاتا۔۔۔
ناجانے وہ کتنی دیر یونہی بیٹھی رہی۔۔ہوش آیا تو اپنے آپ کو دیکھ وہ بے یقین ہوئی تھی۔۔
اٹھ کر خود کو سنبھالتی وہ منہ دھو کر صوفے پر آکر بیٹھی تھی
نہیں آنسہ نہیں تو ایسی نہیں ہے تو یوں ہمت نہیں ہار سکتی۔۔
خود کو ہمت دیتی وہ صوفے پر کشن ٹھیک کرتی آنکھیں موند گئی۔۔۔۔
تقریباً آدھے گھنٹے بعد اس کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ اندر داخل ہوا تھا
اندر آتے ہی اسکی نظر صوفے پر لیٹی آنسہ پر پڑی تو حلق میں کڑواہٹ گھل گئی۔۔
اچھا ہے جو اپنی اوقات خود ہی جانتی ہے مجھے اس پر اپنی الفاظ ضائع نہیں پڑے۔
بہت جلد چھٹکارہ حاصل کرلوں گا بس ایک بار ردابہ آجائے۔۔
شیروانی سائیڈ پر رکھ وہ فریش ہونے گیا تھا واپس آکر لائٹس آف کرتے اسکے دماغ میں بس ردابہ تھی۔۔۔۔
صبح اسکی آنکھ کافی دیر سے کھلی تھی رونے کی وجہ سے آنکھیں سر دونوں بھاری ہورہا تھا
جسم درد سے دکھ رہا تھا وہ اپنا سر تھام کر رہ گئی
کیا مصیبت ہے یار۔۔
بڑبڑاتی وہ دوپٹہ سنبھالتی اٹھی تھی تبھی واشروم کا دروازہ کھولتا وہ اندر کمرے میں آیا تھا۔۔۔
نکھرا نکھرا سا نم بال ماتھے پر پڑے ہوئے تھے جنہیں ہاتھوں کی مدد سے پیچھے کرتا وہ ڈریسنگ مرر کے سامنے کھڑا ہوا تھا وہ اس کے سائیڈ سے نکلتی واشروم کی طرف بڑھی تھی تبھی اس کی آواز نے اس کے قدم روکے تھے۔
تمہیں صوفے پر دیکھ اچھا لگا مطلب تم اپنی حیثیت اور اوقات دونوں جانتی ہو آگے بھی اسی طرح کی سمجھداری کی توقع رکھو گا مجھے مایوس مت کرنا۔۔۔۔اس کے لہجے میں جتنی چبھن تھی یہ صرف وہ ہی جانتی تھی۔
مضبوط قدم جماتی وہ ایک دم اسکی سامنے آئی تو اس نے اپنی آئی برو اچکائی تھی۔۔
حیثیت اور اوقات کی بات وہ لوگ کرتے ہیں جن کی خود کی کوئی عزت ہوتی ہے اینڈ یونو تمہاری اوقات کیا ہے؟؟؟
تم جیسوں سے بات کرنا تو دور میں انہیں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتی کجا کہ تمہارے اس بیڈ کو استعمال کرنا تو یہ غلط فہمی تو دور کرلو کہ مجھے تم سے کوئی مطلب۔
آنسہ تو کبھی کسی کی اترن نہیں پہنتی چاہے وہ کپڑے ہی کیوں نا ہوں اور تم تو پھر۔۔
سینے پر ہاتھ باندھے اس نے دانستہ جملہ ادھورا چھوڑا تھا
خیر صبح صبح مجھے میرا موڈ تمہاری شکل دیکھ کر خراب نہیں کرنا تو کوشش کرنا مجھ سے کم کم ہی مخاطب ہو۔۔
مضبوط لہجے میں کہتی وہ واشروم کی طرف بڑھ گئی
جبکہ وہ کھولتا اپنا غصہ ضبط کرنے کے چکر میں لال ہوگیا تھا…
سمجھتی کیا ہے خود کو جنگلی جاہل۔۔۔وہ بڑبڑایا تھا تبھی دروازے پر ہوئی دستک اسے کنٹرول رہنے پر مجبور کرگئی۔۔
سامنے کنزہ کو دیکھ وہ مسکرایا تھا
اٹھ گئے۔۔
جی بلکل اٹھ گیا دادو اٹھ گئیں؟؟
اسے راستہ دیتا وہ اس سے پوچھنے لگا
ہاں کب کی۔۔ اس نے جواب دیتے ساتھ ایک نظر واشروم سے نکلتی آنسہ کو دیکھا تو مسکرائی۔۔
مارننگ بھابھی جان۔۔۔ اسکی شوخی سے بھرپور پکار پر وہ مبہم سا مسکرائی۔۔
اسلام و علیکم۔۔وہ آگے بڑھی تو کنزہ نے اسے ساتھ لگایا۔۔
ابراہیم نے حیرت سے اسے دیکھا جو ابھی اس کے ساتھ بکواس کر کے گئی تھی اور اب اسکی بہن سے میٹھی بن کر باتیں کر رہی تھی۔۔
دوغلی عورت۔۔منہ ہی منہ بڑبڑاتے اس نے خود پر پرفیوم چھڑکا تھا
میں نیچے دادو کے پاس جارہا ہوں۔۔
تم بتاؤ کیا پہننا ہے؟ ابراہیم کے جاتے ہی کنزہ اس سے مخاطب ہوئی تھی
کچھ بھی۔۔ وہ مسکرا کر بولی
ویسے میں نے تو سنا تھا ہماری بھابھی شیرنی ہے مگر یہاں تو حالات ہی کچھ اور ہیں۔۔ کنزہ کے یوں چھڑنے پر اسے لگا کسی نے اسکے زخموں پر مرچیں بھر دی ہوں۔۔۔
بس جب انسان کو یہ یقین ہو کہ وہ اکیلا ہے اور اسے اس دنیا میں رہنے کے لئے خود ہی لڑنا ہے تو اسے شیر بننا پڑتا ہے ورنہ یہ دنیا اسے چیر پھاڑ کر رکھ دیتی ہے۔۔
اسکے لہجے کی سختی کو محسوس کئے کنزہ کو اپنے سوال پر پچھتاوا ہوا تھا
اچھا خیر دادو نے تمہاری امی کو ناشتے کا منع کردیا ہے یونو شام میں ولیمہ ہے تو اب تم جلدی سے ریڈی ہوجاو پھر سارا سامان بھی دیکھنا ہے۔
اور ہاں ابھی تو آجاؤ نا ناشتے کے لئے بلانے آئی تھی اور کیا کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔۔
اسکا گال تھپتھپا کر وہ بولی تو اسے اپنے لہجے کی سختی کا اندازہ ہوا تھا۔۔
جی میں بس پانچ میں ریڈی ہوتی پھر ساتھ چلتے۔۔۔ مسکرا کر کہتی وہ جلدی سے تیار ہوئی تھی
نیچے لاونج میں قدم رکھتے ہی اس کی نظر سامنے صوفے پر حیات صاحب کے ساتھ بیٹھے ابراہیم پر پڑی تھی
بلیک ٹی شرٹ جینس میں کوئی کافی فریش لگ رہا تھا
ہونہہ دوسرا کا دل دکھا کر ناجانے لوگ کیسے اتنے مطمئن رہ سکتے ہیں۔۔
ارے ہماری بچی آگئی۔۔۔دادو کی نظر جیسے ہی اس پر پڑی وہ فوراً اٹھی تو وہ سب کو سلام کرتی ان کے پاس آئی تو انہوں نے اسے ڈھیروں پیار کیا تھا۔۔۔
بھئی اماں ہمیں بھی زرا دعائیں دینے دیں اپنی بہو کو۔۔
حیات صاحب کے انداز پر وہ کھول کر مسکرائی تھی۔۔
اور اٹھ کر ان کے پاس آکر بیٹھی تو انہوں نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا تھا
چندا یہ اب تمہارا گھر ہے جو چاہے کرو کوئی روک ٹوک نہیں اور اگر یہ میرا نالائق کچھ کہے تو فوراً شکایت کردینا۔۔
ان کے شرارت سے کہنے پر وہ ہنس دی اور ابراہیم کو اس وقت وہ نیلے تھوتھے سے بھی زیادہ زیر لگی جو اس کے گھر والوں کو اسکے خلاف کرنے آگئی تھی۔۔
ولیمے کے لئے وہ لوگ ھال پہنچ چکے تھے زلیخا نور وغیرہ سب وہاں پہنچ چکے تھے
وہ اسٹیج پر مسکراتی سب سے مل رہی تھی سامنے سے آتے علی کو دیکھ وہ ایک دم اٹھی تھی۔۔
علی۔۔۔۔
آرام سے آرام سے دولہن بیگم۔۔ وہ مسکراتا اس کے پاس آیا تھا
اللّٰہ علی میں بتا نہیں سکتی کتنا مس کیا تجھے میں نے قسم سے۔۔فرط جذبات سے اسکا تھام تھامے وہ روہانسی ہوئی تھی۔۔۔
اوئے پاگل کوئی یوں دیکھے گا تو کیا سوچے گا۔۔رونا نہیں
کیا سوچے گا میں نے آج تک کسی کی پرواہ کی ہے؟؟
ہاں یہ بھی ہے ویسے اس ابراہیم کا رویہ تھیک تھا؟؟
ٹھیک اسے تو ٹھیک کرکے رکھ دونگی میں۔۔۔
وہ چبا کر بولی جیسے دانتوں میں ابراہیم ہو
اس نے انداز پر علی کا قہقہ گونجا تھا اور اپنی بات پر وہ خود بھی ہنسی تھی
جبکہ یہ منظر کسی نے بڑے جلے دل سے دیکھا تھا۔۔۔
_______
رات گئے وہ لوگ گھر پہنچے تھے تھکن سے سب کا برا حال تھا اس لئے بنا رکے سب نے اپنے اپنے کمروں کا رخ کیا تھا
وہ بھی تھکی ہاری سی کمرے میں آئی تھی تو چینج کر خود کو ریلکس کیا تھا تبھی وہ اندر آیا تھا۔۔
آنسہ نے ایک کڑوی سی نظر اس پر ڈالی اور تکیہ چادر سنبھالے صوفے کا رخ کیا تھا۔۔۔۔
نخرے تو دیکھو جیسے کوئی پری ہو۔۔
وہ سوچتا سر جھٹکتا چینج کرنے گیا تھا
ایسے رشتے بھلا کب پائیدار ہوتے ہیں جو یوں شرطوں پر مبنی ہوں یہ تو ہمارے لوگ ناجانے کہاں سے سیکھ کر آجاتے ہیں ایسی واہیات باتیں،۔۔
کروٹ لیتے اس نے دل میں سوچا تھا۔۔
وہ دادو اور کنزہ سے دل سے متاثر ہوئی تھی وہ دونوں تھی ہی ایسی حیات صاحب نے بھی جس طرح اسے پیار دیا اس کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں ان میں سے اسے کامران صاحب کی خوشبو آئی تھی۔۔۔۔
اس واقعے نے اس سے واقعی اسکی ساری اکڑ اسکا غصہ سب لے لیا تھا آج اس نے خود کو ان لڑکیوں کی جگہ رکھا تھا جن کے ماں باپ نہیں ہوتے اور وہ دوسروں کے در پر پڑی ہوتی ہیں کسی دوسرے کا بوجھ سنبھالنا آسان نہیں ہوتا اور ہر لڑکی مضبوط بھی نہیں ہوتی اس کے قدم مضبوط نہیں ہوتے کوئی اسکا پرسان حال نہیں ہوتا ۔۔۔
یہاں یتیموں کے حق کے لئے بھلا کب کوئی بولا ہے۔۔
