Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 7)

510.5K
12

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Wajib Hai (Episode 7)

Ishq Wajib Hai By Farwa Noor

ویسے بہت بے حس ہے تو آنسہ ۔۔مانا۔ میری ماں سوتیلی ہے مگر لوگ تو دوشمن کی بھی خیریت معلوم کرلیتے ہیں مگر میں بھی کہاں سر پھوڑ رہی ہوں تجھے کبھی اپنے علاؤہ کوئی دیکھا ہے کبھی بہت دکھ ہوا مجھے تیرے اس طرح کرنے سے۔۔۔

نور کے اتنا بولنے پر بھی اسکے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا اور یہی بات نور کو پریشان کرگئی تھی

کیونکہ وہ مسلسل آنکھوں پر ہاتھ رکھے دیکھ اسے الجھن ہوئی تھی

آنسہ کیا ہوا ہے ؟؟ وہ ایک دم اسکے پاس آئی تھی اور اسکا ہاتھ آنکھوں پر سے ہٹانا چاہا مگر وہ اپنی گرفت سخت کرگئی

آنسہ۔۔۔نور نے بےبسی سے لب کاٹے یقیناً وہ اسکا دل دکھا گئی تھی اسے خود پر غصہ آیا کیا ضرورت تھی اس سے یوں ناراض ہونے کی ڈانٹنے کی۔۔۔

اٹھ نا آنسہ اچھا دیکھ میں سوری۔۔۔

جاؤ یہاں سے نور مجھے کسی سے بات نہیں کرنی۔۔وہ رو رہی تھی یا ایسا نور کو لگا مگر فلحال اسے بات نہیں کرنی تھی تو مطلب تھا نہیں کرنی نور نے بے بسی سے لب کاٹے تھے

دل میں عجیب سے ملال نے ڈیرے ڈالے تھے

اسے خود پر بھی غصہ آیا تھا کہ کیوں وہ غصہ ہوئی

آنسہ نے ہمیشہ خوشیاں شئیر کی تھیں کبھی اپنی تکلیف نہیں افسوس میں گھری وہ کمرے سے باہر آکر وہ صحن میں بیٹھ گئی گرمی اچانک سے بڑھ گئی تھی۔۔

اماں جلدی سے گھر آجاؤ یار۔۔خود سے بولتے اس نے گھٹنے سے تھوڑی ٹکائی تھی۔۔۔

وہ رات کافی دیر سے گھر میں گھسا تھا اور صبح دادی کے اٹھنے سے پہلے ہی آفس کے لئے نکل گیا تھا۔۔۔

حاشر سو کر اٹھا تو انہیں لاونج میں بیٹھے پایا تھا

اسلام وعلیکم دادو۔۔ ان سے پیار لیتا وہ ان کے پاس ہی بیٹھ گیا

خیریت ہے ایک سویرے سے اٹھ کر بھاگ گیا جبکہ دوسرا ابھی تک میرے سامنے ہے اب کونسی کھچڑی پکا رہے ہو؟؟

ان کے بولنے پر اس نے پہلو بدلہ تھا اب وہ کیا بتاتا تھا کہ ابراہیم کے اس عمل نے اسے کتنا دکھ دیا تھا

جی بس رات کافی دیر تک کام کرتا رہا تو نیند نہیں کھلی۔۔۔

کچن کا رخ کرتے اس نے وضاحت دی

کافی بنا رہا ہوں آپ کیا کھائیں گی بتا دیں۔۔کافی مگ میں ڈالتے اس نے ان سے پوچھنا ضروری سمجھا ۔۔

کب تک یہ عورتوں والے کام خود کرو گے ایک تم شادی نہیں کرتے ایک وہ ہے جو شادی کا بول کر اب مجھ سے چھپتا پھر رہا ہے۔۔

ان کی اس بات پر وہ تلخی سے ہنسا تھا

آپ ہی تو کہتی ہیں دادو کوئی کام کسی کے لئے مخصوص نہیں ہوتے۔۔

بس میری بات سے اپنی مرضی کا مطلب اخذ کر لینا۔۔وہ منہ بنا کر بولی تو وہ ہنس دیا

ہنس مت ادھر آ میرے پاس۔۔۔

ان کے بلانے پر وہ کپ تھامے ان کے پاس آیا تھا

ابراہیم کا رویہ میری سمجھ سے باہر ہے حاشر کل میں نے لڑکی کا نام پوچھا تو ٹال گیا میں نے ملنے کا بولا تو بھی منع کرگیا مجھے کیوں لگ رہا وہ مجھ سے جھوٹ بول رہا ہے؟؟ میں تو اس کی شادی کے اتنے ارماں لئے ہوئے تھے پھر جب اسنے شادی کا بولا تو غصہ آیا مگر اب تو یہ ہوچکا تھا تو قبول کرلیا اب اسکا اس طرح کا رویہ۔۔۔انہوں نے اسے اپنا خدشہ ظاہر کیا تھا

کچھ نہیں دادو وہ بس پریشان ہے ایکچوئیلی آنسہ کی والدہ کو ٹیومر تھا ان کی ابھی ہی سرجری ہوئی ہے اس لئے وہ ملوانے نہیں لے گیا اور بس نکاح بھی اسی سب ٹینشن میں ہوا ہے۔۔

وہ انہیں تسلی دیتا بولا تھا اور چاہ کر بھی وہ انہیں سچ نا بتا سکے خفگی اپنی جگہ مگر وہ ابراہیم کے لئے کوئی نئی مصیبت نہیں تیار کر سکتا تھا

تو مجھے ملواؤں تو میں ملنا چاہتی اس بچی سے اسکی ماں سے۔۔۔

باپ کیا کرتا ہے کچھ تو بتاؤ۔۔

ان کی بات پر وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا

اس کے والد حیات نہیں ہیں والدہ سوتیلی ہیں ۔۔

یا اللّٰہ سوتیلی ماں۔۔۔ پتا نہیں کس طرح کا رویہ رکھتی ہو گی وہ پریشان ہوئی جبکہ اسے ہنسی آئی تھی دادی اپنی شیرنی بہو سے ابھی واقف ہی کہاں تھیں

افف دادو آپ بھی اچھا اب میں آفس جاؤ گا آپ اکیلے کیسے رہیں گیں۔۔

جبھی تو بول رہی بہو کو لاؤ تاکہ میری تنہائی کا کچھ ہو اور اب ویسے بھی ہم نے ہمیشہ کے لئے یہاں رہنا ہے

یہ تو بہت اچھی بات مگر ابھی کے لئے تو آپ میری امی کی کمپنی سے گزارہ کریں یقین جانئے بہت مزے کا کھانا بناتی ہیں وہ۔۔اسکے انداز پر وہ ہنس دی

چل یہ بھی اچھا آئیڈیا برا نہیں میں آتی۔

وہ انہیں پھر اپنے گھر چھوڑ کر آفس آیا تھا مگر ابراہیم کو دیکھ ماتھے پر تیوری سجائے اپنے کام میں مصروف ہوا تھا۔۔

اور اسکو دیکھ ابراہیم جو خود پر غصہ آرہا تھا۔۔۔

وہ کیبن میں آیا تو ٹیبل پر اسکے پسندیدہ لوازمات دیکھ اس نے تاسف سے سر ہلایا مطلب اسکی ناراضگی ختم کرنے کے لئے میدے والا فارمولہ اپنایا تھا مگر وہ بھی حاشر تھا اس لئے کھانے کو دوسری نظر دیکھے بغیر لیپ ٹاپ آن کر کے بیٹھ گیا..

ابراہیم روم میں آیا تو کھانے کو ایسے ہی دیکھا تو اسے دکھ ہوا تھا۔۔

کب تک ناراض رہے گا بس کر نا یار۔۔۔لیپ ٹاپ بند کرتا وہ اس کے پاس بیٹھا تھا

مجھے کام ہے پلیز ڈسٹرب نہیں کرو۔۔وہ بے رخی سے کہتا واپس سے لیپ ٹاپ آن کر بیٹھا۔۔

یار معاف کردے نا قسم سے بس اس ٹائم کچھ سمجھ ہی نہیں آیا اب ہوگئی نا غلطی۔۔

ابراہیم تیری اس ایک غلطی نے کسی کا کردار اسکی فیملی کی نظروں میں مشکوک کردیا ہے اوپر سے تیری خود غرضی کہ اسے اپنے مطلب کے لئے استعمال کرتا بعد میں اسے چھوڑ دے گا تجھ سے اس بے حسی کی امید نہیں تھی۔۔

وہ اسے ملامت کر رہا تھا۔۔۔

اچھا میں ٹھیک کردونگا نا سب تو کیوں ناراض ہے آئی پرامس۔۔وہ اسے یقین دلا رہا تھا اس نے اسے ایسے دیکھا جیسے یقین نا آیا ہو

سچ بول رہا ہوں نا اب مان جا۔۔۔وہ ایک اس پر گرا تو وہ مسکرا دیا

دیکھ لے اس معاملے میں تیرا دوست نہیں بنو گا

اچھا نا چل آجا دیکھ تیرے لئے اتنا کچھ منگوایا ہے وہ اسے پچکارتے ٹیبل تک لایا تھا۔۔۔۔

خالہ آپ کیا بول رہی ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے حاشر نے کبھی تذکرہ تک نہیں کیا ایسا کچھ۔۔۔سفینہ بیگم تو سن کر شاکڈ ہوئی تھیں

مجھے بھی ایسے ہی جھٹکا لگا تھا مگر اپنے پوتے سے ناراض نہیں رہ سکتی اور اسکی خوشی ہی سب سے اہم ہے اس لئے حیات کو بتائے بغیر میں نے پہلے خود یہاں آکر سب دیکھنے کا فیصلہ کیا ہے

پھر بھی خالہ حیات بھائی کو بہت دکھ ہوگا

نہیں سفینہ حیات کے لئے ابراہیم کی خوشی سب سے اہم ہے بس تو دعا کرنا کہ جو بھی ہو ہمارے حق میں بہتر ہو

انشاء اللہ آپ پریشان نا ہو

میں تو ویسے اس حاشر نے بچے کر حیران ہوں مجھے بھنک تک نہیں پڑنے دی۔۔

دوست ہونے کا حق ادا کر رہا ہے۔۔

اب آگے کا کیا ارادہ ہے آپ کا؟؟

بس ایک دو دن میں اس لڑکی کے گھر جاکر دیکھنا ہے حاشر کے مطابق تو متوسط گھرانے سے تعلق ہے چھوٹی فیملی ہے باقی وہاں جاکر ہی اندازہ ہوگا۔۔

بس اب جو ہوگیا اس پر یہی دعا کر سکتے کہ ہمارے ابراہیم کے نصیب میں بہت ساری خوشیاں ہوں۔۔۔

آمین۔۔۔۔

انہوں نے ایک ساتھ آمین کہا تھا۔۔

شبانہ اور نور کے سہارے وہ گھر میں داخل ہوئی تھیں اس نے چھت کی منڈیر سے جھانک کر نیچے دیکھا

وہ دونوں اب انہیں لئے اندر کمرے میں بڑھی تھیں

اس نے خود کو ریلکس کرکے نیچے قدم بڑھائے تھے

تبھی اندر سے آتی آواز پر اسکے قدم رکے تھے

دیکھ لیا شبانہ اس دن کے لئے ڈرتی تھی کیسے معصوم بنتی تھی اور یوں لڑکے کو پھانس کر بیٹھی تھی جبھی تو اتنی آسانی سے اتنے لاکھ انہوں نے میرے علاج کے لئے دے دئیے ارے ایسی آوارہ کو پالا میں نے۔۔

اماں۔۔۔نور نے انہیں ٹوکا تھا

تو چپ کر۔۔

زلیخا طبیعت ٹھیک نہیں ہے بعد میں بات کرتے ہیں ہم ابھی تم آرام کرو۔۔شبانہ خالہ کا لہجہ انہیں سپاٹ لگا تھا

انکے باہر آنے پر وہ ایک دم اوٹ میں ہوئی تھی

چھپ اس سے جو تجھے جانتا نا ہو۔۔انہوں نے اسکا ہاتھ تھامے اسے آگے کیا تو وہ نظر جھکا گئی

بڑے افسوس کی بات ہے ساری زندگی جو نظریں اٹھا کر چلتی آئی آج قربانی دے کر بھی نظریں جھکا رہی ہے۔

ان کی بات پر اسے دھچکا لگا تھا

تجھ سے یہ امید نہیں تھی آنسہ کہ تو اپنی خوشیوں کی قربانی دے گی وہ بھی اس عورت کے لئے۔۔۔

ایسی تو نہیں تھی نا تو۔۔

مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا کوئی کیا بولتا ہے۔۔۔

جبھی یو چھپ کر بیٹھی ہے

میرا دل نہیں کرتا اب کسی سے بھی بات کرنے کا۔۔۔

اس کا میسج آیا؟؟

کس کا؟؟ اس نے تعجب سے انہیں دیکھا

وہی جو نکاح کرکے بھول گیا ہے کیا ساری زندگی یونہی تجھے اپنے نام پر بیٹھا کر رکھے گا۔۔۔۔

کیا فرق پڑتا ہے خالہ۔۔وہ تلخی سے بولتی مسکرائی

ٹھیک نہیں کیا تو نے یہ آنسہ بہت غلط کیا مگر میری دعا ہے خدا تجھے ساری خوشیاں دے۔اسکا ماتھا نرمی سے چومتی وہ باہر بڑھی تھی جبکہ اس کے رگ و پے میں سکون دوڑ گیا تھا

یہی تو وہ ممتا کا احساس تھا جس کے لئے وہ ترستی تھی اور باہر کے لوگوں سے ملتا تو وہ باؤلی ہوجاتی تھی۔۔

کاش امی آپ پاس ہوتی یوں آپ کی بیٹی محبت کے لئے ترس نا رہی ہوتی۔۔۔ تلخی سے سوچتی وہ کچن کی طرف بڑھی تھی اسکے اپنا کمزور پہلو نہیں دیکھانا تھا کسی کو نا اسے مظلوم بننا تھا وہ آنسہ کامران تھی اسے مضبوط بننا تھا کیونکہ وہ کمزور پڑنا افورڈ نہیں کرسکتی تھی۔۔۔