Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz NovelR50707 Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 03)
Rate this Novel
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 03)
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz
نجف نے یہ طے کرلیا تھا کہ اسے اب کسی سے کوئی بھی دشمنی مول نہیں لینی۔ یہی سوچتے سوچتے وہ حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ نجف نے قدم آگے بڑھائے۔ یہ ایک کشادہ سا لاؤنج تھا جسے خوبصورت فرنیچر سے آویزاں کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ایک خوبصورت کچن تھا جس کے سامنے ڈائینگ ٹیبل رکھا گیا تھا۔ لاؤنج کے دونوں اطراف میں سیڑھیاں تھیں جو اوپر کی جانب جاتی تھیں جہاں بہت سارے کمرے تھے۔ شہناز، ارسلان ملک کے ساتھ لاؤنج میں بیٹھی تھی۔ نجف آگے آئی اور دونوں کو سلام کر کے شہناز کے ساتھ آبیٹھی۔
“نجف تم نے پھر پولیس کو دوبارہ بیان دیا تھا؟” ارسلان ملک نے لہجہ نارمل رکھتے ہوئے اس سے پوچھا۔
“نہیں چاچو۔” نجف نے نارمل انداز میں جواب دیا۔
“ٹھیک ہے بیٹا اندر جاؤ۔ وہ باسکٹ میں چاکلیٹس ہیں کھا لو۔” ارسلان کا موڈ اس کی بات سن کر فریش ہوگیا تھا۔ نجف کے جانے کے بعد ارسلان نے رخ شہناز کی طرف موڑا۔
“امی جان۔” شہناز، نجف کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھیں ارسلان کی آواز پر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔
“احمد بھائی کی پراپرٹی کا کیا کرنا ہے امی؟” جس مقصد کے لیے یہ سارا کھیل رچایا گیا تھا وہ ڈیمانڈ اب ارسلان نے شہناز کے سامنے رکھی۔
“کیا مطلب ہے تمہارا ارسلان؟ اسے ابھی گئے ہوئے دن ہی کتنے ہوئے ہیں اور تمہیں اس کی جائیداد کی فکر پڑ گئی ہے؟ وہ وصیت لکھوا گیا تھا جس میں اس نے اپنی تمام تر جائیداد نجف کو دے دی ہے۔” شہناز کے چہرے سے واضح تھا کہ انہیں اس کی بات حد درجے کی ناگوار لگی ہے۔
“لیکن امی جان نجف کیسے سنبھالے گی اتنا بڑا بزنس؟ ارسلان ملک نے ہوا میں تیر چلایا۔
“اس کے بڑے ہونے تک احسان کمپنی سنبھالے گا۔”
ارسلان نے مٹھیاں بھینچ لیں۔
“تم لوگوں کا کام تو آج ہی تمام کرتا ہوں نا میں۔” یہی سوچتے وہ حویلی سے باہر آگئے۔
“ہاں سجاد تم یہیں ہو جگلوت میں؟” ارسلان نے فوراً سجاد کو فون کیا۔
“یس سر حکم کریں۔” سجاد مستعدی سے بولا۔
ارسلان نے سجاد کو آگے کا سارا پلان بتا کر کال بند کردی۔ ارسلان کے لبوں پر مسکراہٹ تھی جیسے کوئی بہت بڑی چیز فتح کرلی ہو۔
_________________
وہاں سے نکل کر نجف اپنے مطلوبہ کمرے میں آگئی۔ جوتا سلیقے سے اتار کر وہ بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹ گئی۔ تقریباً تیرہ گھنٹے لگاتار سفر کرنے کی وجہ سے اب اسے کافی تھکاوٹ ہوچکی تھی۔ کچھ ہی منٹ بعد وہ سوچکی تھی۔ رات شافیہ اسے کھانے پر بلانے آئیں مگر اسے سوتا دیکھ کر شافیہ کو کچھ تسلی ہوئی۔ اسے سیدھا لٹا کر لائیٹ بند کرکے شافیہ باہر آگئیں۔ رات کے تقریباً دو بجے ہونگے جب نجف نے اپنے چہرہ پر کسی چیز کا دباؤ محسوس کیا۔ نجف جھٹکے سے اٹھ بیٹھی۔ لائیٹ بند ہونے کی وجہ سے وہ اس شخص کا چہرہ نہ دیکھ سکی۔ ابھی وہ خود کو چھڑانے کی سعی کر رہی تھی کہ اس پر غشی طاری ہونے لگی اور وہ وہیں اوندھے منہ بیڈ پر گرگئی۔
اس آدمی نے نجف کو وہاں سے اٹھایا اور اپنے ہمراہ لیے حویلی سے باہر آگیا۔ ہر طرف ہو کا عالم تھا۔ کہیں بھی کوئی ذی روح نظر نہیں آرہی تھی۔ آہستہ سے قدم بڑھاتے وہ نقاب پوش اسے حویلی کے وسیع لان کی حدود سے بھی باہر لے آیا۔ کسی بےجان چیز کی طرح اسے گاڑی میں پھینک کر حملہ آور ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا اور کار سٹارٹ کرکے وہاں سے چل دیا۔ پچھلی سیٹ پر لوہے کی کچھ چیزیں پڑی تھیں نجف کو بےدردی سے وہاں پھینکا گیا جس کی وجہ سے اس کا سر کسی شے سے ٹکرایا اور اس جگہ سے خون رسنے لگ گیا۔
دس منٹ بعد گاڑی گاؤں کے ساتھ موجود ایک جھیل کے سامنے آکر رکی۔ ڈرائیونگ سیٹ سے اترنے والا آدمی سجاد تھا۔ جس نے نجف کو گاڑی سے باہر نکال کر ارسلان ملک کے پیروں تلے لٹا دیا۔ “تمہیں کیا لگتا ہے سجاد؟ اس کو یہیں پھینک کر اسکا کام تمام کردیں؟” ارسلان ملک سگریٹ کے کش لگاتے آگے کی تیاری کر رہے تھے۔
“سر جیسے آپ کہیں” سجاد مستعدی سے فوراً بولا۔
“ٹھیک ہے میں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں تم آجانا پھر۔” حکم صادر کرتے ہوئے ارسلان ملک فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر براجمان ہوگئے۔
ان کے جانے کے بعد سجاد نے گاڑی کی ڈکی سے ایک رسی نکالی اور نجف کے دونوں ہاتھ اور پاؤں باندھ دیے۔ کسی خیال کے تحت سجاد مڑا اسے محسوس ہوا کہ شاید اسے کوئی دیکھ رہا ہے۔ کافی دیر تک نظر درختوں کی جانب مرکوز کیے سجاد دیکھنے کی سعی کر رہا تھا کہ وہاں کوئی حرکت ہوتی ہے یا نہیں۔ نجف کو اب وہ باندھ چکا تھا اور بغیر کسی احساس کے اس نے اسے پانی میں پھینک دیا پھر گاڑی وہاں سے لے کر وہ واپس حویلی آگئے۔ ارسلان ملک بہت خوش تھے کیونکہ اب قانون کے مطابق احمد ملک کی ساری جائیداد ان کی تھی۔ صبح چھ بجے ناشتے کی ٹیبل پر شہناز نے شافیہ کو منع کردیا تھا کہ وہ نجف کو نہ اٹھائے۔ ناشتے سے فارغ ہوکر ارسلان نے چائے کا کپ لبوں سے لگایا۔ چائے پی کر وہ اوپر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئے جب شہناز کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی۔
“ارے نجف؟ ہمیں تو لگا تم سورہی ہو۔” شہناز نے ابھی اس کے سر پر لگی چوٹ نہیں دیکھی تھی۔
“دادو بس باہر گئی تھی۔” اسے واقعی رات میں ہونے والے تمام واقعات یاد نہیں تھے کہ وہ ان لوگوں کے درمیان کیسے پہنچی۔
“آؤ ناشتہ کر لو۔” شافیہ نے اسے کہا مگر اس نے منع کر دیا وہ واپس اپنے کمرے میں آکر سوگئی۔
اس کی آنکھ سر میں شدید درد ہونے کی وجہ سے کھلی۔ اس نے اطراف میں دیکھا کمرہ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا نجف اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلے۔ اسے شدید قسم کی بھوک لگی تھی وہ کچن میں آگئی شافیہ نے اسے کھانا کھلایا۔ تھوڑی دیر بعد وہ اپنی خالہ کلثوم کے ساتھ واپس جارہی تھی۔ یہاں سے اس نے اب لاہور پہنچنا تھا۔ کچھ ہی گھنٹوں بعد کلثوم کی گاڑی حویلی کے باہر کھڑی تھی سب سے مل کر وہ کار میں آکر بیٹھ گئی۔۔ بارہ گھنٹے پھر سے سفر کرنے کے بعد وہ اسلام آباد پہنچے ادھر کچھ دیر ریسٹ کیا پھر نجف کے ماموں نے اس کی اور اپنی ٹکٹس بک کروائیں۔ تقریباً تین گھنٹے انہوں نے اسلام آباد گزارے پھر نجف اپنے ماموں کے ساتھ لاہور آگئی۔ لاہور آنے کے بعد عدنان نے اسے رابیعہ کے گھر چھوڑا اور خود رابیعہ سے مل کر واپس آگئے۔
گھر کے اندر داخل ہوئی تو اسکا سامنا اس سے دو سال بڑے عبداللہ سے ہوا۔ جو ہاتھ میں واٹر گن پکڑے اسی کا انتظار کر رہا تھا۔ نجف نے نا سمجھی کے انداز میں اسے دیکھا اور کچھ ہی پل میں وہ پانی کی شدید بوچھاڑ کی بدولت بھیگ گئی تھی۔۔
“ہیپی برتھ ڈے نجف۔” اچانک عبداللہ چِلایا پانی سے بھرا غبارہ نجف کے اوپر آلگا اور وہ دہری ہوکر گر گئی سنبھلنے کے بعد اس نے ٹیرس پر دیکھا جہاں پر اس کا چھوٹا بھائی سنائپر کا کردار ادا کرتے ہوئے اسے پانی سے بھرے غباروں کی سلامی پیش کر رہا تھا۔
عبداللہ ابھی بھی واٹر گن سنبھالے پاک فوج کا بہادر سپاہی بنے حملہ کررہا تھا کہ آرمی چیف جنرل رابیعہ احسان نے اس کے سر پر چپت لگائی۔
“کیا ہے مما اتنا مزا آرہا تھا” عبداللہ منہ بسورتا اندر کی جانب بھاگ گیا۔ اور نجف اس سب میں پہلی بار ہنسی تھی اس نے مڑ کر ٹیرس پر دیکھا وہاں پر موجود سنائپر بھی فرار ہوچکا تھا۔
“آؤ بیٹا اندر آؤ تمہارے کپڑے چینج کرواؤں۔” رابیعہ نے افسوس بھری نظروں سے اسکا حلیہ دیکھا پھر اسے اندر لے آئیں۔
_______
“نجف واپس کیسے آئی سجاد!؟” ارسلان ملک حلق کے بل چلائے۔
“سر میں نہیں جانتا کہ وہ کیسے آئی۔ میں نے اسے جھیل میں پھینک دیا تھا اس کا بچنا ناممکن تھا میں خود نہیں سمجھ پارہا کہ کیسے ہوگیا یہ سب۔” سجاد خود شاک میں تھا۔
“سر اگر وہ بچ کر آگئی تھی تو آپ اسے مار دیتے۔” سجاد نے کچھ سوچ کر کہا۔
“اتنا بےوقوف نہیں ہوں میں۔ مجھے لگتا ہے اسکے دماغ پر اثر پڑا ہے اسے کچھ نہیں یاد کہ کیا ہوا تھا۔ نہ ہی وہ یہ جانتی ہے کہ میں نے اسے جھیل میں پھینکوایا اگر اسے یاد ہوتا تو میں اسکا کام تمام کردیتا۔” ارسلان نے سجاد کو تفصیل سے آگاہ کیا۔
“تو پھر پراپرٹی؟” سجاد سوال پر سوال پوچھ رہا تھا۔
“وہ ان لوگوں سے لے کر ہی چین لوں گا میں مگر ابھی نہیں۔ پراپرٹی کے تمام تر حقوق نجف کے بڑے ہونے تک امی کے پاس ہیں مجھے بس امی سے سائن کروانے ہیں۔” ارسلان کچھ سوچ کر بولے۔
________________
“نجف بیٹا تم نے کھانا کھا لیا ہے اب جاکر سوجاؤ۔” نجف کو وہاں آئے تیسرا دن تھا۔ رابیعہ اور احسان کی بےلوث محبت پھر اس کے نمونے بھائی ان سب کی وجہ سے وہ کافی حد تک سنبھل چکی تھی۔
“مما چائے بن جائے تو بتا دیجیے گا” عبداللہ اونچی آواز میں اعلان کرکے باہر چلا گیا۔ نجف کو شرارت سوجھی اور ابھی اس نے پرانا حساب بھی لینا تھا۔
“نجف بیٹا تم سوئی نہیں؟” رابیعہ نے اسے کچن میں آتے دیکھ کر سوال پوچھا۔
“نہیں۔ نیند نہیں آئی۔ مما ان میں سے مرچوں والا جار کونسا ہے؟” نجف وہاں پڑی تمام اشیاء کو بغور دیکھ رہی تھی۔
“بیٹا یہ والا لال مرچ کا ہے۔” رابیعہ نے ایک جار اٹھا کر اس کے سامنے رکھ دیا اور کپ میں چائے انڈیلنے لگیں۔
کپ میں چائے رکھ کر وہ باہر عبداللہ کو بلانے گئیں اور وہیں سے کمرے میں چلی گئیں۔ نجف نے وہ جار کھولا اور چار چمچ نکال کر اس نے عبداللہ کی چائے میں ڈال دیے۔ سلیقے سے جار کو اسکی جگہ پر رکھ کر نجف واپس آئی اور سکون کی نیند سوگئی۔
_________________
“بابا! بابا میرے ساتھ چلیں۔” حماد چلاتا ہوا اپنے باپ کے کمرے میں آیا اور انہیں لے کر دوڑتا ہوا واپس جھیل کنارے آگیا۔ وہاں اب کوئی گاڑی نہیں تھی۔
“حیدر کیا ہوا؟” سید حماد علی حیدر اس وقت پریشان حال کھڑا تھا۔
“بابا ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی ہوگی وہ بچی اندر ہے پانی میں اسے باہر نکال لیں پلیز۔” حیدر نے انہیں مختصراً تفصیل سے آگاہ کیا۔ اور سید ثقلین شاہ نے ایک منٹ کی تاخیر کیے بغیر پانی میں چھلانگ لگا دی۔ پورے دس منٹ بعد ثقلین شاہ نے اس بچی کو باہر نکالا جو کہ مکمل طور پر بیحوش تھی۔ باہر ٹھنڈ تھی تو وہ اسے اٹھا کر اندر اپنے ریسٹ ہاؤس کی جانب چل پڑے۔
“بیٹا یہ تو ملکوں کی پوتی ہے۔” جگلوت میں ملک احسن کا بہت نام تھا جس کی بدولت ثقلین شاہ نے فوراً نجف کو پہچان لیا۔
“کیا یہ ٹھیک ہے؟” حیدر نے سوال پوچھا۔
“کچھ دیر تک ہوش آجائے گا ہیٹر آن کردو۔”
تقریباً 1 گھنٹے بعد نجف کو ہوش آیا۔ اسے کچھ یاد نہیں تھا کہ وہ وہاں کیسے آئی اسے بس یہی یاد تھا کہ کوئی رات میں اسکے کمرے میں داخل ہوا تھا اور اس نے اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ ثقلین شاہ نے بھی اسے یہ بتایا کہ اسے انہوں نے جھیل کے اندر سے نکالا تھا۔ بارہ سالہ حیدر نظریں اسی پر مرکوز کیے ہوئے تھا۔
“تمہارا نام کیا ہے؟” حیدر نے اس سے سوال پوچھا۔
“نجف زہرہ نقوی۔ آپ کا نام کیا ہے۔؟
“میرا نام بہت لمبا ہے تم مجھے حیدر کہہ لو ٹھیک۔؟”
