Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 04)

Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz

“میم میں نے جان بوجھ کر تھوڑی نا مارا تھا۔ آپ کو پتا ہے نا میتھس کتنا مشکل ہے پچھلی بار بھی میں فیل ہوتے ہوتے بچی تھی ہیں نا ؟”

“ہاں بالکل پوزیشن تو میں نے لی تھی کلاس میں ہیں نا نجف؟” مسز جلیل اسے گھور کر بولیں۔

“وہ میم۔۔۔۔۔ وہ تو میں گھر سے دعا کر کے آئی تھی اس لیے۔” نجف اپنی بات مکمل کرکے واپس بیٹھ گئی۔

“تم دونوں کلاس میں جاؤ اور علینہ کو بھیج دو۔” بظاہر ان دونوں کی شکلیں معصوم تھیں لیکن علینہ کا بلاوا سن کر دل کو سکون ملا تھا۔ کلاس میں آکر نجف نے علینہ کو پرنسپل کا پیغام دے دیا اور وہ ہکا بکا سی چل دی۔

“یس میم؟” اندر داخل ہوتے ہی علینہ نے مسز جلیل سے سوال پوچھا۔

“علینہ یہ کیا ہے؟” نجف کی کاپی اس کے سامنے کرتے ہوئے انہوں نے علینہ کو اس کے صفحات دکھائے جن پر چیونگ لگی تھی۔

“میں نے تو بس ایک صفحے پر لگائی تھی یہ اتنی ساری؟” علینہ کی خو کلامی مسز جلیل سن چکی تھیں۔

“یعنی یہ تمہاری ہی حرکت ہے۔” ایک گھنٹے کا لیکچر سن کر وہ باہر نکلی تو اس وقت تک چھٹی ہوچکی تھی۔

“نجف وہ دیکھ علینہ۔” علشبہ کی بات پر نجف پیروں کے بل گھومی علینہ کو دیکھا اور پھر سلیوٹ کرکے باہر آگئی۔

_________________

“احسان ہم یوں تمہارے گھر ایسے اچھا نہیں لگے گا۔” آج صبح سات بجے احسان اظہر کے پرانے دوست اور بزنس کے شیئر ہولڈر اسلام آباد سے لاہور پہنچے تھے۔ ان کے ہمراہ انکا سو

رھلہ سالہ بیٹا اور بیوی ہی تھیں بس۔ رہائش کے لیے انہوں نے ہوٹل کا انتخاب کیا مگر اءسان انہیں زبردستی اپنے گھر لے آئے۔

“جب تک کوئی مکمل رہائش نہ ملے آپ لوگ یہیں رہیں گے۔ اور کوئی بحث نہیں۔” ان کا انداز یوں تھا جیسے کہ اعلان کررہے ہوں۔

__________________

علشبہ اس کے ماموں کی بیٹی بھی تھی۔ اور ایک ہی سوسائیٹی میں رہنے کی وجہ سے وہ ہمیشہ نجف کے گھر ہوتی تھی یا نجف اس کے پاس چلی جاتی تھی۔

“اے!” اپنے مخصوص انداز میں چیونگ چباتے ہوئے نجف نے اسے مخاطب کیا۔

“تھوڑا اور پیار سے بلا لے۔” علشبہ چڑ کر بولی۔

“نہیں پھر تم نے فری ہوجانا ہے۔” نجف مسکرائی۔

“کیا کر رہی ہو مرچی؟” چائے والے سانحے کے بعد عبداللہ اسے اسی نام سے بلاتا تھا۔

“انڈے بیچ رہی ہوں۔” جواب فوراً آیا تھا۔

“کتنے کے کلو ہیں مرچی؟” عبداللہ نے اس کی کتاب چھین لی۔

“عبداللہ انڈے درجنوں کے حساب سے بکتے ہیں!” نجف ہنوز اپنا کام کررہی تھی۔

“مرچی بابا آگئے ہیں مل لو آکر۔” اب کی بار عبداللہ اس کے کان میں چیخنے کے انداز میں بولا۔

“تمہیں نا عبداللہ مسجد کے باہر لگانا چاہیے۔” نجف یہ کہہ کر اٹھ گئی اور علشبہ بھی اس کے ہمراہ چل دی۔ لاؤنج میں داخل ہونے سے پہلے نجف کے قدم رکے۔ اس کی سماعتوں سے کچھ جانی پہچانی آوازیں ٹکرائیں۔

“نجف آج ماموں کے ساتھ کچھ اور بندے بھی آئے ہیں رائٹ؟” علشبہ سرگوشی کے انداز میں بولی۔ نجف ان لوگوں کو پہچان چکی تھی۔ اسے چند ہی لمحے لگے تھے سنبھلنے میں پھر آگے بڑھ کر وہ لاؤنج میں آگئی۔ ثقلین اور عنیزہ نے اسے چند منٹ بعد ہی پہچان لیا۔ ان دونوں کو سلام کر کے وہ واپس مڑی تو اس کا ٹاکرا “اس” سے ہوا۔ نجف کو کچھ سمجھ نہیں آیا تو اس نے سلام کردیا۔

“وعلیکم اسلام۔ میرا نام سید حماد علی حیدر ہے۔” اس پورے جملے میں اس نے لفظ حیدر پر دباؤ دیا۔ ہاتھ ملانے کی غرض سے اس نے ہاتھ آگے کیا تو نجف نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سینے سے لپیٹ لیے۔ اسی وقت نجف کو علشبہ نے بلا لیا تو وہ معذرت کرکے واپس چلی گئی۔

“حیدر کس کلاس میں ہو؟” احسان نے اپنے سامنے بیٹھے حیدر کو مخاطب کیا۔

“انکل اے-لیولز کیا ہے۔” نشست سنبھال کر وہ بیٹھ گیا۔ کچھ لمحے ہونے والی عزت اسے پسند آئی تھی۔

“آگے کا کیا ارادہ ہے؟” چائے کا کپ لبوں سے لگا کر احسان اظہر بولے۔

“آگے تین مہینے ہیں لاہور میں پھر اس کے بعد لندن میں سٹڈیز جاری رکھوں گا۔” حماد کی بات ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ نجف اندر داخل ہوئی اور علشبہ کے ساتھ آبیٹھی۔

“نجف پھر دوبارہ گلگت نہیں آئی تم؟” ثقلین شاہ نے سوال کیا۔

“دوبارہ ٹائم ہی نہیں ملا۔” نجف اپنے ہاتھوں کو دیکھ کر بولی۔

“آپ لوگ کیا ایک دوسرے کو جانتے ہیں؟” اس بار بولنے والے احسان اظہر تھے۔

“ہاں بالکل یہ چھوٹی تھی اس وقت جب ہم گلگت میں ملے تھے حویلی کے سامنے سے گزر رہے تھے تو ان کی دادی مل گئیں۔

“اوہ اچھا ہے۔” احسان خوشدلی سے بولے۔ نجف پھر سے باہر کمرے میں آگئی اور بیڈ پر اوندھے منہ گرنے کے انداز سے لیٹ گئی۔

“ایش میں اس لڑکے کو جانتی ہوں۔” نجف نےبرخ اس کی طرف موڑا۔

“یہ بھائی پیارے ہیں۔” علشبہ کی نظریں باہر تھیں۔

“اوئے!” نجف چلائی۔

“ہاں؟” جواباً علشبہ بھی چلائی۔

“نہیں کچھ نہیں ایسے ہی بلایا تھا”

_______

اگلے دن صبح نجف کی آنکھ دیر سے کھلی۔ رات دیر تک عبداللہ سے تکرار کے باعث وہ سو نہ سکی۔ سست روی سے چلتی ناشتے کی ٹیبل تک آئی تو اسکا سامنا رابیعہ سے ہوا۔

“اسلام ولیکم ممی۔” ایک نظر رابیعہ پر ڈال کر وہ مڑی ہی تھی کہ قدم رابیعہ کی پکار پر پھر رک گئے۔

“نجف!” رابیعہ نے کسی خیال جے تحت اسے پکارا۔

“جی؟” نجف نے سوالیہ نظروں سے انہیں گھورا۔

“بیٹا باقی سب نے ناشتہ کر لیا ہے تم اور حیدر رہتے ہو بس۔ اٹھو شاباش جاؤ اور اسے بھی اٹھا کر لاؤ ناشتہ میں نے لگا دیا ہے۔” رابیعہ اسے کہہ کر برتن لگانے لگ گئیں۔

“مم۔۔ میں؟” شہادت کی انگلی سینے پر رکھے وہ منہ کھولے انہیں دیکھ رہی تھی۔

“نہیں تمہارے فرشتے۔” رابیعہ نے بہت تحمل سے اسے لتاڑا۔

“اچھا جارہی ہوں۔” نجف منہ بسورتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی۔ حیدر کے کمرے کے باہر پہنچ کر اس نے دستک دی لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ کافی دیر تک دستک دینے کے بعد وہ زچ ہوکر اندر آئی۔

“اوئے! اٹھتے نہیں تم۔” اپنے دھیان کہتی وہ اندر داخل ہوئی۔ سامنے حماد کھڑکی کی طرف رخ کیے کانوں میں ہیڈفون ٹھونسے گانے سن راہ تھا۔ کمرے کا منظر دیکھ کر نجف کا پارا ہائی ہوگیا۔

“میں ہوں کہ کب سے گدھوں کی طرح لگی ہوئی ہوں اور یہ صاحب گانے سن رہے ہیں واہ واہ۔” اپنے دھیان کہتی وہ آگے بڑھی ارادہ حماد کو جھنجھوڑنے کا تھا۔ ابھی اس نے ہاتھ آگے بڑھایا ہی تھا کہ حماد نے پلٹ کر اس کی کلائی تھام لی۔

“چوری کرنے آئی ہو۔؟” اپنے سے چھ سال بڑے حماد حیدر کے ساتھ وہ بدتمیزی بھی نہیں کرسکتی تھی۔ “اپنے گھر میں چوری کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی؟” لبوں پر شریر مسکراہٹ لیے حماد اسے زچ کرنے میں مصروف تھا۔ چند لمحوں بعد نجف سنبھل گئی تو اس نے اپنی کلائی کی طرف اشارا کیا اب اسے درد ہونے لگ گیا تھا۔

“کیا؟” حماد پہلے پہل اسکا سگنل نہ لے سکا پھر تھوڑی دیر بعد اس نے اسکی کلائی چھوڑ دی۔

“حیدر بھائی نیچے آکے ناشتہ کرلیں۔” نجف روہانسی ہوگئی تھی یہ کہہ کر وہ پلٹ گئی اور ناشتے کی ٹیبل پر آکر بیٹھ گئی۔

“میرا ہاتھ توڑ دیا ہے۔ آنے دو بابا کو اس حیدر کا نشانِ حیدر بنوا دوں گی۔” اپنے دھیان وہ باتیں کررہی تھی۔ وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ نجف نے ناشتہ اٹھایا اور اپنے کمرے میں آگئی۔ ناشتہ کرکے اس نے برتن کچن کاؤنٹر پر رکھے اور خود جوگرز زیب تن کیے باہر آگئی۔

“کہاں جارہی ہو؟” اسے باہر جاتا دیکھ کر حماد نے اسے آواز دی۔ نجف نے اسے گھورنے پر ہی اکتفا کیا اور وہاں سے باہر آگئی۔

“شاید ناراض ہوگئی چھوٹی بچی ہے میں نے بھی کچھ زیادہ ہی زور سے۔” حماد تقریباً بھاگتا ہوا اس کے پاس آپہنچا۔ اس کا سانس پھولا ہوا تھا۔ نجف اس کی آمد محسوس کرچکی تھی لیکن خاموش رہی۔ بلاک میں اس وقت بہت خاموشی تھی۔ کہیں بھی ٹریفک یا کوئی بھی ذی روح موجود نہ تھی۔

“تم کیا روز یونہی اکیلی گھر سے باہر نکل جاتی ہو؟” ماتھے پر شکنیں ڈالے وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ نجف نے سنی ان سنی کرکے واک کرنا جاری رکھا۔

“نجف میں تم سے بات کررہا ہوں۔!” اب کی بار حماد نے اسے جھنجھوڑا۔

“کیا ہے آپ کو؟ میں کچھ کہہ رہی ہوں؟” نجف کا غصہ اس وقت ساتویں آسمان پر تھا جس کی وجہ سے اس کے کان سرخ تھے۔ حماد اس چیز سے بےنیاز کے وہ سامنے کھڑی چیخ رہی ہے اس کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھنے میں مصروف تھا۔ سفید جلد پہلے ہلکی سرخ ہوئی پھر سرخی ناک اور کان تک پھیل گئی اس کے بعد اسکا چہرہ پورا کا پورا سرخ ہوگیا۔ حماد سمجھ نہیں پایا کہ یہ کوئی سکن چینج ہے یا پھر وہ بلش کررہی ہے؟

“حماد بھائی آپ نے ہاتھ ہی مڑوڑ دیا بچی کا۔” نجف دکھ سے کہہ رہی تھی۔

“وہ آئی ایم سوری۔”

“ہاں ٹھیک ہے معاف کیا۔ لیکن معافی ایسے نہجں مانگتے۔” اب جے نجف سنجیدہ ہوچکی تھی۔

“پھر۔۔۔۔؟” حماد حیدر سوچ میں پڑ گیا۔

“ایک کارڈ ہوتا ہے۔ دنیا میں چاکلیٹ اور پھول بھی ہیں اچھا؟!” نجف نے پھر سے چلنا شروع کردیا

“کل مل جائیں گے۔” حماد ابھی بھی ہنس رہا تھا کیونکہ اسے یہ فرمائش بچگانہ لگی تھی۔

“نجف تمہاری عمر کیا ہے؟” کچھ سوچ کر حماد نے سوال پوچھا۔

“دس سال۔” نجف نے سادہ لہجے میں جواب دیا۔

“واٹ؟” حماد کو شاک لگا۔

“کیا ہوا؟ واٹ تو ایسے کہا ہے جیسے کوئی بھوتنی دیکھ لی ہو۔” نجف آنکھیں سکیڑ کے اسے دیکھ رہی تھی جس کی حرکتیں مشکوک تھیں۔

“نجف تم دس سال کی نہیں لگتی۔ مجھے لگا کہ تم چودہ پندرہ سال کی ہوگی۔” حماد ابھی بھی حیرت کا شکار تھا۔

“مجھے اتنی جلدی بڑے نہیں ہونا۔” نجف ہلکا سا مسکرائی۔

“مگر کیوں؟” حماد دلچسپی سے اسے سن رہا تھا۔

“کیونکہ۔۔۔ وہ۔۔۔ مجھے شادی نہیں کرنی!” نجف سنجیدگی سے بولی۔

“مگر کیوں؟” حماد نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو کیا اور پھر اس سے اس کی وجہ پوچھی۔

“کیونکہ میں اپنی چیز شئیر نہیں کرتی بیڈ پر تو میں لیٹنے نہ دوں۔ میں کسی کی قسمت کیوں خراب کروں۔” نجف کے چہرے پر سنجیدگی جے عناصر نمایاں تھے۔

“ہاں بالکل۔ اب آؤ گھر چلیں۔”

_______________

اگلے دن حماد اسکی چاکلیٹس اور پھول لے آیا تھا۔ ان کے درمیان ایک حد تک انڈرسٹینڈنگ بن چکی تھی۔ نجف اس سے اٹیچڈ تھی اور یہ بات سب جانتے تھے۔ تین مہینے گزر چکے تھے اور حماد کے جانے کے دن بھی قریب تھے۔ نجف اس بات سے بےخبر تھی کہ اسے واپس جانا ہے۔

“احسان آپ کو نہیں لگتا نجف اداس ہوگی.”

“کل اس نے جانا ہے رات کی فلائیٹ ہے۔ نجف کو پہلے سلا دینا۔” احسان نے بہت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔

“ٹھیک ہے۔” رابیعہ ابھی بھی تذبذب کا شکار تھیں۔

______

“نجف کھانا ختم کرو اور سوجاؤ۔” رابیعہ اس کے سرہانے بیٹھی تھیں اور اسے زبردستی کھانا کھلانے کی سعی کررہیں تھیں۔

“نہیں ابھی حیدر کے ساتھ باہر جانا ہے۔” نجف نے آخری نوالہ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔

“صبح چلی جانا ابھی سوجاؤ حیدر تھکا ہوا ہے۔” رابیعہ نے بمشکل اسے سلایا اور خود باہر آگئیں۔ عنیزہ اور ثقلین سب سے مل کر گاڑی میں بیٹھ چکے تھے جبکہ حماد ابھی رابیعہ کے ساتھ کھڑا تھا۔

“میں تمہیں اس سے ضرور ملنے دیتی مگر پھر وہ ضد کرتی اور تمہیں جانے سے روکتی۔” رابیعہ کو اسے سمجھانے کے لیے موضوع الفاظ نہیں مل رہے تھے۔

“اٹس اوکے آنی۔ اب میں چلتا ہوں۔ اپنا خیال رکھیں اللہ حافظ۔” حماد مسکرا کر کہتا چلا گیا۔

“ہاں خدا حافظ۔” رابیعہ کچھ دیر اسے جاتا دیکھتی رہیں پھر واپس چلی گئیں۔

_________________

اتوار کا دن تھا اور گھر کے ہر فرد پر سستی چھائی ہوئی تھی۔ نجف گیارہ بجے اٹھی اور منہ ہاتھ دھو کر آہستگی سے چلتی حماد کے کمرے کے باہر آئی۔ ہاتھ میں پانی کا غبارہ تھا جسے اس نے اس کے سر پر پھوڑنا تھا۔ آہستہ سے کمرہ کھول کر وہ اندر داخل ہوئی۔ اس نے اسے سارے گھر میں دیکھا پھر یہ سوچ کر کہ شاید وہ اپنے کمرے میں ہوگا، نجف کے قدم حماد کے کمرے کی جانب بڑھے۔ اندر داخل ہوئی تو وہ کمرے میں نہیں تھا۔ واش روم کا دروازہ ناک کیا مگر وہاں سے بھی جواب ندارد۔

“صبح صبح کدھر چلا گیا یہ۔” نجف مایوس ہوکر باہر جارہی تھی کہ اسکی نظر ڈریسنگ پر پڑے پھولوں اور گفٹس پر پڑی۔

“اب یہ کیا ہے۔” نجف نے ہاتھ بڑھا کر وہ چیزیں تھام لیں۔ پھولوں کے درمیان ایک کاغذ تہہ شدہ حالت میں پڑا تھا۔ نجف نے وہ کاغذ کھولا جس میں چند سطور درج تھیں جن کا مدعا کچھ یوں تھا :

“سوری نجف۔ تم بھول گئی شاید کہ مجھے تین مہینے بعد جانا تھا۔ اور آج رات میری فلائیٹ ہے۔ میں لندن جارہا ہوں۔ کچھ سال بعد واپس آؤں گا۔ تم سے مل کر نہیں گیا معافی چاہتا ہوں۔”

نجف نے آگے پڑھنے کی زحمت نہیں کی۔ حماد کی چیزیں وہیں پڑیں تھیں۔ وہ تہہ شدہ کاغذ اور تحائف لے کر واپس اپنے کمرے میں آگئی اور انہیں الماری میں رکھ دیا۔

“یہ تب کھولوں گی جب تم واپس آؤ گے۔” خود کلامی کرتی وہ وہاں سے اٹھی اور ڈائنینگ پر بیٹھ گئی۔

“نجف وہ حیدر۔۔۔” رابیعہ اسے اطلاع دینے ہی والی تھیں کہ وہ انکی بات کاٹ کر بول پڑی۔

“ممی میں جانتی ہوں۔ اور مجھے ناشتہ دے دیں۔” نجف شائستگی سے کہہ کر گلاس میں پانی انڈیلنے لگ گئی۔ رابیعہ کو لگا تھا کہ اس کا ری ایکشں اچھا خاصا برا ہوگا لیکن وہ آرام سے ناشتہ کررہی تھی۔ رابیعہ کو فون کی گھنٹی نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ سکرین پر حماد کا نام جگمگا رہا تھا۔ رابیعہ نے فون اٹھا لیا۔ یک طرفہ گفتگو سے نجف اندازہ لگا چکی تھی کہ فون کس کا ہے۔

“نجف حماد سے بات۔۔۔۔۔۔۔” رابیعہ اپنی بات مکمل کر ہی رہیں تھیں کہ وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔ دوسری طرف حماد کو یقین تھا کہ اسے وہ نوٹ مل چکا ہے پھر بھی یہ رویہ وہ ہرٹ ہوا تھا اور اس دن کے بعد سے اس نے نجف سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار نہیں کیا۔ نجف نے بھی اس سے بات کرنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ اکثر اسکا خیال ضرور آتا تھا لیکن پھر انا غلبہ پالیتی۔

