Hijab by Amna Khan NovelR50618 Hijab (Episode 06,07)
No Download Link
Rate this Novel
Hijab (Episode 06,07)
Hijab by Amna Khan
ایک لڑکا ہے مہرباں سا
لوگوں کی بھیڑ میں انجاں سا
پھولوں میں گلاب سا
ساون میں گھٹا سا
محمّد کا پیروکار سا
حسین ابنِ علی کا لجپال سا
پنج تن کا غلام سا !
اذان کی آواز اس کے کانوں میں پڑی وہ اٹھ کر بیٹھا اور کلمہ پڑھا
کھڑی کھول کر پردے سائیڈ پر کیے اور چلتا ہوا بلکونی میں آیا ٹھنڈی ہوا میں سانس لی
ہاف ٹی شرٹ اور ٹراؤزر میں اسکی رنگت اس وقت اور بھی نکھری ہوئی تھی
اس نے آنکھ بند کی تو اچانک سے دو بڑی بڑی کالی آنکھیں پردے میں لپٹا چہرہ ایک دم آنکھوں کی پیچھے آیا
وہ جھٹکے سے آنکھ کھول کے یہاں وہاں دیکھنے لگا
کل جب وہ یونی میں اپنے پیپرز جمع کروا کے نکلا تھا تبھی اسکی نظر دو لڑکیوں پر پڑی تھی جس میں ایک مکمل حجاب اور دوسری با پردہ تھی
نا جانے اس میں ایسی کیا کشش تھی کے وہ جو لڑکیوں کو دیکھتا تک نہیں تھا اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا
الارم کی آواز پر وہ اندر آیا اور موبائل کو بند کیا واشروم میں گھس کر باتھ لیا اور مسجد کے لئے نکل آیا
گھر سے کچھ ہی فاصلے پر مسجد حسین تھی
کیوں کے وہ ایک سید خاندان سے تھا تو اہل بیت سے محبت اسکی اور خاندان کی نرالی تھی
اس پورے علاقے میں انکی مسجد مشہور تھی
وہ آگے کی صف میں کھڑا ہوا اور نماز ادا کر کے کونے میں بیٹھ کر قرآن کھول لیا
اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾
اللہ تعالٰی صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی بُرائی کر گُزریں پھر جلد اس سے باز آجائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالٰی بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، اللہ تعالٰی بڑے علم والا حکمت والا ہے ۔
اسکی تلاوت نے ایک سحر باندھ دیا تھا وہاں موجود چند لوگ محصور هو گئے تھے تھے اسکی آواز سے
وہ اس آیت میں اللہ کی اپنے بندے سو محبت دیکھ کر مسکرایا
اللہ کتنا مہربان اور خوبصورت ہے
اسکی آنکھ کا کونہ نم ہوا وہ وہ روز کی ایک آیت پڑھتا اور سمجھتا تھا کے اللہ کیا کہنا چاہتا ہے اپنے بندے سے وہ دوسروں کو بھی یہی کہتا تھا
اکثر بات سنتے اور اکثر ہنس کے ٹال دیتے تھے
سورج نکل آیا تھا وہ قرآن پاک رکھ کر گھر کی طرف چل دیا
راستے میں نظر آتے کچھ مانگنے والوں کو دیکھا کر مسکرا کر چپ چاپ انکا ہاتھ بھر کے وہ گھر کے اندر داخل ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کا یونیورسٹی کا دِن گھومنے پھرنے میں ہی گزرا تھا ۔
کبھی ایک کلاس میں اور کبھی دوسری میں ۔کبھی ایک ڈیپارٹمنٹ اور کبھی دوسرا ۔ سٹوڈنٹس بلکل نئے تھے اور کالج سے یونیورسٹی میں آئے تھے ۔تو اُنکو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا کہاں جانا ہے ۔۔۔۔
ایسے بھی اُنکو یونیورسٹی کا ماحول کالج کے مقابلے میں بہت عجیب لگ رہا تھا ۔۔۔جدھر دیکھتے دو لڑکا لڑکی بیٹھے ہوتے يا گروپ کی صورتِ میں بہت سے لڑکیاں لڑکے آپس میں بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہوتے یا بلند آواز میں ققہے لگا رہے ہوتے ۔۔۔۔
زرمینہ کو یہ سب دیکھ لے بہت عجیب لگا ۔۔وہ تو کبھی گھر سے باہر ہی نہیں نکلی تھی ۔اور اچانک سے ایک نئی دنیا ۔اُس کو یہ سب بلکل سمجھ نہیں آ رہا تھا آخر یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔۔۔۔
بس وہ فضہ کے ساتھ اِدھر اُدھر چلتی رہی جدھر وہ لے کے جاتی وہ بھی ساتھ ہو لیتی۔ اور نظریں جھکائے بس چلتی رہتی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم ماں جی”
وہ نماز پڑھ کے سیدھا ماں کے پاس آیا کرتا تھا جو قرآن پاک کھولے اونچی آواز سے تلاوت کر رہی ہوتیں تھیں ۔
ماں جی نے سر ہلاتے ہوئے مسکرا کے آنکھوں سے جواب دیا !!
وہ ابھی تلاوت ہی کر رہی تھیں اور وہ انکے پاس اُن کے پیروں میں زمین میں بیٹھا بڑے پیار سے ماں کی آواز میں تلاوت سن رہا تھا ۔ اُس کو اُس کی ماں سے زیادہ کسی کے منہ سے تلاوت نہیں اچھی لگی تھی ۔۔۔
ماں نے تلاوت مکمل کی قرآن پاک بند کیا دونوں آنکھوں سے باری باری لگایا اور چومتے ہوئے رکھنے لگی ۔۔
“ماں جی مجھے دیں میں رکھتا ہوں قرآن پاک آپ آرام سے یہی بیٹھی رہیں “
وہ جلدی جلدی اٹھا اور قرآن پاک وہی پاس پڑی الماری پہ رکھا اور پھر ماں کے پاس آ کے بیٹھ گیا ۔۔
اب وہ تسبی پہ کچھ پڑھ رہی تھیں ۔ انھوں نے تسبی کو چوما اور پھر بیٹے کے سر پے باری باری پھونکا اور مسکرانے لگی۔ ۔۔
“وجی دیکھو کتنا کمزور ہو گے ہو تم اپنا خیال رکھا کرو ، اتنا کام نہ کیا کرو کہ اپنی صحت ہی بھول جاؤ “
وہ بیٹے کے سر پہ ہاتھ پھیرتے
ہوئے فکر مندی سے کہے جا رہی تھیں !!!!!
توبہ توبہ ماں جی یہ دیکھیں زرا آپ میں کمزور ہو گیا ہوں؟ آپ تو چاہتی ہیں میں بلکل جان سینا بن جاؤں۔ اپنے بازو ماں کو دیکھاتے ہوئے ہسنے لگا۔ ۔۔۔۔وہ ویسے بھی بات بات پہ مسکراتا اور ہستا تھا ۔ اُس کی عادت ہی ایسی تھی۔ ہمیشہ ہسنا اور مسکرانا ۔۔۔اور جب غصّہ آئے تو خود پہ نکال لیا کرتا۔یا اگلے بندے پہ زور دے چیخا کرتا۔۔۔۔
“فاطمہ بیٹا جلدی سے ناشتہ لے آئو بھائی کو یونیورسٹی بھی جانا ہے “
وہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ۔ ۲ اُس سے بڑی بہنیں تھیں اور ۳ اُس سے چھوٹی ۔۔۔
ساری بہنیں گھر پہ ہی تھیں۔ کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ وہ سیدوں سے باہر شادی کر نہیں سکتے تھے۔ اور خاندان میں والد صاحب کسی کو دیتے نہیں تھے۔ اُس کی اکثر بہنوں کی وجہ سے والد صاحب سے بحث ہو جاتی تھی۔ وہ ہمیشہ یہی کہتا تھا بہنوں کی عمر چلی گی تو پھر کون کرے گا اُن سے شادی؟ ۔
وہ لاہور کے رہنے والے تھے ۔ خاندان والوں سے اُن کی بنتی نہیں تھی تو وہ پچھلے ۵ سال سے مانسہرہ آئے تھے اور دھوڑھال میں رہائش پزیر تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج یونیورسٹی کا دوسرا دن تھا آخر کار چل چل کے برا حال ہونے کے بعد اُن کو اپنا ڈیپارٹمنٹ میل ہی گیا تھا ۔۔۔
کلاس شروع ہو چکی تھی ۔
زرمینہ اور فضہ سب سے فرنٹ والی سیٹ پہ کونے میں بیٹھے بیٹھے ۔
“یارا مجھ سے تو نہیں بیٹھے ہوتا پیچھے “
فضہ نے کرسی پہ بیگ رکھتے ہوئے کہا ۔۔
“ہاں آگے بیٹھ کے جو تیر مار لیں گی نا آپ وہ بھی میں دیکھ لوں گی “
انھوں نے سرگوشی والے لہجے میں ایک دوسرے کو کہا ۔۔
کیوں کے مم کلاس میں موجود تھی اور ہاتھ بھاندے سخت انداز میں کھڑی انتظار کر رہی تھیں کے سٹوڈنٹس پورے ہوں اور وہ کلاس شروع کریں ۔۔۔
” Excuse me “
“Can i sit here?”
ان دونوں کے ساتھ والی کرسی خالی تھی ۔
ایک دُبلی پتلی سی لڑکی نے ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کرسی کی طرف اِشارہ کیا ۔
“Yes”
“Sure”
فضہ نے مسکراتے ہوئے بیٹھنے کا کہا ۔۔اور پھر زرمینہ کے کان میں سرگوشی کرنے لگی ۔
“یہ تو ایسے پوچھ رہی ہیں بیٹھنے کے لیے جیسے ہمارے ابا حضور کی یونی ہے “
چپ ہو جاؤ میم ہمیں ہی دیکھ رہی ہیں عینکوں کے نیچے سے ۔۔
So ,
“Students first of all your most welcome in Hazara university”
“Then i want to introduce my self that you people have to know about your subject teacher “
“My name is mam samia”
“I did my matric in MPS”
“Fsc in degree college”
“Then bs in post graduate”
“یار انھوں نے تو آتے ہی پکانا شروع کر لیا ہے ، اردو نہیں آتی ان کو جو نون اسٹاپ انگریزی میں لگی ہوئی ہیں۔ نہیں جاننا ہمیں آپ کے بارے میں یہ لیں ہاتھ جوڑتی ہوں چپ ہو جائیں “
فضہ نے اپنے گود میں رکھے ہاتھوں کو جوڑتے ہوئے اتنے آرام سے کہا کہ زرمینہ کے علاوہ کسی کو آواز نہیں آئی۔۔۔
“فضہ مر جاؤ تم چپ ہو جاؤ میم نے دیکھ لیا تو سچ میں ہاتھ جوڑنے پڑھ جائیں گے “
زرمینہ نے میم کی طرف دیکھتے ہوئے اتنے مہارت سے اُس کو کہا جیسے یہ میں کی بات بہت دیاں سے سن رہی ہے !!!!
“تم تو دفاع ہے ہی ہو جاؤ “
فضہ زرمینہ کو دفاع کر کے اب ساتھ کرسی والی لڑکی کی طرف ہوئی تھی ۔
۔۔۔ چونکہ انہوں نے نقاب لیے ہوئے تھے تو میم کو اندازہ نہیں ہو رہا تھا کے فضہ صاحبہ بول رہی ہیں ۔۔۔
کیا نام ہے آپ کا؟
جی میرا؟
اُس نے اچانک فضہ کی طرف مڑتے ہوئے کہا جو بڑے دہان سے میم کا نا ختم ہونے والا انٹروڈکشن سن رہی تھی ۔۔۔
“My name is tooba “
یہ کہے کر پھر وہ میم کی طرف مڑ گی اور بڑے دھیان سے اُن کی بات سننے لگی ۔۔۔
یہ انٹرو سن کے ہی زولوجسٹ بن جائیں گی اُس نے منہ بناتے ہوئے دل میں کہا اور اپنی کرسی کے ساتھ ٹیک لگا کے پیچھے ہو کے بیٹھ گی ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
وہ دو کلاسز لینے کے بعد بلکل پک چُکے تھے ۔اب اُن کا فری لیسن تھا ۔۔۔وہ ڈیپارٹمنٹ کے باہر گارڈن میں آ کے بیٹھی جدھر وہ دھبلی پتلی سی لڑکی اکلي بیٹھی تھی ۔۔
“یہ تو وہی ہے جو ہمارے ساتھ کلاس میں بیٹھی تھی نا”
ہاں وہی ہے فضہ نے برا سا منہ بنا کے کہا ۔۔۔
وہ دونوں اُس کے پاس گئیں۔۔”آپ یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہیں”
زرمینہ نے بڑے پیار سے اُس کو کہا ۔
جی مجھے اكیلے بیٹھنے کا شوق ہے اُس نے مسکراتے ہوئے کہا اور نیچے دیکھنے لگ گئی ۔۔۔۔
وہ دونوں اُس نے تھوڑا سا دور ہو کے وہی زمین پہ بیٹھ گئیں ۔۔
“کیا ضرورت تھی تمھیں اُس سے بات کرنے کی؟” اُس نے منہ بھی نہیں لگایا نا آگے سے ۔
فضہ نے منہ بناتے ہوئے زرمینہ کو کہا۔ ۔۔۔
” کوئی بات نہیں افت کی پڑیا کچھ لوگوں کی عادت ہوتی ہے ہے اکیلے رہنے کی”
“ہوں ہوتی ہو گی”
یار قسم سے کتنے بور ٹیچر ہیں ادھر کے میں تو ایڈمیشن لے کے رو رہی ۔۔۔۔سب نے کتنا پکایا ہے ۔۔۔ابھی ایک کلاس رہتی ہے ۔میں نے سنا ہے کوئی میل ٹیچر ہیں ۔۔۔۔۔یار بس دعا کر زری کمذکم وُہ بندہ کچھ اچھا ہو ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یہ سر آ کیوں نہیں رہے یارا جی “
کیوں زری صاحبہ تنگ ہو گئی ہیں؟
“یارا پانچ منٹ ہو گئے ابھی بھی نہیں آئے ہیں سر۔میرا دل ایسے ہی بس تنگ ہو رہا ہے عجیب سی بیچینی ہو ہو رہی ہے “
“کیا ہوا زری طبیعت تو ٹھیک ہے نا”
“ہاں یار ٹھیک ہوں چلو نا فضہ کلاس نہیں لیتے “
“کیا کہے رہی ہو تم ؟”
بس یہ لاسٹ کلاس ہے اس کے بعد گھر زری بس تھوڑا سا اور یار ۔آج پہلی ہی کلاس بنک نہیں کر سکتے نا ۔۔۔
“اوئے زری وہ دیکھ “
کیا ہوا؟
اُس نے آنکھیں اور منہ کھولے ہوئے فضہ کو دیکھا ۔جو اُس کو اشارہ کر کے بتا رہی تھی ۔۔۔
اُس نے دروازے سے دوڑ کے آتے ہوئے اُس لڑکے کو دیکھا ۔ جس نے ہاتھ میں موبائل اور دو تین کاغذ پکڑے ہوئے تھے ۔
اُس نے بلیو جینز اور بلیک کوٹ پہنا ہوا تھا ۔اور مسکراتا ہوا کلاس میں آ رہا تھا۔ ۔۔وہ بلیو جینز اور بلیک کوٹ میں انتہاء کا پر کشش لگ رہا تھا ۔اُس کے چہرے پہ چھوٹی چھوٹی داڑھی بہت جج رہی تھی ۔جب بھی وہ مسکراتا تو اُس کا چہرہ کھلکھلا سا جاتا اور داڑھی اور بھی خوبصورت لگتی ۔۔۔۔
“خان صاحب”
زرمینہ نے اُس کو دیکھا اور بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا خان صاحب !!!!!!
یارا یہ یہاں کیوں آیا ہے؟
یار جو کل میں نے جو باتیں سنائی تھیں شاید اُس کا بدلہ لینے آیا ہے ۔اور اُس کا وُہ کاغذ یار اففف وُہ بھی تو میں گھر چھوڑ آئی ہُوں ۔۔۔یار میں مری اب بس ۔۔۔
“لیکن فضہ یہ تو دیکھو روسٹر پہ جا رہے ہیں شاید کوئی سینئر ہیں ہمارے کچھ بتانے آئے ہوں گے تم بس چپ کرو اور نیچے دیکھو, کچھ نہیں ہوتا خدا خیر کرے گا”
“اسلام علیکم “
اُس نے ایک نظر سب پہ ڈالی اور مسکراتے ہوئے سلام کیا ۔۔۔اُن کی کلاس میں ۲۰ لڑکیاں اور ۱۵ لڑکے تھے سب نے سوئے ہوئے انداز میں سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔لیکن لڑکیاں سامنے کھڑے پر کشش انسان کو دیکھ کے پلک جپکنا بھول گئی تھیں جیسے۔ ۔۔۔
” لگتا ہے آج سب نے آپ لوگوں کو صحیح پکایا ہے ۔ میں بلکل بھی ایسا نہیں کروں گا “
اُس نے ہستے ہوئے اپنا موبائل دیکھا اور کلاس کو کہنے لگا ۔۔۔
بئ مجھے اُتنی ہی انگلش آتی ہے جتنی آپ کو wild life آتی ہے ۔وائلڈ لائف آپ کو کتنی آتی ہے؟
اُس نے سب کو دیکھ کے پوچھا !!!
“کلاس کے کچھ لڑکوں نے جواب دیا جناب تھوڑی سی “
“مجھے بھی انگلش تھوڑی سی ہی آتی ہے جتنی آپ کو wild life “
اُس نے مسکراتے ہوئے اُنکو دیکھ کے کہا ۔۔۔
ابھی بھی کوئی نہیں سمجھا تھا وہ آخر ہے کون ۔۔۔۔
جی تو سٹوڈنٹس آپ سب کو سید وجدان حسین شاہ کی طرف سے خوش آمدید ، مولا آپ سب کو خوش رکھے یہاں اور میرے سبجیکٹ میں پاس ہونے کی توفیق دے “
“میں ہوں آپ کا وائلڈ لائف کا سبجیکٹ ٹیچر سید وجدان حسین شاہ”
آپ لوگ مجھے کسی بھی نام سے پکار سکتے ہیں ۔ لڑکیاں مجھے بہت نام دیتی رہتی ہیں ۔۔۔آپ کو بتاؤں گا جو بھی آپ کو اچھا لگے آپ وہی کہے دینا ۔اُس نے شرارتی سے انداز میں مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔
“اور پھر خود ہی بولا یہ مذاق تھا اچھا سیریز نہیں ہونا”
“ٹیچر “
کلاس میں سے ایک لڑکی فوراً سے بول پڑی جیسے سب کو بہت حیرت ہوئی اُس کو کچھ زیادہ ہی ہوئی تھی ۔۔
“جی جی ٹیچر”
“نہیں لگتا نا میں ٹیچر”
“چھوٹا سا ہوں نا”
اُس نے مسکراتے ہوئے ایک ہے دفع میں اتنے سوال اُس لڑکی سے پوچھ لیے !!!
۔
“وہ ایسا ہی تھا سٹوڈنٹس میں کھڑا ہوتا ہوا سٹوڈنٹ ہی لگتا “بلکہ بعض اوقات سٹوڈنٹس اُس سے بڑے لگتے ۔۔۔
Episode 7
اُس نے کلاس میں آتے ہی ایک پر سُرور سا ماحول بنا دیا تھا ۔صبح سے جو سارے سٹوڈنٹس تنگ ہو رہے تھے ایک دم سے فریش ہو گے ۔۔۔۔
وہ کلاس میں کھڑا ہوا ٹیچر لگ ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔ وہ تو دوستوں کی طرح باتیں کر رہا تھا ، ہسی مذاق ، خود ہسنا دوسروں کو ہسنا ۔
“اگر اُس کو کوئی محفل کی جان کہتا تو کون سا غلط کہتا؟ “
کلاس روم کا ماحول اُس نے اپنی موجودگی سے اتنا خوشگوار بنا دیا تھا کے سب اُس کو ہی دیکھتے رہے ۔۔۔۔وہ ابھی تک روسٹر سے ہٹا نہیں تھا۔ اُس کی کچھ عادت تھی وہ کلاس سے بات کرتے وقت اپنا موبائل دیکھا کرتا۔ ابھی تک اُس نے کلاس میں سب سٹوڈنٹس کو پوری طرح نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
“اچھا تو پڑھنا شروع کریں”
“یا گپ شپ ہی ……”
اُس نے بات آدھی چھوڑی اور سب پہ سرسری سی ایک نظر ڈالی ۔ اُس کا انداز ایسا تھا کہ کوئی یہ نہیں کہے سکتا تھا نہیں سر آج بس گپ شپ کرتے ہیں ۔۔ وہ ایک دم سے سنجیدہ ہوا تھا۔ جیسے اُس نے ہسی مذاق بس سٹوڈنٹس کو جاگنے کے لیے ہی کیا ہو۔
“ایک بات میری یاد رکھیے گا “
“میں اسٹڈیز میں کوئی کمپرومائز نہیں کرتا کسی قِسم کا بھی۔ اگر آپ سب نے پاس ہونا ہے تو پڑھنا پڑے گا ۔اور پڑھنے کے لیے کلاس میں سیریز ہونا پڑے گا۔ ہاں گپ شپ ہم ساتھ ساتھ لگاتے ہی رہیں گے “
“اُس کے سنجیدہ ہوتے ہوئے چہرے پہ ایک بار پھر سے مسکراہٹ آئی اور وہ مسکراتے چہرے کے ساتھ بولتا رہا۔ سٹوڈنٹس کو پتا چل ہی گیا تھا۔ سید وجدان حسین شاہ کے مسکراتے چہرے پہ جائیں گے تو بہت بڑا نقصان اٹھائیں گے۔ ۔۔اُن کو پڑھنا پڑے گا۔ اور دوسرے سبجکٹس کے مقابلے میں زیادہ پڑھنا پڑھے گا ۔۔۔
آدھا وقت تو آپ لوگوں کی باتوں میں ہی گزر گیا ہے۔ تھوڑا بولا کرو یار۔ اُس نے شرارتی سے انداز میں ہاتھوں میں پکڑے کاغذ اوپر نیچے کی۔ ۔۔۔۔
“جی تو سٹوڈنٹس اب اٹنڈنس لگوا لیں”
“جس کا بھی میں نام بولوں وُہ اپنا ہاتھ اوپر کرے گا “
“ٹھیک ہے نا”
“نہیں ٹھیک اللہ جی نہیں ٹھیک “
فضہ نے نظریں نیچے کر کے خوفزدہ سے آرام سے بولا ۔۔۔۔
“تمھیں کس نے بولا تھا تم پنگے لو ۔ اب دیکھنا ہمیں پورا سیمسٹر بکتنا پڑے گا “
زرمینہ نے فضہ کو دیکھتے ہوئے خود بھی کافی پریشانی کے عالم میں اُس کو کہا ۔۔
“مجھے کیا پتہ تھا یہ سید وجدان حسین شاہ ہمارا ٹیچر ہو گا “
” اللہ جی بس آج بچا لینا پلیز”
رول نمبر ون “مدثر” :
Present sir
رول نمبر ۲ ” وجیہہ”
“Present sir”
وہ باری باری سب سٹوڈنٹس کے نام اور رول نمبر بولتا ہوا اُنکو دیکھ رہا تھا۔ اُس کا حافظہ بہت کمال کا تھا ایک نام جب ایک دفعہ سن لے تو کبھی نہیں بھولتا تھا۔ تب ہی وہ ساتھ ساتھ سٹوڈنٹس کو دیکھ رہا تھا تاکہ وہ اُس کو یاد رہیں ۔۔۔
“رول نمبر ۱۲ “
اُس نے مسکراتے ہوئے رول نومبر کے بعد نظریں اوپر کیں وہ نام لینے ہی والا تھا کہ زرمینہ نے اپنا ہاتھ اوپر کیا ۔اور جھکی ہوئی نظروں سے پرسنٹ سر بولا”
وہ حجاب میں لڑکی ، وہی سفید چادر کیے ہوئے. اُس کے بلکل سامنے تھی جس کا عکس اُس کو کل سے ہر جگہ نظر آ رہا تھا ۔۔۔وہی خوبصورت آنکھیں جس کو اُس نے بس ایک لمحے کو دیکھا تھا ۔وُہ شاید اُن آنکھوں کو دوسری نظر کبھی دیکھ بھی نہیں سکتا۔
۔۔اُس نے بس ایک لمحہ صرف ایک لمحہ اُس کو دیکھا ، اُس کو لگا وہ سانس لینا بھول جائے گا ۔یہ تو وہ بھول ہی گیا تھا وہ کدھر کھڑا ہے۔
اُس کے ہاتھ سے بے اختیار پین نیچے گرا اور وہ اچانک سے چونکا۔۔۔
“یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ مجھ پہ رحم کر میرے مالک”
اُس نے ایک لمحے کو اپنی آنکھیں بند کی اور دل ہی دل میں دعا مانگی۔
اُس کو لگ رہا تھا وہ اب مزید وہاں نہیں روک سکے گا۔ مزید کچھ بول نہیں سکے گا ۔اُس کے دل کی دھڑکن روکنے لگی تھی ۔۔۔ماتھے پہ پسینہ سامنے نظر آ رہا تھا۔ اُس کو لگا جیسے اُس کے دل کو کسی نے پکڑ کے زور سے دبایا ہے ۔کسی نے اُس کے دل کو اپنی مٹھی میں زور سے پکڑ لیا ہے اُس کی گرفت اتنے مضبوط ہے کے وہ چاہ کے بھی اب کچھ نہیں کر سکے گا۔وہ چاہ کے بھی خود کو آزاد نہیں کر سکے گا ۔
۔ سٹوڈنٹس آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے یہ اچانک سر کو کیا ہو گیا ہے ۔
۔اُس کا رنگ بلکل بلکل اُڈ چکا تھا ۔ کچھ دیر پہلے کا کھلکھلا تا چہرہ بلکل بھوج چکا تھا ۔۔۔مسکراہٹ کی جگہ چہرے پہ پسینہ نے گھر کر لیا تھا ۔۔
Sir are you allright ?
مدثر نے اُس کی حالت دیکھتے ہوئے اُس سے کھڑے ہو کے پوچھا ۔۔
اُس کی آواز پہ وہ ایک دم سے اُس خسار سے باہر آیا ۔۔۔۔
“Yes I am allright”
ان کچھ لمحوں کا تسلسل ٹوٹا وہ ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔
خود کو سمبلانے کی کوشش کی
خود کو نارمل کیا
اُس نے پھر سے ایک دفعہ رول نمبر ۱۲ بولا ۔
۔اُس نے رول نمر ۱۲ تو بولا تھا مگر اُس کے آگے نام بولنے کی اُس کی ہمت نہیں ہوئی۔
بغیر اُس کا نام بولے وہ رول نمبر ۱۳ پہ گیا اور بغیر کسی کو دیکھے اتنڈنس لگاتا رہا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر آتے ہی وہ اپنے کمرے میں گیا ، لپٹوپ کا بیگ چھوڑا ، ہاتھ سے گھڑی اُتاری ۔ بیڈ پہ بیٹھ کے جوتے اُتارے اور وہیں پہ خود کو پیچھے کیا ٹانگیں بیڈ سے نیچے کر کے لیٹ گیا ۔
اُس کو لگا جیسے آج وہ بہت تھکا ہے ، اُس نے بہت زیادہ کام کیا ہے۔۔اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔بازوں آنکھوں پہ رکھا ۔۔۔
آنکھیں بند کرتے ہی حجاب والی صورت کا سراپا اُس کے سامنے گھوما !!!!
وہ فوراً اٹھ کے بیٹھا !!
“یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ”
“میں نے زندگی میں اتنی لڑکیوں سے بات کی ہے کیسی کی صورت میرے سامنے نہیں آئی ، پھر یہی لڑکی کیوں ؟ آخر کیا تعلق ہے میرا اس سے ؟ کون ہے یہ لڑکی ؟ یا خدا مجھ پہ رحم کر ۔میں نہیں چاہتا کہ وہ لڑکی میرے ذہن پہ سوار ہو جائے”
وہ اٹھا اور جلدی جلدی وضو کیا ۔ نماز پڑھنے کھڑا ہوا ۔بار بار اُس لڑکی کا نقاب والا چہرہ اُس کے سامنے آتا۔ بار بار نماز توڑتا اور پھر پڑتا۔
اتنی کوششوں کے بعد بھی وہ آنکھیں اُس کے سامنے سے نہیں ہٹیں ۔۔۔
“کون ہو تم آخر کون ہو تم جو اب میری نمازوں میں بھی آنے لگی ہو ؟” ۔
“اُس نے جنجلاتے ہوئے کہا ۔۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے صرف ایک بار دیکھنے سے فقط ایک لمحے کی ملاقات سے کوئی کسی کے ذہن پہ کیسے سوار ہو سکتا ہے . جب کے وہ لڑکی میری سٹوڈنٹ ہے “
“یا اللہ میں کیا کروں گا ؟ یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ”
نماز میں ناکامی کے بعد اُس نے قرآن پاک کھولا اُس نے سوچا وہ قرآن پاک میں مگن ہو گا تو شاید وہ لڑکی اُس کے ذہن سے ہٹ جائے ،
اُس نے قرآن پاک کھولا اور پڑھنا شروع کیا۔
وَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ وَاَنَّ اللّٰهَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞
ترجمہ:
اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے (تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)
القرآن – سورۃ نمبر 24 النور – آیت نمبر 20
، وہ ہمیشہ قرآن پاک سمجھ کے پڑھتا تھا ۔آج اُس نے آیت پڑھی پھر ترجمہ پڑھا ۔۔۔
اور آنکھیں بند کر لی۔ جیسے وہ اس آیت کا مطلب سمجھ رہا ہو ، وہ سمجھنا چاہتا ہو خدا نے کیا کہا ہے ۔
۔جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں وہ حجاب والی صورت پھر سے اُس کے سامنے آئی۔ وہ فوراً آگے ہوا آنکھیں کھولی ۔اور پھر سے پڑھنے لگا۔
ایک بار پھر ایسا ہوا !!!! ۔
اس وقت وہ بری طرح سے ہار گیا تھا ۔۔۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم فرما “
اُس نے اوپر دیکھا اور اپنی کپکپاتی آواز سے آنسوں لیے دعا کرتا رہا۔ ۔
“یا اللہ مجھ پہ رحم فرما “
“میرے دل سے یہ بوجھ ہٹا لے ، میں تیرا کمزور سا بندہ اتنا بھوج اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتا ،میں ایک پاکیزہ لڑکی کو اپنی آنکھوں میں نہیں رکھنا چاہتا ،وہ میرے خیالوں میں کیوں آتی ہے۔ اُس کا حجاب میں لپٹا چہرہ مجھے کیوں پریشان کرتا ہے ۔۔
یا خدا میں اُس قابل نہیں ہوں وہ مجھے دکھائی دے ۔ مجھ پہ اپنا رحم کر ۔۔”
اب وہ باقاعدہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اللہ کے سامنے گھڑگھڑانے لگا ۔اور وہیں زمین پہ لیٹ گیا ۔جیسے کوئی روگ لگا ہو ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔
“زرمینہ گل پڑھائی کیسی جا رہی ہے تھماری “
کھانے کے دستر خوان پے بابا جان نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا !!!!!
وہ سب کھانا ساتھ ایک دستر خوان پہ کھاتے تھے۔ اگر ایک بندہ بھی لیٹ ہو جائے تو اُس کا بھی انتظار ہوتا تھا ۔
امی اور زرمینہ ایک پلیٹ میں کھاتے ، دونوں بھائی ایک پلیٹ میں اور بابا جان کے لیے الگ پلیٹ میں۔ اور دادی اماں اپنے تخت پوش پہ ہی کھاتی تھیں ۔۔
“جی بابا جان پڑھائی اچھی جا رہی ہے میری “
یہی وقت ہوتا تھا جب سارے بچے اپنے باپ کے سامنے بیٹھتے تھے ۔ورنہ تو وہ اُن کے سامنے بھی نہیں آتے تھے۔ ۔۔یہ نہیں ہے کے ابراہیم صاحب بہت سخت تھے ۔۔۔بس بچوں میں اور اُن میں لحاظ کی ایک بہت بڑی دیوار تھی ۔اُن کو بہت برے لگتی تھیں وہ اولادیں جن کو پتا ہی نہ ہو یہ جو سامنے بیٹھا ہے یہ ہمارا باپ ہے ۔
اُن کو شدید نفرت تھی اُن بچوں سے جن کے سامنے ماں باپ بیٹھے ہوں اور وہ مسلسل موبائل میں لگے ہوں ۔۔۔۔
تب ہی وہ اپنی اولاد کو اتنا سر پہ نہیں چھڑاتے کہ اُنکو پتا ہو سامنے بیٹھا شخص ہمارا باپ ہے ۔
“سلطان بہن کو تم ہی لے کے جاتے ہو نا؟”
اب وہ بیٹے سے مخاطب ہوئے تھے !!!!
“جی بابا جان لے کے بھی جاتا ہوں اور واپسی پہ لے کے بھی میں ہی آتا ہوں”
“ٹھیک ہے “
“رقیہ بیگم آج کھانے کے بعد حلوہ بنانا ہے “
بیوی کو بول کے وہ اٹھ کے چلے گئے ۔۔۔
اور اس کے بعد سب اُٹھتے گے۔ اُن کا اصول تھا جب تک باپ دستر خوان پہ موجود ہے کوئی دوسرا پہلے نہیں اٹھے گا !!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آج پوری رات نہیں سویا تھا ، رات اُس کی یوں ہی جاگتے ہوئے گزری ۔اُس کو لگا وہ اگر ایک دفعہ اور اُس لڑکی کو دیکھے گا تو پاگل ہو جائے گا ۔
وہ کبھی بیٹھ جاتا کبھی ٹہلنے لگتا۔ ۔اور کبھی کھڑکی کے پاس جا کے کھڑا ہو جاتا۔
اب کی بار وہ بیڈ پہ لیٹا اور پکا ارادہ کیا اب بس وہ سوئے گا ۔۔۔
اُس نے آنکھیں بند کیں ۔اُس لڑکی کا سراپا پھر آنکھوں کے سامنے گھوما ۔مگر اُس نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔
اب کی بار وہ اسکو خود سوچنے لگا تھا !!!
اُس کی خوبصورت آنکھیں اب اُس کو پریشان نہیں کر رہی تھیں ۔ اُس کا ذہن پر سکون ہوا تھا ۔
ایک لڑکی کے پیچھے کھڑی ہوئی وی ، چہرے پہ نقاب لیا ہوا ۔حجاب ایسے لیا ہوا کے بس آنکھیں ہی نظر آئیں ۔کندھوں پہ سفید چادر ۔مسلسل دوسری کا بازوں دباتے ہوئے ۔ڈری ہوئی آنکھیں ۔ جُھکی ہوئی نظریں۔
وہ کیسی آنکھیں تھیں۔ جو مجھے ایک لمحہ میں اپنا اسیر کر گئیں۔
اُس کو لگا وہ شہزادی ہے کوئی ۔وہ اس دنیا کی ہے ہی نہیں ۔ اُس نے اتنی خوبصورت اتنی حسین لڑکیاں دیکھی ہیں ۔۔مگر حجاب والی سے حسین آج تک اُس نے کوئی لڑکی نہیں دیکھی۔ ۔۔
“یہ کیا سوچ رہا ہے تو وجدان “
وہ اٹھ کے اچانک سے بیٹھا ۔
“تو ایک پاکیزہ لڑکی کو سوچ بھی کیسے سکتا ہے “
“تو اس قابل ہے کے تو اُس کو سوچے تیرا ماضی۔۔۔۔۔۔۔”
“خود کو اُس کی پاکیزگی سے دور رکھ ۔۔۔۔مت سوچ اُس کو” ۔اُس کا ضمیر اُس کو جنجوڑنے لگا ۔ وُہ ایک دم اٹھا ۔۔۔اُس کو لگا وہ مزید ایسے ہی بیٹھا تو پاگل ہو جائے گا ۔۔۔۔
“میں نہیں سوچنا چاہتا تمھیں مت ائو میرے خالیوں میں مت تنگ کرو مجھے۔ بخش دو مجھے “
اُس نے اپنا سر اپنی ہتھیلیوں پے رکھا اور خود سے باتیں کرنے لگا ۔
اُس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا ۔
۲:۳۴ منٹ ہوئے تھے ۔۔۔وہ اٹھا لپتوپ کھولا اور کام کرنے لگ گیا ۔ وہ خود کو مصروف رکھنا چاہتا تھا تا کے وہ لڑکی اب اُس کے خیالوں میں نہ آے۔
اُس نے سوچ لیا تھا کل اُس نے کیا کرنا ہے کیسے اُس لڑکی کے خیالوں سے پیچھا چھڑانا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“Excuse me sir”
Can I enter”
وہ آج اپنے معمول سے جلدی یونیورسٹی آیا تھا ۔ اور سیدھا پرنسپل کے آفس آیا ۔۔
“جی جی وجدان تشریف لائے”
“خیریت تو ہے نا آج صبح صبح میرے آفس آپ “
“جی سر سب خیریت ہے “
وہی مخصوص انداز میں مسکرا کے اُس نے پرنسپل کی خیرت کا جواب دیا ۔۔۔مگر اب وجدان حسین شاہ کی آنکھیں اُس کی مسکراہٹ کا ساتھ نہیں دیتی تھیں ۔۔۔۔وہ پوری رات نہیں سویا تھا ۔اُس نے سوچ لیا تھا صبح ہوتے ہی وہ پرنسپل کے پاس جائے گا ۔۔۔۔
“سر مجھے ایک ریکویسٹ کرنی ہے آپ سے “
“جی وجدان بولیے “
“سر اکچلّی میں فرسٹ سیمسٹر زولوجی کے سٹوڈنٹس کی کلاس نہیں لینا چاہتا “
“کیوں وجدان کیا ہوا ہے کیوں نہیں لینا چاہتے آپ”
اُن کو دوسری بار وہ حیران کر رہا تھا ۔ایک بار صبح صبح اُن کے آفس آ کے اور ایک بار اب ۔
“آپ تو بہت شوق سے نیو سٹوڈنٹس کی کلاس لیتے تھے اور سٹوڈنٹس بھی ہمیشہ آپ سے ہی اٹیچڑ رہے ہیں ۔ تو اب پھر کیا ہوا کے آپ کلاس نہیں لینا چاہتے”
“وہ اب اُن کو کیا بتاتا وہ کیوں کلاس نہیں لینا چاہتا ، وہ خود کو کیوں دور رکھنا چاہتا ہے ۔ وہ کس اذیت میں ہے “
وہ اب اپنی نظریں جُھکا کے بات کرتا تھا اُس کو ڈر تھا کہیں اُس کی آنکھوں میں وہ حجاب والا چہرہ کوئی دیکھ نا لے!!!!!!
آج وہ وجدان کا ایک الگ روپ دیکھ رہے تھے جیسے اُس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کر رہے ہوں ۔یہ وہ وجدان تو ہے ہی نہیں جو کل تک تھا !!!!
انھوں نے غور سے اُس کو دیکھا جیسے وہ ڈر رہا ہو جیسے بہت بڑی پریشانی میں ایک دم آ گیا ہو۔
وجدان آپ کو پتہ ہے میں آپ کو اپنی فیکلٹی کے ممبر کی حثیت سے نہیں لیتا۔ آپ مجھے میرے بیٹوں کی طرح عزیز ہیں۔ آپ کی کوئی بات میں نہیں ٹّال سکتا۔
مگر آپ خود سوچیں ابھی ہی سٹوڈنٹس آئے ہیں اور ہم اُن کو ایک دم سے نیو ٹیچر کیسے دے سکتے ہیں۔ فرسٹ سیمسٹر میں آپ کی کلاس رکھنے کا مقصد ہی یہ ہے کہ سٹوڈنٹس ایک دم آپ سے اتیچڑ ہو جاتے ہیں اور ہمیں آگے چل کے سٹوڈنٹس کی طرف سے جو بھی مسئلہ ہو۔ آپ باسانی اُس کو حل کر لیتے ہے۔ کیوں کے سٹوڈنٹس آپ کی عزت ہی اتنی کرتے ہیں۔ جہاں پے آپ سٹوڈنٹس کو سمجھتے ہیں وہاں کوئی نیو ٹیچر نہیں سمجھے گا۔ مجھے پتا ہے ایک کلاس لینے سے ہی آپ نے سٹوڈنٹس کے دل میں اپنے لیے ایک خاص جگہ بنا لی ہو گی۔ ۔۔
“آپ بس ایک مہینہ میرے کہنے پے کلاس لے لیں پھر بیشک چھوڑ دیں”
یہ آخری بات بس انھوں نے اُس کو ٹالنے کے لیے کہی تھی اُن کو پتا تھا وہ ایک مہینے بعد خود ہی اپنے سٹوڈنٹس سے اتنا اٹیچید ہو جائے گا کے میرے کہنے پہ بھی کلاس نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی اُس کے سٹوڈنٹس اُس کو کلاس چھوڑنے دیں گے۔!!!!!!!
وہ خاموشی سے نظریں جھکائے اُن کی باتیں سنتا رہا۔ اور پھر اٹھ کے باہر آ گیا ۔اُس کے دل پہ اب پہلے سے زیادہ بوجھ ہونے لگا تھا۔ اُن نے تو سوچا تھا وہ دور رہے گا اُس لڑکی سے تو وہ اُس کے خیالوں میں بھی بھی ائے گی مگر اب۔
