Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 8)

510.5K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Wajib Hai (Episode 8)

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی تھی آج زلیخا کے آپریشن کو ہفتہ ہوگیا تھا مگر ان کے اندر کی تلخی وہ زبان کے زریعے باہر نکالتی رہی تھی لوگ تو اتنے بڑے آپریشن کے بعد بدل جاتے ہیں خوف خدا ان کے دل میں ڈیرے ڈالے ہوتا ہے مگر وہ تو اور زیادہ اس نے لئے بری بن گئی تھیں اب یہ ان کی طبعیت کی وجہ سے تھا یا کیا مگر وہ اسے تکلیف دے رہی تھیں اور وہ تو جیسے ڈھیٹ ابن ڈھیٹ ایک بار پھر پتھر جیسی بن گئی تھی جیسے نا سنتی تھی نا محسوس کرتی تھی پہلی بار اسے ایک ماں کی گود چاہیے تھی مگر ہائے رے قسمت

کبھی کبھی تو وہ اپنی قسمت کر روتی نہیں ہنستی تھی اتنی بڑی ہوگئی مگر ماں کے پیار کے لئے ترستی رہی اب تو دل نے خواہش بھی چھوڑ دی تھی مگر ایک وقت تھا جب اسکا دل ہمکتا تھا ماں کی ممتا کے لئے۔۔۔

حسب معمول وہ چھت پر بیٹھی آسمان کو تک رہی تھی جبکہ روشنی اس کے پاس بیٹھی میری کھانے میں مصروف تھی

آنسہ تیری ابراہیم بھائی سے بات ہوتی ہے؟؟

کون ابراہیم؟ اس نے اچنبھے سے پوچھا

اور پھر جن نظروں سے روشنی نے اسے دیکھا وہ زندگی میں پہلی بار شرمندہ ہوئی تھی

ارے بھئی میرا دھیان ادھر ادھر تھا

تبھی بجتے دروازے پر انکا دھیان وہاں گیا تھا یہ نور کہاں رہ گئی وہ خود سے بولتی نیچے اتری مگر تب تک نور دروازہ کھول چکی تھی اس لئے بنا دیکھنے کی زحمت کئے وہ واپس اوپر آگئی

کون تھا ؟؟

مجھے نہیں پتا نور نے دیکھ لیا شاید اسکی ماں سے کوئی ملنے آیا ہے۔۔

اچھا چل چھوڑ تو پتا مارکیٹ چلے گی اتنا وقت گزر گیا ہم نے کوئی تفریح نہیں کی۔۔

یہاں اپنی تفریح بنی ہوئی ہے۔۔وہ تلخی سے ہنسی تھی

بس کردے تو۔۔روشنی نے چڑ کر کہا تو وہ ہنس دی

اچھا چل کر دیتی بس۔۔۔وہ ہنس کر بولی تو روشنی نے ایک دھپ اسے رسید کی تھی

چل اب جارہی میں ورنہ امی نے بے عزتی کر دینی ہے۔۔

ہاں تو جا۔۔۔اسے بول وہ واپس اپنے چھوڑے گئے شغل میں مصروف ہوگئی تھی

نیچے سے آتی آوازوں پر اس نے کان دھرنا ضروری نہین سمجھا تھا

تبھی نور ہانپتی ہوئی اوپر آئی تھی

آنسہ۔۔۔آنسہ۔۔۔

کیا ہوا ہے بہن خیریت؟؟ کونسی ریس دوڑ کر آرہی ہو؟؟

ریس تو کوئی نہیں دوڑ رہی تمہارا بلاوہ آیا ہے۔۔

کیوں بھئی اب کیا کردیا میں نے ۔۔۔

کیا کچھ نہیں بس تم سے ملنے کچھ لوگ آئے ہیں جلدی سے آؤ اور حلیہ ٹھیک کرلینا۔۔۔

اپنی بولتی وہ وہاں سے واپس نیچے بھاگی تھی۔۔

حد ہے بھئی۔۔۔ہاتھ میں پکڑی کیری کا پیس پلیٹ میں رکھتی وہ ہاتھ صاف کرتی اٹھی تھی

اب اسکا رخ نیچے کی طرف تھا۔۔

کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے ہی صوفے پر ایک بوڑھی خاتون اور ایک زلیخا کی عمر کی عورت کو دیکھ وہ ٹھٹھکی تھی وہ کہیں سے بھی اس ماحول کا حصہ نہیں لگ رہی تھیں ان کی ڈریسنگ ہی ان کے اپر کلاس ہونے کی گواہ تھی اسے بے حد عجیب سا لگا تھا

مگر پھر سر جھٹک کر وہ اندر آئی اور سب کو مشترکہ سلام کیا تھا

اسکے سلام پر سفینہ بیگم اور دادو نے اسے دیکھا تھا

بلیک لیلن کی قمیض اور پاجامہ پہنے کالے بالوں کی چوٹی ڈالے بھرا بھرا جسم کھلتی رنگت اس پر متضاد اسکی آنکھیں۔۔

اسکا میک اپ سے پاک چہرہ۔۔

ان دونوں کے چہرے پر ستائش ابھری تھی

آجاؤ بیٹا ہمارے پاس آؤ۔۔۔ دادو کے بولنے پر وہ جھجھکتی ان کے پاس آئی تھی

ابراہیم کی دادی ہیں یہ اور میں خالہ۔۔۔سفینہ بیگم نے اسے پریشانی میں دیکھا تو اپنا تعارف کروایا جبکہ ابراہیم کے نام پر اسکا حلق تک کڑوا ہوا تھا وہی تو تھا فساد کی جڑ۔۔۔

ماشاءاللہ بہت پیاری۔۔۔ روبینہ بیگم تو اسکے واری صدقے گئی تھیں

انہیں آنسہ بہت پیاری لگی تھی بناوٹ سے پاک۔۔

ہمم بس یتیم بچی کی پرورش کرنا آسان نہیں ہوتا۔۔زلیخا کی بات پر وہ ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی

ان کے بیچ کیا کچھ باتیں ہو چکی تھیں اس سے وہ انجان تھی

بس اب آنسہ سے مل لیا تسلی ہوگئی اب بہت جلد اپنی بیٹی کو ہم لینے آئینگے جو بھی ہوا اور جن حالات میں بھی ہوا اسے بھول جائیں۔۔

دادو نے محبت سے اسکا ہاتھ تھپتھپایا۔۔

اسے تو سمجھ ہی نہیں آیا کہ آخر کرے تو کیا کرے۔۔

نور نے اچھی خاصی ٹیبل سجائی تھی مگر مجال ہے جو وہ اٹھی ہو یونہی ٹھس بیٹھی رہی شادی اور اسکی اور اس شادی کا انجام وہ سب بے خبر تھے مگر غصہ اسے ابراہیم پر آرہا تھا جو اسکی زندگی برباد کر اپنی خوشیوں کی آس لگائے بیٹھا تھا

میرا کردار مشکوک بنایا میرے لئے اپنے ہی گھر میں رہنا محال کیا تمہیں بھی سبق ملنا چاہیے محترم ابراہیم تلخی سے سوچتی وہ اٹھ کر کمرے سے باہر آگئی

پتا نہیں کون ہوتے تھے جو یوں اچانک شادی پر تماشے لگاتے تھے لمبی چوڑی پنچائیت لگتی تھیں یہاں تو سب افسانوں جیسا ہوا تھا اس کے ساتھ اور اسے غم تھا کہ اسکے ساتھ ہی کیوں ہوا۔۔

اندر ناجانے کیا کیا باتیں چل رہی تھی اسے غرض نہیں تھی اس لئے منہ بنائے وہ چھت پر آگئی تاحد نگاہ سرمئی شام چھارہی تھی جیسے اسکی زندگی اندھیروں کی زد میں آرہی تھی مگر کیا وہ جانتی تھی کہ اس اندھیرے کے پیچھے کتنی روشنی چھپی ہے جسے تلاشنے کے لئے کئی مراحل اسے طے کرنے تھے۔۔۔

کیا بکواس ہے یہ تو مجھے اب بتا رہا یار حاشر۔۔۔۔

وہ جو ابھی آفس سے آئے تھے گھر کو خالی دیکھ حاشر نے کال کرکے پوچھا تھا اور جو اسے بتایا گیا وہ ان دونوں کو پریشان کرگیا تھا

مجھے بھی تو تیرے سامنے ہی پتا چلا ہے نا ۔۔اسکے یوں بولنے وہ بھی تپا تھا

جبکہ ابراہیم نے اپنا سر پکڑا تھا بات تو طویل ہوتی جارہی تھی وہ بھنا کر رہ گیا تھا

کہا پھنسا دیا یار ارحم۔۔۔

وہ بڑبڑایا۔۔

ہاں اور سن اسکی اب کیا کرے گا اس رشتے کو ختم کرنے کی بات ہوئی تو سوچ دادو تیرے ساتھ کیا کرینگی۔۔۔

مجھے کیا پتا تھا کہ یہ سب ہوجانا یار یہ کہانیوں میں کیسے آرام سے لوگ دیکھا دیتے میری تو جان نکل رہی ہے ایسا لگ رہا کسی نے بیچ آگ کے دریا میں کھڑا کردیا نا تیر کر بھاگ سکتا نا کھڑے رہ سکتا دونوں صورتوں میں جھلسنا ہی مقدر ہے۔۔

اور اس آگ کے دریا کا انتخاب تو نے خود کیا ہے خود کو اب ہر چیز کے لئے تیار رکھ۔۔

اسے بولتا وہ کمرے میں چلا گیا۔۔

تبھی اسکا موبائل رنگ ہوا تھا ردابہ کا نمبر دیکھ دیکھ اس نے گہری سانس خارج کی تھی

اور اٹھ کر بالکونی میں آیا تھا خود کو کمپوز کرتا اس نے فون اٹھایا تھا

ہیلو ابراہیم کب سے کال کر رہی کہاں تھے؟؟ دوسری طرف سے شکوہ کیا گیا تھا

بزی تھا ردابہ۔۔۔

آر یو اوکے۔۔۔اسکے بجھے لہجے کو محسوس کرتے اس نے سوال پوچھا تھا

ہاں بلکل آئی ایم اوکے تم سناؤ واپسی کب ہے؟؟

اسکے پوچھنے پر اس نے خود کو چئیر کیا تھا

واپسی۔۔یار اے بی ایکچوئیلی ڈینی اور میں شارجہ جارہے ایک کانٹریکٹ کے لئے۔۔اس کے لہجے میں ایسا پتا نہیں کیا تھا کہ ابراہیم چونکا تھا

کتنے دن کے لئے۔۔۔

چھ مہینے۔۔۔ اسکے بولتے ہی اسکا دماغ گھوما تھا

دماغ خراب ہے تمہارے یہاں میں پاگل بنا بیٹھا ہوں کہ تم آؤ اور میں اپنی فیملی سے بات کرو مگر تم تو مجھے سیریس ہی نہیں لے رہی ہو شادی کی باتیں ہورہی ہیں میری اور تمہیں کوئی پرواہ نہیں۔۔۔

اب۔۔

شٹ اپ جسٹ شپ اپ ردابہ کیا سمجھا ہوا ہے مجھے ہاں کوئی غلام ہوں میں جو یوں رکا رہوں تمہارے لئے۔۔ اسکا غصے سے برا حال ہوا تھا تم نے کہا تھا تم واپس آکر شادی کرو گی اور اب یہ چھ مہینے کا تماشہ۔۔۔

ویٹ ۔۔۔یہ تم بات کس لہجے میں کر رہے ہوں ہاں میں نے کہا تھا کہ انتظار کرو تمہیں پتا ہے میرے لئے میرا کرئیر بہت اہم ہے اور غلام واٹ ربش۔۔۔

اگر تم ویٹ نہیں کرسکتے تو الگ ہوجاو کیونکہ فلحال کچھ سال تک میرا ارادہ صرف اپنے کرئیر پر فوکس کرنے کا ہے۔۔۔

اسکے دوٹوک انداز پر اسکا دماغ گھوما تھا

ٹھیک ہے پھر تم کرو جو کرنا مگر پھر سے گلہ مت کرنا۔۔۔

غصے سے بولتے اس نے فون کٹ کردیا لمحے میں وہ ایک نتیجے پر پہنچا تھا ساری پریشانی ہوا ہوئی تھی

بہت پچھتاؤ گی تم ردابہ بہت زیادہ۔۔۔۔

موبائل میں اسکا نمبر دیکھتا وہ خود سے بولا تھا۔۔

گھر آئے مہمان جا چکے تھے مگر جانے سے پہلے موت کا پروانہ اسے تھما کر گئے تھے اس نے ہاتھ میں انگوٹھی ڈال کر شادی کے لئے انہوں نے اگلے مہینے کی تاریخ مانگی تھی زلیخا نے اتنی جلدی تیاری کی وجہ پیش کی تو انہیں کچھ نہیں چاہیے بول انہوں نے زلیخا بیگم کی ساری پریشانی ہوا کی تھی وہ سمجھ رہی تھی ان کی خوشی کی وجہ ایک ان چاہے بوجھ سے جان چھوٹ جانے والی تھی۔۔

نور تو بے حد خوش تھی مگر خوشی تو دور اسکے چہرے پر کسی قسم کے کوئی تاثرات تک نہیں تھے

علی اس سے ملنے آیا تھا مگر زلیخا کی آواز پر وہ باہر آئی تھی

تم لوگوں نے تو بگاڑا ہے اسے اب کیوں آئے ہو کسی کی امانت ہے اب دور رہو اس سے۔۔۔

وہ علی کو سنا رہی تھی اس کے ماتھے پر لاتعداد بل پڑے تھے

بس کردیں بس بہت ہوگیا اب تک چپ تھی کیونکہ لحاظ تھا کہ ابھی آپریشن ہوا ہے مگر آپ کو خدا کا خوف نہیں کیا سمجھتی ہیں آپ بچی ہوں جانتی نہیں ہوں کچھ اگر چپ ہوں تو بس اسکی وجہ سے۔۔اس نے نور کا بازو تھام کر ایک دم آگے کیا تھا

اگر بولی نا تو آپ اپنی اولاد کو کیا منہ دیکھائیں گی ہاں ۔۔۔

میں چپ ہوں کیونکہ اب میں کوئی بدمزگی اس گھر میں نہیں چاہتی تو برائے مہربانی مجھے بولنے پر مجبور نہیں کریں اور یہ بھائی ہے میرا دوست ہے اس نے نہیں بگاڑا مجھے تمہارے رویے نے بتایا ہے جس شخص کی جائداد چاہیے نا میں بھی اسی کی بیٹی ہوں۔۔۔وہ تڑخ کر بولی تھی

زلیخا بیگم کو اس سے اتنی صاف گوئی کی امید نہیں تھی ان کی زبان کو ایک دم بریک لگے تھے

چل علی۔۔۔ علی کا ہاتھ تھامتی دوپٹہ سنبھالے وہ باہر نکل گئی۔۔۔

دیکھا اس کو کیسے اپنا خون پسینا ایک کر اس ناگن کو پالا اور مجھے اتنا سنا کر چلی گئی۔۔

امی۔۔ یہ کس بارے میں بات کرکے گئی ہے کہ آنسہ۔۔ نور ان کے پاس آئی تھی

کچھ نہیں دماغ نا کھا میرا جا یہاں سے۔۔۔

اسے جھڑکتی وہ اندر بڑھ گئی دماغ میں ایک دم ٹیسیں اٹھی تھیں مگر انہیں پرواہ نہیں تھی پرواہ تھی تو بس ایک چیز کی جس پر اب وہ جلد از جلد عمل کرنا چاہتی تھی۔۔۔

_______

وہ تھکا ہارا سا ان کے سامنے بیٹھا تھا جن کے چہرے پر آج ایک الگ قسم کی ہی چمک تھی وہ انہیں بس دیکھتا رہ گیا

حاشر اپنے انکل کو کال کرو اور بولو جلد از جلد پاکستان آنے کی کریں کنزہ کو میں کال کرچکی وہ بھی اپنا ویزہ وغیرہ دیکھ لے گی۔۔

حاشر نے پریشانی سے اسے دیکھا جو دم سادھے بیٹھا تھا

سن بھی رہے یا نہیں ۔۔۔حاشر کو چپ دیکھ وہ ایک دم بولی تھیں

جی دادو میں بات کرتا ہوں انکل سے۔۔

اور گھر کا کام بھی مکمل کرواؤ۔۔۔ان کے انگ انگ سے خوشی جھلک رہی تھی

دادو سب ہوجائے گا آپ آرام کریں۔۔حاشر نے انکا ہاتھ تھامے انہیں تسلی دی تو وہ مسکراتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں

کیا مسئلہ ہے تجھے چپ کیوں ہے؟؟ وہ پریشان سا اس کے پاس آکر بیٹھا تھا

کچھ نہیں ہوا مجھے کیا ہونا ہے۔۔وہ تلخی سے ہنس دیا تھا

اور اسکے یوں کرنے پر حاشر کے دل کو کچھ ہوا تھا۔۔

ادھر دیکھ ابراہیم کیا ہوا ہے؟؟ اسکا چہرہ اپنی طرف موڑے وہ ایک دم ٹھٹھکا تھا

اس کی آنکھیں لال سرخ ہورہی تھیں

دیکھ ابراہیم کیوں خود کو تکلیف دے رہا ہے میں بات کرتا ہوں دادو سے۔۔

وہ ایک اٹھا تھا تبھی ابراہیم نے اسے روکا تھا

کرنے دے انہیں جو کرنا ہے۔۔

مگر ردابہ؟؟ وہ ایک دم پوچھ بیٹھا جس پر وہ مسکرا دیا

اسے اپنا کیرئیر بنانا ہے وہ میرے بغیر خوش رہ سکتی ہے۔۔ٹوٹے لہجے میں بولتا وہ حاشر کو مسلسل پریشان کررہا تھا

ادھر دیکھ ابی بتا مجھے۔۔۔اس کے یوں پوچھنے پر وہ اسے اپنے اور ردابہ کے درمیان ہوئی بات بتاتا چلا گیا

حاشر کو افسوس ہوا تھا وہ جانتا تھا ابراہیم کتنا سیریس ہے اسے لے کر۔۔

تو پریشان مت ہو دیکھ ابراہیم ہر چیز کے پیچھے یقیناً کوئی نا کوئی مصلحت ہوتی ہے اگر یہ سب ہوا تو ضرور اللّٰہ پاک نے تیرے لئے کچھ بہترین سوچا ہے۔۔

ہممم۔۔

بس اب خوش رہ انشاء اللہ سب ٹھیک ہی ہوگا۔۔۔

حاشر کے سمجھانے پر وہ سر ہلاتا اٹھ گیا۔۔۔

یہ وقت پر لگا کر اڑا تھا اس نے خود کو بے حد مصروف کرلیا تھا حیات مینشن ایک بار پھر پوری آب و تاب کے ساتھ اپنی جگہ کھڑا ہوا تھا۔۔

حیات صاحب دراب کنزہ سب پاکستان پہنچ چکے تھے

وہ بظاہر مسکراتا سب سے مل رہا تھا مگر اسکا دل بجھ کر رہ گیا تھا وہ کسی طور آنسہ کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب بہت دیر ہوگئی تھی حاشر خوش تھا کہ وہ موو آن کر رہا ہے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ اسکے دماغ میں اس وقت کیا چل رہا ہے جان جاتا تو یقیناً اسے سمجھانے کی کوشش کرتا۔۔

کنزہ تو آنسہ سے مل کر بہت خوش ہوئی تھی

وہ لوگ حیات مینشن شفٹ ہوگئے تھے گھر کو دولہن کی طرح سجایا گیا تھا آخر کو اس گھر کی آخری شادی تھی

حاشر بھی اس سب میں آگے آگے تھا

اسکی خاموشی دیکھ حیات صاحب نے خود حاشر سے پوچھا تھا کہ کیا ابراہیم خوش ہے جس پر اس نے انہیں تسلی دی تھی۔۔

دوسری طرف وہ سب سے بیزار بیٹھی تھی اسکا دل ہی نہیں کرتا تھا کچھ کرنے کا جتنی وہ ایکٹیو تھی اس سے کہی زیادہ وہ سست ہوگئی تھی

نور اس کے پاس بیٹھ گھنٹوں پیلینگ کرتی تھی مگر وہ گونگی بہری بنی بیٹھی رہتی۔

روبینہ بیگم نے کسی قسم کا جہیز لینے سے صاف انکار کردیا تھا یہاں تک کے کپڑے بھی۔۔

بری کے نام پر کنزہ اور حمیرا اس کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک قیمتی سامان لائی تھیں وہ بس چپ چاپ یہ تماشہ دیکھ رہی تھی

ناجانے ایسا کیا تھا جو وہ دل میں دبائے بیٹھی تھی

کل اسے مایوں بیٹھ جانا تھا ایسے وقت میں ایک لڑکی کو اپنوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے اسے بھی اپنی ماں کی کمی آج پھر شدت سے کھلی تھی

وہ ناشکری نہیں تھی اس نے اللّٰہ کے ہر فیصلے پر سر جھکایا تھا

اگر اللّٰہ نے اس سے کچھ لیا تھا تو اسے بیش بہا چیزوں سے نوازہ بھی تھا

وہ چھت پر لیٹی آسمان کو دیکھ رہی تھی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا روح میں اتر کر عجیب سا۔ احساس پیدا کر رہی تھی ۔۔

تبھی نور نے اسکو خود میں بھینچا تو وہ گردن موڑ کر اسے دیکھنے لگی

کیا دیکھ رہی ہے آنسہ؟؟

کچھ نہیں تو کب آئی؟؟ وہ اسکا ہاتھ ہٹا کر اٹھ کر بیٹھی تھی

میں تو تبھی آئی جب آپ ہمارے دولہا بھائی کے خیالوں میں گم تھیں۔۔

نور کی بات پر اسکا دل کیا قہقہ لگا کر ہنسے

میں ایسے کام نہیں کرتی جو مجھ پر جچتے نا ہو۔۔

بس بھی کر یار آنسہ قسم سے کل مایوں بیٹھ جانا اور تو یہاں سن ہوئی بیٹھی ہے۔۔

تو کیا کروں بھنگڑے ڈالوں؟؟ وہ چڑ کر بولی تھی نور کے پاس اسکے علاؤہ کوئی ٹاپک ہی نہیں تھا۔۔

ناراض ہے مجھ سے ؟؟ نور نے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرا تو وہ مسکرا کر نفی میں سر ہلا گئی

نہیں تو میں بھلا کیوں تجھ سے ناراض ہونگی؟؟

اماں بہت درد دیتی ہیں نا آنسہ میں جانتی ہوں ان کی باتیں مجھے اتنی تکلیف دیتیں ہیں تو تجھے کتنا زیادہ برا لگتا ہوگا مجھے احساس ہے میں ان کی طرف سے معافی مانگتی ہوں آنسہ۔۔ اس نے ایک دم اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے۔۔

پاگل ہوگئی ہے کیا نور ایسے کیوں کر رہی تو جانتی ہے مجھے فرق نہیں پڑتا ہے۔۔

بس کردے کیوں خود کو پتھر ظاہر کرتی ہے جسے کوئی فرق نہیں پڑتا میں جانتی ہوں تجھے فرق پڑتا ہے میری ماں غلط کر جاتی ہے اور تو بس کر اب۔۔

اسے گلے سے لگائے وہ رونے لگی اور اسکے یوں کرنے پر آنسہ کو اس پر بے تحاشہ پیار آیا تھا

افف بس کردے شادی میری ہے رو تو رہی اگر ایسے روئے گی تو میں نے شادی سے انکار کردیا پھر سوتیلی ساری زندگی یونہی مجھے سناتی رہے گی۔۔

اسے پچکارتے وہ ہنس کر بولی تو وہ منہ بنا کر اس سے الگ ہوئی

سوچنا بھی نہیں ایسا میری سب سے بڑی خوشی ہے تجھے خوش دیکھنا دادو بہت اچھی ہیں تجھے اماں کی طرح نہیں سنائیں گی تو بہت خوش رہے گی ابراہیم بھائی بھی تجھے بہت سارا پیار کریں گے۔۔

وہ خوشی خوشی بول رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اس شخص کے نام پر اسکا دل برا ہوا تھا

وہ شخص جو مجھے کچھ عرصے بعد مجھے چھوڑ دے گا اس سے کیسی محبت ملے گی مجھے۔۔۔۔

خود سے بولتی وہ تلخی سے ہنسی تھی۔۔

پورے حیات مینشن کو دولہن کی طرح سجایا گیا تھا

وسیع وعریض لان کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا مہمان گو کو بس اپنے ہی تھے مگر پھر بھی انتظام انہوں نے بھرپور کیا تھا

بےبسی کیا ہوتی ہے یہ آج ابراہیم نے جانا تھا

پیلے کرتے پر سفید پاجامہ اور چنری ڈالے ہلکی بڑھی شیو وہ گہری کالی آنکھیں جو آج اداس سی تھی اسکی وجاہت کو مزید بڑھانے کا سبب بن رہی تھیں

روبینہ بیگم نے فوراً اس کی نظر اتاری تھی۔۔

آنسہ لوگ آتے ہی ہونگے حاشر جیسے ہی وہ لوگ آئیں ابراہیم کو لے کر آنا ہے۔۔

نیچے سے آتی کنزہ نے حاشر کو بول اب اپنے بھائی کا صدقہ اتار رہی تھی

ویسے آپی بھائی تو میں بھی آپکا ہوں اور آج کافی وجہہ لگ رہا ہوں تو آپ کو نہیں لگتا میرا صدقہ بھی اتارنا چاہیے آپ کو۔۔

اسکے شوخی سے کہنے پر کنزہ نے ہنستے ہوئے اسکا بھی صدقہ اتارا تھا۔۔

بی بی کی دولہن بیگم اور انکے گھر والے آگئے ہیں۔۔ملازمہ بھاگتی انہیں اطلاع دینے آئی تھی۔۔

چلو بچوں جلدی سے آجاؤ نیچے۔۔

جاتے جاتے وہ حاشر کو تاکید کرتی نیچے آئی تھیں

جہاں اب انہیں اپنی ہونے والی بہو کا اسکے شایانِ شان استقبال کرنا تھا۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھی وہ اس گھر کو دیکھ رہی تھی جہاں کل اسے آنا تھا اور پھر طلاق لے کر واپس اپنے گھر جانا تھا وہ خود کو ہر طرح سے تیار کر کے بیٹھی تھی

نور نے ہاتھ بڑھا کر اسے باہر نکالا تھا

مسٹرڈ کلر کی گھیر دار فراک پہنے ہم رنگ نیٹ کا دوپٹہ گھونگھٹ کی صورت لئے پھولوں کے زیورات سے سجی وہ آج ہر دیکھنے والی آنکھ کو خیراں کررہی تھی کھلتی سے رنگت پر آج نرالی سی چمک تھی

کنزہ نے محبت سے اسکا ہاتھ تھام کر اسے ابراہیم کے پہلو میں کھڑا کیا تھا

کیسے نرالے دولہا دولہن تھے جو ایک دوسرے سے سخت چڑ محسوس کئے کھڑے تھے۔۔

فلش لائٹس ان پر پڑ رہی تھیں

خوشی سب کے چہروں سے عیاں تھی

انہیں کے جا کر اسٹیج پر ساتھ بیٹھایا گیا تھا

اس کے بیٹھتے ہی ابراہیم اس کے پہلو میں بیٹھا لمحے میں ان کا ہاتھ ٹچ ہوا تھا

تبھی اس نے اپنا ہاتھ اتنی زور سے آگے کیا کہ اسکی کہنی ابراہیم کی پسلی میں لگی تھی

کیا پاگل ہو انسان بن کر بیٹھو۔۔۔وہ آواز نیچی کئے غرایا تھا

تم انسانوں کی طرح بیٹھنا سیکھو پہلے۔۔

وہ گھونگھٹ کے اندر سے بڑبڑائی تھی

تمیز نہیں ہے بات کرنے کی بدتمیز۔۔۔

ہاں خود نے تو جیسے پی ایچ ڈی کی کوئی ہونہہ۔۔۔

اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا کنزہ ان کے پاس آکر بیٹھی تھی

کیا باتیں ہورہی ہیں بھئی صبر کرو میرے بھائی کل تمہارے پاس آجانا ہماری بھابھی نے۔۔۔

کنزہ شرارت سے بولی تھی اور اس کی بات پر ان دونوں نے پہلو بدلہ تھا۔۔

چلو بھئی رسم شروع کرو۔۔۔۔

سب سے پہلے بولتے کے ساتھ دادو ان کے پاس بیٹھی تھیں اور رسم ادا کی تھی اسکے بعد ایک ایک کر کے سب نے رسم ادا کی اور اسے ڈھیروں پیار کیا ناچاہتے ہوئے بھی اسکی آنکھیں نم ہوئی تھیں دادو نے اسے سینے سے لگایا تھا

ایسے نہیں روتے گڑیا۔۔۔انہوں نے اسے خود میں بھینچا تھا

اسے انکے سینے سے لگے سکون سا ملا تھا

سب کی آنکھیں نم ہوئی تھیں

ہونہہ ویسے تو بڑی زبان چلتی اب جیسے معصوم بن رہی ڈھونگی عورت۔۔

اسے یوں اپنی دادو سے لپٹا دیکھ وہ جل بھن کر کباب ہوا تھا

جبکہ اسکی بڑبراہٹ سنتے ہی حاشر نے پیچھے سے اسے نوچا تو وہ بلبلا کر رہ گیا۔۔

منحوس انسان۔۔۔