Hijab by Amna Khan

آج کالج کا آخری دن تھا ہر کوئی اُداس آنکھیں لیے ایک دوسری کو دیکھ رہا تھا ۔ اگر کوئی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہا تھا تو وہ لیلیٰ مجنوں کی جوڑی تھی ۔
" زرمینہ اور اُسکی دوست فضہ "
زرمینہ ایک ایسی لڑکی تھی جس کے گرد لوگوں کا ہجوم ہوتا ۔وہ ہر ایک کی مدد کے لیے حاضر رہتی ۔ ہر ایک سے ایسے بات کرتی جیسے وہ اس کو صدیوں سے جانتی ہو۔
اس کی زندگی میں بہت لوگ تھے ۔ جو اُس کے دوست تھے ۔زرمینہ پورے کالج میں واحد ایسی لڑکی تھی جسکو ہر ایک کے راز کا پتا ہوتا ، ہر کوئی اس سے آ کے ڈسکس کرتا ۔وہ سب کو مشورہ دیا کرتی ، سب کو یہ یقین ہوتا اُن کا راز اُس کے پاس بلکل محفوظ ہے۔ وہ فضہ سے ہر بات شیئر کرتی تھی مگر اپنی ذات سے جڑی۔
۔سب لڑکیاں خود کو زرمینہ کا دوست کہے کر فخر محسوس کرتے ۔
مگر زرمینہ کی زندگی میں بہت کم لوگ خاص تھے ، یہ نہیں کہ وہ دوسروں کو خاص نہیں سمجھتی تھی ۔ اُس کے لیے ہر کوئی خاص ہوتا اپنی اپنی جگہ۔
مگر کچھ ایسے لوگ تھے جن کے بغیر وہ زندگی کو تصور ہی نہیں کرتی تھی ۔ اُن چند لوگوں میں ایک فضہ تھی ۔
اس کا مقام اُس کی زندگی میں ایسا تھا کہ پوری دنیا ایک طرف اور فضہ دوسری طرف ۔
وہ اسکو پیار سے فضو کہتی تھی
آج کالج کا آخری دن تھا وہ دونوں ہی ایک دوسرے سے نظریں چرا رہی تھی ، اُنکو پتا تھا اگر کوئی ایک بار کمزور پڑ گئی تو سمبلنا مشکل ہو جائے گا ۔
فضہ کا تو آگے یونیورسٹی کا کنفرم تھا مگر زرمینہ !!!!!!
اُن دونوں کی دوستی پورے کالج میں مشہور تھی ۔۔۔
دونوں ایک دوسرے کے بغیر ایک سیکنڈ بھی الگ نظر نہ آتی ۔۔
ہمشہ دونوں ٹیل پونی کرتی تھیں ۔
دونوں کے ہاتھ پہ ایک جیسی واچ ہوتی تھی۔
کبھی بھی ایسا نہیں ہوتا تھا کہ دونوں ایک ساتھ چل رہی ہوں اور اُن کے ہاتھ میں ایک دوسرے کا ہاتھ نہ ہو ۔۔۔
زرمینہ ہمیشہ فضہ کے کندھے پہ سر رکھ کے بیٹھا کرتی تھی۔
آج سب الگ ہو رہے تھے۔ سب نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ یونیورسٹی میں ساتھ ایڈمیشن لیں گے ۔
بس زری کا ہی کنفرم نہیں تھا ۔اُس کے بابا جاناور بھائی ہزارہ یونیورسٹی کے سخت خلاف تھے ۔مگر مانسہرہ میں دوسری کوئی یونیورسٹی بھی نہیں تھی ۔
زرمینہ کے گھر کا ماحول کافی اسٹرک تھا ۔ اُنکو اجازت نہیں ملتی یونیورسٹی کی۔ اُس سے پہلے اس کے خاندان میں کسی نے کالج بھی نہیں پڑھا تھا ۔اُس نے رونا دھونا ڈال کے کالج کی اجازت لے لی تھی ۔ وہ ایک پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی تھی ۔ جن کے گھروں سے لڑکیاں کبھی بھی باہر نہیں جاتی تھی ۔دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں اُن پہ زیادہ پابندیاں ہوتی ہیں ۔ اُن کو زیادہ سمبل کے چلنا پڑتا ہے ۔ زرمینہ ایسی ہی تھی ۔وہ ہمیشہ ضرورت سے زیادہ سوچتی ۔
آج دِن بھر سب یہی بات کر تے رہے رزلٹ آنے کے بعد سب یونیورسٹی میں ملیں گے ان شاء اللہ ۔
آخر کار چپ کا سلسلہ ٹوٹا
زری !
"میں کہے رہی ہوں تمہیں آگے یونیورسٹی میں ساتھ ایڈمیشن لیں گے "
"اگر میری مینہ نہیں لے گی ایڈمیشن تو فضہ بھی نہیں لے گی" وہ اسکو اکثر پیار سے مینہ کہتی تھی ۔
"اور تمہیں اچھے سے پتا ہے میرے سسرال والوں کو پڑھی لکھی بہو چائیے "
ہیں کون سے سسرال والے؟ زرمینہ نے چونک کے اسکو دیکھا
"ارے ہونے والے سسرال والے"
"ظاہر سی بات ہے بھئی جو بھی ہوں گے اُنکو پڑھی لکھی ہی بہو چائیے ہو گی نا "
تو میں نے آگے یونی جانا ہے اور آپ کے ساتھ جانا ہے آپکو سمجھ آ رہی ہے نا بات میری ؟
اُس کے اُداس لبوں پہ ایک دم مسکراہٹ آئی ، ڈمپل اور گہرا ہوا ۔وہ ہمیشہ فضہ کو ماتھے پہ پیار کیا کرتی تھی۔آج بھی اس نے ایسا ہی کیا ۔
"زری میری بات مان لو نا پلیز "
اُس نے بےبسی سے کہا !!
زرمینہ کی خاموشی سے جھنجھلا کے اُس نے چیخ کے بولا
"سمجھ آ رہی ہے نا میری بات ؟"
جی مجھے تو سمجھ آ رہی ہے آپکی بات مگر میرے گھر والوں اور بھائیوں کو کون سمجھائے گا؟
"دو بھائیوں کی اکلوتی اور چھوٹی بہن ہونا بھی عذاب سے کم نہیں ہوتا بعض اوقات"
"میں کچھ نہیں سمجھ رہی بس وعدہ کرو کے تم آگے ایڈمیشن لو گی "
"اچھا ٹھیک ہے میرے ہونے والے بچوں کی خالہ میں لوں گی ان شاء اللہ بس تم دعا کرنا کہ اجازت مل جائے مجھے "
"آپکو اجازت ملنا کون سا مشکل کام ہے آپ کا تو ڈائریکٹ رابطہ ہے اوپر والے سے "
"جو چاہتی ہو مل جاتا ہے "
بیشک !!!
"میں اپنے اللہ جی کی لاڈلی ہوں "
اس بات سے اُس کے دل میں ایسا سکون اُترتا تھا اس کی ساری پریشانیاں غائب ہو جاتی تھیں۔ کچھ وقت پہلے کی اُداسی کیسے ختم ہوئی اُسکو پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔
فضہ نے اُس کو ایک دم گلے سے لگا لیا اُس کی موٹی موٹی آنکھوں میں آنسو تو اب بھی تھے مگر اب وہ آنسوں اُداسی کے نہیں تھے۔ اُس کو پتا تھا زرمینہ سواتی جو کہتی ہے وہ کرتی بھی ہے ۔
آج سب گلے مل رہے تھے جانے کون اب کب کہاں ملے کسی کو کچھ پتا نہیں تھا۔
سب کہے رہے تھے یونی میں ساتھ جائیں گے۔ مگر اُن میں سے کچھ کی شادی ہو جانی تھی۔جنکو زرمینہ کی طرح یونی میں جانے کی اجازت نہیں ملنی تھی انھوں نے
پرائیویٹ گھر میں بیٹھ کے پڑھنا تھا۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *