Hijab by Amna Khan NovelR50618 Hijab (Episode 25,26)
No Download Link
Rate this Novel
Hijab (Episode 25,26)
Hijab by Amna Khan
“وجدان تمھارے چچا جان نے فاطمہ کے رشتے سے انکار کر دیا ہے”
۔
کھانا کھانے کے دوران ماں نے اُس کو بہت افسوس سے کہا ۔جیسے اُن دل ٹوٹا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“مگر امی …..”
اُس نے منہ میں جانے والا نوالہ اپنے ہاتھ سے پلیٹ میں رکھا ۔جیسے وہ اب کھبی کچھ کھا نہیں پائے گا ۔۔۔۔۔اب کچھ بول نہیں پائے گا ۔۔۔۔
۔
اُس نے کھانا وہیں چھوڑا ماں سے بات کیے بغیر فاطمہ کے کمرے میں گیا ۔۔جو مشین پہ کچھ بنا رہی تھی ۔اور مسلسل مشین چلا رہی تھی
۔
“آپی ۔۔۔۔۔”
وہ آیا ۔۔۔۔۔۔ اُس کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔اور سر کو جھکا لیا ۔۔۔جیسے کوئی بچہ ایسے بیٹھا ہو کہ اُس کا چہرہ اور اُس کی آنکھیں کوئی نہ دیکھ پائے ۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کا درد کوئی محسوس نا کر سکے ۔۔۔۔۔وہ اونچا اونچا روئے اور اُس کی بہن کے سواء کوئی اُس کو نا سنے کوئی اُس کو نہ دیکھے ۔۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہوا ہے وجی “
اُس نے مشین کو سائڈ پہ کیا ۔۔۔اور اس کے قریب بیٹھی ۔۔۔۔
۔
“وجی “
اب کی بار اُس کی برداشت کی حد نے جواب دے دی تھی۔۔اُس نے اپنا سر بہن کی گود میں رکھا ۔۔۔۔اور بچوں کی طرح سسکیاں لے لے کر رونے لگا ۔۔۔۔خود کو بہن کی بربادی کا ذمےدار سمجھنے لگا ۔۔۔۔۔
۔
“آپی میں جینا نہیں چاہتا “
اُس نے روتے روتے بہن کو کہا ۔۔۔۔اور نا جانے اُس نے کتنی سسکیوں سے اج اپنے لیے موت مانگی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ جو بہن کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا ۔۔۔۔بہن نے فوراً اُس کو اوپر کیا ۔۔۔۔اور آنکھوں میں وحشت لیے زور سے اُس کے منہ پہ دپھڑ مارا ۔۔۔۔۔جو یہ کہے رہا تھا میں جینا نہیں چاہتا ۔۔۔۔
۔
“آپی ماریں مجھے اور ماریں”
اُس نے بہن کے دونوں ہاتھ پکڑے اور زور زور سے اپنے منہ پہ مارنے لگا ۔۔۔۔
۔
“آپی میں ذمےدار ہوں آپکی بربادی کا “
اُس نے بہن کی طرف دیکھا جو بلکل نڈھال بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس نے تو اج تک اُسے ڈانٹا تک نہیں تھا وہ اُس کو مار کیسے سکتی ہے ۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں سے آنسوں کا سیلاب بہنے لگا ۔۔۔۔۔جیسے اُس کے اندر کچھ ٹوٹا ہو اور اُس ٹوٹنے سے آنکھوں سے ایک ایک کر کے کرچیاں باہر آ رہی ہوں ۔۔۔۔۔
۔
“وجی تم جینا نہیں چاہتے؟ “
اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا جینا نہیں چاہتا؟ ہم پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی جینا نہیں چاہتا؟ “
۔
وہ بغیر اُس کی طرف دیکھے بولتی رہی۔ جیسے اُس کی اس بات نے اسکو اندر سے توڑ دیا ہو ۔۔۔۔
۔
“وجی ابو کے بعد کون ہے ہم بہنوں کا سہارا ؟ کوئی ہے ؟ “
۔
“ہمارا اکلوتا سہارا آج یہ کہے رہا ہے کہ وہ جینا نہیں چاہتا ۔۔۔۔وجی ہم تو تمہیں دیکھ کے جیتے ہیں ۔۔۔ہماری زندگی کی واحد خوشی ہو تم ۔۔۔۔اور تم کہتے ہو میں جینا نہیں چاہتا ” ۔
۔
اُس نے روتے ہوئے کہا جیسے روتے روتے اُس کے دل میں درد اتا ہو ۔۔۔۔۔وہ بار بار کھانستی اور روتے ہوئے بولتی ۔
۔
“نہیں آپی مجھے معاف کر دیں پلیز “
بہن کو گلے سے لگاتے ہوئے وہ اُس کے آنسوں صاف کرنے لگا جس کی اپنی آنکھوں میں آنسوں کا ایک سمندر تھا ۔۔۔۔۔وہ بہن کو چومنے لگا جو بلکل بے حال بیٹھی تھی ۔۔۔۔
۔
“آپی مجھے معاف کر دیں ۔میں آئندہ ایسا کھبی نہیں کہوں گا ۔۔۔بس مجھے آج معاف کر دیں”
۔
بہن کی گود میں پھر سے سر رکھتے ہوئے وہ معافی مانگنے لگا ۔۔۔۔۔اُس کے سامنے گھڑگھڑانے لگا ۔۔۔۔۔۔
۔
“وجی …..جوڑے آسمانوں پہ بنتے ہیں ۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں کہ چچا جان کے گھر میرا رشتہِ نہیں ہوا ۔۔۔۔وہ رشتہِ نہیں کر رہے تھے وجی وہ تو سودا کر رہے تھے ۔۔۔۔۔ہماری بیٹی لو اور اپنی دو ۔۔۔۔۔
جہاں سودے ہوتے ہیں نا وجی وہاں رشتے نہیں ہوتے ۔۔۔ اور ایسے نہیں رویا کرو ۔۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں اپنی زندگی سے ۔۔۔۔شادی کر کے جاتی تو تمہارے بغیر میں کیسے رہتی ؟
۔
وہ اُس کے بالوں میں اپنی اُنگلیاں پھیرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
وہ جو کچھ وقت پہلے ایک آگ میں جل رہا تھا۔ اُس کو لگا کسی نے اُس پہ ٹھنڈا پانی پھینکا ہو ۔۔۔اُس کو سکون میں لیے لیا ہو ۔۔۔اُس کی آنکھیں بند ہونے لگی۔ اور سکون سے بھری ننید اُس پہ غلبہ کرنے لگی۔ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنکھوں پہ بازو رکھے لیٹی تھی ۔۔۔۔اُس نے جو چہرہ اپنی آنکھوں میں قید کیا تھا ۔۔۔وہ اُس کی آنکھیں بند ہوتے ہی اُس کے سامنے آنے لگتا ۔۔۔۔وہ اب کھبی آنکھیں نہیں کھولنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ اُس کو دیکھنا چاہتی تھی اُس کا مسکراتا چہرہ ، اُس کو چھوٹی آنکھیں ۔۔۔۔۔اُس کے منہ پہ سجتی داڑھی ۔۔۔اُس نے اُس کی ایک ایک چیز کو قید کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کرتی تو وہ مسکراتا ہوا اُس کے سامنے ہوتا ۔۔۔۔اور اُس کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ سج جاتی ۔۔۔
۔
آج وہ اُس کا بھول جانا نہیں مانگ رہی تھی ۔۔۔۔آج وہ اُس کو بس اپنی روح میں سومو رہی تھی ۔۔۔اُس کو اپنے دل میں ، اپنی دھڑکن میں اپنے لہو میں محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
۔
اُس کے نام کے قہوے کی خوشبو اور ذائقہ اپنے منہ میں لا رہی تھی ۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس قہوے کے بعد کچھ بھی نہیں کھایا تھا کھانا تو دُور کی بات ہے اُس نے تو کچھ پیا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی اُس کا وہ ذائقہ اور خوبشو اُس کے منہ سے جائے ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی یہ کیسا احساس ہے….مجھے کیوں لگتا ہے وہ میرے اندر ہے ۔۔۔میری روح کی جگہ وہ ہے ۔۔۔۔میری آنکھوں میں کیوں اُس کا چہرہ اتا ہے “
وہ آنکھیں بند کیے اللہ سے باتیں کرنے لگی ۔۔۔اُس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔
۔
“اُس نے خود کو اللہ کے حوالے کیا تھا ۔۔۔۔۔اور جو اللہ کرتا ہے وہی بہتر ہے ، وہی حق ہے ، وہی سچ ہے “
۔
وہ لیٹی تھی کہ اُس کا موبائل بجھا ….موبائل کھولتے ہی ، اُس کی نظر اُس میسیج پہ پڑی ۔۔۔۔اُس نام پہ پڑی ۔۔۔۔اُس کے دل کو ایک سکون ملا ۔۔۔لبوں پہ مسکراہٹ ائی ۔۔۔۔اُس نے موبائل اٹھایا اپنے دل سے لگایا ۔۔۔۔اور آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔۔اُس کا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔۔۔۔لبوں کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی۔ آنکھوں میں چمک اُتری
۔
“اسلام علیکم “
“بہت شکریہ چائے پہ آنے کے لیے “
۔
اُس نے آج بھی بس دو مصرعوں کا میسیج کیا تھا ۔۔۔
۔
۔
“وعلیکم السلام “
۔آج اُس کے اختیار میں نہیں تھا وہ اُس جواب نا دے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اُس کے ہاتھوں نے خود بخود حرکت کی۔۔۔۔۔۔ اور جواب اُس کو ملا ۔۔جو کانپتے ہاتھوں کے ساتھ اُس کے ایک جواب کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
۔
۔
وہ ہاتھ میں موبائل لیے کھڑکی کے پاس گئی جدھر سے چاند نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔اُس کالی رات میں بھی چاند اپنے سرور میں چمک رہا تھا ۔۔۔اُس کو لگا آج سے پہلے چاند اِس قدر روشن نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔اس قدر پر نور نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔ اس قدر نہیں چمکا تھا
۔
“آج چاند بھی خوش ہے کیوں کہ میں خوش ہُوں”
اُس نے موبائل ہاتھ میں پکڑا ۔اور اُس کے اگلے میسیج کا انتظار کرنے لگی۔ ۔۔
۔
۔
وہ چھت پہ بیٹھا ، چاند کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ اُس پہ مسکرا رہا ہو ۔۔وہ اس ٹھنڈ میں بھی چھت پہ بیٹھا تھا ۔ ہاتھ میں سگریٹ پکڑے ۔۔۔اُس کو محسوس کر رہا تھا جس نے اُس کو جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“مجھے بہت خوشی ہوئی آپ میری خاطر آئیں اُدھر “
۔
اگلا میسیج دیکھتے ہی اُس کی آنکھوں میں چمک آئی ۔۔۔۔اُس نے کھڑکی کھولی اور بارش کی ہلکی ہلکی بوندوں کو اپنے اندر اُتارنے لگی ۔۔۔۔۔۔
۔
“شکریہ
“
۔
وہ ہاتھ میں سگریٹ پکڑے اُس سردی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اُس کو ضرورت سے زیادہ ہی آج لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس نے اُس کا میسیج دیکھا اور مسکرانے لگا ۔۔۔۔
۔
“Can i call you? “
ایک بار پھر اُس کو میسیج آیا ۔۔۔۔ اُس کو لگا جیسے اب وہ یہیں کھڑے گر جائے گی ۔۔۔ ۔اُس نے آنکھیں بند کیں اُس کا مسکراتا چہرہ اُس کے سامنے آیا ۔۔
۔
۔اُس کے دل نے ایک دم اُس کو قبول کیا جس کو وہ بھول جانا مانگتی تھی ۔۔۔۔۔”
۔
اُس نے آسمان پہ دیکھا ۔۔۔اُس کے دل میں ڈر کی ایک لہر اٹھی ۔۔۔۔۔جیسے اللہ کو وہ ناراض کر رہی ہے ۔۔۔۔ جیسے اللہ جی اُس سے ناراض ہو رہے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں میں آپکو نہیں خفا کر سکتی ۔۔۔میں نہیں کروں گی اُن سے بات بس آپ دُور نا ہونا مجھ سے میرے خدا “
۔
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان کو دیکھ رہی تھی۔ کہ اچانک سے اُس کا موبائل پھر سے بجنے لگا اب کی بار ٹیون میسیج کے بجائے کال کی تھی ۔۔۔
۔
اُس کا دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔آنکھوں میں بے چینی آنے لگی ۔۔۔۔۔جیسے وہ ڈر رہی ہو ۔۔۔۔کال مسلسل آنے لگی ۔۔۔۔۔اُس نے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگا لیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔”اماں آپ جاگ رہی ہیں ابھی تک “
ابراہیم صاحب جب بھی گھر اتے تو سب سے پہلے اماں کے کمرے میں آتے تھے۔ اُن کے سر کی مالش کرتے اُن کی ٹانگیں دباتے ۔۔۔دِن بھر کی ساری باتیں ایک بچے کی طرح اپنی اماں کو بتاتے ۔۔۔۔یہ اُن کے بچپن کا ممہول تھا ۔۔۔۔
۔
جیسے وہ اپنی ماں کے ساتھ کرتے ویسے ہی اُن کی اولاد اُن کے ساتھ کرتی ۔۔۔۔۔باپ سے وہ بہت ڈرتے تھے تو اُن کے اتنے قریب نہیں آتے تھے ۔۔۔۔مگر ماں تو اُن کے لیے ایک سہیلی تھی ۔۔۔۔جن کے ساتھ وہ اپنی ہر بات کرتے تھے ۔۔۔۔
۔
“تمھارا ہی انتظار کر رہی تھی میں ابراہیم۔۔۔تمھیں تو پتا ہے جب تک تم گھر پہ نہیں آتے تو مجھے کھدر آتی ہے نیند “
۔
“اماں میں نے شہاب کو بتایا تھا نا آج میں تھوڑا لیٹ ہو جاؤں گا ۔۔۔اُس نے آپ کو نہیں بتایا؟ “
۔
“اُس نے تو مجھے بتایا ہے مگر ماں کا دل ہے نا جب تک اولاد گھر نا آ جائے کیسے سکون سے سو سکتی ہے ماں “
۔
“اماں سو جائیں کریں آپ ۔۔۔مجھے نہیں اچھا لگتا میری ماں یوں میرے لیے اتنی دیر تک جاگے “
۔
انھوں نے ماں کے پیروں کو دوباتے ہوئے کہا !!!!
۔
“ابراہیم مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے “
انھوں نے کمر کے پیچھے پڑے تکیے کے ساتھ ٹیک لگائی اور تھوڑا اوپر ہو کے بیٹھیں !
۔
“جی اماں بولیں نا “
۔
“ابراہیم میں چاہتی ہوں تم اور فیروز آپس میں صلح کر لو”
۔
اماں میں تو بھائی صاحب سے نہیں خفا ۔۔۔۔میں تو اُن کو ویسے ہی دعا سلام کرتا ہوں ۔۔۔۔میں نے تو ایک دن بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ۔اور نہ ہی بھابھی صاحبہ کی کہی ہوئی کوئی بات اُن کو بتائی “
۔
“بیشک تم اُس سے نہیں خفا ہو ابراہیم مگر اُس کی اولاد سے تو ہو نا ۔۔۔۔۔جب ایک انسان کی اولاد سے آپ خفا ہو اور ماں باپ سے راضی رہو تو ایسا بھی تو نہیں ہوتا نا “
۔
اماں رجب اگر میرے بیٹے کے بارے میں بات کرتا تو میں کب کا اُسے معاف کر دیتا ۔۔۔۔۔کیوں کے مردوں کی باتیں اور ہوتی ہیں ۔۔۔۔میرے بیٹے کسی بھی موقع پہ اُس کو اُسکی کہی ہوئی بات کا جواب دیتے ۔۔۔۔مگر اُس نے بات میری بیٹی پہ کہی ہے ۔۔۔میری حياؤں والی بیٹی پہ ۔۔۔۔۔۔۔اپنی بیٹی پہ کہی ہوئی وہ بات تو میں قبر میں جانے تک یاد رکھوں گا ۔۔۔۔اُس کو کیا لگا تھا میری بیٹی یونیورسٹی جائے گی تو اُس کے لیے اچھا رشتہ نہیں آئے گا ۔۔۔۔۔وہ انکار کرے گا تو میری بیٹی کو کوئی شادی کر کے نہیں لے جائے گا ۔۔۔۔اماں میں تو بس زرمینہ گل کی تعلیم تک روکا ہوں ۔ورنہ مانسہرہ کے ایسے خاندان میں اُس کی شادی کرواؤں کے دنیا دیکھے “
۔
اماں کل بھی مجھے واجد خان نے زری کے رشتے کا کہا آپکو پتا ہے اُس کا ایک نام ہے مانسہرہ میں ۔۔۔۔۔۔اور بیٹا بھی لندن سے پڑھ کے آیا ہے ۔وہ تو میں زری کی تعلیم تک روکا ہوں”
۔
وہ دھیمے لیجئے میں اور روانی سے بولتے رہے ۔۔۔۔اور ماں چپ کر کے سنتی رہیں ۔اُن کو پتا تھا ابراہیم کو رجب کی کہی کوئی ہوئی بات کا بہت صدمہ ہے۔ ۔۔۔۔
۔
ابراہیم فیروز آیا تھا آج ۔۔۔۔وہ پھر سے زری کا ہاتھ مانگ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“اماں آپ نے آج یہ بات کہی ہے دوبارہ نا کیجیے گا ۔۔۔۔۔یہ تو میری بیٹی ہے رجب کو تو میں اپنے گھر کا کتے کا بچہ نا دوں ۔۔”
۔
اُس نے سُرخ ہوتے چہرے کے ساتھ ماں کو بہت آرام سے کہا ۔اور وہ سمجھ بھی گئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اسلام علیکم “
اُس نے موبائل اپنے کان کے ساتھ لگایا ہوا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو آواز پہ اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو پہلے تو یقین ہی نہیں آیا وہ وجدان حسین شاہ کی آواز سن رہی ہے ۔۔۔۔اُس نے دوبارہ اُس کو سلام کیا ۔۔۔۔جو موبائل کان کے ساتھ لگائے خاموش کھڑی تھی۔ ۔۔۔۔
۔
۔
“وعلیکم۔۔۔۔۔وعلیکم سلام “
اُس نے جلدی جلدی سے سلام کا جواب دیا ۔۔۔۔
۔
اُس کی آواز سن کے اُس نے اپنی آنکھیں بند کیں ۔لبوں نے الحمدللہ کہا۔۔۔اور ہاتھ کی انگلیوں سے سگریٹ نیچے گرا ۔
۔
“سوئی نہیں ہیں آپ “
اُس کو لگا آج وہ ہوا میں ہے جیسے وہ اڑ رہی ہے ۔وہ آسمان میں اُس چاند کے پاس بلکل پاس پہنچ گئی ہے ۔۔۔۔
۔
“وہ مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔۔تو جاگ رہی تھی”
دھڑکتے دل کے ساتھ وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔ ۔۔
۔
“کتنے بجے سوتی ہیں آپ”
وہ بات سے بات نکال رہا تھا ۔۔۔۔جیسے دونوں طرف سے کوئی چپ نہ ہو ۔کال بند نہ ہو
۔
“جلدی سو جاتی ہوں میں”
وہ اُس کے سحر میں اُس کی باتوں کے آهوش میں لپٹی جا رہی تھی ۔۔۔۔وہ بھول گئی تھی وہ کون ہے کیا ہے ۔۔۔اور کیوں ایسے ایک نامحرم سے بات کر رہی ہے ؟
۔
اُس کو تو محبت کا الف ب بھی نہیں پتا تھا ۔۔۔۔پھر یہ کیا ہو رہا ہے اُس کے ساتھ ۔اُس نے ایک لمحے کے لیے بھی نہیں سوچا ۔۔۔۔
۔
اب وہ اُس کی باتوں میں جھکڑی گی تھی ۔۔۔۔اب وہ خود کو آزاد نہیں کرونا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ مزید اُس کی باتوں میں خود کو قید کرنا چاہتی تھی ۔
۔
۔
“ملکہ کیا تم سے بھی کسی کی آواز میٹھی اور خوبصورت ہے۔۔۔۔۔؟”
اُس نے اُسکی بات کے جواب میں ۔۔۔۔ اپنے دل میں سوچا ۔۔۔۔جس کا دل چاہتا تھا یہ لمہیں کھبی ختم نہ ہوں ۔جن لمحوں میں اُس کی ملکہ اُس سے بات کر رہی ہے ۔
۔
“ایک بات پوچھوں میں آپ سے “
اب اُس کو لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی کسی سہیلی سے بات کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اب اُس کو ڈر نہیں لگ رہا تھا اُس سے ۔۔۔۔
۔
“جی پوچھیں نا “
اُس نے اتنے پیار سے کہا ۔۔۔۔۔کہ دوسری طرف یک دم خاموش ہوئی ۔۔۔۔جیسے کوئی اُس کے اِس پیار کو محسوس کر رہا ہو ۔۔۔۔
۔
“آپ مجھے اگنور کیوں کرتے ہیں”
۔
اُس نے بچوں کی طرح معصومیت سے اُس سے گِلہ کیا ۔ ۔
۔
دوسری طرف سے ایک لمبی خاموشی ہوئی ۔۔۔
۔
“آپ کو کیوں لگتا ہے میں آپ کو اگنور کرتا ہوں؟ “
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔جیسے اُس کی اِس بات سے اُس کے دل میں درد ہوا ہو ۔اُس کا دل دُکھا ہو ۔۔۔۔میں تمہیں اگنور کروں گا ملکہ ؟ وجدان اپنی ملکہ کو اگنور کرے گا ؟ اُس کی آنکھوں میں آنسوں آئے ۔اور وہ صبری سے اُس کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
۔
“مجھے ایسے ہی لگا آپ مجھے اگنور کرتے ہیں ۔آپ نے سب سے زیادہ ڈانٹا بھی مجھے تھا کلاس میں”
وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اُس سے شکایتیں کرنے لگی ۔
۔
“آپ کو ڈانٹ کے خود بھی تو بہت بےچین رہا نا میں ۔آپ کو رولا کے خود بھی تو رویا ہوں میں”
۔
وہ اُس سے ایسے بات کرنے لگا جیسے بچوں سے کوئی لاڈ کر رہا ہو۔ اُن کو پیار سے سمجھا رہا ہو ۔۔۔۔۔اور خود بھی اُس کی اِن چھوٹی چھوٹی شکایتوں پہ مسکرا رہا ہو ۔
۔
“آپ نے مجھے ڈانٹا تو ڈانٹا بھی کیوں؟”
وہ بچوں کی طرح روتے ہوئے اُس سے ضد کرنے لگی ۔۔۔۔
۔
“اچھا نا دیکھیں میں کان پکڑتا ہوں نہ آئندہ نہیں ڈانٹوں گا میں کھبی آپکو “
۔
اُس نے ہستے ہوئے ایک ہاتھ سے اپنا کان پکڑا
۔
“کوئی نہیں معاف کرتی میں آپ کو “
آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوئے وہ اُسی انداز میں اُس سے لڑ رہی تھی ۔۔۔اُس سے گلے کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“اچھا روئیں تو نہیں نا “
۔
وہ جس کی اپنی آنکھیں بھیگ رہی تھیں اُس کو چپ کروا رہا تھا!
۔
وہ اب اُس سے بات کرتے ہوئے اِدھر سے اُدھر ٹہلنے لگی ۔۔۔کھبی اُس سے شکوے کرتی ۔۔۔کھبی مسکرا دیتی اور کھبی شرما جاتی ۔۔۔۔
۔
اُس نے باتیں کرتے ہوئے اپنی گھڑی دیکھی جس پہ ایک بج رہا تھا ۔۔۔۔اُس کو بے اختیار اُس لڑکی پہ ترس آیا جو اُس کی خاطر جاگ رہی تھی ۔۔۔۔سوئی نہیں تھی ۔
۔
“سو جائیں آپ اب “.
اُس نے اُسی پیاری سے اُس کو کہا ۔۔۔۔۔جو اب کھبی سونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔اُس نے گھڑی پہ ٹائم دیکھا ۔۔۔۔۔اتنی دیر باتیں کر رہی تھی میں ۔۔۔۔۔دل میں سوچتے ہوئے اُس نے کہا۔
۔
“جی ٹھیک ہے آپ بھی سو جائیں “
“خدا حافظ “
۔
“سونا تو اب دونوں نے نصیبوں سے ہی تھا۔۔مگر خدا حافظ کہنا بھی تو ضروری تھا”
Episode 26
“کیا سوچ رہی ہو تم”
فضہ نے اُس کو مسلسل چپ بیٹھے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔اُس کو اتنا تو اندازہ ہو ہی گیا تھا ۔کچھ تو ہے جو اُس کی زندگی میں بدلا ہے ۔۔۔۔۔وہ پچھلے کچھ دنوں سے بہت ضدی ہو گئی تھی ۔چھوٹی چھوٹی بات پہ غصّہ ہو جاتی۔ ۔۔۔۔۔جیسے اندر کوئی گہری ضرب لگی ہے۔۔۔۔۔۔جسکو وہ دیکھانا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔اور خود ہی برداشت کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“زری کیا ہوا ہے “
اُس نے اُس کا منہ اپنی طرف کیا اور ایک بار پھر اُس سے پوچھا جو اپنی ہی سوچوں میں بے نیاز گم تھی۔ ۔۔۔
۔
“کچھ نہیں ہوا فضہ “
اُس نے اُس کی طرف دیکھا اور آرام سے کہا۔ ۔۔۔۔جیسے بہت دُکھ ہو اُس کو کہ وہ اُس کی دوستی کا حق ادا نہ کر سکی ۔۔۔۔۔وہ تو پچھلے کچھ دنوں سے کسی بھی رشتے کا حق نہیں ادا کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اُس کو تو اُس شخص کے سواء کچھ نظر ہی نہیں آتا جس کے ساتھ اُس کا کوئی رشتہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔
۔
“تم کس کی وجہ سے ڈسٹرب ہو “
فضہ نے بھی ہار نہیں مانی تھی اُس نے سوچ لیا تھا وہ اُس سے پوچھ کے رہے گی ۔۔۔۔شک تو اُس کو بہت پہلے سے تھا ۔۔۔۔۔مگر آج وہ اپنے شک کی تصدیق چاہتی تھی ۔۔۔
۔
“کسی کی وجہ سے نہیں ڈسٹرب میں “
اُس نے اب کی بار جھنجلاہٹ سے جواب دیا ۔۔۔جیسے تنگ ہو رہی ہو۔ ۔۔۔۔ چپ رہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔
۔
“وجدان سر کی وجہ سے ڈسٹرب ہو نا تم؟”
اُس نے اُس کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔۔۔جس کی آنکھوں کا رنگ ایک دم بدلا ۔۔۔۔چہرے کی رنگت ایک دم سے زرد ہوئی۔۔۔ہونٹوں پہ سفیدی آئی ۔۔۔۔۔
۔
اب وہ ہار گی تھی ۔۔۔۔اب وہ چاہ کے بھی کچھ چھپا نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔اُس نے وجدان کے نام پہ نظریں جُھکا لیں ۔۔۔۔۔اور گراؤنڈ میں پڑے بنچ کے ساتھ ٹیک لگا کے پیچھے ہو کے بیٹھ گی۔ اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔۔۔
آنکھوں کے بند ہوتے ہی اُس کے ہونٹ کانپنے لگے ۔۔۔آنکھوں کے کونوں سے قطرہ قطرہ آنسوں گرنے لگے۔ ۔۔۔۔
۔
فضہ یہ سب کچھ بہت غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو ایک درد سا ہوا ۔اُس نے پہلے کھبی اُس کو اِس حالت میں نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اُس نے تو ایک انا پرست زرمینہ کو دیکھا تھا۔ ۔۔۔یہ ہاری ہوئی لڑکی کون تھی جو اُس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“بات ہوتی ہے سر سے “
اُس نے اُس کو بند آنکھوں کو کھولنے کا نہیں کہا تھا۔ اُس کو چپ ہونے کا بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔وہ جانتی تھی وہ جب روتی ہے تو سب کچھ بتا دیتی ہے۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ درد میں ہی بولتی ہے ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ کے اس سوال پے اُس نے ایسے ہی آنکھیں بند رکھیں۔اور سر کو ہلا کے کہا ۔۔۔۔ ہاں ہوتی ہے “
۔
وہ جانتی تھی اُس کو اتنے سالوں سے جانتی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا اگر وہ اُس سے بات کر رہی ہے تو وُہ خود سے ہاری ہے ۔وہ وجدان حسین شاہ سے ہاری ہے ۔ورنہ زرمینہ جیسی لڑکی کسی نا محرم سے بات کرے ۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔وہ تو کالج میں مشہور تھی کہ اِس کی زندگی میں کوئی لڑکا نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔پھر وہ کیسے ہار گی ۔۔۔۔۔اُس کو پتا تھا وہ اگر ہار گی ہے تو اب اُس کے لیے پلٹنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اب وہ چاہتے ہوئے بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتی ۔۔۔۔
۔
“فضہ میں کیا کروں اب “
اُس نے اب کی بار اپنی چپ توڑی اور ایسی توڑی کے جیسے آسمان بھی اُس کو سننے لگا۔۔۔۔
۔
وہ فضہ کے گود میں سر رکھ کے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“زری ایسے نہیں روتے۔ ۔۔۔۔کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔تم دیکھنا سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا “
۔
“سب ٹھیک نہیں ہو گا فضہ ۔”۔سب ٹھیک نہیں ہو سکتا اب۔۔۔۔۔۔میں نے اپنے اللہ کو ناراض کر دیا ہے۔ ۔۔۔ایک نا محرم سے بات کی ہے ۔۔۔۔۔مگر میں کیا کروں میرا دل میرے اختیار میں نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں چاہتے ہوئے بھی خود کو نہیں روک سکتی۔۔۔۔۔۔۔میں اُن سے بات نہیں کرنا چاہتی مگر میرے بس میں کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔میں اُن کو دیکھنا بھی نہیں چاہتی مگر جب تک میں اُن کو دیکھوں نا۔ ۔۔مجھے ایک لمحے کو چین نہیں آتا ۔۔جیسے میرا دل کٹ رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کی گودی میں لیٹے ہوئے اونچا اونچا رونے لگی ۔۔۔۔۔جیسے آج اعتراف کر رہی ہو اُس بات کا جو اُس نے خود کے سامنے بھی نہیں کہی ۔۔۔۔
۔
“زری مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟”
فضہ نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔اگر وہ اُس کو پہلے بتا دیتی تو اج ایسے نا رو رہی ہوتی۔ ۔۔۔۔۔جب بندہ کسی مخلص دوست کے ساتھ بات کر لے تو دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے آدھی پریشانی تو ایسے ہی ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔
۔
اور وہ جو آج رو رہی تھی اُس کے اندر تو ایک سمندر تھا ۔۔۔۔جس کو وہ آج اُس کی گود میں بہا رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کانفرنس ہے یونی میں سر وجدان کی ، سر نے ہمیں بھی انوائیٹ کیا ہے ۔۔۔۔۔سر کہے رہے تھے ہم بھی ہوں اُدھر ۔۔۔۔۔
۔
مدثر نے کلاس میں آ کے سر کا پیغام دیا !!!
۔
“یار ضرور چلیں گے “
۔
“ہم کیا کریں گے اُدھر ایسے ہی بور ہونا ہے ہمارا کیا کام ہو گا اُدھر “
۔
“میرے خیال سے تو چلتے ہیں”
۔
ہر کوئی اپنی اپنی بات کر رہا تھا ۔اپنا اپنا پوائنٹ بتا رہا تھا ۔۔۔آدھے لوگ جانے کے لیے تیار تھے اور کُچھ نہیں جانا چاہیے تھے ۔
۔
“زرمینہ ہم جائیں گے ؟ “
فضہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو اُس کے کھندے پہ سر رکھے آنکھیں بند کیے دنیا سے بےنیاز بیٹھی تھی ۔
۔
“نہیں فضہ ہم نہیں جا رہے “
اُس کی زبان نے اُس کے دل کا ساتھ نہیں دیا اور اُس نے انکار کر دیا۔
۔
“پکا نہیں جا رہے نا”
فضہ اُس سے ایک بار پھر تصدیق چاہتی تھی ۔۔۔۔کہ اُس کا موبائل بجھا۔۔۔۔اُس نے موبائل کھولا اور میسیج دیکھا ۔۔۔
۔
“آپ نے آنا ہے “
موبائل کی سکرین پہ اُس کا نام چمکنے لگا ۔
میسیج دیکھتے ہی اُس کا اب خود پر سے اختار ختم ہو گیا ۔۔۔۔۔وہ اُس کو کیسے انکار کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔کیسے کہے سکتی ہے اُس نے نہیں آنا ۔۔۔۔۔اُس نے تو ایک حکم صادر کیا تھا وہ اُس سے کیسے انکار کر سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟
۔
“ہم چلیں گے فضہ “
اُس نے موبائل کو اپنے بیگ میں رکھا ۔۔۔اپنا سر اوپر کیا اور چلنے کی تیاری کرنے لگی !!
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بلیک جینز ، سفید شرٹ اور بلیک کوٹ پہنے ۔۔ حال کے باہر کھڑا اُن کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔وہ جب بھی اُن کو بلاتا تھا اُن کا استقبال کرنے کے لیے خود باہر کھڑا ہوتا تھا!!
۔
“وہ دیکھو سر خود باہر کھڑے ہیں”
ماہ نور نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔سب نے نظر اٹھا کے اُس کو دیکھا ۔جس نے شاید اُنکو دیکھ لیا تھا۔ اور دوسرے فلور سے نیچے اپنے مخصوص انداز میں بھاگتا بھاگتا آ رہا تھا ۔۔۔۔
۔
“بہت دیر کر دی آپ نے ، جلدی آئیں اب “
وہ اُن کے پاس آ کے کھڑا ہوا ۔۔۔۔اُس کو بغیر دیکھے مسکراتا ہوا سب کو کہے رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“چلیں چلیں جلدی چلیں”
۔
وہ دوڑتا دوڑتا آگے جا رہا تھا جیسے بہت لیٹ ہو رہا ہو ۔۔۔۔اپنے ہاتھ پہ بندھی سفید گھڑی وہ بار بار دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور چلتا جا رہا تھا
۔
اُس کو بھاگنے کی عادت تھی اور وہ آہستہ چلا کرتی تھی !
۔
“زری جلدی چل خان صاحب نے غائب ہی ہو جانا ہے ہم سے “
فضہ نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور جلدی جلدی چلنے لگی ۔۔۔۔
۔
“ایسے ہی شودے ہیں”
اُس نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا جو اُن کو پیچھے چھوڑے بس دوڑ رہا تھا ۔۔۔۔۔
۔
“کیا ہیں؟”
فضہ اُس کی اِس بات پہ روکی جیسے اُس کو اسکا مطلب نہ آتا ہو ۔۔۔
۔
“شودے ہیں”
اب کی بار وہ مسکرائی تھی ۔۔۔۔۔جیسے اُس کو اپنے ہی دیے ہوئے نام پہ ہسی آئی ہو ۔۔۔۔
۔
“شودے ہندکو میں شوخے کو کہتے ہیں”
اُس نے مسکراتے ہوئے فضہ کو بتایا اور اُس سے ساتھ ساتھ چلنے لگی ۔
۔
کانفرنس روم میں جاتے ہی اُس نے اُن سب کو اِشارہ کیا ادھر بیٹھ جائیں ۔۔۔۔۔۔وہ سب اُس کی وجہ ہے بس اُس کی خاطر وہاں آئے تھے۔ ۔۔۔۔
۔
“ہائے سر کتنے پیارے لگ رہے ہیں نا”
وہاں پہ بیٹھتے ہی ملائکہ نے اُس کو دیکھ کے کہا ۔۔۔۔جو اِدھر اُدھر سب سے باری باری مل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
اُس کی عادت تھی جہاں زمداری اُس کے سر ہوتی تھی ۔وہ چین سے بیٹھتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ہر چیز کو خود دیکھتا تھا چاہے وہ چھوٹی سے چھوٹی ہو یا پھر بڑے سے بڑی ۔۔۔۔
۔
“تمھیں تو کچھ زیادہ ہی اچھے نہیں لگنے لگے سر”
اُس کی اِس بات نے ارم نے اُس کو بہت غور سے دیکھا ۔۔۔۔۔۔
۔
اس نوک جوک میں بس ایک ہی انسان چپ تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اندر سے جل رہی تھی ۔۔۔۔۔جیسے کوئی اُس کے اندر آگ لگا رہا ہو اور اُس کا سارا وجود جل رہا ہو ۔۔۔۔
اُس کو نفرت ہونے لگی تھی اُن لڑکیوں سے جو اُس کا نام بھی لیتی تھیں۔۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا نام بھی لے ۔۔ کوئی اُس کو دیکھے بھی ۔۔۔۔۔
وہ آج اُن لڑکیوں سے جیلس ہو رہی تھی ۔جن کو وہ منہ بھی نہیں لگاتی تھی ۔۔۔۔۔جن کے پاس بیٹھنا بھی اُس کو توہین لگتی تھی ۔۔۔۔۔آج وہ اُن سے حسد کر رہی تھی ۔اپنے ہی اندر لگائی ہوئے آگ میں خود کو جلا رہی تھی ۔۔۔۔
۔
وہ کھبی ایک طرف جاتا کھبی دوسری طرف ۔۔۔۔۔اور وہ اُس کو ہی دیکھئے جا رہی تھی ۔۔۔بس اُسی کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔اُس کو ہوش نہیں تھی دنیا کی ۔اُس کو نہیں پتا تھا وہاں کیا ہو رہا ہے۔ کون بول رہا ہے۔۔۔۔۔
۔
جیسے جیسے وہ اِدھر سے اُدھر جا رہا تھا اُس کی نظریں اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے پیچھے پیچھے جا رہی تھیں ۔۔۔۔اُس کا دو چیزوں پہ کوئی اختیار نہیں تھا ۔۔۔۔اُس کے دل پہ اور اُس کی آنکھوں پہ ۔۔۔۔۔اُس کا دل اُس کی خاطر دھڑکتا تھا ۔اور اُس کی آنکھیں بس اُسی کو ڈھونڈتی تھیں اُسی کو دیکھتی تھیں ۔۔۔۔۔۔
۔
اب بولنے کی باری آرگنائزر کی تھی۔ جس نے یہ ساری کانفرنس آرگنائز کی تھی ۔۔۔۔۔ایک لڑکی مائک میں بول رہی تھی ۔۔۔۔۔آرگنائزر کی تعریف کر رہی تھی ۔۔۔۔اب اُس نے ایک بھرپور انداز میں سید وجدان حسین شاہ کہا اور تالیوں کی گونج نے اُس کا استقبال کیا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کے نام پہ اُسکی آنکھیں بند ہوئیں ۔۔۔۔۔وہ بار بار اُس کا نام سننا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔وہ بار بار سید وجدان حسین شاہ سننا چاہتی تھی۔۔۔۔۔
۔
وہ سامنے آیا ۔۔۔مائک ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔۔۔سب کو سلام کیا اور بولنے لگا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ سب کی توجہ کا مرکز بنتا تھا ۔۔۔مگر جب وہ بولتا تھا تو ہر کوئی بس اُسی کو دیکھتا تھا ۔۔۔۔اُسی کو سنتا تھا ۔۔۔
۔
وہ اُس کے سامنے بیٹھی اُس کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی ۔اُس کی آواز سن رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
وہ تقریاً پانچ منٹ بولا اور مائک رکھ لیا ۔۔۔۔سب نے ایک بار پھر تالیاں بجھائیں ۔۔۔۔۔اُس کو دات دی ۔۔۔۔۔
۔
“وہ اُن کے پاس آیا جہاں وہ سب بیٹھی تھیں ۔۔۔چلیں؟ چائے پی لیتے ہیں ساتھ۔۔۔۔”
۔
سب بس اُس کو سننے کے لیے وہاں بیٹھے تھے ۔۔۔۔۔اُس کے بولنے کے بعد ویسے بھی سب نے اٹھ جانا تھا ۔۔۔۔۔
۔
وہ اور فضہ ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے اُس کے ساتھ ساتھ اُس کے پیچھے جانے لگی ۔۔۔۔وہ یونی کی کینٹین میں گے اور اُسی جگہ بیٹھ گئے جہاں وہ پہلے بیٹھے تھے۔
اب کی بار ماحول میں فرق تھا ۔۔۔۔پہلی دفعہ وُہ پانچ چھ لڑکیاں ہی تھیں ۔آج آدھی کلاس وہاں موجود تھی ۔
۔
آج وہ اُس کے قریب نہیں بیٹھی تھی۔ اُس کے بہت دور تھی ۔۔۔
۔
“چھوٹے سب کے لیے چائے لے ائو اور ایک کپ گرین ٹی کا لے آنا “
۔
اُس نے اُسی بچے کو آواز دی اور چائے کا کہا ۔۔۔۔۔وہاں پہ بیٹھے چند لوگوں کو بخوبی علم تھا یہ جو گرین ٹی منگوائی ہے یہ کس کے لیے ہے ۔۔
۔
وہ سب اُس سے کانگریس کے بارے میں پوچھنے لگے۔ اُس سے باتیں کرنے لگے۔ وہ سب کو مسکرا کے جواب دیتا ۔۔۔
۔
آج اُس کی یہ مسکراہٹ اُس کو دُکھ دے رہی تھی ۔اُس کو تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔۔”
“کیوں مسکراتے ہو تم وجدان لوگوں کے لیے ۔۔۔۔دیکھو درد ہوتا ہے مجھے “
۔
اُس کے دل میں درد کی کہی لہریں ٹکرانے لگیں ۔۔۔۔۔اُس کا ہانیہ سے ہس ہس کے بات کرنا ۔ارم سے مخاطب ہونا ۔اُس کو پل پل میں ازیت سے دو چار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی ۔۔۔وہ کسی لڑکی سے بات بھی کرے کوئی لڑکی اُس کو دیکھے۔۔۔۔۔
وہ جانتی تھی ایسا کچھ ممکن نہیں ہے مگر پھر بھی وہ ایک اُمید لیے بیٹھی تھی۔ کاش وجدان کسی سے بات نا کرے ۔۔۔۔۔کاش یہ لڑکیاں اُس کے آفس میں جانے سے پہلے سو بار سوچیں ۔۔۔۔۔مگر اُس کی طبیعت میں ہی خوش مزاجی تھی ۔۔۔۔وہ ہر ایک سے بات کرتا تھا ۔اور کلاس کے باہر جب وہ سٹوڈنٹس کے ساتھ ہوتا تو یاروں سے کم نہ ہوتا ۔۔۔۔۔۔
۔
“شاید محبت ہوتی ہی کچھ ایسی ہے۔۔۔۔۔
‘”محبت میں شراکت تو خدا نہیں برداشت کرتا تو زرمینہ گل تو ایک عام سی لڑکی ہے ۔وہ کیسے برداشت کرے؟ “
۔
اُس کی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے ۔۔۔اُس کا سانس اُس کے حلق تک اٹکنے لگا۔۔۔۔۔اُس کے جسم میں چوبن لگنے لگی ۔۔۔۔دل کو ضرب لگنے لگی ۔۔۔۔ جیسے اُس کا دل کوئی اندر سے چھوٹا چھوٹا کر کے کاٹ رہا ہو۔۔۔۔۔
۔
وہ جو دنیا کو جوتی کی نوک پہ رکھتی تھی ۔آج اُن لوگوں کی قربت سے جل رہی تھی ۔جن کی اوقات اُس کے ساتھ بیٹھنے کی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ چلو جائیں نا یار”
اُس نے فضہ کی طرف دیکھا اور اُس کو سرگوشی میں کہا ۔۔۔
۔
“لیکن زری سر کیا سوچیں گے”
اُس نے آرام سے اُس کے پاس ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“جو بھی سوچتے ہیں سوچیں ۔۔۔۔تم نے جانا ہے یا میں خود ہی جاؤں؟”
اُس نے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے کہا ۔
۔
“روکو میں بھی چلتی ہوں”
۔
اُس نے اُن دونوں کو اُٹھتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔۔وہ سمجھ گیا تھا کچھ تو یہاں غلط ہوا ہے جس سے وہ ایسے یہاں سے اٹھ کے جا رہی ہے “
۔
“سر ہم چلتے ہیں اب “
فضہ نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔جو ایک پریشانی میں مبتلا ہوا تھا ۔۔۔۔
۔
“مگر چائے …….”
“شکریہ سر پھر کھبی پی لیں گے “
فضہ نے معذرت کرنے والے انداز میں کہا ۔اور پیچھے مڑ کے اُس کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔جو بغیر اُس کا انتظار کیے سر کو بغیر بتائے۔ وہاں سے چلی گی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکون تو اُس کو اُس دِن کے بعد ایک پل کے لیے بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔جس دن اُس نے اُس سے بات کی تھی۔۔۔۔اُس کو لگتا تھا جیسے اُس نے اپنا وقار کھو دیا ہے ۔۔۔۔ وہ بس ایک ہی سحر میں ہے ۔۔وہ وجدان کے سحر میں ہے ۔جیسے ایک جوگی کو کو روگ لگا ہو ۔۔۔۔۔جیسے اب اُس کے پاس گھر جانے کا کوئی راستہ نہ بچہ ہو ۔۔۔۔۔
۔
“اللہ جی آپ مجھ سے ناراض ہو گے ہیں نا”
اُس نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا ۔۔۔۔جیسے وہ اپنے دل میں اللہ جی کو کھوج رہی ہو ۔۔۔۔۔جو کہیں کھو گے ہیں ۔جو اب اُس سے بہت ناراض ہو کے بات کرتے ہیں ۔۔۔۔۔جیسے وہ اُس سے خفا ہوتے ہوں۔۔۔۔
۔
وہ اب اللہ جی سے اپنی باتیں چھپانے لگی تھی ۔۔۔۔اُن کو ساری باتیں نہیں بتاتی تھی ۔۔۔۔۔ اُن کو بس کچھ کچھ باتیں بتا دیتی تھی ۔۔۔۔وجدان کے لیے وہ جو محسوس کرتی تھی ۔وہ سب کچھ اب چھپاتی تھی ۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میں آپ سے اس وجہ سے نہیں چھپاتی کہ میں آپ کو کچھ بتانا نہیں چاہتی ۔۔میں آپ سے اِس وجہ سے چھپاتی ہوں کہ مجھے شرم آتی ہے آپ سے “
۔
اُس نے روتے ہوئے آسمان کو دیکھا ۔۔۔۔اور اللہ جی کو کہنے لگی ۔آج بھی آسمان میں چاند چمک رہا تھا ۔۔۔مگر آج اُس کی چاندنی مدہم تھی ۔۔۔۔۔آج بھی وسی ہی رات تھی ۔مگر آج کی رات میں کچھ غصّہ تھا ۔۔۔۔۔۔جیسے کائنات کا ذرہ ذرہ اُس سے ناراض ہو ۔۔۔۔۔اُس سے مایوس ہو ۔۔۔۔۔جیسے اُس کو کہے رہا ہو
۔
“زرمینہ گل تم بھی ہار گئیں؟ “
۔
اُس کو خود پہ افسوس تھا ۔وہ ایک دلدل میں تھی۔ ۔۔۔۔وہ اُس دلدل میں پھستی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ کالی رات میں روشنی کی تلاش میں گھاٹیوں میں جا رہی تھی ۔اُس کو واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔وہ واپس ہونا چاہتی تھی ۔مگر وہ کیسے واپس ہو ۔۔۔۔کس راستے پہ جائے۔ ۔۔۔۔کون ہے جو اب اُس کو سہارا دے گا ۔وہ اللہ ؟ جس کو میں نے ناراض کر دیا ہے ۔۔۔۔میں اب کیا کروں گی “
۔
وہ روتے روتے اپنے بیڈ پہ آئی ۔اپنے اوپر کمبل کیا ۔۔۔۔ایسے کہ باہر کی ہوا بھی اندر نہ لگے ۔۔۔۔۔وہ ڈرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔وہ اب اللہ جی سے ڈرتی تھی ۔۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ کہتی تھی لوگ اللہ جی سے کیوں ڈرتے ہیں ؟ وہ تو کسی کو کچھ نہیں کہتے ۔۔۔۔۔
۔
مگر آج وہ خود ڈر رہی تھی ۔اللہ جی سے وہی لوگ ڈرتے ہیں جو غلطی کرتے ہیں گناہ کرتے ہیں ۔۔۔۔۔وہ لوگ تو اللہ جی کے دوست ہوتے ہیں جو اُن کا کہا مانتے ہیں ۔۔۔۔۔جو اُن سے محبت کرتے ہیں ۔محبت تو وہ بھی کرتی تھی ۔۔مگر اب وہ محبت کسی اور سے بھی کرتی تھی ۔۔۔۔۔جس سے محبت سے اللہ نے منا کیا ہے۔۔۔۔۔
وہ اُس کو چھپا رہی تھی ۔خود سے دنیا سے اور تو اور اللہ جی سے بھی ۔۔۔۔وہ اُن کو بھی نہیں بتانا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ ایسی ہی تھی ۔محبت کو چھپا کے رکھنے والی ۔۔۔۔۔وہ اُس کو اپنی آنکھوں میں اپنے دل میں قید کرنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔
وہ آج بہت بے چین تھی اُس کو قرار چائیے تھا ۔۔۔۔۔۔وہ بیڈ پہ آئی ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔بازوں کو آنکھوں پر رکھا ۔۔۔۔۔اُس کا سراپا اُس کو نگھاؤں میں گھومنے لگا ۔۔۔۔۔۔اُس کا مسکراتا چہرہ اُس کے دل کو سکون دینے لگا ۔۔۔۔۔۔
۔
الٹی ہی چال چلتے ہیں دیوانگان عشق !
آنکھوں کو بند کرتے ہیں دیدار کے لیے !
۔
اُس کے دل کو سکون ہونے ہی لگا تھا کہ اُس کا موبائل بجھنے لگا ۔۔۔۔۔سکرین پہ اُس کا نمبر چمکنے لگا …..اُس کا نام اُس کو صاف صاف دکھائی دینے لگا……..
۔
“میں اُن سے بات نہیں کر سکتی “
آنکھوں سے بہتے آنسوؤں کو اُس نے صاف کیا اور موبائل کو سائڈ پہ رکھ دیا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں اللہ جی آپ مجھ سے خفا نہیں ہونا میں نہیں بات کروں گی آج “
اُس نے موبائل کو پھر اٹھایا جس کی سکرین پہ ابھی بھی اُس کا نام چمک رہا تھا ۔۔۔۔۔
“کوئی محبت سے انکار کرے تو کیسے کرے کوئی محبوب سے منہ موڑے تو کیسے موڑے؟”
۔
محبت سے تو انکار پھر بھی ہو سکتا ہے۔ ۔۔۔محبوب سے کوئی منہ کیسے موڑ سکتا ہے ؟
۔
محبت تو اللہ کی صفت ہے ۔ اُس نے بھی تو محبت کی ہے ۔اُس نے اپنے محبوب کے دیدار کے لیے اُس کو اپنے پاس بلایا ۔۔۔۔اُس کو آسمانوں کی سیر کروائی ۔۔۔۔۔۔اُس محبوب کے لیے دنیا بنائی ۔۔۔۔۔اُس کو محمّد کہا اُس کو احمد کہے کر بلایا ۔۔۔۔۔۔اپنے نام کے ساتھ محبوب کا نام لگایا۔۔۔۔
۔
خدا کو عرش پے محبوب کو بلانا تھا !
طلب تھی دید کی معراج کا بہانا تھا!
۔
محبت کرنا کہاں جرم ہے ۔۔۔۔جب اُس خدا کو محبت ہو سکتی ہے ۔تو محبت تو کسی کو بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔محبت کے لیے کچھ دل چن لیے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔زرمینہ گل کا بھی چن لیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ محبوب سے کیسے منہ موڑ لے ۔کس کے اختیار میں ہوتا ہے محبوب سے منہ موڑنا ۔۔۔۔۔
۔
موبائل کی سکرین پہ ایک بار پھر اُس کا نام چمکنے لگا ۔اب اُس بار اُس نے موبائل کو اٹھایا اور کان سے لگا لیا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کی آواز سنتے ہی اُس کے دل میں ایک عجیب سی تڑپ اٹھی ۔۔۔۔۔
اُس کی آواز سنتے ہی اُس کا خود پر سے اختیار ختم ہوا ۔۔۔۔وہ جو اللہ کے سامنے اُس کے لیے روتی تھی۔ آج وہ اُس کے سامنے رونے لگی ۔۔۔۔۔
۔
اُس نے اُس کے سلام کا جواب سسکیوں سے دیا ۔۔۔۔۔۔وہ جو اُس کی سسکیاں سن رہا تھا ۔اُس کے دل پہ درد کے پہاڑ گر گرنے لگے ۔۔۔۔۔۔وہ اُس سے پوچھنے کی ہمت کھو بیٹھا ۔۔۔۔وہ سن رہا تھا وہ اُس کی سسکیاں سن رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور وہ رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں روئیں زرمینہ “
اُس نے اپنے آنسوں کو ضبط کیا ۔۔۔۔اپنی لڑکھڑاتی آواز سے اُس کا نام لیا ۔۔۔۔۔۔
۔
اپنا نام سنتے ہی اُس کی سسکیوں میں کمی آئی۔ اُس نے آج پہلی دفعہ اُس کا نام لیا تھا ۔۔۔۔آج سے پہلے اُس کو اپنا نام اس قدر پیارا نہیں لگا تھا ۔۔۔۔۔
اُس نے اپنا نام سنتے ہی آنکھیں بند کیں ۔۔۔۔۔وہ اُس کی خاموشی سننے لگی ۔۔۔۔اُس کی سانسیں سننے لگی ۔۔۔۔وہ گہری گہری سانسیں لے رہا تھا ۔جیسے کوئی سگریٹ پیتے ہوئے لیتا ہو ۔۔۔۔
۔
وہ اُس سے بات کرتے ہوئے کھبی سگریٹ نہیں پیتا تھا ۔۔۔مگر آج وہ خود پہ قابو پانا چاہتا تھا ۔وہ اُس کو نہیں بتا سکتا تھا ۔۔وہ مر جائے گا تمہارے بغیر ۔۔۔۔۔۔ اُس کو نہیں بتا سکتا تھا اُس کے آنسوں گرم دہکتے ہوئے پانی کی طرح اُس کے دل پہ لگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
۔
“سگریٹ پی رہے ہیں آپ “
اُس نے لیٹے ہوئے آنکھیں بند کیں اور اُس سے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“جی ۔۔۔۔وہ “
اُس کی بات حلق میں ہی اٹکی ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں پیا کریں سگریٹ مجھ سے بات کرتے وقت”
وہ جب بھی اُس سے بات کرتی ایک بچی بن جاتی۔ اُس سے ضد کرتی ۔۔۔۔غصّہ بھی ہو جاتی ۔۔۔۔
۔
“آئندہ نہیں پیوں گا “
اُس کے ہاتھ سے بے اختیار سگریٹ نیچے گرا ۔۔۔۔آنکھوں سے آنسوں نکلے ۔۔۔۔۔
۔
“رو کیوں رہی ہیں آپ”
اپنے آنسوں پہ قابو پاتے ہوئے اُس نے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔۔جس کی آنکھوں میں ایک بار پھر سے آنسوں کا سیلاب گرنے لگا ۔۔۔۔
۔
“آپ کیوں لڑکیوں سے باتیں کرتے ہیں ہس ہس کے “
اب کی بار اندر کا ضبط باہر نکلا تھا۔ ۔۔۔۔
۔
یہ سنتے ہی اُس کا دل موم بنا جیسے پگھل رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔
“آئندہ نہیں کروں گا میں کسی سے بات ۔آپ رویا نہیں کریں “
اُس نے اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے آرام سے دھیمے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔
۔
“ملکہ تمہاری خاطر ہی تو سب سے بات کرتا ہوں میں ۔۔۔۔۔فقط تمھیں دیکھنے کے لیے میں اتنے لوگوں کو برداشت کرتا ہوں ۔کب سمجھو گی تم ۔۔۔۔کب سمجھو گی تم وجدان تمہاری خاطر جیتا ہے ۔تم نہ ہوئی تو وہ مر جائے گا ۔۔۔۔”
اُس نے آنکھیں بند کیں اپنے دل پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔اُس کی سسکیاں سنتے ہوئے خود سے کہنے لگا۔
