Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 06)

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz

رات کے گیارہ بج رہے تھے۔ ہر طرف خاموشی کا پہرا تھا اس پر چاند کی ہلکی روشنی اور ستاروں کی موجودگی نے آسمان کا ایک دلکش نظارہ پیش کیا ہوا تھا۔ نجف نو بجے اپنے کمرے میں آئی پھر سونے کے لیے لیٹی مگر نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ جب اسے لگا کہ نیند کا کوئی بھی نام و نشان نہیں ہے تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اس نے اس وقت سفید رنگ کی قمیض زیب تن کر رکھی تھی جس پر سیاہ رنگ کی کڑھائی ہاتھ سے کی گئی تھی۔ اور ساتھ میں اس نے سیاہ رنگ کی جینز پہن رکھی تھی، بلاشبہ وہ رف سے حلیے میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔ لمبے بال اب کیچر میں مقید تھے۔ آنکھوں میں سرخی نمایاں تھی۔ اسے نیند آرہی تھی لیکن جب وہ آنکھیں بند کرتی تو پھر سے نیند غائب ہوجاتی۔ اس کی نظریں اپنے ہاتھوں پر مرکوز تھیں۔ انگلی میں حماد کی پہنائی ہوئی انگوٹھی جگمگا رہی تھی۔ ابھی وہ اپنی سوچوں میں ہی غرق تھی کہ سائیڈ ٹیبل سے اسکا موبائیل بج اٹھا۔

“افف۔۔۔ یہ آدھی رات کو کسے موت پڑی ہے۔” نجف نے منہ میں بڑبڑاتے ہوئے موبائیل پکڑ لیا۔ سکرین پر حماد کا بھیجا گیا ٹیکسٹ جگمگا رہا تھا۔

“بالکونی میں آؤ۔!” نجف کو ٹھنڈ میں اپنا بستر چھوڑ کر جانا بہت برا لگ رہا تھا۔ وہ اٹھی پھر پیغام درج کرنے لگی، لمحے پھر کو رک کر پھر دوبارہ لکھنے لگ گئی۔

“کیوں؟ اس وقت آپ نے انڈے بیچنے ہیں؟” نجف پہلے ہی بور تھی اوپر سے حماد اسے چھیڑ بیٹھا تھا۔

“آ رہی ہو کہ نہیں؟” حماد نے اس کا میسج دیکھ کر مسکراہٹ ضبط کی پھر رپلائی بھیج دیا۔ کچھ ہی دیر بعد وہ طرح طرح کے منہ بناتی اپنے کمرے کی بالکونی میں کھڑی تھی۔ دسمبر کی یخ ٹھنڈ نجف پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی۔ دوسری طرف حماد نے ایک سوئیٹر پہنا ہوا تھا۔

نجف کی نظر اس پر پڑی تو وہ پہلے سے ہی اسے دیکھنے میں مصروف تھا۔ موبائیل کی بیپ نے نجف کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی۔

“نجف میرے پیرنٹس صبح تمہارے ڈیڈ سے بات کریں گے وہ منع نہیں کرسکتے بابا کو۔ آئی ڈونٹ کئیر اگر تمہارا رشتہ تمہارے سو کالڈ کزن سے طے ہوا ہے۔ اگر منع کر بھی دیا تو پھر بھی میں یہ شادی نہیں ہونے دوں گا۔” حماد نے ٹیکسٹ ٹائیپ کیا پھر اسے دیکھا وہ اب اپنے موبائیل پر حماد کا بھیجا گیا میسج پڑھ رہی تھی۔

“زندگی ہمیشہ ہمیں دو ہی راستے دکھاتی ہے حماد۔۔ خوبصورت دھوکہ اور بدصورت سچ اور ہم میں سے اکثر لوگ خوبصورت دھوکے کا ہی انتخاب کرتے ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ بابا کا ری-ایکشن کیا ہوگا۔۔۔ مگر میں بدصورت سچ تسلیم کرنا چاہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ اور میں ایک نہیں ہوسکتے۔” اس کا میسج پڑھ کر حماد نے اپنے ہونٹ بھینچ لیے اور وہ وہاں سے چل دیا۔ لیکن نجف رات گئے وہیں کھڑی رہی۔ بہت دیر تک وہ اس جگہ کو دیکھتی رہی جہاں کچھ دیر پہلے حماد کھڑا تھا۔ پھر اس نے نظریں آسمان پر موجود ستاروں کے جھرمٹ پر مرکوز کر لیں، تھک کر اس نے قریب پڑی کرسی پر بیٹھنے کا ارادہ کیا۔ صبح تقریباً چھ بجے اس کی نظر حماد پر پڑی جو شاید باہر جارہا تھا۔ حماد اسے دیکھ چکا تھا نجف نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر واپس مڑ گئی۔ بیڈ پر لیٹتے ہوئے اسکے موبائیل پر بیل بجی جس پر حماد کا بھیجا گیا پیغام جگمگا رہا تھا۔

“اور ابھی کوئی کہتا ہے کہ ہم ایک نہیں ہوسکتے جب کہ وہ رات گئے وہیں اسی جگہ کو دیکھتا رہا جدھر میں کھڑا تھا۔” نجف اس کا پیغام پڑھنے کے بعد اپنا سر تھام کر بیٹھ گئی۔

“خوش فہمیاں جناب!” پیغام بھیج کر اس نے موبائیل بند کردیا اور سوگئی۔

_________________

“اسلام و علیکم نانو۔!” صبح نجف کی آنکھ کھلی تو اس نے آمنہ کو اپنے پاس بیٹھا پایا۔

“کیسی ہو نجف؟” وہ اس کے بال ٹھیک کرتے ہوئے بولیں۔ نجف شروع سے ہی انکے قریب رہی تھی۔

“ٹھیک ہوں اور آپ؟” نجف نے اپنا سر اب ان کی گود میں رکھ لیا اس پر سستی چھائی ہوئی تھی۔

“میں بھی ٹھیک ہوں۔ نجف تم نماز کیوں نہیں پڑھتی؟” انہوں نے ہمیشہ کی طرح اسے نصیحت کی تھی۔

“نانو۔ پتا نہیں کیوں اب لگتا ہے کہ اگر اور کچھ مانگا تو جو ہے وہ بھی چھین لیا جائے گا۔”

“تم کیوں سمجھتی ہو کہ اللہ تمہیں مایوس کرے گا۔؟ مایوسی گناہ ہے بچے۔”

آمنہ اب اس کی ہلکی بھوری آنکھوں کو دیکھنے میں مگن تھیں جو رات کو نہ سونے کی وجہ سے سرخ ہوگئیں تھیں۔

“نجف یہ دنیا عارضی ہے۔ یہ چیز تکلیف دہ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ایک دن سب جدا ہوجائیں گے۔ ہماری آخری منزل قبر ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس طرح اپنے آخری گھر کو آراستہ کرتے ہیں۔ یا تو جہنم کی آگ سے یا پھر جنت کے باغوں سے۔۔۔” وہ سانس لینے کو رکیں۔

“ہم انسان بھول جاتے ہیں کہ ہم نے اپنا وعدہ پورا کرنا ہے واپس پلٹ جانے کا وعدہ۔ اپنے دل پر لگی مہر اتارو کہیں یہ پکی نہ ہوجائے۔ ایک گناہگار انسان کے جسم سے جب روح پرواز کرجاتی ہے تو وہ میلی ہوتی ہے۔ وہ روح چیختی ہے چلاتی ہے کیوں؟ کیونکہ وہ گناہوں کے داغ والی ہوتی ہے۔” انہوں نے رک کر اسے دیکھا، اس کا چہرہ بےتاثر تھا۔ “کبھی کبھی انسان کا رونے کو بہت دل کرتا ہے نجف۔۔۔۔ نہ کوئی بات ہوئی ہوتی ہے نہ کچھ اور مگر پھر بھی رونے کا بہت جی چاہتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ آپ کی روح پر زخم آئے ہوتے ہیں۔ وہ دل نہیں روتا اس وقت روح روتی ہے۔ کیونکہ روح کی غذا ذکرِ الہٰی ہے جو اسے نہیں ملتا۔” آمنہ نے اسے بغور دیکھا جو بہت انہماک سے انہیں سننے میں مصروف تھی۔ نجف پر ان کی باتوں کا گہرا اثر پڑا تھا وہ بستر سے اٹھی اور نہانے چلی گئی۔

______________

“اسامہ تمہیں میری بات سمجھ کیوں نہیں آرہی؟ نجف اسے پسند کرتی ہے تمہیں نہیں۔ یوں ایک زبردستی کا رشتہ۔؟ میں بھائی کو منع کرنے لگی ہوں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔” آسیہ کو نجف بہت پسند تھی مگر انہوں نے پہلی ترجیح اس کی پسند کو دی۔ اسامہ کا غم و غصے سے برا حال تھا۔

“وہ پسند نہیں کرتی مگر میں تو کرتا ہوں! دیکھ لوں گا اسے بھی اور اسکے عاشق کو بھی۔” وہ حلق کے بل چلایا۔

“تم کوئی فضول حرکت نہیں کرو گے۔ تماشا بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمہارے لیے اس سے بہتر لڑکی ڈھونڈوں گی۔” اسامہ نے مٹھیاں بھینچ لیں۔

“امی مگر۔۔۔۔”

“مگر کچھ نہیں۔! بس اب کوئی بھی فضول حرکت کی تو تمہیں جائیداد سے عاق کردیں گے” اسامہ کے لیے یہ دھمکی ناقابلِ یقین تھی۔ اس نے مڑ کر اپنی ماں کو دیکھا جو اب اس کے کمرے سے باہر آچکی تھیں۔

______________

نہا کر جب وہ باہر آئی تو اسکا سامنا عبداللہ سے ہوا۔ نجف کو یکدم لگا کہ جیسے اس کے پاؤں کے نیچے کچھ عجیب سا چپک گیا ہو۔ اس نے اپنا پاؤں سیدھا کیا تو اس پر چیونگ گم لگی تھی۔ ایک منٹ کے اندر وہ عبداللہ کا یوں اچانک سامنے آنا سمجھ گئی تھی۔

“افف۔۔۔۔ عبداللہ تمہیں سکون نہیں ہے؟ شیطان کے چیف منسٹر۔” نجف روہانسی ہوکر واپس مڑ گئی اس دن اس نے تہیہ کر لیا کہ ننگے پاؤں گھر میں چہل قدمی نہیں کرے گی

نجف کچھ پہلے ہی بہت تھکی ہوئی تھی پھر اوپر سے عبداللہ کی اس حرکت نے اسکا موڈ اور خراب کردیا۔ اس نے ایک نظر عبداللہ کو دیکھا پھر اپنے پاؤں پر لگی چیونگ گم کو اس کے بعد وہ روتی صورت لے کر واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔ یہ پہلی بار تھا کہ عبداللہ کی کسی حرکت پر اس نے جوابی کاروائی نہیں کی تھی، اور اس بات نے عبداللہ کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ آخر اس کے ساتھ مسئلہ کیا ہے۔ اسے وہاں بیٹھے اب تقریباً آدھا گھنٹہ ہوچکا تھا، پھر موبائیل جیب میں رکھ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ کچھ دیر وہیں کھڑا رہنے کے بعد وہ واپس جانے کی غرض سے پلٹا تو ایک ٹماٹر آکر اس کے چہرے پر رسید ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے اسے انڈوں اور ٹماٹروں سے نوازا گیا۔ وہ اس حملے کے لیے تیار نہ تھا کچھ دیر بعد وہ سنبھلا تو اس نے اپنے سامنے نجف کو دیکھا جس کا ہنسی سے برا حال تھا۔

“مرچی۔! میں وہی سوچ رہا تھا کہ تم اتنی شریف کیسے ہوگئی۔ یہ کیا حال کردیا میرا تم نے میسنی۔۔۔” وہ افسوس سے اسے دیکھ رہا تھا اور اب نجف قدرے سنبھل چکی تھی۔ عبداللہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس اپنے کمرے میں آگیا۔

لاؤنج کی صفائی کروا کر نجف واپس اپنے کمرے میں آگئی جہاں پر علشبہ اسکا انتظار کر رہی تھی۔

“ویڈیو شوٹ کی ایش؟” نجف نے واپس آکر اس سے سوال کیا۔

“ہاں کر لی۔!” علشبہ نےکیمرہ اسکے سامنے کیا۔

“گریٹ جاب۔! سمجھتا ہے کہ میں اسے بخش دوں گی ایویں۔”

_____________

“اس رشتے میں اسامہ کی مرضی نہیں تھی میں نے ہی زبردستی کی۔ میں نہیں چاہتی کہ بچے ضد میں کیا گیا رشتہ نبھائیں۔” آسیہ شام میں آئیں تھیں اور اب احسان اظہر کے سامنے اپنی بات کہہ دی جس میں انہوں نے بہت صفائی سے نجف کا حصہ کاٹ لیا تھا۔ احسان اظہر نے ایک نگاہ اپنی بیوی پر ڈالی جو شاید افسردہ تھیں۔

“اچھا کیا وقت پر بتا دیا۔ آپ فکر نہ کریں اس سب سے ہمارے تعلق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ لیکن اب مجھے یہ بھی بتائیں کہ میں نجف کی شادی کہاں کروں گا؟ لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ نجف میں ہی کوئی کمی تھی۔” احسان کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی۔

“آپ اس کا نکاح حماد سے کردیں، ویسے بھی شماس کی شادی نزدیک ہے تو ساتھ ہی کر دیجیے گا۔” آسیہ نے ایک اور بات گڑھی۔ نجف وہیں پر موجود تھی انکار سننے کے بعد وہ وہاں سے اٹھنے ہی لگی تھی کہ عنیزہ نے اسے واپس بٹھا لیا۔ اور اس وقت وہ لاؤنج میں بچھے کارپٹ کو دیکھنے میں مصروف تھی جیسے اس سے ضروری کوئی کام ہی نہ ہو۔ وہ جان چکی تھی کہ یہ حرکت بھی حماد کی ہے مگر وہ اس وقت ضبط کرکے بیٹھی تھی۔ آسیہ کی بات سن کر احسان خاموش ہوگئے۔ “احسان بھائی حماد کو نجف پسند ہے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔” نجف کے لیے وہاں بیٹھنا مشکل ہوگیا تھا نظریں ہنوز زمین پر ٹکی تھیں۔

“ٹھیک ہے پھر شماس کی شادی کے ساتھ ہی انکا نکاح کردیں گے۔” فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔ نجف نے شرم و حیا کو بالائے طاق رکھا اور سامنے بیٹھے حماد کو گھورنے لگی جو پہلے سے اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔

________________

کچھ دیر قبل۔۔۔۔۔

آسیہ مین گیٹ سے ابھی اینٹر ہی ہوئیں تھیں کہ حماد انکے سامنے آگیا۔

“اسلام و علیکم۔” آسیہ نے ایک نظر اس پر ڈالی جو سفید شرٹ پر سیاہ سوئیٹر اور سیاہ رنگ کی جینز ملبوس تھا۔ وہ بلاشبہ نجف کے لیے ایک بہترین انتخاب تھا۔

“وعلیکم اسلام۔؟” آسیہ نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا جو بہت اعتماد سے ہاتھ سینے پر باندھے انہیں دیکھ رہا تھا۔

“خالہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ اٹ ول ٹیک اونلی فائیو منٹس۔ آئیں باہر واک پر چلتے ہیں۔” حماد نے ہاتھ کے اشارے سے گارڈ کو گیٹ کھولنے کا کہا۔ آسیہ ناسمجھی میں اس کے ساتھ چل پڑیں۔ “خالہ۔ میں جانتا ہوں کہ آپ کو نجف بہت پسند ہے اور آپ اسے اپنی بیٹی بنانا چاہتی ہیں علاوہ ازیں آپ نے اپنی یہ خواہش پوری کرنے کا ارادہ بھی کیا ہے۔” حماد بہت ناپ تول کر گفتگو کر رہا تھا۔

“خالہ !! ہم انسان نفرت کے اظہار میں بہت منہ پھٹ ہوتے ہیں مگر جب بات محبت کے اظہار کی ہوتی ہے تب ہم گونگے بن جاتے ہیں۔ میں ایک پریکٹیکل قسم کا آدمی ہوں زیادہ بناوٹ نہیں ہے مجھ میں، چیزوں کو بہت جلدی سر پر سوار کر لیتا ہوں۔” اب وہ اپنے اصل مقصد کی طرف آرہا تھا۔ چلتے چلتے وہ لوگ سوسائیٹی کے پارک کی حدود میں داخل ہوگئے۔ دسمبر کی یخ بستہ ہوا اسکے بالوں کو ماتھے پر بکھیر رہی تھی۔

“میں نجف سے محبت کرتا ہوں !!!” لمحے بھر کو وہاں خاموشی نے سائے گاڑھ لیے، آسیہ نے مڑ کر حماد کو دیکھا جس کی نظریں زمین پر تھیں۔

“میں اس سے بے پناہ پیار کرتا ہوں۔ جس کا میں نے ڈائیریکٹلی (Directly) کبھی بھی اظہار نہیں کیا، لیکن مجھے امید ہے شاید وہ جانتی ہے کہ میرے اندر کیا ہے۔۔۔۔” اس نے سانس اندر کھینچا پھر لب بھینچ لیے۔

“تم نے اسے کیوں نہیں بتایا کیوں نہیں کیا؟” آسیہ کو یہ بات کھٹکی تھی۔

“میں اسے آج سے نہیں چاہتا بہت پہلے سے چاہتا ہوں۔ بعض اوقات رومانس ضروری نہیں ہوتا۔ آپ کا دوسرے کی کئیر کرنا اس کا خیال رکھنا ہی آپ کی محبت دکھاتا ہے۔” حماد کے چہرے پر مدھم مسکراہٹ تھی۔

“حماد تم کرتے کیا ہو؟” آسیہ کچھ سوچ کر بولیں۔

“خالہ میں نے لندن سکول آف اکنومکس سے اپنی سٹڈیز کمپلیٹ کی ہیں، شروع سے ہی انٹرسٹ بزنس میں تھا پھر گریجویشن کے بعد بابا سے ادھار لے کر ایک کمپنی شروع کی اچھا کما لیتا ہوں۔ آفس سے آکر یونیورسٹی میں پڑھاتا ہوں۔ پارٹ ٹائم جاب ہے۔” اسنے مختصر الفاظ میں وضاحت پیش کی۔

“اچھا ہے۔ مگر ایک بات تو بتاؤ حماد تمہارے بابا کا اچھا خاصا بزنس ہے تم نے وہ کیوں نہیں جوئن کیا؟” آسیہ کو وہ لڑکا عجیب لگا، جو اکلوتا ہوکر بھی باپ کی دولت چھوڑ کر خود محنت سے کماتا ہے اور دوسری طرف ان کا اپنا بیٹا جسے موبائیل گیمز سے فرصت نہیں ہوتی۔ انہوں نے لاشعوری طور پر حماد اور اسامہ کا موازنہ شروع کر دیا جس میں انہیں حماد ہر لحاظ سے بہتر ملا۔ آسیہ فیصلہ کر چکی تھیں کہ وہ اب انکار کر دیں گی۔ نجف ان کی مرحوم بہن کی نشانی تھی وہ اس طرح اسکی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتی تھیں۔ اپنے بیٹے کی خامیوں سے وہ اچھے سے واقف تھیں۔

“کیونکہ میں اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔ وہ سب بابا کا ہے میری طرف سے وہ کسی خیراتی ادارے کو دے آئیں۔ میں ان کی ساری زندگی کی محنت کیوں لوں؟” حماد نے آسیہ کو لاجواب کردیا۔

“اب آؤ گھر چلیں۔” آسیہ اسے کہہ کر پلٹ گئیں۔

________________

آسیہ کچھ دیر وہاں بیٹھی رہیں پھر اٹھ کر چلی گئیں۔ سب لوگ لاؤنج سے جب چلے گئے تو نجف ان کے جانے کے بعد صوفے پر ہی نیم دراز ہوگئی۔ حماد شرٹ کی آستینیں چڑھاتا لاؤنج سے گزرا جب اس کی نظر صوفے سے لٹکتے پیروں پر پڑی۔

“یہ کیا ہے؟ کون اتنا بدتمیز ہے کہ صوفے پر ہی سوگیا۔؟ ہونہہ ابھی طبیعت درست کرتا ہوں۔” خود کلامی کرتا وہ آگے بڑھا تو اس کی نظر کمبل میں لپٹے وجود پر پڑی۔

“اوئے! اٹھو یہ کیا طریقہ ہے سونے کا؟” حماد نے ہاتھ بڑھا کر اس وجود کو پوری قوت کے ساتھ جھنجھوڑا۔

“اللہ۔۔۔۔ کیا مصیبت ہے آپ کو؟” اچانک کمبل کو جسم سے الگ کر دیا گیا۔ ظہور پذیر ہونے والا چہرہ دیکھ کر حماد کا دماغ اچھے سے درست ہوگیا۔

“حماد صاحب آپ کے ساتھ کوئی سپیشل پرابلم ہے؟ نہیں بتائیں مجھے؟ یہ شکل کو کیا ہوا ہے کوئی بھوت دیکھ لیا ہے کیا؟” نجف منہ بسورتی اٹھ کھڑی ہوئی چہرے پر خفگی نمایاں تھی۔

“وہ۔۔۔ تم ادھر کیا کر رہی ہو؟” حماد کو اسے دیکھ کر واقعی حیرت ہوئی تھی۔ نجف اس کی بات کا جواب دیے بغیر ہی وہاں سے چلی گئی۔

“حماد !!” عنیزہ کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا۔ وہ سر کو خم دیتا ان کی طرف بڑھ گیا۔

“جی؟” لہجے کو حد درجے تک اس نے نارمل رکھا البتہ دل کی حالت یوں تھیں کہ گویا دھڑکنا ہی بھول گیا ہو۔ حماد جانتا تھا کہ وہ اس سے کس سلسلے میں بات کرنے آئی ہیں۔

“آسیہ نے انکار کر دیا۔” عنیزہ نے دبے دبے جوش سے اسے اطلاع دی۔ حماد کو انہوں نے ہمیشہ ہی دوستوں کی طرح ٹریٹ کیا تھا، ابھی بھی وہ جانتی تھیں کہ حماد صرف اںہیں دکھانے کے لیے ہی سنجیدہ بنا پڑا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *