Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 5)

510.5K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Wajib Hai (Episode 5)

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

وہ چادر سنبھالتی تیزی سے مارکیٹ کی طرف بڑھی تھی نور نے بھاگ کر شان اور علی کو بتایا تو وہ اس کے پیچھے نکلے تھے لیکن وہ تو ٹرین کی رفتار سے بھاگ رہی تھی

دوکان کے سامنے پہنچ کر اسنے یاتھوں میں پتھر بھرے تھے۔۔۔

آج تو گئے یہ غلط جگہ پنگا لے لیا ہے بچو۔۔۔۔وہ بڑبڑاتی چادر میں پتھر ڈالنے کا عمل کر رہی تھی

جب اپنا کام پورا ہوا تو اس نے دوکان کی طرف قدم بڑھائے تھے آج یقیناً اسکا دماغ گھومنے والا تھا۔۔۔۔

دوکان کے باہر ان باپ بیٹوں کے نام کی تختی دیکھ اسکا دماغ بھنایا تھا

اوئے باہر نکل تو میرے باپ کی دوکان پر قبضہ کرتا ہے۔۔۔

بولنے سے پہلے اس نے دو پتھر دوکان کے شٹر کے پاس مارے تھے

دل پھر بھی نہیں بھرا تو اس نے ایک پتھر اٹھا کر دوکان کے اندر مارا۔۔۔

دوکاندار پتھر کی آواز پر جلدی سے باہر نکلا تھا جہاں وہ پتھر ہاتھوں میں بھرے اسے گھور رہی تھی

پاگل پاگل ہے کیا جو پتھر مار رہی میری دوکان پر۔۔۔۔۔۔ وہ بھڑکا

تیری دوکان؟؟؟ وہ استہزایہ ہنسی تھی ہاہاہاہا اچھا تیری دوکان ہے نا اچھا پھر اب بتاتی ہوں میں ٹھیک سے۔۔۔بولنے کے ساتھ ساتھ اس نے دوکان کے اندر ایک ایک کر کے پتھر پھینکنے شروع کئے تو دوکاندار شور کرنے لگا آس پاس کے دوکاندار تو مزے سے یہ تماشہ دیکھ رہے تھے مجال تھی جو کوئی آگے بڑھ کر اسے روکتا یا معاملہ جاننے کی کوشش کرتا۔۔

علی جو اسکے پیچھے نکلا تھا اسے یہ کرتے دیکھ اسپیڈ پکڑی تھی

اوئے آنسہ رک رک۔۔۔ علی نے بھاگ کر اس کے ہاتھ سے پتھر پھینکے

چھوڑ بھائی مجھے۔۔۔وہ غصے سے پاگل ہورہی تھی اس کی ہمت کیسی ہوئی میری دوکان کا اپنا کہنے کی۔۔۔۔

تیری دوکان کہاں سے آگئی تیرا باپ خرید کر گیا ہے کیا اپنی دوکان کی حالت پر وہ آدمی اچھا خاصہ بھڑکا تھا یہ جاننے کے باوجود کہ دوکان تو واقعی اسکے باپ کی تھی

نہیں تو تیرے باپ کی ہے بے شرم قابض میری دوکان ہے یہ تیری ہمت بھی کیسے ہوئی کرایہ نا دینے کی ہاں۔۔۔کمر پر ہاتھ رکھے وہ لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تھی

اور کرایے کی بات پر وہ ایک دم سٹپٹایا تھا

کیا ہوا بیٹا کیوں شور کر رہی ہو؟؟؟؟ تبھی ایک انکل اسکے پاس آئے تھے اور ان کے پوچھنے پر اس نے ایک خونخوار نظر اس دوکان پر کھڑے شخص پر ڈالی

میں شور کر رہی ؟؟؟ یہ آدمی ہماری دوکان پر کرایہ دار ہے آج ماں آئی کرائے کے لئے تو بولا نہیں ملے گا بھول جاؤ یتیم کا مال ہے تو مال مفت ہوا نا جس کا دل کیا ہاتھ صاف کرلیا۔۔۔۔

یہ ہماری دوکان۔۔۔اس آدمی کے بیٹے سے آگے بڑھ کر بولنا چاہا تو اس نے اسے بھی چپ کروایا تھا

چپ کمینے بلکل چپ۔۔۔۔ اس سے پہلےوہ بات مکمل کرتا اس نے اسے آنکھیں دکھائیں تھیں۔۔۔

تیری اتنی اوقات ہے کہ یہ دوکان خرید سکے ہاں میرے باپ کی دوکان ہے یہ اس کے خون پسینے کی کمائی سے بنائی گئی دوکان اور وہ مرا ہے لیکن میں نہیں بہت اچھے سے اپنی چیز لینا جانتی ہوں جو میرا ہے وہ کوئی لے نہیں سکتا مجھ سے اور جو نہیں دیتا اس سے چھین لیتی ہوں میں ڈرنے والوں میں سے کا خوموش بیٹھنے والوں میں سے نہیں میں آئی سمجھ ۔۔۔وہ غرائی

ایسے کیسے چھینے گی یہ ہماری دوکان ہے دفاع ہو یہاں سے۔۔۔ وہ لڑکا بھی اسی کے انداز میں بولا تھا۔۔

تو تم کرایہ نہیں دوگے؟؟ اس نے انتہائی نرم لہجہ میں پوچھا تو علی اور شان نے ایک دوسرے کو دیکھا یعنی اب وقت آگیا تھا کہ وہ کچھ کرے وہ اس لئے علی وہاں سے کھسکا تھا اب اسے سامان بھی تو لا کر دینا تھا نا

نہیں دونگا جا جو کرنا ہے کرلے۔۔۔۔وہ آدمی بھی ڈھیٹ بنا تھا یہ جانے بغیر کے سامنے وہ سرپھیری کچھ بھی کرسکتی ہے

اچھا تو مطلب واقعی نہیں دوگے؟؟؟؟اس نگ آئی برو اچکا کر ایک بار پھر پوچھنا چاہا

بول دیا نا نہیں دونگا اب جا یہاں سے۔۔۔وہ ڈھیٹ ابن ڈھیٹ بنا تھا

اس نے ایک نظر سب کو دیکھا جو خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے غلط کو غلط بولنے کی ہمت ہی نہیں تھی ہاں تماشہ دیکھنے کے لئے سب اپنا اپنا کام چھوڑے کھڑے تھے

تبھی علی واپس آیا تو اسکے ہاتھ میں دو بڑے گیلن تھے

اس نے اشارہ کیا تو وہ دوکان کی طرف بڑھے تھے

اوئے کہا جارہے ہو ہٹو یہاں سے وہ آدمی ان دونوں کے بیچ دیوار بنا تھا

جبکہ وہ مزے سے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی

ارے ہٹو اب نا یہ دوکان تمہاری نا ہماری اسے ہٹا کر علی نے گیلن میں موجود پیٹرول کو دوکان میں ڈالنا شروع کیا

دیکھوں یہ نہیں کرو وہ آدمی ان سے گیلن چھیننے کے لئے آگے بڑھا لیکن شان نے اسے پکڑ لیا

دوسرے کے مال پر قبضہ کرنے سے پہلے سوچنا تھا نا انکل جی۔۔۔وہ مزے سے بول کر اپنے کام میں مصروف ہوا تھا

دیکھو تم لوگ یہ ٹھیک نہیں کر رہے میں پولیس کو بلاؤں گا۔۔۔وہ اب دھمکی پر اتر آیا تھا

بلاؤ میں نہیں ڈرتی شوق سے بلاؤ اسنے چادر کے کونے سے چھالی نکال کر منہ میں ڈالی اور ایک طرف ہوکر تماشہ دیکھنے لگی

جہاں شان اور علی دوکان کے اندر پیٹرول ڈالنے میں مصروف تھے اور وہ صاحب اور انکا بیٹا ان کو روکنے میں۔۔۔

دیکھوں ہمارا لاکھوں کا سامان ہے اس میں سب برباد ہو جائے گا ۔۔۔۔علی کو ماچس نکالتا دیکھ وہ آدمی اس کے پاس آیا تھا اور اب اسکا انداز منت بھرا تھا

تو ہم کیا کریں ویسے بھی کسی کی دوکان پر قبضہ کروگے تو انجام تو بھگتوں گے نا میں کچھ نہیں کر سکتی اس نے کندھے اچکائے

علی اور شان نے دوکان کے اندر جا کر بھی پیٹرول ڈالنا چاہا لیکن اس لڑکے کی آواز پر رکے

ابا کیا کر رہے ہو لاکھوں کا مال جل جائے گا تو کیا ہوگا روکو انہیں۔۔۔۔۔

میں کیسے روکوں ؟؟؟ دیکھوں بیٹا یہ دوکان تمہاری ہے بس ہم کرایہ دینگے لیکن دیکھوں ہمارا سامان نہیں جلاؤ ان کے منت کرنے پر اس نے ان دونوں کو اشارہ کیا اور ایک پین اور پیپر منگوا کر اس پر کچھ لکھا

تم جیسے لوگ ہی ہوتے ہیں جو غریبوں کا حق کھانے میں سب سے آگے ہوتے ہیں لیکن جب بات اپنے نقصان کی آئے تو گڑگڑاتے ہیں اگر تم یہ سمجھے تھے کہ ہمارا بھائی بڑا نہیں تو آسانی سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوجاؤ گے تو بھول جاؤ ابھی میں زندہ ہوں اپنے باپ کا بیٹا آئی سمجھ۔۔۔۔

اور یہ سارے جو تماشہ دیکھ رہے ہے نا ان پر لعنت ہے کہ کوئی ہمارے حق میں نہیں بولا شرم سے ڈوب مرو سارے۔۔۔اس نے اس آدمی کے ساتھ باقی سب کو بھی گھسیٹا تو وہ سب کھسیانے بن گئے

اور تم اس کاغذ پر سائن کرو اور آج ابھی اسی وقت کرایے کی رقم دو اس کے غصے میں بولنے پر وہ جلدی سے کرایا لایا تھا شاید قبضہ کرنے میں کمزور تھے یا ڈرپوک کہ اس سے ڈر رہے تھے اور پانی اور پیٹرول میں فرق نہیں کرسکے لیکن اسکا تو فائدہ ہی ہوا تھا

اور یہ کاغذ ہے کہ بہت جلد دوکان خالی کروگے اور ہاں جب تک نہیں مل جاتی دوسری جگہ تب تک وقت پر کرایا گھر آکر دوگے کرو سائن اس کے بولنے پر سب کی موجودگی میں ان سے سائن لے کر وہ پر سکون ہوئی تو شان اور علی کو اشارہ کرتے باہر کی جانب بڑھی جہاں باہر نور ہانپتے ہوئے آرہی تھی

چل میرا بچہ واپس چل فلم ختم ہوگئی اسکا ہاتھ پکڑ کر وہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

چل میرا پتر جلدی کر ویسے ہی تو ہمیشہ لیٹ کر دیتا ہے۔۔حاشر اس کے پاس آیا تھا جو اپنی تیاری میں مصروف تھا

تو جا گاڑی نکال میں آرہا ہوں۔۔ خود پر پرفیوم چھڑکتے اس نے چابی اٹھائی تھی

اوئے میں ڈائیونگ کرونگا آج۔۔ حاشر نے اسکے ارادہ بھانپا تو فوراً چلایا تھا

ابے او بہرہ نہیں ہو میں جو فضول میں چیخ رہا ہے۔۔اسکی چیز پر ابراہیم نے اسے ایک چھپ رسید کی تھی۔

ہاں تو میں چلاؤ گا گاڑی تیرا کوئی بھروسہ نہیں کہیں بھی گاڑی ٹھوک دے شادی کرنے سے پہلے میں اوپر نہیں جانا چاہتا۔۔۔۔

میرا بچہ تو یہ بتا تجھ سے شادی کرے گی کون جو تو شادی کے خواب دیکھ رہا ہے۔۔۔اس نے مزے سے کہتے والے جیب میں ڈالا تھا

مجھے بھی پہلے یہی لگتا تھا کہ مجھے کوئی نہیں ملنے والی لیکن جب تیرے جیسے کو مل سکتی ہے تو میں تو پھر بھی اچھا بھلا ہینڈسم ہوں۔۔۔ اس نے بھی حساب برابر کیا تھا۔۔

ہینڈسم تو خیر تو کہیں سے نہیں لگتا اور جو تو لگتا ہے وہ بتا دیا اگر تو سن کر فوت ہوجائے گا

لے کمینے فٹے منہ تیرا “⁦ حاشر نے اسے دونوں ہاتھوں سے محبت کی سوغات دی تھی

دیکھ تو جلنا چھوڑ دے ویسے ہی عجیب تیری شکل اوپر سے جل جل کر ہیبت ناک بنتا جارہا ہے تو۔۔

ابراہیم ابھی بھی باز نہیں آرہا تھا

چل کوئی نہیں میرا بچہ تو بول جتنا مرضی بول بس آج آفس پیدل آنے کے لیے تیار رہ یہ کہہ کر وہ چابی اس سے چھینتا بھاگا تھا۔۔

اوئے حاشر کمینے چابی دے۔۔ وہ اس کے پیچھے بھاگا

“نہیں دونگا اب تو آ بیٹا” دھکے کھاتے ہوئے وہ دور سے کہتا سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اتر گیا وہ جلدی سے اوپر آیا گھر لاک کر کے باہر آیا لیکن وہ غائب تھا

“اللّٰہ پوچھے تجھے حاشر۔۔۔۔” وہ پریشان سا کھڑا ہوگیا

اچھی بھلی اس کی زندگی تھی پتا نہیں کیا شوق چڑھا تھا یہاں آنے کا

وہ اندر کی طرف بڑھا تاکہ کیب بلا سکے لیکن تبھی ہارن کی آواز پر پلٹا جہاں حاشر کھڑا دانت دکھا رہا تھا

مرتا کیوں نہیں ہے تو وہ اسنے گاڑی میں بیٹھتے ہوئے کہا

تجھے ساتھ لے کر مرو گا میری جان۔۔۔وہ مزے سے بولا

قسمت ہی خراب تھی میری جو تجھ سے دوستی ہوئی۔۔۔

اس کی بات پر حاشر کا چھت پھاڑ قہقہ گونجا تھا

_____________

ابراہیم حیات۔۔۔

حیات یوسفزئی کا سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا۔۔۔

ابراہیم سے بڑا دراب اور کنزہ تھے دونوں ہی شادی شدہ تھے اور ایک کامیاب ازدواجی زندگی گزار رہے تھے

حیات صاحب کئی سال پہلے کام کے سلسلے میں دوبئی گئے تھے کچھ وقت و حالات کا تقاضہ تھا کہ انہیں وہاں رہنا پڑا نوکری راس آئی تو انہوں نے پاکستان میں اپنا ایک بہترین گھر بنایا مگر فیملی کے بغیر رہنا ناگزیز تھا جاب کی وجہ سے وہ وہی کے ہو کر رہ گئے تھے مگر گھر کی یاد بے حد ستاتی تھی اسٹیبلش ہونے کے بعد انہوں نے سب سے پہلے اپنی فیملی کو پاس بلانا چاہا تھا اور سہولیات ملتے ہی انہوں نے کچھ عرصے بعد اپنی فیملی کو بھی وہیں بلا لیا۔۔۔

زندگی پرسکون گزر رہی تھی گھر خوشیوں کا گہوارہ تھا ان کے بچے ان کو مکمل کرتے تھے مگر پھر ان کی زندگی میں طوفان آیا تھا ان کی بیوی کا انتقال ہوا تو وہ ٹوٹ کر رہ گئے بات بچوں کی پرورش کی آئی تو انہوں نے اپنے بچوں کو اپنی ماں کی گود میں ڈالا تھا بچوں کی پرورش ان کی دادی نے کی تھی وہ ان کے لئے ان کی ماں بن گئی تھیں

وقت گزرتا گیا بچے تعلیمی مراحل طے کرتے اب پریکٹیکل لائف میں آگئے تھے بیٹی کا رشتہ آیا تھا لڑکا ان کے دوست کا بیٹا تھا ہر لحاظ سے ان کی بیٹی کے قابل۔۔انہوں نے فوراً ہاں کی تھی جبکہ دراب نے کے لئے انہوں نے اپنی بھتیجی کا انتخاب کیا تھا

دراب وہاں اپنی جاب کرتا تھا اور سیٹل تھا جبکہ کنزہ ہاوس وائف تھی اور شادی ہو کر شارجہ میں مقیم تھی

سب سے چھوٹا اور لاڈلہ تھا ابراہیم۔۔

ابراہیم نے بزنس کی ڈگری لی تو اسکی خواہش تھی کہ وہ اپنا کام پاکستان میں سیٹ کرے انسان چاہے جہاں بھی چلے جائے اپنے وطن کی محبت اسے کھینچ لاتی ہے وہ بھی پاکستان دیکھنے کا خواہشمند تھا اور اپنے باپ اور دادی کی خواہش بھی سمجھتا تھا جبھی یہ فیصلہ لیا۔۔۔

حیات صاحب کو اس کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں تھا وہ تو اب چاہتے تھے کہ وہ پاکستان جائیں لیکن وہاں کام جمانا آسان نہیں تھا جبکہ وہاں صرف ان کا اپنا گھر تھا اس کے علاؤہ ان کا سارا بزنس ہی یہاں تھا جسے اب وہ پاکستان منتقل کرنا چاہتے تھے اس لئے ابرہیم کے فیصلے پر وہ بہت خوش تھے

وہ چاہتے تھے کہ انکا گھر پھر سے کھل جائے لیکن اس میں کام ہونا باقی تھا اتنے سالوں بند رہنے کے بعد گھر کو نئی حالت میں لانا تھا اس لئے ابرہیم حاشر کے کہنے پر جو نا صرف اسکا خالہ زاد تھا بلکہ بیسٹ فرینڈ بھی تھا اس کے ساتھ بزنس اسٹارٹ کرنے کا سوچ کر پاکستان آیا تھا۔۔۔

پاکستان میں قدم رکھتے ہی اس نے اپنے آپ کو بہت پرسکون محسوس کیا تھا

اس نے یہاں رہنے کے لئے ایک فلیٹ لیا تھا

حاشر کے کہنے پر بھی وہ اس کے گھر کے بجائے اپنے لئے رینٹ پر ایک فلیٹ میں رہ رہا تھا اسے اکیلا دیکھ حاشر بھی اس کے پاس ہی آگیا تھا ان دونوں نے مل کر اپنا بوتیک کھولا تھا اس سے پہلے ان دونوں نے ایک شارٹ کورس کیا تھا جہاں اس کی ملاقات ردابہ سے ہوئی تھی اس نے حاشر کو تو منہ نہیں لگایا البتہ ابراہیم سے اسکی دوستی کافی گہری ہوگئی اس نے بوتیک اوپن کرنے میں بھی اسکی کی کافی مدد کی تھی اپنے سرکل میں بھی اسے پروموٹ کیا تھا

اسے ردابہ سے محبت ہوگئی تھی لیکن وہ اسے کہنے سے ڈرتا تھا

ان پانچ سالوں میں اس نے بہت محنت کی تھی اب باری تھی اپنا گھر بنوانے کی تاکہ وہ ردابہ کو پرپوز کر سکے

حاشر کو بھی اسنے نہیں بتایا تھا لیکن وہ تو اسکا یار تھا بن کہے سب سمجھ جاتا اور ریکارڈ بھی خوب لگاتا تھا لیکن پھر بھی وہ جان تھا۔۔۔۔۔

اس نے گھر میں آکر کرایا زلیخا کے ہاتھ میں رکھا تھا

یہ پیسے؟؟؟

دوکان کا کرایہ ہے وہ چادر اٹھا کر اسٹینڈ پر رکھ کر اندر بڑھ گئی

کیسے دیا اس نے مجھے تو صاف منع کردیا تھا

جتنا تم مجھے سناتی ہو نا نور کی اماں اسکا آدھا بھی اس ڈرپوک کو سنایا ہوتا نا تو پیسے ہاتھ میں رکھ دیتا…وہ بولتی اس نے اپنا سامان سمیٹ کر رکھا

تو لڑ کر آئی ہے اسسے آنسہ؟؟؟؟؟

نہیں میں لڑ کر آئی نا جھگڑ کر اور تمہیں پیسے مل گئے نا تو مزے کرو کچن سے کھانا نکال کر وہ بولتی اوپر چلی گئی

نور یہ کیا کر کے آئی ہے وہ اب نور کے پاس آئی تھیں۔۔۔

مجھے نہیں پتا اماں جب میں وہاں پہنچی تو وہ باہر آرہی تھی

اچھا پتا نہیں کیا کر کے آئی ہے یہ لڑکی۔۔۔۔

وہ پریشان ہوئی تھیں

آپ کا تو اچھا ہوگیا نا تو کیوں پریشان ہیں آپ جانتی ہیں نا وہ بنا سوچے سمجھے کرتی ہے سب۔۔

ہاں لیکن کل کلاں کو کچھ ہوگیا تو اس کے باپ کو کیا منہ دیکھاؤں گی میں۔

یہی منہ دیکھا دینا ورنہ بلیچ اور فیشل کر لینا تو شاید ابا خوش ہوجائے چھت سے اتر کر اس نے آدھی بات ہی سنی تھی

نور نے اپنی ہنسی چھپائی تو زلیخا نے اسے گھور کر دیکھا

جب جب وہ اس کے لئے دل میں محبت محسوس کرتی تھیں وہ پھر دل جلا دیتی۔۔

جب بھی منہ کھولتی ہے بکواس ہی کرتی ہے وہ منہ بنا کر اندر بڑھ گئیں

تو کیوں چھیڑتی ہے انہیں آنسہ نور نے اسکے ہاتھ پر نوچا

آآآ کمینی۔۔۔

بتا۔۔

بھئی میرا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا جب تک سوتیلی سے کچھ سن نا لوں اس نے آنکھ ماری

تو قسم سے لوفر ہوتی جارہی ہے

شکریہ شکریہ اس نے سر کو خم دیا

سدھر جا اور پیپر کی تیاری کر ورنہ سپلی پکی تیری۔۔نور نے اسے ڈرانا چاہا

ہاں تو بس بد دعا دے مجھے۔۔۔۔

وہ دونوں انٹر کر رہی تھیں نور تو بہت اچھی تھی پڑھائی میں لیکن اسکا دل ہی نہیں لگتا تھا لیکن اپنے بابا کی خواہش کو پورا کرنے کے لئے پڑھ رہی تھی۔۔

گھر کے کام میں تو وہ تاک تھی لیکن زلیخا کو جلانے کے لئے کرتی ہی نہیں تھی

ان دونوں کا رشتہ دھوپ چھاؤں جیسا تھا۔

زلیخا نے جو کھانے بنانے کا کام شروع کیا تھا اس کے لئے شان اور علی ان کی پوری مدد کر رہے تھے انہیں ایک آفس میں دس بندوں کا کھانا پہنچانا تھا جس کے لئے انہیں پیسے بھی ٹھیک ہی مل رہے تھے سلائی تو وہ شروع سے کرتی تھیں

شبانہ نے انہیں کہا تھا کہ ایک بوتیک میں سلائی کرنے کے لئے عورت کی ضرورت ہے انہیں وہاں بھی جانا تھا

اس لئے اپنا کام مکمل کر کے وہ جلدی سے شبانہ کے ساتھ نکلی تھی

شبانہ کے ساتھ وہ یہاں آئی تھی آفس بہت خوبصورت اور شاندار انداز میں سیٹ کیا گیا تھا