“ٹھیک۔” جواب مختصر تھا۔
“مجھے گھر جانا ہے۔” نجف کچھ سوچ کر بولی اس کا سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا۔
صبح کے چار بج رہے تھے نجف نے ان لوگوں کے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔ عنیزہ شاہ نے اسے زبردستی اپنے ساتھ کھلایا۔ تقریباً پانچ پینتالیس پر ثقلین شاہ نے اسے حویلی کے باہر اتارا اور پھر وہ اندر چلی گئی۔ اسے جاتا دیکھ کر وہ واپس اپنے ریسٹ ہاؤس آگئے اور جانے کی تیاری کرنے لگے۔ واپسی پر انہوں نے لاہور جانا تھا حیدر کی چھٹیاں ختم ہونے والی تھیں۔
________________
نجف کی آنکھ ساڑھے چھ بجے کھلی۔ منہ ہاتھ دھو کر وہ باہر آئی اور سب کو سلام کرکے وہاں بیٹھ گئی۔ عبداللہ، اس وقت رابیعہ سے گلے شکوے کر رہا تھا۔
“مما اتنی مرچیں تھیں نا میرا منہ جل گیا۔” عبداللہ افسوس سے سر جھٹکتا کہہ رہا تھا۔
“تو تم پانی ڈال لیتے۔” مسکراہٹ دبائے نجف نے اسے مشورہ دیا جس پر عبداللہ نے اسے گھوری سے نوازا۔
“مما میرا کسی سکول میں ایڈمیشن کروا دیں۔ ” نجف کچھ سوچ کر بولی۔
“میں بھی یہی سوچ رہی تھی۔ بیٹا کچھ دن تک رک جاؤ پھر کوئی اچھا سا سکول دیکھ کر کروا دیں گے۔ اب ون کلاس میں پروموٹ ہونا ہے ہیں نا؟ رابیعہ ذہن پر زور ڈال کر یاد کر رہی تھیں۔
“جی ہاں” نجف نے مختصر جواب دے کر عبداللہ کو دیکھا جس نے دوبارہ چائے کو ہاتھ نہ لگایا۔
________________
شافیہ، شہناز کے کمرے میں بیٹھی تھی جب ارسلان ملک اندر داخل ہوا۔ ہاتھ میں کچھ کاغذات اور ایک قلم تھا۔
“امی ان پیپرز پر سائن کریں۔” ارسلان نے شہناز کو مخاطب کیا۔
“یہ کس چیز کے پیپرز ہیں؟” شہناز نے کاغذات ہاتھ میں نہیں لیے تھے سپاٹ لہجے میں انہوں نے ارسلان سے سوال کیا۔
“سجاد اندر آؤ انہیں پیار سے سمجھاؤ میرا کہا تو سنتی نہیں ہیں یہ۔” ارسلان بلند آواز میں بولا۔ چند ہی لمحوں بعد سجاد اندر داخل ہوا اور شافیہ کے ہاتھ باندھ دیے بائیں ہاتھ میں ایک بوتل تھامے وہ اگلے حکم کا انتظار کررہا تھا۔ شہناز اس ردِ عمل کے لیے تیار نہ تھیں وہ یک ٹک ارسلان کو دیکھ رہی تھیں جس نے اپنی ہی بہن کو نشانہ بنایا۔
“ارسلان یہ کیا مذاق ہے؟” جب کوئی بات نہ بنی تو شہناز نے سرد لہجے میں اس سے سوال پوچھا۔
“یہ تیزاب ہے۔ اور اگر آپ نے پراپرٹی میرے حوالے نہ کی تو اگلے ہی لمحے شافیہ حسن کا خوبصورت چہرہ تیزاب کی زینت ہوجائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے احمد اور سلمیٰ کا حشر ہوا۔ فرق اتنا ہے کہ ان کا چہرہ خون سے بھرا تھا اور شافی کا چہرہ جلے گا۔” یہ کہہ کر ارسلان سامنے بیٹھا اور سجاد کو اشارہ کیا جس پر اس نے شافیہ کے بالوں پر گرفت مضبوط کردی۔ شہناز کو ایک لمحہ لگا تھا اس صدمے سے سنبھلنے میں کہ ان کے بیٹے کا قتل انہی کے دوسرے بیٹے نے کیا۔ ارسلان کو انہوں نے اس کی ماں کی وفات کے بعد اپنے ڈگے بچوں کی مانند ہی پالا تھا لیکن اس نے ثابت کردیا کہ وہ سوتیلا ہے۔
“صرف دنیا کے عیش و عشرت کے لیے تم نے ارسلان اپنی آخرت خراب کرلی؟”
“ماں جی ٹائم نہیں ہے یا سائن کریں یا بیٹی کو مرتا دیکھیں۔”
شہناز جوان بیٹے اور بہو کو کھو چکی تھیں شافیہ کی زندگی میں کوئی بھی طوفان وہ برداشت نہیں کرسکتیں تھیں لہٰذا ایک منٹ کی بھی تاخیر کیے بغیر انہوں نے فوراً سائن کردیے۔ سجاد نے شافیہ کو چھوڑ دیا اور ارسلان کاغذ اٹھاتا وہاں سے باہر آگیا۔
“نجف کا حق تھا وہ امی!” شافیہ مدھم آواز میں بولی۔
“تم زیادہ قیمتی ہو دنیا کی دولت سے شافیہ۔” شہناز کا دل ٹوٹ چکا تھا۔ ارسلان کو سگی اولاد سے بھی بڑھ کر محبت دی گئی تھی مگر وہ اس کا حقدار نہیں تھا۔
______________
نجف اب دس سال کی ہوچکی تھی۔ اس کی ہلکی بھوری آنکھوں میں ہر پل کوئی نہ کوئی شرارت جگمگاتی رہتی تھی۔ بقول اسکے یہ سب اسکے لیے ایک ہابی ہے جسے وہ بخوبی نبھانا اپنا فرض سمجھتی تھی۔
“نجف تمہیں علینہ کی حوصلہ افزائی نہیں کرنا چاہیے تھی۔” علشبہ جو کہ اسکی بچپن کی دوست تھی اس وقت اس کی ماں کا کردار ادا کر رہی تھی۔
“ایوں نہ کرتی اس کی عزت۔ آئی مین دیکھو ایش کیسے وہ مجھے ڈانٹ رہی تھی میں نے تو اسے آرام سے سمجھایا تھا پھر نہیں سمجھی تو یہ دو ہاتھ ہیں نا۔” مونگ پھلی منہ میں ڈالتی وہ علشبہ کو گھور کر بولی۔ نجف کو اس کی کم عقلی پر شدید افسوس ہورہا تھا۔ اس وقت انکی بریک شروع ہوئی تھی اور وہ دونوں سکول کی سب سے خاموش جگہ آکر بیٹھ گئیں تھیں۔ دسمبر کی شروعات تھی اور سردی عروج پر تھی۔ وہ دونوں یونیفارم میں تھیں علشبہ نے سویٹر پہن رکھا تھا کیونکہ وہ سردی کو ہمیشہ دل پر لے لیتی تھی اس وقت بھی اس نے تین سویٹرز زیب تن کیے ہوئے تھے۔ دوسری طرف نجف تھی جس نے سردی سے بچنے کے لیے کوئی بھی شے پہننا ضروری نہیں سمجھا تھا۔ ٹھنڈی ہوا میں نجف پلے گراؤنڈ کے ایک کونے میں سیڑھیوں پر بیٹھی مونگ پھلی کھا رہی تھی جبکہ علشبہ مجبوراً اس کے ساتھ آبیٹھی تھی۔
“نجف تمہیں ٹھنڈ نہیں لگتی؟” علشبہ روز اسے جیکٹ یا سویٹر کے بغیر دیکھ کر اس سے ایک ہی سوال پوچھتی تھی۔
“نہیں لگتی۔” اب علشبہ کی نظر اس کے ہاتھوں سے اس کے چہرے تک کا سفر کر رہی تھی۔ سردی کے باعث اس کے گال اور ناک سرخ تھے کچھ یہی حال کانوں کا بھی تھا۔
“نجف تم بہت کیوٹ ہو۔” علشبہ کچھ لمحوں کے توقف کے بعد بولی۔
“نجف اندر مسز جلیل بلا رہی ہیں۔” مس حرا نے آکر اسے اطلاع دی اور علشبہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
“یس میم میں آرہی ہوں آپ چلیں۔” نجف اٹھ کھڑی ہوئی۔ ناچاہتے ہوئے بھی علشبہ اس کے ساتھ چل پڑی تا کہ وہ پرنسپل کے سامنے کوئی اور “بےوقوفی” نہ کر بیٹھے۔
“May I come in mam?”
