Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hijab (Last Episode)Part 1,2

Hijab by Amna Khan

۔

“بولا تھا نا میں نے آپکو جلدی نکلیں مگر آپ لوگ میری نہیں سنتے ۔۔۔یہاں سب مجھ سے پہلے پہنچ گے ہیں اور میں ابھی آئی ہوں”

فضہ نے گاڑی سے اُترتے ہوئے وہاں موجود سب کو باہر کھڑا دیکھا ۔۔۔۔۔وہاں اُس کی کلاس سمیت کئی سٹوڈنٹس اور بھی تھے ۔۔۔۔وہ غصہ ہوتے ہوئے اپنے ماں باپ کی طرف مڑی ۔۔۔۔جو کسی کام کے تحت گھر سے تھوڑا لیٹ نکلے تھے ۔۔۔

۔

“فضہ آپ ابھی آئی ہیں ؟ ہمیں تو لگا تھا آپ اندر ہوں گی زرمینہ کے پاس “

وہ گاڑی سے اُترتے ہی سب کے پاس گئی ۔۔سب وہاں مین گیٹ کے باہر ہی کھڑے تھے جیسے کوئی دھرنا دے رہے ہوں ۔۔اُس کو آتا دیکھتے ہی سب حیران ہوئے ۔۔۔۔اُس کی دوست اور اُن کے بعد آئی ہے ۔۔۔

۔

“جی بس راستے میں گاڑی خراب ہو گئی تھی “

اُس نے سر کو جھکائے ہوئے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔ویسے بھی وہ جلد از جلد زرمینہ کے پاس پہنچنا چاہتی تھی ۔۔۔وہ وہاں کھڑے ہونے پہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔

۔

“آپ لوگ یہاں باہر کیوں کھڑے ہیں ؟”

اُس نے سب پہ سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھا ۔۔

“یار وہ پرنسپل صاحب گے ہیں پرمیشن لینے ..جیسے ہی اجازت ملتی ہے ہم اُن دونوں کو دیکھنے چلے جائیں گے “

۔

“دونوں کو ؟ مطلب کن دونوں کو ؟ “

اُس کی بات پہ فضہ نے چونکتے ہوئے اسکو دیکھا ۔۔جیسے وہ اُس کی بات کا مطلب نہ سمجھ پائی ہو

“تمہیں نہیں پتا سر وجی کا ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔وہ اِس ہوسپشل میں ایڈمٹ ہیں ۔۔۔اور بہت کریٹیکل کنڈیشن میں ہیں”

ماہ نور نے ایک بار پھر اسکو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔

۔

“نہیں مجھے تو نہیں پتا کہ سر کا ایکسڈنٹ ہوا ہے ۔۔میں یونی نہیں گئی تھی “

اُس نے ایک بار پھر اُس کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے کہا ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے زرمینہ کی زندگی کا سب کو پتا ہو سوائے اُس کے ۔۔۔سب اُس کو دیکھنے پہلے پہنچ گے ہوں اور وہی لیٹ ہو …

۔

“چلو میں اندر جاتی ہوں انکو دیکھنے “

“فضہ ملاقات کا ٹائم ختم ہو گیا ہے اب اندر نہیں چھوڑ رہے کسی کو آپ بھی پرنسپل صاحب کا ویٹ کریں ۔۔وہ آتے ہیں تو ہم سب ساتھ چلے جائیں گے “

۔

“کیا مطلب ؟ اندر نہیں چھوڑ رہے اب؟”

اُس نے چونک کے اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔ایسے کیسے ہو سکتا ہے وہ زرمینہ کے اتنے پاس ہو اور وہ اسکو دیکھ نہ سکے ۔۔”ایسا کیوں ہو رہا ہے میرے ساتھ اللہ جی “

اُس نے ایک نظر آسمان پے ڈالی اور دوسری اپنے ماں باپ پہ۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“زرمینہ گُل میری بچی کیسی ہو تم اب “

دادی اماں نے اُس کے زرد رنگ کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔

۔

“ٹھیک ۔۔۔ٹھیک ۔۔۔ہوں اماں جی “

ہلکی سی آنکھیں کھولے اُس نے ایک جملے کو ٹکڑوں میں بانٹ کے بیان کیا ۔۔۔جیسے وہ ابھی بلکل ہوش میں نہ ہو درد کی شدت اتنی زیادہ ہو کہ وہ بول نہ سکتی ہو .

۔

“رقیہ میری بچی کا بہت خیال رکھنا “

اب کی بار دادی اماں نے پاس بیٹھی بہو کی طرف دیکھا ۔۔۔جو اپنی بیٹی کو ایسے دیکھ رہی تھیں جیسے پہلے انہوں نے کبھی اسے نہ دیکھا ہو ۔

۔

“جی اماں میں بہت خیال رکھوں گی ۔۔۔۔اللہ نے میری بچی کو ایک نئی زندگی دی ہے”

انہوں نے آنکھوں کی نمی کو دوپٹے کے ساتھ صاف کرتے ہوئے کہا اور پھر اسکی طرف متوجہ ہو گئیں ۔

۔

“یہ لڑکے کدھر ہیں ؟”

انہوں نے اردگرد دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔۔۔۔

“اماں وہ ڈاکٹر صاحب نے انکو بلایا تھا تو سب ہی ساتھ چلے گئے ہیں “

“دیکھو ذرا ان کی لاپروائیاں کیسے جوان جہاں بیٹی اور بیوی کو اکیلے کمرے میں چھوڑ کے خود کب سے غائب ہیں “

اماں نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا جیسے وہ انکو دیکھنے باہر جا رہی ہوں۔

۔

“اماں نہ پریشان ہوں آپ وہ آ جائیں گے ابھی “

انکے اٹھتے ہی رقیہ بیگم ایک دم اٹھیں ۔۔اُنکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔اور پھر سے انکو زرمینہ کے پاس بیٹھا دیا ۔۔۔

۔

“اماں”

“جی میرا بچہ کیا ہوا ہے زرمینہ گل؟”

اُس نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔ہاتھ سے اشارہ کیا ۔۔ماں کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔اُس کی آواز اتنی تھی کہ بس کان پاس لے کے جانے پہ سمجھ آتی ۔۔۔۔۔اُس کے پاس بھی کوئی بیٹھا ہو اُس تک بھی آواز نہ جاتی کوئی کیا کہے رہا ہے ۔۔۔

۔

“زرمینہ بولو بچے کیا ہوا ہے ؟”

اب کی بار دادی اماں نے اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بہت پیار سے پوچھا۔ ۔۔

۔

“اماں وجدان “

وجدان کا نام لیتے ہی درد کے کئی رنگ اُسکے چہرے سے گزرے ۔۔۔جیسے اُس کے اندر بہت تکلیف ہوئی ہو ۔۔۔۔اُس کو بہت درد ہو رہا ہو ۔۔۔۔لیٹے لیٹے آنکھیں بند کئے اُس نے ایک بار پھر وجدان کا نام لیا ۔۔۔۔جیسے وہ پوچھنا چاہتی ہو ۔۔۔اُس کو دیکھنا چاہتی ہو ۔۔

۔

“وہ ٹھیک ہے زرمینہ گُل وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔اُس کا آپریشن ہو گیا ہے تمہارے ساتھ ہی ہوا ہے ۔اب ٹھیک ہے وہ “

انہوں نے بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُس کو جھوٹی تسلی دی۔ اندر سے خود کو ملامت کرنے لگیں ۔۔۔وہ ایک بار تو جا کے اُس لڑکے کا حال پوچھ آتیں۔ ۔۔نہ جانے کیسا ہو گا وہ ۔۔۔۔پتا نہیں اُس کے ماں باپ آئے بھی ہوں گے يا نہیں۔ نہ جانے وہ زندہ ہو گا بھی یا نہیں ۔۔۔۔انہوں نے بیٹی کو تو جھوٹ کہے دیا مگر اُنکا ضمیر انکو ملامت کرنے لگا ۔۔۔

۔

“اماں مجھے ۔۔۔۔۔وجدان “

اُس نے آدھی آنکھیں کھولے اُٹھنے والے انداز میں ماں کو بولا ۔۔۔۔درد کی ایک لہر اُسکے وجود میں دوڑی ۔۔۔اُس نے درد کی شدت سے ایک آہ بھری ۔۔۔۔اور ایک بار پھر وہیں نیچے ہو گئی ۔۔۔

۔

“زرمینہ گُل تم کیوں آٹھ رہی ہو ۔۔۔مت اٹھو ۔۔وہ ٹھیک ہے بلکل ٹھیک ہے۔ ۔۔تم تھوڑا سا ٹھیک ہو جاؤ نا میں خود تمہیں اس کے پاس لے جاؤں گی۔ ابھی تو تمہارا آپریشن ہوا ہے ابھی کیسے جا سکتی ہو تم “

رقیہ بیگم نے اُس کو آرام سے نیچے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔جو اُس کو دیکھنے کے لیے اُس مچھلی کی طرح ٹرپ رہی تھی جو پانی سے باہر نکالنے پہ بے چین ہوتی ہے تڑپتی رہی ہے۔۔۔

۔

………………………………….

“میجر آپکا بڑا احسان ہو گا اگر آپ میرے سٹوڈنٹس کو اُنکے ٹیچر کو دیکھنے کی اجازت دے دیں تو “

پرنسپل صاحب نے مسکراتے ہوئے سامنے بیٹھے شخص کو دیکھتے ہوئے کہا ۔

“جنید اب تم بھی احسان والی بات کرو گے؟ “

میجر نے مصنوئی سا ناراض ہوتے ہوئے اُس کو کہا جو اُسکے بچپن کا دوست تھا ۔۔۔جہنوں نے اسکول کالج ساتھ پڑھا تھا ۔ایک فوج کا میجر بن گیا تھا اور دوسرا یونیورسٹی کا پرنسپل۔

۔

“آپ نے ابھی میری پلٹون دیکھی نہیں ہے تب ہی میں نے ایسا کہا “

پرنسپل صاحب نے شرارتی سے انداز میں ساتھ بیٹھے ٹیچر کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔جو انکو دیکھتے ہی مسکرانے لگے

۔

“کیوں بھئی اتنے عرصے بعد دیدار کروایا ہے اور ساتھ فوج لے کے آ گے ہو “

“بھئی میجر میں تم سے اب ایسے تو مل نہیں سکتا تھا ۔۔۔پورے پروٹوکول کے ساتھ ہی آنا تھا مجھے “

۔

“ایسا ہے جنید جس بندے سے ملنے کی اجازت تم مانگ رہے ہو میں نے اُس کی فائل منگوا لی ہے ۔۔۔۔۔وہ ابھی ابھی آپریشن تھیٹر سے باہر آیا ہے ۔۔۔ہوش میں نہیں ہے وہ ۔۔۔۔اُس کے ہوش تک آنے کا انتظار کرنا پڑے گا تم لوگوں کو ۔ہے بھی وہ انتہائی سیریز کنڈیشن میں ۔۔۔icu میں ہے وہ اِس وقت “

سامنے بیٹھے میجر نے اُس کی فائل پہ دیکھتے ہوئے انکو تفصیل سے بتایا ۔۔

۔

“وہ بچ تو جائے گا نا”

کچھ وقت پہلے کا خوشگوار ماحول ایک دم افسردگی میں بدلا ۔۔۔۔پرنسپل نے ساتھ بیٹھے دونوں ٹیچر کو دیکھا ۔۔۔۔جہنوں نے ایک دوسرے سے پہلے ہی نظروں کا تبادلہ کر لیا تھا ۔۔۔۔جیسے انکو شک گزرا ہو کہ وہ کوئی بری خبر سننے والے ہیں ۔۔۔

۔

“بچنے کے چانسز بھی بہت کم ہیں ۔۔۔لیکن اگر بچ بھی گیا تو ساری زندگی اپنے پیروں پے کھڑا نہیں ہو سکے گا ۔۔۔وہ کبھی چل نہیں سکے گا “

۔

اِس خبر سے سامنے بیٹھے تینوں شخص ایک سکتے کی حالت میں آ گے ۔۔۔جیسے انہوں نے کچھ ایسا سنا ہو جس کے بعد مزید بولنے کی ہمت نہ رہی ہو ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ابو آپ نہیں روئیں ۔۔۔ہمیں تو اللہ پاک کا بہت شکر گزار ہونا چائیے ۔۔۔انہوں نے ہمیں پھر سے وجدان کو دیا ہے ۔۔۔کوئی بات نہیں ابو جو وہ ساری زندگی چل نہیں سکے گا ۔۔۔۔ہم ہیں نا اپنے وجی کا سہارا ۔۔۔آپ ہیں امی ہیں ہم بہنیں ہیں۔ ہم بنیں گے اُس کا سہارا ۔۔۔۔اگر اللہ پاک ہم سے وجی کو لے لیتے ہمیں دوبارہ دیتے ہی نہ تو کیا کرتے ہم ؟ ہمیں تو شکر ادا کرنا چاہیے ۔۔۔وہ ہمارے ساتھ ہو گا ہمارے پاس ہو گا “

فاطمہ زمین پہ باپ کے قدموں میں بیٹھے انکو تسلی دے رہی تھی ۔۔۔۔وہ جو خود اپنی ہمت ہار گئی تھی ۔۔۔اپنے ٹوٹے ماں باپ کی ہمت بن رہی تھی ۔۔۔۔وہ جانتی تھی اِس وقت اُس کے ماں باپ اُسکی بہنوں پہ کیا گزر رہی ہے ۔شايد اُس کا دُکھ اُس کی تکلیف وہاں بیٹھے ماں باپ سے بھی زیادہ ہو جو اپنے دل میں چھپاۓ سب کو حوصلا دے رہی تھی انکی ہمت بن رہی تھی ۔۔

۔

“آپی کیا بھائی کبھی نہیں چل سکیں گے ؟ وہ ہمارے ساتھ کبھی نہیں کھلیں گے اب ؟”

پندرہ سالہ خدیجہ نے روتے ہوئے بہن کی طرف آتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ اب بھی نہ سمجھیں ہو ۔۔۔ڈاکٹر نے کیا کہا ہے ۔۔۔سب گھر والے ایسے کیوں رو رہے ہیں ۔۔۔

۔

“نہیں گڑیا بھائی بلکل ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔وہ چلے گا بھی ۔۔۔ہمارے ساتھ کھیلے گا بھی ۔۔۔وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گا بلکل پہلے جیسا ہو جائے گا “

بہن کی آنکھوں سے انسوں صاف کرتے ہوئے اُس نے اسے اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔وہ جو اپنے بھائی کے معاملے میں سب سے کمزور تھی ۔۔۔۔آج سب کی خاطر خود کو مضبوط رکھے ہوئے تھی۔ جیسے اگر وہ ہمت ہار گئی تو یہاں موجود ہر شخص مر جائے گا ۔۔۔۔وجدان سے پہلے مر جائے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“پلیز سر مجھے اندر جانے دے دیں ۔۔۔میں اسکو دور سے ہی دیکھ کے آ جاؤں گی واپس “

فضہ نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اُس آدمی کو کہا جو اُنکا راستہ روکے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔جیسے اُس کی ذمےداری ہو باہر سے کسی کو اندر نہ چھوڑنے کی ۔۔

۔

“دیکھیں میں آپ کو کوئی پچاس دفعہ کہے چکا ہوں ۔ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے ۔آپ اب اِس وقت نہیں مل سکتیں انکو ۔۔۔آپ چار بجے کا انتظار کر لیں ۔۔۔۔ابھی کچھ وقت میں ایسے بھی آپ مل سکیں گی انکو۔۔۔۔۔مگر تب بھی آپ اتنے لوگوں کو ایسے جانے کی اجازت نہیں ملے گی “

۔

فضہ کے بار بار پوچھنے پہ وہ ہر بار اُس کو ایک ہی جواب دیتا ۔۔۔۔اُس جواب کو سنتے ہی وہ پھر اپنے ہاتھ پہ بندھی گھڑی کو دیکھتی۔ ۔۔۔اور پھر وقت کو گننا شروع کر دیتی ۔۔۔۔جو آج کہیں سے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔

۔

“یار ان لوگوں نے ہمیں جانے نہ دیا تو ؟”

مدثر نے مین گیٹ کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

۔

“میں بھی تو وہی سوچ رہا ہوں اگر ہمیں سر وجی کو ملنے ہی نہ دیا گیا تو ؟”.

“ایسا نہیں بولو آپ لوگ ۔۔ان شاء اللہ ہم ضرور سر کو مل کے جائیں گے “

“یار وہ دیکھو پرنسپل صاحب آ رہے ہیں”

اُن میں سے ایک لڑکے نے پرنسپل کو آتا دیکھتے ہی زور سے بولا ۔۔سب اُس کی طرف متوجہ ہوئے ۔۔۔اور سامنے سے آتے ہوئے پرنسپل کو دیکھنے لگے ۔جاتے ہوئے وہ صرف تین گے تھے ۔۔مگر آتے ہوئے اُنکے ساتھ ایک اور بندے کا بھی اضافہ ہوا تھا جو یونیفارم پہنے اُن کے ساتھ ساتھ آ رہا تھا ۔۔۔۔جس کے پیچھے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی ۔۔۔ انکو لگا اب اُن کو اندر جانے کی اجازت مل جائے گی ۔اب وہ اندر جا سکیں گے۔

۔

“اب ہم بھی دیکھتے ہیں آپ ہمیں کیسے روکتے ہیں “

پرنسپل کو آتا ہوا دیکھتے ہی وہاں کھڑے ایک لڑکے نے گارڈ کو ایسے کہا جیسے اب اُن کو اندر جانے سے کوئی روک ہی نہیں سکے گا ۔۔۔

۔

“سر ہم اندر جا سکتے ہیں ؟ وجدان سر کیسے ہیں؟ آپ نے انکو دیکھا ہے ؟”.

پرنسپل کے گیٹ سے باہر آتے ہی سب اُنکے ارد گرد ہو گے۔ جیسے انکو کب سے اُنکے آنے کا انتظار تھا۔ وجدان کی خریت کی خبر سننے کا انتظار تھا ۔۔

۔

“بچو آپ سب کو تھوڑا انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔۔وجدان ہوش میں نہیں آیا ۔۔۔وہ اِس وقت icu میں ہے ۔۔۔۔۔جیسے ہی اُس کو ہوش آتا ہے آپ لوگوں میں سے تھوڑے تھوڑے سٹوڈنٹس کو ہم اندر بھجیں گے “

۔

پرنسپل نے سامنے کھڑے سٹوڈنٹس کے ہجوم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔

۔

وہاں پہ کھڑا ہر شخص اندر جانا بھول گیا تھا ۔۔۔۔اُن کو یاد تھا تو بس اتنا اُن کا ہیرو بے ہوش ہے۔ ۔۔icu میں ہے ۔ابھی بھی زندگی اور موت کے درمیان کھڑا ہے ۔اپنی موت سے لڑ رہا ہے ۔۔۔۔

۔

“سر پلیز ہمیں بتائیں وجدان سر ۔۔۔۔۔۔”

وہاں موجود ایک لڑکی اُس ہجوم میں سے گزر کے آگے ہوئی ۔۔۔۔عموماً یونیورسٹی کالج کی لڑکیوں کو فوجی بہت متاثر کرتے ہیں ۔۔۔۔مگر آج کسی نے فوجیوں پے دھیان نہیں دیا تھا ۔۔۔۔۔کسی نے چھپ چھپ کے اُن کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔کسی نے اپنی سہیلی کے کان میں فوجی کو دیکھتے ہوئے کچھ نہیں کہا تھا۔ ۔۔اِس وقت اُن کو ایک ہی شخص یاد تھا ۔۔وہ ایک ہی شخص کے منتظر تھے ۔۔۔جس کے لیے وہ اتنے دور سے آئے تھے ۔۔۔۔۔اُس لڑکی نے بس اتنا ہی کہا اور چہرے پہ ہاتھ رکھے پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی ۔۔۔۔اُس لڑکی کو روتا دیکھ کے سب کی آنکھوں میں نمی آئی۔ وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ اپنی آنکھوں کی نمی کو صاف کرنے لگا ۔۔۔۔اپنا ضبط برقرار رکھنے لگا ۔۔۔

۔

“بیٹا آپ سب دعا کریں ۔اپنے سر کے لیے دعا کریں ۔۔۔وہ ٹھیک ہو جائے۔ ۔۔چل کے آپ لوگوں کے درمیان آئے “

پرنسپل صاحب نے اُن کو دیکھتے ہوئے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔وہ جانتے تھے اگر وہ اپنے ہیرو کے اپاہج ہونے کی خبر سنے گے تو انکو سنبھالنا کتنا مشکل ہو جائے گا ۔۔۔۔آج اُن کا ساتھ دینے کے لیے وجدان جیسا ہیرو موجود نہیں ہے ۔۔۔۔۔یہ کہتے ہی اُن کی نظریں نیچے جھکیں ۔۔۔جیسے اب اگر وہ کچھ بولیں گے تو اونچا اونچا رونے لگ پڑیں گے ۔۔۔انہوں نے وجدان کو کب اپنی فیکلٹی کا ممبر سمجھا تھا ۔انہوں نے تو ہمیشہ اُس کو اپنا بیٹا کہا تھا ۔۔۔۔

۔

پرنسپل کی بات ختم ہوتے ہی سب نے اپنے ہاتھ اوپر اٹھائے ۔۔۔۔وہاں موجود ہر سٹوڈنٹ کے ہاتھ دعا کے لیے اٹھے تھے ۔۔۔ہر ایک کی آنکھیں بند ہوئیں تھیں جیسے وہ بند آنکھوں سے اپنے ہیرو کی نئی زندگی مانگ رہے ہوں ۔۔۔اُن کو دیکھتے ہی وہاں کھڑے میجر اور اُس کے فوجیوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھائے ۔۔جیسے اُن سٹوڈنٹس کے دعا کے قبولیت کی سفارش کر رہے ہوں ۔۔۔اللہ کو کہے رہے ہوں ۔۔ان کو مایوس نہ لوٹانا ۔۔۔ان کی دعا کو قبول کرنا ۔۔۔۔

۔

اُن کے ہاتھ نیچے نہیں ہوئے تھے کہ آسمان سے اشکوں کا دریا نیچے گرنے لگا ۔۔۔۔۔جیسے اُن کو دیکھتے ہوئے آسمان آج زاروقطار رو رہا ہو ۔۔۔۔۔ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا ۔۔۔۔جو ایسے لال ہوا تھا جیسے آسمان میں آگ لگ گئی ہو ۔۔۔۔۔اُس کے شعلے پانی کی صورت زمین تک آ رہے ہوں ۔۔۔

۔

“بچو آپ لوگ گاڑیوں میں بیٹھ جاؤ بہت تیز بارش ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وجی جیسے ہی ہوش میں آتا ہے ۔۔میں آپ لوگوں کو باری باری بولا لوں گا “

۔

پرنسپل نے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اونچی آواز میں کہا ۔۔۔جیسے اُن کی آواز وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ تک پہنچ پائے ۔۔۔

۔

“نہیں سر یہ بارش ہمیں کچھ نہیں کہتی ۔۔۔ہم سر سے ملنے تک یہیں کھڑے رہیں گے ۔۔۔۔۔ہم سر کو دیکھے بغیر گاڑیوں میں دوبارہ نہیں بیٹھیں گے “

۔

پیچھے کھڑے ایک سٹوڈنٹ نے اِس قدر بلند آواز میں کہا کہ سامنے کھڑے ہر شخص تک اُس کی آواز گئی ۔۔۔۔اُس کو سنتے ہی ۔۔۔سب نے ایک ساتھ “yes sir” کہا ۔۔۔ اور وہیں کھڑے رہے ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ جی میرے وجدان کو کچھ نہیں کرنا . میرا دوسرا گردہ بھی لے لیں آپ اللہ جی ۔آپ میری زندگی ہی لے لیں ۔۔میری زندگی کے بدلے میرے وجدان کو زندگی دے دیں۔ وہ ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔۔وہ بلکل ٹھیک ہو جائیں ۔۔۔اللہ جی اپنی زرمینہ گُل کے لیے اُن کو ٹھیک کر دیں نا ۔۔آپ کی تو بہت لاڑلی ہوں نا میں۔ ایسا کبھی نہیں ہوا جو میں نے آپ سے مانگا ہو آپ نے مجھے نہ دیا ہو ۔۔۔آپ نے ہر وہ چیز دی مجھے جو میں نے مانگی ہے ۔۔۔۔جِس کی میں نے خواہش بھی کی آپ نے مانگنے سے پہلے مجھے دے دی ۔۔۔۔میں جانتی ہوں میں بہت گناہگار ہوں ۔۔۔۔میں جانتی ہوں آپ کو خفا کیا ہے میں نے ۔ایک نامحرم سے بات کی ہے میں نے ۔آپکو نہیں پسند میں نے پھر بھی یہ غلطی کی ہے ۔اُس کو ملنے کی خواہش کی ہے ۔۔۔۔کچھ لمحے ہی سہی اُس کا ساتھ مانگا ہے ۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ کچھ پل چلنا ہی سہی میں نے آپ سے وہ بھی مانگا ہے ۔۔۔۔۔میں جانتی ہوں میں نے غلط کیا ہے بہت غلط۔ ۔۔۔اللہ جی مجھ گناہگار کی سزا مجھے ہی دینا ۔۔مجھے ہر سزا منظور ہے چاہے تو میری جان لے لیں ۔۔۔مجھے اگلا سانس نہ آئے ۔۔۔بس اللہ جی مجھے میرے وجدان کی جدائی کی سزا نہ دینا ۔۔۔مجھے سزا دینے کے لئے اُسکی سانسیں نہ چھین لینا ۔۔۔اللہ جی میرے وجدان کو زندہ رکھنا ۔۔۔وہ بیشک مجھے نہ ملے ۔۔بیشک اُس کو مجھے نہ دینا ۔۔بس اُس کو زندہ رکھنا ۔۔۔میں یہ سوچ کے ہی جی لوں گی ۔میرا وجدان زندہ ہے ۔۔۔اسی ہوا میں سانس لے رہا ہے جس میں زرمینہ سانس لیتی ہے ۔۔۔۔۔وجدان بھی یہی چاند دیکھتا ھے جس کو میں دیکھتی ہوں ۔۔۔میں بہت خوش رہوں گی۔ ہمیشہ خوش رہوں گی ۔۔۔لیکن وہ مر گیا تو میں مر جاؤں گی اللہ جی ۔۔۔میں مر جاؤں گی۔

۔

وہ ہسپتال کے ہیڈ پہ لیٹی ۔۔درد سے تڑپتے ہوئے آنکھیں بند کئے ۔۔۔اپنے درد سے نجات نہیں مانگ رہی تھی ۔۔۔۔وہ اپنے محبوب کی زندگی مانگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کا دل گواہی دے رہا تھا وہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔۔اُس کے معاملے میں ہمیشہ اُس کا دل اُس کو بتا دیتا تھا ۔۔۔۔۔وجدان کی گواہی اسکو اُسکا دل دیتا تھا ۔۔۔

۔

آنکھیں بند کئے وہ مُسلسل آنسوؤں بہا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی سسکیاں وہاں مجور ہر شخص سن رہا تھا ۔۔۔۔ہر کوئی اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس کے آنسوؤں سے اُس کے سر کے نیچے رکھا تکیہ گیلا ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔وہاں کھڑا ہر شخص یہ جانتا تھا ۔۔۔۔سامنے لیٹی لڑکی کو کیا درد ہے ۔۔۔۔وہ کون سے درد سے سسک رہی ہے ۔۔۔۔خود کو اذیت دے رہی ہے ۔۔۔۔

۔

“زری اٹھو تمہیں تمہارے وجدان کے پاس لے جاؤں”

سلطان نے اُس کے پاس جاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس کو آج بہن کے سواء وہاں موجود کسی شخص کی کوئی پرواہ نہ ہو۔۔۔۔۔۔اُس کو آج فکر ہو تو صرف اُس بہن کی جو محبت پہ اپنا آپ وار رہی تھی ۔۔۔۔

۔

اُس نے اچانک اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔جیسے اُس نے خواب میں سنا ہو ۔۔۔۔کوئی اُس کو وجدان کے پاس لے جانے کا کہے رہا ہو ۔۔۔۔

“زری اٹھو میں تمہیں اٹھا کے لے جاؤں گا اُس کے پاس “

اُس نے حیران ہوتی بہن کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ حیرت سے اُس بھائی کو دیکھ رہی تھی جو اُس پہ کبھی اُس کسی نامحرم کی نظر بھی پڑنے نہیں دیتا تھا۔ آج وہ اُس کو خود لے جانے کا کہے رہا تھا ۔۔۔۔

۔

“مگر جان جی …..”

اُس نے ایک نظر وہاں کھڑے اپنے باپ اور بھائی پہ ڈالی ۔۔۔جیسے وہ اُس کو کہنا چاہتی ہو ۔اُس کو بتانا چاہتی ہو ۔۔۔۔بابا جان کھڑے ہیں بڑا بھائی کھڑا ہے۔ جن کو شايد اُس نے دیکھا نہیں ہے ۔۔۔۔۔

۔

“بابا جان میں زرمینہ گُل کو لے جاؤں؟”

وہ جانتا تھا اُس کا باپ اسے کبھی نہیں روکے گا ۔۔۔۔وہ جانتا تھا اُس کا باپ اب ایک خر دماغ پٹھان نہیں رہا ۔۔۔۔وہ صرف ایک باپ ہے ۔۔۔۔پھر بھی اُس نے بہن کی تسلی کے لیے باپ سے پوچھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ باپ سے پوچھے ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ کبھی اپنی روایتیں چھوڑے ۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ موم بن کے پھگل جائے ۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا اُس کا باپ کبھی اپنی اولاد کے سامنے ہار جائے۔ ۔۔۔وہ اپنے باپ کو پہلے جیسا ایک مضبوط پٹھان ہی دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ سواتی جو کبھی نہیں ہارتا۔ جو کبھی نہیں روتا ۔۔۔۔وہ سواتی جس کے پاس اُس کی اولاد بیٹھتے ہوئے سو بار سوچے ۔۔۔۔جِس باپ کے سامنے وہ کبھی اونچی آواز میں بات نہ کر سکیں ۔۔۔۔مگر اب سب کچھ بدل گیا تھا ۔۔۔۔۔سامنے کھڑا پٹھان موم بن کے پھگل گیا تھا ۔۔۔

انہوں نے اُس کو دیکھتے ہوئے ہلکا سا سر ہلایا ۔۔۔جیسے جانے کی اجازت دی ہو ۔۔۔۔

۔

باپ کو دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں سے آنسوؤں نکلنے لگے ۔۔۔کیا یہ اُسی کا باپ ہے ؟ نہیں نہیں اُس کا باپ تو ایسا نہیں تھا ۔وہ تو عزت کے نام پہ جان دینا بھی جانتا تھا ۔اور عزت کے لیے جان لینا بھی اُسے آتا تھا ۔۔۔۔آج وہ اپنی عزت کو باہر جانے کی ایک مرد کے پاس جانے کی اجازت دے رہا تھا ۔۔۔کیا یہ وہی باپ ہے ؟

۔

“نہیں نہیں بابا جان میں نہیں جاؤں گی کبھی بھی “

باپ کو دیکھتے ہوئے وہ اونچا اونچا رونے لگی۔ ۔۔جیسے اُس کو لگا ہو اُسکا باپ مر گیا ہے۔ اور وہ اُسکے موت کی ذمےدار ہے ۔۔۔۔ایک اولاد ایک بیٹی کب چاہتی ہے ۔۔۔اُس کا باپ اُس کے سامنے ہار جائے۔ ۔۔

۔

“نہیں جان جی مجھے نہیں جانا “

بھائی کا ہاتھ پکڑے ہوئے وہ اونچا اونچا روتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔

۔

“زرمینہ گُل نہ رو میری بیٹی “

وہ اُس کے پاس آئے ۔۔اُس کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔اُس کا ماتھا چُما ۔۔۔۔جیسے اُس کو کہے رہے ہوں اُس کا باپ بدل گیا ہے ۔۔۔۔جیسے وہ اسکو بتا رہے ہوں ۔۔۔تمہارا بھی اپنی زندگی پہ کچھ حق ہے ۔۔۔بیشک تم میری بیٹی ہو مگر اپنی پسند کی شادی کا حق رکھتی ہو ۔۔۔۔۔اپنی حد میں رہے کے جینے کا اختیار ہے تمہیں ۔۔۔۔۔

۔

“مگر بابا جان ۔۔۔۔۔۔”.

باپ کے سینے سے لگے ہوئے اُس نے ایک بار پھر سے سوال کیا ۔۔۔اُس کا باپ سمجھ گیا تھا ۔وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔۔۔۔۔انکو اپنی پرورش پہ ایک بار پھر فخر ہوا ۔۔۔۔۔

۔

“شہاب مولوی صاحب کو بلاؤ ۔۔۔۔ہماری بیٹی کا نکاح ہے آج “

انہوں نے شہاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔بیٹی کو اُس کے “مگر “کا ایک خوبصورت جواب دیا ۔۔۔

۔

سلطان تم زرمینہ گُل کو اُس (وجدان) کے کمرے میں لے جاؤ ۔۔۔۔ہم مولوی صاحب کے ساتھ آتے ہیں ۔۔۔۔مجھے شاہ صاحب اور بی بی صاحبہ سے بھی بات کرنی ہے ۔۔۔۔اُن کے لائے ہوئے رشتے کی قبولیت کا اقرار کرنا ہے ۔۔۔۔

۔

“بابا جان ابھی مولوی صاحب کو نہ بلائیں “

وہ باہر جانے ہی لگے تھے کہ سلطان نے اُن کو آواز دیتے ہوئے روکا ۔۔۔۔

“کیوں سلطان ….”

