Ishq Se Junoon Tak Ka Safar by Minhal Nawaz

"بیٹا اب آپ کی کیسی طبیعت ہے؟" اسے ہوش میں آتا دیکھ کر ڈاکٹر جاوید نے اس سے اس کی حالت پوچھنا چاہی۔
"میرے پیرنٹس کہاں ہیں ڈاکٹر؟" نجف نے ذہن پر زور ڈالا تو اسے اپنے باپ اور اپنی ماں کی حالت یاد آئی۔
"پھپھو آپ بتائیں کہاں ہیں وہ!" اب کی بار وہ چیخ کر بولی۔ جواب میں شافیہ حسن اٹھیں اور اس کے بال ٹھیک کرنے لگیں۔ نجف کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر شافیہ نے انہیں باری باری چوما۔
"نجف انکی ڈیتھ ہوگئی اس ایکسیڈنٹ میں وہ اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔" شافیہ مضبوط اعصاب کی مالک تھیں انہوں نے نجف سے کچھ بھی نہ چھپایا اور اسے سب بتا دیا۔ نجف نے خاموشی سے آنکھیں موند کر دوسری طرف کروٹ لے لی۔ شافیہ جانتی تھیں کہ وہ رو رہی ہے مگر انہوں نے اسے خاموش نہیں کروایا۔
"نجف بیٹا۔ جتنا رو سکتی ہو رو لو۔ جو آنسو آنکھوں سے ادا ہوتے ہیں ان سے دل کا بوجھ ہلکا ہوتا ہے لیکن جو دل پر گِر جائیں وہ ساری زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔" شافیہ یہ بات کہہ کر کمرے سے باہر آگئیں جب کہ نجف آہستہ سے اٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسے اپنے ماں باپ کے ساتھ گزرا ہر لمحہ اس وقت بہت قیمتی لگ رہا تھا۔
نجف کی زندگی میں ایک بہت بڑا طوفان آیا تھا جو سب کچھ اپنے ساتھ لے گیا سوائے ہمت کے۔ اسے اچھے سے یاد تھا کہ سلمیٰ اور وہ کتنے دنوں سے اسکی چھٹی سالگرہ کی تیاریاں کرنے میں مصروف تھے۔ ٹھیک تین دن بعد اسکی سالگرہ تھی مگر جان سے بھی عزیز ماں باپ اس کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ اس وقت اس کا ذہن کئی سوالوں میں الجھا ہوا تھا۔
"بابا نے جب کار سڑک کی دوسری جانب لگا لی تھی تو پھر بھی وہ ٹرک سامنے کیوں آیا؟" یہی سوال بار بار اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔
"نجف بیٹا بس اور نہیں رونا ٹھیک ہو جائے گا سب پھپھو ہیں نا آپ کے ساتھ۔" شافیہ اسے گلے سے لگا کر بولیں۔ یوں لگتا تھا جیسے اس سے زیادہ خود کو تسلی دے رہی ہیں۔ آنکھوں سے ایک بار پھر اشک جاری ہوگئے تھے۔
"پھپھو میں نہیں روئی۔" نجف کی نگاہیں سامنے دیوار پر نصب تھیں۔
"نجف اپنے آنسو اندر نہ اتارو رو لو بھڑاس نکال لو اپنے دل کی۔" شافیہ نجف کے لیے بہت پریشان تھیں۔
"پھپھو آنسو آتے ہی نہیں پھر میں کیسے روؤں؟" اس نے سر اٹھا کر شافیہ کی طرف دیکھا اور شافیہ کا دل بھر آیا۔ شافیہ نے باری باری اسکی آنکھیں چوم لیں۔
"ابھی پولیس آفیسرز آئیں گے۔ بیٹا آپ نے انہیں سب بتانا ہے جو آپ کے ساتھ ہوا ہے کل رات۔ میری بیٹی نے زیادہ پریشان نہیں ہونا ٹھیک ہے؟ آپ نے سچ سچ جواب دینا ہے انکل کو۔" شافیہ، نجف کو ان سوالات سے دور رکھنا چاہتی تھیں جن سے اسے تکلیف پہنچے مگر پولیس بذد تھی۔ شافیہ حسن کے مطابق یہ صرف ایک حادثہ تھا لیکن انکا یہ خیال بہت جلد غلط ثابت ہونے والا تھا۔
"بیٹا اب آپ کی طبیعت کیسی ہے؟" پولیس اہلکار اندر داخل ہوئے اور ان میں سے ایک قریب پڑے صوفہ پر بیٹھ گیا۔ اب آفیسر اس سے سوالات کرنا چاہ رہا تھا تو اس نے شافیہ کو اشارے سے باہر بھیج دیا۔
"میں؟" ہاں ٹھیک ہوں پہلے سے۔" نجف کی نظریں ابھی بھی دیوار پر ٹکی تھیں۔
"بیٹا میں جانتا ہوں کہ آپ کا نقصان بہت بڑا ہے۔ اللہ آپکو اور آپ کے گھر والوں کو صبر دے گا۔ آپ نے پریشان نہیں ہونا۔ ایسا ہوتا رہتا ہے آپ بھی جلد ہی بھول جائیں گی۔" آفیسر جاوید اپنی ہی دھن میں کہہ رہے تھے اس چیز سے بے نیاز کہ انکی آخری دو باتیں نجف کو بری طرح سے چبھی تھیں۔
"آپ نے کچھ سوال پوچھنے تھے؟" اب کی بار نجف نے رخ موڑ کر آفیسر کو گھورا۔ پہلے آفیسر حیران ہوا نجف کی آنکھوں کا رنگ ہلکا بھورا تھا مگر ان میں کشش بہت تھی۔ آفیسر تذبذب کا شکار ہوا پھر سنبھلتے ہوئے اس نے سوالات کا سلسلہ جاری رکھا۔
"نجف۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ کے دوران کیا ہوا تھا؟" آفیسر نے ایک نوٹ بک اور قلم نکال لیا یعنی اس کا بیان ریکارڈ ہونا تھا۔
نجف ایک لمحے کے لیے رکی سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اسے کیا کہنا ہے۔ اسے سلمیٰ کی باتیں یاد آئیں۔
"نجف اگر کبھی تمہارے ساتھ کچھ برا ہو تو تم اپنے حق کے لیے کھڑی ہونا بیٹا۔ تمہارے بابا کی جان کو بہت خطرہ ہے۔ کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بابا نے اور میں نے ایک وصیت تیار کی ہے جس میں ہمارے بعد سب کچھ تمہارا ہے۔ اگر کبھی ہمیں کچھ ہوجائے تو تم وہ پیپرز بابا کے سیکرٹ لاکر سے نکال کر رابیعہ کو دے دینا۔ ایک اور چیز!" سلمیٰ نے کبھی اس سے کچھ نہیں چھپایا تھا۔ نجف کو انہوں نے یہ بھی بتا دیا تھا کہ وہ ان کی بہن کی بیٹی ہے۔
"اور دوسری چیز کیا مما؟" نجف ابھی بھی حیرت میں مبتلا تھی۔
"بیٹا تمہارے چچا ارسلان! ان سے دور رہنا وہی ہیں جو جو بابا کو مارنا چاہتے ہیں۔" نجف دیکھ سکتی تھی کہ سلمیٰ کی آنکھوں میں فکرمندی کی جگہ خوف در آیا ہے۔
"مس نجف۔" آفیسر کو محسوس ہوا کہ وہ ذہنی طور پر کہیں اور ہے۔
"ہاں ہممم؟" نجف پہلے چونکی پھر خود کو چند ہی لمحوں میں ٹھیک کر لیا۔
"بیان لکھوا دیں۔" آفیسر نے اب کی بار زور دے کر کہا۔
"سر اس رات۔۔۔۔۔۔۔" نجف نے ابھی اپنی بات کا آغاز کیا ہی تھا کہ دروازے سے ارسلان ملک اندر آتا ہوا دکھائی دیا۔
"نجف میری بیٹی۔ تم پریشان نہ ہو سب ٹھیک ہوجائے گا۔" چہرے پر مصنوعی فکرمندی سجائے ارسلان نجف سے مخاطب ہوا اور اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔
"سر پلیز برا مت مانیے گا مگر ہمیں ان سے اکیلے میں بیان ریکارڈ کروانا ہے آپ باہر انتظار کریں۔
"آفیسر جاوید کیا تم جانتے ہو میں کون ہوں؟ سیدھی سی بات ہے ایکسیڈنٹ تھا بیان کس چیز کا لینا ہے نجف بھی نہیں دینا چاہتی اسکی حالت ٹھیک نہیں ہے۔" ارسلان کے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمایاں تھے جو نجف کی عقابی نظروں سے اوجھل نہ ہوسکے۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *