Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz NovelR50707 Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 05)
Rate this Novel
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 05)
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz
نجف شافیہ کے پاس سے اٹھی اور تیزی سے اپنے بابا کے کمرے میں آگئی۔
“بابا!” آج پہلی بار وہ بغیر ناک کیے اندر آئی تھی۔
“یقیناً آپ کو پتا چل گیا ہے۔ اسامہ برا لڑکا نہیں ہے۔” نجف کے ذہن کی سکرین پر اسامہ کی تصویر نمودار ہوئی۔ اور وہ بےیقینی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگ گئی۔
“بابا کیا ہوگیا ہے آپکو؟ مجھے اس سے شادی نہیں کرنی۔” رابیعہ نے نجف کو بیٹھنے کا اشارہ کیا مگر وہ کھڑی رہی۔
“اس سے نہیں کرنی تو پھر کس سے کرنی ہے؟ کسی اور کو پسند کرتی ہو؟ Do you have a boyfriend”
“مجھے بس اسامہ سے شادی نہیں کرنی ہے بابا۔ ہمارے درمیان کوئی انڈرسٹینڈنگ نہیں ہے میں اسے پسند نہیں کرتی اور میں یہ نکاح بھی نہیں کروں گی۔” نجف اپنا فیصلہ سنا کر کمرے سے باہر آگئی تھی۔ بچپن سے لے کر اب تک رابیعہ اور احسان نے اس پر کوئی پابندی عائد نہیں کی تھی اسے آزادی دی تھی پھر یوں اچانک انہوں نے اس پر زمین ہی تنگ کردی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے دروازہ لاک کردیا اور بیڈ پر لیٹ گئی۔ چہرے تکیہ میں چھپا کر روتے ہوئے وہ کب سوئی اسے پتہ نہ چلا۔ شام کے تقریباً چھ بجے نجف کی آنکھ دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز سے کھلی۔ اس نے دروازہ کھولا تو سامنے علشبہ کھڑی تھی اس کے ہمراہ شافیہ بھی تھی۔
نجف کا چہرہ دیکھ کر دونوں کو اندازہ ہوچکا تھا کہ وہ روتی رہی ہے۔
“نجف۔” علشبہ نے اسے شانے سے تھام کر بیڈ پر بٹھایا۔
“پھپھو یہ سب کیا ہے۔” شافیہ کو خود اسکی حالت پر ترس آرہا تھا۔
“ایک فرمانبردار مشرقی بیٹی کا کردار ادا کرو اور ہاں کردو۔” جہاں پر نجف نے چہرہ اٹھا کر شافیہ کو دیکھا وہیں علشبہ بھی ساکت ہوگئی۔ علشبہ جانتی تھی کہ نجف کس کو پسند کرتی ہے۔
“تمہیں پتہ ہے نا نجف کہ احسان بھائی بیمار ہیں اور تم جو انہیں کہہ کر آئی ہو اس کے بعد ان کی طبیعت اور خراب ہوگئی ہے۔ نجف تمہارے پاس انکار کی کوئی مناسب وجہ بھی نہیں ہے۔ ہاں کردو پلیز۔” شافیہ اس کے مقابل بیٹھ گئیں۔
“آپ جاکر کہہ دیں ان سے مگر میں ابھی نکاح نہیں کروں گی صرف منگنی اور یہ ایک لازمی شرط ہے۔” نجف نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔ وہ بچپن سے جسے چاہتی آئی تھی اس نے ایک بار بھی نہیں مڑ کر دیکھا۔
“نجف یار” علشبہ کی آواز پر نجف کے آنسو تھمے۔
“ہاں؟” نجف نے دائیں ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کیے اور اسکی طرف دیکھا۔
“ٹھیک کررہی ہو تم؟” علشبہ پریشان تھی اس کے لیے۔ اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے وہ انہیں گرم کرنے کی کوشش کررہی تھی جو برف سے زیادہ سرد تھے۔
“کس کے لیے لڑوں اپنے پیرنٹس سے بتاؤ مجھے؟ اس کے لیے جسے پرواہ ہی نہیں ہے۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتی کہ وہ مجھ سے پیار کرتا بھی ہے کہ نہیں یا پھر میں ہی یک طرفہ محبت کو سپورٹ کررہی ہوں۔ فرض کرو وہ پاکستان آتا ہے اور اسکے ساتھ اس کی آئیڈیل وائف بھی ہو پھر؟”
“نجف زیادہ سوچ رہی ہو تم۔” علشبہ نے اس کے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیے۔
“میں ٹھیک ہوں یار۔ اب بابا کو دیکھ آؤں۔” اس نے خود کو کمپوز کیا، سر پر دوپٹہ لے کر باہر چلی گئی۔ باہر اسکی خالہ اور ہونے والی ساس اسی کے انتظار میں بیٹھی تھیں۔ نجف نے انہیں سلام کیا اور پھر ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔
“میرے خیال سے مجھے مناسب فنکشن کرنا چاہیے تھا مگر میں ایسے ہی رنگ لے آئی۔” نجف جبراً مسکرائی۔
“مجھے ویسے بھی فنکشنز پسند نہیں ہیں۔” آسیہ نے ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ پکڑا اور اسے انگوٹھی پہنا دی۔ نجف نے ایک بار انگوٹھی کو دیکھا پھر اجازت لے کر وہاں سے آگئی۔ احسان کے کمرے میں داخل ہوئی تو نظر ان پر پڑی جو بیڈ پر لیٹے ٹی-وی دیکھنے میں مصروف تھے۔ آہٹ پر سر اٹھا کر دیکھا تو وہ نجف تھی۔
“آؤ بیٹھو۔” انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے احسان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔
“مجھے معاف۔۔۔” اسے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ اس کے منہ سے بس یہی الفاظ نکلے تھے پھر آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ وہ بہت روئی پھر تھک کر اس نے سر اٹھایا تو احسان اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
“بس اور نہیں رونا۔ مجھے امید ہے کہ اب سب ٹھیک ہوگا۔ کچھ دوست آرہے ہیں میرے آپ جائیں اور جاکر اپنا حلیہ درست کریں ینگ لیڈی۔” وہ مسکرا کر اس سے کہہ رہے تھے۔ اس نے ہاتھ کی پشت سے اپنے آنسو صاف کیے اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ احسان کے کمرے سے نکلتے ہی اس کی نظر سامنے کے منظر پر پڑی۔ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔ سامنے سے ایک لڑکا بلیک کلر کے تھری پیس میں ملبوس رابیعہ سے مل رہا تھا۔ علشبہ کی آواز پر نجف اس کی طرف متوجہ ہوئی جو اب اسے کسی بات کی تفصیل دے رہی تھی۔
________________
حماد نے آنکھوں سے سن گلاسز ہٹائے اور نظر سامنے کھڑی لڑکی پر پڑی۔ سوالیہ نظروں سے رابیعہ کی طرف دیکھا۔
“جو لڑکی بلیک میں ہے وہ نجف ہے اور ساتھ علشبہ ہے۔” رابیعہ نے اس کی نگاہوں کے تعاقب میں دیکھا تو وہاں نجف کھڑی تھی جو علشبہ سے باتوں میں مصروف تھی۔ حماد کے چہرے پر خوشگوار حیرت تھی۔ سفید جلد پر سیاہ شلوار قمیض اور سرخ چہرہ پھر گال پر پڑنے والا گڑھا۔ حماد اسکی جانب بڑھا لیکن تب تک وہ گارڈن میں جاچکی تھی۔ حماد اس کے پیچھے چل دیا۔
________________
علشبہ کی بات سن کر وہ باہر گارڈن میں آبیٹھی۔ اسے آہٹ کا احساس ہوا تو پیچھے مڑ کر دیکھا وہاں حماد کھڑا تھا۔ اسے آتا دیکھ کر وہ وہاں سے جانے کے لیے کھڑی ہوگئی۔
“رکو میری بات سنو۔” حماد نے اسے کلائی سے پکڑ کر واپس سیڑھیوں پر بیٹھا دیا۔
“نجف ناراض ہو؟” نجف نے ایک طرف اپنی کلائی کو دیکھا جو ابھی بھی اس کے ہاتھ میں تھی۔ بالکل ویسے ہی جیسے نو سال پہلے اس نے اسے یونہی تھاما تھا اس وقت وہ ناراض ہوکر چلی گئی تھی مگر اب ںات بدل چکی تھی۔ جو شخص آنکھوں میں دنیا جہان کی معصومیت لیے اس سے ایک بےتکا سوال پوچھ رہا تھا وہ نجف کو بہت عزیز تھا۔ وہ آج بھی ویسا ہی تھا ازل سے بےوقوف۔ جسے یہ ہی نہیں پتا کہ بات کیسے کرتے ہیں۔
“نہیں میں ناراض نہیں ہوں میں پٹاخے پھوڑ ڑہی ہوں ادھر بیٹھ کر۔” نجف ہلکا سا مسکرائی۔ یہ ایک اشارہ تھا کہ وہ ناراض نہیں ہے۔ وہ ہو بھی نہیں سکتی تھی۔
“نجف مجھے کچھ ضروری بات کرنی ہے تم سے۔” حماد اب اصل مقصد کی جانب بڑھ رہا تھا، نجف کی کلائی ابھی بھی تھام رکھی تھی۔
“سن رہی ہوں۔” نجف نے چہرہ دوسری طرف کرلیا یوں بار بار اس کو دیکھنا بہت مشکل کام تھا۔
“نجف میں ایک پریکٹل سا بندہ ہوں۔ تمہیں بہت عرصے سے جانتا ہوں۔ تم سے رابطہ نہیں کر سکا بس غصہ تھا۔ اگر میں نے نہیں بات کی تو تم نے بھی نہیں کی۔ لیکن میں تمہیں بھولا نہیں تھا۔” وہ ایک لمحے کے لیے رکا۔ کلائی پر گرفت اب اور مضبوط ہوچکی تھی۔
“اگر میں یہ کہوں کہ تم مجھے اچھی لگتی ہو پھر؟” نجف کو لگا کہ اسکا دل کسی بھی لمحے دھڑکنا چھوڑ دے گا۔ اس کی دھڑکن بےترتیب ہوگئی تھی۔
“تو اس میں کیا ہے۔ میں ہوں ہی اچھی دیکھیں مجھے جہاں لکھا ہے کہ میں بری ہوں۔” نجف اب سامنے دیوار پر کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھنے میں مصروف تھی۔
“نجف تم مجھے کچھ زیادہ ہی اچھی لگتی ہو۔ میں تمہیں اپنے نام کرنا چاہتا ہوں۔ تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ نجف زہرہ تم سن رہی ہو۔” اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے جذبات کیسے بیان کرے۔
“دیر کردی۔” برداشت سے نجف کی آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں۔
“کیا مطلب دیر کردی؟” حماد اب حیران ہوگیا تھا۔ نجف نے اپنا ہاتھ آگے کیا جس میں اس نے انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ حماد کچھ دیر اس انگھوٹی کو دیکھتا رہا پھر طیش میں آکر اس نے وہ انگوٹھی اتار کر پھینک دی۔ اس نے نجف کو اپنے قریب کھینچ لیا۔
“ہاتھ آگے کرو اپنا نجف۔” وہ غرایا۔ نجف کانپ اٹھی اور اس نے ہاتھ آگے کردیا۔ حماد نے اسے انگوٹھی پہنا دی۔
“میری ایک بات سن لو تم کچھ بھی ہوجائے تم میری ہو ٹھیک ہے؟”
“ہا۔۔۔ ہاں ٹھیک ہے۔” نجف فوراً سے پہلے اٹھی اور اندر چلی گئی۔
دونوں اس بات سے بےخبر تھے کہ آسیہ وہ سب دیکھ چکی ہیں۔
______
“کیا نجف حماد کو پسند کرتی ہے؟” ذہن میں بہت سارے سوال لیے وہ سب کو خدا حافظ کہہ کر وہاں سے روانہ ہوگئیں۔
_____________
“ارسلان یاد ہے؟” نجف شافیہ کے ہمراہ سیڑھیوں میں بیٹھی چائے کے گھونٹ بھر رہی تھی۔ اس سب کے بعد وہ حماد کے سامنے نہیں گئی۔ اس اچانک سے کیے گئے سوال پر نجف نے مڑ کر شافیہ کو دیکھا۔ شافیہ نے اس کی آنکھوں میں جھانکا جہاں نفرت کے سوا کوئی تاثر نہیں تھا۔
“یاد ہے۔” اس جواب پر شافیہ گھبرا گئیں۔ وہ سمجھی تھیں کہ شاید نجف سب بھول کر آگے بڑھ گئی ہے یہ باتیں اسے یاد نہیں ہونگی۔
“نجف تمہارے بابا کا لیپ ٹاپ میرے پاس ہے۔ کورٹ میں کیس کردیں؟ اب ہمارے پاس پاور ہے اس وقت نہیں تھی۔” نجف کی نظریں ابھی بھی چائے کے کپ پر مرکوز تھیں۔ شافیہ کی بات سن کر اسے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔
“شافیہ۔ آپ نے کہا تھا کہ میں اپنا انصاف اللہ پر چھوڑ دوں۔ میں نے چھوڑ دیا۔ اب میں بس انتظار کررہی ہوں کہ کب اللہ اسے آسمان سے زمین پر گرائے گا۔ شافی اب ہم اس بارے میں۔۔۔۔۔۔” نجف ابھی آگے کہنے ہی والی تھی کہ اس کا موبائل بج اٹھا۔ ہاتھ بڑھا کر موبائل پکڑا تو سکرین پر روشن نام دیکھ کر اس کو حیرت ہوئی۔ خود کو کمپوز کرکے اس نے فون اٹھایا۔
“ہیلو نجف! نجف میری بات سنو اگنور مت کرنا بیٹا پلیز۔” نجف کس کا فون ہے۔ اس نے پیچھے مڑ کر شافیہ کو دیکھا۔ اس وقت اس کے چہرے پر جو تھا شافیہ وہ پہچان نہ سکیں۔ بےتاثر چہرہ لیے اس نے اپنے لب ہولے سے ہلائے۔
“ارسلان چاچو کی بیوی۔” اب کی بار شافیہ کو بھی حیرانی ہوئی تھی۔
“نجف سپیکر پر کرو۔” شافیہ کی بات مانتے ہوئے اس نے فون کا سپیکر آن کردیا۔
“جی چچی؟” اسے علیزے کی آواز رندھی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔
“تمہارے چاچو کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے نجف پلیز تم اور شافی آکر ان سے مل لو۔ میں چاہتی ہوں کی جو بوجھ ان کے کندھے پر ہے اسے آکر اتار دو تمہیں خدا کا واسطہ میں ہسپتال کا نام وغیرہ تمہیں ٹیکسٹ کررہی ہوں منع مت کرنا۔” نجف کے چہرے پر نرمی پھیل گئی۔ اس نے دلاسہ دے کر کال بند کردی۔
“شافیہ چلیں میرے ساتھ۔” شافیہ نے کوئی بات نہیں کی خاموشی سے قدم اٹھائے اور اس کے ساتھ گاڑی میں آکر بیٹھ گئیں۔ تمام راستے ان دونوں نے صرف ماضی کی باتوں کو چھیڑا تھا۔ گاڑی اب لاہور کے مشہور اتفاق ہسپتال کے آگے کھڑی تھی۔ گاڑی سے اترتے وقت نجف کا چہرہ بےتاثر تھا۔ وہ سمجھ نہیں پارہی تھی کہ کس طرح ری ایکٹ کرے لیکن اسے دل سے افسوس تھا۔
نجف شافیہ کے ہمراہ اس کمرے میں داخل ہوئی جدھر ارسلان ملک بستر پر لیٹے تھے۔ وہ شخص جو کبھی بہت وقار سے چلا کرتا تھا جس کو خود پر بہت غرور تھا، آج اسے اللہ نے آنکھیں کھولنے سے بھی محتاج کردیا تھا۔ اسکو اللہ نے آسمان سے زمین پر گرایا تھا۔ بےشک اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ نجف کی دعا قبول ہوچکی تھی مگر ہوئی بھی کب؟ اس وقت جب اسکی نفرت ختم ہوگئی یا اس وقت جب تیرہ سال کی نفرت اب ہمدردی میں بدل چکی تھی۔ شافیہ نے ایک نظر ارسلان کے وجود پر ڈالی جو بےسدھ پڑا تھا۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ معذور ہوچکا ہے اس کے ٹھیک ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔ اس وقت کومہ کی حالت میں تھا۔ آنکھیں بھی نہیں کھول سکتا تھا۔ اس کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہی بتاتے تھے کہ وہ مقابل کی بات سن رہا ہے۔ ارسلان نے بہت لوگوں کو رلایا تھا اور اب قدرت نے اس کی تقدیر میں صرف آنسو ہی لکھ دیے تھے۔
“میں نے آپ کو معاف کیا بھائی۔ مجھ سے یہاں اور کھڑا نہیں ہوا جارہا اللہ آپ کے حال پر رحم کرے مجھ میں برداشت نہیں۔۔۔۔ میں چلتی ہوں۔” شافیہ کی آنکھوں میں آنسو تھے اس شخص نے اس کے ساتھ جو کچھ بھی کیا تھا وہ ایک طرف بھلائے شافیہ سے اسکی حالت برداشت نہیں ہورہی تھی۔
نجف شافیہ کے جانے کے بعد آگے بڑھی اور ارسلان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔
“چاچو۔” وہ دیکھ سکتی تھی کہ اس کی پکار پر ارسلان کی آنکھوں سے آنسو نکلے تھے۔
“وقت بہت ظالم ہوتا ہے نا۔ اس وقت میں اور اب آپ۔۔۔۔” اس کی آنکھوں سے آنسو چھلک رہے تھے اس نے ارسلان کے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھ لیے۔
“میں ہمیشہ چاہتی تھی کہ آپ اس کرب سے گزریں جس سے میں گزری ہوں۔ چاچو میں نے بددعا دی تھی آپ کو۔ مجھے معاف کردیں۔ میں نے صبر کر لیا۔” ایک اداس مسکراہٹ اس کے چہرے پر تھی۔ آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ارسلان ملک اپنے وجود سے بےخبر اسے سننے میں مصروف تھے۔ اس وقت ان کے اعصاب پر ایک عجیب سا سکون اور طمانیت تھا۔ نجف نے انکے ہاتھوں پر اپنی گرفت پہلے سے زیادہ مضبوط کرلی۔
“میں ہوتی کون ہوں آپ کو معاف نہ کرنے والی۔ آپ لالچ میں اندھے ہوگئے تھے چاچو۔ مگر، مجھے خوشی ہے کہ آپکو اپنی غلطی کا احساس ہے۔ میں اپنی زندگی میں بہت خوش ہوں۔ اور چاہتی ہوں کہ آپ بھی سب بھول کر آگے بڑھیں۔ جیسے میں بڑھ گئی ہوں۔ میرے پاس آپ کے خلاف بہت ثبوت تھے مگر میں نے وہ مٹا دیے۔ اللہ نے انصاف کیا ہے مگر اب یہ انصاف مجھے تکلیف دے رہا ہے۔ میں آپ سے روز ملنے آؤں گی اور انشاءاللہ آپ بہت جلد اپنے قدموں پر کھڑے ہوجائیں گے۔ میں اب چلتی ہوں.” نجف نے ایک نظر ان کے وجود پر ڈالی۔ ان کا کمبل درست کرکے وہ باہر گاڑی میں آکر بیٹھ گئی جدھر شافیہ اس کا انتظار کررہی تھیں۔ سارا راستہ خاموشی سے طے ہوا دونوں کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ گھر پہنچ کر نجف کی نظر حماد پر پڑی جو شاید اسی کا انتظار کررہا تھا۔ نجف نے ایک نظر اسے دیکھا۔ سیاہ ٹراؤزر پر سیاہ رنگ کی ہی ٹی-شرٹ پہنے، ہلکی بڑھی ہوئی شیو اور بکھرے بالوں کے ساتھ حماد کا وجود بہت پرکشش لگ رہا تھا۔ حماد خود پر پڑنے والی نظریں محسوس کرچکا تھا سامنے ہی “وہ” کھڑی تھی۔ لمحے بھر کو ان دونوں کی نظریں ملیں پھر نجف تیزی سے وہاں سے نکل آئی۔ اپنے کمرے میں آکر اس نے دروازہ بند کرلیا۔
_______________
نجف کی آنکھ صبح دس بجے کھلی تھی۔ آج کل وہ خلافِ معمول بہت دیر سے اٹھتی تھی یہ شاید دن بھر لیے جانے والے سٹریس کا اثر تھا یا کچھ اور یہ چیز اسے کبھی بھی سمجھ نہیں آئی تھی۔ نجف سست روی سے اٹھی پیروں میں سلیپرز پہن کر اس نے واش روم کا رخ کرلیا۔ تقریباً پندرہ منٹ بعد وہ باہر آئی اب کہ اس نے سیاہ فراک زیب تن کر رکھی تھی جس کے نیچے اس نے گاڑھے سرخ رنگ کی جینز پہن رکھی تھی۔ اسی رنگت کا دوپٹہ گلے میں ڈالے وہ آئینے کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ ایک نظر اپنے سراپے پر ڈالنے کے بعد اس نے اپنے باکوں کو کیچر سے آزاد کردیا۔ لمبے بھورے بال کسی آبشار کی صورت اس کی کمر پر گر رہے تھے جن پر سے کچھ لٹیں اس کے سرخ و سفید چہرے کو چھو رہی تھیں۔ اب اسے اپنے بالوں سے جنگ کرنی تھی۔ اسے تقریباً دس منٹ لگے تھے اپنے بالوں کو سیٹ کرنے میں۔ بقول نجف کے وہ اپنے بال کٹوانا چاہتی تھی لیکن ہر بار رابیعہ اسے مرچوں والے ڈنڈے سے کوٹنے کی دھمکی دیتیں جس پر وہ ہنس کر بات اڑا دیتی تھی۔ کمرے سے باہر آکر اس کا سامنا اسامہ سے ہوا اور اس کے چہرے پر ناگواری کے اثرات نمایاں تھے۔
“نجف تم نے اپنے بال کیوں کھولے؟” ماتھے پر شکنیں ڈالے وہ اس سے سوال کر رہا تھا۔ چہرے پر آنے والے بال کانوں کے پیچھے اڑستی نجف یک دم غصے سے لال پیلی ہوگئی تھی۔
“آپ کو کیا ہے میرے بال میری مرضی!” نجف یہ کہہ کر جانے کے لیے مڑی ہی تھی کہ اسامہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ غصے میں کچھ جلی کٹی سنانے ہی والی تھی کہ اس کی نظر پاس پڑے سامان پر پڑی۔ وہاں پر مرچوں کے ڈبے پڑے تھے جن کو یقیناً دوبارہ سے بھرا جانا تھا۔ نجف کے ذہن میں ایک شرارت ابھری اور اس نے ہاتھ بڑھا کر لال مرچیں اپنی مٹھی میں بھر لیں پیچھے مڑ کر اس نے وہی مرچیں اسامہ کی طرف پھینک دیں۔ اسامہ اسکے لمبے بالوں کو دیکھنے میں محو تھا۔ اس اچانک سے کیے گئے حملے نے اسے پریشان کردیا اور اس نے نجف کا ہاتھ جھٹک کر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔ نجف موقع کو غنیمت جان کر وہاں سے نکل آئی۔ لان میں پہنچ کر اس نے اپنی مسکراہٹ دبائی اب اسکا ارادہ رابیعہ کے پاس جانے کا تھا جو سیب کاٹنے میں مصروف تھیں۔ نجف ان کے پاس بیٹھ گئی اور سیب پکڑ کر کھانا شروع کر دیا۔
“نجف میں کاٹ دیتی ہوں۔” رابیعہ نے اسے آفر کی۔
“نہیں آپ اکیلی بیٹھ کر کھائیں ادھر اولاد بھلا بھوکی مر جائے ہونہہ۔ اچھا مما آپ کو ایک مزے کی بات بتاؤں؟” نجف کی آنکھوں میں شرارت نمایاں تھی۔
“ہاں ضرور بتاؤ۔ اب کس کی قسمت ڈوبی۔؟” ان کے سوال پر نجف نے کچھ دیر پہلے ہونے والے تمام واقعات دہرا دیے۔
“نجف تم نے بخشا کیوں نہیں بیچارے کو؟” رابیعہ اس کی تازہ ترین حرکت سن کر کانوں کو ہاتھ لگاتی بولیں۔
“ایسے ہی بخش دیتی مما۔ بڑا آیا مجھے ڈانٹنے والا۔” سیب کھاتی نجف چڑ کر بولی تھی۔ کمر تک آتے لمبے بھورے بال آج اس نے باندھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔
“نجف ایک بات تو بتاؤ۔” رابیعہ کچھ سوچ کر بولیں۔
“یہ تم اتنا بول کیسے لیتی ہو؟” رابیعہ نے اسے چڑھانے کے لیے ایک اور سوال پوچھا۔
“مما۔” یکدم نجف سنجیدہ ہوگئی اور رخ انکی طرف پھیر لیا۔
“میرا منہ میری مرضی۔” جہاں رابیعہ سوچ رہی تھیں کہ یہ کوئی سنجیدہ سا جواب دے گی وہیں نجف اپنا المشہور میری مرضی والا تکیہ کلام بول کر چلتی بنی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اب فلائینگ چپل رسید ہونے لگی۔
