Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 3)

510.5K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Wajib Hai (Episode 3)

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

اندھی ہو کیا دیکھتا نہیں ہے جو روڑ پر بنا دیکھے بھاگ رہی ہو وہ غصے سے آگ بگولا ہورہا تھا ایک تو پہلے ہی دیر ہورہی تھی اوپر سے یہ۔۔

ہاں اندھی بھی ہوں گونگی بھی بہری بھی ہوں تیرے سے مطلب۔۔۔۔اس نے یوں بھڑکنے کر وہ بھی بدتمیزی پر اتر آئی تھی

تو جب اتنی ہی بیماریاں ہے تو ہاسپٹل جاؤ یہاں کیا سڑکوں پر ناچتی پھر رہی۔۔

وہ بھی دوبدو بولا تھا

اسپتال جائے تو، تیرا یہ گھنا دوست تیرے سارے رشتہ دار۔۔۔ وہ کہا کم تھی ایک کی دس سناتی تھی آج تو ویسے ہی اتنی گرمی تھی کہ اسکا دماغ گھوما ہوا تھا

تم جاہل گوار۔۔۔۔۔ وہ اس پر غرایا

اور تم۔۔۔ وہ لمحے کو رکی پڑھا لکھا جاہل۔۔بدلہ وہاں سے بھی برابر لیا گیا تھا

جاہل کس کو بولا۔۔۔

جاہل لفظ ہر وہ تڑپا تھا

آپ کو بولا۔۔۔۔ تمہیں بولا۔۔۔۔ تیرے کو بولا تجھے بولا چل بھاگ اب یہاں سے۔۔۔وہ اب بھی باز نہیں آئی تھی اسے امیروں سے ویسے ہی بڑی چڑ تھی جو اپنی دولت کا رعب جھاڑتے تھے

تم۔۔۔۔۔۔ وہ دانے پیس کر رہ گیا اتنی بد تمیز لڑکی

بد تمیز۔۔۔۔ وہ بڑبڑا کر رہ گیا

تو ہوگا بد تمیز جاہل سب کچھ۔۔۔آج گرمی نے اسکا دماغ گھوما کر رکھا ہوا تھا

وہ اسے کوئی جواب ہی دیتا لیکن حاشر نے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکا

چھوڑ نا چل دیر ہورہی ہے کیوں اپنا دماغ خراب کر رہا چل۔۔۔ اس کے کہنے پر وہ اسے گھوری سے نوازتا گاڑی کی طرف بڑھا

کیا ہوا ڈر گیا آیا تھا بڑا تیس مار خان بن کے۔۔۔۔

اسنے ایک زور کی لات اسکی گاڑی پر ماری خود کے بھی لگی تھی لیکن یہاں پرواہ کسے تھی

اس کے بولنے پر وہ اسے سخت نظروں سے گھور رہا تھا

اوئے للو گھورتا کس کو ہے ڈرپوک اب لڑ نا گاڑی کا روعب جا کر کسی اور کو دیکھائیو مجھے نہیں۔۔۔۔

وہ خود پر ضبط کرتا گاڑی میں بیٹھا اور دروازہ دھڑام سے بند کیا

اوئے گاڑی والے ڈر گیا کیا اسکے جاتے ہی اس نے مزے سے آواز لگائی اور چادر میں سے چھالی کھول کر اپنے منہ میں ڈالی

آیا بڑا مجھ سے پنگا لے گا۔۔۔

ہونہہ۔۔۔۔

وہ بلی کے بچے کو بچانے کے لئے بھاگی تھی لیکن اس گاڑی کے سامنے آگئی

اندھا دیکھ کر گاڑی نہیں چلاتا اب بھلا بندہ روڈ پر چل بھی نہیں سکتا میسنا گاڑی چلا لیتا کہیں اور۔۔مسلسل بڑبڑاتی اب وہ سائیڈ پر چلنے لگی تھی

