Hijab by Amna Khan NovelR50618 Hijab (Episode 21,22)
No Download Link
Rate this Novel
Hijab (Episode 21,22)
Hijab by Amna Khan
وہ وہیں سیڑھیوں پہ کھڑے اُس کے ایک دیدار کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔کہیں سے وہ نظر آ جائے ۔۔۔۔کہ اُس کی بے قرار آنکھوں کو قرار آ جائے ۔۔اُس کے دِل کو سکون مل جائے ۔۔۔۔۔وہ تو اتنی راتوں سے اُس کو دیکھنے کے لیے جاگتی رہی ہے ۔۔۔۔یا اللہ مجھے مزید سانسیں دینا کہ آج میں اُس کو بس ایک بار دیکھ لوں
اُس نے اُس کے آفس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے دعا مانگی ۔
۔
۔
اُس کا آفس اُن کی کلاس کے بلکل ساتھ تھا ۔۔۔۔۔وہ عموماً اپنے آفس میں ہی ہوتا تھا کسی کو اتنا نظر نہیں آتا تھا ۔۔۔۔۔مگر آج زرمینہ کا دل گواہی دے رہا تھا وہ ضرور باہر آئے گا ۔۔۔۔وہ ضرور اُس کو نظر آئے گا ۔۔۔
۔
۔
“یار یہ کیا طریقہ ہے کلاس کیوں بند ہے ؟ اُس کو لاک کیوں لگا ہوا ہے ؟ اب ہم یہیں کھڑے رہیں گے ؟”
۔
ہانیہ کلاس کے باہر کھڑے ہو کے جاہرانا سے انداز میں بول رہی تھی اور ساری کلاس اُس کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھی ۔
۔۔
وہ سارے اپنی کلاس کے باہر کھڑے چچا کا انتظار کر رہے تھے جن کے پاس اُن کے ڈیپارٹمنٹ کی چابیاں تھیں ۔۔۔۔آج وہ کچھ لیٹ ہو گے تھے ۔۔۔۔اور سب کو کلاس کے باہر کھڑے ہو کے انتظار کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
” اب چچا آئیں گے اور کلاس کھولیں گے ۔۔۔تب تک ہم یہاں چوکیداروں کی طرح کھڑے ہو کے انتظار کریں گے ۔۔۔۔۔”
۔
وہ بغیر سوچے سمجھے بس غصے سے بولے جا رہی تھی ۔
۔
۔
۔
“زری اِدھر ائو مانور تمھیں بولا رہی ہے “
فضہ نے زرمینہ کو دور سے آواز دی ۔۔۔۔جو سب سے الگ کھڑی تھی ۔۔ ۔۔۔۔۔وہ سیڑھیوں کے پاس اُس کے آفس کے بلکل سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔۔تاکہ وہ آئے اور سب سے پہلی نظر اُس پہ بس اُس کی ہی پڑے ۔۔۔۔اُس کو خود نہیں پتا تھا وہ ایسا کیوں سوچ رہی ہے ۔۔۔وہ کیوں ایسا چاہتی ہے اُس کے علاوہ آج سب سے پہلے اُس کو کوئی نہ دیکھے ۔۔۔۔کسی کی نظر اُس پہ نہ پڑھے ۔۔۔
۔
“زری جلدی ائو نا “
فضہ نے اُس کو وہیں کھڑا دیکھ کے ایک بار پھر سے آواز دی ۔۔
۔
“کیا بات ہے فضہ ؟”
وہ اُس کے پاس آئی اور ہے دل سے کھڑی ہوئی ۔۔۔۔وہ تو وہاں ہی کھڑے رہنا چاہتی تھی مگر وہ کیا کہتی وہ کیوں وہاں ہونا چاہتی ہے ۔۔۔۔
۔
۔
“کیا ہے کیا کر رہی تھی اُدھر ،مانو بولا رہی تھی تمھیں اب پتا نہیں خود محترمہ کدھر چلی گی ہیں “
۔
فضہ نے ادھر اُدھر ماہ نور کو ڈھونڈنے والے انداز میں دیکھا اور اُس کو کہنے لگی ۔۔۔۔
۔
وہ آپس میں باتیں ہی کر رہی تھیں ۔۔۔۔۔کہ وہ سیڑھیوں سے بھاگتا ہوا آیا۔۔۔۔۔ہاتھ میں موبائل پکڑے بلیک کوٹ اور گرے جینز پہنے وہ انتہاء کا پرکشش لگ رہا تھا ۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا جیسے اُس نے یونی آنے سے پہلے ابھی ابھی کٹنگ کارروائی ہے ابھی ابھی داڑھی بنوائی ہے ۔۔۔وہ ہمیشہ سے ہی ایک پر وقار اور پر اعتماد شخصیت کا مالک تھا ۔۔۔۔وہ جب بھی سیڑھیوں سے دوڑتا ہوا آتا تو سو لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ۔۔۔
۔
جیسے ہی اُس کو سب نے دیکھا سب اُس کے پاس جمع ہو گے ۔۔۔۔
۔
“اسلام علیکم سر”
سب نے ہی اُس کو ایک وقت بعد دیکھا تھا ۔۔۔ہر کوئی اُس کی بہت عزت کرتا تھا وہ تھا ہی ایسا عزتوں والا ۔۔۔سب اُس کے پاس روکے تھے۔ وہ سب کے ساتھ ہس ہس کے بات کر رہا تھا مگر اُس کی نظر کسی کو ڈھونڈ رہی تھی ۔
وہ سلام کا جواب ادھر اُدھر دیکھ کے دے رہا تھا ۔۔۔۔۔جیسے کسی کا منتظر ہو ۔۔۔۔کسی کو دیکھنا چاہتا ہو ۔۔۔۔
۔
۔
وہ جو کونے میں کھڑی تھی تھوڑی سی آگے آئی
۔اُس کو سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی وہ کیا کرے ۔۔۔۔۔۔۔۔اُس نے ایک نظر اُس کو دیکھا اور اپنی آنکھیں بند کر لی ۔درود شریف کا ورد کیا ۔۔۔۔اور آنکھیں کھول لیں ۔۔۔وہ اب بھی اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔اُس کو جواب دے رہا تھا ۔سب کا حال پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔ایک مسکراہٹ چہرے پہ سجاۓ وہ سب کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔اور اُس کا دل اُن سب میں بس ایک لڑکی پہ روکا تھا ۔
۔
جیسے ہی اُس نے اسکو دیکھا کی دھڑکنیں بے قرار ہوئی ۔۔۔۔۔اُس نے آج پہلی دفعہ اُس کو ایسے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔وہ نہ بھی دیکھتی اُس کی نظریں اُس کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔اُس کی آنکھوں پہ اُس کا کوئی اختیار نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھے جا رہی تھی ۔ وہ اُس کی نگاہوں کا مرکز بنا ہوا تھا ۔۔۔۔اُس نے ایک بار پھر درود شریف پڑھی اور تھوڑا سا آگے ہوئی ۔جو بار بار اُس کو دیکھ کے نظریں جُھکا لیتا تھا ۔۔۔۔
“اسلام علیکم سر “
اُس نے اُس کو دیکھ کے سلام کیا ۔۔۔۔اور اُس نے نظریں جھکائے سلام کا جواب دیا اور آفس میں چلا گیا ۔۔۔اُس کا زیادہ دیر وہاں اُس کے سامنے کھڑے ہونا ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔وہ اُس کو جواب دیتے ہی بغیر اُس کو دیکھے آفس میں آیا دروازہ بند کیا ۔۔۔۔۔ اور سر کو اپنے میز پہ رکھ کے نیچے ہوا ۔۔اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔آنکھیں بند کیں۔ ۔۔۔۔وہ کچھ دیر ایسے ہی نیچے ہو کے بیٹھا رہا ۔۔۔۔وہ اُس کو اپنے اندر اتارنا چاہتا تھا جس کو کچھ دیر پہلے اُس نے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔اُسکا ہجر آج ختم ہوا تھا ۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔جس کو دیکھنے کے لیے نا جانے اُس نے کتنی دعائیں مانگی تھی۔۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں کی معصومیت کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی شرارتیں دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ایک ہی دعا مانگتا تھا کاش تم سے میرا کوئی خون کا رشتہ ہوتا ملکہ ۔۔۔۔یہ ہجر مجھے اتنا دُکھ نہ دیتا ۔۔۔۔۔میں تمھیں کھبی بھی دیکھ سکتا ۔تمہاری کربت کو محسوس کرتا ۔۔۔۔کاش کاش ملکہ تم سے میرا کوئی تعلق ہوتا ۔۔۔۔۔
۔
وہ میز پہ سر رکھے دنیا سے بے نیاز اپنی ہی سوچوں میں گم تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے آج کسی اور ہی لڑکی کو دیکھا تھا۔جو بھجی بھجی سی تھی ۔۔۔اُس کے سامنے آنے سے ڈر رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی اُلجھن تھی ۔۔۔۔۔جیسے کچھ سوچ رہی ہو۔ جیسے خود کو دنیا سے چھپا رہی ہو ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ اُس کے سامنے رہنے والی آج سب کے پیچھے ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اپنا آپ اُس سے چھپا رہی تھی ۔۔۔۔۔جس نے اُس کو ایک لمحے کو بھی نظر بھر کے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اُس سے چھپ رہی تھی
.
وہ اٹھا اور آفس سے باہر آیا ۔۔وہ ایک بار پھر اُس کو دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کو اُلجھن کو ایک بار پھر سے محسوس کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ابھی تک سب اُس کے آفس کے باہر کھڑے تھے۔ ۔۔۔۔وہ کسی کام کے بہانے باہر آیا ۔۔۔۔۔۔۔اُس نے سرسری سی ایک نظر سب پہ ڈالی اُس کو سب نظر آئے سوائے اُس کے جس کو وہ دیکھنے آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“ماہ نور آپ نے مجھے بلایا تھا “
۔
وہ کلاس کے بعد باہر آئی جہاں ماہ نور اکیلے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ہی سب سے الگ اور اکیلا اکیلا رہتی تھی ۔۔۔کھبی کسی سے بات نہیں کرتی تھی۔ ۔۔۔ہمیشہ اپنی ہی سوچوں میں گم گم سی ہوتی۔ ۔۔۔
۔
زری کا ہمیشہ دل چاہتا تھا وہ اُس کے پاس بیٹھے۔ ۔۔اُس سے پوچھے کیا ہوا ہے ۔۔۔وہ کیوں ایسے رہتی ہے۔۔۔۔۔مگر اُس نے خود کو سب سے اتنا الگ الگ رکھا ہوتا تھا کہ کوئی اُس سے بات ہی نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔
۔
وہ زری آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ۔۔۔آپ کے بولنے کا انداز ۔۔۔آپ کے چلنے کا انداز مجھے بہت اچھا لگتا ہے ۔۔۔۔میں ہمیشہ سے چاہتی تھی میں آپ کے ساتھ بیٹھوں باتیں کروں ۔۔۔مگر آپ کھبی اکیلے نظر نہیں آئیں ۔۔۔۔۔آج آپ اکیلی کھڑی تھیں تو میں نے سوچا میں آپ سے بات کر لوں ….
۔
ماہ نور معصومیت سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔۔
۔
ماہ نور میں بھی چاہتی تھی کہ میں آپ کے ساتھ بات کروں ۔۔۔۔آپ یوں الگ الگ رہتی ہیں ۔۔۔۔میں ہمیشہ آپ سے پوچھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔آپ کیوں ایسے الگ الگ سا ہوتی ہیں سب سے ۔۔۔۔۔
۔
وہ یونی کے گراؤنڈ کے ایک کونے میں بیٹھی اُس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔جو ایک عرصے سے اُس سے اُس کا یہ انداز پوچھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
۔
“زری میری عادت ہی ایسی ہے “
یہ کہتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں ایک دُکھ کی لہر آئی جو اُس نے بلکل واضع دیکھی تھی ۔۔۔۔
۔
ماہ نور آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں ۔ یقین مانیں آپ کی بولی ہوئی ہر بات میرے ساتھ قبر میں جائے گی ۔مگر میرے منہ سے باہر نہیں نکلے گی ۔۔۔۔میں کسی کی بات کسی سے بھی نہیں کرتی۔
۔
اُس نے پاس بیٹھی لڑکی کے ہاتھوں پہ اپنا ہاتھ رکھا اور اُس کو یقین دلانے لگی ۔۔۔وہ ایسی ہی تھی سب کے دُکھ بانٹنے والی ۔۔۔۔دوسروں کے دُکھوں میں دُکھی ہونے والی ۔۔۔
۔
“زری آپ اس بات پہ یقین رکھتی ہیں کہ ایک سٹوڈنٹس کو اپنے ٹیچر سے محبت ہو جائے۔ ۔مطلب ایک شاگرد کو اپنے اُستاد سے محبت ہو سکتی ہے؟ “
۔
وہ نظریں جھکائے بولتی گی ، اور زرمینہ کو لگا جیسے جیسے اُس کے دل پہ کسی نے خنجر چلایا ہو۔ ۔۔اُس کے دل کے اندر تک کسی نے وہ خنجر اُتارا ہو ۔
۔
“محبت ؟”
“کیا ہوتی ہے محبت ؟ کیسے پتا چلتا ہے ہمیں محبت ہو گئی ہے ؟ “
زرمینہ نے اُس کا چہرہ بہت غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔اُس کو تو پتا بھی نہیں تھا محبت کیسے کہتے ہیں۔ محبت کیسے کہتے ہیں۔۔۔اُس نے تو اللہ اور اُس کے رسول سے ہی محبت کی تھی ۔۔۔
۔
“آپکو محبت کا نہیں پتا زرمینہ؟”
اُس نے اپنے پاس بیٹھی اُس لڑکی کو بہت غور سے دیکھا جو اس عمر میں اُس سے پوچھ رہی تھی کہ محبت کیا ہوتی ہے ۔۔۔محبت کا کیسے پتا چلتا ہے۔ ۔۔۔۔
۔
“آج کل تو سولہ سال کے بچے بھی کسی کو ہس کے دیکھ بھی لیں تو اُن دونوں کو آپس میں محبت ہو جاتی ہے۔ ۔۔اور اُس بیس سال کی لڑکی کو یہ نہیں پتا کے محبت کیسے کہتے ہیں”
۔
“نہیں مجھے نہیں پتہ “
اُس نے بےچینی سے منہ پہ مسکراہٹ لائی ۔۔۔۔اور اُس کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔۔۔
۔
محبت ایک احساس ہے زرمینہ ۔۔۔۔۔اور اِس احساس کا کوئی نام نہیں کوئی وجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔محبت بہت سی طرح کی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ہر رشتے سے محبت کا اپنا احساس ہے ۔۔۔۔۔اب دیکھو جیسی محبت ہم اللہ سے کرتے ہیں ویسی محبت ہم اپنے اپنے ماں باپ سے نہیں کرتے ۔۔۔۔۔جیسی محبت ہم آقا جان علیہ السلام سے کرتے ہیں ویسی محبت ہم کسی سے نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔۔ہر محبت کا اپنا احساس ہوتا ہے۔ ۔۔۔
۔
وہ اُس کو محبت کے بارے میں بتانے لگی اور وہ خاموشی سے سنتی رہی۔ ۔۔
۔
اب اگر ہم عشق کی بات کریں تو وہ دو طرح کے ہوتے ہیں۔
ایک عشقِ حقیقی اور دوسرا عشقِ مجازی ۔۔۔۔
۔
عشقِ حقیقی مطلب خدا پاک سے محبت اور عشقِ مجازی اُس کی مخلوق کے کسی ایک بندے سے محبت ۔۔۔۔۔۔
۔
پیار ہمیں دنیا کے بہت سے لوگوں سے ہو جاتا ہے ۔۔۔۔محبت بھی بہت ساروں سے ہو جاتی ہے۔ یہ جو عشق ہوتا ہے نا زرمینہ یہ فقط ایک سے ہوتا ہے ۔۔۔پہلے تو ہوتا نہیں ہے اور جب ہو جائے نا تو محبوب کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا ۔۔۔۔۔دِن رات وہ ہمارے خیالوں میں رہتا ہے۔ ایسا لگتا ہے ہماری روح کی جگہ محبوب نے گھر کر لیا ہو ۔۔۔۔۔جیسے ہی ہمارے اندر سے نکلے گا تو ہم مر جائیں گے ۔۔۔۔۔اور ہاں اُس نے نکلنے سے ہم مر جاتے بھی ہیں ۔۔۔۔۔۔اور یہ موت اُس موت سے بہت تکلیف دہ ہوتی ہے جو قبر میں لے جائے ۔
۔
پتا ہے زرمینہ یہی عشق ہمیں رب العالمین کی طرف لے جاتا ہے ۔۔۔۔ہم جب ٹوٹتے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کوئی ہمیں جوڑے ۔کوئی ہمیں سہارا دے۔۔۔۔۔عشق میں ٹوٹ جانے والوں کو کہاں کوئی انسانی طاقت جوڑ سکتی ہے ۔۔۔۔۔وہ تو بس ایک ذات ہے جو جوڑتی ہے ۔۔۔جو جوڑ سکتی ہے۔۔۔۔۔جو ہمارے زخموں پہ خود ملہم لگاتی ہے وہ ذات ہمیں اپنے قریب کرتی ہے اپنے آہوش میں لیتی ہے ۔۔۔۔۔اور تب ہم بس اُس کے ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔
“پھر یہاں سے ہمارا سفر عشقِ مجازی سے عشقِ حقیقی تک جاتا ہے۔”۔
۔
