Ishq Wajib Hai By Farwa Noor Readelle50335 Ishq Wajib Hai (Episode 10)
Rate this Novel
Ishq Wajib Hai (Episode 10)
Ishq Wajib Hai By Farwa Noor
آنسہ بیٹا زرا میرے کمرے میں آنا۔۔۔ وہ ملازمہ کے ساتھ کام کروا رہی تھی دادو کے پکارنے پر سر ہلاتی وہ ان کے کمرے میں آئی تو وہ بیڈ پر بیٹھی تھیں
آجاؤ بیٹا۔۔۔ ان کے بولنے پر وہ انکے پاس جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔
ایک بات پوچھوں گی سچی سچی بتانا۔۔
جی دادو۔۔
بیٹا ابراہیم اور تمہاری لڑائی ہوئی ہے یا کوئی اور بات؟؟ میں جانتی ہوں یہ ذاتی سوال ہے
مگر۔۔۔
نہیں دادو ایسا نہیں ہے ہم کیوں بھلا لڑیں گے۔۔۔
تو پھر کیا بات ہے کوئی نئے شادی شدہ جوڑے والی بات ہی نہیں ہے وہ اپنی دنیا میں رہتا تم اپنی۔۔۔
تم بھی بلکل بھی ایسا نہیں لگتا کہ ابھی شادی ہوئی ہے
بس وہ تو ایسے ہی مجھے یوں تیار رہنا پسند نہیں ہے دراصل شروع سے عادت نہیں تو۔۔۔
عادت ہے نہیں تو بناؤ نا بیٹا یہ کچھ سامان ہے تمہاری ساس کا اب اس پر بس تمہارا حق ہے ۔۔
پر دادو یہ بہت قیمتی۔۔۔سامنے رکھی جیولری کو دیکھ وہ جھجھکی تھی۔۔۔
قیمتی تب ہوگا جب تم یہ پہنو گی چلو شاباش اسے رکھو۔۔
جی وہ سامان اٹھا کر کمرے میں آئی اور اسے لاکر میں رکھ کھڑکی کر آگئی
حیات صاحب کا وقت آج کل آفس میں ہی گزرتا تھا دراب اور کنزہ سے اکثر ان کی بات ہوتی رہتی تھی۔۔
ابراہیم سے تو بمشکل ہی اسکی ملاقات ہوتی تھی اور اسی میں ان کی عافیت تھی ورنہ تو دونوں ہی ایک دوسرے کو کاٹ کھانے کو دوڑتے تھے۔۔۔
باہر کا موسم آج بہت خوبصورت ہورہا تھا شاید بارش ہونے والی تھی کچھ سوچ وہ واپس سے کچن میں آئی تھی
رشیدہ ماسی مجھے بیسن نکال کر دیں۔۔
انہیں بولتی وہ باقی سامان نکالنے لگی
حیات صاحب تو آج خوش ہوجاتے وہ کھانے کے شوقین تھے اسکا اندازہ تو اسے شروع میں ہی ہوگیا تھا۔۔
وہ تن دہی سے اپنے کام میں لگے تھی جبکہ رشیدہ ماسی برابر اسکی مدد کررہی تھیں
اس نے شاید ہی کبھی اتنے شوق سے کوئی کام کیا تھا
تب اس کو ایسی محبت بھی کب ملی تھی یہاں تو ہر کوئی اس سے محبت کرتا تھا سوائے اس پاگل آدمی کے۔۔۔
کنزہ دراب بھائی بھابھی دادو اور بابا ہاں وہ اسکے بابا تو تھے جیسے کامران صاحب تھے ویسے ہی حیات صاحب تھے پہلے وہ اکثر یہ سوچ کر اداس ہوجاتی تھی کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر چلی جائے گی مگر اب اس نے سوچنا چھوڑ دیا تھا وہ خود میں آئی تبدیلیوں کو بھی اچھے سے محسوس کررہی تھی اس جگ لہجے میں نرمی آگئی تھی مزاج میں ٹہراؤ آگیا تھا
وہ خوش رہنے لگی تھی کہاں اسکا گھر میں رہنے کا دل نہیں کرتا تھا اور اب اسکا یہ گھر چھوڑنے کا دل نہیں کرتا تھا۔۔
کبھی وہ کچھ کر رہی ہوتی تو کبھی کچھ۔۔
کبھی دادو کے ساتھ بیٹھ ماضی کا کوئی قصہ سن رہی ہوتی تو کبھی حیات صاحب کے ساتھ مل کر کچن میں کچھ ٹرائے کر رہی ہوتی۔
زندگی حسین ہوگئی تھی اور یہ سچ ہے اپنوں کے ساتھ زندگی بے حد حسین ہوجاتی ہے وہ تو ابراہیم کو دیکھ کر حیران ہوتی کہ یہ کھڑوس بابا کو بیٹا اور دراب بھائی کا بھائی ہے۔۔۔
ویسے ابراہیم مجھے لگتا تمہیں مزید اپنے کام کو آگے بڑھانا چاہیے تمہارا کیا خیال ہے حاشر؟؟
بلکل خالو میں نے بھی ابراہیم کو یہی مشورہ دیا ہے کہ ہمیں ایک بوتیک اسلام آباد میں بھی اوپن کرنی چاہیے وہاں کے لوگ اکثر آرڈر پر ہمارے ڈریس بک کرتے تو اس کا بھی یہی مشورہ ہوتا کہ ایک برانچ اسلام آباد میں بھی ہونی چاہیے
پر بابا میں اکیلے وہاں سب کیسے ہینڈل کرونگا۔۔
اکیلے کیوں آنسہ بٹیا ہے نا ہماری۔۔
اس کو تو اس کام میں کافی مہارت ہے ہم اکثر ہی ڈسکس کرتے ہیں
ہاں خالو بھابھی کو تو یہ کام آتا ہوگا ان کی امی بھی کافی ایکسپرٹ تھی ہیں نا ابراہیم۔۔
حاشر نے بات بولتے اس کی تائید چاہی اس نے اسے گھوری سے نوازہ تھا
یار خالو میں زرا راؤنڈ پر سے آتا ہوں آپ لوگ بات کرو تب تک۔۔۔
حاشر نے وہاں سے کھسکنا ہی ضروری سمجھا
کیا بات ہے ابراہیم میرا مشورہ پسند نہیں آیا؟؟ ان کے بولنے پر وہ سٹپٹایا تھا
نہیں بابا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے آپ کو کیوں ایسا لگا؟؟
مجھے ہی نہیں ہم سب کو لگتا کہ تم آنسہ کے ساتھ خوش نہیں ہو کوئی ایسی بات ہمیں نظر ہی نہیں آتی ۔۔
ارے بابا ایسی بات نہیں ہے بس آپ جانتے تو ہیں آج کل کام کتنا لوڈ ہے۔
کام چاہے کتنا ہی کیوں نا ہو بیٹا انسان کو گھر سے لاپرواہ نہیں ہونا چاہیے
ایسے تو تمہارا رشتہ خراب ہو جائے گا جو کم از کم ہمیں بلکل اچھا نہیں لگا گا وہ بہت پیاری بچی ہے۔۔
پیاری بچی کے نام پر اسکی آنکھیں پھیلیں تھی اور اسے دیکھ انکا قہقہ گونجا تو ایک دم سیدھا ہوا تھا
بتایا تھا حاشر نے کیسے ہوئی تھی تم لوگوں کی پہلی ملاقات۔۔
منحوس کمینہ۔۔۔ اسے حاشر پر رج کر غصہ آیا تھا
ارے بابا ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اب سے کوشش کرونگا کہ اسے ٹائم دوں۔۔۔
وہ مسکرا کر بولا تو وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کھڑے ہوئے تھے
کام نبٹالو پھر ساتھ گھر چلتے آج تو موسم بھی بارش کا ہورہا ہے۔۔
جی بابا۔۔
آپ یہاں بیٹھیں میں بس راؤنڈ لگا کر آتا پھر چلتے ہیں۔۔
انہیں بول کر وہ باہر نکلا تو وہ کھڑکی پر آکر کھڑے ہوگئے
ماتھے پر سوچ کی لکیریں تھیں جیسے کچھ چل رہا ہو ان کے دماغ میں۔۔۔
وہ سب گھر پہنچے تو آنسہ نے لان میں ہی سارا ارینجمنٹ کیا ہوا تھا
حیات صاحب تو سب سے پہلے جاکر بیٹھے تھے جبکہ دادو پہلے ہی وہاں موجود تھیں
یہ بڑا اچھا کام کیا بچی نے قسم سے بڑا دل تھا
ٹیبل پر رکھے سموسے پکوڑے کچوری دیکھ وہ تو خوش ہی ہوگئے تھے
بابا یہ سب آپ کو نہیں کھانا آپ کے لئے الگ سے کم آئل میں بنایا ہے آپ وہ کھائیں گے صحت کو لے کر کوئی کمپرومائز نہیں۔۔
ابے بھئی۔۔۔وہ سخت بیزار ہوئے تو وہ کھلکھلا کر ہنس دی اور ابراہیم نے پہلی بار اسے ہوں غور سے دیکھا تھا شاید
بس پتر تیری ہی بیوی ہے بعد میں دیکھ لینا۔۔۔ حیات صاحب کے چھیڑنے پر وہ ہوش میں آیا تھا
ایسی بھی بات نہیں بابا۔۔وہ منمنایا تھا
اسے کچھ دن پہلے آنسہ سے اپنا معاہدہ یاد آیا تھا
جب وہ کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر بیٹھی کوئی کام کر رہی تھی اس نے اسکا ہاتھ تھام اسے کھڑا کیا تھا
تم سمجھتی کیا ہو میرے بابا اور دادو کو اپنی طرف کرلو گی۔۔
ہاتھ چھوڑو میرا۔۔ اپنا ہاتھ اسکی گرفت سے نکالنے کو وہ پھڑپھرائی تھی
کیا چل رہا ہے ہاں کیا چاہ رہی ہو؟؟
میں کیا چاہ رہی تم بتاؤ تم کیا چاہ رہے ہو کب تک مجھے یوں تمہارے گھر میں رہنا پڑے گا ہاں کب تک یہ ڈھونگ کرنا پڑے گا
کیا مطلب ہے اس ڈھونگ کا ہاں جب تک میں چاہوں گا تمہیں یہاں رہنا پڑے گا۔
ایسا سوچنا بھی مت صرف چند دن اور میں یہاں سے بہت دور چلی جاؤنگی مگر ایک حقیقت تمہیں آج ضرور بتا دوں
تم ایک ایسے انسان ہو جس کی اپنی کوئی سوچ نہیں جو دوسروں کے اشاروں پر ناچتا ہے
اپنا دماغ استمال کرو ورنہ نقصان اٹھاو گے۔۔۔
مجھے تمہارے مشورے کی ضرورت نہیں
وہ۔ سخت جھنجھلایا تھا
ضرورت نہیں تو میرے معاملات میں بولنے کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔
تم میرے گھر والوں سے دور رہو۔۔۔
انہیں بولو مجھ سے دور رہیں ۔۔۔۔
میں نہیں بولوں گا۔۔۔ وہ جزر ہوا تھا
تو پھر چپ رہو نا تم میرے معاملات میں بولو نا میں بولو نگی۔۔۔۔
اپنی بات کرتی وہ ٹھک ٹھک کرتی کمرے سے ہی نکل گئی
تو یہ طے ہے تو ان لڑکیوں کے آگے لاجواب رہے گا ۔۔
بالوں کو نوچتے اس نے خود کو لعنت بھیجی تھی تب سے وہ دونوں ایک دوسرے سے الجھتے ہی نہیں تھے
اسے بھی ویسا اپنا سکون بڑا پیارا تھا۔۔۔
وہ کافی دن سے محسوس کر رہی تھی کہ کوئی کالج سے اسکا پیچھا کرتا تھا اور گھر تک آتا تھا اسے اب خوف محسوس ہونے لگا تھا وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی تو کوئی موجود نہیں ہوتا تھا اسکا کالج جانے کا دل نہیں کرتا تھا مگر پھر زلیخا کو کیا جواب دیتی ان کی اپنی طبیعت ٹھیک نہیں تھی تو وہ انہیں ٹینشن دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔
آج بھی وہ کالج سے گھر کے لئے نکلی تو اسے محسوس ہوا کوئی پیچھے ہے مگر اگنور کئے چلتی رہی
موسم ابر آلود تھا ہوا پوری رفتار سے چل رہی تھی تبھی اسے اپنے عقب سے آواز آئی تھی
نور۔۔۔۔۔
گھبرا کر وہ پلٹی تو سامنے ایک لڑکے کو دیکھ وہ ڈری تھی
یار ڈرو نہیں مجھ سے کیسا ڈر؟؟ وہ کوئی پچس چھبیس سال کا خوبرو سا لڑکا تھا
اس نے ایک قدم آگے بڑھایا تو وہ ڈر کر تقریباً بھاگی تھی۔۔
بھاگتے بھاگتے سانس پھولا تھا مگر وہ رکی نہیں۔۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے پیچھے کوئی بھوت لگ گیا ہو
گھر پہنچ کر اسنے پیچھے دیکھا تو اس کی جان ہتھیلی میں آئی تھی وہ لڑکا وہاں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اسکے دیکھنے پر ہاتھ ہلایا تھا
منحوس ذلیل۔۔۔ گھر میں قدم رکھتے ہی اس نے درازہ ٹائٹ سے بند کیا تھا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو تیار تھا
کاش میں آنسہ جیسے مضبوط ہوتی تو آج اس انسان کو ٹھیک ٹھاک سبق سیکھاتی۔۔۔
ٹھیک ہی کہتی تھی آنسہ ایک لڑکی کو اتنا مضبوط تو ہونا ہی چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت کرسکے اپنا دفاع کرسکے خود کو دنیا کی غلیظ نظروں سے محفوظ رکھ سکے جو لڑکیاں کمزور ہوتی ہیں لوگ بھی انہیں کو ٹارگٹ بناتے ہیں
ماں باپ کو بچپن سے ہی بچیوں کی تربیت اس انداز میں کرنی چاہیے تاکہ باہر کہ یہ آوازہ کتے انہیں ڈرا نا سکے۔۔
مجھے ہمت کرنی ہوگی مجھے نہیں ڈرنا۔۔
وہ خود کو ہمت دے رہی تھی مگر جانتی تھی وہ کبھی اتنی بہادر نہیں بن سکتی۔۔۔۔
___________
حیات صاحب اور دادو کے کہنے پر وہ اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے جانے کو راضی ہوا تھا وہ یہ بھی جانتا تھا کہ آنسہ کو اس کام کا شوق ہے اس نے اکثر زلیخا بی کو کہتے سنا تھا کہ اس کام میں ان کی دونوں بیٹیاں تاک ہیں وہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا مگر دادو اور بابا کی وجہ سے مجبور تھا
حاشر وہاں پر لوکیشن دیکھ کر آیا تو وہ اور حاشر دوبارہ جاکر ڈیک فائنل کر آئے تھے اب وہاں ان کی مرضی کے مطابق کام ہورہا تھا
آنسہ نے اپنی سی کوشش کی تھی کہ وہ یہی رہے مگر دادو کی ضد اور حیات صاحب کی خواہش کی وجہ سے وہ چپ ہوگئی
اسے ابراہیم یہاں برداشت نہیں ہوتا تھا وہاں کیسے ہوگا یہ سوچ سوچ اسکا سر دکھنا شروع ہوگیا تھا
دادو اسے زبردستی شاپنگ پر لے کر گئی تھیں جہاں سے انہوں نے اسے ایک سے بڑھ کر ایک سوٹ دلایا تھا
اس کے لئے یہی بہت تھا کہ وہ لوگ اس کے بارے میں سوچتے تھے اس سے پیار کرتے تھے۔۔۔
ان لوگوں کے جانے سے پہلے دادو نے زلیخا اور نور کو گھر دعوت پر بلایا تھا
نور تو بے حد خوش تھی کہ وہ اپنے شوق کو آگے بڑھا رہی ہے مگر اسے زرا خوشی نہیں تھی۔۔
وہ کسی کام سے باہر آئی تو سامنے حاشر کسی سے بات کرنے میں مصروف تھا اسے دیکھ رکنے کا اشارہ کیا تو وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی
اس کے قریب آنے پر اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا
سوری بھابھی یوں روکنے کے لئے مگر مجھے آپ سے کچھ بہت ضروری بات کرنی تھی۔۔۔
بولو۔۔۔۔
دراصل مجھے بتا ہے ابراہیم نے کس مقصد کے لئے آپ سے شادی کی تھی۔۔۔
تو۔۔۔؟ اس کی بات کاٹتے اس نے سوال کیا تو وہ سٹپٹایا تھا
مجھے بس یہ کہنا ہے کہ وہ بےوقوف ہے اسے نہیں بتا ہوتا کہ کیا کرنا ہے وہ اکثر دوسروں کی باتوں میں آکر اپنے لئے مشکلات کھڑی کرلیتا ہے۔۔
یہ سب میں جانتی ہوں حاشر آگے بولو۔۔۔
میں نہیں چاہتا آپ لوگ الگ ہوں وہ بےوقوف ہے اسے کھرے کھوٹے کا فرق نہیں سمجھ آتا آپ کوشش کریں گی تو یہ رشتہ کبھی ختم نہیں ہوگا دادو اور خالو کہ لئے آپ یہ کوشش کریں پلیز۔۔۔
میں ہی کیوں سب کے لئے سوچوں کوئی میرے لئے کیوں نہیں سوچتا ایک بارسوچ کر دیکھا تھا باخدا رسوائی کے سوا کچھ نہیں ملا اور ویسے بھی نصیب کا لکھا کوئی نہیں بدل سکتا تو تم پریشان نہیں ہو۔۔
سپاٹ لہجے میں کہتی وہ اندر بڑھ گئی
ہونہہ جسے دیکھوں مجھ سے ہی امیدیں لگائے بیٹھا ہے میں بلا یہ انسان جائے بھاڑ میں یہاں یہ چند مہینے رہنا عذاب ہے ساری زندگی کا تو سوچ بھی نہیں سکتی میں۔۔۔
خود سے بولتی وہ اپنا سامان پیک کرنے لگی۔۔
تبھی نور کمرے میں آئی تھی۔۔
میں آجاؤں آنسہ؟؟
آجاؤ نور تجھے کب سے اجازت لینے کی ضرورت پڑ گئی۔۔
اپنا بیگ سائیڈ پر رکھتے اس نے نور کو بیٹھنے کے لئے جگہ دی تھی
جب سے ہمارے درمیان فاصلے آگئے ہیں۔۔۔
یہ فاصلے تو تم لوگوں کے خود کے بنائے ہیں خیر بتا سب ٹھیک ہیں ؟؟
ہاں سب ٹھیک ہیں تجھے بہت یاد کرتی ہیں سب سے زیادہ تو روشنی خالہ شان اور علی۔۔
ان سب کو تو میں بھی بہت یاد کرتی ہوں خاص کر علی کا اس نے ساتھ گزرا وقت تو میں بھول ہی سکتی کبھی۔۔۔
وہ حسرت سے بولی تھی اور کمرے میں آتے ابراہیم نے اس کے الفاظ بہت اچھے سے سنے تھے
تو کیا یہ بھی میری طرح زبردستی اس رشتے میں بندھی اور کسی اور کو پسند کرتی ہے۔۔۔
چلو اچھا ہی ہے میرے اوپر کوئی الزام نہیں آئے گا۔۔
خود کو مطمئن کرتا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی واپس چلے گیا
تم اب جب واپس آؤ تو گھر آنا نا ہم بہت مزے کریں گے۔۔
کوشش کرونگی ابھی تو بابا نے ایک زمہ داری دی ہے دعا کرنا اچھے طریقے سے نبھا سکوں۔۔
انشاء اللہ تم ضرور کامیاب ہونگی۔۔
آمین۔۔۔
چلو اب میں جاؤ پھر کل کالج بھی جانا ہے۔۔
کالج کے نام پر اسکا دل ڈوبا تھا مگر کیا کرتی۔۔۔
چل ٹھیک آجا نیچے چلیں۔۔۔
وہ دونوں نیچے آئی تو زلیخا بی سب سے باتوں میں مصروف تھیں
اچھا بھائی صاحب اجازت دیں۔۔۔
وہ سب سے اجازت لے کر نکلی تھیں