اس کے ساتھ بھی تو یہی ہوا تھا اسے کمزور سمجھ وہ اسکے ساتھ یہ معاہدہ کرگیا وہ کمزور نہیں تھی مگر نور کی خاطر اسے یہ سب کرنا پڑا اور فائدہ کیا ہوا اس نے تو بس ماں کی محبت چاہی تھی مگر یہاں تو اسے ایک محبت کا بول تک سننے کو نا ملا اس نے بس سب اللّٰہ پر چھوڑ دیا تھا۔۔۔
صبح اس کی آنکھ کھلی تو گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی۔۔
بیڈ پر ابراہیم کو خواب خرگوش میں دیکھ وہ اٹھ کر فریش ہوئے باہر آئی تھی پورے گھر میں سناٹہ چھایا ہوا تھا
وہ چلتی ہوئی لان میں آئی تھی صبح کا منظر بے حد حسین تھا پرندوں کی چہچہاہٹ عجیب سا سرور بخش رہی تھی
پاؤں کو چپل کی قید سے آزاد کرتی وہ ننگے پیر گھاس پر قدم بڑھانے لگی تھی
تازگی کا احساس رگ وپے پر چھایا تھا
کتنا خوبصورت بنایا تھا اللّٰہ نے دنیا کو۔۔۔
اپنے پیچھے کھٹکے کی آواز پر وہ ایک دم مڑی تھی سامنے دادو کو دیکھ اس نے مسکرا کر سلام کیا تو وہ دھیمے قدم چلتی اس کے پاس آئی تھیں
کیا بات ہے اتنی جلدی اٹھ گئیں گڑیا؟؟
جی دادو بس آنکھ کھل گئی تو یونہی باہر آگئی۔۔
اس نے مسکرا کر انکا ہاتھ تھاما اور پاس پڑی چئیر پر بٹھایا۔۔
ایک راز کی بات بتاؤں؟؟ ان کے قدرے جھک کر کہنے پر اس نے انہیں دیکھ سر ہلایا تھا
جب ابراہیم نے بتایا نا کہ اس نے شادی کرلی تو مجھے بڑا غصہ آیا پھر دل میں عجیب طرح کے وسوسے کہ ناجانے کیسی لڑکی پسند کرلی مگر تمہیں دیکھ دل ایک دم پرسکون ہوگیا ہے برسوں پہلے ہمارا گھر شاد و آباد تھا پھر حیات چلے گیا تو ہم دونوں ساس بہو مل کر رہتے۔۔
اسکی موت نے ایک خلا سا پیدا کردیا لیکن تمہیں دیکھ ناجانے کیوں یہ دل کہتا کہ اب کوئی ہے جو اس کے جیسا ہے جو کہ گھر سنبھال لے گا ہمیں سنبھال لے گا
ان کی بات پر اس نے ان کے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی
میں پوری کوشش کرونگی کہ اپنے فرائض میں کوئی کوتاہی نا کرو ایک عرصہ میں نے اپنی ضد میں گزارہ ہے زندگی کبھی مہربان ہی نہیں رہی سرد و گرم تو چلتے ہی رہے ماں کی محبت کو ہمیشہ ترسی مگر آپ کے پاس سے جو گرمائش ملی شاید سب کو اپنی ماؤں سے ایسی ہی ملتی ہے۔۔
ان کے ہاتھ چومتی وہ بولی تو انہوں نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیا تھا
میں جانتی ہوں سوتیلی ماں آخر کو سوتیلی ہوتی ہے میں نے محسوس کیا اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تم نے ہمیشہ خود کو مضبوط رکھا بس میرے گھر کو بھی ایسے ہی مضبوط رکھنا۔۔
