Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz NovelR50707 Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 01)
Rate this Novel
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar (Episode 01)
Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz
“تمہیں کیا لگتا ہے سجاد؟ اس کو یہیں پھینک کر اسکا کام تمام کردیں؟” ارسلان ملک سگریٹ کے کش لگاتے آگے کی تیاری کر رہے تھے۔
“سر جیسے آپ کہیں” سجاد مستعدی سے فوراً بولا۔
“ٹھیک ہے میں گاڑی میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں تم آجانا پھر۔” حکم صادر کرتے ہوئے ارسلان ملک فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر براجمان ہوگئے۔
___________
“نجف کی تو سالگرہ آرہی ہے۔ تو پھر کیا گفٹ چاہیے میری بیٹی کو؟” سلمیٰ نے محبت سے بھرپور لہجے میں اپنی پانچ سالہ بیٹی کو دیکھا جو اب ٹھوڑی پر انگلی رکھے بیٹھی تھی۔
“امم ممی۔ اس بار آپ مجھے ایک بڑا سا ٹیڈی گفٹ کیجیے گا۔”بہت سوچ بچار کے بعد نجف کسی نتیجے پر پہنچی تھی۔ سرخ و سفید رنگ، اٹھی ہوئی مغرور ناک، کشادہ پیشانی اور ہلکی بھوری آنکھوں کی مالک نجف، سلمیٰ کو بہت عزیز تھی۔ سلمیٰ اور ان کے شوہر احمد ملک اولاد جیسی عظیم نعمت سے محروم تھے۔ یہ انہی دنوں کی بات تھی جب سلمیٰ اپنے علاج کے لیے میں اسلام آباد سے لاہور اپنی بہن رابیعہ کے گھر آئیں تھیں۔ رابیعہ کو اللہ نے تین بیٹوں کے بعد بیٹی جیسی نعمت سے نوازا تھا جس کا نام ان کے شوہر احسان اظہر نے نجف زہرہ رکھا تھا۔ اس کی پیدائش کے تین روز بعد رابیعہ پر یہ انکشاف ہوا کہ انکی بہن بانجھ ہے۔ رابیعہ نے اپنی بہن کی پریشانی دور کرنے کے لیے نجف کو ان کے سپرد کردیا۔ یہ فیصلہ ان کے لیے آسان نہ تھا مگر بہن کی محبت کے سامنے بیٹی کی محبت اثر نہ کر سکی۔
سلمیٰ کی سوچوں کا تسلسل احمد کے فون کی گھنٹی نے توڑا۔
“وعلیکم سلام۔ ہاں ہم بس پہنچنے والے ہیں۔” احمد چونکہ ڈرائیونگ کررہے تھے تو عجلت میں باتوں کا جواب دیتے گئے۔
نجف کی آنکھ تب کھلی جب اچانک گاڑی ایک موڑ پر آکر رک گئی۔
“واٹ؟ وہ پھر سے آیا تھا؟ کوئی نقصان تو نہیں پہنچایا اس نے؟” احمد کا چہرہ غصے سے سرخ ہوگیا تھا۔ سلمیٰ کو یہ جاننے میں سیکنڈ سے بھی کم وقت لگا تھا کہ اس گفتگو میں “وہ” سے مراد کون ہے۔ جبکہ دوسری طرف نجف بہت دھیان سے اپنے بابا کے تاثرات کا جائزہ لے رہی تھی۔
“سلمیٰ ہمیں واپس گھر جانا ہے۔ نجف بیٹا بابا آپکو پھر کبھی مری لے جائیں گے اوکے؟”
“اوکے بابا” نجف جانتی تھی کہ احمد پریشان ہیں اسی لیے اس نے ضد کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس کا مزاج ویسے بھی صلح پسند تھا وہ بہت کم ہی ضد کیا کرتی تھی۔
ابھی گاڑی بمشکل آدھا راستہ ہی طے کر پائی ہوگی کہ سامنے سے ایک ٹرک آتا ہوا دکھائی دیا جس پر احمد نے گاڑی سڑک کے دوسری جانب کرلی۔
“عجیب پاگل ہے ون وے روڈ پر چلا آرہا ہے سامنے سے۔”
احمد ابھی موبائل پر نمبر ملانے میں مصروف تھے کہ سلمیٰ کی آواز ان کے کانوں سے ٹکرائی نگاہوں کا رخ موڑ کر سلمیٰ کو دیکھا تو اتنی دیر میں وہی ٹرک ان کی کار سے آلگا۔ اس وقت احمد کو کچھ سمجھ نہ آیا وہ بس گاڑی کو کنٹرول کرنے کی سعی کرتے رہے۔
سلمیٰ یکدم حواس باختہ ہوگئیں اور انہوں نے فوراً نجف کو خود میں سمیٹ لیا۔ سلمیٰ کو اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی وہ بس نجف کو بچانا چاہتی تھیں۔ اور ایسا ہی ہوا اس حادثے میں احمد اور سلمیٰ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ نجف کو ہوش آنے میں کچھ وقت لگا۔
آدھا گھنٹہ بیت چکا تھا۔ تھوڑی سی کوشش کرنے کے بعد نجف سلمیٰ کی گرفت سے نکل آئی تھی۔ لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر نجف کو اپنا دماغ ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
سٹیرنگ سے سر لگائے احمد کا سرد وجود ساکت تھا جیسے انکے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی نہ رہی ہو۔
“بابا۔۔۔۔ بابا اٹھ۔۔۔ اٹھیں سید۔۔ ھے ہوں۔” پانچ سالہ نجف جسے شاید ابھی زندگی کا صحیح مطلب سمجھ نہیں آیا تھا وہ موت کو کیا پہچانتی۔ اپنے ننھے ہاتھوں سے اس نے اپنے بابا کا چہرہ سیدھا کیا۔ ان چہرہ خون سے تر تھا۔ نجف کو اپنی آواز کسی خلاء سے آتی محسوس ہورہی تھی۔ رخ موڑ کر ماں کو دیکھا تو انکا جسم بھی بےجان ہوچکا تھا۔ اس نے سلمیٰ کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی، آوازیں دی لیکن جواب ندارد تھا۔ بہت دیر یونہی کوشس کرنے اور رونے کے بعد نجف بھی بیحوش ہوچکی تھی۔
___________
“احسان، شافیہ کا فون ہے۔” رابیعہ ناشتے کے ٹیبل سے برتن اٹھاتیں عجلت میں کہہ رہیں تھیں۔ دوسری طرف احسان اظہر کی ٹائی سیٹ نہیں ہورہی تھی۔
“احسان! شافیہ کا فون ہے آپ سن کیوں نہیں رہے؟” اب کی بار رابیعہ تھوڑا اونچا بولیں تو احسان نے مڑ کر انہیں دیکھا
“آپ اٹھا لیں۔” اس سے پہلے کہ احسان مزید کچھ کہتے رابیعہ نے فون اٹھا لیا۔
“اسلام علیکم شافیہ کیسی ہیں آپ؟”رابیعہ نے خوشدلی سے انہیں سلام کیا لیکن شافیہ کی روتی آواز سن کر انہیں شاک لگا۔
“رابیعہ، بھائی اور بھابھی کا کل ایکسیڈنٹ ہوا ہے ایک ٹرک نے ہٹ کیا ہے اور ڈرائیور فرار ہوگیا۔ صبح ایک پولیس آفیسر نے گاڑی دیکھی تو اندر سے بھائی اور بھابھی کی ڈیڈ باڈی اسے ملی اس نے ایمبولینس کو بلایا اور پھر تحقیق کر کے ہمیں کال کی گئی۔ رابیعہ اسے نجف بھی بیحوش حالت میں ملی۔” شافیہ ملک نے روتے ہوئے رابیعہ کو ساری تفصیل بتا دی۔ دوسری طرف احسان اظہر حیران تھے کہ ایسی کیا بات ہوئی کہ رابیعہ رو رہی ہیں۔ انہوں نے رابیعہ سے فون لیا لیکن کال ڈسکنیکٹ ہوچکی تھی۔
“رابیعہ مجھے کچھ تو بتاؤ کیوں رو رہی ہو کیا ہوا ہے؟” احسان فکرمندی سے اپنے سامنے بیٹھی رابیعہ کو دیکھ کر گویا ہوئے جس کے آنسو تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
“احسان ہم اسلام آباد جارہے ہیں ابھی۔” رابیعہ کے حلق سے بمشکل آواز نکلی تھی۔
“مگر رابیعہ کیوں؟ ایسے اچانک جانا۔۔۔ سب خیریت ہے؟”اس سوال پر رابیعہ نے روتے ہوئے ساری باتیں دہرا دیں۔
“سب ٹھیک ہوجائے گا ہمت کرو تم۔ جاکر سامان پیک کرو۔”
_______________
“بیٹا اب آپ کی کیسی طبیعت ہے؟” اسے ہوش میں آتا دیکھ کر ڈاکٹر جاوید نے اس سے اس کی حالت پوچھنا چاہی۔
“میرے پیرنٹس کہاں ہیں ڈاکٹر؟” نجف نے ذہن پر زور ڈالا تو اسے اپنے باپ اور اپنی ماں کی حالت یاد آئی۔
“پھپھو آپ بتائیں کہاں ہیں وہ!” اب کی بار وہ چیخ کر بولی۔ جواب میں شافیہ حسن اٹھیں اور اس کے بال ٹھیک کرنے لگیں۔ نجف کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر شافیہ نے انہیں باری باری چوما۔
“نجف انکی ڈیتھ ہوگئی اس ایکسیڈنٹ میں وہ اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔” شافیہ مضبوط اعصاب کی مالک تھیں انہوں نے نجف سے کچھ بھی نہ چھپایا اور اسے سب بتا دیا۔ نجف نے خاموشی سے آنکھیں موند کر دوسری طرف کروٹ لے لی۔ شافیہ جانتی تھیں کہ وہ رو رہی ہے مگر انہوں نے اسے خاموش نہیں کروایا۔
“نجف بیٹا۔ جتنا رو سکتی ہو رو لو۔ جو آنسو آنکھوں سے ادا ہوتے ہیں ان سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے لیکن جو دل پر گِر جائیں وہ ساری زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔” شافیہ یہ بات کہہ کر کمرے سے باہر آگئیں جب کہ نجف آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے اپنے ماں باپ کے ساتھ گزرا ہر لمحہ اس وقت بہت قیمتی لگ رہا تھا۔
___
نجف کی زندگی میں ایک بہت بڑا طوفان آیا تھا جو سب کچھ اپنے ساتھ لے گیا سوائے ہمت کے۔ اسے اچھے سے یاد تھا کہ سلمیٰ اور وہ کتنے دنوں سے اسکی چھٹی سالگرہ کی تیاریاں کرنے میں مصروف تھے۔ ٹھیک تین دن بعد اسکی سالگرہ تھی مگر جان سے بھی عزیز ماں باپ اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس وقت اس کا ذہن کئی سوالوں میں الجھا ہوا تھا۔
“بابا نے جب کار سڑک کی دوسری جانب لگا لی تھی تو پھر بھی وہ ٹرک سامنے کیوں آیا؟” یہی سوال بار بار اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔
“نجف بیٹا بس اور نہیں رونا ٹھیک ہو جائے گا سب پھپھو ہیں نا آپ کے ساتھ۔” شافیہ اسے گلے سے لگا کر بولیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی ہیں۔ آنکھوں سے ایک بار پھر اشک جاری ہوگئے تھے۔
“پھپھو میں نہیں روئی۔” نجف کی نگاہیں سامنے دیوار پر نصب تھیں۔
“نجف اپنے آنسو اندر نہ اتارو رو لو بھڑاس نکال لو اپنے دل کی۔” شافیہ نجف کے لیے بہت پریشان تھیں۔
“پھپھو آنسو آتے ہی نہیں پھر میں کیسے روؤں؟” اس نے سر اٹھا کر شافیہ کی طرف دیکھا اور شافیہ کا دل بھر آیا۔ شافیہ نے باری باری اسکی آنکھیں چوم لیں۔
“ابھی پولیس آفیسرز آئیں گے۔ بیٹا آپ نے انہیں سب بتانا ہے جو آپ کے ساتھ ہوا ہے کل رات۔ میری بیٹی نے زیادہ پریشان نہیں ہونا ٹھیک ہے؟ آپ نے سچ سچ جواب دینا ہے انکل کو۔” شافیہ، نجف کو ان سوالات سے دور رکھنا چاہتی تھیں جن سے اسے تکلیف پہنچے مگر پولیس بذد تھی۔ شافیہ حسن کے مطابق یہ صرف ایک حادثہ تھا لیکن انکا یہ خیال بہت جلد غلط ثابت ہونے والا تھا۔
“بیٹا اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟” پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے اور ان میں سے ایک قریب پڑے صوفہ پر بیٹھ گیا۔ اب آفیسر اس سے سوالات کرنا چاہ رہا تھا تو اس نے شافیہ کو اشارے سے باہر بھیج دیا۔
“میں؟” ہاں ٹھیک ہوں پہلے سے۔” نجف کی نظریں ابھی بھی دیوار پر ٹکی تھیں۔
“بیٹا میں جانتا ہوں کہ آپ کا نقصان بہت بڑا ہے۔ اللہ آپکو اور آپ کے گھر والوں کو صبر دے گا۔ آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ ایسا ہوتا رہتا ہے آپ بھی جلد ہی بھول جائیں گی۔” آفیسر جاوید اپنی ہی دھن میں کہہ رہے تھے اس چیز سے بے نیاز کہ انکی آخری دو باتیں نجف کو بری طرح سے چبھی تھیں۔
“آپ نے کچھ سوال پوچھنے تھے؟” اب کی بار نجف نے رخ موڑ کر آفیسر کو گھورا۔ پہلے آفیسر حیران ہوا نجف کی آنکھوں کا رنگ ہلکا بھورا تھا مگر ان میں کشش بہت تھی۔ آفیسر تذبذب کا شکار ہوا پھر سنبھلتے ہوئے اس نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا۔
“نجف۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ کے دوران کیا ہوا تھا؟” آفیسر نے ایک نوٹ بک اور قلم نکال لیا یعنی اس کا بیان ریکارڈ ہونا تھا۔
نجف ایک لمحے کے لیے رکی سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے کیا کہنا ہے۔ اسے سلمیٰ کی باتیں یاد آئیں۔
“نجف اگر کبھی تمہارے ساتھ کچھ برا ہو تو تم اپنے حق کے لیے کھڑی ہونا بیٹا۔ تمہارے بابا کی جان کو بہت خطرہ ہے۔ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بابا نے اور میں نے ایک وصیت تیار کی ہے جس میں ہمارے بعد سب کچھ تمہارا ہے۔ اگر کبھی ہمیں کچھ ہوجائے تو تم وہ پیپرز بابا کے سیکرٹ لاکر سے نکال کر رابیعہ کو دے دینا۔ ایک اور چیز!” سلمیٰ نے کبھی اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا۔ نجف کو انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ان کی بہن کی بیٹی ہے۔
“اور دوسری چیز کیا مما؟” نجف ابھی بھی حیرت میں مبتلا تھی۔
“بیٹا تمہارے چچا ارسلان! ان سے دور رہنا وہی ہیں جو جو بابا کو مارنا چاہتے ہیں۔” نجف دیکھ سکتی تھی کہ سلمیٰ کی آنکھوں میں فکرمندی کی جگہ خوف در آیا ہے۔
“مس نجف۔” آفیسر کو محسوس ہوا کہ وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہے۔
“ہاں ہممم؟” نجف پہلے چونکی پھر خود کو چند ہی لمحوں میں ٹھیک کر لیا۔
“بیان لکھوا دیں۔” آفیسر نے اب کی بار زور دے کر کہا۔
“سر اس رات۔۔۔۔۔۔۔” نجف نے ابھی اپنی بات کا آغاز کیا ہی تھا کہ دروازے سے ارسلان ملک اندر آتا ہوا دکھائی دیا۔
“نجف میری بیٹی۔ تم پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوجائے گا۔” چہرے پر مصنوعی فکرمندی سجائے ارسلان نجف سے مخاطب ہوا اور اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔
“سر پلیز برا مت مانیے گا مگر ہمیں ان سے اکیلے میں بیان ریکارڈ کروانا ہے آپ باہر انتظار کریں۔
“آفیسر جاوید کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ سیدھی سی بات ہے ایکسیڈنٹ تھا بیان کس چیز کا لینا ہے نجف بھی نہیں دینا چاہتی اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔” ارسلان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے جو نجف کی عقابی نظروں سے اوجھل نہ ہوسکے۔
“آفیسر میں بیان لکھوانا چاہتی ہوں کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک قتل ہے۔” پانچ سال کی بچی سے ایسے الفاظ سن کر انسپیکٹر جاوید کو حیرت کا جھٹکا لگا اور دوسری طرف ارسلان ملک جنہیں لگا کہ نجف ایک بچی ہے بھول جائے گی ان کی یہ غلط فہمی بہت غلط وقت پر منفی ثابت ہوئی۔ انہوں نے اب کچھ نہ بول کر ہی غنیمت جانی۔
“بیان لکھوائیں۔” آفیسر کو وہ بچی عام بچوں کے مقابلے میں بہت غیر معمولی لگی تب ہی آفیسر نے اسے سنجیدگی سے سننے کا تہیہ کر لیا۔
“چار دن بعد میری برتھ ڈے ہے میرے بابا نے مجھ سے پرامس کیا تھا کہ مجھے مری لے کر جائیں گے۔ انہوں نے اپنا وعدہ پورا بھی کرنا تھا پر زندگی نے وقت نہ دیا۔” نجف اداسی سے مسکرائی اور بات جاری رکھی۔
“ہم رات کے وقت گھر سے نکلے تھے کیونکہ بابا دیر سے آئے تھے۔ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ بابا کو کال آگئی انہوں نے کار سائیڈ پر لگائی اور یکدم انہیں غصہ آگیا۔” نجف کی نظریں اپنے ہاتھوں پر تھیں جو خالی تھے۔
“آپ کے بابا نے کالر کو کیا جواب دیے تھے؟” آفیسر کو یہ کیس دلچسپ لگ رہا تھا۔
“بابا کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ ہمارے گھر میں کوئی آیا ہے جس نے بابا کے کسی ورکر کو تھریٹ کیا۔ چونکہ یکطرفہ گفتگو تھی تو میں یہی سن سکی۔” اب کی بار نجف نے رخ موڑ کر ارسلان کی جانب دیکھا۔ ارسلان کو ایک لمحے کے لیے لگا کہ جیسے وہ سب جانتی ہے۔ اسے انہوں نے جتنا آسانی سے لیا تھا وہ ان کے لیے اتنی ہی مشکلیں ڈالنا چاہ رہی تھی۔ ارسلان اب خود کو ملامت کررہے تھے کہ اسے بھی مروا دیتے ساتھ ہی۔ ہسپتال کے اس وی-آئی-پی روم میں اس وقت جتنی خاموشی تھی اتنی کسی شہرِ خاموشاں میں بھی نہیں ہوگی۔ سب چہرے نجف کے بولنے کا انتظار کررہے تھے۔ کچھ ہی لمحوں بعد اس کی آواز کمرے میں گونجی۔
“اس کے بعد بابا نے مجھے کہا کہ انہیں ایمرجنسی ہے اس لیے ہم لوگ پھر کبھی مری چلے جائیں گے۔ گاڑی پھر سے ٹریک پر آگئی۔ اب کی بار ہم تینوں میں سے کوئی بھی نہیں بولا تھا پھر کچھ دیر بعد سامنے سے ایک ٹرک آتا نظر آیا۔” نجف لمحے بھر کو رکی۔ آنکھیں سرخ ہوچکی تھیں مگر آنسو ان میں سے ایک بھی آنسو نہ نکلا۔
“اور سب سے ضروری چیز آفیسر جس روڈ پر سے ہم گھر جارہے تھے وہ ون وے تھا اور ٹرک سامنے سے آرہا تھا۔ If you know what I mean” نجف کی نگاہیں اب سامنے لگے فانوس پر مرکوز تھیں۔
“بابا نے اسے اگنور کر دیا اور سڑک کی دوسری جانب گاڑی موڑ لی۔ مگر ٹرک ڈرائیور پھر سے سامنے آگیا اور کار سے ٹکرا گیا۔”نجف نے آنکھیں موند لیں۔ وہ سارے مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے تھے۔ کیسے اس کے باپ نے گاڑی کنٹول کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔ کیسے اس کی ماں نے اسے خود میں سمیٹ لیا اور اپنے ماں باپ کا خون سے تر سرد وجود۔۔۔۔۔ تکلیف سے اس کی آنکھوں کی سرخی اور بڑھ گئی۔
“نجف تمہیں کسی پر شک ہے؟” آفیسر بیان قلم بند کرچکا تھا۔
“ہاں مجھے شک ہے۔ اور ہاں میں آپ سے اتنی فرینک نہیں ہوں مجھے ‘آپ’ کہیں!” نجف نے انہیں ٹوکا۔ جس پر وہ صرف مسکرا کر رہ گئے۔
“جی ٹھیک ہے مس نجف زہرہ نقوی!” اب کی بار وہ مسکراہٹ دبائے بولے۔
“آپ مسکراتی نہیں ہیں؟” آفیسر کے لبوں پر تپا دینے والی مسکراہٹ تھی۔
“آپ واپس جارہے تھے؟ نجف بھی اپنے نام کی ایک تھی۔
“جی وہ جا رہا ہوں۔” آفیسر اٹھا تو ارسلان ملک بھی اٹھ کر چلے گئے۔
