Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 02)

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz

“رابیعہ ہم بائے ائیر جائیں گے یوں ہمیں ایک گھنٹہ لگے گا۔” احسان نے رابیعہ کو مخاطب کیا۔

“مجھے بس جلد از جلد جانا ہے۔ چاہے بائے ائیر یا روڈ۔” رابیعہ کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ ایک طرف عزیز رشتوں کو کھویا تھا اور دوسری طرف انہیں نجف کی ذہنی حالت کی فکر تھی۔ رابیعہ خود بھی ایک ڈاکٹر تھیں اور نروس بریکڈاؤن کے کیا اثرات ہوتے ہیں یہ وہ اچھے سے جانتی تھیں۔ احسان اور رابیعہ سفر پر روانہ ہوچکے تھے چھوٹے دونوں بیٹے عبداللہ اور انس ان کے ہمراہ تھے جب کہ بڑا بیٹا شماس اپنے ماموں کی طرف گیا تھا اور ان کے ساتھ ہی اس نے اسلام آباد آنا تھا۔

_______________

پولیس آفیسرز کے جانے کے بعد نجف پھر سے لیٹ گئی۔ اب اس کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ اس وقت اس کی سوچ کا سارا مرکز ایک لفظ کے ارد گرد گھوم رہا تھا اسے بدلہ لینا تھا۔

ایک سوچ سے دوسری سوچ کا سفر کرتے کرتے اسکی آنکھ کب لگی اسے پتا بھی نہ چلا۔

کچھ لمحوں بعد شافیہ کمرے میں داخل ہوئیں۔ نجف کو سوتا دیکھ کر انہوں نے اسے اٹھانا ضروری نہیں سمجھا۔ اسکا آرام کرنا بہت اہم تھا۔ اس کی دماغی حالت اعصابی خرابی (Nervous Breakdown) کی وجہ سے بہت کمزور ہوگئی تھی۔ شافیہ کچھ ہی دیر پہلے ڈاکٹر راشد سے مل کر آئیں تھیں۔ اس ملاقات میں ڈاکٹر راشد نے شافیہ کو بتایا کہ نجف پر اس نروس بریکڈاؤن کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب غصہ اس کا معمول بن جائے گا اور اسے ہر چھوٹی بات پر پریشانی ہوگی۔ اس سب میں سرِ فہرست ڈپریشن تھا۔ لیکن ڈاکٹر کی کہی گئی باتیں اب تک غلط ثابت ہورہی تھیں۔ بجائے غصہ کرنے کے اس میں پہلے سے زیادہ عاجزی آگئی تھی۔

“پھپھو” شافیہ کی سماعتوں سے اس کی آواز ٹکرائی۔

“جی؟” رخ اس کی طرف موڑ کر اس کے بال ٹھیک کرتے ہوئے شافیہ نے جواب دیا۔

“پھپھو یہ ایکسیڈنٹ نہیں تھا۔” نجف کی سمجھ میں جب کچھ نہ آیا تو اس نے شافیہ کو سب بتانے کا فیصلہ کرلیا۔

“کیا مطلب؟” شافیہ صحیح معنوں میں حیران ہوئی تھیں۔ اور پھر نجف نے من و عن ساری بات دہرا دی۔ اس نے غور سے شافیہ کے تاثرات دیکھے جن پر غم و غصے کے علاوہ نفرت بھی تھی۔

“ہم ریونج کیسے لیں گے؟” نجف کی سوئی ایک ہی جگہ اٹکی تھی۔

“نجف تمہاری عمر کیا ہے؟” شافیہ اب قدرے سنبھل چکی تھیں تو اسے سمجھانے کا ارادہ کر لیا۔

“Almost 6 Years (تقریباً چھ سال)”

“And I will turn into 18 this november (اور میں اس نومبر اٹھارہ کی ہوجاؤں گی۔)

“We’re discussing something else Shafi (ہم کچھ اور بات کر رہے ہیں شافی)”

“نجف اس کے پاس ابھی طاقت ہے۔ ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم اپنا بدلہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم دونوں مل کر ایک بھی ہو جائیں تب اسے سزا نہیں دلوا سکتے۔ یہ پاکستان ہے میری جان۔ ادھر سچ یا جھوٹ نہیں دیکھا جاتا ادھر پیسے سے کام بنتا ہے۔”

“We’re rich enough to compete him ( ہم اتنے امیر ہیں کہ اس کا مقابلہ کرسکیں۔

“Najaf money isn’t a big deal for us. But the main reason is that we are girls.”

( نجف پیسے ہمارے لیے کوئی بڑی چیز نہیں ہیں مگر اہم چیز یہ ہے کہ ہم لڑکیاں ہیں۔”

“تو اس میں کیا ہے؟” نجف سمجھنے سے قاصر تھی۔

“نجف ہماری سوسائٹی میں لڑکیوں کو اتنی آزادی نہیں دی جاتی۔ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ تم اور میں اپنا انتقام دنیا کی عدالت میں دیں گے تو کیا ہوگا؟ کیا ثبوت ہے ہمارے پاس کہ یہ سب ارسلان نے کروایا ہے؟ سب اللہ پر چھوڑ دو۔ تم ابھی بہت چھوٹی ہو کہ اس کا مقابلہ کر سکو۔ بڑی ہوجاؤ۔ ہم اس کے مقابلے پر تب کھڑے ہونگے جب ہمارے پاس وسائل آجائیں گے۔” شافیہ نے اسے سمجھانا چاہا اور ایک حد تک وہ ٹھیک کہہ رہی تھیں۔

“بیان واپس لے لو نجف۔ ثبوت نہیں ہے ہمارے پاس۔” شافیہ کے چہرے پر اداسی تھی۔

“ٹھیک ہے۔” نجف نے چپ سادھ لی۔

“تم رابیعہ ارو احسان بھائی کی بیٹی یو۔” شافیہ چاہتی تھی کہ وہ اس سب سے باہر نکل آئے۔

“جانتی ہوں۔” نجف غیر ارادی طور پر اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔

“تم اب ان کے پاس شفٹ ہوجانا وہ آتے ہی ہونگے اور ڈاکٹرز نے تمہیں ڈسچارج کر دیا ہے اب ہم گھر جارہے ہیں۔ بھائی بھابھی کو ان کے آخری گھر بھی چھوڑ کر آنا ہے۔” شافیہ نے اسے جوتے پہنائے اور اس کا ہاتھ تھام کر اسے باہر لے آئیں۔

“آصم سامان کمرے سے گاڑی میں رکھوا دو۔” ڈرائیور کو حکم دے کر وہ نجف کے ساتھ کار میں آبیٹھیں۔ ہسپتال سے گھر تک کا سفر خاموشی سے طے ہوا۔ شافیہ اور نجف کے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔ ہسپتال سے گھر تک کی مسافت تقریباً آدھا گھنٹہ تھی۔ سفید رنگ کی ہنڈا سٹی اسلام آباد کی ڈیفنس ہاؤسنگ آتھورٹی کے ایک شاندار بنگلے کے سامنے آکر رکی۔

شافیہ نے ابھی تک نجف کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اس گھر کی عورتیں ماڈرن تھیں تب ہی خود کو چادر سے ڈھکتی تھیں۔ انہیں مکمل آزادی تھی لیکن گھر کی حدود تک۔ شافیہ نے اس وقت بھی سیاہ چادر سے خود کو ڈھکا تھا۔ گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہوئے نجف نے ہر چیز غور سے دیکھی تھی۔ اسے گزشتہ رات ہونے والے تمام واقعات یاد آئے۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں اس نے اپنے ماں باپ کے ساتھ اپنی زندگی کے روشن دن گزارے تھے اور پھر ایک ہی رات میں ہر جگہ اندھیرا چھا گیا تھا۔

نجف نے اپنے گھر میں قدم رکھا تھا۔ جس جگہ اس نے اپنی زندگی کے پانچ سال گزارے وہ جگہ اب ایک مکان کی حیثیت اختیار کرچکی تھی۔ گھر تو ختم ہوچکا تھا۔ گھر، گھر والوں سے بنتا ہے اور گھر والے اس سے آنکھیں پھیر کر جاچکے تھے۔ اسے لان میں مردوں کا ہجوم نظر آیا۔ اندر آئی تو سامنے دو میتیں تابوت میں پڑیں نظر آئیں۔ اس ہجوم میں اسے رابیعہ نظر آئیں، اپنی دادی نظر آئیں، چچی بھی وہیں موجود تھیں۔ رابیعہ اسے دیکھ کر آگے بڑھیں اور اسے گلے لگا لیا۔ نجف کا دماغ ماؤف ہوتا جارہا تھا۔ ساری زندگی کسی فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی تھی۔ وہ چپ رہی ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا۔ شافیہ، احمد کی میت کے سرہانے بیٹھیں خاموشی سے آنسو پونچھ رہی تھیں۔ اب کچھ مرد اندر آئے جن میں ارسلان ملک بھی موجود تھا۔ اس کے ماموں اور دیگر رشتےدار بھی اندر داخل ہوئے۔ تب تک نجف کا ذہن تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہ مرد اس کے والدین کی میت اٹھا رہے تھے۔ نجف زہرہ کے سینے میں درد کی لہر اٹھی اور اس نے دیوانہ وار خود کو رابیعہ کی گرفت سے آزاد کروایا۔

“یہ۔۔۔۔ یہ میرے مما بابا ہیں کوئی انہیں کہیں نہیں لے کر جائے گا۔ سب۔۔۔۔ سب برے ہو تم۔۔۔۔۔۔” نجف کی آنکھوں سے دو موتی ٹوٹ کر اس کے گالوں پر گرے تھے۔ شافیہ آگے بڑھیں اور اسے میت سے علیحدہ کر دیا۔ نجف چیخی چلائی مگر شافیہ نے اسے اپنی گرفت سے آزاد نہ کیا۔ اور جب اس کے ماں باپ کی میت گھر سے رخصت ہوچکی تھی تب وہ پھٹ پڑی۔ اتنی مدت سے جو درد اس کے اندر چھپا تھا اس نے آنسوؤں کی صورت بہانا چاہا مگر درد میں کمی نہ آئی۔ شافیہ نے اسے چھوڑ دیا تھا اس نے شکوہ کناں نظروں سے شافیہ کو دیکھا اور شافیہ نظریں چرا گئیں۔ نجف نے چہرہ دونوں ہاتھوں میں دے دیا اور زار و قطار روتی چلی گئی۔

اسے رابیعہ تسلی دے رہی تھیں چپ کروا رہی تھیں مگر ساری کوششیش ناکام تھیں۔ نجف نے اپنا چہرہ اٹھایا تو اس کے پاس رابیعہ موجود تھیں وہ وہاں سے اٹھ کر سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئی رابیعہ بھی اس کے ساتھ چل پڑیں۔ زینے چڑھتے وقت نجف کی سماعتوں سے ایک عورت کی آواز ٹکرائی جو شافیہ کو ایک پلیٹ چاول لانے کا کہہ رہی تھیں۔ اس وقت اسکا غصہ عروج پر تھا۔ وہ کچھ سخت کہنے کے لیے مڑی کے رابیعہ نے اسکا ہاتھ تھام لیا۔

“بیٹا۔ کوئی کسی کا سگا نہیں ہوتا۔ آؤ ہم روم میں چلتے ہیں چھوڑو ان لوگوں کو۔” رابیعہ اسے سمجھاتی اپنے ساتھ لے گئیں تھیں۔

( میں چاہتی تو ناول میں یہ سین ایڈ نہ کرتی لیکن ایسا میں نے ارادی طور پر کیا۔ یہ ہمارے معاشرے کی تلخ حقیقت ہے۔ میں نے خود بھی اکثر خواتین کو فوتگی کے مقامات پر مختلف لوازمات کھاتے دیکھا ہے اس چیز سے ںےنیاز کے مرنے والے کے عزیزوں پر کیا گزر رہی ہے)

نجف خاموشی سے زینے چڑھتی اپنے کمرے میں آگئی تھی۔ گھڑی پر شام کے 6 بجے تھے اور رات سے نجف نے پانی تک نہ پیا تھا۔ رابیعہ اسے کمرے میں چھوڑ کر کچن میں آگئیں وہاں سے انہوں نے نجف کے لیے کچھ چیزیں ٹرے میں رکھیں اور قدم اس کے کمرے کی طرف بڑھائے۔ جب رابیعہ واپس آئیں تو نجف سوچکی تھی۔ انہوں نے اسے سیدھا لٹایا اور اس پر کمبل ڈال کر واپس شافیہ کے پاس آگئیں۔ تقریباً تمام لوگ جاچکے تھے اور جو باقی تھے وہ شہناز ملک سے افسوس کر کے جانے کی تیاری کررہے تھے۔

“رابیعہ۔۔۔۔” تھکن سے چُور لہجے میں شافیہ نے انہیں پکارا۔

“ہاں؟” رابیعہ اب اسکی طرف متوجہ ہوچکی تھیں۔

“میں اور ممی چاہتے ہیں کہ تم نجف کو اپنے ساتھ لاہور لے جاؤ۔

______

“میں اور ممی چاہتے ہیں کہ تم نجف کو اپنے ساتھ لاہور لے جاؤ۔”

“مگر۔۔۔۔” رابیعہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی ان کی بات کاٹ دی گئی۔

“رابیعہ ہم یہ گھر بند کرکے واپس ہویلی جارہے ہیں۔ میں اور ممی ادھر اور نہیں رہ سکتے۔ تم نہیں جانتی مگر خالی گھر کی دیواریں اس میں رہنے والے مکینوں کا نام پکارتی ہیں، جو کہ جاچکے ہیں۔ نجف چھوٹی ہے ابھی اسے ماں باپ کے پیار کی ضرورت ہے جو تم اور احسان بھائی ہی دے سکتے ہو۔ کل کی ٹکٹس بک کروا لو اور نجف کو ساتھ لے جاؤ۔ بات یہیں ختم کرو اب۔”

“ٹھیک ہے۔” رابیعہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس نجف کے پاس آگئیں۔

“تم کیسے اٹھی؟” رابیعہ نے اسے جاگتا دیکھ کر سوال کیا۔

“آنکھ کھلنے سے۔” نجف نے چہرہ موڑ کر انہیں دیکھا جو اس کے انوکھے جواب پر خاموش ہوگئیں۔

“ہم کل صبح واپس جارہے ہیں اور نجف تم بھی ہمارے ساتھ جارہی ہو۔” رابیعہ کو لگا تھا کہ وہ شاید مزمت کرے گی مگر انکا یہ خیال بھی غلط تھا۔

“ٹھیک ہے۔” نجف نے ہاتھ بڑھا کر سامنے پڑی تصویر اٹھا لی، وہ اسکی تیسری پانچویں سالگرہ کی تصویر تھی۔ وہ، احمد اور سلمیٰ بس۔ سر اٹھا کر اس نے رابیعہ کو دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

“نجف پیکنگ کردوں تمہاری؟” رابیعہ نے اپنے اور اسکے درمیان حائل خاموشی کو توڑنے کی آخری کوشش کی۔

“نہیں۔ میں خود کرلوں گی تھینکس۔” جواب مختصر مگر مکمل تھا۔ رابیعہ اس کے کمرے سے باہر آکر شہناز ملک کے پاس بیٹھ گئیں۔

______________

رابیعہ کے جانے کے بعد نجف اٹھی اور احمد کی سٹڈی میں آگئی اندر داخل ہوتے ہی اس کی نظر وہاں پڑے ایک سٹفڈ ٹیڈی پری جس کو خوبصورت طرز سے سجایا گیا تھا۔ نجف کے لبوں پر ایک اداس مسکراہٹ رینگ گئی۔

“تو یہ میرے لیے تھا؟ میں اسے ساتھ لے جاؤں گی اچھا؟” سامنے لگی احمد اور سلمیٰ کی تصویر کو دیکھ کر وہ بڑبڑائی۔ سٹفڈ ٹیڈی کے پچھلے حصے میں موجود ایک زپ کھول کر اس نے اندر سے روئی کے گالے باہر نکالے جن میں سے ایک چابی برامد ہوئی۔ چابی کو اپنی جینز کی جیب میں رکھ کر اس نے روئی کے گالے واپس اندر انڈیلے اور سٹڈی روم میں نصب ایک شیلف کے پاس آکر کھڑی ہوگئی۔

“بابا کا سیکرٹ لاکر۔۔۔۔ کہاں ہوگا؟” خود کلامی کرتی وہ آگے بڑھی اور دیوار کا جائزہ لینے لگی۔

اسے اپنے ماں باپ کی ہر چیز کا علم تھا۔ احمد نے اسے بس اتنا کہا تھا کہ لاکر سٹڈی میں موجود چھوٹے شیلف کے آس پاس ہے۔ اس نے دیوار کو غور سے دیکھا۔ پھر دیوار کے قریب کھڑی ہوکر اس نے ایک کان دیوار کے ساتھ لگایا اور سیدھا ہاتھ آہستہ سے دستک کی صورت دیوار پر مارنے لگی۔ ہر طرف سے ایک جیسی آواز ہی آرہی تھی جس کا مطلب یہ تھا کہ دیوار سیمنٹ کی بنی ہے اس میں کہیں بھی کوئی اور مادہ استعمال نہیں ہوا۔ نجف مایوس ہو کر پیچھے ہٹی اور باہر جانے کی غرض سے دروازہ کھولا پھر ایک خیال کے تحت واپس پلٹی اور شیلف کو دیکھا۔ پانچ خانوں پر مشتمل اس شیلف میں بہت کم کتابیں تھیں لیکن تیسرے خانے میں ایک نکڑ پر بہت سی کتابوں کا مجموعہ تھا جنہیں سلیقے سے سیٹ کیا گیا تھا۔ نجف گھٹنوں کے بل نیچے بیٹھی اور وہ کتابیں ہٹانے لگی۔ ساری کتابوں کو باہر نکالنے کے بعد اس نے اس جگہ کا جائزہ لیا۔ شیلف کے اس حصے میں کتابوں کے پیچھے شیلف کی لکڑی نہیں دیوار تھی اور نجف کا شک یقین میں بدل گیا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر دیوار کے اس حصے کو اچھے سے دیکھا اور جیب سے چابی باہر نکالی پھر کچھ ہی لمحوں کی مشقت کے بعد وہ چابی لاکر میں فٹ کرچکی تھی۔ لاکر کھولنے کے بعد اس نے اندر سے ایک فائل اور ایک لیپ ٹاپ برامد کیا۔ دونوں چیزیں اپنے ہمراہ لیے وہ واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ اس نے ان چیزوں کو اپنے دستی بیگ میں ڈال دیا اور رابیعہ کی تلاش میں کمرے سے باہر آگئی۔

__________________

“آنی میں دو بیگز میں سامان پیک کروں گی۔ ایک بیگ میرا اپنا ہوگا جس میں میری پرسنل چیزیں ہونگی وہ میں کندھوں پر ڈالوں گی اور دوسرا بیگ کپڑوں اور شوز کا وہ آپ کر لیں اسکی پیکنگ۔ دادو میں آپ کے پاس بیٹھ جاؤں؟”

“نجف.” شہناز نے کسی خیال کے تحت اسے پکارا۔

“جی؟” اس نے سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا۔

“رابیعہ کو آنی نہیں مما کہا کرو۔” شہناز اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولیں۔

“اوکے۔ مما پھر آپ پیکنگ کردیں۔” اس نے اثبات میں سر ہلا کر رابیعہ کو مخاطب کیا۔

“اچھا میں کردیتی ہوں۔” رابیعہ نے دروازہ کھولا تو انہیں شہناز نے آواز دی۔

“رابیعہ ایک دو دن رک جاؤ یہیں تم لوگ۔ کل میں اور شافی گلگت جارہے ہیں اپنے گاؤں ہم سوچ رہے تھے کہ نجف کو بھی ساتھ لے جائیں تھوڑا ذہن فریش ہوجائے گا اسکا نیچر میں۔” شہناز کچھ سوچ کر بولیں۔

“چلیں جیسے آپ کی مرضی۔ نجف آؤ کھانا کھاؤ آکر۔ دادو اور شافی کھا چکے ہیں ہم سب نے بھی کھا لیا تم بھی آؤ میرے ساتھ۔” رابیعہ اسے کہہ کر باہر آگئیں۔

“دادو میں کھانا کھا کر سوجاؤں گی آپ بھی سوجائیں ٹھیک؟” بھوری آنکھوں کو سکوڑے وہ شہناز کو گھور رہی تھی۔

“نجف تم چائنیز ہو؟” شہناز نے اچانک ہی سوال پوچھ لیا۔

“آپ لوگ بتائیں کیا مجھے چائنیز ایمبیسی سے اٹھا کر لائے تھے؟” اس نے الٹا ان سے سوال پوچھ لیا۔

“تم اب آنکھیں اتنی چھوٹی کر لو گی تو مجھے تو چائنیز ہی لگو گی نا۔” شہناز کی اس بات کے باوجود بھی اس نے اپنی آنکھوں کو اسی حالت میں رکھا۔

“میں دیکھ رہی ہوں کہ آپ جوان ہوگئی ہیں۔ خیر میں کچن میں جارہی ہوں بائے گڈ نائٹ۔” عجلت میں کہتی وہ چلی گئی۔ کچن میں آنے کے بعد رابیعہ نے اسے کھانا کھلایا اور اسے اس کے کمرے میں سلا دیا۔ رابیعہ کو جب لگا کہ وہ سوگئی ہے تو انہوں نے آہستگی سے دروازہ بند کیا اور واپس گیسٹ روم کی جانب بڑھ گئیں۔ رابیعہ کے جانے کے بعد نجف اٹھ بیٹھی اور کمرے سے نصب ٹیرس نما بالکونی میں آکر بیٹھ گئی۔ ستاروں تکتے جب وہ نیند کی وادی میں اتر گئی اسے علم نہ ہوا۔

“نجف۔” صبح چھ بجے کے قریب شافیہ اس کے کمرے میں داخل ہوئیں۔ بستر پر سے کمبل ہٹایا تو نجف وہاں نہیں تھی۔ شافیہ کو تشویس ہوئی پھر بالکونی کے باہر اس کے سلیپرز دیکھ کر وہ سمجھ گئیں تھیں کہ نجف اندر ہی ہے۔ بالکونی میں قدم رکھتے ہی ان کی نظر نجف پر پڑی جو سو رہی تھی۔ شافیہ نے اسے اٹھایا۔

“نجف اٹھو جانا ہے ہم نے۔”شافیہ کو اسے اٹھانا ٹھیک نہیں لگ رہا تھا مگر اسے شہناز کے حکم کی تعمیل بھی کرنی تھی۔

“جی پھپھو؟” ریسٹنگ چیئر پر نیم دراز نجف نے آہستگی سے آنکھیں کھولیں۔

“جانا نہیں ہے؟” شافیہ نے اسے یاد دلایا۔

“اوہ ہاں۔ آپ چلیں میں آتی ہوں۔” انہیں بھیج کر نجف کرسی سے اٹھی۔ نہا کر کپڑے بدلے پھر واپس اپنے کمرے میں آگئی۔ دستی بیگ جو اس نے رات صوفے پر رکھا تھا اسے اٹھا کر الماری کے اندر رکھ کے وہ گھر کے لان میں آگئی جہاں شہناز اور شافیہ گاڑی میں بیٹھیں اس کا انتظار کر رہی تھیں۔ رابیعہ اور احسان سے مل کر وہ گاڑی میں بیٹھ گئی اور چند ہی لمحوں میں گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی۔ ان تینوں کے درمیان کوئی گفتگو نہ ہوئی اور کسی نے بھی خاموسی کو توڑنے کی کوشش نہ کی۔ اسلام آباد سے جگلوت (گلگت کا ایک شہر) کا سفر 12 گھنٹوں کا تھا اگر آپ سڑک کی طرف سے جائیں تو تقریباً پانچ سو ستائیس کلومیٹر بنتے ہیں۔ جگلوت شہر سے آگے جھیل کے پاس ایک گاؤں میں ان کی حویلی تھی۔ اور یہ علاقہ قدرت کے خوبصورت مناظر کا پیشوا ہے۔

اسلام آباد سے جگلوت، گلگت تک کے سفر میں بہت سے شہر آتے ہیں جن میں راولپنڈی، مانسہرہ، ناران کاغان، ایبٹ آباد اور دیگر مشہور شہر آتے ہیں۔ بارہ گھنٹے میں اس سفر میں ان تینوں کے درمیان ہلکی پھلکی بات چیت ہی ہوئی تھی اس کے علاوہ وہ لوگ کہیں بھی کسی بھی مقام پر نہیں رکے تھے سوائے پیٹرول سٹیشن کے۔ سفر کے دوران نجف کھڑکی سے باہر مختلف جگہوں کو دیکھ رہی تھی۔ گاڑی جگلوت شہر کی حدود میں داخل ہوچکی تھی۔ ڈرائیور نے گاڑی شہر سے آگے کچی سڑک پر ڈال لی۔ کوک کا کین منہ سے لگائے نجف اپنے اطراف کا جائزہ لینے میں مصروف تھی۔

شافیہ کا دھیان اسی پر تھا۔ نجف خود پر نظروں کی تپش محسوس کر چکی تھی پلٹ کر دیکھا تو شافیہ اسے ہی دیکھ رہی تھیں۔

“آپ میرے نوالے گن رہیں ہیں پھپھو؟” اچانک سے کیے گئے سوال پر شافیہ گڑبڑا گئیں۔

“نہیں میں ویسے ہی دیکھ رہی تھی تمہیں۔” شافیہ نے نظروں کا رخ موڑ لیا۔ آدھے گھنٹے کی مسافت پر جگلوت سے آگے ایک گاؤں تھا۔ گاڑی ایک۔کشادہ حویلی کے سامنے آکر رکی۔ نجف دیکھ سکتی تھی مہ وہاں پر کچھ ملازم ان لوگوں کے انتظار میں ہی تھے۔ حویلی کا رقبہ کافی وسیع و عریض معلوم ہوتا تھا۔ کچھ ملازم برف سے ڈھکے لان کی صفائی کرنے میں مصروف تھے۔ سبز گھاس،برف کے سفید ملبے تلے مکمل طور پر چھپ گئی تھی۔ حویلی میں کھڑی ارسلان ملک کی گاڑی نجف کی توجہ اپنی طرف مبذول کروانے میں کامیاب ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *