Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz NovelR50707 Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Last Episode)
Rate this Novel
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Last Episode)
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz
شماس کی شادی تین دن بعد طے پائی گئی تھی۔ سارے گھر میں مہمانوں کا شور تھا۔ رابیعہ نے اسے کہہ رکھا تھا کہ وہ کمرے سے باہر نہ نکلے مگر وہ ڈھیٹوں کی طرح باہر ہی رہتی تھی۔ اگر کبھی غلطی سے اس کا سامنا حماد سے ہوجاتا تو وہ وہیں کھڑی اسے گھورتی رہتی جبکہ وہ اسے دیکھ کر نگاہیں جھکا لیتا اور اپنا راستہ بدل لیتا۔
“تمہیں نہیں لگتا کہ تم کچھ زیادہ ہی تنگ کرتی ہو حماد بھائی کو؟” مونگ پھلی منہ میں ڈالتے ہوئے علشبہ نے اس سے سوال پوچھا۔
“اور تمہیں نہیں لگتا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بلش کرتا ہے؟ جیسے میں اسکا ہونے والا شوہر ہوں اور وہ میری بیوی ایویں۔”
“توبہ کرو نجف تم۔” علشبہ اسے گھور کر بولی۔ نجف کچھ کہنے ہی والی تھی کہ اس کی نظر علشبہ پر پڑی جو کہ اس کے پیچھے دیکھ رہی تھی۔ وہ پیچھے مڑی تو اسکے ہاتھ حماد کے سینے پر لگے اور اتنی شدت سے لگے کہ اس کی چوڑیاں ٹوٹ گئیں۔
“ہیلو شوہر۔ سوری حماد۔” وہ حقیقتاً گڑبڑا گئی تھی۔ جانے کے لیے مڑی تو حماد سامنے آگیا۔
“کدھر جارہی ہو؟” وہ دیکھ چکا تھا کہ نجف کی حالت غیر ہورہی ہے اس لیے اس نے اسے جانے دیا۔
_______________
اگلے دن شام تک اس کی حماد سے کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہی ملاقات ہوئی۔ شام کو وہ عبداللہ کے حکم پر اس کے کپڑے استری کر رہی تھی۔ بالوں کو کیچر میں مقید کیے، سرخ و سیاہ رنگ کی شلوار قمیض پہن کر انتہائی رف حلیے میں بھی وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اگر کوئی وہاں سے گزرتا تو اسے ایک نظر ضرور دیکھتا۔ وہ اپنے کام میں مصروف تھی جب اسے اپنی گردن پر کسی کے لمس کا احساس ہوا۔۔ وہ کرنٹ کھا کر پیچھے مڑی تو وہاں اسامہ کھڑا تھا۔
“یہ کیا تھا؟” اس کے رخسار غصے سے سرخ ہوگئے تھے۔
“یہ، یہ تھا۔” اس نے پھر سے اپنا ہاتھ اسکی صراحی نما گردن کی طرف بڑھایا مگر اس بار اس نے اسکا وہ ہاتھ وہیں سے پکڑ لیا۔ نجف اس بات سے بےخبر تھی کہ حماد نے اسے اسامہ کا ہاتھ پکڑتے دیکھ لیا ہے۔ حماد افسوس سے سر جھٹکتا وہاں سے نکل آیا۔
نجف کچھ پل رکی پھر جب اسامہ کی عجیب نظریں اسے خود پر محسوس ہوئیں تو اس نے ایک تھپڑ کھینچ کر اس کے چہرے پر دے مارا۔ اسامہ کو اپنی بےعزتی محسوس ہوئی اس نے آگے بڑھ کر اسے بازو سے پکڑنا چاہا تو نجف نے گرم استری اسکے ہاتھ پر رکھ دی۔ یہ وار اسامہ برداشت نہیں کر پایا۔ اس کی پیٹھ پر ایک مکا رسید کر کے وہ وہاں سے آگئی۔ کچن میں آکر وہ رابیعہ کے ساتھ کھڑی پانی پینے لگی۔ کچھ ہی دیر بعد اسامہ وہاں آگیا۔ رابیعہ کو کچھ غیر معمولی لگا تو انہوں نے اسامہ کو مخاطب کیا۔
“کیا ہوا ہے؟” ایک نظر اسامہ کو دیکھا پھر ایک نظر نجف کو۔
“یہ دیکھیں آپ کی صاحبزادی کے کرتوت۔۔۔” اسامہ نے ایک ہاتھ سے اپنے گال پر اشارہ کیا جہاں پر پانچ انگلیوں کے نشان نمایاں تھے۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ آگے کیا جو جلا ہوا تھا۔