اور اس کے بعد وہ کافی دیر تک دادو نے پاس بیٹھی رہی دل یہ سوچ کر ہی اداس ہورہا تھا کہ ان سے دور رہنا ہوگا
میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر۔۔۔
لو بھئی شوہر کے بغیر عورت یہ کہتی ہے اور تم دادی کو ایسے بول رہی۔۔۔ دادو نے ہنس کر بولنے پر اس نے خفگی سے منہ بنایا تھا۔۔
اور اس کے یوں منہ بنانے کر وہ ہنس دیں
جھلی نا ہو تو۔۔۔۔
ان کی فلائٹ نو بجے کی تھی اس لئے وہ سب سے ملکر نکلے تھے فلائٹ میں بیٹھنے کا اس کا یہ پہلا تجربہ تھا مگر وہ یہ ابراہیم پر ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی
اس لئے پورے اعتماد سے اس کے قدم سے قدم ملا کر چلی تھی
مگر جیسے ہی جہاز نے اڑان بھری اس کا دل ڈوبا تھا اس نے سختی سے ابراہیم کا بازو تھاما تھا اور سر اس کے ہاتھ پر رکھا تھا ابراہیم نے اسے چونک کر دیکھا تھا
میچی آنکھوں کے ساتھ ابراہیم کو وہ چھوٹی سے بچی لگی تھی
ریلیکس آنسہ کچھ نہیں ہے۔۔۔اسے اپنے لہجے کی نرمی پر حیرانی ہوئی تھی
نہیں مجھے ڈر۔۔۔۔ لفظوں کو توڑ کر کہتی وہ اسکے ہاتھ پر اپنی گرفت مضبوط کرگئی
اور اسے دیکھ وہ مسکرایا
چلو بھئی یہ جھانسی کی رانی بھی کسی چیز سے ڈرتی ہے۔۔۔
پورے سفر نے ایک لمحے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا تھا
ائیر پورٹ پر اترتے ہی اس نے ایک دم اسکا ہاتھ چھوڑا تھا
باہر نکلتے انہوں نے اس شہر کو دیکھا تھا جس کے بارے میں جیسا سنا تھا ویسا ہی پایا۔۔
اپارٹمنٹ کے باہر گاڑی رکتے ہی وہ باہر نکلے تھے
مگر اپارٹمنٹ کے اندر جاکر وہ چونکے تھے وہ جو سوچ کر آئے تھے کہ یہاں آزادی سے رہ سکیں گے اس ایک روم کے اپارٹمنٹ کو دیکھ ارمانوں پر اوس پڑی تھی
وسیع لاونج کارنر پر موجود کچن کا دروازہ اور باہر کی طرف ڈائننگ ٹیبل۔۔۔
سامنے بالکونی میں کھولتا دروازہ اور اس کے ساتھ منسلک بیڈ روم۔۔۔
سامان لاونج میں رکھتا وہ صوفے پر ڈھے سا گیا تھا۔۔
تھکن سے برا حال تھا بھوک بھی لگ رہی تھی مگر گھڑی اس وقت رات کا ایک بجا رہی تھی ۔۔
شٹ اس وقت تو کوئی ریسٹورنٹ بھی اوپن نہیں ہوگا۔۔ زور سے بڑبڑاتا وہ آنکھیں موند گیا۔
آنسہ نے ایک نظر اسے دیکھا اور کچن کا رخ کیا تھا مگر وہاں سوائے چند برتن اور کچھ نہیں تھا اور یقیناً یہ برتن صبح صفائی کرتے وقت رکھے گئے تھے کیونکہ ان کے ساتھ ہی چائے کا سامان رکھا تھا۔۔
کچھ سوچ کر اس نے چائے کا پانی چڑھایا تھا اور اندر کمرے میں آکر اپنے بیگ سے کچھ سامان نکال کر کچن کا رخ کیا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی تو اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی ٹرے ٹیبل پر رکھتے اس نے ابراہیم کو دیکھا تھا برتن کی آواز پر اٹھ کر سیدھا ہوا تھا۔۔۔
یہ سب۔۔
سامنے ٹیبل پر رکھے نوڈلز،چپس نمکو کے پیکٹ دیکھ اس نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا
فلحال تو کچن میں کچھ بھی نہیں تھا کہ سامان میرے پاس تھا تو میں نے بنالیا شروع کریں۔۔
نوڈلز اس کی طرف بڑھاتی اس نے چپس کا پیکٹ کھولا تھا۔۔
تھینکس۔۔
کوئی بات نہیں بس کچھ ضروری سامان ہے برتن وغیرہ وہ ہمیں کچن کے لئے لانا پڑے گا۔۔
اس نے بولتے کے ساتھ چپس کا پیکٹ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔
کھانے کے برتن سمیٹ وہ اس کے آگے چائے کا کپ رکھتی واپس کچن میں گھسی تھی۔۔
اور چائے پی کے اس نے واقعی خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا تھا
وہ کمرے میں آیا تو اسے کھڑکی میں کھڑا پایا۔۔
اس کی نظر بیڈ پر پڑی وہاں کوئی ایکسٹرا صوفہ وغیرہ نہیں تھا اور باہر موجود سیٹ اس قابل نہیں تھا کہ اس پر سویا جا سکے اسے ڈیلر پر رج کر غصہ آیا تھا ۔۔
یہ سامان کہاں رکھنا ہے مجھے نیند آرہی ہے۔۔
بیڈ پر اس کا سامان دیکھ وہ پوچھ بیٹھا تو اسنے آگے بڑھ کر اپنا سامان وہاں سے ہٹایا۔۔
میں نے ہٹا دیا ہے تم سوجاؤ۔۔ اسے بولتی وہ کمرے میں باہر کی طرف بڑھی تبھی اسکی آواز نے اسکے قدم جکڑے تھے
باہر کا صوفہ سونے کے قابل نہیں ہے اس لئے یہی بیڈ پر آجاؤ۔۔
اس کی آفر کر اسنے مڑ کر اسے دیکھا تھا
میرا مطلب تھا جب تک سیٹنگ نہیں ہوجاتی ہم شئیر کرسکتے ہیں بیڈ۔۔
اپنی بات کی وضاحت کرتا وہ پتا نہیں کیوں آنسہ کے چہرے پر مسکراہٹ لے آیا تھا
وضاحت کی ضرورت نہیں مجھے پتا ہے۔۔ اسے کہتی وہ باہر بڑھ گئی۔۔
تھوڑی دیر بعد وہ پانی کی بوتل لئے کمرے میں آئی تھی
بیڈ پر لیٹتے اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھا تھا مگر دماغ سوچوں سے خالی نہیں تھا۔۔۔
حسب معمول وہ کالج کے لئے گھر سے نکلی تو قدموں کی آواز اپنے پاس محسوس کرتے وہ ایک دم گھبرا کر مڑی تھی
جہاں ایک لڑکا اس کے پیچھے تھا اسے رکتے دیکھ اس کے قدم بھی رکے تھے اور اس نے ایک بھرپور مسکراہٹ اسکی طرف اچھالی تھی
کیسی ہو نور؟؟؟ اس نے مسکرا کر کہا تھا
اور اس کے منہ سے اپنا نام سن وہ ایک دم گھبرائی تھی اور اپنے قدم بڑھائے تھے
ارے میری بات تو سنو نور۔۔۔ رکو۔۔
اپنے پیچھے مسلسل اپنے نام کی آواز اسکو بدحواس کر رہی تھی قدم تیزی سے بڑھاتی وہ تقریباً بھاگتی ہوئی کالج میں داخل ہوئی تھی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیل رواں ہوا تھا۔۔
خود کو سنبھالتی وہ واشروم کی طرف بڑھی تھی منہ دھو کر کلاس میں آئی مگر دل کہیں باہر کی اٹک گیا تھا ڈر کے مارے اسکے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔
خود کو سنبھالتی اس نے پانی پڑھائی پر دھیان دیا تھا…