وہ دونوں یک زبان ہوکر چلائیں اور یہ انکی عادت تھی۔
“Both of you are already in.”
مسز جلیل نے انہیں شرمندہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ وہ دونوں کلاس کے نمایاں سٹوڈنٹس میں سے ایک تھیں اور سکول کی المشہور ہستیوں میں بھی ان کا شمار پہلے نمبر پر ہوتا تھا خاص طور پر نجف کا۔
“کوئی بات نہیں اپنا ہی گھر ہے۔” نجف نے ایک اونچی سرگوشی کی۔
“جی بیٹا کیا کہا؟” مسز جلیل سن چکی تھیں پھر بھی مسکراہٹ دبائے اس سے دوبارہ پوچھا۔
“وہ نجف کہہ رہی تھی کہ آفس کافی خوبصورت ہے۔” اس کے کچھ بولنے سے پہلے ہی علشبہ بول پڑی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ نجف کا جواب کس طرز کا ہوگا۔
“آپ لوگ تو تقریباً روز آفس آتے ہو پھر خوبصورتی پر آج ہی کیوں غور کیا؟”
“وہ۔۔۔ وہ میں۔۔۔ میم آج غور سے دیکھا ہے۔” نجف اٹک اٹک کر بولی۔
“یہ علینہ والا کیا سین ہے؟” مسز جلیل نے سٹاف ممبرز کو باہر بھیج کر اس سے پوچھا۔
“سین کچھ ایسا ہے کہ۔۔۔” نجف سوچ میں پڑگئی اور علشبہ مدد طلب نگاہوں اسے دیکھ رہی تھی۔
“کہ۔۔۔؟” مسز جلیل نے اسے متوجہ کیا۔
“ہاں وہ ایش جاؤ میرے بیگ سے میری میتھس کی نوٹ بک لے کر آؤ۔” نجف یقیناً سب پلاننگ کرکے آئی تھی۔ علشبہ نے وہاں سے جانے میں ہی غنیمت سمجھی۔ کلاس میں آکر اس نے نجف کے بیگ سے اسکی نوٹ بک نکالی اور واپس آفس میں آگئی۔
“یہ لو نجف۔” علشبہ اسے نوٹ بک تھما کر ایک کرسی پر آبیٹھی۔
“میم یہ دیکھیں کل میں نے اتنی محنت سے ہوم ورک کیا تھا سارا اور علینہ نے اس پر چیونگ گم لگا دی پھر اس نے مجھے Lucifer ( شیطان ) کہا اور علشبہ کو چمچی کہا اب آپ بتائیں میم کیا یہ علشبہ چمچی لگتی ہے کیا؟ کتنی کیوٹ ہے یہ دیکھیں اس کی معصوم شکل۔” ایک ہی سانس میں نجف نے اپنی صفائی پیش کی۔
“مگر تمہیں مارنا نہیں چاہیے تھا بیٹا۔” پرنسپل نے افسوس سے سر جھٹکا۔
