Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 4)
Rate this Novel
Ishq Wajib Hai (Episode 4)
Ishq Wajib Hai By Farwa Noor
وہ کافی دونوں سے نوٹ کر رہی تھی کہ زلیخا کافی سست سست رہنے لگی ہے ہر وقت سر میں درد رہتا تھا نور کو کئی بار اس نے پوچھنے کے لئے بھیجا بھی تھا
“تو خود کیوں نہیں پوچھ لیتی جب اتنی فکر ہے”
“مجھے تو فکر نہیں تیری ماں ہے اس لئے بول رہی”
“اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔” نور نے اچھا کو کافی لمبا کھینچا تو اس نے نور کی کمر پر ایک دھپ رسید کی۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔۔ اب اٹھ اور جا کر روٹی بنا”
“تو خود بھی کچھ کرلیا کر سارے کام مجھ سے کرواتی ہے ساس جوتے مارے گی”
“ابے چل مجھے مارنے والا ابھی پیدا نہیں ہوا”
“ہاں ہاں وہ تو وقت آنے پر پتا چلے گا”
وہ دونوں اپنی باتوں میں ہی لگی ہوئی تھیں تبھی زلیخا کی آواز آئی وہ نور کو بلا رہی تھی
“جی امی۔۔۔”
“میں جارہی ہوں گھر کا خیال رکھنا بیٹا”
“پر امی آپ کی تو طبیعت ٹھیک نہیں نا…”
“ارے کچھ نہیں ہوتا ٹھیک ہوں میں دوا لی ہے ٹھیک ہوجاؤنگی”
وہ اسے بول کر گھر سے نکل گئی۔۔۔
وہ دونوں لاونج میں بیٹھے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے تبھی ابراہیم کا موبائل رنگ ہوا
نمبر دیکھ کر اس نے حاشر کو ہلایا
“کیا ہوا؟؟؟”
٫”دادو ہیں.. کیا کروں۔۔۔۔”
“مجھے دے میں بات کرتا ہوں” حاشر نے اسکے ہاتھ سے موبائل لیا
“اسلام وعلیکم دادو کیسی ہیں ؟”
“وعلیکم السلام ٹھیک ہوں میں بیٹا تم کیسے ہو؟”
“میں بھی ٹھیک دادو۔”۔وہ مسکرایا تھا
“ابراہیم کہا ہے بیٹا؟؟”ان کے پوچھنے پر اس نے ایک نظر ابراہیم کو دیکھا۔۔
“جی دادو وہ واشروم میں گیا ہے”
“ہمم بات کراؤ میری آئے تو۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے اس کے آتے ہی کال بیک کرتا ہوں میں۔۔”
“کال بیک نہیں حاشر مجھے ابھی بات کرنی ہے۔۔” انکا لہجہ ایک دم سخت ہوا جس پر حاشر نے ایک نظر موبائل کو دیکھا اور پھر واپس سے موبائل کان سے لگایا۔۔
“جی جی دادو کرواتا بات یہ لیں آگیا “اس نے جلدی سے موبائل اسکی طرف بڑھایا کہ کہیں دادو اس پر ہی غصہ نا اتار دیں..
“اسلام وعلیکم دادو۔۔۔ “اس نے حاشر کو گھورتے ہوئے موبائل کانوں سے لگایا۔۔
“وعلیکم السلام دادی اتنی بری ہوگئی کہ اب بات نا کرنے کے بہانے بنانے کی ضرورت پڑ گئی۔”۔وہ سخت خفا تھیں۔۔
“نہیں نہیں دادو ایسی کوئی بات نہیں۔”۔وہ گڑبڑایا
“ایسی ہی بات ہے بوڑھی دادی اتنی بری ہے تو بول دو نا۔۔۔”
“دادو ایسا نہیں۔”وہ۔منمنایا
“تو کیسا ہے ہاں کیوں نہیں مانتا شادی کے لئے بول۔۔۔”
“دادو۔۔۔”۔۔وہ بے بس ہوا تھا۔۔
“نہیں بس ابراہیم اب تو کرے گا شادی بس جلدی میں رشتہ لے کر جارہی کنزہ کی نند کے لئے۔۔”
“دادو میں یہ شادی نہیں کرسکتا۔”۔وہ ایک دم بولا تھا
“کیوں نہیں کرسکتا؟؟؟” وہ بھی بھڑکی تھی
“کیونکہ میں نکاح کر چکا ہوں” جھوٹ پٹارے سے نکل چکا تھا اب بس انتظار تھا دادی کے ریکشن کا۔۔۔۔
لیکن انہوں نے بنا کچھ بولے ہی فون بند کردیا
یعنی وہ ناراض ہوگئی تھیں
“کیا ہوا ؟؟”؟حاشر نے اسے فون کو گھورتے دیکھ تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر پوچھا
ابراہیم کے چہرے پر ایک دل فریب مسکان آئی۔۔۔
“پلین سکسیس فل”
اس کے بولتے ہی حاشر نے فوراً بھنگڑے ڈالے۔۔۔
“دیکھا میرا آئیڈیا….. “حاشر نے فرضی کالر اٹھائے۔
“ہاں میری جان مان گیا۔۔۔”
“تو ڈنر پکا نا میرا؟؟؟ “حاشر کی ٹانگ کھانے پر ہی ٹوٹی۔۔۔
“ابے ہاں نا چل میں جارہا ہوں کل ملتے ہیں
کہاں جارہا ہے؟؟”
“ردابہ کی طرف انوائیٹیڈ ہوں”
“اوہو بڑے مزے آرہے کبھی ہم غریب کو بھی لے جایا کرو”
“غریب بولنے سے پہلے اپنی شکل دیکھ لیا کر تو آئینے میں۔۔”
وہ حاشر کو جواب دیتا ردابہ کی طرف کے لئے نکلا تھا
پارٹی ایک کلب میں ارینج کی گئی تھی اس کی نظر ردابہ پر پڑی جو سلیو لیس میکسی پہنی ہوئی تھی جو اتنی فٹ تھی کہ خدوخال سارے نمایاں تھے
وہ اس تک آیا تو وہ مسکراتے ہوئے اس نے گلے لگی
“کم ان اے بی لیٹس ڈانس۔۔۔۔”
وہ کافی بہترین ڈانس کرتی تھی ابھی بھی فلور پر اسکا ہی قبضہ تھا
کافی دیر تک وہ اسکے ساتھ اس رنگین دنیا میں کھویا رہا وہ پارٹیز میں جانا پسند نہیں کرتا تھا لیکن ردابہ کے لئے سب کر سکتا تھا
ناجانے ایسی کونسی بات تھی جس کی وجہ سے اسے ردابہ سے محبت ہوگئی تھی
جتنی وہ حسین تھی کسی کو بھی اس سے محبت ہوسکتی تھی۔
افس کے بعد اسکا سارا وقت آج کل ردابہ کے ساتھ ہی گزر رہا تھا
اس نے ماڈلنگ اسٹارٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا
“ردابہ یہ پروفیشن اچھا نہیں ہوتا تم نہیں کرو گی ماڈلنگ۔۔”۔۔وہ دوٹوک انداز میں بولا تھا
٫تم کون ہوتے مجھے بتانے والے کے مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں” وہ اسکی طرف دیکھ کر بولی انداز عجیب ہی تھا
٫”آئی تھینک میں تمہارا۔۔۔”
“ویٹ ویٹ اب یہ مت کہنا کہ ریلیشن میں ہیں تو میں بول سکتا نو وے یہ میری لائف ہے اور اسے گزارنے کا طریقہ بھی میرا ہے جب میں تمہیں کسی چیز کے لئے نہیں روکتی تو تم کیوں؟ میں بولوں کے حاشر سے فرینڈ شپ ختم کردو تو کیا کردو گے۔۔۔۔”
“یہ کیسا سوال ہے؟؟٫؟ “وہ جنجھلایا۔۔۔
“نہیں چھوڑو گے۔۔ “
“جانتی ہوں تو فضول میں آرگیو نہیں کرو ہم دونوں کی الگ الگ لائف ہے سو پلیز ڈونٹ انٹرفئیر
اس کا اچھا خاصا منہ بن گیا تھا” ابراہیم کو اپنی بات پر شرمندگی ہوئی
اچھا سوری یار موڈ تو ٹھیک کرو
ہمم ٹھیک ہے میرا موڈ۔۔۔
کم ان یار…..
پلیز اے بی ابھی تم جاؤ مجھے بھی کچھ کام ہے وہ اپنا بیگ اٹھا کر وہاں سے نکل گئی تو وہ افسوس کرتا رہ گیا کہ کیا ضرورت تھی اسے اسکا موڈ خراب کرنے کی۔۔۔۔
کیا ہوا طبیعت ٹھیک ہے آپکی ؟؟ حاشر اندر راؤنڈ پر آیا تو زلیخا کو سر پکڑے دیکھ ان کے پاس آیا
جی وہ صاحب ٹھیک ہوں میں۔۔۔ اسے دیکھ زلیخا جلدی سے بولی تھی مبادہ نوکری ہی نا چلی جائے
زلیخا بی آپ ٹھیک نہیں لگ رہی ہیں مجھے۔۔
نہیں نہیں بس وہ ایسے کام تھوڑا زیادہ تھا تو تھک گئی
ہمم آپ تھوڑی دیر ریسٹ کرلیں کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے حاشر کے بولنے پر وہ اسکی شکر گزار ہوتی اندر ریسٹ روم میں چلی گئیں
وہ ابھی اپنے کیبن کی طرف بڑھا ہی تھا کہ موبائل رنگ ہونے لگا
فون پر نظر پڑتے ہی اسکی جان نکلی تھی
دادی کا نمبر تھا
اسنے موبائل سائلنٹ پر لگایا اور آگے بڑھ گیا تبھی نیچے شور کی آواز سن کر وہ واپس پلٹا تھا جہاں زلیخا ہوش و حواس سے بیگانہ پڑی تھیں سارے ورکر ان کے اردگرد جمع تھے
ہٹیں پلیز وہ سب کو ہٹاتا آگے آیا۔۔۔۔
ان پر پانی کے چھینٹے مارے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا
انہیں اٹھا کر باہر لایا اور گاڑی میں ڈال کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی تھی
اجمل ان کے گھر کال کر کے انفارم کرو۔۔ کلرک کو بول کر وہ تیز اسپیڈ سے گاڑی بھگا کر لے گیا
اسکے پیچھے اجمل نے گھر پر کال کر کے انہیں فوراً اسپتال آنے کا کہا تھا
وہ دونوں فوراً اسپتال آئیں تھی نور کا تو رو رو کر برا حال تھا آنسہ اسے سنبھالے ہوئے تھی دل تو اسکا بھی رونے کو تھا مگر خود کو کمزور ثابت کرنا اسکی فطرت میں نہیں تھا
حاشر کو دیکھ کر وہ چونکی تھی لیکن ایسے ظاہر کیا کہ پہچانی نا ہو
نور حاشر کی طرف بڑھی تھی
سر میری امی؟؟؟؟
اندر ہیں ٹریٹمنٹ چل رہا ہے ابھی تک ڈاکٹرز نے کچھ نہیں بتایا۔۔
وہ پریشان سی بینچ پر بیٹھ گئی آنسہ کیا ہوگیا ہے اماں کو؟؟ اس کی آنکھیں نم تھیں
کچھ نہیں ہوا ہے ٹھیک ہو جائیں گی تو پریشان نہیں ہو ابھی ڈاکٹر آکر بتائیں گے نا۔۔۔اس نے تسلی تو دی تھی مگر اپنا دل خود پریشان تھا اسکا۔۔۔
تبھی ڈاکٹر باہر آئے تھے۔۔۔
پیشنٹ کے ساتھ کون آیا یے؟؟؟ ڈاکٹر نے بولنے پر وہ دونوں آگے بڑھی تھی
آپ کے ساتھ کوئی جینٹس نہیں ہے۔۔۔
میں ہوں ڈاکٹر ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی حاشر سامنے آیا تھا
آپ کیبن میں آئیں میرے ساتھ۔۔۔
یہ ہمارے کچھ نہیں لگتے میں بیٹی ہوں ان کی آپ مجھ سے بات کریں۔۔۔
حاشر کو آگے بڑھتا دیکھ وہ آگے بڑھ کر بولی تھی
آپ بھی آجائیں پھر۔۔ ڈاکٹر ایک نظر اس پر ڈال کر بولتا آگے بڑھ گیا
میں آؤں کیا آنسہ؟؟؟نور کے پوچھنے پر اسنے نفی میں سر ہلایا
نہیں تو یہاں بیٹھ اور دعا کر ٹھیک ہے نا وہ اسکا گال تھپتھپا کر حاشر کے ہم قدم ہوئی..
آئیں بیٹھیں ان کے اندر آتے ہی ڈاکٹر نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنی سیٹ سنبھالی۔۔
دیکھیں گھوما پھیرا کر بات کرنے کا فائدہ نہیں ہے اس لئے سیدھی بات کرونگا۔۔
آپ کے پیشنٹ کے ٹیسٹ اچھے نہیں آئے ہیں۔۔
کیا مطلب؟؟ حاشر نے نا سمجھی سے انہیں دیکھا
انہیں برین ٹیومر ہے۔۔۔
ڈاکٹر کے الفاظ نے گویا اسکی قوت گویائی چھیینی تھی وہ یک ٹک بس ڈاکٹر کو ہی دیکھے جارہی تھی۔۔۔۔
_______
ایک پہاڑ تھا جو سر پر گرا تھا وہ اسکی سگی ماں نا سہی مگر ماں تو تھی نا حاشر نے پریشانی سے اسے دیکھا جو اب اپنے ہاتھوں کو گھورنے میں مصروف تھی۔۔
ڈاکٹر کنڈیشن کیا ہے؟ مطلب وہ ٹھیک تو ہو سکتی ہیں نا؟؟
دیکھیں آپریشن کے بعد ٹھیک ہوسکتی ہیں لیکن ان کی ایج کی وجہ سے چانسز کم ہیں لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپریٹ ہو تو جلد از جلد کروائے کیونکہ جتنا ٹائم لگے گا اتنا ہی ان کی جان کو خطرہ ہے
ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں انہیں بتا رہا تھا جس کے دماغ میں اب نور تھی کہ اسے کیسے بتائے گی وہ یہ سب۔۔۔
وہ مردہ قدموں سے باہر آئی تھی۔۔
آپ کی مدر ٹھیک ہو جائیں گی ڈونٹ وری۔۔ حاشر کے بولنے پر اس نے صرف سر ہلایا تھا۔۔
انسہ۔۔ کیا ہوا ہے اماں کو کیا بولا ڈاکٹر نے۔۔؟؟؟
انہیں باہر آتا دیکھ نور اس کی جانب لپکی تھی اور اب پہ در پہ سوال کر رہی تھی
ٹھیک ہو جائیں گی وہ پریشانی کی کوئی بات نہیں ہے۔۔
تو کیوں ہوا ایسا کچھ بتایا نہیں ڈاکٹر نے۔۔ وہ بے چین تھی اپنی ماں کی خیریت کے لئے۔۔
نور گھر جاکر کرلینا سوال ابھی گھر جاؤ۔اس نے سختی سے کہا تھا
لیکن۔۔۔
کوئی لیکن ویکن نہیں تم جاؤ ابھی اسکے سختی سے کہنے پر وہ آنے کو تیار ہوئی تھی۔۔۔
کتنا خرچا ہوگا ڈاکٹر میری ماں کے آپریشن پر۔۔ وہ ایک بار بھی ڈاکٹر کے کیبن میں موجود تھی
دیکھیں بڑی سرجری ہے تو دس سے پندرہ لاکھ لگے گے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں
اور جتنی جلدی ہوسکے آپریشن کروا لیں۔۔ڈاکٹر کی بات پر اس کے دل پر گرہ پڑی تھی
جی شکریہ۔۔ وہ وہاں سے اٹھ کر اپنی ماں کے پاس آئی تھی جو دوائیوں کے زیر اثر بے ہوش پڑی تھی
کیسا عجیب تعلق رہا تھا ان کا کبھی بے حد اچھے ہوتے ایک ساتھ تو کبھی بہت برے وہ اسے ماں سمجھتی تھی اپنی لیکن ان کے بدلے رویے نے اسکا دل خراب کردیا تھا نفرت نہیں کرتی تھی وہ ان سے بس انہیں تنگ کرتی تھی لیکن ان کے لئے دل میں موجود محبت کو وہ چاہ کر بھی ختم نہیں کرسکتی تھی آج اسے اپنا دل ڈوبتا محسوس ہوا تھا کیسے بتائی گی وہ سب کو۔۔۔
آج وہ مضبوط لڑکی کمزور پڑی تھی۔۔۔
ڈاکٹر نے ڈسچارج پیپر ریڈی کردیے ہیں تھوڑی دیر بعد آپ انھیں لے جاسکتی گھر۔۔
حاشر کی آواز پر وہ خیالات سے باہر آئی تھی
ہمم ٹھیک۔۔
میں ہوں یہاں ان کو ہوش آجائیں تو آپ مجھے بلا لیجئے گا
سہی۔۔۔ ایک لفظی جواب دے کر وہ پھر دروازے کے پار اس بے ہوش وجود کو دیکھنے لگی۔۔۔
ایک گھنٹے بعد انہیں ہوش آیا تو وہ حاشر کی مدد سے اسے لے کر گھر آئی تھی ڈاکٹر نے انہیں دماغی کام کرنے سے منع کردیا تھا
اسے بس ان کے علاج کی فکر تھی اتنا پیسہ کہاں سے آئے گا یہ سوچ سوچ کر وہ پاگل ہوگئی تھی
علی اور شان کو پتا چلا تو وہ بھی افسردہ ہوگئے تھے لیکن وہ بھی کچھ نہیں کرسکتے تھے بس اتنا کیا کہ اس کے ساتھ مختلف ہاسپٹل کے چکر لگائے تاکہ علاج کے بارے میں اچھے سے معلومات لے سکیں ہر کوئی منہ پھاڑ کر پیسا بتا رہا تھا
کیسے مرنے دوں اسے جس نے بھلے برے دل سے ہی مگر میری پرورش کی۔۔ وہ اداسی سے بینچ سے ٹیک لگاگئی
انسہ تیرے اداس ہونے سے کیا ہوگا تو بس پریشان نہیں ہو ان کے کام والی جگہ پر معلوم کر کیا پتا مدد کردیں ۔۔
روشنی نے اسے مشورہ دیا تھا
اس کی بات پر چونکی ضرور تھی مگر کچھ ظاہر نہیں۔۔۔
وہ گھر آیا تو گھر میں کافی سناٹا تھا سر درد سے پھٹ رہا تھا آج تو حاشر بھی پتا نہیں کہا غائب تھا
ردابہ سے بھی اسکی کوئی بات نہیں ہوئی تھی وہ بھی منہ بنا کر بیٹھی تھی
وہ تھکا ہارا صوفے پر ڈھے سا گیا اتنی ہمت بھی نہیں تھی کہ اٹھ کر پانی پی سکے۔۔
وہی صوفے میں بیٹھے بیٹھے اس نے آنکھیں موند لی تب کہیں جاکر تھوڑا دماغ کو سکون ملا تھا
ایک بات کے لئے جھوٹ بولنے پر بھی اسکا دل خفا تھا لیکن یہ بھی تو اسکی ایک مجبوری ہی تھی۔۔
وہ کافی دیر وہی بیٹھا رہا پھر اٹھ کر کچن میں آیا اپنے لئے کافی بنائی آج شدت سے اپنے گھر کی یاد آرہی تھی لیکن کال کیسے کرتا دادی کو تو خود ناراض کر کے بیٹھا تھا۔۔
کافی پی کر اسنے تھوڑا سکون محسوس کیا تو فریش ہونے کے بعد بستر پر لیٹ گیا آج حاشر سے بھی کوئی بات نہیں ہوئی تھی وہ پتا نہیں کہاں غائب تھا
اس نے موبائل سائیڈ سے اٹھا کر حاشر کا نمبر ڈائل کیا لیکن جواب میسر نا ہونے کی صورت میں وہ موبائل رکھ کر واپس لیٹ گیا
دھیان کے سارے دھاگے ردابہ سے جڑے تھے
وہ اسکی پسند تھی محبت تھی وہ کبھی ایسا انسان نہیں رہا تھا جو بے بات پابندی لگائے یا کچھ بھی وہ شروع سے آزاد خیال تھا اور اسے ردابہ کی سوچ نے ہی متاثر کیا تھا لیکن اب اسے پتا نہیں کیوں وہ چیزیں پسند نہیں آرہی تھیں جو ردابہ کے لئے معمولی بات تھی وہ یہ سب کرنے کی عادی تھی لیکن وہ تو نہیں تھا پھر بھی اس نے کوئی روک ٹوک نہیں کی اور اب کی تو ردابہ نے تو اسکی سننے سے ہی منع کردیا۔۔۔
دادی سے بھی اتنا بڑا جھوٹ بول چکا تھا پتا نہیں کیا بننا تھا اس کی زندگی کا۔۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے وہ جب نیند کی وادی میں گیا اسے پتا بھی نہیں چلا
صبح معمول کے حساب سے اس کی آنکھ دیر سے کھلی تھی کتنی ہی دیر تو وہ غائب دماغی سے لیٹا رہا عجیب سستی و کسلمندی چھائی ہوئی تھی
کافی دیر بعد وہ بستر سے اٹھا تھا دادی کی یاد ایک بار پھر آئی تھی لیکن فون بھی نہیں کرسکتا تھا
بے بسی سے لب کاٹے تھے اس نے
موبائل چیک کیا تو حاشر کا میسج آیا ہوا تھا وہ اسے کال کرتا رہا تھا مگر وہ موبائل سائلنٹ پر لگا کر سویا تھا کیونکہ دل ہی نہیں تھا کسی سے بھی بات کرنے کا۔۔
وہ اٹھ کر فریش ہوا تھا ناشتے کے نام پر اسنے جوس کا ایک گلاس پیا تھا
بوتیک آیا تو اسے کل کے واقعے کا حاشر سے پتا چلا افسوس بھی تھا اسے بہت ۔۔
کیونکہ کم وقت میں ہی زلیخا نے کافی متاثر کیا تھا انہیں اپنے کام سے
ان کے علاج کا جو بھی خرچا ہے وہ ہم دیں گے حاشر مجھے ان کے فیملی بیک گراؤنڈ کا پتا ہے اتنے اسٹیبلش نہیں ہیں کہ اپنا علاج کرواسکیں۔۔
ہممم بات تو ٹھیک ہے لیکن ابھی ایک اور اہم مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش ہے؟
حاشر کے بولنے پر اس نے ناسمجھی سے حاشر کو دیکھا تھا
دادو….. حاشر نے اپنا موبائل آگے کیا جہاں کافی ساری کالز تھی دادی کی نمبر سے
شٹ۔۔۔ اس نے سر تھاما تھا دادو کی کال آنا مطلب ایک اور مصیبت ان کی منتظر تھی
کیا کرنا ہے اب؟؟
دعا کر وہ پاکستان نا آئیں ورنہ بہت بڑا مسئلہ بن جانا ہے ہمارے لئے
بس دعا ہی کرسکتے ہیں حاشر نے بول کر اپنا رخ لیپ ٹاپ کی جانب کیا تھا تبھی انٹر کام بجا تھا
سن میں راؤنڈ پر جارہا ہوں تو ڈیل کرلینا سب کو۔۔ حاشر کو بول کر وہ اٹھ کر باہر نکل گیا تو حاشر نے انٹر کام اٹھایا
سر آپ سے زلیخا بی کی بیٹی ملنے آئی ہیں ۔۔
جی آپ بھیجیں انہیں۔۔ اس نے فوراً اجازت دی تھی
تبھی تھوڑی دیر بعد ڈور ناک ہوا تھا۔۔
یس۔۔ اسنے لیپ ٹاپ میں دیکھتے ہوئے آنے والے کو اجازت دی تھی
تبھی اس کے کانوں میں چوڑیوں کی کھنک سنائی دی تھی
اس نے لیپ ٹاپ سے نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو نظریں پلٹنا بھول گئی تھیں
کالے رنگ کے لباس میں اسکا رنگ دمک رہا تھا کاجل سے بھری آنکھیں نازک سا سراپا ہاتھوں میں موجود کالی چوڑیاں سوگوار سا حسن سیدھا اس کے دل میں اترا تھا وہ تو بس یک ٹک ہی اسے دیکھے جارہا تھا اور وہ بچاری اس کے اس طرح دیکھنے پر کنفیوز سی انگلیاں چٹکھانے لگی تھی
وہ۔۔۔ اس نے دروازہ بجایا تو وہ جیسے ہوش کی دنیا میں آیا تھا
جی۔۔جی پلیز آئیں اس نے ہڑبڑا کر کہا سمجھ ہی نہیں آیا کہ ہوا کیا ہے
وہ آہستہ سے آکر اس کے سامنے بیٹھ گئی آنکھیں لال ہورہی تھیں شاید وہ سارا راستہ روتی آئی تھی
مس نور کیا ہوا ہے؟ زلیخا بی ٹھیک ہیں۔۔۔
اس کے اس طرح بولنے پر وہ اور شدت سے رو دی کہ وہ بوکھلا گیا
آپ سب نے جھوٹ بولا مجھے نہیں بتایا میری اماں کو کیا بیماری ہے ان کا علاج بھی نہیں ہوسکتا آنسہ بہت محنت کر رہی پیسوں کے لئے آپ پلیز میری اماں کا علاج کروائیں نا ہم بہنیں مل کر آپکا قرضہ دے دینگی۔۔
وہ ایک ہی سانس میں ساری بات کرگئی تو وہ مبہم سا مسکرایا
آپ کو ان کے لئے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ہم سے جتنا ہوگا ہم کریں گے اس طرح روئیں نہیں پلیز۔۔۔ نور کے رونے سے اسکا دل ڈوب رہا تھا
سچی آپ اماں کا علاج کروائیں گے؟؟؟ اس کے لہجے میں بچوں کی سی خوشی تھی اس کے اس طرح پوچھنے پر اس نے مسکرا کر اثبات میں سر ہلایا تھا
تھینک یو سو مچ تھینک یو فرط جذبات سے اس کی آواز رندھ گئی تھی
لیکن اب رونا نہیں ہے آپ نے اسے دوبارہ آنسو بہاتا دیکھ وہ بولا تو وہ جھینپ گئی
حاشر نے یہ دھوپ چھاؤں کا منظر دل میں اتارا تھا
اور یوں حاشر مراد نور کامران سے دوسری نظر کی محبت کا شکار ہوا تھا پتا نہیں پہلے دیکھا نہیں تھا یا شاید دل ایک خاص وقت چاہتا تھا