ان کے لہجے میں مان تھا اب وہ انہیں کیا بتاتی یہ تو بس چند مہینوں کا معاہدہ تھا۔۔۔
میں پوری کوشش کرونگی۔۔ اس نے بولنے پر انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگایا تھا اور یہ منظر کھڑکی پر کھڑے ابراہیم نے بڑے سڑے دل سے دیکھا تھا۔۔۔
دن بہت تیزی سے گزر رہے تھے ان کی شادی کو ایک مہینہ ہو چلا تھا اور اس ایک مہینے میں اس نے حیات مینشن کو مکان سے گھر بنایا تھا وہ ذہین تھی سگھڑ تھی اوپر سے محبت و توجہ نے اسکا دل خوبصورت کردیا تھا وہ ہر کام صرف دادو کی خوشی کے لئے کرتی تھی اور ان کی طرف سے ملی ستائش اس کا سیرو خون بڑھا دیتی تھی۔۔۔
ابراہیم کی اسے اتنی پرواہ نہیں تھی کیونکہ وہ شادی کے چوتھے دن ہی اپنے کام کے سلسلے میں دبئی گیا ہوا تھا۔۔۔
کنزہ بھی کچھ دن پہلے ہی واپس لوٹی تھی اور اس دوران اس کی کافی دوستی بھی ہوگئی تھی
ابھی بھی اکثر ہی وہ وڈیو کال پر موجود ہوتی تھی۔۔
اس نے دادو سے کافی چیزیں سیکھی تھیں اور اس عرصے میں وہ ایک بار بھی گھر ملنے نہیں گئی تھی۔۔
حیات صاحب تو اسے دیکھ کر پھولے نہیں سماتے تھے۔۔
وہ روز ان کی فرمائش پر ناجانے کیا کیا بنا رہی ہوتی تھی تو کبھی دادو کے ساتھ اکثر کبھی کوئی کہانی سن رہی ہوتی تو کبھی کچھ نیا سیکھ رہی ہوتی۔۔۔
زندگی ایک دم حسین ہوگئی تھی وہ بہت خوش رہتی تھی مگر پھر ایک دم اداسی کا غلبہ اس پر چھا جاتا کہ یہ سب وقتی ہے سب ختم ہو جائے گا ایسے میں اسکا دل ڈوب جاتا تھا
مگر پھر نئے سرے سے خود کو مضبوط کرتی وہ خوش رہنے کے لئے کوشاں رہتی تھی۔۔۔
اس وقت وہ سب لان میں بیٹھے چائے سے لطف اندوز ہورہے تھے تبھی دروازہ کھلا تھا اس نے گھر میں قدم رکھا تو گانوں میں ہنسی کی آواز آئی اس نے رخ پھیر کر آواز کی سمت دیکھا تو لمحے کو مبہوت ہوا تھا
کائی رنگ کی فراک میں بالوں کی فرنچ باندھیں وہ ہنستی ہوئی بت تحاشہ حسین لگ رہی تھی
وہ بس یک ٹک اسے دیکھتا رہ گیا عجیب سی کشش تھی یا کیا وہ سمجھ نا سکا سمجھ آیا تو اپنی بےخودی پر وہ خود کو ملامت کرتا اندر آیا تھا
اسلام وعلیکم۔۔۔
اس کی آواز پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
دادو تو خوشی سے ایک دم اسکے پاس آئی تھیں
آرام سے دادو۔۔۔وہ ناچاہتے ہوئے بھی انہیں ٹوک گئی۔۔
کچھ نہیں ہوتا گڑیا تیری دادو کو۔۔ اے میرا شہزادہ آیا ہے۔۔
میرا بچہ۔ابراہیم کا ماتھا چومتی وہ مسکرائی تو وہ بھی مسکرا دیا
اتنا وقت لگا دیا۔۔
بس دادو کام بہت تھا نا۔۔
جا آنسہ ابراہیم کے لئے کافی بنا کر لا۔۔ ان کے بولنے پر ناچاہتے ہوئے بھی وہ اٹھی تھی
اس کا سڑا چہرہ دیکھ ابراہیم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی
دادو بھوک بھی بہت لگی ہے پلیز کچھ فریش بنوائیں نا۔۔۔
اور اندر کی طرف جاتی آنسہ اس کی فرمائش پر کھول کر رہ گئی تھی۔۔
آنسہ۔۔۔ انہوں نے اسے پکارا تھا
سن لیا ہے دادی لاتی ہوں۔۔
کچھ میں آکر اس نے پاستہ بوائل کے لئے رکھا تھا کھانا ملازمہ نہیں بناتی تھی بلکہ یہ زمہ داری اس نے لی تھی۔۔
پاستہ کے ساتھ اس نے کباب فرائی کئے اور کافی ریڈی کرتی وہ باہر آئی تو وہ سکون سے بیٹھا حیات صاحب سے کوئی بات کررہا تھا کپڑے چینج تھے جسکا مطلب تھا وہ فریش ہوچکا ہے۔۔
سب کو چیزیں سرو کرتی وہ دادو کے پاس آکر بیٹھی تھی
انہوں نے بغور ان دونوں کا دیکھا تھا دل میں ایک خیال سا گزرا تھا فل وقت اس خیال کو جھٹک وہ چائے پینے لگی مگر دماغ کئی تانے بانے بن رہا تھا۔۔
آج گرمی زیادہ تھی اوپر سے کالج سے بھی دیر ہوگئی تھی تبھی اسے لگا کوئی اسکے پیچھے ہے۔۔
وہ ایک دم چونک کر پیچھے مڑی تھی مگر پیچھے کسی کو نا پاکر اسے عجیب سا احساس ہوا وہ آگے بڑھی تبھی پھر اپنے پیچھے قدموں کی آہٹ پاکر اس کے قدموں میں تیزی آئی تھی۔۔۔
اللّٰہ۔۔۔ہلیز مدد۔۔۔ تیز قدموں سے بھاگتی وہ اپنے محلے میں داخل ہوئی تھی۔۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا
پھولی سانسوں کے درمیان میں وہ گھر میں داخل ہوئی تھی
نور کیا ہوا خیریت سانس کیوں پھول رہا؟؟؟
اسے ہانپتے دیکھ زلیخا نے تعجب سے اسے دیکھا تھا
کچھ نہیں اماں گرمی بہت ہے نا بس تیز چل کر آئی تو۔۔۔
وہ انہیں بتا نا سکی کہ اسے مسلسل یہ لگ رہا تھا کہ کوئی اس کے پیچھے ہے۔۔۔۔
چل منہ دھو کر آ کھانا لگاتی میں ۔۔۔
نہیں آپ بیٹھو میں لگا لونگی۔۔ وہ کہتے کے ساتھ اندر بڑھی تھی
دل ابھی تک زور زور سے دھڑک رہا تھا۔۔۔
تو پاگل ہے نور ہوسکتا ہے تیرا وہم ہو۔۔۔
دل کو سنبھالتی وہ کچن میں آئی کھانا نکال کر کمرے میں آگئی جہاں زلیخا بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی
اللّٰہ جانے کیا ہوگا اس ملک کا۔۔
کیا ہوا اماں؟
بھئی ایک لڑکی گھر سے بھاگ گئی بھائی باپ نے قتل کردیا
بس یہ لڑکیاں بھی نا ڈوب کر نہیں مرتیں ایک اس ناگن نے چاند چڑھایا۔۔
اماں۔۔۔ تم ہر بار اسے بیچ میں کیوں لے آتی ہو سب جانتے ہیں وہ ایسی نہیں ہے۔۔۔
بس کر تو زیادہ حمایتی نا بنا کر۔۔۔ اسے جھڑکتی وہ کھانے میں مصروف ہوگئی جبکہ وہ بس انہیں دیکھ کر رہ گئی۔۔۔