_______________

حماد کو گئے اب 9 سال ہوچکے تھے۔ نجف کو اسکی کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کیسا ہے اور کہاں ہے۔ گھر میں بھی دانستہ طور پر حماد کا ذکر نہیں کیا جاتا تھا۔

“نجف باہر شافیہ آئی ہے!” رابیعہ نے بہت موضوع الفاظ میں اس کے سر پر بم پھوڑا تھا۔ شہناز کی وفات کے بعد نجف کی شافیہ سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ اور اب اس کے یوں آنے سے نجف کو حقیقت میں خوشی محسوس ہورہی تھی۔ وہ صوفے سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔

“شافی!” نجف جاکر اس سے لپٹ گئی۔

“بچی بڑی ہوگئی۔” شافیہ نے ایک نظر اسکے وجود پر ڈالی۔ نجف نے سیاہ رنگ کی شلوار کمیز پہن رکھی تھی۔ بال جوڑے کی شکل میں باندھے تھے۔ آدھے بال بندھے ہوئے تھے اور باقی کمر پر تھے۔ اب نظر بالوں سے چہرے پر گئی تو واپس آنا بھول گئی۔ اسکی آنکھیں اب بھی ویسی تھیں لیکن اس وقت ان میں کافی سرخی تھی۔

“شافی!” نجف کو اسکی نظریں عجیب لگیں۔

“ہاں بہن؟” جواباً شافیہ بھی اسی کے انداز میں بولیں۔

“بہت دن بعد آئی اب بھی نہ آتی۔!” نجف اسکے ساتھ آبیٹھی۔

“شماس کی شادی ہے اٹینڈ تو کرنی ہی ہے۔ ساتھ میں تمہارا بھی تو نکاح ہے۔” نجف کی مسکراہٹ سمٹ آئی۔

“میرا نکاح؟ مگر۔۔۔ کس سے؟” نجف اٹھی اور تیزی سے اپنے ماں باپ کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔

_______________

عنیزہ ناشتہ کرنے میں مصروف تھیں جب وہ کچن میں داخل ہوا۔ سیاہ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں ملبوس حماد کافی فریش نظر آرہا تھا۔

“تمہیں نہیں لگتا کہ اب تمہاری شادی ہوجانی چاہیے۔” کافی کا کپ میز پر رکھتے انہوں نے بات کا آغاز کیا۔

“آف کورس ہوجانی چاہیے لیکن مما کس سے کریں گی؟” حماد نے کافی کا کپ لبوں سے لگایا۔

“نجف سے۔” عنیزہ نے بہت سنجیدگی سے کہا جس پر حماد نے کافی کا کپ واپس میز پر رکھ دیا۔

“نہیں۔! نجف مجھ سے بہت چھوٹی ہے۔” اسے منع کرنے کے لیے یہی بہانہ ملا تھا۔

“تمہارے بابا مجھ سے گیارہ سال بڑے ہیں اور تم لوگوں کا اتنا ایج ڈفرنس نہیں یے۔ کیا تم اسے پسند نہیں کرتے بتاؤ!” عنیزہ کو اس کی بات چبھی تھی۔

“مما میں اتنے عرصے سے اس سے نہیں ملا۔” حماد اب اصل بات پر اتر آیا۔

“حماد کل کی ٹکٹس بک کرواؤ ہم پاکستان جارہے ہیں۔ وہاں نجف سے مل بھی لینا اور اسے اچھے سے دیکھ بھی لینا۔ یقیناً تمہیں وہ اچھی لگے گی۔” عنیزہ اٹھ کر باہر چلی گئیں۔

“مما مجھے بہت پہلے سے پسند ہے وہ۔!” حماد کافی کا کپ ختم کرکے اپنے کمرے میں آگیا اور اوندھے منہ بیڈ پر لیٹ گیا۔

“نجف زہرہ کبھی ذہن سے نکل بھی جایا کرو۔” ہاتھ میں تصویر لیے وہ اس سے باتیں کررہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *