Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hijab (Episode 12,13)

Hijab by Amna Khan

“میں اتنا خودغرض کیسے ہو سکتا ہوں , میں اتنا خودغرض تو نہیں تھا۔ میں نے تو اپنے سے پہلے ہمیشہ اپنی بہنوں کا سوچا ہے تو آج میں یہ کیسے کر سکتا ہُوں ۔پانچ بہنوں کے ہوتے ہوئے میں مولوی صاحب سے اپنی ہی شادی کے حوالے سے کیوں پوچھ رہا تھا۔ میں کیسے بھول سکتا ہُوں میری پانچ جوان بہنے گھر پہ ہیں۔ اُن کے کتنے ارمان ہوں گے کتنا کچھ سوچا ہو گا انہوں نے اپنے بارے میں ۔اور میں ۔۔۔۔

میں نے اُنکا ایک بار بھی نہیں سوچا “

۔

یا اللہ وجدان کو اتنا خودغرض نا بنا ۔ کیا ایک لڑکی کی محبت آج اتنی زیادہ ہو گی کہ میں اپنی بہنوں کو ہی بھول گیا۔ مجھے اپنی بہنوں کا پہلے سوچنا ہے۔ اب تو اُن کے دل سے شادی کا ارمان بھی ختم ہو گیا ہو گا۔ کیا اُن کا یہ مقام اُنکا قصور بن گیا ہے کہ وہ سید گھر میں پیدا ہوئی ہیں؟

۔

کیا یہ مقام اُن کے لیے ساری زندگی کا روگ بن جائے گا۔ اگر سید گھر کا رشتہ نا آیا تو میری بہنے اس ارمان کو ہی دل میں لیے مر جائیں گی ؟ میں کیا کروں اللہ ۔۔۔

وہ اپنے بیڈ پہ بیٹھے ، سر کو اپنے ہاتھوں میں لیے خود سے ہی باتیں کرنے لگا ۔۔۔کبھی اپنے بالوں کو نوچنے لگتا اور کبھی درد کی شدت سے اپنی کنپٹیوں کو دوباتا!!!!!!

۔

اُس کو لگا اب کی بار درد اُس کی برداشت سے باہر ہے۔۔وہ اٹھا بیگ کھولا اور پھر سگریٹ نکالا ، جیسے ہی اُس نے سگریٹ نکلا دروازے پہ دستک ہوئی اور اُس نے فوراً سگریٹ اپنے سرہانے کے نیچے رکھ لیا اور سیدھا ہو کے بیٹھ گیا ۔۔۔

“جی آ جائیں”

“وجی کیا کر رہے ہو ؟”

“کچھ نہیں آپی بس لیٹا تھا”.

“وہ تو مجھے بھی پتا ہے میرا بھائی آج کل کچھ زیادہ ہی لیٹنے لگا ہے۔ نا باہر آتے ہو تم نا اب ہستے ہو نا کسی سے بات کرتے ہو۔ وجی کیا ہوا ہے؟”

۔

فاطمہ اُس کے پاس اُس کے سامنے آ کر بیٹھی مسلسل اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولتی رہی جیسے وہ کچھ تلاش کر رہی ہو۔ اور وہ بار بار نظریں جُھکا لیتا!!!!!!.

۔

آپی آپ سے ایک بات پوچھوں؟ آپ خفا تو نہیں ہوں گی نا؟

۔

اُس نے بہن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!

نا وجی میں پہلے تھماری کسی بات پہ خفا ہوئی ہوں جو اب ہوں گی ؟ بولو کیا پوچھنا ہے”

۔

“آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپ کی شادی ہو ؟”

اُس نے بہن کو اپنی طرف دیکھتے ہوئے ، نظریں جُھکا کے پوچھا !!!!!! ۔

۔

بہن جو اُس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی اُس کو دیکھتی ہی رہے گی۔۔

۔

اُس نے نظریں اٹھائی اور بہن کو دیکھنے لگا جو ابھی بھی خالی سی آنکھوں کے ساتھ اُس کو ہی دیکھ رہی تھی۔ اُس کو یقین ہی نہیں آیا اُس کا بھائی اُس سے وہ بات پوچھے گا ، جس کو سوچ کے اُس کو برداشت سے باہر کی تکلیف ہوتی ہے۔ وہ اُس تکلیف سے بچنے کے لیے اُس بات کو بھول جانا چاہتی تھی ۔اور بھول بھی گی تھی مگر آج پھر سے اُس کو اُسی قرب سے گزرنا پڑے گا اُس نے سوچا بھی نہیں تھا !!!! ۔

۔

“آپی میرا بہت دل چاہتا ہے آپ کی شادی ہو آپ کو میں لینے کے

لیے جایا کروں ، عید پہ آپ کے لیے گفٹ بجوایا کروں ۔ آپ کے بچے مجھے ماموں کہیں۔آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپی آپ کا دل نہیں چاہتا یہ سب ہو؟

۔

وہ بچوں کی طرح بولتا چلا جا رہا تھا ۔ اور وہ ضبط کے آنسوں لیے اُس کو سنتی جا رہی تھی!!!!!!!

۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“ٹھیک ہے ٹیچرز ڈانٹتے ہوتے ہیں ، ٹھیک ہے سر نے مجھے ڈانٹا ، تو اِس میں اتنا دُکھی ہونے کی کیا بات ہے “

کیوں میں ہر چیز کو اپنے دل پہ لیے جا رہی ہوں کیوں ہانیہ کی باتیں مجھے اتنا دُکھ دیتی ہیں۔

کیوں مجھے سوچ سوچ کے

دُکھ ہوتا ہے کیوں میرے دل سے اُن کا وہ رویہ نہیں نکلتا ۔۔۔۔

۔

“اللہ جی مجھے صبر دیں نا پلیز”

۔

وہ نماز کے بعد بیٹھ کے ہمیشہ کی طرح اللہ جی سے باتیں کر رہی تھی اُن کو اپنی باتیں بتا رہی تھی۔ اُن کو شکایتیں لگا رہی تھی!!!!!

۔

وہ وہی پہ گھنٹوں کے بل بیٹھی تھی کے اچانک اُسے یاد آیا “

“اف اللہ جی میں تو بھول ہی گی مانو بیمار ہے اُس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا “۔

۔

“مانو میرا بچہ”

وہ باگتی ہوئی مانو کے پاس گی اور اُس کو اپنی گود میں لیا۔ وہ بھی شاید اُسی کا انتظار کر رہی تھی اُس کے آتے ہی اٹھ کے کھڑی ہو گئی اور میاؤ میاؤ کرنے لگی ۔۔۔

۔

“مانو سوری میں تمہیں ٹائم ہی نہیں دے پاتی نا “

“مجھ سے خفا نا ہونا مانو مجھے تو پتا ہی نہیں ہے میں اج کل کیا سوچتی ہوں اور کیوں سوچتی ہُوں”

۔

وہ مانو کے ماتھے پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے اُس سے باتیں کرتی رہی اور وہ اُس کی گود میں آنکھیں بند کیے سنتی رہی !!!!!

۔

وہ رات کو سونے سے پہلے اپنی مانو پے درود شریف پڑھ کے پھونک کے سویا کرتی تھی ۔

۔

“اللہ پاک میری مانو آپ کے حوالے ہے اُس کا بہت خیال رکھیے گا رات میں”

۔

یہ اُس کے روز کی دعا ہوتی تھی ۔ جو روز وہ کیا کرتی تھی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپی بولیں نا “

بہن کو چپ بیٹھا دیکھ کے وہ پھر سے بولا !!!!

۔

“کیا بولوں میں وجی”

۔

بھائی کے سوال پہ وہ سوچوں سے باہر نکلی جیسے وہ سوچ رہی ہو کتنے سالوں سے اب اُس نے اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیا تھا ۔کتنے عرصے سے اُس نے نہیں سوچا تھا کے وہ بھی ایک لڑکی ہے باقی لڑکیوں کی طرح اُس کے بھی کچھ ارمان ہیں اُس کی بھی کچھ خواہشیں ہیں “

۔

“آپی آپ کا دل نہیں چاہتا آپ کی شادی ہو۔ آپ کا اپنا بھی ایک گھر ہو ایک زندگی ہو “

۔

“میرے دل کے چاہنے سے کیا ہوتا ہے وجی”

۔

اُس نے بہن کی لرزتی آواز سنی ۔۔جس نے ایک خواہش اپنے اندر ایسے دوبا دی تھی کہ اب اُس کو اُس خواہش کی اب خواہش بھی نہیں رہی تھی ۔

۔

“آپی کیا سید زادی ہونے کا یہ مطلب ہے آپ ساری زندگی گھر پہ بیٹھی رہیں ۔ اپنے ارمانوں کو اپنے سینے میں دفن کر لیں۔ ۔۔آپی نبی پاک نے تو کہا تھا آپ کے بچے جوان ہو جائیں تو انکی شادیاں کروا دی جائیں۔ تو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ “

۔

“آپی کیا یہ مقام ہماری آزمائش ہے؟ میں جب بھی آپ کو اور زینب کو دیکھتا ہُوں تو بہت دُکھ ہوتا ہے مجھے.۔۔شادی کی ایک عمر ہوتی ہے آپی۔ ایک وقت ہوتا ہے ہر چیز ہر بات ایک وقت پہ ہی اچھی لگتی ہے۔ آپ کے لیے کتنے اچھے گھروں کے رشتے آئے ہیں لیکن ابو نے یہ کہے کر انکار کر دیا کہ وہ سید نہیں ہیں “

۔

“ایسے نہیں بولتے وجی ہم تو دنیا کے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو نبی پاک کے خاندان سے ہیں ۔۔ہمارا مقام ہر چیز سے افضل ہے۔ ہماری یہ خوش نصیبی کم ہے کہ ہم اہلِ بیت سے ہیں۔ ہم نبی پاک کی اولاد سے ہیں ۔تو کیا ہوا ہماری شادیاں نا ہوں ۔۔ تو کیا ہوا ہماری خواہشیں ہمارے دل کے اندر دفن ہو جائیں ۔۔ تو کیا ہوا ہم دوسری لڑکیوں کی طرح نہیں سوچ سکتے۔ دوسری لڑکیوں کی طرح خواب نہیں دیکھ سکتے ۔دوسری لڑکیوں کی طرح ہمیں کسی سید زادے کے علاوہ محبت نہیں ہو سکتی ۔

ہمیں بس یہ پتا ہے کہ ہماری نسبت اہل بیت سے ہے اور ہمیں بس لاج رکھنی ہے اس مقام کی “

۔

وہ آنکھوں میں ایک درد لیے بس بولتی رہی ۔ وہ اپنی بہن کا دُکھ سمجھ سکتا تھا ۔اُس نے سوچ لیا تھا صبح ہوتے ہی وہ مولوی صاحب کے پاس جائے گا۔ اُن سے پوچھے گا کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے اگر سید گھر کا رشتہ نہ آئے تو لڑکی ساری زندگی گھر پہ بیٹھی رہے . کیا نبی پاک نے ایسا کہا ہے ؟ کیا قرآن ایسا کہتا ہے کدھر لکھا ہے آپ اپنی بہن بیٹی کو گھر میں بیٹھا دو۔ صرف اس وجہ سے کہ اُس کا رشتہ سید گھر سے نہیں آیا”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“مولوی صاحب میں پوری رات نہیں سو سکا ۔۔۔میں بہت عرصہ پہلے آپ کے ساتھ یہ بات کرنا چاہتا تھا مگر مجھ میں ہمت نہیں تھی۔ مولوی صاحب میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں “

۔

وہ فجر کی ازان سے پہلے مسجد آیا تھا تا کہ وہ بغیر کسی کی موجودگی میں مولوی صاحب سے آرام سے بات کر سکے !!!!

۔

“بولو نا وجدان”

،”یقیناً تم کل والے مسئلہ پہ ہی بات کرنا چاہتے ہو گے.

۔

۔مولوی صاحب اُس کی بات کو سمجھ گے تھے وہ ممبر کے پاس آرام سے ٹیک لگائے ہوئے پیچھے ہوئے اور بولے !!!

۔

مولوی صاحب میں بات گھوما پھرا کے نہیں کرنا چاہتا۔ میں آپ سے ڈائریکٹ بات کروں گا”

“مولوی صاحب میں سید زادہ ہوں ، میں اہلِ بیت سے ہوں کیا سید کی شادی سیدوں میں ہی ہو سکتی ہے باہر نہیں ہو سکتی .”

۔

دیکھو وجی سید ذات کی دوسری قوموں کے ساتھ کوئی برابری نہیں ہے ۔سید جو ہیں وہ ہمارے نبی کریم کی اولاد سے ہیں ۔وہ نبی جن کو خدا نے اپنا محبوب بنا کر بھیجا ہے، وہ نبی جس کے لیے پوری دنیا بنی ہے۔ وہ نبی جس کا نام خدا کے نام کے بعد لیا جاتا ہے ۔جس کو خدا نے اپنا محبوب کہا ہے۔ اُس کی نسبت سے سید ایک افضل ذات ہے ۔اُن کی نسبت سے سید ذات کا کسی سے کوئی مقابلہ نہیں کسی سے کوئی برابری نہیں۔”

۔

نبی پاک نے فرمایا تھا لوگوں کی نسل بیٹوں سے آگے بڑھتی ہے جب کے میری نسل میری بیٹی فاطمہ سے آگے بڑھے گی۔

۔

تم خود سوچو وجی اُس کملی والے کی ذات کے ساتھ کسی کا کوئی مقابلہ ہے کسی کی کوئی برابری ہے اور رشتہِ تو ہمیشہ برابری میں ہوتا ہے نا اگر رشتہِ برابری میں نا ہو وہ کدھر کامیاب ہے؟ “

۔

“مولوی صاحب میں بات مقابلے کی نہیں کر رہا ۔۔میں بس یہ کہے رہا ہوں کہ کیا سید کی شادی سیدوں کے علاوہ کسی سے نہیں ہو سکتی “

وہ آج اپنی اور زرمینہ کی بات نہیں کر رہا تھا۔ آج وہ اپنی بہنوں کے لیے بات کر رہا تھا ۔وہ بہنیں جو ایک سید گھرانے کے رشتے کا انتظار کر رہی تھیں!!!!

۔

“دیکھو وجی بہت سارے علماء دین بہت کچھ لکھتے ہیں .

اب یہاں پہ تم بات سید لڑکی یا لڑکے کی نہیں کر رہے۔ یہاں پہ بات تم سید کی کر رہے ھو “

۔

“اب میں تمہیں دونوں کا الگ الگ سمجھاتا ہُوں . میں تمہیں پہلے لڑکے کا بتاتا ہُوں ۔”

اگر ایک لڑکا سید ہے اور وہ سیدوں سے باہر شادی کرنا چاہتا ہے تو وہ جائز ہے وہ کر سکتا ہے ۔اس کی مثال ہم اہلِ بیت سے ہی اگر لیں تو !!!

امام حسن علیہ السّلام اور امام حسین علیہ السّلام کی ہی بات کریں تو ۔

امام حسن نے دو شادیاں کی تھیں اور امام حسین نے تین ۔

۔

امام حسن علیہ السّلام کی ایک بیوی حضرت ام فروہ علیہ السلام تھیں اور دوسری جودھا۔ جس نے امام کو زہر دیا تھا ۔

۔

امام حسین علیہ السّلام کی تین زوجہ محترمہ تھیں ۔

ام رباب علیہ السلام ، ام لیلی علیہ السلام اور شیربانو علیہ السلام ۔

۔

امام حسن اور امام حسین اہل بیت ہیں اور اُن کی بیویاں ساری بیویاں سید گھر سے نہیں تھیں ۔تو یہاں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ایک سید گھرانے کا لڑکا باہر سے شادی کر سکتا ہے ۔

۔

اور اگر ہم ایک سیدہ لڑکی کی بات کریں ۔تو اہلِ بیت سے کسی لڑکی کی شادی سیدوں سے باہر نہیں ہوئی۔ اب وہ اہلِ بیت تھیں تو وہ تو ایک الگ درجہ رکھتی تھیں تو اُن کی شادی کیسے باہر کسی سے ہو سکتی ہے ۔

۔

اب اگر ہم ایک سید لڑکی کی بات کریں تو بہت سے علماء دین اُس پہ بہت کچھ لکھتے ہیں ۔

۔

اب بہت سے علماء کہتے ہیں ایک سید لڑکی ماں کا درجہ رکھتی ہے ،سیدوں سے باہر۔ ۔مگر قرآن میں ماں صرف نبی کی بیویوں کو کہا گیا ہے ۔جو نبی کی بیوی ہو گی وہ اُمت کی ماں ہو گی ۔۔

۔

“وجدان میری بات سمجھ رہے ہو نا”

انھوں نے سوچوں میں گم وجدان کی طرف دیکھا اور کہا !!!

۔

“جی جی مولوی صاحب میں سمجھ رہا ہوں آپ بولیں “

۔

اب چونکہ ایک سید لڑکی کا درجہ افضل ہو گا تو اگر اُس کی سیدوں سے باہر شادی ہو جاتی ہے تو اُس کے شوہر پہ اُس کا احترام فرض ہے ۔جو آجکل لوگ اس چیز کو نہیں سمجھتے ہیں۔

۔ تو ہم ایک سید لڑکی کی شادی باہر نہیں کر سکتے ۔

۔

مولوی صاحب اگر لڑکا اچھا ہو اچھا خاندان ہو ہمیں پتا ہو کے یہ سید ذات کی عزت کرے گا تو بھی ہم ایک سید گھرانے کی لڑکی کی شادی باہر نہیں کر سکتے؟

۔

مولوی صاحب یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی اپنے گھر پہ اپنے سر کے بال سفید کر لے صرف اس انتظار میں کہ سید لڑکے کا رشتہ آئے گا ، اور اُس کے بال سفید ہونے پہ بھی کوئی رشتہ نا آئے تو پھر وہ اپنے ارمان اپنی قبر میں ہی لے کے جائے۔

۔

“۔

“آپ کو اقا علیہ السلام کا آخری خطبہ تو یاد ہو گا نا جس پے انھوں نے واضع کہا ہے کسی عربی کو کسی اجنی پہ کوئی برتری حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے. تو مولوی صاحب کیا ایک سید زادی کی شادی اُس سے نہیں ہو سکتی جو خدا اور اُس کے رسول کا ماننے والا ہو پرہیز گار ہو سید زادی کا احترام کرنے والا ہو “

۔

۔

بیٹا وجدان میں پھر سے وہی بات کروں گا ایک سید گھرانے کی لڑکی دوسری لڑکیوں سے افضل ہوتی ہے ۔ اور اُس کے افضل ہونے کی بس ایک ہی دلیل ہے وہ میرے رسول کے خاندان کی ہے۔

۔

رہی بات شادی کی تو بہت سے علماء دین یہ بھی لکھتے ہیں اگر لڑکی کی عمر نکلی جا رہی ہے اور کوئی سید گھر کا رشتہ نہیں آ رہا تو وہ اپنے باپ کی رضا مندی سے باہر شادی کر سکتی ہے ۔اگر اُس کا باپ رضا مند ہے تو “

اب واللہ عالم اس بات میں کتنی حقیقت ہے ۔۔۔۔

۔

وجدان کو بہت ساری باتیں سمجھ آ گئیں تھیں۔ اور بہت ساری باتوں میں وہ الجھ کر رہے گیا تھا۔ جس کو اُس نے خود پڑھنا تھا۔ خود سوچنا تھا ۔

۔

“آپ کا بہت بہت شکریہ مولوی صاحب آپ نے مجھے اپنا اتنا قیمتی وقت دیا ۔”

۔

اُس نے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور اُنکا شکریہ ادا کر کے وضو بنانے کے لیئے اٹھنے لگا ۔

۔

اُس نے سوچ لیا تھا اب وہ اس مسئلے پہ خود تحقیق کرے گا ۔

Episode 13

“فضہ ائو نا تھوڑی دیر لائبریری

میں جاتے ہیں۔ ابھی تو کلاس کو بہت ٹائم ہے “

“زری پتا نہیں کیا شوق ہے تمہیں لائبریری کا۔ پتا نہیں کیسے پڑھ لیتی ہو تم یہ اتنے موٹے موٹے ناول اور کتابیں۔”

۔

“آپ نے کبھی پڑھے ہوں تو آپ کو پتا ہو نا”

“مجھے کوئی ضرورت بھی نہیں اوور ایکٹنگ پڑھنے کی “.

وہ دونوں ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ لیے چل رہی تھیں فضہ کو پھول بہت پسند تھے وہ ہر پھول کو بہت غور سے دیکھتی تھی جیسے اُن کی خوشبو اپنے اندر اتار رہی ہو !!!!

۔

“خبردار جو میرے ناولز کو کچھ کہا تم نے تو “

زری نے فضہ کے کندھے پہ آرام سے مارا اور منہ بنا کے کہنے لگی !!!

۔

“وہ اُس کی زلفوں کے اهوش میں بےہوش ہو گیا “

“اب بتاؤ وہ کیسے اُس کی زلفوں کی اہوش میں بے ہوش ہوا؟ مطلب اُس کی زلفوں سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کے وہ بےہوش ہی ہو گیا”

“اب بندہ ناول نہ پڑھے بلکہ اوور ایکٹنگ پڑھے”

۔

فضہ نے اُس کے ایک ناول پہ تبصرo کرتے ہوئے کہا!!!!!

۔

“تم نے پڑھا ہے جنت کے پتے , پیر کامل ، نمل ، عشق کا شین ؟

زری اُس کو ایک ایک ناول گن گن کے بتانے لگی “

۔

“بہن ناول کوئی نورمل لوگ تو پڑھتے نہیں ہیں یہ آپ جیسے ابنارمل لوگ ہی پڑھتے ہیں آپ نے جانا ہے لائبریری تو جائیں میں نہیں جا رہی “

فضہ نے ایک خوبصورت سفید گلاب کو زمین پہ بیٹھ کے چوتھے ہوئے کہا!!!!

۔

“مر جاؤ تم فضہ”

“میں اب اکیلی جاؤں لائبریری؟”

۔

“نہیں بیٹا صبر میں پوری یونیورسٹی کو بولتی ہُوں آپ کے ساتھ جائیں”

اُسی نے اُسی طرح پھولوں کو چھوتے ہوئے کہا!!!!

۔

“زری نہیں اندر تمہارے وہ بیٹھے ہوئے جو تمہیں اندر جاتے ڈر لگ رہا ہے میں ابھی پھُولوں کو دیکھوں گی “

۔

“دفاع ہو جاؤ تم فضہ “

“بتاؤ کدھر دفاع ہو جاؤں؟”

اُس نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے پوچھا

۔

“جہنم میں دفاع ہو جاؤ اور ان پھُولوں کو بھی اپنے ساتھ لے کے جانا “

۔

فضہ کو غصے سے کہتے ہوئے وہ لائبریری کی طرف چلی گی اور فضہ اُس کو جاتا دیکھ کر مسکرانے لگی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“Sir can I enter”

ہانیہ وجدان کے آفس میں آئی جو اپنی کرسی پہ بیٹھا کمپیوٹر پہ کچھ کام کر رہا تھا ۔

“Yes”

اُس نے کمپیوٹر سے نظر ہٹاتے ہوئے اُس کو دیکھا اور پھر کام کرنے لگ لگیا !!!!

۔

ہانیہ کو لگا اُس کی ساری تیاری دھری کی دھری رہے گئی وہ جو اتنا تیار ہو کے آئی تھی اُس کو ایک نظر بھی نہیں دیکھا اُس نے !!!!

۔

“جی مس ہانیہ آپ کو کوئی کام تھا”

وہ ویسے ہی کمپیوٹر پہ نظریں جمائے بیٹھا تھا اُس کو کھڑا دیکھ کے اُس نے خود ہی پوچھا !!!!!

۔

“سر وہ آکچلّی مجھے یہ کہنا تھا کہ”

۔

وہ مسلسل ایک ہاتھ کو دوسری ہاتھ میں دبانے لگی تھی ۔جیسے اُس کو کہنے میں مشکل ہو رہی ہو !!!!! ۔

۔

“جی کہیے میں سن رہا ہوں “

اب کی بار اُس نے کمپیوٹر سے نظریں ہٹائیں اور اُس کی طرف دیکھنے لگا ، جو بلیک جینز کے اوپر سرخ شورٹ فروق پہنے بال کھولے کھڑی تھی!!!!

۔

“سر مجھے آپ کا پرسنل نمبر مل سکتا ہے”

اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے مکمل اعتماد سے پوچھا اُس کو لگا وہ اُس کی خوبصوتی سے آخر متاثر ہو ہی گیا ہے !!!!

۔

“کیوں چائیے آپ کو میرا نمبر”

اُس نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا ۔ اس کو ہانیہ کی اس بات سے بلکل بھی حیرت نہیں ہوئی تھی ۔اُس کا نمبر لینا تو ہر لڑکی کی خواہش تھی ۔۔ اکثر لڑکیاں ہانیہ کی طرح اُس سے خود نمبر مانگتی تھیں !!!!!!

۔

ہانیہ کو لگا وُہ اب کچھ بول نہیں سکے گی اُس کا اس طرح سے بات کرنا اُس کو بلکل اس کو بلکل اس لیجئے کی توقع نہیں تھی , وہ ایک خوبصورت اور پر اعتماد لڑکی تھی جس کا نمبر ہر لڑکا مانگتا تھا اور آج وہ مانگ رہی ہے ۔تو وجدان کو تو خوش ہو کے دے دینا چائیے ۔۔ مگر اُس کا اس طرح سیریز ہو کے پوچھنا ……!!!!

۔

“سر وُہ اسٹڈیز سے ریلیٹڈ آپ سے ٹاپکس وغیرہ ڈسکس کرنے تھے تب ہی میں کہے رہی تھی اگر آپ کا نمبر میل جاتا تو “

۔

اب کی بار وُہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے نہیں کہے رہی تھی ۔ بلکہ نظریں جھکائے شرمندگی سے بولے جا رہی تھی اُس کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے اُس نے تو سوچا ہی نہیں تھا اُس کے مانگنے پہ اُس کے جواب “کیوں” میں بھی ہو سکتا ہے ,, اُس وقت جو بھی اُس کے منہ میں آیا اُس نے کہے دیا !!!!!!!

۔

“ہانیہ آپ کو جو بھی ڈسکس کرنا ہے آپ کلاس میں کیا کریں۔ میں نے کلاس میں کسی کو اسٹڈیز سے ریلیٹڈ بات کرنے سے منع نہیں کیا ۔۔ اگر آپ کو کلاس میں نہیں پوچھنا تو مجھ سے آفس میں پوچھ لیا کریں۔ بٹ سوری میں اپنا پرسنل نمبر نہیں دیتا کسی کو ۔اي ہوپ آپ میری بات کو سمجھیں گی “

۔

وہ اُسی طرح کرسی کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھا اُس کو کہتا چلا گیا اور وہ ساکت سی اُس کو دیکھتی رہی!!!!!

۔

“آپ کو اور کوئی کام ہے مس ہانیہ؟”

اُس نے اب کمپیوٹر کو دیکھتے ہوئے کہا جیسے کہنا چاہتا ہو اب آپ یہاں سے تشریف لے جا سکتی ہیں!!!!!!!!

۔

“نو سر”

اُس کی آنکھوں میں ایک دم سے نمی اُتر آئی , جو وجدان نے نہیں دیکھی تھی۔

اُس کو لگا جیسے اُس نے سب کچھ غلط سنا ہو وہ کیسے اُس کو انکار کر سکتا ہے ۔کیسے اُس کو ٹھکرا سکتا ہے !!!!! ۔

۔

ٹھیک ہے مسٹر وجدان نمبر تو میں آپ کا کہیں سے بھی لے لوں گی اور اپنی اس ہے عزتی کو بھی یاد رکھوں گی۔ کچھ وقت پہلے تک میری خواہش تھے تم اب ضد ہو ” ۔

۔

وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اُس شخص کو دیکھتے ہوئے دل میں کہنے لگی جو مسلسل کمپیوٹر پہ لگا کام کر رہا تھا !!!!!!!!

۔۔۔۔۔,۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔,۔۔

وہ آج پہلی دفعہ فضہ کے بغیر کہیں گی تھی ۔ لائبریری میں اندر جاتے ہی اُس کو ایک عجیب سا سکون ملا تھا۔ اُس کو ویسے بھی خاموشی بہت پسند تھی۔ خاموشی میں بیٹھ کے پڑھنا اُسے ہمیشہ سے اچھا لگتا تھا ۔اور ایک کتابوں کی عاشق کے لیے اُس سے زیادہ پر سُرور اور کون سی جگہ ہو گی جہاں ہر قسم کی کتاب اتنے سکون والے ماحول میں میسر ہو !!!!!

۔

وہ مگن سی اِدھر اُدھر گھومتی رہی ہر کتاب کو دیکھتی رہی۔ اُس نے زندگی میں پہلی دفعہ اتنی کتابیں دیکھی تھی۔

وہ آج پہلی دفعہ لائبریری آئی تھی ، کاش میں پہلے آ جاتی یہاں ۔۔۔

اُس نے الماریوں کے شیشوں پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے دل میں کہا ۔

۔

اُس نے شیشہ کھولا اور ایک کتاب نکالی جس پہ “عاشق رسول” “اویس قرنی ” لکھا تھا ۔

اُس کو ہمیشہ سے شوق تھا کہ وہ اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کو پڑھے ۔۔۔۔آقا جان علیہ السلام کے عاشقوں میں بڑے مقام پہ فائز اُس شخص کو پڑھے جس نے بغیر دیکھے اقا جان سے اس قدر محبت کی کہ اُن کا چرچا اقا جان کے سامنے بھی ہونے لگا۔

اور آج بھی محبوب کے عاشقوں میں اُنکا نام سنہری حروف میں لکھا جاتا ہے ۔

۔

وہ بہت شوق سے کتاب لیے ایک کرسی پہ آئی اور کتاب میز پہ رکھ کے بیٹھ گی۔

۔

اُس کو یاد تھا اُس نے گھر سے نکلنے سے پہلے وضو بنایا تھا۔ وہ کبھی بھی آقا جان کو بغیر وضو کیے نہیں پڑھتی تھی تو اُن کے عاشق کو کیسے پڑھتی ۔۔۔

۔

اُس نے کتاب کھولی اور پیار سے اُس پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔

“راہ عشق کے شناور”

۔

اُس نے جیسے ہی پہلا لفظ پڑھا اُس کا دل کانپنے لگا ، وہ نبی کے عاشقوں میں کہاں کس جگہ کھڑی ہے ؟ کیا اُس کا نام بھی خدا کے حضور آقا جان کے عاشقوں میں لکھا جائے گا؟ کیا وہ بھی اقا جان سے اویس قرنی رحمۃ اللّٰہ جیسی ہی محبت کرتی ہے؟ وہ آقا جان پہ درود پڑھنے کے علاوہ اور کرتی ہی کیا ہے؟ اُس کے دل میں ایک دُکھ کی چنگاری اٹھی۔اللہ رحمت العالمین نے تو کہا ہے میرے محبوب سے ہر چیز سے بڑھ کے محبت کرو تو کیا وہ اتنی محبت کرتی ہے؟ بار چیز سے بڑھ کے ؟

۔

۔

عشق دم جبرئیل، عشق دلِ مصطفیٰ

عشق خدا کا رسول ، عشق خدا کا کلام

عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک

عشق ہے صہباۓ خام ، عشق ہے کاس الکرام

عشق فقیہہ حرم، عشق امیر جنود

عشق ہے ابنِ السبیل، اُس کے ہزاروں مقام !!!! ۔

۔

وہ جیسے جیسے پڑھتی گی اُس کی آنکھوں سے اشک رواں ہونے لگے ۔وہ رو رہی تھی کسی لڑکے کی محبت میں نہیں دو جہانوں کے سردار کی محبت میں ۔

۔

اگر کسی عاشق کی نظر سے دیکھیں تو سارا عالم جہانِ حسن و عشق کی صورت میں نظر آتا ہے ۔ کائنات کے سارے رنگ حُسن و عاشق سے عبارت ہیں اور اس عالمِ آب و گل کی ساری داستانیں حُسن و عشق ہی کے گرد گھومتی ہیں!!!!!

۔

“سنیں”

وہ سامنے پڑی میز پہ سر رکھے آنکھوں میں آنسوؤں لیے اُس ذات اقدس کو سوچ رہی تھی کہ ایک نسوانی آواز اُس کے کانوں سے ٹکرائی ۔اُس آواز میں کچھ عجیب سا سحر تھا۔ وہ ایک دم اوپر ہوئی اور اپنے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی۔

۔

جو سر سے پاؤں تک سراپا نور تھی ۔ اُس نے کالا عبایا لیا ہوا تھا اور کالے ہی رنگ کا سکارف لیا تھا جیسے مدرسوں میں پڑھنے والی عموماً لڑکیاں لیا کرتی ہیں ۔ ہاتھوں پہ کالے ہی رنگ کے دستانے پہن رکھے تھے ۔آنکھوں میں ایک عجیب سی کشش تھی جیسے اُس کی آنکھوں سے نور باہر کو آ رہا ہو ۔

۔

اُس نے اُس کو ایک نظر دیکھا اور بس دیکھتی رہے گی ۔

۔

“میں یہاں پہ بیٹھ جاؤں؟ “

اُس نے اس قدر نرم لہجے میں اُس سے پوچھا وہ حیران ہوئی کوئی ایسا بھی میٹھا بول سکتا ہے ۔اُس کو دل چاہ رہا تھا وہ لڑکی یوں ہی کھڑی رہے اور وہ بس اُس کو دیکھتی رہے !!!!

۔

“جی بیٹھیں نا “

مسکراتے ہوئے اُس نے اُس لڑکی کو بیٹھنے کا کہا !!!!!

۔

“اویس قرنی کو پڑھ رہی ہیں آپ؟”

اسی محبت والے انداز میں اُس نے اس سے پوچھا اور سامنے پڑی کتاب کو محبت سے دیکھنے لگی !!!!!!

۔

“جی مجھے محبت ہے ہر عاشق رسول سے “

نظریں جھکائے اُس نے اُس لڑکی کو کہا ۔

۔

“پھر تو مجھے بھی آپ سے محبت کرنی چاہیے “

اُس لڑکی نے اُس کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے آنکھوں میں۔ وہی چمک لیے کہا جو زرمینہ کے دل پہ لگ رہی تھی !!!!!

۔

“جی میں سمجھی نہیں آپ کی بات “

زرمینہ کو اُس کی اس بات سے حیرت ہوئی اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے پھر پوچھا آپ کو مجھ سے محبت ……..؟”

۔

“آپ نے کہا نا آپ کو ہر عاشق رسول سے محبت ہے تو ایسی طرح مجھے بھی ہر عاشق رسول سے محبت ہے”.

۔

وہ لڑکی اُس کو دیکھتے ہوئے بولتی رہی !!!!

۔

“نہیں میں اس قابل نہیں کہ میں آقا جان کے عاشقوں کا نام بھی بغیر وضو کیے لے سکوں, میں اقا جان سے کدھر ایسی محبت کر سکتی ہوں جیسی سب کرتے ہیں ۔بہت گناہگار ہوں میں”

۔

وہ لرزتی آواز کے ساتھ بولتی گی۔ اُس کو لگا وہ کسی ولی کی درگاہ میں بیٹھی ہے ۔اُس کی آنکھوں سے آنسوں گرتے اُس کے ہاتھوں سے ٹکڑا کے وہیں جذب ہو جاتے۔ اور وہ ایک سُرور میں بولتی گی ۔

۔

وہ لڑکی اُس کو دیکھے جا رہی تھی بغیر پلکیں چھپکاۓ ۔ وہ اُس کو سنتی رہی جب تک وہ خاموش نا ہوئی !!!!!

۔

“کیا نام ہے آپ کا؟”

۔

وہ اب ہوشوں کی دنیا میں آئی اُس نے ایک نظر اُس لڑکی کو دیکھا۔

۔

“زرمینہ خان سوتی “

دھیمے سے بولی زرمینہ خان سواتی نام ہے میرا !!!!

۔

“ما شاء اللہ بہت پیارا نام ہے آپ کا زرمینہ ۔ میرا نام عائشہ ہے “

اُس لڑکی نے مسکراتے ہوئے زرمینہ کو دیکھا جو مستقل اُس کو دیکھے جا رہی تھی !!!! ۔

۔

“۔عائشہ گل”

زرمینہ کے منہ سے بے اختیار عائشہ گل نکلا !!!!

۔

“نہیں نہیں عائشہ گل نہیں عائشہ صدیقہ نام ہے میرا”

اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کو کہا!!!! ۔

۔

“مگر مجھے تو آپ عائشہ گل لگی ہیں بلکل جنت کے پتے کی عائشہ گل جیسی “

.

“زرمینہ نے اُس قدر معصومیت سے کہا کہ اُس نے بڑے پیار سے اُس کے چہرہ پہ ہاتھ رکھا آپ مجھے عائشہ گل کہے سکتی ہیں زرمینہ”

۔

“اچھا زرمینہ اب میری کلاس کا وقت ہے میں کلاس لینے جا رہی ہوں ۔ اللہ نے چاہا تو پھر ملیں گے “

“ایک بات یاد رکھیے گا زرمینہ نبی کریم صلی علیہ وسلم کے ذکر پہ جس کی آنکھوں سے آنسوں رواں ہوں وہی سچا عاشقِ رسول ہے “

۔

اُس نے اُٹھتے ہوئے زرمینہ کی طرف دیکھا اور اُسی دهمے سے لیجئے میں بولی اور خدا حافظ کہے کر وہاں سے چلی گی !!!!!

۔

دل کے آئینے میں ہے تصور یار

جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے اُسی انداز میں بھاگتا ہوا ہاتھ میں موبائل اور چائے کا کپ لیے کلاس میں آیا !!!!

۔

کہتے ہیں جب آپ کو محبت ہو جائے تو آپ کو اُس محبت کو قبول کرنے پہ وقت لگتا ہے اور وہ جتنا وقت ہوتا ہے آپ کے لیے ایک ایک سیکنڈ کی اذیت کا سبب بنتا ہے ۔اور جب وہ محبت قبول ہو جائے آپ کو اندر سے ایک سکون ملتا ہے۔ آپ اپنے محبوب کی صورت سے پھر بھاگتے نہیں ہیں۔ محبوب کو سوچتے ہیں۔ اُس کے ایک دیدار کے لیے پوری دنیا کو داؤ پے لگا دیتے ہیں۔!!!!!!

۔

وجدان کو بھی اپنی محبت کے قبول کرنے پہ ایک سکون ملا تھا۔ اب وہ اُس محبت سے بھاگتا نہیں تھا اُس کو ہر طرح سے قبول کرتا تھا !!!!!

۔

سلام کے بعد اب وہ بغیر کچھ بولے اٹیندنس لیتا تھا ۔اور روانی سے بولتا چلا جاتا ،بغیر مسکرائے بغیر کسی سے بات کیے !!!!

۔

آج بھی وہ ایسا ہی کر رہا تھا کہ اُس کے دل کو عجیب سی گُھٹن ہونے لگی ۔

آج رول نمبر ۱۲ پہ کوئی نہیں بولا تھا۔ اُس نے ایک بار پھر رول نمبر ۱۲ کہا۔ پھر کوئی نہیں بولا ۔اُس کے ہاتھ کمپنے لگے دل کو زخمی کر دینے والا احساس اُس کے اندر ہوا ۔

۔

اُس نے نظریں اٹھائی ۔۔۔وہ جو کبھی رول نمبر ۱۲ پہ نظریں اٹھا کے نہیں دیکھتا تھا آج اُس کی نظریں پوری کلاس کا تعاقب کرنے لگیں ۔وہ بغیر کچھ بولے ایک ایک کرسی پہ نظریں گھومتا ہوا اُس ایک لڑکی کو دیکھنے لگا جس کے سامنے وہ ہار گیا تھا ۔۔۔۔

۔

Where is roll no 12 ?

اُس نے خود پہ قابو پاتے ہوئے ، بغیر کسی تاثر کے فضہ کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا …

۔

“سر وہ لائبریری گی تھی ۔میں اُس کو لینے گی بھی تھی مگر وہ وہاں نہیں تھی۔ میں اُس کو ہر جگہ دیکھا جہاں ہم ہوتے ہیں مگر وہ کہیں نہیں ملی “

۔

وہ رونے والے انداز میں بولتی گی اور سامنے کھڑے سید وجدان حسین شاہ کے دل پے چھریاں چلنے لگی۔ اُس کو لگا جیسے اُس کا دل کوئی چھوٹا چھوٹا کر کے کاٹ رہا ہے !!!!!

۔

“آپ ہر وقت تو اُن کے ساتھ ہوتی ہیں پھر اکیلا کیوں چھوڑ دیا ایسے؟”

اُس کو پتا تھا اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو وہ شاید کلاس سے چپھی ہوتی ۔مگر یہ تو زرمینہ تھی جو کبھی اکیلی نظر ہی نہیں آئی تھی ۔جو ڈر سے کسی لڑکی سے بھی بات نہیں کرتی تھی ۔وہ کافی ٹائم سے نہیں مل رہی وہ کدھر ہے ۔۔۔

۔

۔

“سر میں نے بہت دنڈھا اُس کو اب فضہ باقاعدہ رونے لگی تھی “۔

“ڈھونڈا تو ملی کیوں نہیں ؟”

۔اُس نے ایسے انداز میں کہا کے سب حیران رہے گے!!!!!

۔

“آپ آئیں میرے ساتھ فضہ”

وہ سب کچھ وہاں چھوڑ کے فضہ کے ساتھ کلاس سے باہر چلا گیا !!!!

اُس کی اس انداز پہ سارے کلاس والے اُس کو غور سے دیکھنے لگے۔ اُس کی آنکھوں کی وحشت سب کو صاف صاف دکھائی دینے لگی آج وُہ اُن سب کو ایک ٹیچر سے زیادہ ایک دیوانہ لگ رہا تھا جو اپنی محبوبہ کی گمشدگی پہ مارا مارا پھر رہا ہو !!!!

۔

“آپ آخری دفعہ کہاں بیٹھے تھے؟ “

اُس نے منہ سے پسینہ صاف کرتے ہوئے فضہ سے پوچھا !!!

۔

“سر آخری دفعہ ہم یہاں گراؤنڈ میں بیٹھے تھے ۔وہ لائبریری جانے کی ضد کرنے لگی ۔ میں یہی پھُولوں کے پاس بیٹھی تھی وہ لائبریری چلی گئی۔ آپ کی کلاس سے ۱۰ منٹ پہلے میں اُس کو ڈھونڈنا شروع ہوئی مگر وہ کہیں نہیں ملی۔ وہ تو بہت ڈرتی ہے سب سے اُس کی تو کوئی دوست بھی نہیں میرے علاوہ یہاں وہ تو میرے علاوہ کہیں جاتی بھی نہیں تھی”

۔

فضہ روتے ہوئے اُس کو ایک ایک لفظ بتانے لگی ، اور وہ پاگلوں کی طرح ادھر اُدھر دکھنے لگا کہیں سے اُس کو وہ نظر آ جائے، کہیں سے اُس کو وہ حجاب والی صورت نظر آ جائے ۔۔۔۔مگر وہ کہیں نہیں تھی !!!!

۔

اُس کو لگا اُس کا دل پھٹنے لگا ہے اگر کچھ دیر اُس کو وہ نظر نا آئی تو شاید وہ مر جائے گا اُس نے اپنے جیب سے سگریٹ نکالے اور پینے لگا ۔

آج سید وجدان حسین شاہ کو سگریٹ پیتے ہر کوئی دیکھ تھا تھا۔ آج اُس دیوانے کی دیوانگی سارا جہاں دیکھ رہا تھا ۔ اور وہ مارا مارا پھیر رہا تھا۔بغیر کچھ سوچے بغیر کچھ سمجھے ۔اُس کو یاد ہی نہیں رہا وہ ایک ٹیچر ہے اور سب اُس کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ اِدھر سے اُدھر بھاگتا رہا ۔ایک سگریٹ ختم ہوتا تو دوسرا لگا لیتا۔

۔

آج وہ پوری دنیا کو اپنے اس رویے سے چینج چینج کے بتا رہا تھا ، ہاں مجھے محبت ہو گئی گی ۔وہ جو محبت سے کہیں اوپر ہوتا ہے مجھے اُس لڑکی سے عشق ہے “

۔

وہ لائبریری میں گیا ایک ایک بندے کو دیکھنے لگا مگر اُس کو وہ وہاں نظر نہیں آئی!!!! ۔

مکمل ناول کے کیے میسج کریں

۔

“خریت وجدان سر”

۔ہر کوئی اُس کی یہ جنینیت دیکھ کے اُس سے ایک ہی بات پوچھتا اور وہ سگریٹ ہاتھ میں لیے بغیر جواب دیے بھاگتا چلا جاتا !!!! ۔

۔

“کیا ہوا ہے سر کو؟ “

باہر کھڑے ہونے والا ہر سٹوڈنٹ اُس کو دیکھ کے آپس میں ایک دوسرے سے پوچھتا ۔۔۔اور وہ سب سے بینیاز اُس کو بس دیکھتا رہا۔۔۔

۔

“ملکہ کہاں ہو تم ؟”

وہ سیڑھیوں کے پاس⁦ روکا اُس کا سانس پھولنے لگا اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پے رکھے ۔اور لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔

۔

“کہا ہو تم “

“سنو آ جاؤ میرے سامنے ملکہ اس سے پہلے کہ وجدان کا دل دھڑکنا بھول جائے اُس کی سانسیں روک جائیں “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *