Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 2)

510.5K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Wajib Hai (Episode 2)

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

لیکن آپ یہ کسی کو مت بتانا کہ میں آپ کے پاس مدد کے لئے آئی تھی پلیز وہ ملتجی انداز میں بولی تھی۔۔جاتے جاتے وہ واپس پلٹی تھی

آپ فکر مت کریں یہ بات آپ کے اور میرے درمیان رہے گی ۔۔وہ اسکی اس بات کا پس منظر سمجھتا تھا

تھینکس۔۔ اب میں چلتی ہوں اپنی بات بول کر وہ جلدی سے اٹھی تھی مبادہ کسی کو اس کے آنے کا پتا چل جائے

اللّٰہ حافظ۔۔۔۔

وہ فل اسپیڈ سے وہاں سے نکلی تھی دل میں ایک امید سی جاگی تھی کہ اب سب ٹھیک ہو جائے گا ماں کی بیماری کا تو اسے تبھی پتا چل گیا تھا جب آنسہ نے علی اور شان کو بتایا تھا اس وقت وہ بس چپ روتی رہی تھی مگر اینڈ کی بات پر اسنے فوراً عمل کیا تھا اور بنا وقت ضائع کئے وہ آج یہاں آئی تھی دل درد سے پھٹ رہا تھا مگر اب تھوڑا سکون تھا کہ اماں کا علاج ہوسکتا ہے وہ ٹھیک ہوسکتی ہیں اسی امید کے سہارے وہ وہاں سے نکلی تھی

لیکن ابھی امتحان باقی تھے۔۔۔۔

وہ خاموش سا کیبن میں بیٹھا تھا تبھی ابرہیم اندر آیا تھا اسے اس طرح گم صُم بیٹھے دیکھ اس نے اسکا کندھا ہلایا

کہاں گم ہے؟؟

کہیں نہیں تو بتا کچھ سوچا کیا کرنا ہے اگے؟؟

کیا سوچنا دماغ نے تو ساتھ دینا ہی چھوڑ دیا ہے سچ بولوں تو بہت گلٹی فیل ہورہا ہے یار اس طرح جھوٹ بول کر۔۔۔

ردابہ کیا بولتی ہے؟؟

بات نہیں ہوئی اس موضوع پر میری…

کیا مطلب؟؟ تو پاگل ہے ابرہیم تو نے اتنا بڑا جھوٹ جس کے لئے بولا اسے بتایا تک نہیں؟؟

وہ بزی تھی تو۔۔۔

تو؟؟؟؟ مطلب میں نے یہ اس لئے بولا کہ جب تک دادو آئیں گی تب تک ردابہ سے تیری ساری بات ہوجانی ہے یا تو سنبھال لے گا

وہ اچھا خاصا تپ گیا تھا

میں پہلے ہی بہت پریشان ہوں مزید مت کر یار وہ واقعی پریشان تھا اب کچھ نا کچھ تو اسے کرنا ہی تھا لیکن سوچنے کے ابھی اسے مزید ٹائم چاہیے تھا۔۔

کہاں گئی نور بیٹا مجھے پانی دے۔۔ وہ کب سے سو رہی تھیں پیاس لگی تو نور کو آواز دی

یہ لو۔۔۔ اس نے پانی کا گلاس دیا تو زلیخا بی نے اسے دیکھا

بجھی ہوئی کیوں لگ رہی ہے آنسہ؟؟؟

ان کے بولنے پر اس نے ایک نظر انہیں دیکھا

تم ایسے لیٹی ہو لڑو مجھ سے تو تھوڑی رونق لگے اب ایسے پڑی رہوگی تو ایسا تو ہوگا ہی نا وہ منہ بنا کر بولی تو وہ ہنس دی

ٹھیک ہو جاؤں گی میں فکر مت کر میری۔۔۔۔

تمہاری فکر کسے ہے میں تو اپنے لئے پریشان ہو سکون اچھا نہیں لگ رہا

وہ کہاں باز آتی تھی اس کی بات پر وہ ہنس دی

کرلے یہ بھی مرے مرنے کے بعد۔۔۔

کتنا فضول بولتی ہو سوتیلی چپ کر کے پانی پیو اور آرام کرو دماغ نہیں کھاؤ میرا۔۔۔ اسکی بات کاٹ کر وہ غصے سے بولی تھی