وہ بول رہی تھی اور بولے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔ آج زرمینہ نے پہلی دفعہ اُس کو بولتے سنا تھا بولتے دیکھا تھا۔۔۔۔۔۔اکثر ٹوٹے ہوئے لوگ خاموش ہو جاتے ہیں ۔محبت اُنکو خاموش کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔وہ اپنی ہی دنیا میں چلے جاتے ہیں۔ اُن کو دنیا اور اُس کی رنگینیوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی کوئی مطلب نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔شاید وہ بھی تب خاموش رہتی تھی
۔
“زرمینہ سوری میں آج کچھ زیادہ ہی بول گی “
۔
اُس نے بولتے بولتے اُس لڑکی کو دیکھا جو مسلسل اُس کو دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“ماہ نور تم نے ٹیچر اور سٹوڈنٹ کی محبت کا پوچھا ؟میں یہ بات سمجھ نہیں پائی “
وہ دوبارہ اُس بات پہ آنا چاہتی تھی جہاں سے بات شروع ہوئی تھی ۔۔۔۔۔جس بات نے اُس کو اندر سے جھنجھوڑا تھا ۔۔۔۔۔وہ پھر سے اُس سے پوچھنا چاہتی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
ہاں سوری بات کہاں سے کہاں چلی گئی ۔۔۔ میں یہ پوچھنا چاہتی تھی کیا ایک استاد اور ایک شاگردِ کی محبت جائز ہے ؟کیا ایک شاگرد اپنے استاد سے محبت کر سکتا ہے؟
۔
اُس نے اُس کی طرف دیکھ کے سوال کیا جو بلکل ساکت ہو چکی تھی۔ ۔۔۔جو کچھ بولنے کی ہمت کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔یہ اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔وہ لڑکی اُس سے اِس بارے میں بات کیوں کر رہی ہے جس تلکیف سے وہ اتنے عرصے سے گزر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ “
۔
اُس نے اُس کو آواز دی اُس کو بلایا جو حقیقت کی دنیا سے بہت دور سوچوں کی دنیا میں کہیں گم ہوئی وی تھی۔۔۔۔
۔
“میں آپ کی بات نہیں سمجھی ماہ نور “
اُس نے لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اپنی بات کی تصدیق چاہی۔ ۔۔۔
۔
“میرا پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک استاد تو ہمارا روحانی باپ ہوتا ہے نا تو کیا ہمیں اُس سے محبت ہو سکتی ہے ؟ “
۔
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جس کی آنکھوں میں اب سُرخی اُتر آئی تھی ۔۔۔
۔ اُس کو لگا آج کوئی اُس کو گالی دے رہا ہے ۔۔۔۔۔اُس کے منہ پہ دھپر مار رہا ہے ۔۔۔۔۔اُس کو ملامت کر رہا ہے ۔۔۔۔بھری دنیا میں اُس کو ذلیل کر رہا ہے ۔
۔
اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔۔۔لمبے لمبے سانس لیے ۔۔خود پہ قابو رکھنے کی ناکام کوشش کی ۔۔۔۔
۔
۔
“زری”
“کیا کر رہی ہو تم یہاں پوری یونی ڈھونڈ آئی میں “
۔
فضہ نے اُس کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے کہا !
۔
“اچھا زرمینہ ہم اس بارے میں پھر بات کریں گے ۔۔۔اپنا خیال رکھیے گا میں چلتی ہوں “
۔وہ جو اُس کے پاس بیٹھی تھی اُس کو ایک گہری ضرب لگا کے وہاں سے غائب ہو گئی ۔۔۔۔۔اور وہ اُدھر ہی بیٹھی رہی جو اب کھبی کھڑی نہیں ہو سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یار یہ کیا اس سیمسٹر میں وجدان سر کا کوئی لسن نہیں ہے ؟”
کلاس میں سب افسردہ سے ایک دوسرے کو کہے جا رہے تھے۔۔۔
۔
ہر کوئی خفا تھا اس بار اُنکے فیوریٹ ٹیچر اُنکی کلاس نہیں لیں گے ۔۔۔
۔
شکر کیا تھا ایک ہی تو ٹیچر تھا جس کی وجہ سے یونی آنے کو دل کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اب تو یونی آنے کو بھی دل نہیں کرے گا ۔۔۔۔۔
۔
اُن کی کلاس میں لگتا تھا ہم سٹوڈنٹ کے ہی زُمرے میں ہیں ۔۔۔۔
۔
یار اُن جیسا ٹیچر کوئی ہو ہی نہیں سکتا ۔۔
۔
اُنکی کلاس میں لگتا ہی نہیں ہم کلاس میں ہیں لگتا ہے ہم اہلِ بیت کی محبت میں جھُوم رہے ہیں۔ اُنکا اہل بیت پہ بات کرنا۔ اُن سے محبت کرنا۔ یار کتنا کچھ سیکھ رہے تھے ہم اُن سے ۔
ہر کوئی اپنی اپنی بات کہے رہا تھا ۔۔۔۔کوئی ایک بندہ بھی ایسا نہیں تھا جو خفا نہیں تھا ہر کوئی افسردہ تھا ۔ہر کوئی رنجیدہ تھا ۔ ۔۔۔۔سوائے ایک شخص کے ۔۔۔۔۔
۔
۔
اُس نے آنکھیں بند کیں اور کُرسی کے ساتھ ٹیک لگائی۔۔۔۔۔شکر ہے اللہ جی سر کی کوئی کلاس نہیں ہے اب ہمارے ساتھ ۔۔۔۔اب میں اُن کو دیکھوں گی نہیں تو وہ مجھے یاد بھی نہیں آئیں گے ۔۔۔۔اُن سے دور رہوں گی تو شاید یہ درد یہ تکلیف کم ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔اُن کا ہر وقت میرے سامنے رہنا شاید میری بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔۔۔ میں اب بہت دور رہوں گی اُن سے۔
۔
وہ ٹیک لگائے ایک دُکھ ایک درد کے ساتھ سوچ رہی تھی کہ اچانک سے اُس کی آنکھوں کے کونوں سے پانی نکلا اور وہ حقیقت کی دنیا میں آئی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر آپ ہماری کلاس کیوں نہیں لے رہے ؟”
ہانیہ اُس کے آفس میں کھڑی اُس سے پوچھ رہی تھی ۔۔۔ویسے بھی وہ بہانے ڈھونڈا کرتی تھی کب موقع ملے اور کب وہ اُس کے آفس کا دیدار کرے ۔۔۔آج تو موقع ہی بڑا تھا ۔۔۔۔آج تو ساری کلاس نے اسرار کیا تھا ۔سب کے اسرار پہ وہ آج آئی تھی۔ سب یہی چاہتے تھے وہ ہماری کلاس نا چھوڑے ۔۔۔۔سب نے ہانیہ کو بجھا تھا اُن سے بات کو ۔۔۔۔۔
۔
وہ بھی کچھ حد تک اُس سے مانوس ہو چکا تھا اکثر اُس کی بات کا جواب ہس کے دے دیا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔اور یہ بات اُس کے لیے بہت تھی ۔۔۔۔۔اُس کو زمین سے آسمان تک لے جانے کے لیے اُس کا ہس کے بات کرنا ہی بہت تھا ۔۔۔۔
۔
“ہانیہ آپ کلاس کو کہے دیں اس دفعہ میرا اُن کے ساتھ کوئی سبجیکٹ نہیں ہے تو میں اُن کی کلاس نہیں لے سکوں گا ۔یہ پاسبل نہیں ہے “
۔
اُس نے سنجیدہ سے لیجھے میں کہا اور وہ وہاں پہ کھڑی اُس کو سنتی جا رہی تھی ۔
۔
“سر سب بہت زیادہ انسسٹ کر رہے ہیں کہ آپ ہماری کلاس نہ چھوڑیں “
۔
میں آپ کی کلاس میں آ کے خود سب سے بات کر لوں گا ۔۔۔۔میں خود بھی آپ کی کلاس نہیں چھوڑنا چاہتا ۔۔۔اگر پاسیبل ہوا تو میں ضرور کلاس لوں گا “
۔
اُس نے یہ کہتے ہوئے اپنا pc آن کیا اور اُس کو دیکھنے لگا ۔۔
۔
“اوکے سر بہت شکریہ “
یہ کہتے ہوئے وہ کلاس سے باہر چلی گئی اور وہ pc آف کر کے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگائے ایسے ہی کچھ وقت تک بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔۔
“جیسے سٹوڈنٹس سے زیادہ اُس کو دُکھ ہو “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہمیشہ چھت پہ بیٹھ کے مغرب کی اذان سنا کرتی تھی۔۔۔۔۔۔اُس کو فجر اور مغرب کی ازان سے کچھ زیادہ ہی محبت تھی ۔۔۔۔وہ ہمیشہ یہ دونوں اذانیں بہت دل سے سنتی تھی ۔۔۔یہ دونوں وقت اُس کو ایک عجیب سا سرور دیتے تھے ۔۔۔
۔
آج بھی وہ اتنے ہی دل کے ساتھ مغرب کی ازان سن رہی تھی ۔۔۔۔اور ساتھ آسمان کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔جہاں ایک خوبصورت چاند اُس کے سر پہ آنے کو تھا ۔اُس کو رات میں چاندنی کا منظر بہت پسند تھا ۔اور جب سے وجدان اُس کے خیالوں پہ طاری ہوا اُس کو یہ منظر ، رات کا وقت اور چاند کی چاندنی اور بھی خوبصورت لگنے لگے ۔۔۔۔وہ چھت پہ بیٹھ کے ہمیشہ یہی سوچتی تھی ۔کیا وجدان بھی اس چاند کو دیکھتا ہو گا؟ وہ جب بھی ایسا سوچتی اُس کو ایک عجیب سا سکونِ قلب ملتا ۔۔۔۔”
“کچھ تو ہے جو ہم ساتھ دیکھتے ہیں”
وہ یہ بولتے ہوئے ہلکا سا مسکرا دیتی ۔۔۔
۔
آج ماہ نور کی باتوں سے ایک دفعہ پھر اُس کے سوچنے کا زاویہ بدلا ۔۔۔۔وہ جس کو بھول جانے کی دعا مانگ رہی ہے وہ اُس کا اُستاد ہے ہاں اُس کا روحانی باپ ۔۔۔۔۔وہ اُس شخص کو کیسے سوچ سکتی ہے ۔۔
۔
ماہ نور نے کہا تھا کہ جو ہمارے خیالوں میں ہو ۔۔۔۔جس کے بغیر کچھ بھی نا نظر آئے ۔۔۔۔۔جس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے ہم دِن رات انتظار کریں ۔۔۔۔۔تو اُس کو محبت کہتے ہیں”
۔
محبت …….؟ مجھے ؟؟
۔
اُس نے وہاں بیٹھے بیٹھے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا ۔آسمان کو دیکھ کے توبہ توبہ کہنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
نہیں نہیں اللہ جی مجھے محبت نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔ایک نا محرم سے کھبی بھی نہیں ہو سکتی ۔۔۔۔وہ میرے ٹیچر ہیں مجھے اچھے لگتے ہیں شاید تب ہی میرے خیالوں میں بھی آتے ہیں ۔۔۔۔وہ مجھے اچھے لگتے ہیں تب ہی میں اُن کو دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں نہیں نہیں مجھے نہیں ہو سکتی محبت ۔۔۔۔مجھے آپ سے محبت ہے اللہ جی مجھے میرے آقا جان سے میرے سرکار پاک سے محبت ہے۔ ۔۔۔مجھے کیسے ہو سکتی ہے ایک ٹیچر سے محبت۔ ۔۔۔۔۔کھبی نہیں کھبی بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ آسمان کو دیکھ کے بولتی جا رہی تھی ۔۔۔۔اپنے منہ پہ ہاتھ رکھے آنسوں بہاتے ہوئے وہ اللہ سے معافی مانگ رہی تھی۔ اُس نے سوچا بھی کیسے کہ اُس کو بھی محبت ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔
۔
میں اپنے بابا جان کی عزت ہوں میں محبت نہیں کر سکتی ۔۔۔کرتی ہوں گی باقی لڑکیاں محبت ۔۔۔۔مگر میں نہیں کر سکتی ۔۔۔۔بابا جان نے کتنے مان سے مجھے اجازت دی ہے ۔۔۔۔کتنے غرور سے انھوں نے رجب بھائی کا رشتہ ٹھکرایا ہے ۔۔۔۔میں اُن کا غرور ہوں میں اُن کا غرور نہیں توڑ سکتی ۔۔۔۔۔۔میں محبت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔اللہ جی مجھے نہ کروانا محبت ۔۔۔۔۔۔مجھے بھول جائیں سر ۔۔۔۔۔میں اپنے بابا جان کو کھبی دُکھ نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔
۔
“میں ہار بھی گی اللہ جی مگر میں اپنے بابا جان کو نہیں ہارنے دوں گی “
۔
“میں اپنی خوشیاں اُن کی عزت پہ قربان کر دوں گی ۔۔۔میں بھول جاؤں گی سر کو بلکل بھول جاؤں گی بس آپ میری مدد کریں ۔۔۔۔۔۔میں نہیں مانتی ہوں محبت کو ۔۔۔۔۔مجھ پہ رحم کریں اللہ جی “
۔
۔
وہ چھت پہ بیٹھی گٹھوں پہ سر رکھے سسکتے ہوئے آج پھر اُس کو بھول جانے کی دعا مانگ رہی تھی ۔جس کو بھولنا اُس کے بس میں نہیں تھا ۔۔۔۔آج پھر وہ اُس محبت سے انکار کر رہی تھی جس کا اُس نے کھبی اقرار ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
اللہ جی آپ مجھ سے کھبی ناراض نہیں ہونا میں یہ جان بوجھ کے نہیں کرتی مجھے پتا نہیں کیوں یاد آتے ہیں وہ ۔پتا نہیں کیوں میں اُن کو ایک نظر دیکھ کے اپنے آپ کو بھول جاتی ہُوں ۔۔۔۔۔پتا نہیں میں پھر کچھ کیوں نہیں سوچتی ۔۔۔میں یہ سب جان بوجھ کے نہیں کرتی مجھ سے خود ہو جاتا ہے اللہ جی ۔۔۔
۔
۔”اللہ جی آپ تو رحم کرنے والے ہیں آپ تو بہت مہربان ہیں آپ بہت رحیم ہیں ۔۔۔۔ ۔
“اے میرے پیدا کرنے والے رب اپنی زرمینہ گل پہ رحم کر اُس کو صبر دے ۔اُس کو وہی نور عطا کر جو رمضان کی راتوں کو توں نے عطا کیا تھا ۔مجھے معاف کر میرے مالک ، دونوں جہانوں کے رب مجھ پہ رحم کر ۔۔۔وہ اللہ پاک سے ایسے مانگ رہی تھی جیسے وہ اُنکو یاد کروا رہی ہو تو رحیم ہے ، بیشک تو مجھ پہ رحم کرے گا۔ تو کریم ہے ، ایسا کیسے ہو سکتا ہے تو مجھ پہ کرم نا کرے ۔۔۔۔تو مہربان ہے مجھ کو عطا کر ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے حضرت انس رضی الله عنہ کی وہ روایت پڑھی تھی جس میں انھوں نے فرمایا تھا
۔
۔ کہ ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آئے، ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا اور دعا مانگتے ہوئے وہ اپنی دعا میں کہہ رہا تھا: اللهم لا إله إلا أنت المنان بديع السموات والأرض ذا الجلال والإكرام ”اے اللہ! تیرے سوا کوئی اور معبود برحق نہیں ہے، تو ہی احسان کرنے والا ہے تو ہی آسمانوں اور زمین کا بنانے و پیدا کرنے والا ہے، اے بڑائی والے اور کرم کرنے والے ( میری دعا قبول فرما ) “، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اس نے کس چیز سے دعا کی ہے؟ اس نے اللہ سے اس کے اس اسم اعظم کے ذریعہ دعا کی ہے کہ جب بھی اس کے ذریعہ دعا کی جائے گی اللہ اسے قبول کر لے گا، اور جب بھی اس کے ذریعہ کوئی چیز مانگی جائے گی اسے عطا فرما دے گا“
۔
وہ بھی اللہ پاک سے آج ایسے ہی مانگ رہی تھی ۔۔۔اُن کے آگے ہاتھ پھیلا رہی تھی ۔۔۔گھڑگھڑا تھی ۔۔۔
۔
“یا اللہ مجھے بُھول جائے سید وجدان حسین شاہ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہالف ٹی شرٹ ، نائٹ ٹراؤزر پہنے ہاتھ میں چائے کا کپ پکڑے وُہ اپنی بالکنی میں کھڑا اُس کو سوچ رہا تھا ، جس کو اج اُس نے دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
۔
۔
اُس نے اتنے عرصے بعد اُس کو دیکھا تھا جس کو وہ دعاؤں میں مانگتا تھا ۔۔۔۔وہ آج بھی ویسی ہی تھی جیسے اُس نے پہلی بار اُس کو دیکھا تھا ۔۔۔ویسی ہی حجاب میں پردے میں با حیا ۔۔۔۔
۔
وہ اتنے عرصے بعد آج بھی اُس کو اپنے سامنے ہرانے کی ہمت رکھتی تھی ۔۔۔۔وہ آج بھی اُس کو سگریٹ کے نشے میں مدھوش کرنا جانتی تھی ۔۔۔
۔
اُس کا حجاب میں ہونا آج بھی اُس کے اندر سے ایک سکون اور ایک اطمینان دیتا تھا ۔۔۔۔
۔
اُس نے چائے کا ایک گھونٹ لیا ۔۔۔۔۔ آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔اُس کا حجاب میں چھپا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔اُس کی آنکھوں کی اُلجھن اُس کے سامنے گھومی ۔۔۔۔۔ اُس نے آج اُس کی آنکھوں میں بےچینی دیکھی تھی۔۔۔۔۔۔
۔
“وہ کیوں بےچین تھی ؟ کیا ہوا ہے ایسا ۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ سے شرارتیں کرتی تھی ہمیشہ سے آنکھوں میں ایک چمک لیے پھیرتی تھی۔۔۔۔ پھر ایک دم سے کیسے بدل گی ۔۔۔۔کیوں وہ سب سے الگ کھڑی تھی آج “
۔
اُس نے آنکھیں کھولیں ، اور ادھر اُدھر ٹہلنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
اب اُس کی سوچوں کے علاوہ بھی ایک چیز اُس کے ساتھ تھی ۔۔۔۔۔اُس نے چائے کا آدھا کپ وہیں چھوڑا اور سگریٹ نکلا ۔۔۔۔۔اور اُس کا کش لینے لگا ۔۔۔۔
۔
“یا اللہ میری ملکہ کو جو بھی پریشانی ہے حل کر لے مولا بیشک تو ہر مشکل کو حل کرنے والا ہے “
۔
وہ پھر سے بالکنی میں آیا چہرہ آسمان کی طرف کیا جہاں پہ ایک خوبصورت چاند چمک رہا تھا ۔۔۔ اور دعا مانگی
۔
۔ ۔۔اُس کی اُلجھی آنکھیں اُس کو بے چین کر رہی تھیں۔ ۔۔اور وہ سگریٹ کے کش پہ کش لگائے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
“شاید وہ کلاس سے باہر کھڑی تھی تب ہی پریشان تھی تب ہی اُلجھی ہوئی تھی “
وہ وہیں کھڑے کھڑے خود کو تسلی دینے لگا ۔۔۔۔
۔
کچھ وقت وہاں پہ کھڑا ہونے کے بعد وہ الماری کے پاس آیا اور ڈائری لی ۔۔اور پھر سے وہیں چلا گیا ۔۔۔۔
۔
بالکنی میں اُس نے ایک کُرسی رکھی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔وہ اُس کُرسی پہ بیٹھ کے چاند کو دیکھتے ہوئے اُس ڈائری پہ لکھتا تھا جو اُس کی ملکہ کی ملکیت تھی ۔۔
۔
۔۔۔۔وہ رات کو سونے سے پہلے کچھ نا کچھ اُس کے لیے لکھ کے سوتا تھا ۔۔۔۔جب بھی وہ اُس کے لیے لکھتا اُس کو ایک عجیب سی خوشی ملتی ۔۔۔
۔
جب میری ملکہ میرے پاس آئے گی میں روز رات کو اُس کو پڑھ کے سنایا کروں گا ۔۔اُس کو بتاؤں گا یہ ہجر کی راتیں مجھ پہ کیسے گزری ہیں ۔۔۔۔اُس کو بتاؤں گا میں نے ایک ایک لفظ اس چاند کو گواہ بنا کے اُس کے لیے لکھا ہے اور نا جانے میں نے اُس ایک ایک لفظ کو کتنی کتنی بار پڑھا ہے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے ڈائری کھولی آنکھیں بند کیں ۔۔۔اُس کا سراپا اُس کی آنکھوں میں گھوما ۔اُس کی خوبصورت آنکھیں اُس کی آنکھوں میں آئیں ۔۔۔۔اُس کا حیا سے بھرا وجود اُس کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔
۔
۔۔اُس نے چاند کو دیکھا ۔۔۔کیا تم میرے ملکہ سے بھی خوبصورت ہو ؟ لوگ تمہارے لیے لکھتے ہیں اور میں تمہارے سامنے اپنی ملکہ کے لیے لکھتا ہُوں ۔۔۔۔میری ملکہ اس چاندنی سے زیادہ خوبصورت ہیں ۔۔۔اس کی آنکھیں اس رات سے زیادہ گہری اور خوبصورت ہیں ۔۔۔۔۔
۔
وہ چاند کو دیکھ کے اُس سے بتائیں کر رہا تھا ۔اُس کے سامنے اپنی ملکہ کی شان میں قصیدے پڑھ رہا تھا کہ اُس کے لبوں پہ ایک مسکراہٹ آئی ۔آنکھوں میں چمک اُتری ۔۔۔۔اُس نے ڈائری کھولی اور لکھنے لگا
۔۔۔۔
۔
موتی ہوں کہ جیسے کسی تہہِ بِحر کے !
بالکنی سے آنکھوں کی تیرے جب حِجاب اترے !
اور قصیدے بھی برحق میرے
تیرے لئے مگر جو شعر لکھے، وہ کہ جیسےالہام اترے !
اس حیا سے تو حیا کو بھی حیا آے!
کے جب دل کی اتھاوں میں وِقَرْنَ فِیْ بُیُوتِکُنَّ کا پیغام اترے !
تیری پلکیں جو ملیں آپس میں تو ہو عیدین سا سماں !
کہ جیسے پہل میں ملنے مسلماں کو مسلماں اترے!
Episode 22
“یار یونی میں کوئی فنکشن ہے سر وجدان آرگنائز کر رہے ہیں تو وہ چاہتے ہیں ہم اُن کے ساتھ ہیلپ کروائیں “
۔
ہانیہ نے کلاس میں کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔جیسے کوئی اعلان کر رہی ہو ۔۔
۔
“سر وجدان کچھ کہیں اور ہم اُنکی ہیلپ نا کریں ایسا ہو سکتا ہے کیا ؟”
سب کلاس والے پر جوش تھے کہ اُنکو سر وجدان کی ہیلپ کروانے کا موقع ملے گا ۔۔۔اُن کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا ۔۔۔۔۔
۔
سب نے بہت خوشی سے حامی بھر لی ۔۔۔۔۔بس وہی چپ اپنی کُرسی پہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔اسکو تو اُن کے سامنے بھی نہیں آنا تھا پھر اُن کے ساتھ کام کرنا ایک الگ بات تھی ۔۔۔۔وہ تو اُس سے دور بھاگنا چاہتی تھی۔ ۔۔۔پھر اُس کے قریب کیسے رہتی ۔۔۔
۔
“اسلام علیکم “
وہ سوچوں میں ہی گُم تھی کہ وُہ کلاس میں آیا اج اُس نے گرے جینز کے اوپر بلیک کوٹ پہن رکھا تھا ۔۔۔۔سردیاں اپنے عروج پہ تھیں اور اُس کو سردی لگتی بھی کچھ زیادہ ہی تھی ۔۔۔وہ ہر طرح سے خود کو کور رکھتا تھا تا کہ سردی اُس تک نہ پہنچ سکے ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے آتے ہی سب کو سلام کیا
۔
“وعلیکم السلام سر “
سب نے بہت پر جوش طریقے سے جواب دیا ۔۔۔۔
۔
“میں آپ سے ایک بات کرنے آیا ہوں ۔۔۔کل فنکشن ہے یونی میں ۔آپ کے ڈیپارٹمنٹ کا نہیں ہے ۔۔۔آپ لوگ میری موسٹ فیورٹ کلاس ہیں تو میں چاہتا ہوں میرے ساتھ آپ لوگ ہیلپ کروائیں ۔۔۔۔اور آپ لوگ بھی کل ہمیں جوائن کریں “
۔
اُس نے بغیر کسی تمہید کے اپنی بات کی ۔۔۔۔
۔
“اور جو جو میرے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں وہ آ جائیں میں اُنکو بتا دیتا ہوں ہم نے کیا کرنا ہے “
۔
سب خوشی خوشی اُس کے ساتھ جانے کو تیار ہو گے ۔۔سوائے اُس ایک کے ۔۔وہ وہیں پہ چپ بیٹھی رہی جیسے اُس نے کچھ سنا ہی نہیں اُس کو کوئی دلچسپی ہی نہیں ۔
۔
“سر آپ ہمیں یہیں بتا دیں ہم یہاں پہ ہی ڈیکوریشن کا کچھ کام کر لیتے ہیں “
۔
ارم نے اُس کے پاس آتے ہوئے کہا …..
۔
ٹھیک ہے میں یہاں ہی آپ کو میٹریل لا دیتا ہُوں آپ سب یہیں پہ کر لیں کام ۔۔۔۔۔پھر جب تیار ہو جاۓ سب تو ہم حال میں لگا دیں گے”
۔
یہ کہتا ہوا وہ وہاں سے گیا اور کچھ دیر بعد ہاتھ میں چاٹ اور باقی ساری چیزیں لے کے آیا جو اُس کو لگانی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ سب کو ایک ایک چیز نکال کے بتاتا رہا یہاں سے ایسے کرنا ہے۔ ایسے کاٹنا ہے ۔۔۔۔۔۔
سب بہت غور سے اُس کو دیکھنے لگے جیسے سمجھ رہے ہوں اُس کی کہی ہوئی ایک ایک بات۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کے وہاں سے جاتے ہی سب نے کام شروع کر دیا سوائے اُس کے ۔۔۔۔۔۔اُس نے تو دیکھا تک نہیں تھا کیا کرنا ہے ۔اُس نے تو سنا بھی نہیں تھا وہ کیا کہے کر گیا ہے۔۔۔۔۔۔وہ نظریں جھکائے بس بیٹھی رہی جیسے بس اُس کا وجود ہی وہاں پہ ہو اور وہ کہیں دور کسی اور ہی جگہ ہو۔۔۔۔
۔
سب کام کرنے لگے اور جلد ہی اُکتا بھی گے جو اُس کے سامنے کچھ دیر پہلے بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ، بہانے بنا کے کلاس سے باہر جانے لگے ۔۔۔۔۔اب بس چار پانچ لوگ ہی تھے جو کلاس میں موجود تھے۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
وہ بار بار وہاں آتا اور کام کو ایک نظر دیکھتا ۔اُس کو اپنے ہر کام میں پرفیکشون چائیے ہوتی تھی ۔وہ ہر کام ایسے کرتا تھا جیسے کوئی غلطی کی گنجائش نہ رہے ۔۔۔۔۔
۔
اب وہ خود کلاس میں سٹوڈنٹس کے ساتھ بیٹھ کے کام کرنے لگا تھا ۔۔۔۔ کھبی ایک کے ساتھ کرتا اور کھبی دوسرے کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ ہم یہاں کیا کر رہے ہیں چلو یہاں سے “
۔
اُس نے فضہ کو ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا جو چارٹ کاٹنے میں لگی ہوئی تھی ۔۔
۔
“زری پاگل ہو گی ہو ؟ آگے ہی سب بھاگ گے ہیں ہم گنے چنے ہوئے کوئی پانچ لوگ ہیں ۔وہ بھی چلے جائیں ۔سر کو کتنا برا لگے گا “
۔
فضہ نے بغیر اُس کی طرف دیکھے ایک ہاتھ میں کینچی پکڑی اور دوسرے میں چاٹ ۔۔۔۔اور کاٹتے ہوئے کہنے لگی ۔
۔
“لیکن فضہ میں تنگ ہو رہی ہوں یہاں”
اُس نے ہے بس سے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔وہ اپنے اندر کی بےچینی کو کسی پہ ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔وہ بار بار وہاں آتا اور بار بار اُس کو ایک نئی تکلیف سے گزرنا پڑتا ۔۔۔۔۔وہ اُس کرب سے دُور جانا چاہتی تھی
۔
“بیٹا آپ اگر کچھ کر لیں تو نہیں تنگ ہوں گی ۔۔۔۔۔یہ پکڑو چاٹ اور اس پہ لائنز لگاؤ “
۔
فضہ نے اُس کے ہاتھ میں چاٹ دیا اور خود پھر کام کرنے لگ گئی ۔۔۔۔۔
۔
“کس کے ساتھ لائنز لگاؤں میں؟”
اُس نے چاٹ پکڑے ہوئے بیزاری سے کہا ۔۔۔۔
۔
“صبر سر آتے ہیں تو کہتی ہُوں میں اُنکو پنسل دیں ۔۔۔۔ہمارے بیگ سے پن نکل جائیں تو بڑی بات ہے”
۔
وہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی کہ وہ دروازے سے اندر آیا ۔۔۔۔۔
۔
“سر پنسل چاہیئے ایک”
فضہ نے اُس کو وہیں سے کہا ۔
۔
“میں لاتا ہوں”
وہ مسکراتا ہوا وہیں سے واپس ہوا اور ایک پنسل کے ساتھ اندر آیا ۔۔۔۔
۔
“یہ لیں پنسل “
اُن کے پاس کھڑے ہوتے ہی اُس نے پنسل اگے کی ۔۔
۔
“زری سر کے ہاتھ سے پنسل لینا”
فضہ نے زرمینہ کو کہا اُس کے ہاتھ میں چاٹ اور کینچی پکڑی تھی تو وہ نہیں لے سکتی تھی۔ ۔۔
۔
وہ جو نظریں جھکائے ، بے قابو دھڑکنوں کے ساتھ بیٹھی تھی۔ ایک دم چونکی اور فضہ کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔جس نے آنکھوں کے اشارے سے ایک بار پھر پنسل لینے کا کہا۔۔۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کی طرف موڑی جو ہاتھ میں پنسل پکڑے نظریں فضہ کے چارٹ پہ رکھے کھڑا تھا
۔
اُس نے اُس کے ہاتھ سے پنسل لی اور اُس پنسل کو دیکھتی رہی جس پہ اُس کی انگلیوں کے نشان تھے ۔۔۔۔جس نے اس کو چھوا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اُس پنسل کو پاس رکھنا چاہتی تھی ہمیشہ کے لیے ۔جس کو اُس نے ہاتھ لگایا تھا ۔۔۔۔۔کتنی قیمتی ہے یہ پنسل جو اُس کے ہاتھ سے میرے ہاتھ میں آئی ہے ۔۔۔۔اُس نے بہت پیار سے وہ پنسل پکڑی اور اپنی آنکھوں پہ لگائی۔ ۔۔۔
۔
“شاید محبوب کی ہر شے ہی بے مول ہوتی ہے جو اُس کے ہاتھ سے ہو کے گزرے اُس کی قیمت کوئی نہیں لگا سکتا”
۔
“زری “
اُس نے اُس کو میز پہ بازو رکھے ، آنکھیں بند کیے ہاتھوں میں پکڑی پنسل کو آنکھوں کے ساتھ لگائے دیکھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا سوچ رہی ہو زری”
“کچھ نہیں “
“تو اب تو پنسل مل گی نہ اب تو کر لو کام “
“ہاں کر رہی ہوں نا”
“نظر تو نہیں آ رہا مجھے”
“اب میں تھماری طرح دیکھا دیکھا کے کرنے سے رہی”
“مر جائیں آپ تو زرمینہ گل”
“آمین”
“دفاع ہو جاؤ مذاق میں کہا ، آمین کہنے کی ضرورت نہیں تھی آگے سے”
“اب میں کر لوں کام…پھر بولو گی کام نہیں کرتی “
“کر لیں جناب”
اُس نے اسکو مسکراتے ہوئے دیکھا جو پنسل ہاتھ میں لیے اب لائن لگا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔”زرمینہ یونیورسٹی کیسا جا رہا ہے تمھارا ؟”
دادی اماں نے اُس کے سر پہ تیل لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“اچھی جا رہی ہے اماں جی “
اُس کو ہمیشہ سے اپنے سر میں تیل سے مالش کروانا بہت اچھا لگتا تھا ۔۔
۔
کوئی ہلکا سا بھی اُس کے بالوں میں ہاتھ پھرے وہ ایک دم سو جایا کرتی تھی ۔۔۔اُس کو ایک عجیب سا سکونِ ملتا تھا ۔۔۔
۔
“یہ تم نے اپنے بالوں کا کیا حال کر لیا ہے ؟..انکو تم دھوتا بھی ہے یا ایسے ہے باندھ دیتا ہے۔اور اوپر دوپٹہ لپیٹ لیتا ہے۔
۔
وہ اُس کا ایک ایک بال اوپر کرنے لگیں ۔۔۔اور ساتھ ساتھ تیل اُس کے بالوں میں ڈالنے لگیں
۔
“اماں جی دھوتی ہُوں”
اُس نے آنکھیں بند کیے اُنکے گٹھنوں کے ساتھ سر لگاتے ہوئے مسکرا کے کہا ۔۔۔
“یہ بالوں کا بہت خیال رکھا کرو اپنے ۔اتنے خوبصورت بالوں کو چڑیا کا گھونسلا بنا کے رکھ دیا ہے “
۔
“بس دادی اماں آپ روز ایسے ہی مالش کیا کریں تو ٹھیک ہو جائیں گے “
۔
“تم اپنے کمرے سے نکلے تو ہم مالش کرے نا۔۔۔۔۔۔کیا بات ہے تمہیں جب سے یونیورسٹی گیا ہے کمرے سے باہر بھی نہیں نکلتا “
۔
انہوں نے اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کی حرکت روکی اور اُس سے پوچھنے لگیں ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں دادی اماں کام ہی بہت ہوتا ہے یونی کا تب ہی کمرے میں ہوتی ہوں”
۔
اُس نے آنکھیں بند کرتے ہوئے دُکھتے دل کے ساتھ کہا ۔۔۔۔میں اب آپکو کیا بتاؤں اماں جی ۔اُس نے دل ہی دل میں کہا !!
۔
“اپنا خیال رکھا کرو زرمینہ گل “
اماں قہوہ کی پیالی ہاتھ میں لیے ہوئے آئیں اور اُس کے پاس کرسی پہ بیٹھیں !
۔
“رکھتی ہُوں اماں”
۔” تب ہی شکل کا یہ حال بنا رکھا ہے تم نے نا”
“اچھی بھلی تو ہے اماں”
اُس نے خفا ہوتے ہوئے ماں کو کہا اور قہوہ پینے لگی ۔۔
۔
“اچھی بھلي ہوتی تو ہم نہ کہتے نا”
آئندہ رکھوں گی اماں آپ پریشان نا ہوا کریں !!
۔
“اب اجازت دیں تو میں کمرے میں چلی جاؤں ، کچھ پڑھنا ہے “
۔
وہ اُن کے سوالوں سے بچنا چاہتی تھی۔ ہاتھ میں کپ پکڑے وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور کمرہ بند کر دیا ۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ تہجّد کی نماز کے لیے اٹھی ، اُس کو ہمیشہ سے بہت ٹھنڈ لگتی تھی ۔اور سردیوں میں تو وہ آگ کے پاس سے اٹھتی نہیں تھی ۔۔۔۔
۔ ہر نماز کے لیے وہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی تھی۔۔۔ اُس وقت اُس کو ٹھنڈ کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ ٹھنڈ میں یا برف میں وضو بنا رہی ہے۔
۔
مانسہرہ کا موسم ہی کچھ ایسا ہوتا ہے سردیوں میں شدید سردی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ہر طرف پہاڑوں پہ سفیدی ہی سفیدی ہوتی ہے ۔جیسے کسی نے پہاڑوں پے سفید روئی بلکل صاف ستھری لا کر رکھ دی ہو ۔۔۔جیسے نیلے آسمان پہ سفید بادلوں نے گھر کر لیا ہو ۔۔۔
۔۔
سردیوں میں مانسہرہ میں ٹھنڈ ہی کچھ شدید پڑتی ہے۔ ۔۔جیسے کوئی ٹھنڈے پانی سے ہاتھ لگائے گا تو لگانے سے پہلے اُس کے تصور سے ہی کانپ جائے گا ۔۔۔
۔
اُس کو لگتا تھا جب بھی وہ ٹھنڈے پانی سے وضو بنا کے تہجد پڑھتی ہے اللہ پاک بہت خوش ہوتے ہیں۔ ۔۔۔۔وہ اُس کے اور قریب آتے ہیں اُس سے باتیں کرتے ہیں ۔اُس پہ ہستے ہیں گرم پانی جب موجود ہے تو بھی یہ پاگل لڑکی ٹھنڈے پانی سے وضو کرتی ہے کہ میں خوش ہو جاؤں ۔۔۔
۔
وہ ہمیشہ اللہ جی سے دوستوں کی طرح بات کرتی تھی۔ اُس کو بہت حیرت ہوتی تھی یہ جو لوگ اللہ پاک کے عذاب کا ذکر کرتے ہیں وہ کیوں کرتے ہیں ۔۔۔۔؟۔
۔
“میں تو کھبی نہیں اللہ جی کے عذاب کا ذکر کروں ۔۔۔۔وہ تو کسی کو کچھ نہیں کہتے ہیں ۔۔۔وہ تو ہم سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔میں کتنی خوشنصیب ہوں اللہ پاک نے مجھے بھی چونا ہے ۔۔۔مجھے بھی بنایا ہے ۔۔۔۔۔اور میرے اندر خود روح پھونکی ہے ۔۔ اس سے بڑی بات اور کیا ہو گی ہمارے اندر جو روح پھونکی ہوئی ہے وہ اُس ذات نے خود پھونکی ہے
۔
۔۔۔یہ جو لوگ مر جانے کی دعائیں مانگتے ہیں نا جانے کیا سوچ کے مانگتے ہیں ۔۔۔اُن کو خود پہ رشک کیوں نہیں آتا کہ اللہ نے اُن کو انسان پیدا کیا ہے ۔۔۔ساری مخلوقات سے افضل پیدا کیا ہے ۔۔۔۔یہ جو لوگ خود کو کالا کہتے ہیں، خود کو بدصورت سمجھتے ہیں، اپنی ہر کمی پہ احساس کمتری کا شکار ہوتے ہیں دوسروں کو ہمیشہ خود سے اچھا سمجھتے ہیں ۔۔۔۔وہ یہ بات کیوں نہیں دیکھتے کیوں نہیں سوچتے کہ اللہ نے اُن میں کتنی کوئی اور چیزیں کتنی قابلیت رکھی ہوئی ہو گئی ۔۔۔۔ اگر وہ کالے ہیں تو اُن میں کتنی کشش ہو گی ۔۔۔۔نا جانے لوگ خود کو کیوں نہیں دیکھتے؟ ہمیشہ دوسروں کو ہی کیوں دکھتے ہیں؟ “
اللہ جی آپ کسی ایک کے تو نہیں ہیں نا آپ تو سب کے ہیں ۔جتنی محبت آپ مجھ سے کرتے ہیں اتنی ہی محبت آپ اُن لوگوں سے بھی تو کرتے ہیں جو ابھی سوئے ہوئے ہیں تہجّد کے لیے نہیں اٹھے ۔۔۔
۔
۔۔۔پھر کیسے ہو سکتا ہے آپ کسی میں کچھ ایک کمی چھوڑ دیں اور اُس کو کسی اور چیز سے نہ نوازیں ۔۔۔۔۔۔ہر انسان میں آپ نے کچھ نہ کچھ تو ایسا رکھا ہوتا ہے جو اُس کو دنیا سے الگ کرے ۔۔۔پھر ہم لوگ خود کی وہ چیز کیوں نہیں ڈھونڈتے ہم دوسروں کو کیوں حسد بھری نظر سے دیکھتے ہیں”
۔
وہ ہمیشہ تہجد پڑھنے کے بعد اللہ جی سے باتیں کرتی تھی۔ اُن کو ہر بات گن گن کے بتاتی تھی۔ ۔آج بھی ہمیشہ کی طرح سر کو گٹھنوں پہ رکھ کے اللہ پاک سے باتیں کر رہی تھی ۔۔جیسے وہ اُس کے سامنے بیٹھے ہوں اُس کو بہت غور سے سُن رہے ھوں ۔اُس کی باتوں پہ مسکرا رہے ہوں……
۔
اللہ جی ہم کتنے خوش نصیب ہیں نا ہم کس نبی کی اُمت ہیں ۔۔۔۔جو راتوں کو رو رو کے بس اُمتی اُمتی کرتا تھا ۔ہم یہ چیز کیوں نہیں دیکھتے اللہ جی ۔ہم کیوں نہیں سوچتے کے ہماری زبان پہ کلمہ حق ہوتا ہے ۔۔۔۔ہم کیوں اپنی یہ خوشنصبی کیوں نہیں دیکھتے۔۔۔۔ہم یہ ہی کیوں دیکھتے ہیں کسی کے پاس اچھا گھر ہے تو ہمارے پاس کیوں نہیں ہے ۔۔۔۔۔کوئی بہت خوبصورت ہے تو ہم کیوں نہیں ہیں ۔۔۔۔کوئی اچھا بولتا ہے تو ہم کیوں نہیں بولتے ۔۔۔۔۔
۔
کوئی یہ کیوں نہیں کہتا اللہ جی کہ وہ بندہ اللہ سے بہت محبت کرتا ہے کتنا بڑا عشقِ مصطفیٰ ہے ۔۔۔تو ہم کیوں نہیں ہیں؟ کوئی آپکی اور آقا جانی کی محبت میں ایک دوسرے کا مقابلہ کیوں نہیں کرتا ۔۔۔۔؟
۔
۔
یہ لوگ دولت اور شہرت میں ہی کیوں مقابلہ کرتے ہیں ۔۔۔یہ محبت میں بھی تو مقابلہ کریں نا ۔بولیں نا یہ بہت بڑا عاشق رسول ہے ہم اس سے بڑے عاشق بن کے بتائیں گے ۔یہ بد بخت ایسا کیوں نہیں کہتے۔۔۔۔۔۔؟
۔
وہ جب بھی ایسا سوچتی اُس کو ایک درد ہوتا ۔۔۔۔ایسا درد جس کا کوئی نام نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔اور اُس کی آنکھوں سے مسلسل آنسوں رواں ہوتے ۔۔۔۔
۔
اُس کو نبی پاک سے دیوانوں کی سی محبت تھی ۔جہاں بھی اُنکا نام لیا جاتا وہ اپنے اشکوں سے اُس محبت کا اظہار کرتی ۔۔۔۔اُس کا ہمیشہ دل چاہتا سرکار کی وارفتگی میں اُس پہ حال کا غلبہ طاری ہو جائے اور لوگ اُس کو نبی کا دیوانہ کہے کر پکاریں ۔۔۔
“ہر دل کی دوا درد عشق ہے، عشق کے بغیر کوئی مشکل حل نہیں ہوتی “
۔
اللہ جی آقا جان سے تو محبت آپ نے کی ہے ۔۔۔ہم ادنا سے لوگ اُن سے کیسے محبت کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ہم تو اُن سے محبت کا پیمانہ ناپ ہی نہیں سکتے ۔۔۔۔۔وہ تو آپکے محبوب ہیں اللہ جی ۔۔۔۔۔ہم تو اس قابل بھی نہیں اپنی گناہگار زبان سے آپکے محبوب کا نام بھی لے سکیں ۔۔۔اللہ جی بس مجھے اُن کی محبت میں سرشار کر دیں ۔۔۔مجھے اُن کے علاوہ کوئی نظر نہ آئے ۔۔۔۔۔تیرے محبوب سے محبت ہو گی تو تب ہی تو توں خوش ہو گا نا میرے مالک ۔۔۔۔۔محبوب ملا تب ہی تو توں ملے گا ۔۔۔۔۔
۔
وہ ہر نماز کے بعد رسولِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی محبت مانگتی تھی۔۔۔۔۔۔اُن کا دیدار منگتی تھی ۔دنیا میں ہی جنت کی زیارت مانگتی تھی ۔۔۔ ۔
۔
کیا جانے کوئی عظمت و رفعت رسول کی!