مجال تھی کہ وہ کبھی اپنی غلطی مانتی یہاں بھی روڈ چلنے کے لئے تھا ہاں گاڑی وہ کہیں اور چلا سکتا تھا۔۔۔

سڑا کریلا اخروٹ دماغ مجھ پر یعنی آنسہ کامران پر غصہ کریگا اس کی اتنی مجال

وہ مسلسل اسے غائبانہ طور پر سنائے جا رہی تھی ۔۔۔

وہ ڈائریکٹ شبانہ خالہ کے گھر آئی تھی جہاں روشنی بیٹھی اسی کا انتظار کر رہی تھی

اتنی دیر کردی تو نے کب سے انتظار کر رہی ہوں میں تیرا۔۔اسے دیکھتے ہی روشنی نے خفگی سے کہا تھا

دیر کہاں ہوئی چھ ہی تو بجے ہیں۔۔ اس نے مزے سے بول کر پاؤں پھیلائے

آنسہ ہمیں جانا تھا یار۔۔۔ روشنی نے منہ بسورہ تھا

ہاں تو چل نا کس نے روکا۔وہ لاپرواہی سے بولی تھی

تو کہا گئی تھی پہلے یہ بتا؟روشنی کو کچھ عجیب لگا تھا

نور کی دوست کے گھر۔۔۔ اسے بخار ہے نا تو مجھے جانا پڑا وہ کالج نہیں آئی تھی تو نور کو سامان بھیجنا تھا اسے وہ دے کر میں تیرے پاس ہی آنے کے لئے نکلی تھی پھر منحوس روڈ پر وہ گاڑی والے سے منہ ماری ہوگئی اب تو بس تیار ہے تو میں آتی تیار ہو کر۔۔۔اس نے بولتے کے ساتھ اٹھ کر چپل پاؤں میں ڈالی تھی

تیرا سوٹ نکال دیا ہے میں نے بس یہی ہوجا تیار۔۔۔ روشنی نے اسکا سوٹ اسکے ہاتھ میں تھمایا جو وہ اکثر یہاں رکھتی تھی

چل ٹھیک۔۔۔

وہ دونوں تیار ہوکر نکلی تھیں روشنی کو ایک سوٹ لینا تھا جو اسے مال میں بے حد پسند آیا تھا جب وہ بوتیک میں سامان دینے گئی تھی شبانہ کے ساتھ اب پیسے جمع کر کے وہ لینے جارہی تھی

غریبوں کو بھی اپنی ضروریات کو ایسے ہی پورا کرنا پڑتا ہے لوگ لمحہ نہیں لگاتے ان کے گھر تباہ کرنے میں۔۔۔

مال جانے کے لئے اس نے سب سے اچھے کپڑے پہنے تھے

البتہ امل تو پہنتی ہی اچھا تھی کیونکہ وہ خود کو بہت امیر سمجھتی تھی بھئی دوکان اور مکان کی مالکن تھی کوئی چھوٹی بات تھوڑی تھی زلیخا بیگم بڑا چڑتی تھی مگر وہ کہاں کسی کی سنتی تھی

اس کے پاس کپڑے بہت تھے

شبانہ کو بتا کر وہ علی کے ساتھ وہاں سے نکلی تھیں آنسہ کو تو کچھ نہیں لینا تھا بس روشنی کی ضد پر وہ اسکے ساتھ جارہی تھی۔۔۔۔

وہ حاشر کو چھوڑ کر ردابہ کے گھر آیا تھا خراب موڈ اسے دیکھ کر ایک دم ٹھیک ہوا تھا اس نے باہر نکل کر اسکا استقبال کیا تو عادت کے مطابق وہ اسکے گلے لگی گال سے گال مس کیا تو ابراہیم کی دھڑکن منتشر ہوئی

اس نے اس کے لئے فرنٹ دور کھولا تو وہ بڑی شان سے اسکے ساتھ بیٹھی تھی اور پھر ہاتھ بڑھا کر میوزک پلیئر آن کیا

مال پہنچ کر وہ تو بس پاگل ہوگئی اسے بے حد کریز تھا شاپنگ کا

مال میں تقریباً ساری پیمنٹ ہی ابراہیم نے کی تھی

ردابہ کا بس چلتا تو پورا مال ہی خرید لیتی

ابھی بھی وہ اسکا ہاتھ تھامے جیولری شاپ میں آئی

یہ دیکھوں یہ رنگ کتنی پریٹی ہے نا اے بی(اسے ابراہیم لمبا نام لگتا تھا اس لئے وہ اسے اےبی ہی کہتی تھی)

ہمم پیاری ہے۔۔۔وہ ہلکا سا مسکراتے بولا تھا

تو تم مجھے پرپوز کرتے ہوئے اسی طرح کی رنگ پہنانا یو نو یونیک سی۔۔۔

ردابہ کی بات پر اسے جھٹکا لگا۔۔

وہ خود سے ایسا بولے گی اس نے سوچا نہیں تھا

کیا ہوا کیا سوچ رہے؟؟

ہہہ۔۔۔۔ ہاں نہیں کچھ نہیں وہ مسکرادیا

اوکے وہ کندھے اچکا کر جیولری دیکھنے میں بزی ہوگئی

جبکہ اسکا دل تو خوشی سے زور زور جھوم رہا تھا۔۔۔

وہ دونوں اپنی مطلوبہ جگہ سے سامان لے کر ایسے ہی مال گھوم رہی تھیں کہ اس کی نظر جیولری شاپ پر پڑی

روش وہ دیکھ یہ وہی لنگور ہے جس سے لڑائی ہوئی تھی میری۔۔۔اسکی نظر ابراہیم پر پڑی تو اس نے روشنی کو دیکھایا تھا

آنسہ کی بچی تو اتنے ہینڈسم انسان کو لنگور مت بول۔۔روشنی نے سخت برا منایا تھا

چل بے ایسا ہینڈسم در فٹے منہ۔۔۔ اس نے منہ سڑایا

وہ دونوں گاڑی میں بیٹھے ہی تھے کہ اچانک ردابہ کو یاد آیا کہ وہ اپنا ایک بیگ اوپر ہی بھول گئی اس لئے وہ ابرہیم کو ویٹ بول کر اندر کی طرف بڑھی

وہ بیگ لئے باہر کی طرف جا ہی رہی تھی کہ کسی سے بری طرح سے ٹکرائی

اندھے ہو دیکھتا نہیں ہے کیا جاہل انسان

اس نے ٹکرانے والے شخص کو گھورا

جو دیکھنے میں ہی اسے مڈل کلاس لگا

سوری میڈم۔۔۔۔

سوری مائے فٹ تم جیسے جاہل گوار لوگوں کو مال میں آنے ہی کون دیتا ہے جنہیں نا چلنے کی تمیز ہے نا بات کرنے کی اسٹوپڈ انسان۔۔

وہ غصے سے غرائی تھی

دیکھوں میری غلطی نہیں ہے۔۔۔وہ اس کی شرافت کا زیادہ ہی فائدہ اٹھا رہی تھی

اچھا تو پھر کس کی غلطی تھی ہاں میری رکو زرا ابھی مینیجر کو بلاتی

مینجر سے نہیں مجھ سے بات کر تو۔۔۔وہ مینجر کو آواز دینے ہی لگی تھی کہ کسی کے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا

اے جنگلی ہاتھ چھوڑ میرا۔۔۔۔۔

جنگلی پن ابھی دیکھایا ہی کب ہے میں نے ہاں

میرا بھائی کچھ بول نہیں رہا تو سر چڑھ رہی ہے زیادہ ہی۔۔۔

یہ مال تیرے باپ کا نہیں ہے جو تو یہاں بیٹھ کر سب کی ماں بن کر گھومے گی اس نے اسکے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی

تم جاہل گوار گندی ہاتھ چھوڑ وہ خود کو پڑھا لکھا ثابت کرنے والی خود بھی جاہلوں کی طرح بول رہی تھی

گند ہوگی تو گندی نالی کی کیڑی امل نے اسکا ہاتھ مروڑا

آوچ۔۔۔۔۔درد اسکے پورے ہاتھ میں سرایت کر گیا تھا

آئندہ اپنی زبان سنبھال کر رکھنا آئی سمجھ تم جیسے لوگوں کو جوتی پر رکھتی ہے امل کامران۔ کسی کو کچھ بھی بولنے سے پہلے ایک بار مجھے ضرور یاد کر لینا

ایک جھٹکے سے اسکا ہاتھ چھوڑ کر اس نے علی کا ہاتھ تھاما اور باہر نکلتی چلی گئی

جبکہ وہ پیچھے روتے ہوئے اپنا مسل رہی تھی سب کے سامنے اتنی بے عزتی

اسکا دل کیا جاکر منہ نوچ لے اس لڑکی کا جو جانے کون تھی

سب اسے دیکھ رہے تھے

کیا تماشہ ہورہا ہے جو یہاں کھڑےہو دفاع ہو سب۔۔۔

ان سب پر چیختی ہو اپنا بیگ اٹھاتی وہاں سے نکلی

اس کو ٹھیک سنایا اس لڑکی نے اسکی بد تمیزی دیکھ ایک عورت سے دوسری سے کہا تھا

وہ غصے میں تن فن کرتی گاڑی میں بیٹھ کر دروازہ دھاڑ سے بند کیا

آر یو اوکے ردابہ؟؟

چلو یہاں سے۔۔۔اسکا موڈ حد سے زیادہ خراب تھا

پر ہوا کیا ہے؟ وہ اسکے رویے پر حیران ہوا

آئی سیڈ چلو آواز نہیں آئی کیا تمہیں وہ اس پر چیخی تھی۔۔۔ اپنا غصہ اسنے ابراہیم پر اتارا تھا

کیا ہوا کیوں ہوا کیسے ہوا سوال شروع جب ایک بات بولا کروں نا تو اس پر عمل کیا کرو مجھے نہیں پسند ہے میرے آگے فضول کے سوال کئے جائیں۔۔۔

ابراہیم کو ناگوار تو گزرا لیکن پھر اسکے موڈ کا سوچ کر چپ چاپ گاڑی آگے بڑھا دی

_______

کیا ہوا سب سیٹ؟؟؟ وہ کمرے میں آتے ہی بستر پر ڈھے سا گیا تھا تو لیپ ٹاپ پر کام کرتے حاشر نے اس سے پوچھا

ہممم۔۔۔۔۔وہ آنکھیں موندے اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا

کیا ہممم بول بھی اب کیا ہوا ہے۔۔۔حاشر کو اسکی خاموشی عجیب لگی تھی اس لئے وہ کام چھوڑے سیدھا ہوکر بیٹھا۔۔۔

ردابہ نے خود سے ہماری شادی کی بات کی ہے۔۔

ہیں ؟؟؟؟سچ بول رہا حاشر اپنا کام چھوڑ کر اس تک آیا تھا۔

اتنی بڑی خبر ایسے سوکھے انداز میں کیوں دے رہا ہے؟؟

کیونکہ میں خود شاکڈ ہوں مجھے تو لگا تھا میں اسے پرپوز کرونگا یہاں تو الٹا ہی ہوگیا۔۔اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ چلایا تھا

ہاں تو کیا ہوا خیر ہے ماڈرن ایج ہے نا۔۔۔۔حاشر کو لگا وہ اس بات پر پریشان ہے

ابے بےوقوف یہ نہیں بول رہا بس میں نے کچھ اور سوچا ہوا تھا خیر اب جلد ہی اس سے بات کر کے دادو کو بتاؤ گا ورنہ اس بار وہ پکا کسی کو لے کر آجائیں گی اور نکاح پڑھوا دینگی وہ سڑے منہ سے بولا تھا۔۔

تو ظاہر ہے اٹھائیس سال کا ہوگیا ہے تو اب تو شادی کر لے۔۔۔ حاشر نے اسے جتایا تو وہ ہنس دیا

ہاں اب میں سیریس میں شادی کا سوچ رہا ہوں دادو کو بھی خوش کردوں

ارے گڈ میرا بچہ چل اب اسی بات پر آجا کھانا کھائیں میں نے پیزا آرڈر کیا ہے۔۔۔ حاشر کے پچکارتے پر وہ مسکرا دیا

تھینکس یار۔۔۔۔ وہ حاشر کا ہاتھ تھام کر باہر بڑھا۔۔۔

کوئی پریشانی ہے کیا؟؟؟حاشر کو ناجانے کیوں تسلی نہیں ہوئی تھی

پتا نہیں حاشر مگر کبھی کبھی ردابہ کا رویہ میری سمجھ میں نہیں آتا کبھی بہت اچھی تو کبھی بہت روڈ۔۔۔

خیر ہے یہ کونسی بڑی بات یار امیر باپ کی بیٹیاں ایسی ہی ہوتی ہیں۔۔

ایسا تو نہیں ہے

اوئے شیرنی نہیں کیا کر پھڈے فضول میں سب تجھے لڑاکا سمجھے گے…

علی نے اسے سمجھایا جو پورا راستہ بکتی آئی تھی

تو تو چپ کر وہاں اس کو سوری بول رہا تھا ارے یہ بڑے گھر کی لڑکیاں ہم لوگوں کو کیڑا سمجھتی ہیں ان کو اوقات دیکھانا بہت ضروری ہے۔۔۔غصے سے بولتے اس نے علی کو گھورا

اچھا نا چھوڑ بس اب غصہ تھوک دے آجا تجھے آئسکریم کھلاؤ۔۔

اسکا موڈ ٹھیک کرنے کی خاطر وہ اسے لئے شاپ تک آیا تینوں کے لئے آئسکریم لی پھر وہ گھر آئے تھے امل تو ڈائریکٹ گھر ہی آئی تھی جہاں زلیخا غصے میں بھری بیٹھی تھی

کچھ تجھے خیال نہیں ہے نا جوان جہاں لڑکی ایسے دندناتی پھرتی ہے کچھ الٹا سیدھا ہوگیا دنیا تھو تھو کرے گی مجھ پر۔۔۔اسے دیکھتے وہ پھٹ پڑی تھیں

ہاں تو تجھے دنیا کی فکر ہے اور اپنی کہ دنیا تجھے برا کہے گی تو فضول میں میری فکر کا ناٹک نہیں کیا کر

اور ویسے بھی دم گھٹتا ہے اس گھر میں میرا۔۔۔۔

ہاں تو جان کیوں نہیں چھوڑ دیتی شادی کر اور اپنے گھر جا۔۔

ہاں ہاں چلی جاؤں گی تم فکر نہیں کرو جب وقت آئے گا چلی جاؤں گی لیکن یہ مت سمجھنا یہ اس گھر پر تم اکیلی حکومت کرو گی

ہاں ہاں تیرا ہی گھر ہے رکھ تو سنبھال کر ارے میرے دم سے چلتا ہے یہ گھر ورنہ تو نے تو برباد کرنا تھا سب کچھ۔۔۔۔

وہ تو جیسے بھری بیٹھی تھیں

ارے رہنے دو برباد تو پہلے ہی سب ہے منحوس گھڑی تھی جب تم میرے باپ کی زندگی میں آئیں میری ماں کی جگہ تو تم پھر بھی نہیں لے سکی

وہ بھی مقابلے پر آگئی تھی۔۔۔

نور نے افسوس سے ان دونوں کو دیکھا جو ایک دوسرے سے اس طرح بات کرتی تھیں جیسے دشمن ہو

اس نے تکیہ میں منہ دے دیا کیونکہ ان دونوں کو سمجھانا اب بے کار تھا

وہ باہر سے لڑ جھگڑ کر اب اسکے برابر میں آکر لیٹ گئی

جان عذاب ہوگئی ہے😒

سوجاؤ آنسہ مجھے نیند آرہی ہے

ہاں تو مرو تم میں نے کب جگایا تمہیں وہ منہ بنا کر کہتی کروٹ لے کر لیٹ گئی

ایک آنسو اس کی آنکھ سے گرا وہ بہت مضبوط تھی زندگی کا مقابلہ کرنا جانتی تھی چھوٹی سی عمر میں ہی اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا لیکن کبھی کبھی وہ کمزور پڑنے لگتی تھی لیکن ہمت کرنی تھی اسے جہاں وہ کمزور پڑی سب اسے زندہ رہنے نہیں دینگے۔۔۔۔

زلیخا نے اپنا کام شروع کردیا تھا اس لڑائی کے بعد وہ زیادہ تر وقت کتابوں میں گھسی رہتی انٹر تو اسے کرنا ہی تھا اسی لئے پیپرز تک اسنے اپنی ساری ایکٹیویٹی ترک کردی تھی

بس گھر میں رہ کر ہی اپنے کام کرتی رہتی علی اور شان سے بھی اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی روشنی البتہ آکر چکر لگا جاتی تھی

اسے ثابت کرنا تھا کہ وہ بھی کسی سے کم نہیں ہے

تین مہینے اس نے بس خود کو دئیے تھے سب حیران تھے کہ اسے کیا ہوا لیکن زلیخا سکون میں تھیں انکی جاب بہت اچھی چل رہی تھی محنتی تو وہ بہت تھی اس لئے انکا کام وہاں کے لوگوں کو پسند بھی بہت آرہا تھا وہ اپنے کام اور جگہ دونوں سے مطمئن ہوگئی تھیں

کیا ہوا؟ ابراہیم اس کے ساتھ ساحل پر آیا تھا جہاں اسکے لئے ابراہیم نے اسپیشل ارینجمٹ کروایا تھا

جسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئی تھی تب ابراہیم نے اسکا ہاتھ تھاما اور خود گھٹنوں کے بل بیٹھا

ول یو میری می ؟؟؟؟

اس نے انگوٹھی اس کے آگے کی۔

وہ شاکڈ سے اسے دیکھنے لگی

کیا ہوا؟؟ اسے یوں خاموش کھڑا دیکھ اسے عجیب سا لگا تھا

کچھ نہیں ہوا بس حیران ہوں اتنا جلدی یہ سب۔۔۔۔ وہ مصنوعی سا مسکرائی

جلدی تو نہیں ہم اتنے سالوں سے ساتھ ہیں اور پھر اس دن تم نے ہی تو ہرپوز۔۔۔ اس نے بات ادھوری چھوڑی

اووو کم اے بی پرپوز کرنے میں اور شادی کرنے میں بہت فرق ہے پرپوز کر کے ہم سب میں کلیئر کردیتے کہ وی آر ان ریلیشن شپ اور شادی تو بہت بڑی کمٹمنٹ ہے جس کے لئے میں تو فلحال ریڈی نہیں ہوں

پر درا۔۔۔۔

پلیز اے بی ٹرائے ٹو ایڈرسٹینڈ می دیکھوں میں منع نہیں کر رہی تم سے شادی کے لئے بٹ ابھی کچھ ٹائم چاہیے۔۔۔

ٹھیک ہے تم ٹائم لو لیکن ایٹلیس انگیجمنٹ تو کر سکتے ہیں نا

نہیں وہ بھی نہیں اور پلیز فیملی کو ابھی کچھ بھی مت بتانا۔۔۔

خیر ابھی چلو یہاں سے مجھے کچھ کام ہے وہ بیگ اٹھا کر آگے بڑھ گئی لیکن وہ وہی کھڑا تھا وہ سمجھ رہا تھا اسے ٹائم چاہئے ظاہر ہے شادی اتنی جلدی تو ہوتی نہیں ہے

لیکن خود بول کر اس طرح کرنا اسے سمجھ نہیں آیا تھا

اسے گھر ڈراپ کر کے وہ فلیٹ آیا تھا جہاں حاشر وڈیو کال پر بات کرنے میں مصروف تھا وہ اتنی فرصت سے دادی سے ہی بات کرتا تھا اسنے حاشر کو اشارہ کیا کہ اس کا نا بتائے ورنہ شادی لیکچر پھر شروع ہوجانا تھا

کیا ہوا موڈ کیوں آف ہے؟؟؟فون بند کرتا وہ اس کی طرف مڑا تھا

نتھنگ تو بتا کیا ۔۔۔۔

جھوٹ تو بولا بھی مت کر مجھ سے

دادی کیا بول رہی تھیں ؟؟؟؟

وہی تیری شادی اور اس بار وہ حد سے زیادہ سیریس ہیں

تو کیا کرو میں ردابہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی اسے ٹائم چاہیے میں یہ بات دادی کو بول بھی نہیں سکتا عجیب مسئلے میں پھنس گیا ہو میں۔۔

ردابہ نے صاف منع کردیا ہے ابھی فیملی میں بتانے سے۔۔۔وہ بیزار ہوا تھا

میرے پاس ایک حل ہے۔۔۔ حاشر کے بولنے پر اس وہ ایک دم چونک کر اٹھا تھا

کیا؟؟؟؟

تھوڑا رسکی ہے…

تو بول نا یار۔۔۔۔وہ بےچین ہوا تو حاشر نے لمبا سانس کھینچا

تو دادی کو بول تونے یہاں شادی کرلی ہے۔۔پٹاری میں سے بم نکلا تھا

دماغ خراب ہے تیرا؟؟۔ وہ ایک دم بھڑکا تھا

سن تو لے یار۔۔۔حاشر نے یوں اسکے غصے پر برا منایا تو وہ سر ہلا گیا

دیکھ تو دادی کو یہ بولے گا تو ظاہر ہے انہیں برا لگے گا ناراض ہونگی تو کچھ عرصے تک تجھے ٹائم مل جانا پھر بعد میں ردابہ کے مانتے ہی بول دینا کہ میں نے مذاق کیا تھا کون سا دادو نے یہاں آکر تیری وائف کو دیکھنا اور ان کی ناراضگی کا تو تجھے ویسے ہی پتا ہے۔حاشر کی بات اسکے دل کو لگی تھی

آئیڈیا برا نہیں یار وہ متاثر ہوا تھا اس آئیڈیا سے

ویسے بھی اگر دادی ایک بار ناراض ہوجائے تو پھر بہت مشکل سے مانتی ہیں اور میرے پاس اتنا ٹائم ہوگا کہ ردابہ مان جائے تب تک میں خود بھی کانٹیکٹ نہیں کرونگا۔۔وہ آگے کی پیلنگ کررہا تھا

واہ یار حاشو میری جان وہ اسکے گلے لگا

اچھا اچھا زیادہ نہیں

ویسے یہ کام کرے گا؟؟؟اس نے حاشر کو دیکھا

بلکل۔۔۔۔

چل پھر سوچتے کیا کرنا اگے

وہ دونوں اپنی پلینگ میں مصروف تھے یہ جانے بغیر کے کاتب تقدیر پہلے ہی ان کے لئے سب لکھ چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