“دیکھو اسامہ میری بیٹی بغیر وجہ کے کچھ نہیں کرتی اب یہ بھی بتاؤ کہ ایسا کیا ہوا تھا جو اس نے تمہارے ساتھ یہ سب کیا؟” نجف اب رابیعہ کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔
“آپ کی اس (گالی) بیٹی۔۔۔۔” اسامہ کے منہ سے نجف نے جب اپنے لیے اتنی غلیظ گالی سنی تو اس نے ایک اور تھپڑ اسکے دوسرے گال پر رسید کیا۔ تھپڑ اتنا زناٹے دار تھا کہ چند لمحے کچن میں خاموشی رہی۔ اسامہ منہ میں کچھ بڑبڑاتا وہاں سے نکل آیا۔
“نجف !! کیا ہوا ہے؟” رابیعہ نے اسے کلائی سے تھام کر پیچھے کیا۔ اس وقت اسکا چہرہ نفرت اور غصہ کے ملے جلے جذبات سے سرخ تھا۔ آنکھوں میں بھی سرخی عود آئی تھی۔ اس نے ایک منٹ کی بھی تاخیر نہ کی اور رابیعہ کو سب بتا دیا۔
“مما آج اگر اسکو کچھ نہ کہتی ٹپیکل لڑکیوں کی طرح اگنور کر دیتی تو اسکا حوصلہ بڑھتا، اس کی ہمت بڑھتی اور کل کو وہ کچھ اور کرتا۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ شروع میں ہی کاٹ دینے چاہیں، تاکہ مزید کچھ نہ ہو۔” نجف نے گلاس میں پانی انڈیلا اور پینے لگ گئی۔
“نجف کل نکاح ہے تمہارا اور آج بھائی کی مہندی ہے تمہارے۔ جاکر تیار ہو اور کسی کو منہ نہ لگاؤ۔” وہ رابیعہ کی بات سن کر لاؤنج میں آگئی عبداللہ کا سوٹ باقی کا استری کرکے وہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
_______________
حماد نے مہندی کے روز سیاہ شلوار سوٹ زیب تن کیا تھا جس پر اس نے واسکٹ پہنی تھی۔ اس کے ذہن میں بس ایک ہی بات تھی کہ نجف، اسامہ کو چاہتی ہے اور وہ غلط کر رہا ہے۔
“حماد۔۔۔” رابیعہ کی آواز سن کر وہ رکا اور اس نے مڑ کر انہیں دیکھا۔
“بیٹا تم جاکر پھول لے آؤ گے؟ لڑکیوں نے منگوائے ہیں۔”
“جی اچھا میں لے آتا ہوں مگر آنٹی کس ٹائپ کے لاؤں؟” وہ پرسوچ انداز میں بولا۔
“نجف کو ساتھ لے جاؤ اس کی چوائس اچھی ہے۔” حماد منع کرنے لگا تھا مگر رابیعہ وہاں سے جاچکی تھیں۔ ناچار اسے نجف کے کمرے کی طرف قدم بڑھانے پڑے۔ اندر داخل ہوا تو سامنے ہی وہ دشمنِ جان بیٹھی تھی جس نے آج ساری بجلیاں گرانے کی قسم اٹھائی تھی۔۔۔۔ یا شاید صرف حماد پر ہی حملہ کرنے کا پلان تھا۔ اس نے سبز رنگ کہ قمیض جس پر جابجا کام ہوا تھا اس کے ساتھ نارنجی رنگ کا پاجامہ زیب تن کیا ہوا تھا۔ اسی رنگ کا دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ آس پاس کی دنیا سے بےخبر تھی۔ لمبے گھنے بالوں کو ڈھیلے سے باندھا گیا تھا یوں کہ آدھے کمر پر ہی تھے۔ عنابی لبوں پر سرخ رنگ کی لپسٹک لگی تھی جب کہ آنکھوں میں صرف کاجل تھا۔ وہ کانوں میں جھمکے پہننے کی سعی کررہی تھی جب اسکی نظر آئینے میں موجود عکس پر پڑی۔ حماد مبہوت سا اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اپنے اوپر اس کی نظریں محسوس کر سکتی تھی۔ اسے ہوش میں لانے کے کیے وہ کھنکھاری۔
“وہ۔۔ آنی کہہ رہی ہیں کہ تم میرے ساتھ چلو پھول لینے۔” حماد نے اسے اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ مہندی کا فنکشن صرف آسیہ کی فرمائش پر رکھا گیا تھا ورنہ صرف نکاح ہی ہونا تھا کیونکہ حماد کی فلائیٹ تھی۔
“حماد یہ رہے پھول۔۔ اب جانے کی ضرورت نہیں۔” اسے اس کا رویہ بہت عجیب لگا۔
(شاید میرا وہم ہے۔)
حماد اسے وہیں چھوڑ کر نیچے آگیا۔ نجف کچھ لمحے وہیں کھڑی رہی پھر باہر آگئی۔ اب اسکا رادہ تقریب میں شرکت کرنے کا تھا۔ اس نے سیڑھیوں پر قدم رکھے اور سب نگاہیں اس پر مرکوز ہوگئیں۔ حماد نے اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبایا پھر وہاں سے باہر آگیا نجف کو دیکھنا اس کے لیے مشکل ہورہا تھا۔ حماد سارے فنکشن کے دوران ایک طرف ہی بیٹھا رہا اور یہ بات عنیزہ کی نظروں سے چھپ نہ سکی۔ تقریباً بارہ بجے تمام مہمان چلے گئے اور گھر کے تمام افراد بھی جب اپنے کمروں کو چلے گئے تو عنیزہ، حماد کے پاس آگئیں۔
“میں دیکھ رہی ہوں کہ تم آج کل نجف کو اگنور کر رہے ہو۔” عنیزہ نے بغیر تمہید باندھے بات کا آغاز کیا۔
“مما میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا !!” حماد نے عنیزہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔
” غلط فہمیاں نہ پالو بعض دفعہ آنکھوں دیکھا بھی غلط ہوجاتا ہے۔ !!” عنیزہ اعلان کرکے واپس چلی گئیں۔ اور وہ وہیں کھڑا سوچتا رہ گیا۔
________________
صبح آٹھ بجے گھر میں ہی ان دونوں کا نکاح تھا۔ نجف پر عجیب سی کیفیت طاری تھی وہ ساری رات نہ سو سکی۔ اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو وہ وضو کرنے کی نیت سے اٹھی۔ ماربل کے ٹھنڈے فرش پر اس نے قدم رکھے تو اسے ٹھنڈ اپنے اندر اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔ وضو کر کے اس نے نماز پڑھی اور اپنے بہتر مستقبل کی دعا مانگی۔
“ارے نجف تم تیار نہیں ہوئی؟” سات بجے علشبہ تقریباً چیختی ہوئی اس کے کمرے میں آئی۔
“ہورہی ہوں نا۔ دیکھو شاور لے لیا ہے بس چینج کرنا ہے۔” وہ لاپرواہی سے بولی۔
“نجف بی بی۔! تمہارا نکاح ہے برتھ ڈے پارٹی نہیں نیچے آنی غصہ ہورہی ہیں فوراً آؤ۔” علشبہ دروازہ توڑنے کے انداز میں بند کرکے چلی گئی۔ اس نے الماری سے اپنا استری شدہ جوڑا نکالا۔ جتنی دیر میں وہ کپڑے بدل کر باہر آئی عنیزہ اسکے انتظار میں کھڑی تھیں۔ اس نے سفید رنگ کا سادہ سا سوٹ پہنا جس کے دامن پر کام کیا گیا تھا۔ اس کی سادگی میں بھی بہت نفاست تھی۔ بالوں کو اس نے ہمیشہ کی طرح جلدی میں سمیٹا۔
“آنٹی چلیں؟” وہ فوراً بولی۔ شکل پر گھبراہٹ واضح تھی۔
“یہ چوڑیاں پہنو۔” عنیزہ نے اس کی طرف کاغذ میں لپٹی چوڑیاں بڑھائیں جنہیں اس نے بلا چوں چڑاں کیے پہن لیا۔ پھر اس نے اپنے ہونٹوںں پر لپسٹک لگائی۔ سرخ رنگ کا دوپٹہ سلیقے سے سر پر کے کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور انتظار کرنے لگی۔
______________
عنیزہ اسے آوازیں دے رہی تھیں اس نے ایک نظر اپنے عکس کو دیکھا۔ سفید رنگ کی شلوار قمیض، سفید رنگت پر ہلکی بڑھی ہوئی شیو اور ہاتھوں میں رسٹ واچ پہنے وہ سادہ مگر پرکشش لگ رہا تھا۔ اس کے کلون کی خوسبو سارے کمرے میں پھیل چکی تھی۔
“یہ خیال کہ آج تم میری ہونے جارہی ہو۔۔۔۔ یہ بہت اچھا ہے۔۔۔ مگر نجف جو میں نے دیکھا وہ؟” حماد کمرے سے باہر نکل کر لاؤنج میں آگیا جہاں مولوی صاحب اور دیگر گواہان اسی کا انتظار کررہے تھے۔ نکاح کے بعد اسکی فلائیٹ تھی اور اس نے چلے جانے تھا۔ اس نے سب کو بلند آواز میں سلام کیا۔ اور احسان کے ہمراہ جابیٹھا۔ نکاح کی تقریب شروع ہوچکی تھی۔ اسے کسی بھی ہور وہ ہوش سے بیگانہ ہوچکا تھا۔
“سید حماد حیدر نقوی ولد سید ثقلین نقوی آپ کو نجف زہرہ ولد سید احسان اظہر اپنے نکاح میں قبول ہیں؟” اس جملے کو سن کر وہ پہلے رکا پھر اس نے آہستہ سے اپنے لب کھولے اور اسے ہمیشہ کے لیے اپنے حصار میں لے لیا۔ اپنے نام کرلیا۔ اس سے پوچھا گیا اور وہ جواب دیتا گیا۔ ایک بار پھر وہ اپنی ہی دنیا میں کھو گیا جہاں پر صرف دو ہی نفوس تھے، یا وہ یا پھر نجف۔ حماد کے ذہن میں عنیزہ کی باتیں گردش کررہی تھیں۔ اس نے بالآخر یقین کرنا سیکھ لیا تھا اور دل میں ٹھان لی تھی کہ اب اس بارے میں نہیں سوچے گا۔
مولوی صاحب اب اٹھ کر نجف کے کمرے میں آگئے تھے۔ نجف کے لبوں کی مسکراہٹ دوپٹے کی آڑ میں آگئی تھی۔
“نجف زہرہ ولد سید احسان اظہر آپ کا نکاح سید حماد حیدر نقوی ولد سید ثقلین نقوی سے حق مہر پانچ لاکھ روپے سکہ رائج وقت طے پایا ہے۔ آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟” وہ رکی پھر اپنے نچلے لب کو دانتوں تلے دبایا۔
“قبول ہے!” اس نے آہستگی سے کہا دل تھا کہ دھڑکنا چھوڑ دے گا۔ مگر وہ اپنے جذبات پر قابو رکھے بیٹھی تھی۔ اس نو فوراً دستخط کیے۔ سب لوگ اب دعا کے لیے ہاتھ بلند کر رہے تھے پھر آہستہ آہستہ وہاں سے سب چلے گئے وہ اٹھ اور کمرے کا دروازہ بند کر لیا۔ اس نے ایک نگاہ اپنے سراپے پر ڈالی۔ مسکراہٹ تھی کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
______________
حماد کی فلائیٹ میں تقریباً گھنٹا باقی تھا۔ تمام گھر والوں سے مل کر بالآخر اسے نجف کے پاس جانے کی اجازت مل ہی گئی تھی۔ وہ آہستہ سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اندر جاتے ہی نظر اس پر پڑی جو اپنے مہندی سے رنگے ہاتھوں کو دیکھنے میں مصروف تھی۔ اس کے خوبصورت ہاتھوں پر مختلف نقش و نگار بنے تھے جن کے درمیان “اس” کا نام بھی لکھا تھا۔ آہٹ پر اس نے مڑ کر دیکھا تو سامنے وہ کھڑا تھا۔ مسکراہٹ یکدم غائب ہوئی۔ ہمیشہ جس کی آنکھیں جھکی رہتی تھیں آج وہ سر اٹھا کر اسے دیکھ رہا تھا۔ اور جس کی کبھی گردن نہیں جھکی تھی آج وہ سر جھکائے اس کے سامنے کھڑی تھی۔
“اب آپ نے وہیں پر کھڑے ہوکر سیکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی کا اہم فریضہ سر انجام دینا ہے کیا؟” کچھ دیر پہلے کی شرم و حیا یکدم غائب ہوگئی تھی۔ وہ خاموش رہا، پھر آستہ سے چلتا اس کے قریب آیا۔ یکدم گلاب کی خوشبو سارے کمرے میں پھیل گئی۔ وہ اس کے لیے کنگن لایا تھا۔ وہ گلاب کے کنگن اس نے اپنے ہاتھوں سے اسے پہنائے۔ پھر وہ اپنے لب اس کے کان کے پاس لے گیا۔
“آپ اچھی لگ رہی ہیں۔۔ اپنی تمام تر سادگی سمیت معصومیت کی جھلک دکھاتیں، نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہیں ہیں۔ اس کے سانس کی حدت سے نجف کے کان کی لو سرخ ہوگئی۔ حماد نے اسکی جھمکی کو چھیڑا یا شاید وہ جھمکی اسکی غیر ہوتی حالت دیکھ کر اس کو چھیڑ رہی تھی۔ کمرے میں بہت دیر تک خاموشی رہی پھر نجف نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھنے میں مصروف تھا۔
وہ ہل نہیں سکی،
سانس نہیں لے سکی،
پلک نہیں جھپک سکی،
حماد آگے بڑھا اور اس کی پیشانی پر اپنی محبت کا نشان چھوڑ دیا۔
“میں تم سے محبت کرتا ہوں نجف۔” اس نے بند آنکھوں سے نجف کے کان میں سرگوشی کی پھر آہستگی سے چلا گیا۔ کچھ دیر بعد نجف نے آنکھیں کھولیں۔ کمرے میں موجود ہر چیز اس شخص کی محبت کی گواہی دے رہی تھی۔
وہ چلا گیا تھا مگر واپس آنے کے لیے۔
ختم شد۔!