وہ بھلے سگی ماں نہیں تھی لیکن ایک سہارا تو تھا نا اسے اس طرح دیکھ اسکا دل پھٹ رہا تھا

ان کی طبعیت میں کوئی سدھار نہیں تھا وہ متفکر تھی ان کی صحت کو لے کر

اس نے علی اور شان سے گھر بیچنے کی بات کی تھی لیکن اتنی جلدی گھر بیچنا ناممکن تھا دوکان بھی بیچنے کے لئے کم از کم اسے دو مہینے رکنا پڑتا کیونکہ کرایے دار کی روزی کا سوال تھا

آج پہلی بار اسے بڑے بھائی اور باپ کی کمی شدت سے کھلی تھی

اب ایک آخری حل وہی تھا جو علی اور شان نے بتایا تھا اپنی انا کو کچل کر اسے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑ رہے تھے

وقت واقعی کبھی کبھی بہت ظالم ہوتا ہے اور لوگ اسے مزید مشکل بنادیتے ہیں بیماری اگر امیر کو ہو تو وہ صرف زندگی کی پرواہ کرتا ہے کہ پیسہ ہے وہ بچ سکتا ہے

لیکن اگر غریب بیمار ہو تو اسے ہزاروں فکریں ستاتی ہیں علاج کیسے ہوگا پیسے کہاں سے آئیں گے اگر کچھ ہوگیا تو بچوں کا کیا ہوگا گزارہ کیسے ہوگا بیماری سے زیادہ تو اسے یہ سوچیں مار دیتی ہیں

اس لئے اس نے زلیخا بی کو ابھی کچھ نہیں بتایا تھا جب تک پیسوں کا انتظام نہیں ہوجاتا وہ اور ہی فکروں میں گھلی رہتی لیکن وہ بھی اسی کی ماں تھی انہیں اتنا تو اندازہ تھا کہ کوئی بڑی بات ہے جو چھپائی جارہی یے

مگر پوچھنے کی ہمت خود میں پاتی تھیں مبادہ کوئی ایسی بات نا ہو جسے سن کر وہ ہمت ہار جائیں کیونکہ اگر وہ ہمت ہار گئی تو ان سب کا کیا ہوگا ۔۔۔

نا چاہتے ہوئے بھی اس نے حاشر سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا۔۔

زلیخا کو اس نے بہت ہمت کرکے بتایا تو وہ بس چپ ہوگئی البتہ نور جان کر بھی پھر سے روئی تھی ولید اور عریشہ تو ابھی چھوٹے تھے انہیں ویسے بھی بہت جلد یہاں سے چلے جانا تھا ان کے بڑے ماموں نے ان کی زمہ داری لی ہوئی تھی کیونکہ وہ بے اولاد تھے

وہ اپنی طرف سے جتنا کرسکتے تھے کر رہے تھے سفید پوش تھے لیکن بہن کے لئے بہت کررہے تھے لیکن پھر بھی اتنی رقم وہ پھر بھی نہیں دے سکتے تھے جتنی زلیخا کے علاج میں خرچ ہونی تھی

فلحال وہ حاشر سے ہی رابطے میں تھی اسی کے زریعے اسے دوسرے پارٹنر کا پتا چلا تھا وہ ان کی شکر گزار تھی کہ وہ اس کی مدد کر رہے تھے لیکن یہ بھی ایک قرضہ تھا جو اسے چکانا تھا

گھر اور دوکان وہ بیچ ہی نہیں پائی تھی۔۔

تھوڑا تھوڑا ہی سہی مگر وہ محنت کر رہی تھی زلیخا بی کا علاج شروع ہوگیا تھا دوائیں مہنگی تھی لیکن وہ یہ خرچا اٹھا رہی تھی سرجری کے لئے انہوں نے حاشر سے پیسے قرضے کے طور پر مانگے تھے

سرجری اسی مہینے کی پندرہ تاریخ کو ہونی تھی لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ تاریخ اس کے لئے ایک نیا موڑ لائے گی۔۔۔۔

آبی ۔ابی۔۔۔۔۔ا بی۔۔۔ وہ تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا تھا

کیا ہوا خیریت تو ہے؟؟؟

اس کی اسپیڈ دیکھ کر وہ بھی کھڑا ہوا تھا

بہت برا پھسنے والے ہیں ہم یار شٹ شٹ شٹ۔۔۔۔۔۔ اس نے ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ پر مارا

بتا بھی حاشر ہوا کیا ہے کیوں ٹائم ویسٹ کر رہا۔۔۔

اپنا برا وقت آنے والا ہے یار قسم سے ۔۔۔

تو بتائے گا بھی یا یونہی بکواس کرتا رہے گا۔ وہ غصے سے بولا تھا پیٹ میں ویسے ہی ہول ہورہی تھی

دادو آرہی ہیں پاکستان۔۔۔۔

حاشر نے اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔۔۔ وہ بیچارہ تو گنگ رہ گیا

کہاں سے لائیں گے تیری بیوی۔۔؟؟؟ یار آبی یہ آئیڈیا بہت بکواس تھا یار سوری وہ روہانسا ہورہا تھا

ابرہیم کو تو جیسے سکتا ہوگیا تھا بالوں کو ہاتھوں میں جکڑ کر وہ وہی سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔

سن تو ردابہ کو بول نا کہ وہ ہیلپ کرے۔۔

وہ بدحواس ہورہا تھا ابرہیم کو خود کو سنبھالنا پڑا تھا

ہمم اب بس یہی آخری راستہ ہے وہ پریشانی سے بولتا باہر کی جانب بڑھا تھا

ردابہ کو کال کی لیکن نمبر مسلسل مصروف جارہا تھا اس نے پریشانی سے ماتھا مسلا تھا

آخری کوشش کے طور پر اس نے نمبر ڈائل کیا جو ریسو کرلیا گیا

کیا مصیبت ہوگئی تھی یار اتنی کالز ریسو نہیں کر رہی تو بزی ہی ہونگی نا حد ہوتی ہے ایک بات

کال اٹھاتے ہی وہ اس پر برسی تھی جو پہلے ہی پریشان بیٹھا

بہت ضروری بات کرنی ہے مجھے ردابہ لیسن مجھے ہیلپ چاہیے تمہاری کچھ۔۔

ابھی میں بزی ہوں اےبی بعد میں بات کرتی اس نے جان چھڑانی چاہی تھی

پلیز ردابہ بات سنو وہ بے بس سا ہوا تھا

اچھا بولو۔۔۔ اس نے احسان کیا تھا

اس نے اسے اپنی پروبلم بتائی تھی پہلے تو دوسری طرف خاموشی چھائی رہی

لیکن تھوڑی دیر بعد اسکا قہقہ گونجا تھا

اوووو مائے گاڈ اے بی تم اتنے ڈرپوک ہو سوچا بھی نہیں تھا

وہ ہنسے جارہی تھی ابرہیم کو اسکا ہنسنا برا لگ رہا تھا

دیکھو اے بی یہ تمہارے مسئلے ہیں گوگل کرو بہت آئیڈیاز مل جانے میں کل دبئی جارہی ہوں آل دا بیسٹ۔۔۔

اس نے اپنی کہہ کر فون ہی بند کردیا

وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا

پھر ردابہ کی بات یاد آئی تو موبائل نکال کر گوگل کیا اور جو آئیڈیا سامنے آیا وہ سارے ہی دل جلانے والے تھے تبھی موبائل رنگ ہوا تھا

ردابہ کا میسج تھا جس نے اسے جلد آنے کا کہا تھا کہ وہ آکر شادی کریگی

خوشی اور مصیبت ساتھ آئے تھے لیکن وہ پھر بھی خوش تھا آئیڈیا جو سامنے آیا تھا اب اس پر عمل کرنے کی دیر تھی

اب یہ کام خود ہی کرنا پڑے گا اس کا دماغ تیزی سے کام کررہا تھا اب آگے اس کے پاس بہت کم دن تھے اس پر عمل کرنے کے لئے۔۔۔

وہ خاموشی سے بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا تبھی حاشر باہر آیا۔۔

کہا جارہا ہے حاشر؟؟

ہاسپٹل جارہا ہوں یار آج زلیخا بی کو سرجری کی ڈیٹ کنفرم کرنی ہے تو بس وہی جارہا ہوں

ہمم ویسے پیسے دے دئیے

ہاں لان کا کہا تھا انہوں نے تھوڑے تھوڑے کر کے دے دینگے ویل نا بھی دیں تو مسئلہ میں نہیں یہ میں اپنے اکاؤنٹ سے دے دوں گا غریب ہیں بچاری دو دو جوان بیٹیاں ہے ثواب ہی ملے گا

ہممم اچھی بات ہے چل تو جا

تو آفس نہیں جارہا؟؟

ہاں بس جارہا ہوں تو نکل میں بھی نکلوں گا تھوڑی دیر میں ۔۔

وہ حاشر کو بائے بول کر تیار ہونے چل دیا

آفس پہنچ کر وہ کام میں کافی مصروف رہا تھا تبھی اسے کسی کے آنے کی اطلاع ملی

اسکا دوست ارحم کافی ٹائم بعد اس سے ملنے آیا تھا

وہ اسے دیکھ کر بہت خوش ہوا

کہا غائب تھا یار ۔۔

کہیں نہیں یار بس باہر ہوتا ہوں

اوو گڈ ویسے کیا جاب کرتا وہاں ۔۔

آرام کرتا ہوں اور کیا وہ آنکھ مار کر بولا

کہا مطلب ؟؟

ارے گرین کارڈ ہولڈر سے شادی کی مطلب پیپر میرج اور اب مزے تو بتا

اس کی بات پر وہ حیران ہوا تھا

کوئی پرابلم ہے؟؟ اس نے ابرہیم کو پوچھا تو وہ اسے اپنی پرابلم بتاتا گیا

ارے تو اس میں کونسی مشکل ہے آج کل بہت ایسے طریقے بلکہ ایک طریقہ میں تجھے بتاتا اور جو طریقہ اس نے بتایا وہ ناچاہتے ہوئے بھی اسے ٹھیک ہی لگا تھا

لیکن میں؟؟

کچھ نہیں ہوگا ابھی میں ہوں یہاں سب ٹھیک کر کے جاؤں گا

اسے بول کر وہ ہنس دیا تو وہ بھی ریلیکس ہوا تھا

_________

آج وہ لوگ زلیخا بی کو لے کر ہاسپٹل آئے تھے آپریشن کی ڈیٹ فائنل ہوگئی تھی وہ حاشر کی بہت شکر گزار تھیں جو اتنا کچھ کر رہا تھا ان کے لئے

ہاسپٹل سے وہ خود انہیں چھوڑنے آیا تھا

نور تو بس اپنی اماں سے لپٹے پڑے تھی جیسے دوسرا کوئی کام ہی نا ہو حاشر اسے اس طرح کرتے دیکھ مسکرا دیا زرا بھی بناوٹ نہیں ان دونوں میں ایک جتنی غصے والی تھی دوسری اتنی ہی شانت

اسے پہلی ملاقات کے برعکس کافی اچھی لگی تھی آنسہ حق بات کہنے والی کسی سے نا ڈرنے والی وہ تو بڑا متاثر ہوا تھا ان سب سے

زلیخا بی نے اسے زبردستی کھانے کے لئے روکا تھا اور وہ رک کر پچھتایا نہیں تھا کیونکہ کھانا واقعی بہت لذیذ تھا آنسہ نے بہت زبردست کھانے بنایا تھا وہ تعریف کئے بغیر نا رہ سکا تھا۔۔

اچھا اب میں چلتا ہوں آپ بلکل بھی پریشان مت ہونا اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کردیں گے آپ جلد ہی ٹھیک ہو جائیں گی انہیں تسلی دے کر وہ باہر آیا تھا

اس نے مڑ کر دیکھا تو دروازے پر نور کھڑی تھی وہ اسے دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔

آج زلیخا بی کی سرجری ہونی تھی وہ پریشان تھی دل بہت عجیب سا ہورہا تھا

وہ لوگ انہیں لے کر ہاسپٹل آئے تھے شبانہ علی شان سب ان کے ساتھ آئے تھے

حاشر کو ضروری کام سے باہر جانا پڑا تھا اس لئے وہ آ نہیں سکا لیکن وہ ابرہیم کو سب سمجھا کر گیا تھا کیونکہ ابھی آپریشن کے پیسے سبمنٹ نہیں کروائے گئے تھے

تبھی اسکا موبائل فون رنگ ہوا تھا ان نان نمبر تھا وہ اٹھانا نہیں چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کر اسنے فون اٹھایا تھا حاشر کے آفس سے فون تھا اسے چیک لینے کے لئے بلایا گیا تھا

آپ جلدی سے پیسوں کا ارینج کریں آپریشن لیٹ ہو جائے گا ورنہ

ڈاکٹر کے بولنے پر علی کو لئے ساتھ بڑھی تھی مگر راستے میں ہی علی کو اسے اکیلے بھیجنا پڑا تھا

وہ آفس کے باہر آکر کھڑی ہوگئی دل بہت خراب ہورہا تھا مگر ہمت کر کے اندر بڑھی ریسیپشن کر بات کر کے وہ اندر آفس میں آئی لیکن سامنے بیٹھے وجود کو دیکھ کر اسے لمحہ لگا تھا

آجائیں وہ اسے پہچان گیا تھا لیکن فلحال ایسی سچیوشن نہیں تھی کہ وہ کوئی طعنہ مارتا

آجائیں بیٹھے۔۔۔ اس نے انسہ کو بیٹھنے کا کہا اور دراز سے پیسے نکال کر اسے دئیے

یہ لیں۔۔۔

تھینک یو میں جلد اسے لوٹانے کی کوشش کرونگی

ہممم کوئی بات نہیں۔۔ اللّٰہ آپکی امی کو صحت دے آمین۔۔۔

وہ ابھی کچھ بولتا کہ ارحم اندر آیا تھا

آبی یار۔۔۔ اوووو سوری میں نے ڈسٹرب کردیا

ارے نہیں آجا ابرہیم نے اسے آنے کا کہا

میں چلتی ہوں اونس اگین تھینکس۔۔۔ وہ پیسوں کا بیگ تھام کر جلدی سے وہاں سے نکلی تھی

یہ کون تھی؟؟ ارحم نے شرارت سے آنکھ دبائی..

اس کی مدر یہاں جاب کرتی تھیں تو بیمار ہے قرضہ لیا ہے اس نے۔۔

ہممم اس نے پرسوچ انداز میں کہا؟؟

ایک آئیڈیا ہے۔۔

کیا؟؟؟

اور ارحم نے آئیڈیا پر وہ بدکا تھا

پاگل ہوگیا ہے کیا وہ کبھی راضی نہیں ہوگی۔۔

اسے ہونا پڑے گا وہ پراسرار مسکراہٹ سے بولا تھا

چھوڑ یار میں ٹھیک کرونگا سب۔۔

تو پاگل ہے یار یہ غریب لڑکیاں ہے کچھ نہیں بولیں گی وہ اسے ایک نیا ہی رخ دکھا رہا تھا وہ شاید اپنے مفاد میں اتنا اندھا ہوگیا تھا کہ اسے یہ ٹھیک لگ رہا تھا۔۔

اب بس اسے اس پر عمل کرنا تھا۔۔۔

آپریشن اسٹارٹ نہیں ہوا تھا پورا ایک دن انہیں آوبزروشن میں رکھا گیا تھا پیسے وہ سبمنٹ کروا چکی تھی

رات اس نے نور کو شںانہ کے ساتھ گھر بھیج دیا تھا جبکہ خود وہ شان کے ساتھ ہاسپٹل میں رک گئی تھی

تبھی اچانک نرس بھاگتی ہوئی زلیخا کہ روم میں گئی تھی

یہ ایسے کیوں گئی ہے شان ؟؟؟ اس نے پریشانی سے شان کو دیکھا

کچھ نہیں ہوا تو پریشان نہیں ہو۔۔ اس نے اسکا ہاتھ تھپتھپایا

تبھی ڈاکٹر بھی اندر روم میں گئے تھے یہ سب اس کی برداشت سے باہر ہورہا تھا

دوسری طرف نور پوری رات اپنی ماں کی صحت کے لئے سجدہ ریز تھی

زلیخا بی کا بی پی نارمل نہیں ہورہا تھا پوری رات ان سب کی آنکھوں میں کٹی تھی

صبح گیارہ کے قریب اسکا موبائل پھر سے بجا تھا نمبر وہی کل والا تھا

اس نے فون اٹھایا تو آج پھر اسے بلایا گیا تھا وہ پریشان تھی کہ اب کیا ہوا شان تھوڑی دیر پہلے ہی سونے گیا تھا اور علی آیا تھا وہ علی کو بول کر وہاں سے نکلی تھی۔۔چادر سر پر ڈالے وہ بس میں سوار ہوئی

آفس کے پاس اتر کر اسنے قدم اندر کی طرف بڑھائے تھے

آج آفس میں سناٹا سا لگا

سارا کام اوپر ورک شاپ میں ہورہا تھا وہ ریسیپشن سے ہوتی آفس میں آئی تو ابرہیم بیٹھا تھا اسے دیکھ کر کھڑا ہواجیسے اسی کا منتظر ہو۔۔۔

آئیں بیٹھیں ۔۔۔

ہممم۔۔۔

مجھے ایک بہت ضروری بات کرنی تھی آپ سے۔۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے

جی کہو۔۔۔ اسکا لہجہ بلکل سپاٹ تھا

جیسا کہ آپ نے ہماری کمپنی سے اچھا خاصا لون لیا ہے تو اس کو لینے کی کچھ فارمیلیٹیز ہوتی ہیں جو کہ حاشر نے آپ کو نہیں بتائی ہونگی

جی ۔۔۔؟؟ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی

اس لون کی ایک قسط آپ کو پندرہ دن بعد دینی ہوگی۔۔۔

جی۔۔۔ اس نے پریشانی سے اسے دیکھا

حاشر بھائی نے تو کوئی ایسی بات نہیں کہی تھی۔۔

ہاں جانتا ہوں لیکن یہ رول ہے جسے ہم توڑ نہیں سکتے ۔۔۔

لیکن میں اتنی جلدی کیسے؟؟ دیکھیں کم از کم چند مہینے مجھے دیں میں وعدہ کرتی ہوں میں فوراً سے پہلے آپکی رقم دے دونگی۔۔۔ وہ بے حد پریشان ہوئی تھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریے

کچھ ٹائم کی تو مہلت دیں پلیز۔۔

دیکھیں مہلت کے ساتھ ایک فیور دے دیتا ہوں چلیں آپ کو۔۔۔

اس نے تھوڑے توقف کے بعد کہا

کیسا فیور اس کے بولنے پر اس نے جلدی سے پوچھا

آپ مجھ سے پیپر میرج کرلیں جیسے ہی قرض ادا ہوگا آپ آزاد ہونگی ۔۔۔

جی۔۔۔۔ اس کا منہ کھلا تھا اسکی بات پر۔۔۔

کہنا کیا چاہتے ہیں آپ کھل کر کہیں۔۔اس نے بہت مشکل سے اپنا غصہ کنٹرول کیا تھا

آپ مجھ سے ایک کنٹریکٹ کریں گی جس کے تحت جب تک آپ قرضہ ادا نہیں کرسکتی تب تک آپ کو میری بیوی بن کر رہنا پڑے گا۔۔

کیا مطلب ہے ہاں آپکا اس بات سے؟؟؟ وہ غرائی تھی

مطلب بہت صاف ہے دیکھیں ہم نے آپ کی مدد کی اب آپ سے بھی مدد چاہتے ہیں۔۔ بولتے ہوئے وہ ہچکچاہٹ کا شکار تھا مگر ابھی یہ کرنا بھی بہت ضروری تھا

مدد نہیں چاہتے بلکہ۔۔۔ وہ کچھ سخت کہنے سے باز آئی تھی

میں آپ کے پیسے بہت جلد آپ کو دے دوں گی اس لئے مجھے آپ کی یہ آفر قبول نہیں ہے۔۔

اس نے دو ٹوک انداز میں اپنا فیصلہ سنایا تھا

سامنے بیٹھے شخص نے پہلو بدلہ۔۔

ساری مصیبت اسی کے ساتھ ہونی تھیں وہ چڑ گیا تھا

دیکھوں مجھے ابھی اور اسی وقت پیسے چاہیے آئی سمجھ۔۔۔

اس نے دھونس جمائی اب ایسے تو ایسے ہی سہی ۔۔

اس نے چونک کر اس خود غرض انسان کو دیکھا۔

ہممم سہی لیکن ایک بات بتائیں اس پیپر میرج کا وجود کیا ہے ہمارے معاشرے میں؟؟؟

ایک لڑکی سے وقتی شادی کرو ارے شادی نہیں سوری کاغذ کے ٹکڑوں سے اسکی زندگی خراب کرو پھر جب مطلب پورا ہوجائے تو چھوڑ دو۔۔۔

اس نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا تھا

وہ لمحے بھر کو شرمندہ ہوا تھا۔۔

امیروں کا تو یہ شیوا ہے کوئی طوائفوں سے دل بہلاتا تو کسی کو۔۔۔

انف۔۔۔۔ اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھاڑا تھا

بہت بکواس ہوگئی ہے کچھ بول نہیں رہا تو اسکا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جو منہ میں آئے وہ تم بولو گی آئی سمجھ اس نے ٹیبل پر ہاتھ مارا

اسکا دماغ پل میں گھوما تھا سامنے رکھا پیپر ویٹ زور سے زمین پر مارا۔۔

ابرہیم نے اسے دیکھا جو اسکے غصے کے جواب میں اسکی چیز پھینک کر اب پر سکون تھی

اسے اپنی نیا پار لگتی ہوئی نظر نہیں آرہی تھی۔۔۔۔

مجھے ابھی اسی وقت پیسے چاہیے تم اپنا بندوبست کہی اور سے کرو اس نے اپنے تئیں اسے دھمکایا تھا

اس نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی تھی جیسے اسے شرمندہ کروانا چاہتی ہوں۔۔۔

پہلے مجھے لگا تھا ہماری پہلی ملاقات میں جو ہوا اس میں کہی نا کہیں میری بھی غلطی تھی لیکن نہیں تم جیسا انسان ہمیشہ ہی غلط ہوگا

کہاں سے سیکھ لیا ہے ہم نے یہ طریقہ ضرورت کے لئے شادی اور پھر طلاق زرا اپنی بہن پر رکھ کر سوچو اگر اسے کوئی اس طرح وقتی شادی کا کہے ہاں اس انسان کو چھوڑو گے نہیں تم لیکن دوسروں کی بہنوں کے لئے یہ بولتے ہوئے تم زرا شرمندہ نہیں ہوئے

کیا منہ دکھاؤں گے اللّٰہ کو ارے شادی تو پسندیدہ عمل ہے تو کیسے اس کا مذاق بنا لیا ہے تم سب نے زرا بھی شرم نہیں آتی جو طلاق کا نام ایسے لے رہے جیسے کوئی بہت عام بات ہو طلاق کا مطلب پتا ہے؟؟؟ نکاح کا پس منظر پتا ہے؟؟؟؟

ارے تم جیسے پڑھے لکھے امیر سے ہم غریب اچھے ہیں جن از کم اپنی نظر میں اٹھے ہوئے ہیں اور تمہاری طرح گری ہوئی بات نہیں کرتے۔۔۔

میری مجبوری میری ماں ہے لیکن ابھی میں اتنی بھی مجبور نہیں ہوئی کہ اپنے اللّٰہ کے فیصلے کے خلاف جاؤ

تمہیں مبارک ہو یہ جعلی شادی جس کا تصور ہمارے اسلام میں ہے ہی نہیں۔۔

وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا رہی تھی

یہ بگاڑ جو لوگ لارہے ہیں نا ان کا تو اللّٰہ ہی حافظ ہے لیکن تم کیسے عقل کے اندھے اس بگاڑ کو بڑھاوا دینے میں سب سے آگے ہوتے ہو تف ہے تم پر تف۔۔۔

اس نے ایک کہر بار نظر اس پر ڈالی تو دروازے کی طرف قدم بڑھائے مگر اس کی آواز پر رکی تھی۔۔۔