Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Ishq Wajib Hai By Farwa Noor
ایک منٹ۔۔۔ اس نے اسے روکا تھا ائم سو سوری مجھے ایسے نہیں کہنا چاہیے تھا لیکن مجھے واقعی آپ کی ہیلپ چاہئیے۔۔ وہ اب کی بار نرمی سے بولا تھا مجھے کوئی مدد نہیں کرنی اور نا آپ کا کوئی احسان لونگی رہے آپ کے پیسے تو میں وہ جلد واپس کردونگی یہ بولتے ہوئے اسکا دل ڈوبا تھا جانتی تھی اتنی جلدی پیسوں کا انتظام وہ چاہ کر بھی نہیں کرسکتی تھی دیکھوں مجھے پیسے نہیں چاہیے بس ہیلپ چاہیے ائم سوری میں دوست کی باتوں میں آکر پتا نہیں کیا بول گیا وہ پریشان تھا اس لئے لہجے کو نرم کرتے بولا تھا۔۔ پلیز بیٹھو۔۔ اس کے بولنے پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی بیٹھ گئی ابرہیم نے اس کے آگے اپنا مسئلہ رکھا تھا پیپر میرج نہیں تو نکاح پلیز۔۔۔ دیکھو میں تم سے کسی قسم کی کوئی ڈیمانڈ نہیں رکھتا بلکہ تمہیں مجھے یہ پیسے واپس کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے یہ بات تم بھی جانتی ہو کہ کینسر نے علاج کے لئے سرجری کے بعد بھی اتنا پیسہ لگتا ہے میں ہر طرح سے ہیلپ کرونگا بس تم میری ہیلپ کردو وہ ملتجی انداز میں بولا تھا انسہ نے بس خالی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی سودا برا نہیں تھا وہ نور اور اپنے باقی بہن بھائیوں کے لئے اتنا تو کرسکتی تھی اسے تو ویسے بھی کسی کی ضرورت نہیں تھی نا اسکی کسی کو اس نے بس لمحے کو سوچا تھا آج اگر وہ زلیخا کی سرجری روکتی ہے اور اپنی انا کے لئے پیسے واپس کرتی ہے تو نور کا کیا ہوگا وہ تو اپنی ماں کے بغیر رہ چکی ہے وہ کیسے رہے گی ٹھیک ہے مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔۔ بالآخر اس نے ابرہیم کو اچھی خبر سنائی تھی ٹھیک ہے ہم آج ہی نکاح کریں گے میں مزید تاخیر نہیں چاہتا۔۔ وہ خوشی سے بولا تھا کتنا بڑا بوجھ تھا جو اس نے سر سے ہٹا تھا تمہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہے نا ؟؟ اسے آنسہ کا خیال آہی گیا تھا اس نے نفی میں سر ہلایا اس نے جلدی سے ارحم کو کال کر کے نکاح کا ارینج کرنے کو بولا وہ بس خاموشی سے سارا تماشہ دیکھ رہی تھی کیا کرنے جارہی تھی وہ اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ اور بھی اس طرح کے مستقبل کی کوئی خبر نہیں وہ کبھی کمزور نہیں پڑی تھی نا پڑنا چاہتی تھی لیکن تھی تو وہ بھی ایک لڑکی ہی نا بھلے شادی کو لے کر اس نے ارمان نہیں تھے لیکن اس طرح شادی تو اس نے بھی نہیں سوچی تھی اور وہ اس کے لئے شادی کرے گی جس سے اسکی بنتی ہی نہیں تھی ایک منٹ۔۔۔ اس کے اچانک بولنے پر وہ رکا تھا کیا ہوا؟ میرا کوئی ولی نہیں ہے۔۔۔ تو اب۔۔۔ ولی کی موجودگی لازمی ہے۔۔ اس نے سر جھکا کر کہا اپنوں کے چہرے کبھی کبھی بہت کمزور کردیتے ہیں تمہاری امی کی موجودگی میں نکاح کرنا ہوگا کیا ؟؟ مجھے نہیں پتا۔۔ وہ سرے سے دامن بچا گئی تھی اس سے اسے مزید وقت مل سکتا تھا سوچنے کے لئے شاید کوئی راہ نکل آتی۔۔۔ لیکن مایوسی تب ہوئی جب وہ اسے لئے اسپتال لایا تھا زلیخا بی بے سدھ سی بستر پر پڑی تھیں آپ سے ایک اجازت چاہتا ہوں بی وہ ان کے پاس کرسی گھسیٹ کر بیٹھا تھا انہوں نے ناسمجھی سے اسے دیکھا جو ان کے لئے اتنا کر ریے تھے آپ کی بیٹی کو اپنے نکاح میں لینا چاہتا ہوں آپ کی اجازت درکار ہے اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا یہ کیا کررہا تھا وہ کہاں وہ پیپر میرج کی بات اور کہاں اب یہ سب ….. اور دوسرا جھٹکا اسے تب لگا جب۔۔۔۔ زلیخا بی نے لمحہ سوچ کر ہاں میں سر ہلایا تو وہ مسکرا اٹھا۔۔۔ جب کے وہ آخری امید کے ٹوٹنے پر رو بھی نا سکی۔۔