وہ دونوں تو آفس دیکھ کر ہی مرعوب ہو گئی تھیں

ریسپشن پر بات کی تو وہ ان دونوں کو انتظار کرنے کا کہہ کر اندر بڑھ گئی تقریباً پندرہ منٹ انتظار کے بعد انہیں اندر بلایا گیا

جہاں موجود حاشر اور ابراہیم کو انکا کام بہت پسند آیا تھا اور انہیں کام پر رکھ لیا گیا تھا انکا کام اسٹیچنگ پر تھا ٹائم بھی مناسب تھا اس لئے انہیں کوئی مسئلہ بھی نہیں تھا

زلیخا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور وہاں سے نکلیں

کیا خیال ہے یہ کر پائیں گی؟؟

بلکل مجھے انکا کام بہت پسند آیا ہے اور ان کے ہاتھ میں صفائی بھی بہت ہے حاشر کے پوچھنے پر ابراہیم نے اسے کہا تبھی اسکا فون رنگ ہوا ردابہ کالنگ۔۔۔

وہ ایکسکیوز کرتا باہر بالکونی میں آیا تو حاشر نے معنی خیز انداز میں اسے دیکھا تو وہ اسے گھورتا آگے بڑھ گیا

ہے بے بی کیسے ہو؟؟؟؟ اسکی آواز میں بے حد میٹھاس تھی ابرہیم تو وارے صدقے گیا

میں بلکل ٹھیک تم سناؤ کیا حال ہے ؟؟

ائم آل رائٹ اچھا اے بی یہ بتاؤ فری ہو؟؟

فری؟؟؟ اس نے اپنی میٹنگ کا سوچا

ہاں آل موسٹ فری ہی ہونے والا ہوں کیوں؟

مجھے شاپنگ کرنی ہے تو فری ہو کر مجھے پک کرلینا۔۔

ٹھیک ہے چھ بجے تک پک کرتا میں تمہیں۔۔۔

اوکے ڈن بائے پلان کنفرم ہوتے ہی اس نے کال بند کی تو وہ فون کو دیکھ کر اس طرح مسکرایا جیسے وہ فون نہیں ردابہ ہو

کیا کہا بھابھی جی نے ؟؟؟ اسے مسکراتا اندر آتے دیکھ حاشر نے پوچھا

کچھ نہیں بس آج ملنے کا بول رہی تھی

ملنے کا یا شاپنگ کا؟؟؟ حاشر کی بات پر وہ ہنس دیا

تجھ میں مجھے کبھی کبھی دادو کی جھلک نظر آتی ہے چل کام کمپلیٹ کر پھر تجھے گھر چھوڑتا میں جاؤنگا۔۔۔

اچھا پھر رک کچھ ڈیزائن فائنل کرنے ہیں آرڈر کے لئے تو وہ دیکھ پھر مجھے گھر چھوڑ دینا خالو کی کال آئی تھی کہ ایک راؤنڈ لگا کر کام دیکھ لوں چل ٹھیک ہے میں بھی ساتھ ہی چل کر دیکھ لونگا ایسے ٹائم نہیں ملتا۔

وہ دونوں کام سے فری ہوکر حیات مینشن آئے تھے جہاں کا تقریباً سارا کام ہوچکا تھا بس چند ایک چیزیں تھیں جو ہونی باقی تھیں تبھی ایک بار پھر ردابہ کی کال آئی کے وہ ویٹ کر رہی ہے فوراً پہنچے اس لئے وہ جلدی سے وہاں سے نکلا تھا حاشر کو بھی اسے ہی چھوڑنا تھا کیونکہ اس کی گاڑی خراب تھی تو وہ دونوں ایک ہی گاڑی یوز کر رہے تھے

وہ فل اسپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا کہ اچانک سامنے ایک لڑکی ان کی گاڑی کے سامنے تیزی سے آئی تھی اگر وہ بریک نا لگاتا تو آج اس کے ساتھ حادثہ ہوجاتا۔۔۔

وہ غصے میں بھرا باہر نکلا تو حاشر نے بھی اس کی تقلید کی

ابرہیم آرام سے یار۔۔۔۔۔۔

وہ باہر آیا تو وہ لڑکی اسے غصے میں گھور رہی تھی