اللہ جانتا ہے حقیقت رسول کی !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج وہ تھوڑا لیٹ ہو گیا اُس کا دل بس آج کے فنکشن میں ہی تھا۔ ۔۔۔وہ کوئی کمی نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتا تھا کہیں بھی کمی ہو اور اُس پہ کوئی بات کرے۔ ۔۔۔۔
۔
وہ لاکھ کوشش کے باوجود بھی جلدی نہیں پھونچ سک رہا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے ایک میسیج لکھا اور اُن سب کو بجھ دیا جو اُس کی ہیلپ کروا رہے تھے ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا سب لوگ جلدی آ جاتے ہیں یونیورسٹی ۔۔۔۔۔اُس نے گروپ میں سے ہی نومبر نکالے اور ایک میسج لکھ کے سب کو فارورڈ کر دیا ۔۔۔۔جس میں ایک نمبر زرمینہ گل کا بھی تھا ۔۔۔
۔
۔
اُس کا موبائل ہاتھ میں ہی پکڑا تھا ۔۔اُس کا موبائل بجھا اُس نے what’s app کھولا اور وہیں پہ ہی ساکت ہو گئی۔ جیسے وہ وہاں سے ہل نہیں سکے گی ۔اُس کی نظر اُس نام پہ ہی اٹک کر رہے گی۔۔۔۔۔۔جس سے میسیج آیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ کچھ وقت تک بس سکرین پہ لکھے اُس نام کو دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔پھر اُس کی نظر اُس میسیج پہ پڑی جو اُس نے بھیجا تھا ۔
” میں لیٹ ہو جاؤں گا آپ اسٹیج کو فائنل کر لیں سب ، کرسیاں بھی جگہ جگہ پہ صحیح کر کے رکھوا لیں” ۔
۔
اُس نے اُس کا لکھا ہوا میسیج وہیں کھڑے کوئی اٹھ بار پڑھا ۔۔۔۔۔وہ اب بھی بغیر پلکیں کو چھپکاۓ ہاتھ میں موبائل اٹھائے وہاں کھڑی بس اُس میسیج کو دیکھتی رہی “
۔
۔
“سر کا میسیج آیا ہے وہ کہے رہے ہیں وہ لیٹ ہو جائیں گے آنے میں “
ہانیہ نے موبائل کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے سب کو سر کا میسیج سنایا ۔۔اُس کو بھی بلکل وہی میسیج لکھا تھا جو اُس کو لکھا گیا تھا ۔۔۔
۔
اُس نے اپنے آنکھوں کی نمی کو چھپاتے ہوئے موبائل کو اپنے بیگ میں ڈال دیا ۔۔۔اُس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ خوش ہو کہ اُس کے محبوب نے اُس کو میسیج کیا ہے ۔یا پھر دُکھی ہو کہ اُس نے وہی میسیج باقی سب کو بھی کیا ہے ۔۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“سر کا میسیج تو مجھے بھی آیا ہوا ہے “
فضہ نے کلاس کے باہر پڑی کُرسی پہ بیٹھ کے کہا ۔۔۔۔اور اُس کو میسیج دکھانے لگی ۔جس نے اپنا موبائل بیگ میں ڈال رکھا تھا ۔وہ کسی کو اُس کا کیا ہوا میسیج نہیں دیکھانا چاہتی تھی۔ وہ اُس کو سب سے چھپا کے اپنے دل میں رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا کیا ہوا میسیج اُسکے موبائل میں پڑھے ۔بیشک اُس نے اُس کے علاوہ بہت سارے لوگوں کو میسیج کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ پھر بھی وہ اُس کو سب سے چھپانا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
“مگر ہانیہ صاحبہ نے تو ایسے اعلان کیا جیسے سر نے بس اُس کو ہی میسیج کیا ہو “
فضہ نے منہ بناتے ہوئے اُس کو کہا جو اپنے بازوں باندھے پاؤں کُرسی پہ رکھے دیوار کے ساتھ سر سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
“دفاع کرو فضہ ، کہنے دو اسکو “
اُس نے دُکھی سے دل کے ساتھ اُس کو کہا اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے زری ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا تمھاری ؟”
اُس نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔جو بازوں باندھے بیٹھی تھی ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں مجھے بہت ٹھنڈ لگ رہی ہے فضہ”
۔
“اسلام علیکم سر “
فضہ نے اپنے پاس کھڑے وجدان کو دیکھا اور ایک دم کھڑے ہو کے اُس کو سلام کیا ۔۔۔۔
۔
“وعلیکم السلام “
اُس نے مسکرا کے سلام کا جواب دیا ۔اور ایک نظر اُس کو دیکھا جو ہاتھ باندھے ،پاؤں کُرسی پہ رکھے, آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی …..
۔
“فضہ آپ لوگ اندر ہی آ جائیں”
۔
۔۔۔اُس نے فضہ کو کہنے کے بہانے اُس کو کہا ۔۔۔۔جس کو اُس نے کہتے سن لیا تھا مجھے ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔۔
۔
یہ کہے کر وہ اپنے آفس میں گیا ۔۔۔۔۔اور ہیٹر ہاتھ میں لیا ہوا دروازے سے باہر نکلا اور حال میں چلا گیا ۔۔۔
۔
“سر نے کہیں سن لیا تھا کہ تمھیں ٹھنڈ لگ رہی ہے؟ “
فضہ نے اُس کے ہاتھ میں ہیٹر دیکھتے ہوئے اُس سے پوچھا جو حیرت سے اُس کو جاتا ہوا دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
“میرے لیے وہ ہیٹر کیوں لے کے جائیں گے “
اُس نے نظریں جھکائے ہوئے سوچنے والے انداز میں اُس کو کہا ۔۔۔۔جو اب بہت کچھ سمجھ چُکی تھی ۔۔۔۔
۔
“اچھا چلو اب چلتے ہیں اندر ۔فنکشن شروع ہو گیا ہے “
اُس نے اُسکا ہاتھ پکڑا اور حال میں گئی ۔۔۔۔وہاں پہ ساری جگہ بھری ہوئی تھی وہ دونوں اِدھر اُدھر دکھنے لگی۔
۔
“فضہ یہاں تو جگہ ہی نہیں چلو جاتے ہیں واپس”
۔
اُس نے جیسے ہی اسکو دروازے پہ کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ، اپنی جگہ سے ایک دم اٹھا اور اُنکو اُدھر جانے کا اِشارہ کیا جہاں ہیٹر رکھا تھا ۔
وہ سب سے سیٹ پہ گئیں اور وہاں بیٹھ گئیں ۔جو شاید اُس سے ان دونوں کے لیے ہی خالی چھوڑی ہوئی تھیں ۔