شہاب نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اُن کو کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔اُن کو کہے رہا تھا ہماری بہن کا ہونے والا دولہا بستر مرض پہ پڑا ہے ۔۔ اپنی زندگی کی چند سانسیں گن رہا ہے ۔۔۔۔۔سامنے کھڑے دونوں شخص سمجھ گے تھے ۔اُس کی آنکھوں میں کی جانے والی گُفتگو کو وہ سمجھ چکے تھے ۔۔۔صرف وہی نہیں اُن کے پاس لیٹی وہ لڑکی بھی سمجھ گئی تھی ۔۔۔۔جو اُس کی خاطر اپنی زندگی کی چند سانسیں جی رہی تھی ۔

Part 2

۔

آپ لوگوں میں سے اکثر سٹوڈنٹس فوج میں آنا چاہتے ہوں گے ۔۔۔اُن کا خواب ہو گا وہ آرمی جوائن کریں ۔۔۔۔بہت ساری یہاں پہ موجود لڑکیاں فوجی کے خواب دیکھتی ہوں گی ۔۔۔۔بہت سارے لوگ میری طرح میجر بننا چاہتے ہوں گے ۔۔۔۔جیسے میں نے چاہا تھا ۔۔۔۔۔مگر آج مجھے بہت افسوس ہے میں میجر کیوں ہوں ؟ میں ایک استاد کیوں نہیں ہُوں؟ ایسا اُستاد جس کے شاگرد اُس کو ایک نظر دیکھنے اتنے دور سے آئیں ہیں ۔۔۔۔جس کی صحت یابی کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔جو دھوپ میں بھی اُس کے لیے کھڑے ہیں ۔۔۔۔۔جنہوں نے بارش کی بھی پرواہ نہیں کی ۔۔۔۔اُن کو منظور نہیں ہے کہ وہ اپنے استاد کو دیکھے بنا جائیں ۔۔۔۔۔مجھے بہت افسوس ہے آج ۔۔۔۔کاش میں بھی ایک استاد ہوتا ۔۔۔۔۔

۔

وہ یونیفارم پہنے وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے اُن سے خطاب کر رہا ہو ۔۔۔۔جیسے اُن کو شاباش دے رہا ہو ۔۔۔ آرمی والے کی دات بھی ایک الگ ہی سرور دیتی ہے ۔۔۔۔۔مردہ قوم کو دوبارہ سے زندہ کرتی ہے ۔۔مگر وہاں تو ہر کوئی زندہ تھا ۔اپنے استاد کو دیکھنے کا منتظر تھا ۔۔۔۔میجر کا خطاب اُن کے خون کو اور گرم کر رہا تھا ۔۔اُن میں اور جوشِ و ولولہ پیدا کر رہا تھا ۔۔۔

۔

آج کل مجھے لگتا تھا ایک استاد کی کوئی عزت ہی نہیں رہی ۔۔۔۔وہ ایک پندرہ بیس ہزار کمانے والا ایک مزدور بن کے رہے گیا ہے ۔۔۔جو پورا مہینہ محنت کرتا ہے ۔اور مہینے کے آخر میں اپنی محنت کا پورا پورا صلح بھی وصول نہیں کرتا ۔۔۔۔مگر آج مجھے اندازہ ہو گیا ہے۔ ایک استاد کی آج بھی وہی عزت ہے جو میرے رسول کے زمانے میں تھی ۔۔۔آپ لوگوں نے ثابت کیا ہے ۔۔۔اپنا شاگرد ہونا ثابت کیا ہے۔ اپنے استاد کا مقام ثابت کیا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو اندر بستر مرض پہ پڑا ہے اُس کا کیا مقام ہے ۔۔۔۔۔میں دعا کروں گا اللہ اُس کو اتنی زندگی دے کہ وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔۔۔اپنی آنکھوں سے اپنی عزت دیکھے ۔۔جو اُس کے سٹوڈنٹس اُس کی کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔جِس کے لیے وہ اِس بارش میں کھڑے ہیں ۔۔۔۔

۔

اگر مجھے دوبارہ زندگی ملتی تو میں اللہ سے ایک ہی دعا کرتا۔ ۔اللہ مجھے اُس زندگی میں میجر نہیں بنانا ۔۔بلکہ ایک استاد بنانا ۔۔۔۔جِس کو دیکھنے اُس سٹوڈنٹس آئیں ۔۔۔بے شک مجھے مرنے پہ توپوں کی سلامی نہ دی جائے ۔۔۔۔بیشک میری قبر پہ پھولوں کے ہار نہ چڑھائیں جائیں ۔۔۔۔مجھے بس ایسے ہاتھ اٹھانے والے طالب علم دیئے جائیں ۔۔۔۔جو میری زندگی کی دعا کریں ۔۔میرے مرنے کے بعد مجھے یاد رکھیں ۔۔۔

۔

جنید مجھے بہت خوشی ہے تم ایسے ادارے میں کام کرتے ہوں ۔جہاں استاد کو ایسی عزت ایسا مقام دیا جاتا ہے ۔۔۔

۔

وہاں موجود سٹوڈنٹس سے بات کرتے کرتے وہ سامنے کھڑے اپنے دوست کی طرف مڑے ۔۔۔جِس کے طالب علموں نے اُس کی چھاتی چوڑی کر دی تھی ۔۔۔۔وہ کُچھ وقت پہلے جس دوست پہ فخر کر رہا تھا ۔۔۔اب اُسے خود پہ فخر ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ایسا فخر جو اُس کے سٹوڈنٹس نے اسکو دیا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اُسے اپنے بازؤں پہ اٹھائے اُس کے کمرے میں لے جا رہا تھا ۔۔۔ہر کوئی اُن دونوں بہن بھائیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔مسکرا رہا تھا ۔۔۔کوئی ایسا بھی بھائی ہوتا ہے جو اپنی بہن کو اپنے بازؤں پہ اٹھائے لے جائے ۔۔۔۔۔وہ مُسلسل اُس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جو آگے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اُس نے اُس کی گردن کے گرد اپنے دونوں بازوں کر رہے تھے ۔۔۔۔۔وہ لوگوں کو مسکراتا ہوا دیکھتا ۔۔۔پھر اپنی بہن کی طرف دیکھتا اور خود بھی مسکرا دیتا ۔۔۔۔۔

“کتنی موٹی ہو نا تم “

اُس نے مصنوعی سے انداز میں تھکتے ہوئے کہا ۔۔

۔

“کیا ؟ کیا ؟ موٹی ہوں میں؟ یہ دیکھیں میری ہڈیاں ہی تو ہیں”

اُس نے برا مناتے ہوئے اپنی ایک بازوں کو آگے کیا ۔۔۔۔۔جو آپریشن کے بعد مزید کمزور ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

۔

“تھوڑا کھایا کرو ۔۔۔۔۔ میری بازوں ٹوٹ گئی ہیں “

ایک بار پھر اُس نے اُسے چھیڑنے والے انداز میں کہا ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ مذاق میں بھی موٹی لفظ کو اپنے دل پہ لے لیتی ہے ۔۔۔۔ویسے بھی اُس کا چڑیا جتنا دل اتنا مذاق برداشت بھی نہیں کرتا تھا ۔۔۔یا تو وہ رونا شروع ہو جاتی یا پھر اپنا سارا غصہ دوسرے بندے پہ اُتار دیتی تھی ۔۔۔غصے کے معاملے میں ویسے بھی بہت بری تھی وہ ۔۔۔۔اپنا غصہ کبھی دل میں نہیں رکھتی تھی ۔۔ہمیشہ دوسرے کے منہ پہ بولا کرتی ۔۔چاہے اگلے بندے کو اچھا لگے يا برا ۔۔۔۔وہ لحاظ رکھنے والوں میں سے نہیں تھی ۔۔۔غلط بات اگلے کے منہ پہ مار دیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔۔بہت کم ایسا ہوتا کہ وہ برداشت کر جائے ۔۔۔وجدان کی محبت میں اُس نے بہت لوگوں کو اپنی نفرت کا مرکز بنایا تھا ۔۔۔اُس کی محبت میں اسے بہت لوگوں سے نفرت ہوئی تھی ۔۔ایسی نفرت کہ وہ اُن لوگوں کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔پھر اُسی محبت نے اسکو موم بنایا تھا ۔۔۔کہ کوئی اُس کو گالیاں بھی دیتا تو خاموش ہو جاتی ۔۔۔۔مسکرا دیتی۔۔۔۔۔۔پھر گھنٹوں سوچتی رہتی ۔۔۔۔کیا یہ وہی ہے جس کے سامنے بولنے کی کسی میں ہمت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔۔۔آج لوگ اُس پہ باتیں کرتے ہیں اور وہ مسکرا کے چپ ہو جاتی ہے ۔۔۔کیا محبت انسان کو اتنا جھکا دیتی ہے کہ بندہ اپنے آپ میں ہی مر جائے ۔۔۔۔محبتیں کامیاب ہوں تو انسان کو مغرور کر دیتی ہیں۔ اور پھر جب وہی محبتیں ناکام ہو جائیں تو انسان کو مجبور کر دیتی ہیں ۔۔۔۔اتنا مجبور کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے ۔۔۔۔ہر تعلق سے لا تعلق ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔اپنا آپ بھول جاتا ہے ۔ محبوب کے رنگ میں رنگ جاتا ہے ۔۔۔اُس کا جسم تو اس کا ہوتا ہے۔ مگر روح ۔۔۔۔۔روح اُس میں محبوب کی ہوتی ہے ۔۔۔۔

۔

“کیا سوچ رہی ہو موٹو “.

اُس نے ایک بار پھر اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔اُس کو لگا جیسے وہ اسکی باہوں میں ہی سو گئی ہے ۔۔

۔

“اگر آپ نے ایک دفعہ پھر مجھے موٹو کہا تو میں نے اُتر جانا ہے “

اب کی بار وہ باقاعدہ خفا ہوئی تھی ۔۔۔۔جیسے وہ مکمل خاموشی چاہتی ہو ۔۔۔اتنی خاموشی کہ وہ ایک ایک منٹ محسوس کرے۔ ۔۔اپنے وجدان کے پاس جانے کا ایک ایک لمحہ یاد رکھے ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سر میں آپ سے ایک ریکویسٹ کرنا چاہتا ہوں “

مدثر نے میجر کے پاس آتے ہوئے بہت معصومیت سے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس سے زیادہ معصوم تو کوئی دنیا میں ہے ہی نہیں ۔

۔

“یہ دیکھو معصومیت کا ریکاڈ توڑ رہے ہیں مدثر صاحب “

ارم نے ہانیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔

“ہاں جیسے ہم تو اِس کو جانتے ہی نہیں ہیں نا۔ ایسے معصوم بنا ہوا ہے اِدھر “

ہانیہ نے منہ بناتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا جو میجر کے سامنے ہاتھ باندھے نظریں جھکائے کھڑا تھا ۔۔

۔

“جی جی بیٹا بولو “

میجر ویسے بھی اُن سب سے بہت متاثر ہوا تھا ۔۔۔دوسرا وہ اُس کے دوست کے سٹوڈنٹس تھے ۔۔۔۔اُس کے لیے قابل عزت تھے ۔۔

۔

“سر میں یہ کہنا چاہتا ہوں وجی سر کے ہوش میں آنے کے بعد آپ ہم سب کو ایک ساتھ ان کے پاس جانے کی اجازت دیجیے گا ۔۔ تاکہ ہم ایک ساتھ اُن کو ملیں ۔۔انکو سسپرائز دیں “

۔

مدثر نے ایک کی بار نظریں اٹھائیں اُسکی طرف دیکھا ۔۔۔اور فوراً نظریں نیچے کر لیں ۔۔۔۔وہ ویسے بھی آرمی والوں سے بہت ڈرتا تھا ۔۔۔آج تو پھر اُس کے سامنے ایک میجر کھڑا تھا ۔

۔

“جی بیٹا آپ کے سر کو ہم روم میں شفٹ کر لیں گے ۔۔۔آپ سب ایک دفعہ میں اُن سے مل لینا ۔مگر یاد رہے ہاسپٹل میں موجود دوسرے پیشنٹ ڈسٹرب نہ ہوں “

انہوں نے سب کی طرف دیکھتے ہوئے انتہائی نرم انداز میں کہا ۔۔۔

۔

“تھینک یو سو مچھ سر آپ بلکل بھی اِس بات کی فکر نہ کریں ۔۔۔ہم کسی کو ڈسٹرب نہیں کریں گے “

وہاں کھڑے ہر سٹوڈنٹ نے اظہارِ تشکر کیا ۔۔۔۔سب کے چہروں پہ مسکراہٹ آئی۔۔۔۔۔ہر کوئی بے چینی سے اپنے ہیرو کے ملنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وجدان بھائی کہاں ہیں ؟ “

سلطان نے بہن کو اٹھائے ہوئے سامنے کھڑے شخص سے پوچھا ۔۔۔

۔

وہاں موجود سب اُس کو دیکھ کے کھڑے ہوئے ۔۔سب اُس لڑکی کو دیکھنے لگے ۔۔۔جو نظریں جھکائے ہوئے بھائی کی گردن کے گرد بازو ڈالے ہوئے تھی ۔۔۔

۔

وہاں موجود دو شخص اُس کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔ ۔وہ دونوں اُس کے پاس آئے۔ ۔۔ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔۔۔جیسے اُن کو اُمید نہ تھی کہ وہ لڑکی بھی یہیں ہو گی ۔۔۔اور اِس حالت میں ہو گی ۔۔۔۔

۔

“کیا ہوا ہے زرمینہ گُل “

وجدان کی والدہ پریشانی سے اُس کی طرف آئیں۔ اُس کے ماتھے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔ایک نظر پورا اُس کی طرف دیکھا ۔۔جیسے وہ اسکو دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔کیا ہوا ہے اسکو ۔وہ اتنی زرد کیوں ہو گئی ہے ۔۔۔وہ خود چل کیوں نہیں رہی ہے ۔۔۔

۔

“بھائی مجھے نیچے اتاریں “

اُس نے سلطان کی طرف دیکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔۔۔جیسے اُس نے سرگوشی کی ہو ۔۔۔

۔

لیکن زرمینہ گُل ۔۔۔۔۔۔اُس نے ایک نظر اُس کی طرف دیکھا جیسے اسکو بتانا چاہتا ہو ۔وہ ابھی چل نہیں سکتی۔ چل تو کیا وہ تو ابھی صحیح سے کھڑے ہونے کے بھی قابل نہیں ہے ۔۔۔

۔

“جان جی مجھے اتاریں نا “

اُس نے آنکھوں میں آنسوؤں لیے ایک بار پھر اُس کی طرف دیکھا ۔۔۔اپنا بازو اُس کی گردن سے آگے کیا ۔۔جیسے وہ خود نیچے اُترنا چاہتی ہو ۔۔۔۔اگر وہ اسکو نیچے نہیں اُتارے گا تو وہ خود اتر جائے گی ۔۔

۔

“کیا ہوا ہے زرمینہ گُل کو ؟”

اب کی بار انہوں نے سلطان کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔

۔

“جی آپریشن ہوا ہے اسکا ۔۔ایک کڈنی نکالی ہے اسکی “

سلطان نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے نظروں کو جھکا کے کہا ۔۔۔۔وہ لوگ ویسے بھی لڑکیوں میں نظریں نہیں اُٹھاتے تھے ۔۔۔۔اب بھی اگر بات اُس کی بہن کی نہ ہوتی تو وہ کبھی یہاں نہ کھڑا ہوتا ۔۔۔۔۔

۔

“کیا ؟”

یہ خبر سنتے ہی انہوں نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔وہ اپنے بیٹے کو بھول گئیں ۔۔۔۔اُس لڑکی کو دیکھنے لگیں ۔۔۔جو انکے بیٹے کی پسند تھی ۔اُسکی چاہت تھی ۔۔۔۔

“جان جی …..”.

اب کی بار اُس نے پھر بھائی کی طرف دیکھا ۔۔جو اُس کو نیچے اتارنا بھول گیا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے آرام سے اُس کو نیچے اتارا ۔۔۔۔نیچے قدم رکھتے ہی اُس کو لگا جیسے وہ گر جائے گی ۔۔۔وہ اپنا ایک قدم بھی آگے نہیں اٹھا سکے گی۔ ۔۔درد کی ٹیس اُس کے سارے وجود میں اترنے لگیں ۔۔۔۔۔اُس نے فوراً اپنا ہاتھ اپنی کمر پہ رکھا ۔۔۔۔درد کی لہریں اُس کے چہرے پہ آنے لگیں ۔۔جیسے وہ درد سے یہیں بیٹھ جائے گی ۔۔۔۔

“زرمینہ “

فاطمہ نے اُس کو بیٹھتا دیکھا ۔۔۔جیسے وہ بیٹھ رہی ہو ۔۔۔وہ جلدی جلدی اُس کے پاس آئی اُس کو اپنے سینے سے لگایا ۔۔جیسے وہ کب سے اُس لمحے کا انتظار کر رہی ہو ۔جب وہ اپنے وجدان کی محبوبہ کو دیکھے ۔۔۔۔اُس کو ملے ۔۔اسکو اپنے دل سے لگائے۔ اِس کو پیار دے ۔۔۔۔

۔

“میرے وجدان کی ملکہ “

اُس نے ایک لمحے کو اُس کو پیچھے کیا ۔۔۔اُس کا آنسووں میں بہتا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔۔اس کے ماتھے پہ پیار کیا ۔۔۔۔اُس کو ملکہ کا خطاب دیا جو اُس کے وجدان نے برسوں پہلے اُسے دیا تھا ۔۔۔

۔

وہ وہاں موجود کسی کو نہیں جانتی تھی سوائے اُس کے ماں باپ کے جو اُس کے گھر آئے تھے ۔جن کو اُس نے دیکھا تھا ۔۔۔۔بس وہ اتنا جانتی تھی یہ پانچوں لڑکیاں اُس کی بہنیں ہیں جو اُس کو اتنی محبت سے دیکھ رہی ہیں ۔۔۔۔۔اُس پہ رشک کر رہی ہیں۔ کتنی خوش قسمت ہو تم کہ ہمارا اکلوتا بھائی تم پہ جان دیتا ہے ۔۔۔۔۔

۔

اُس نے ایک نظر سب کو دیکھا ۔۔۔اپنی چادر ٹھیک کی ۔۔۔۔فاطمہ کے بازؤں کے سہارے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔اُس کے چہرے پہ درد بھری ایک مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔اُس نے کتنا انتظار کیا تھا ۔۔اُس کے گھر والوں میں اُس کے ساتھ کھڑے ہونے کا۔ آج وہ وقت آ گیا تھا ۔سب وہاں موجود تھے۔ بس وہی نہیں تھا جس کی وجہ سے وہ اُنکے ساتھ کھڑی تھی ۔۔۔جس کی نسبت سے وہ سارے رشتے اُس کے اپنے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“بابا جان مجھے نہیں لگتا وجدان بچ سکے گا “

زرمینہ کے جانے کے بعد وہ اُس کے بیڈ پہ بیٹھے ہوئے باپ کو کہے رہا تھا ۔۔اُن کو پتا تھا زرمینہ کی زندگی کے لیے وجدان کی سانسیں کتنی ضروری ہیں ۔۔۔۔۔اگر وجدان مر گیا تو زرمینہ بھی بچ نہیں سکے گی۔۔۔۔۔

۔

“بس بچے دعا کرو خدا اُس کو بچا لے “

ابراہیم صاحب نے درد بھری ایک آہ لی ۔۔۔۔نظروں کو اوپر کیا ۔جیسے وہ اللہ سے کہے رہے ہوں ۔۔۔اُس لڑکے کو بچا لیں ۔۔جس میں انکی بیٹی کی سانسیں بستی ہیں ۔۔۔

۔

“بابا جان وہ بچ بھی گیا تو کیا ہو جائے گا ۔۔وہ لڑکا ساری زندگی اپنے پیروں پہ چل نہیں سکے گا ۔۔۔میں نے اُس کے ڈاکٹر سے پوچھا تھا۔۔۔۔انکو بلکل اُمید نہیں تھی اُس کے بچنے کی بھی “

شہاب نے باپ کے سامنے پڑے صوفے پے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

۔

“کیا وجدان ساری زندگی چل نہیں سکے گا ؟”

دادی اماں نے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے یکدم پوچھا ۔۔۔جیسے اُن کے جسم میں کرنٹ لگا ہو ۔۔۔اُن کو بلکل بھی ایسی انہونی کی امید نہ ہو ۔

“جی دادی اماں میں ٹھیک کہے رہا ہوں “

شہاب نے اب کی بار دادی اماں کو دیکھا جو پٹھی آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھی جا رہیں تھیں ۔۔۔

۔

“نہ مڑہ ۔۔۔۔وہ بچ بھی جائے بیشک ہم اپنی بچی کی شادی کبھی بھی اُس کے ساتھ نہیں کروائیں گے “

دادی اماں نے ابراہیم صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایا ۔۔۔

۔

“اماں یہ ممکن نہیں ہے اب زرمینہ گُل اُس کے بغیر نہیں رہ سکتی “

رقیہ بیگم نے اپنے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے کہا ۔۔جیسے اماں سے زیادہ اُن کو دھجھکا لگا ہو ۔۔۔۔وہ اماں کی بات سے اتفاق رکھتی ہوں ۔۔۔مگر اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے اُس کا معذور ہونا قبول کر رہی ہوں۔۔۔

۔

“کیسے ممکن نہیں ہے ؟ یہ پوری زندگی کا سوال ہے بہو ۔پوری زندگی ایک بندہ چل نہیں سکتا تو وہ اپنی بیوی کو کھلاۓ گا کیا ۔۔۔محبت سے پیٹ نہیں بھرتا ۔۔وہ پوری زندگی ایک اپایج کے ساتھ کیسے گزرا کرے گی۔ جو اپنے پیروں پے چل بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔مڑہ میں بتا رہی ہوں یہ شادی کبھی بھی نہیں ہو سکتا “

انہوں نے وہاں موجود سب کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جیسے یہ انکا آخری فیصلہ ہو ۔۔۔۔اِس کے بعد مزید کوئی بات نہ کرے

۔

“دادی اماں تو آپکی پوتی کون سی مکمل رہی ہے اب ؟ “

سلطان نے دادی اماں کی بات سنتے ہوئے کہا ۔۔۔۔سب نے مڑ کے اُس کو دیکھا جو دروازے کے پاس اکیلا کھڑا تھا ۔۔۔کچھ وقت پہلے جو اُس کے ساتھ گئی تھی واپسی پہ ساتھ نہیں تھی ۔۔۔۔

۔

بتائیں نا اماں جی آپ کی پوتی مکمل ہے ؟ ایک گردہ نہیں ہے اسکا جسم پہ ٹانکے ہی ٹانکے ہیں ۔۔۔۔خون کا ایک قطرہ اُس میں اپنا نہیں ہے۔۔۔۔۔ایک قدم وہ چل نہیں سکتی۔ ۔۔جب تک زندہ ہے روز ڈھیروں دوائیاں کھاۓ گی ۔۔۔تو بتائیں کون سا شہزادہ آئے گا اُس کے لیے؟

آج پہلی دفعہ ایسا ہوا تھا ۔۔۔کسی نے اماں جی کے فیصلے پہ اِس طرح کا ردِ عمل دیا تھا ۔۔۔ورنہ وہ تو کیا اُس کے باپ کو بھی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ اُن کے سامنے کچھ بولے ۔۔۔۔

۔

“چل تو سکتی ہے نا زرمینہ گُل “.

اُس کی اِس بات پہ دادی اماں نے سخت لہجے میں اُس سے پوچھا ۔۔۔

“چلنے سے کچھ نہیں ہوتا دادی اماں ہر مرد کو ایک مکمل عورت چاہیے ہوتی ہے ۔۔۔۔آپ کے پوتے نے تو اُس کے یونیورسٹی جانے پہ رشتے سے انکار کر دیا تھا ۔۔۔۔تو بتائیں کون سا مکمل مرد اُس سے شادی کرے گا ؟”

سلطان اُن کو حقیقت بتا رہا تھا ۔۔۔پوتے کی بات پہ اُس نے سامنے کھڑے تایا کو دیکھا تھا ۔۔۔جہنوں نے فوراً اپنی نظریں جُھکا لیں تھیں ۔۔۔جیسے وہ اپنے بیٹے کی اُس حرکت سے آج تک شرمندہ ہوں ۔۔

۔

“سلطان تم میری ماں سے بات کر رہے ہو ۔۔۔تم لوگوں کا باپ ابھی اتنا کمزور نہیں ہوا ۔۔کہ میرے سامنے بیٹھے ہوئے تم میری ماں سے اِس انداز میں بات کرو ۔۔۔مجھے مجبور نہیں کرنا میں اُٹھوں اور تمہارے منہ پہ لگاؤں “

وہ جو کب سے اتنے دنوں نے خاموش تھے آج بولے تھے اور ایسا بولے تھے کہ سامنے کھڑے لڑکے کی ٹانگیں کانپنے لگیں ۔۔۔۔۔اُس نے ایک نظر اپنی ماں کو دیکھا جہنوں نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُسے چپ ہونے کا اشارہ کیا ۔۔

۔

“رہی بات زرمینہ گُل کی شادی کی تو جو میری ماں کا فیصلہ ہے وہی میرا بھی ہے ۔۔۔۔جو اماں چاہیں گی وہی ہو گا “

اُس نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا جو کچھ وقت پہلے موم تھا ۔۔۔۔۔۔۔تب وہ ایک باپ تھا صرف ایک باپ ۔۔۔اب وہ ایک بیٹا بھی تھا جس نے اپنی ماں کے حکم کا پاس رکھنا تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ڈاکٹر صاحب بچی کو اندر جانے دیں”

وہ icu میں تھا بے ہوش تھا ۔۔ڈاکٹر کسی کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔وہ کب سے وہاں بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس کو دیکھنے کی منتظر تھی ۔۔۔کب سے اُس کے ماں باپ ڈاکٹر کی منتیں کر رہے تھے ۔۔نا جانے وہ کیسے ماں باپ تھے جو اپنے دل پہ پتھر رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔وہ اپنے جانے کی منتیں نہیں کر رہے تھے ۔۔۔وہ تو اُس لڑکی کی منظوری کی التجاء کر رہے تھے ۔۔جو اُن کے بیٹے کی محبت تھی۔ اُن کے بیٹے کے لیے سر پہ چادر کیے نظریں جھکائے آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہاں بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔

۔

“کیا بات ہے ڈاکٹر وحید ؟”

ڈاکٹر شاہ نے دور سے آتے ہوئے وہاں کھڑے لوگوں کو دیکھا ۔۔۔۔جو ڈاکٹر کو کچھ کہے رہے تھے ۔اور وہ مسلسل نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔

۔

“ڈاکٹر شاہ یہ وجدان شاہ سے ملنا چاہتے ہیں ۔۔۔اُن کی کنڈیشن ایسی نہیں ہے کہ ہم اِن کو اجازت دیں “

انہوں نے چادر میں بیٹھی لڑکی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔

۔

“کیا لگتی ہیں آپ وجدان کی ؟”

اُس نے اُس لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو چہرے پہ درد لیے نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔وہ جانتی تھی اُس ڈاکٹر نے اُس سے پوچھا ہے ۔۔۔۔وہ اُس کو جواب نہیں دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ جواب دیتی بھی تو کیا کہتی ؟ کون ہے وہ اسکی ؟ کیا رشتہِ ہے اُس کے ساتھ اُسکا ۔۔۔۔اُس کے پاس دینے کے لیے کوئی جواب نہیں تھا ۔۔۔۔کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ ۔۔

۔

“بہو ہے یہ انکی “

اُس نے نظریں اٹھا کے اوپر دیکھا ۔۔سامنے اُس کا باپ کھڑا تھا ۔۔۔۔سب نے حیرت سے اسکو دیکھا جو مسکراتے چہرے کے ساتھ اُس کو وجدان کی بیوی کے رہا تھا ۔۔۔۔سامنے کھڑے شخص کی بہو کہے رہا تھا ۔۔۔۔ابراہیم صاحب کی بات سنتے ہی وہ اُن کے پاس گے ۔۔اُن کو اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔وہ زبان کا پکا پٹھان تھا ۔۔۔اپنی بیٹی کو دی ہوئی زبان سے مُکر نہیں سکتا تھا ۔۔۔ماں کے حکم کو اُس نے اپنی دی ہوئی زبان سے افضل رکھا ۔۔۔اُسی ماں نے ایک بار پھر انکو حکم دیا۔۔۔۔زرمینہ گُل کی خوشیوں کو بحال کرنے کا حکم ۔۔۔

۔

“بی بی صاحبہ آپکی امانت ہے یہ میرے پاس جب چاہیں لے جائیں “

ابراہیم صاحب نے نظریں جھکاتے ہوئے انکی طرف رُخ کیا ۔۔۔۔وہ جو رو رہیں تھیں ایک بار پھر اونچا اونچا رونے لگیں ۔۔۔۔انہوں نے ایک بار پھر وہاں بیٹھی لڑکی کو دیکھا ۔۔۔۔ایک بار پھر اسکو اپنے سینے سے لگایا ۔۔۔۔اُس کو پیار کیا ۔۔۔پہلے جب انہوں نے اسکو دیکھا تھا اُس وقت وہ صرف وجدان کی پسند تھی ۔۔۔آج وہ اُس کے ہونے والی بیوی کے روپ میں انکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“زرمینہ گُل کہاں ہو تم “

فضہ نے ہاسپٹل کے گیٹ کو پکڑتے ہوئے اپنے دل میں کہا ۔جیسے وہ اُسکا نام لے گئی اور وہ اُس کے سامنے حاضر ہو جائے گی ۔۔۔اُس کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھے گی خاموش ہو جائے گی ۔۔۔اُس کی آنکھوں پہ ہاتھ رکھتے ہی اپنی آنکھیں بند کر لے گی ۔۔۔۔اپنے ہونٹ کو دانت میں دبائے گی ۔۔۔ ہونٹ کو اندر کرنے سے اُس کا ڈمپل اور گہرا ہو جائے گا ۔۔۔۔”اور وہ اُس کے ہاتھوں پہ اپنے ہاتھ رکھ کے میری جان بولے گی “۔۔۔۔اُس کا شرارتی سا انداز ایک دم ناراضگی میں بدل جائے گا ۔۔۔ اُس کے ہاتھوں کی گرفت کمزور پڑ جائے گی ۔”کیسے پہچان لیتی ہو تم مجھے ” آنکھوں پہ ہاتھ رکھے وہ ناراضگی میں اُس سے بولے گی ۔۔۔۔اور وہ اُس کے دونوں ہاتھ تھوڑا سا نیچے کر لے اپنے ہونٹوں سے لگائے گی ۔۔۔اُن ہاتھوں کو باری باری چومے گی ۔۔”مجھے خوشبو آتی ہے آپکی ” وہ جو ناراض ہوئی تھی ایک دم مان جائے گی ۔۔۔اپنے ہاتھ اُس کی گردن کے گرد لے جائے گی ۔۔اور اُس کو گلے سے لگا لے گی ۔۔۔

۔

“جاناں “

اُس کی سوچوں کا حسار ٹوٹا ۔۔۔۔اُس کو وہی آواز آئی ۔۔جس کو سننے کے لیے وہ ترس گئی تھی ۔۔۔۔ یہ تو وہی آواز ہے ۔۔۔۔اُسی کی۔ آواز ۔۔۔وہ فوراً پیچھے مڑ ی ادھر اُدھر دیکھا وہاں تو کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔وہ آواز کہاں سے آئی تھی ۔۔۔وہ پھر سے یہاں وہاں دیکھنے لگی ۔۔۔جیسے وہ اس کو نظر آ جائے گی ۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔۔وہ نزدیک تو کیا اسکو دور بھی نظر نہیں آئی ۔۔۔۔۔

ایک بار پھر وہ آ کے گیٹ کے پاس کھڑی ہو گئی۔ اپنی آنکھوں سے بہتے آنسوؤں صاف کیے ۔۔۔۔۔ وہ گیٹ کے بلکل ساتھ کھڑے ہونا چاہتی تھی جیسے ہی انکو اندر جانے کی اجازت ملے سب سے پہلے وہ اُس کے پاس پہنچے ۔۔۔۔اُس کو ایک نظر دیکھے ۔۔۔اُس کے ساتھ لڑے ۔۔اپنے پیروں کی دونوں جوتیاں اُس کے سر سر میں لگائے ۔اور وہ سر جھکائے اُس کے سامنے کھڑی ہو ۔”لو اور مارو “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے آپ جائیں اندر “

ڈاکٹر شاہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔وہ دونوں ہاتھوں کو اپنی گود میں رکھ کے بیٹھی تھی ۔۔۔جیسے وہ سوچ رہی ہو ۔۔۔۔وہ کیسے دیکھے گی اسکو ۔کیا بات کرے گی اُس سے ۔۔کیسے بتائے گی اسکو کہ مر جائے گی وہ تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔۔۔کیا وہ اُس کی خاطر آٹھ جائے گا ؟ کیا وہ اُس کی خاطر تھوڑا سا اور اُس کے سنگ جیے ؟ کیا وہ محبت کے اقرار پہ اُس کو وہی پاکیزہ ہستی سمجھے گا ؟ کیا وہ بھی اُس کی زندگی میں اُن لڑکیوں کی لسٹ میں آ جائے گی جن سے وہ اپنی جان چھڑاتا ہے ؟ کیا قبول کرے گا وہ اُس کی پاکیزہ محبت ؟

“زرمینہ ؟”

فاطمہ نے اُس کو گہری سوچ میں ڈوبتا دیکھا ۔۔۔۔۔اُس کو آرام سے ہلایا جیسے اُس کو ایک بار پھر کہے رہی ہو ۔۔۔۔تم جا سکتی ہو اب اندر ۔۔

۔

اُس نے فاطمہ کی طرف دیکھا ۔وہ سمجھ گئی تھی ۔اُس کو اٹھنا ہے اب ۔جانا ہے اندر ۔۔۔۔۔اُس نے اپنا ایک ہاتھ کرسی پہ رکھا ۔جیسے اُس ہاتھ کے زور پے اٹھنا چاہتی ہو ۔۔۔۔درد کی شدت اتنی تھی کہ وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔”صبر زرمینہ میں آپکو اندر لے جاتی ہوں”

فاطمہ نے اُس کو بازوں سے پکڑ کے اوپر کیا ۔۔۔۔اُس کو اپنے کندھے کا سہارا دیا ۔۔۔۔وہ اٹھ کے کھڑی ہوئی ۔۔۔اُس دروازے کو دیکھنے لگی جہاں اُس کا وجدان تھا۔ ۔۔

۔

“ڈاکٹر شاہ جلدی اندر آئیں پیشنٹ کی حالت بہت خراب ہے “

وہ جس دروازے کو دیکھ رہی تھی وہاں سے ایک نرس بھاگتی ہوئی باہر نکلی ۔۔۔۔ڈاکٹر کو مریض کی اطلاع دی اور اُسی رفتار سے بھاگتی ہوئی اندر گئی ۔۔۔

۔

وہ جو سہارا لے کے اٹھی تھی وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“جنید کیا سوچا ہے تم لوگوں نے پھر ۔۔۔اگر وجدان ساری زندگی ایسے ہی رہتا ہے تو ۔یونیورسٹی والے اُس کے لیے کیا اسٹیپ لیں گے کیا اقدامات کریں گے ۔کچھ بھی ہو وہ آپ لوگوں کی فیکلٹی کا ممبر ہے ۔۔۔۔اور جس طرح سے اُس کے لیے سٹوڈنٹس نکلے ہیں۔ اِس کا یہی مطلب ہے کہ بہت مشہور شخصیت ہے وہ یونیورسٹی کی “

میجر نے اپنے آفس میں بیٹھے ہوئے پرنسپل کو کہا ۔۔۔۔۔۔

۔

ایسا کیسے ہو سکتا ہے میجر ہم اُس کو اُس کے مشکل وقت میں اکیلا چھوڑ دیں ۔۔جب کے ہمیں پتا ہے وہ اپنے ماں باپ کا واحد سہارا ہے ۔۔۔۔۔میں نے سوچ رکھا ہے اُس کے لیے ۔۔۔۔مجھے پورا یقین ہے وہ ویل چیئر پہ بھی ہوا وہ یونیورسٹی ضرور آئے گا ۔۔۔۔اگر وہ نہ بھی آیا ۔۔ہم گھر میں ہی اُس کے لیے آنلائن کلاسز کا بندوبست کریں گے ۔۔۔۔اُس کے سٹوڈنٹس اُس سے آنلائن کلاسس لیں ۔ہم ہر مہینے اُس کو سلری اُس کے گھر پہنچا دیا کریں گے ۔۔۔جب تک میں ہوں یونیورسٹی میں سب اُس کے حق میں بہتر ہوتا رہے گا ۔۔۔ان شاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔اللہ نے اُس کے لیے ضرور کچھ نہ کچھ بہت بہتر سوچ رکھا ہو گا ۔۔۔ویسے بھی وہ اتنا قابل ہے کہ وہ اپنے لیے خود بھی کچھ نہ کچھ ضرور سوچے گا ۔ضرور کوئی نہ کوئی راستہ نکال لے گا ۔۔۔وہ اُن لوگوں کے لیے خود کو مثال بنا لے گا جو اپنے پیروں پہ نہیں چل سکتے ۔۔۔خود کو دوسروں کے رحم و کرم پے چھوڑ دیتے ہیں ۔۔۔۔۔مجھے یقین ہے وجدان خود کو اِس حالت میں بھی اپنے ہیرو والی پوسٹ سے نیچے نہیں گرنے دے گا ۔۔۔

۔۔

انہوں نے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے مسکراتے ہوئے ایک مان سے کہا ۔۔۔۔وہ مان جو انکو وجدان پہ تھا ۔۔۔جو اُس نے کبھی توڑا نہیں تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ اندر کیوں آ گئیں ہیں آپ پلیز باہر جائیں “

وہ اپنی کمر پہ ہاتھ رکھے ایک ایک قدم چل کے اندر آ رہی تھی ۔۔۔جیسے درد کی شدت سے اُس سے چلا نہ جا رہا ہو ۔۔۔ڈاکٹر نے اُس کو دروازے پہ دیکھتے ہی باہر نکلنے کا کہا ۔۔۔وہ کہاں باہر نکلنے کو آئی تھی ۔وہ تو آئی ہی اندر آنے کے لیے تھی ۔۔۔۔ڈاکٹر کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ آگے جانے لگی ۔۔۔۔اُس کی نظر بیڈ پہ پڑے شخص پہ پڑی ۔۔۔جس کے سر پہ سفید پٹی بھندی تھی ۔۔۔۔منہ پہ جگہ جگہ زخموں کے نشان تھے ۔۔۔۔ناک پہ آکسیجن ماسک لگی تھی ۔۔۔۔وہ مُسلسل اوپر نیچے ہو رہا تھا ۔جیسے بہت مشکل سے سانس لے رہا ہو ۔ایک ایک سانس پہ اُس کو تکلیف ہو رہی ہو۔۔۔۔۔وہ بغیر کسی کو دیکھے چیزوں کو پکڑے اُس تک پہنچ رہی تھی ۔۔۔۔آج اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں نہیں تھے ۔۔۔۔وہ خشک ہوتی آنکھوں سے اُس تک جا رہی تھی ۔۔۔۔جیسے جیسے وہ اُس کے قریب پہنچ رہی تھی ۔۔۔اُس کی حرکت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔اُس کے سانس لینے کی رفتار بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔۔وہ بند آنکھوں سے اُس کو محسوس کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ اُس کے پاس تھی بلکل پاس۔۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا تھا وہ اُس کے پاس آئے اور اُس کو محبوبہ کی خوشبو نہ آئے ۔۔۔۔۔وہ آنکھیں بند کئے لیٹا تھا ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا وہ اُس کے پاس آئے اُس کو اِس حالت میں دیکھے ۔۔۔۔

۔

وہ اُس کے پاس آئی ۔۔اُس کی سر والی طرف کھڑی ہوئی ۔۔۔اپنے دونوں ہاتھ اُس کے بیڈ پہ رکھے ۔۔۔اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔آرام آرام سے سانسیں لینے لگی۔۔۔۔۔۔

۔

“کیوں آئیں ہیں آپ یہاں؟ “

وہ اپنی آنکھیں بند کئے وہاں کھڑی تھی کہ اُس کو آواز سنائی دی۔۔۔۔۔اُس نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔وہ اپنے منہ کا رُخ دوسری طرف کر کے آنکھیں بند کیے لیٹا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ اُس کو دیکھنا نہ چاہتا ہو ۔۔۔۔آکسیجن ماسک کی وجہ سے وہ لفظوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے بیان کر رہا تھا ۔۔۔جیسے اُس کو بولنے میں تکلیف ہو رہی ہو ۔۔۔۔پاس کھڑے ڈاکٹر اور نرس یہ سب دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔ڈاکٹر کے اندر آتے ہی وہ ہوش میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔بس اُس کو مسئلہ تھا تو سانس لینے میں۔ جِس کی وجہ سے نرس اتنا ڈری ہوئی باہر آئی تھی ۔۔۔۔۔ڈاکٹر نے پاس کھڑے اسٹاف کو آنکھوں کے اشارے سے باہر جانے کا کہا۔اور خود بھی دروازہ کھولے باہر نکل گیا ۔۔۔۔اب وہاں اُن دونوں کے علاوہ کوئی موجود نہیں تھا ۔۔۔وہ ایک سکتے کے عالم میں کھڑی اُس کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے۔ اتنا بے رحم کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔کتنی سوچوں کے بعد وہ وہاں اُس کے پاس آئی تھی ۔۔۔۔وہ اُس کو کیسے دودکار سکتا ہے ۔۔۔۔کیسے اُس کو رُسوا کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو اپنی ہی نظروں میں گرا رہا تھا ۔۔۔۔

۔

“جائیں آپ یہاں سے “

ویسے ہی رُخ دوسری طرف کیے وہ ایک بار پھر بولا ۔۔۔۔۔۔اُس کا لحاظ رکھے بغیر بولا کہ وہ بیمار ہے ۔۔۔۔۔مشکل سے چل کے آئی ہے ۔۔۔۔بہت مشقتوں کے بعد اُس تک پہنچی ہے۔

۔

“چلی جاؤں میں ؟”

نظریں جھکائے ایک ہاتھ سے منہ پہ ہلکی سی چادر کیے آنکھوں میں آنسوؤں لیے وہ اُس کو طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔اُس نے ایسے چادر کر رکھی تھی کہ اُس کا منہ کسی کو نظر نہ آئے۔۔۔۔۔ایک ہاتھ سے وہ مسلسل چادر کو آگے کرتی رہی تھی ۔۔۔

۔

“ہاں چلی جائیں آپ یہاں سے “

اُس نے ایک بار پھر اُسی بے رحمی سے کہا ۔۔۔۔۔اپنے ہاتھوں کی موٹھیوں میں بیڈ پہ پڑی چادر کو مضبوطی سے پکڑے لگا ۔۔۔۔۔

۔

“آپ کو چھوڑ کے چلی جاؤں میں؟”

بھاری ہوتی آواز کے ساتھ اُس نے معصومیت سے پوچھا ۔۔۔۔وہ مسلسل اُس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جیسے اُس نے آج سے پہلے کبھی اُس کو نہ دیکھا ہو ۔۔۔

۔

“ہاں”

اب کی بار اُس کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔۔۔۔رُخ دوسری طرف کیے ۔آنکھوں کی نمی کو ایک ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے ۔۔اُس نے بس ایک لفظ میں جواب دیا ۔۔۔جیسے وہ کچھ اور بولے گا تو اپنا ضبط کھو دے گا ۔۔۔اُس کے سامنے کمزور پڑ جائے گا ۔۔۔

۔

“لیکن میں تو نہیں جاؤں گی آپکو چھوڑ کے “

آنکھوں سے آنسوؤں صاف کرتے ہوئے اُس نے معصومیت سے ڑہٹھ بنتے ہوئے کہا ۔۔۔

۔

“آپ میری بات کیوں نہیں سمجھتی ہیں ؟ “

غصے سے بولتے ہوئے وہ اُس کی طرف مڑا ۔۔۔۔۔۔۔اُس کو اپنے سامنے کھڑا دیکھا ۔۔۔۔اب اُس کے دونوں ہاتھ نیچے تھے ۔۔۔۔چادر اُس کے چہرے پہ ایسے تھی کہ ایک طرف بلکل چپھا تھا۔ ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں آنسوؤں تھے ۔۔۔۔اُس کی محبوبہ اُس کے سامنے کھڑی تھی پھر بھی وہ اسکو دیکھنے کی ہمت نہیں کر پایا ۔۔۔۔اُس کو ایک نظر دیکھتے ہی اُس نے اپنا رُخ پھر دوسری طرف موڑ دیا ۔۔۔۔۔آنسوؤں اُس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے تکیے پہ گرنے لگے۔ ۔۔وہ آنسوؤں صاف نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔وہ اُس کو محسوس نہیں کروانا چاہتا تھا وہ رُخ دوسری طرف کیے رو رہا ہے ۔۔۔۔۔

۔

“اِدھر دیکھیں میری طرف “

اب کی بار وہ تھوڑا آگے ہوئی۔۔۔۔ایک ہاتھ کو اُس کے بیڈ پہ رکھا ۔۔۔اور آرام سے اُس کے پاس اُس کے بیڈ پہ بیٹھی ۔۔۔اُس وقت وہ بھول گئی تھی وہ خود بھی بیمار ہے اُس کو بھی درد ہے ۔اُس کو بس اتنا یاد تھا وہ اپنے وجدان کے پاس ہے ۔۔

۔

“دیکھیں نا “

اُس نے روتے ہوئے اُس کے کندھے پے ہاتھ رکھا ۔۔جیسے اُس کو اپنی طرف موڑ رہی ہو۔ اپنی طرف دیکھنے کا کہے رہی ہو ۔۔۔

۔

اُس کے کندھے پے ہاتھ رکھتے ہی اُس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔وہ رو رہی تھی ۔۔۔اُس سے کچھ مانگ رہی تھی ۔۔۔۔کتنا ہے بس تھا وہ کچھ دینا تو دور اُس کی طرف دیکھ بھی نہیں سکتا ۔۔۔۔

۔

“ناراض ہیں مجھ سے بہت ؟”

آنکھوں میں آنسوں لیے وہ ایک بار پھر بولی ۔۔۔۔جیسے وہ چاہتی ہو سامنے لیٹا شخص اُس سے بات کرے اپنی چپ کو توڑے

۔

“جائیں نا یہاں سے آپ “

وہ جو کچھ وقت پہلے خود کو بہت مضبوط بنا رہا تھا۔ ۔۔ایک دم سے ہار گیا ۔۔۔اُس کی طرف اپنے چہرے کا رُخ کرتے ہوئے سسکیاں لے لے کے رونے لگا ۔۔۔

۔

“کیوں روتے ہیں آپ “

وہ اُس کے قریب ہوئی ۔اُس کے چہرے پہ ہاتھ رکھا ۔۔اُس کے انسوں ایسے صاف کرنے لگے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو پیار کرتی ہو ۔۔۔۔

۔

“آپ خود کو کیوں برباد کر رہی ہیں ؟”

اُس نے آنکھیں بند کیے نرمی سے اس کو کہا ۔۔۔۔

۔

“کس نے کہا میں خود کو برباد کر رہی ہُوں ؟”

اُس کے پاس اُس کے اوپر جُھکے وہ اُس کے چہرے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگی۔

۔

“مجھے نہیں لگتا ۔۔میں ساری زندگی کبھی اپنے پیروں پہ کھڑا ہو سکوں گا ۔۔۔۔میں کبھی چل سکوں گا “

اُس نے گہری سسکی لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس نے اپنے پاؤں ہی نہیں کھو دیے۔ اُس لڑکی کو بھی کھو دیا ہے ۔جِس کو اُس نے دن رات دعاؤں میں مانگا تھا ۔۔۔

۔

“میں نے تو آپ سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔فقط آپ سے۔ ۔۔اگر آپ ساری زندگی ہوش میں بھی نہ آتے میں تب بھی آپکا انتظار کرتی ۔۔۔آپ کے پاس ایسے ہی بیٹھی رہتی ۔۔۔آپکی داڑھی کو دیکھی۔ آپکو پتا کتنی اچھی لگتی ہے مجھے آپکی داڑھی ۔۔آپ کے چہرے کی مسکراہٹ “

اُس نے آرام سے اُس کے منہ سے ماسک نیچے کیا ۔۔۔۔جیسے اب وہ نارمل سانس لے رہا ہو۔ صحیح سے بات کر رہا ہو ۔۔۔۔

،وہ اُس سے اظہارِ محبت کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔بچوں کی طرح اُس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔جیسے وہ سب کچھ بھول گئی ہو ۔۔اُس کو یاد ہی نہ ہو سامنے بیٹھے شخص سے اُس کی اِس طرح پہلی ملاقات ہے۔ ۔۔۔اُس کو وہ صدیوں کا بندھن لگ رہا تھا ۔۔جیسے وہ صدیوں سے اُس کو جانتی ہو۔۔ روز اُس سے ایسے ہی باتیں کرتی ہو ۔

“آپ میری بات کیوں نہیں سمجھ رہی ہیں ۔کیوں نہیں سن لیتی ہیں میری بات “

اُس نے نظریں جھکائے ہوئے کہا ۔۔۔۔ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ہوا تھا وہ اُس کو دیکھتا ۔۔۔۔آج پہلی دفعہ تھی جب وہ اُس کے سامنے مکمل نقاب اُتارے بیٹھی تھی ۔۔اُس کی ہو کے بیٹھی تھی ۔۔۔

۔

فرض کریں آپ بلکل ٹھیک ہوں۔ ۔۔۔میں ایسے آپ کے سامنے لیٹی ہوں۔۔۔۔میں آپکو کہوں میں ایک مکمل عورت نہیں رہی ۔۔۔۔میں بیمار ہوں بہت ۔۔۔میرا ایک گردہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔زندگی میں آپ پہ بھوج بنی رہوں گی ۔تو آپ کیا کہیں گے ؟ چھوڑ جائیں گے مجھے ؟

۔

اُس نے نرمی سے اسکا چہرہ اوپر کیا ۔۔جیسے وہ چاہتی ہو وہ اِس بات کا جواب اُس کی طرف دیکھ کے دے ۔۔۔

۔

“آپ کو میں مر کے بھی نہ چھوڑوں ۔آپ میرے پاس ہوں میرے ساتھ ہوں بس یہی بہت ہے۔ ۔۔۔آپ کا سہارا بنوں گا میں۔۔آپکو اتنی محبت دوں گا کہ بھول جائیں گی آپ سب کچھ ۔۔۔۔آپ کو اپنے دل سے لگا کے رکھوں گا میں۔ محبت کی ہے میں نے آپ سے ۔۔۔شدید محبت۔ ۔میری محبت کو فرق نہیں پڑتا کہ اُس کی محبوبہ مکمل نہیں ہے “

وہ آنکھیں بند کئے بس بولے چلے جا رہا تھا ۔۔۔جیسے وہ اُس کو بیڈ پہ لیٹے دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔اُس سے باتیں کر رہا ہو۔۔

۔

“میرا بھی یہی جواب ہے ۔۔میری محبت اِس بات کی محتاج نہیں ہے کہ میرا محبوب چل نہیں سکتا “

اُس نے اُس کے دل پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔ ۔وہ بھول گئی تھی وہ جو شخص اُس کے سامنے لیٹا ہے ۔وہ اُس کا نا محرم ہے ۔۔۔۔

۔

ویسے بھی محبت کہاں دیکھتی ہے. وہ کسی نا محرم سے ہو رہی ہے یا محرم سے ۔وہ تو بس ہو جاتی ہے ۔۔۔کچھ خاص دلوں کو کچھ خاص لوگوں سے ۔۔۔۔۔

۔

۔

کچھ خاص دلوں کو عشق کے الہام ہوتے ہیں..

محبت تو معجزہ ہے اور معجزے کب عام ہوتے ہیں…

۔

اُس کے دل پہ سر رکھتے ہی وہ کچھ وقت پہلے کا اپنا سارا دُکھ بھول گیا ۔۔۔آنکھیں بند کئے اُس نے اُس کے کندھوں کے گرد اپنی باہوں کا ہار ڈالا ۔۔۔جیسے اُس کی باہوں میں پوری دنیا سما گئی ہے ۔۔۔۔اُس کو اسکی کائنات مل گئی ہو ۔۔۔۔

“ملکہ بہت محبت کرتا ہے وجدان تم سے “

کچھ وقت کے بعد اُس نے اپنے دل پہ سر رکھے اُس لڑکی کو کہا ۔۔۔۔

“مجھ سے کم “

اُس نے آنکھیں بند کیے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔

۔

“اہاں اہاں “

فاطمہ نے ہلکا سا دروازہ کھولا ۔۔۔وہ فوراً اوپر ہوئی۔۔۔۔۔سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ سامنے لیٹے شخص کو دیکھنے لگی۔ جیسے وہ اب شرم سے پیچھے نہیں دیکھ پائے گی ۔۔۔۔اُس کو دیکھتے ہی وہ مسکرانے لگا ۔۔۔

۔

“آئیں نا آپی “

اسی مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے بہن کو اندر آنے کا کہا ۔۔۔۔اور پھر سے اُس لڑکی کو دیکھنے لگا ۔۔۔جو چہرے پہ ہاتھ رکھے بیٹھی تھی ۔۔۔فاطمہ کے اندر آتے ہی وہ جلدی جلدی وہاں سے اٹھنے لگی ۔۔

۔

“آرام سے زرمینہ ۔۔۔کیوں آٹھ رہی ہو۔۔۔ تمہاری ہی تو جگہ ہے یہ “

فاطمہ نے اُس کو آرام سے پکڑتے ہوئے کہا ۔۔۔

۔

” فلحال ایسا ہے کہ مستقل یہاں بیٹھنے کے لیے تمہیں کچھ وقت یہاں سے اٹھنا پڑے گا “

اُس نے باری باری دونوں کو دیکھا ۔۔۔جو حیرت سے اُس کی طرف دیکھ رہے تھے ۔۔

نہیں سمجھے ؟ بھئی مولوی صاحب باہر کھڑے ہیں ۔۔۔اور آپکی یونیورسٹی کی پوری پلٹون بھی ۔۔۔جن کا بس نہیں چل رہا وہ دروازہ توڑ کے اندر آ جائیں ۔۔۔۔۔

۔

اُس بات پہ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔دونوں کے بیچ مسکراہٹ کا تبادلہ ہوا ۔۔جیسے آج سے پہلے انہیں کبھی ایسی خوشی نہیں ملی ۔۔۔

۔

“ارے لیلیٰ مجنوں سن رہے ہو نا دونوں باہر مولوی صاحب کھڑے ہیں “

فاطمہ نے اُن دونوں کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا ۔۔۔۔فاطمہ کی بات پہ وہ ایک دم اٹھی ۔۔۔جیسے شرمندہ ہوئی ہو ۔۔۔۔وہ کب سے اُسے اٹھنے کا کہے رہی ہیں اور وہ یہیں بیٹھی ہے ۔۔

۔

“زرمینہ تم یہاں صوفے پہ بیٹھ جاؤ”فاطمہ نے اسکو بازوں سے پکڑ کے آرام سے وہاں پہ بٹھایا ۔۔

۔

“آپی وہ چادر “

اُس نے اپنے پاس پڑی اُس سفید چادر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بہن کو کہا ۔۔۔۔جو اُس کی اگلی بات سمجھ گئی تھی۔ وہ بہن کو کیا کہنا چاہتا ہے ۔۔۔۔۔

۔

فاطمہ نے وہ چادر اٹھائی ۔۔اور صوفے پہ بیٹھی لڑکی کے سر پہ ڈال دی ۔۔۔۔جیسے اُس کا سارا چہرہ اُس چادر نے ڈھانپ دیا ہو ۔۔۔۔۔آج اُس کی شادی تھی ۔اُس کی زندگی کا سب سے بڑا دن ۔۔۔عموماً شادی پہ دلہنیں سُرخ جوڑا پہنتی ہیں ۔۔۔اُس نے سفید چادر اوڑھی تھی جو اُس کو اُس کے محبوب نے تحفے میں دی تھی ۔۔۔۔۔

۔

“آپی مولوی صاحب آ جائیں؟”

باہر سے ایک بہن نے اندر آتے ہوئے کہا ۔۔۔

“جی اُن کو بولو آ جائیں “

فاطمہ نے مسکراتے ہوئے اس کو کہا ۔۔اور پھر اپنے بھائی کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے لیٹا تھا جیسے خدا کا شکر ادا کر رہا ہو ۔۔۔۔انکی دی کوئی نعمت پے خود کو اُن کے سپرد کر رہا ہو ۔۔۔۔اِس کے بعد کسی چیز کی خواہش سے انکار کر رہا ہو ۔۔۔۔۔کہے رہا ہو مجھے میری دنیا مل گئی ہے اب مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *