Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hijab (Episode 09,10)

Hijab by Amna Khan

“وجی کیا ہوا ہے تمہیں “

“کوئی پریشانی ہے ؟”

“کوئی مسئلہ ہے تو مجھے بتاؤ؟ تم کب سے اپنی بہن سے باتیں چھپانے لگے ہو ۔تم جانتے ہو نا وجی ہم بہن بھائی سے زیادہ اچھے دوست ہیں۔ تو پھر ایسا کیا ہو گیا ہے جو تم مجھے بھی نہیں بتا سکتے ۔۔۔۔ایسا کیا ہوا ہے وجی جس نے تمهاری آنکھوں کی چمک ، تمھارے چہرے کی ہسی چھین لی “

فاطمہ رات کو دودھ کا گلاس لے کے وجدان کے کمرے میں آئی تھی ، وہ لپٹوپ لیے کچھ کام کر رہا تھا ۔بہن کے آتے ہی سب کچھ چھوڑ دیا اور ہلکا سا مسکرایا ۔وُہ اپنی ہر بات فاطمہ سے کیا کرتا تھا ۔۔۔وجی کی زندگی کا ہر راز اسے پتا تھا ۔۔۔و اُس کی بہن سے زیادہ اُس کی راز دار تھی ۔۔۔۔

۔

آج وہ بےحد فکرمند تھی صبح سے سوچ رہی تھی کب رات ہو گی اور کب وہ اُس سے پوچھے گی ۔۔۔اُس کی پریشانی مزید اُس وقت ہوئی تھی جب دن کے کھانے پے اُس نے نظریں اٹھا کے کسی کو نہیں دیکھا تھا ۔امی کے اتنے پوچھنے پہ بھی بس یہی جواب دیا تھا کہ یونیورسٹی میں بہت کام تھا تھک گیا ہوں۔

“وجی “

“کیا سوچ رہے ہو تم “

اُس نے اُس کے ماتھے پہ پیار سے ہاتھ رکھا وہ بڑی بہن سے زیادہ اُس کے لیے ماں کا درجہ رکھتی تھیں

۔

وہ بے بسی سے بہن کی طرف دیکھنے لگا ۔اور پھر ایک دم سے نظریں جُھکا لیں ۔

لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بات کرنے والا سید وجدان حسین شاہ اب نظریں جھکا کے بات کرنے لگا تھا۔ ۔وُہ یہی سوچتا تھا وہ نظر اُٹھا کے بات کرے گا تو کوئی اُس حجابِ والی صورت کو اُس کی آنکھوں میں نا دیکھ لے ۔۔۔۔

“آپی آپ میرے لیے دعا کرتی ہوتی ہیں نا؟”

اتنے وقت کے بعد وہ بہن سے بس یہی بول سکا تھا۔

۔۔

فاطمہ نے اُس کا چہرہ بہت غور سے دیکھا اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا ، اُس نے نظریں اٹھائی۔ ۔۔

اُس کی تو آنکھوں کی دنیا اُجر گی تھی ۔۔۔بہن کو لگا جیسے اُس کا کلیجہ کسی نے نکال لیا ہو۔ اُس کے پیٹ میں بل پڑھے ۔جیسے اُس کے اندر سے اُس کو شدید درد ہو رہا ہو ۔

اُس نے اُس کا چہرہ اوپر کیا اور اُس کو دُکھ کے ساتھ دیکھتی رہی ۔جیسے دیکھ رہی ہو اُس کے بھائی کے اندر کیا ٹوٹا ہے ۔

۔

اُس نے فوراً سے نظریں جُھکا لیں، بہن نے ایک بار پھر اُس کا چہرہ اوپر کیا۔

“وجدان میری طرف دیکھو”

وہ اُس کو ہمیشہ وجی کہتی تھی آج وجدان کہا تھا !!!!

اُس کو لگا اُس کی بہن نے اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کو دیکھ لیا ہے۔

اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی کی آنکھیں دیکھ لی ہیں ۔

وہ ایک دم سے ڈرا۔

ایک دم سے آنکھیں نیچے کیں۔

“کیا ہو گیا ہے آپی آپ کو “

بلکل ٹھیک تو ہوں میں ، آپ بھی نا بس ایسے ہی پریشان ہوتی رہتی ہیں “

اُس نے اوپر اوپر سے مسکراتے ہوئے بہن کے ہاتھ آرام سے نیچے کیا اور laptop کھول لیا ۔جیسے وہ بہن کے سوالوں سے بچنا چاہتا ہو۔اُس کی نگاہیں اُس کو بیچین کر رہی تھیں ۔

“وجدان تمھیں محبت ہو گئی ہے “

بہن نے بغیر کوئی چہرے پہ تاثر دیئے اُس کی طرف بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔ جیسے اُس نے سچ میں اُس کی آنکھوں میں اُس لڑکی دیکھ لیا ہو۔ جیسے وہ اس بات کی تصدیق چاہتی ہوں ۔۔۔۔

۔

۔

اُس نے بہن کی بات سنتے ہی لیپٹپ سے نظریں اوپر کیں ۔۔۔انگلیوں نے ایک دم حرکت روک دی۔۔۔ دل کی دھڑکن ایک دم تیز ہو گی۔ اُس کو لگا جیسے وہ ۔اُس کا بہت بڑا جرم پکڑا گیا ہے۔اُس نے بہن کی طرف دیکھا۔۔۔

۔

اُس کو تو خود نہیں پتا تھا ، محبت ایسے ہوتی ہے۔ وہ تو بس یہ سمجھتا تھا وہ لڑکی اُس کے خیالوں میں آتی ہے۔ وہ اُس سے محبت کیسے کر سکتا ہے۔کیا اسے کہتے ہیں محبت ۔۔۔۔

اُس نے تو بہت ساری لڑکیوں سے باتیں کی ہیں ۔جانے کتنی لڑکیوں سے محبت کا اظہار بھی کیا ہو۔ ۔۔۔۔

اگر محبت ایسی ہوتی ہے تو وہ کیا تھا جو وہ کرتا آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔

“وجدان “

“میں تم سے پوچھ رہی ہوں کیا تمہیں کسی لڑکی سے محبت ہو گی ہے “

وہ ایک دم ہوش کی دنیا میں آیا ۔۔۔اُس نے پکڑے جانے پہ خود کو بچانے کی ناکام کوشش کی۔

“آپی آپ اپنے بھائی کو نہیں جانتی اُس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔”

۔

“آپ کے بھائی کے لیے تو لڑکیاں دیوانی ہیں آپ کا بھائی کیوں کسی سے محبت کرے گا “

اُس نے اس انداز میں کہا کہ بہن مطمئن ہو جائے۔ ۔یا شاید وہ بہن سے زیادہ خود کو مطمئن کرنا چاہتا تھا ۔

“پکا نا وجی ایسی کوئی بات نہیں ہے “

اُس نے اُن کے چہرے کو ، اُس کی آنکھوں میں چھپے درد کو بہت غور سے دیکھا تھا ۔

“وہ مطمئن تو کسی صورت نہیں ہوئی تھیں ۔مگر پھر بھی بھائی کی بات مان لی تھی۔ کیوں کے وہ جانتی تھی کچھ بھی ہو وُہ اُسے ضرور بتائے گا”

تب تک وہ وجی سے کچھ نہیں پوچھیں گی۔ اُس کو مزید دُکھ نہیں دیں گی۔

“اچھا اب سو جاؤ وجی , بہت رات ہو گئی ہے تم کل بھی نہیں سوئے”

“جی آپی بس سوتا ہوں آپ سو جائیں “

بہن نے اُس کا ماتھا چُوما اور فکرمندی کے عالم میں وہاں سے نکل گئی۔

اور وہ بہن کو جاتے ہوئے دیکھنے لگا!!!!!!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آج چائے کس نے بنائی ہے “

“میں نے اپنے ان کومل کومل ہاتھوں سے “

سلطان نے چائے کا ایک سیپ لیتے ہوئے پوچھا اور زرمینہ نے بہت فخر سے بتایا !!!!!

بابا جان لاہور کسی کام سے گے ہوئے تھے اور وہ سب بہن بھائی دادی اماں کے کمرے میں بیٹھے تھے ۔۔۔۔

“تب ہی پینے کے قابل نہیں “

اُس نے برا سا منہ بنایا !!!

“ہاں تو نہ پئیں نا “

“لائیں مجھے دیں اپنا کپ”

“ارے نہیں نہیں اب میری بہن اتنے پیار سے اپنے کومل ہاتھوں سے بنا کے لائی ہے تو میں واپس کر دوں ایسا کیسے ہو سکتا ہے “

“دادی اماں میں نے چائے اچھی نہیں بنائی؟ “

وہ اُس سے منہ بنا کے دادی اماں کی طرف موڑی ، اُس کو پتا تھا کوئی اُس کی سائڈ لے نا لے دادی اماں نے ضرور اُس کا ساتھ دینا ہے !!!!

“مڑا مجھے تو تمہارے ہاتھ کا زہر بھی میٹھا لگے گا یہ تو صرف چائے ہے “

“ہائے میرے دادا ابا کی شہزادی”

اُس نے شوخے سے انداز میں کہا !!!!!

“چپ شیطان”

“دادی اماں اُس کی اس بات پہ اکثر شرما جایا کرتی تھیں “

۔

“دادی اماں یہ تو نا انصافی ہے نا “

“سو میں سے بس دس نمبر کی حقدار ہے یہ چائے دس بھی تب ہی دے رہا ہوں کیوں کے بہن ہو ورنہ تو ایک نمبر بھی نہ تھا، کیوں لالا گل؟”

“اُس نے شہاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور ساتھ آنکھ مار کے سمجھایا اُس کو کیا کرنا ہے “

“اب سلطان میں کیا بولوں زری خفا ہو جائے گی”

“اُس نے مسکراہٹ کو چھپاتے ہوئے چہرے پہ مصنوئی سی اُداسی لائی اور چائے کا کپ دیکھتے ہوئے کہا”

ہاں ہاں لالا گل آپ بھی ساتھ ہو جائیں انکے جب آپ دونوں کی بیگمات چائے بنا کے لائیں گی نا تب میں بھی ایسے ہے نمبر دیا کروں گی اور اُس وقت آپ پتا ہے کیا بولیں گے واہ بیگم آج تو آپ نے کمال کی چائے بنائی ہے بلکل شیدہ چائے والے کے ہوٹل کی طرح”

وہ جو کب سے ہسی دوبا کے بیٹھے تھے ایک دم ہسنے لگے ۔۔

اماں اب دیکھ لیں آپ کے بیٹے بیگم کے ذکر پہ کیسا کھلکھلا کے ہستے ہیں ۔۔۔۔اُس نے منہ بنیا اور دادی اماں کے کندھے پے سر رکھ کے بیٹھ گئی “

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“وجدان تمھیں محبت ہو گئی ہے”

آپی کیا کہے گی ہیں ؟ کیا یہ محبت ہے ؟ کیا اُس کو محبت کہتے ہیں ؟

نہیں نہیں یہ کوئی محبت نہیں ہے ۔۔۔میں نے اتنی لڑکیوں سے بات کی ہے ۔اتنی لڑکیاں مجھ سے بات کرنے کے لیے مرتی ہیں ۔۔۔۔مجھے ان سے تو محبت نہیں ہوئی کبھی ۔۔۔۔اتنی لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارا ہے میں نے مجھے تو کبھی وہ خیالوں میں نہیں آئی ۔یونیورسٹی میں اتنی لڑکیاں میرے ارد گرد ہوتی ہیں ۔۔۔۔مجھے اُن سے تو کبھی محبت نہیں ہوئی ۔

اور یہ لڑکی جس کو میں نے ایک بار بھی نظر اُٹھا کے صحیح سے نہیں دیکھا ۔ جو حجاب اور چادر میں لپٹی ہوتی ہے۔ ۔۔۔جس کو میں نے دیکھا ہی نہیں مجھے اُس سے کیسے محبت ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ میں کیوں اُس کے سامنے کھڑے ہو کے اپنے ہوش کھو بیٹھتا ہوں ۔۔۔اُس کی آنکھیں ۔۔۔۔میں نے تو اتنی خوبصورت آنکھوں والی لڑکیاں دیکھی ہیں پھر وہ میرے خیالوں میں کیوں نہیں آئیں۔۔۔۔۔۔ یہ لڑکی ہی کیوں؟ کون ہے یہ لڑکی جو مجھے راتوں کو سونے نہیں دیتی۔ ۔کون ہے یہ جو میرے ذہن سے نہیں اتر رہی۔

“آپی کی بات سن کے مجھے عجیب سا ڈر کیوں لگا تھا “کیوں میرے دل کی دھڑکن بے قابو ہو گئی تھی ۔۔۔۔کیوں مجھے لگ رہا تھا جیسے میری چوری پکڑی گی ہو ۔۔۔۔۔کیوں میں مجرم نا ہوتے ہوئے بھی مجرم بن رہا تھا۔ آخر کیوں؟

کیا مجھے واقعی اُس سے ۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں نہیں مجھے اُس سے محبت نہیں ہو سکتی ۔مجھے اتنی پاکیزہ لڑکی سے محبت ہو ہی نہیں سکتی۔

“میں نے زندگی میں کوئی اچھا کام نہیں کیا جو مجھے ایسی لڑکی ملے مجھے ایسی لڑکی سے محبت ہو “

اُس کو عجیب سی وحشت ہونے لگی ۔۔اُس کو لگا اُس کے دماغ کی رگیں اب تھوڑی دیر میں پٹھنے لگیں گی ۔۔۔۔وہ پاگل ہو جائے گا !!!!!!!

“وجدان کیا ہو گیا ہے تُجھے”

اُس کے اندر سے آواز آئی ،

وہ زمین پے بے بس پڑھا تھا آنسوں اُس کی آنکھوں سے ہوتے ہوئے زمین پہ گر رہے تھے !!

“مجھے کچھ نہیں ہوا”

وہ یوں ہی لیٹا لیٹا بولا !!!

“مان جا وجدان تجھے اُس سے محبت ہو گئی ہے”

ایک بار پھر آواز آئی!!!!! ۔

“نہیں مجھے اس سے محبت نہیں ہو سکتی “

“کیوں ، کیوں نہیں ہو سکتی تجھے محبت “

اُس کا ضمیر اُس کو جھنجھوڑنے لگا ۔اُس کو قبول کروانے لگا کے بول ہو گئی ہے محبت تُجھے!!!!!!

“میں اُس کے قابل نہیں ہوں”

اُس نے زمین کی طرف منہ کیا اور روتے روتے اُلٹا ہو گیا ۔جیسے اپنا آپ چپھا رہا ہو کسی سے !!

“میں نہیں ہوں اُس کے قابل “

وہ لرزتی آواز کے ساتھ آنکھوں میں آنسوں لیے بس یہی بولتا رہا

” نہیں ہوں اُس کے قابل”

جس لڑکی کی طرف میں ایک لمحے کو نہیں دیکھ سکتا میں اُس سے محبت کیسے کر سکتا ہوں!!!

یا اللہ میں اس قرب سے کیسے نکلوں گا۔ کیا میں پوری زندگی یوں ہی روتے ہوئے راتوں کو جاگتے ہوئے گزاروں گا ۔۔

کیا میں ایسے ہی مر جاؤں گا

۔۔

“سنو تم نے مجھے مار دیا ہے “

۔

زرمینہ کا عکس اُس کی آنکھوں کے آگے آیا اور اُس نے اپنی بھیگتی آنکھوں کے آگے بازو رکھتے ہوئے کہا !!!!!

وہ پوری رات جاگتا رہا ۔۔۔وہ اُس کو بس بھولنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

مگر اُس کا عکس ایک سیکنڈ بھی اُس کے سامنے سے نہیں ہٹتا تھا۔۔ اب وہ اُس کو سوچنے لگا تھا۔ وہ جب بھی اُس کو سوچتا پر سکون ہو جاتا !!!!!

زمین پے پڑے پڑے کب اُس کی آنکھ لگی اُس کو پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ نماز پڑھنے کے بعد ہمیشہ قرآن پاک کا سبق پڑھا کرتی تھی ۔۔۔۔

اُس کو لگتا تھا جب وہ نماز کے بعد دعا مانگتی ہے تو وہ اللہ سے باتیں کرتی ہے ، اور جب وہ قرآن پاک پڑھتی ہے تو اللہ اُس سے بات کرتا ہے !!!

قرآن پاک پڑھنے کے بعد اُس کا آخری کام جو ہوتا تھا وہ اللہ جی کو لکھ کے اپنی باتیں بتانی ہوتی ۔۔۔

وہ دن بھر کے سارے قصے لکھا کرتی تھی۔ اور اللہ جی کو مخاطب کرتی تھی ۔جیسے وہ اُس کے پاس ہوں اور اُس کی باتیں سن رہے ہوں!!!!!

۔

اللہ جی آپ کو پتہ ہے آج میں نے اور فضہ نے کینٹین سے برگر کھایا۔ اتنا برا تھا یقین مانیں ۔۔۔۔فضہ کو تو صحیح غصّہ آیا مجھ پہ ۔۔۔برگر کھانے کی ضد جو میں نے کی تھی۔

وہ تو یہ اچھا ہوا کینٹین میں سب بیٹھے تھے وہ مجھے اُن کے سامنے کچھ کہے نہیں سکتی تھی ۔مگر آنکھوں آنکھوں میں اُس نے مجھے صحیح سنائی”

آپ کو پتا ہے اللہ جی میں بھی اُس کو دیکھ دیکھ کے ڈیتھ بن کے کھاتی رہی ۔اب ستر روپیہ میں یوں ہی ضائع کر آتی ۔بابا جان کا میں ایک روپیہ نہ ضائع کروں تو یہ تو پھر ستر روپیہ تھا ۔۔۔

۔

۔

وہ اپنی چھوٹی سی چھوٹی بات لکھا کرتی تھی۔ اُس کی ڈائری میں فضہ اور فضہ کے ہی قصے ہوتے تھے ۔اُس نے فضہ کو بھی نہیں بتایا تھا کے وہ ڈائری لکھتی ہے۔ یہ تو اللہ جی کا اور اُس کا سیکریٹ تھا ۔

وہ کسی کی محبت کسی سے شیئر نہیں کرتی تھی۔ چاہے وہ اللہ سے اُسکی محبت ہو۔ اُس کو نہیں اچھا لگتا تھا اُس کے اور اللہ پاک کی باتوں کو کوئی پڑھے کوئی سنے ۔۔۔

اُس کی محبت کا انداز ہی ایسا تھا وہ اپنی محبت کو اپنے اندر چھپا کے رکھتی تھی ۔۔۔۔جس سے وہ محبت کرتی ، بس اُسی کو پتا ہوتا۔۔۔۔

فضہ سے بھی اُس کی محبت ایسی تھی وہ اُس سے شدید محبت کرتی تھی یہ بات اُس کو وہ ہر موقع پہ بتاتی تھی مگر کسی کے سامنے دیکھا دیکھا کے اُس سے محبت نہیں کرتی تھی ۔۔

آج بھی وہ لکھ رہی تھی ۔ وہ آج کا سارا دیں لکھ رہی تھی ۔۔۔کیسے وہ اور فضہ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چل رہے تھے۔ آج اُن دونوں نے کس کس کی بات کی تھی۔ کیسے ہانیہ نے اُس کو پوری کلاس کے سامنے سنائی تھی ۔۔۔۔

اللہ جی میں بس چپ ہو گئی آپ کو پتا ہے نا میں غلط بات برداشت نہیں کرتی۔ ۔اُس نے کتنا غلط بولا ۔۔۔اب میں آپ کو بتا بھی نہیں سکتی کہ اُس نے مجھے کیا بولا تھا ۔۔۔۔مجھے تو آپ کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔۔۔۔۔۔یہ ہانیہ مجھے نا بلکل نہیں پسند

۔

وہ سب کچھ لکھ رہی تھی آج جو جو بھی ہوا تھا۔ ۔۔۔۔

اچانک اُس نے لکھتے لکھتے ہاتھ روک لیا ۔

“اُس کو خود بھی نہیں پتا چلا اُس نے کیا لکھ لیا تھا “

اُس کا دل ایک دم سے زور سے دھڑکا ، آنکھیں ایک دم جُھکی ۔۔۔

“کہیں آپ کی نشیلی آنکھوں پہ فدا تو نہیں ہو گے سید وجدان حسین شاہ “

۔

وہ تو اللہ پاک سے باتیں کر رہی تھی وہاں وہ وجدان سر کا کیسے لکھ سکتی ہے۔۔۔۔۔اُس کو تو شرم آتی ہے اللہ پاک سے ایسی باتیں کرتے ہوئے پھر اُس نے کیوں۔۔۔۔۔۔۔؟

اُس نے اپنے ہاتھوں سے اُنکا نام لکھا تھا ۔

اُس کو کچھ عجیب سا خوف آنے لگا۔۔۔۔اُس کو لگا جیسے اُس کا دل کانپ رہا ہو ۔ اُس نے اُس نام کو غور سے دیکھا ۔اُس کو لگ رہا تھا جیسے وہ نام چمک رہا ہے ۔اور اُس کی آنکھوں کو روشن کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔

۔ اُس کی آنکھوں میں وہ نام قید ہو رہا تھا ۔اُس کو پتا ہی نہیں تھا پیچھے ایک گھنٹے سے خالی ذہن کے ساتھ وہ “سید وجدان حسین شاہ ” لکھا ہوا ہی دیکھ رہی ہے ۔

Episode 10

سر کلاس میں ایک CR اور ایک GR کی بہت ضرورت ہے ۔

مدثر نے سر قمر کی کلاس میں کھڑے ہوتے ہوئے ہانیہ کی طرف دیکھ کے کہا۔ ۔۔و ہمیشہ اُس کو تنگ کرتا تھا۔ اور وہ تنگ ہوا بھی کرتی تھی لیکن ہار نہیں مانتی تھی۔

۔

“تو آپ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں مسٹر مدثر خان “

ہانیہ نے اُس کو اپنی طرف بات کرتا دیکھ کے ایک دم بولی۔

“ہانیہ جی میں آپ سے تو بات نہیں کر رہا نا “

“ہانیہ جی؟”

میرا نام ہانیہ ہے صرف ہانیہ آپ جی کا اضافہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔ اُس نے مدثر کو ناگواری سے دیکھتے ہوئے کہا اور آگے موڑ گی ۔۔

“مدثر آپ نے جو کہنا ہے کہیں اور بیٹھ جائیں پلیز “

سر نے اُن دونوں کو چپ کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کر ہی دیا تھا ۔وہ چالیس کی عمر کے ہوں گے ۔۔۔۔اُن کی کلاس میں سٹوڈنٹس کو کھلی چھٹی ہوتی تھی وہ جو بھی بولیں ۔۔۔

سر میں کہے رہا تھا اگر GR ہانیہ جی ۔۔۔۔اوہ سوری سوری GR ہانیہ صاحبہ بن جائیں اور CR میری علاوہ کوئی اور بنا تو قتل ہو جائے گا وہ مجھ سے ۔

اُس نے پہلی بات پہ ہانیہ کو دیکھا اور دوسری بات پہ کلاس میں بیٹھے لڑکوں کو شرارت سے دیکھتے ہوئے کہا۔

“بھائی تو ہی بن جا ، ہمیں کوئی شوق نہیں “

اُس کے پاس بیٹھے خاور نے ہاتھ جوڑتے ہوئے اُس کو کہا ۔۔۔

“تو سر ٹھیک ہے نا GR ہانیہ اور CR میں ۔۔۔۔۔”

اُس نے ہانیہ کو دیکھے بغیر فوراً سے بول لیا !!!!!!

ہانیہ کو یہ موقع بہت سہنری لگا تھا اُس کو لگا اُسے وہ وجدان سر کی نظروں میں آئے گی ۔۔۔وہ ایک خوبصورت اور پر اتماد لڑکی تھی ۔۔۔اُس کے لمبے کھلے بال اُس کی شخصیت کو اور نکھارتے تھے ۔۔۔۔وُہ ہمیشہ جینز اور اوپر لونگ شرٹ پہننا کرتی تھے ۔کھلے بال اور گلے میں پڑا ڈوبتا ۔ہر کوئی اُس کو ایک دفعہ موڑ کے ضرور دیکھتا تھا ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے مسٹر مدثر آپ سوچ لیں آپ کو ہانیہ کا ساتھ بہت مہنگا نہ پڑھ جائے “

اُس نے اوپر اوپر سے ایسے بات کی جیسے اُس کو تو فرق ہی نہ پڑھا ہو GR بننے سے !!!!!

“ہائے آپ کا ساتھ چائیے بس جتنا بھی مہنگا پڑھے “

مدثر نے اُس کو دیکھتے ہوئے شوخی سے مسکرا کے کہا ۔۔۔۔

“ساتھ نا my foot “

اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے آرام سے کہا ۔

“تو سر ٹھیک ہے میں HOD کو ایپلیکیشن لکھ لوں ؟

مدثر نے سر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔اُس کو پتا تھا سر قمر کو بوتل میں اتارنا بہت آسان ہے ۔۔۔اُن کی جگہ سر وجدان ہوتے تو سو طرح کے پاپڑ بیلنے پڑتے۔ پہلے اُنکو کسی طرح ایمپریس کیا جاتا اور پھر جا کے کہیں یہ بات کی جاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“فضو مجھے کیا لگتا ہے “

یہ مدثر اور ہانیہ کی کوئی کہانی چلنے والی ہے!!!!

زری نے فضہ کے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے کہا۔ وہ جب بھی بیٹھتی تھیں ہمیشہ فضہ کے کندھے پہ سر رکھ کے بیٹھا کرتی تھی۔ اُس کو کچھ عجیب سا سکون ملتا تھا۔ایسا لگتا تھا یہ فضہ کا کندھا نہیں اُس کی ماں کی گود ہے۔۔۔۔جو اُس کو ایسے سکون ملتا ہے!!!

وہ دونوں دوستوں سے کہیں زیادہ تھی

۔

ایک ندی تھی تو دوسری کنارہ!

ایک پھول تھی تو دوسری خوشبو !

ایک جان تھی تو دوسری جہان!!

ایک دھوپ تھی تو دوسری چھاؤں!

ایک جسم تھی تو دوسری روح !

ایک دل تھی تو دوسری دھڑکن!

۔

۔اُن کی بے مثال دوستی ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنی رہتی ۔۔۔۔وُہ دونوں کبھی ایک دوسرے کے بغیر نظر نا آتی تھیں ۔۔ ہمیشہ ایک ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آتی تھیں۔ زرمینہ نے اپنے بیگ کے ساتھ کیچین بھی فضہ کے نام کی لگائی ہوئی تھی۔ ۔۔

زرمینہ بہت کم لوگوں سے اس قدر محبت کرتی تھی ۔۔۔اور فضہ ، فضہ پہ وُہ جان چھڑکتی تھی۔ اُس کی دنیا اپنے گھر والوں سے لے کے فضہ تک ختم ہو جاتی تھی۔ ۔۔

“مدثر ایسے ہی نکما ہانیہ کے پیچھے پڑا ہوا ہے , ہانیہ صاحبہ کی نظر تو کہیں اور ہے ہے”

فضہ نے زری کو دیکھتے ہوئے کہا !!!!

“کدھر ہے ہانیہ کی نظر “

اُس نے اُس کے کندھے پہ ایسے ہی سر رکھ کے مختصر سا پوچھا!!!!!

“اُس کی نظر اپنے خان صاحب پہ ہے”

زرمینہ کو لگا جیسے اُس کے اندر کسی نے کرنٹک لگایا ہو۔ اُس نے بے اختیار اپنی آنکھیں بند کر لی !!!

تم نے دیکھا نہیں سر اُس کو منہ بھی نہیں لگاتے اور وہ اُن کے پیچھے پیچھے ہوتی ہے ۔۔۔۔جدھر سر جائیں گے اُدھر ہی ہانیہ صاحبہ دکھائی دیں گی۔ ۔آج تو وہ سر کے آفس بھی گی تھی ۔۔۔

اتنی کوئی بری لگتی ہے مجھے یہ لڑکی نا ۔۔اوپر سے GR بھی بن گئی ہیں اب ان کو زمین پہ کون لائے گا!!!!!

فضہ بولتی رہی اور وہ چپ چاپ سی اُس کے کندھے پہ سر رکھے سنتی رہی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“آپ اٹھیں آئیں اور پریزنٹیشن دیں “

اُس نے زرمینہ کا نام لینے کے بجائے ہاتھ سے اِشارہ کیا اور سخت انداز سے اُس کو بلایا !!!!

سر ۔۔۔م۔۔۔میں ؟

اُس کو بلکل بھی اس بات کی امید نہیں تھی وہ اُس کو بلائے گا !!!

“جی آپ محترمہ”

وہی لہجہ وہی انداز!!!! بس نظریں اِدھر اُدھر کلاس پہ تھیں وہ اُس کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا !!!!

“لیکن سر…….”

“کیا لیکن”

“سر مجھے نہیں پتا تھا آج میری پریزنٹیشن ہے “

نظریں جھکائے ہوئے!!!!!

“میں آپکو گھر آ کے بتاتا آج آپ کی پریزنٹیشن ہے “

دل کو چوبنے والا انداز!!!!

“سر پلیز میں کل تیار کر لوں گی “

“امپاسبل , آپ کے زیرو نمبر مارک کروں گا میں “

وہی انداز!!!!

“کس لیے آتی ہیں آپ یہاں ؟ اگر پڑھنا نہیں ہے تو، اگر پڑھنا نہیں ہے تو کلاس کے بجائے گھر پے بیٹھیں آپ “

دل کو چیر دینے والا انداز !!!!

زرمینہ پہ آج قیامت ٹوٹ رہی تھی اور وہ بولتا چلا جا رہا تھا !!!!

وہ نظریں جھکائے بس سنتی جا رہی تھی !!

۔

۔

سب حیران ہو کے بس اُس ایک شخص کو دیکھے جا رہے تھے جو بس بولتا چلا جا رہا تھا ۔۔

وہ اُس کا آج ایک اور روپ دیکھ رہے تھے۔

“آج کے بعد میں ایسے بہانے ہر گز نہ سنوں جس نے پڑھنا ہے وہ پڑھے جس نے نہیں پڑھنا وہ میری کلاس سے دُور رہے “

۔

۔

وہ بول رہا تھا سب ایک نظر اُس پے ڈالتے اور ایک نظر زرمینہ پہ !!

زرمینہ نظریں جھکائے بس ایک ہی دعا مانگ رہی تھی یا اللہ مجھے صبر دے ، مگر صبر اتنا چھوٹا بھی تو نہیں ہے جو اسے آ جاتا ۔اُس کی آنکھوں سے آنسوں جانے لگے ۔مگر اُس نے سر اوپر نہیں کیا وہ کسی کو اپنے آنسوں نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔اُس کی غیرت کیسے گوارا کرتی کوئی اُس کو روتے ہوئے دیکھ لے ۔۔وہ سنے گی بہت سنے گی مگر اپنی آنکھ سے نکلنے والا ایک آنسوں بھی کسی کو نہیں دیکھاے گی ۔

وجدان سر اُس کے فورٹ ٹیچر ہیں وہ اُس کو کچھ بھی کہے سکتے ہیں اُس نے خود کو تسلی دیتے ہوئے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔

وہ اُس کو از آ ٹیچر ہمیشہ ہی اچھے لگتے تھے۔ اُس کو تو کیا وہ تو ہر ایک کو اچھے لگتے تھے۔ ۔۔۔مگر وہ اُن کی دل سے قدر کرتی تھی۔ وہ ایک انا پرست قبیلے کی ہوتے ہوئے بھی سنتی رہی۔۔۔۔۔۔۔

۔

۔

آج سب وجدان سر کا یہ روپ دیکھ کے بہت دُکھی ہوئے تھے ۔۔۔سر کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔وُہ زرمینہ کو کل کا ٹائم دے دیتے مگر انھوں نے اُس کا ذرا لخاظ نہیں رکھا ۔۔۔۔انھوں نے اُس کو بتایا بھی نہیں تھا کل تم پریزنٹیشن کے لیے ریڈی ہو کے آنا ۔۔۔

وجدان کی کلاس ختم ہونے کے بعد سب آپس میں باتیں کرنے لگے ۔۔ کوئی زرمینہ کے پاس نہیں آیا تھا سب کو لگ رہا تھا ابھی جانا مناسب نہیں ہے ۔وُہ نظریں جھکائے آنکھوں میں آنسوں چھپاۓ بیٹھی رہی اور فضہ اُس کے پاس بغیر کچھ بولے بیٹھی رہی ۔۔۔

۔

۔

“بہت اچھا ہوا اج سر نے جو اس کو اس کی جگہ بتائی “

آج کوئی خوش تھا تو وہ ہانیہ تھی !!!!!

“میں تو بہت خوش ہوں”

اُس نے ارم کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اپنے چہرے کی خوشی چھپاتے ہوئے کہا۔ ۔اور آٹھ کے ہانیہ کے پاس چلی گئی۔۔۔۔۔۔

” ہانیہ بہت برا ہوا آج تمارے ساتھ”

اُس نے اُس کو ایسے انداز میں کہا جیسے کہے رہی ہو بہت اچھا ہوا ہے تمارے ساتھ اب سر کی کلاس میں نا بیٹھنا !!!

“کیوں ہانیہ کیا برا ہوا میرے ساتھ”

اُس میں بھی سواتیوں والا خون تھا کدھر کسی کے سامنے جھک سکتی تھی ۔اُس نے چہرے پہ بغیر کسی تاثر کے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی ایک ہاتھ کی انگیلیں کو دوسری ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالا اور چہرے پہ مسکراہٹ لیے حیرت سے اُس سے پوچھنے لگی !!!!!

کیا ہوا ہانیہ؟

ہانیہ کے تو جیسے ہوش ہی اڑ گے وہ تو زرمینہ کا روتا ہوا چہرہ دیکھنے آئی تھے یہاں تو کو کوئی اور ہی منظر دیکھ رہی ہے ۔

“نہیں میں بس ایسے ہی کہا کہ تم خفا ہو گی نا سر نے آج سب کے سامنے تھماری انسلٹ کی”

ہانیہ نے مصنوئی سی مسکراہٹ چہرے پہ لائی !!!!!

” ہیں مجھے تو نہیں فیل ہوئی کوئی انسلٹ ، سر وجدان میرے فورٹ ٹیچر ہیں وہ کچھ بھی کہے سکتے ہیں۔ اور ویسے بھی آج غلطی میری تھی جو انھوں نے مجھے ڈانٹا ۔۔۔اور اس کو ڈانٹنا کہتے ہیں نا کے انسلٹ “

اُس نے اسی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا !!!!!

اور ہانیہ وہاں سے چلتی بنی !!!!

۔

۔

“زری “

فضہ نے زری کی طرف دیکھا اُس کی آنکھوں میں غور سے دیکھنے لگی کیا اُس کو واقعی میں فرق نہیں پڑا !!!!

“فضہ اٹھو جائیں نا”

اُس کو لگا وہ کچھ دیر اور بیٹھی تو اونچا اونچا رونے لگ پڑے گی !!!!

فضہ نے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور آنکھوں ہی آنکھوں میں سمجھایا خیر ہے کچھ نہیں ہوتا ؛؛

“اُس نے بھی فضہ کو آنکھوں میں ہی بتایا میں ٹھیک ہوں تم پریشان نہ ہو “

وہ دونوں اکثر ایک دوسری کو آنکھوں ہی آنکھوں میں بات سمجھا دیا کرتی تھیں ۔وہ تو زری کو اندر سے پتا تھا وہ کتنا ٹھیک ہے !!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھوں میں عجیب سی وحشت لیے وہ بار بار اُس بیگ کو ہی دیکھ رہا تھا جو اُس نے اپنے پاس بیڈ پہ چھوڑا تھا ۔۔

بہنوں کو اُس نے کمرے میں آنے سے منع کر لیا تھا ۔میں دو دن سے سویا نہیں ہوں مجھے بہت سخت نیند آ رہی ہے میرے کمرے میں کوئی نا آئے پلیز ۔وہ کھانے کی میز سے بغیر کسی سے نظریں میلالے یہ کہتا ہوا اپنے کمرے کی طرف آیا۔ اور ساتھ یہ بھی کہا چائے نہیں پیوں گا میں ۔سب اُس کے اس بات پہ ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔ایسا تو کبھی نہیں ہوا تھا وہ رات کو سونے سے پہلے چائے نہ پیئے تو سوتا نہیں تھا ۔بعض اوقات تو وہ ۲,۳ کپ بھی پی لیتا تھا اور باقیدہ زینب کو چاکلیٹ کے پیسے دیا کرتا تھا۔

ٹھیک ہے میں آپ کے لیے چائے بناؤں گی پہلے میری چاکلیٹ ۔

چاکلیٹ اگر نا ہو وہ اُس نے پورے پورے پیسے لیا کرتی تھی۔ وہ دونوں ہی بہن بھائی رات کو دیر تک جھگا کرتے تھے ۔زینب ناول پڑھتی تھی اور اپنا کام کیا کرتا تھا !!!!!!!!

۔

۔

سب اُس کو حیران ہوتے ہوئے دیکھنے لگے۔ ایک فاطمہ ہی تھی جس کو اندازہ تھا اُس کو مسئلہ کیا ہے …..

۔

۔

وہ جلدی جلدی اٹھا اور اپنے دروازے کو کنڑھی لگائی ۔۔

پھر آ کے بیڈ پہ بیٹھ گیا ۔اور اُس بیگ کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔اُس نے کانپتے ہاتھوں سے بیگ کھولا ۔اُس کی آنکھوں میں عجیب سی سُرخی تھی ۔۔۔ اُس نے بیگ کھولتے ہی وہ ڈبی دیکھی اور پھر سے کمپنے لگا ۔اُس کو کہا جیسے اُس کو شدید ٹھنڈ لگ رہی ہے ۔اُس کی ٹانگیں ہاتھ پاؤں کانپنے لگے ۔اُس کے دانت ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرانے لگے ۔ اُس کو لگا وہ پاگل ہو گیا ہے ۔اُس نے بیگ کو فوراً سے بند کیا اور بیڈ سے نیچے پھینک دیا ۔اور خود پہ ایسے رضائی اوڑھی کے اُس کی سانسیں بھی باہر نا جائیں ۔۔۔۔وہ رضائی میں لیٹے مسلسل کانپ رہا تھا ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ گھر آتے ہی سیدھا اپنے کمرے میں گی۔ پورے راستے سے خود کو جو سنبھالے ہوئے تھی ۔اپنے کمرے میں آتے ہی ایسے رونے لگی جیسے کسی نے بچے کو مارا ہو اور وہ حجکیایاں لے لے کے رو رہا ہو ۔اُس نے عبایا بھی نہیں اُتارا تھا ۔ دروازہ بند کر کے وہ سیدھا واشروم میں گی ۔اور پھوٹ پھوٹ کے رونے لگی۔ اُس نے پانی کا نل کھول دیا ، تا کے اُس کے رونے کی آواز باہر نہ جائے !!!!

“سر ایسا کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ “

اُس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پہ رکھے اور اونچا اونچا روتی رہی۔۔۔۔ اُس کا کمرہ تھوڑا سا ہٹ کے تھا تو آواز باہر نہیں جاتی تھی ۔دوسرا اُس نے پانی کا نل کھول دیا تھا ۔۔۔۔

۔

وہ عبایا پہنے زمین پہ بیٹھ کے کتنا وقت روتی رہی اُس کو خود بھی نہیں پیتا لگا ۔۔۔۔

۔

۔

وہ جب اُدھر سے اٹھی تو باہر اندھیرا ہو رہا تھا۔ اُس کو پتا ہے نہیں چلا وہ پچھلے کئی گھنٹوں سے عبایا پہنے واشروم کے فرش پہ بیٹھی ہے !!!!

۔۔۔اُس کے کمرے میں ایسے بھی بھائی نہیں آتے تھے۔ اور اماں کو پتا ہوتا تھا وہ دن میں سوتی ہے۔ تو وہ اُس کے کمرے میں نہیں آئی تھیں۔

۔

۔

وہ اٹھی عبایا اُتارا اور شاور لیا۔ اُس کے بعد وضو بنانے لگی ۔۔۔جیسے ہی اُس نے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا اُس کو لگا یہ وہ ہے ہی نہیں۔ اُس کی آنکھیں اتنی لال ہوئی وی تھیں اُس کو لگا جیسے کسی نے مرچیں کوٹ کے ڈالی ہوئی ہوں۔وُہ جیسے ہی پانی منہ پہ ڈالتی تو درد کی ایک آہ لے کے پیچھے ہو جاتی۔ اُس کی آنکھیں اتنی جل رہی تھیں کے وہ پانی کو بھی برداشت نہیں کر پا رہی تھی۔

وہ آج بری طرح سے ٹوٹی تھی اُس انسان کے ہاتھوں جو اُس کا آئیڈیل ٹیچر تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کانپتا ہوا اٹھا اور زمین پہ جا کے بیٹھ گیا ، اور پھر سے اُس بیگ کو اٹھا لیا ۔۔۔۔۔۔ اُس کو کھولتے ہی اُس میں سے اُس نے وہ دونوں ڈبیاں اٹھا لیں ۔۔۔آنکھوں میں وہی وحشت لیے کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ، وُہ باری باری دونوں کو کچھ وقت ایسے ہی دیکھتا رہا ۔۔

پھر اُس نے فیصلہ کر لیا اُس کے مسئلے کا بس ایک ہی حل ہے ۔اُس کو نہیں ڈرنا ۔۔۔۔

اُس نے ایک ڈبی میں سے تیلی نکلی اور دوسری سے سگریٹ نکلا ۔۔۔

وہی زمین پہ بیٹھے اُس نے تیلی جلائی اور سگریٹ کو اُس کے ساتھ لگایا ۔۔۔اُس کے ہاتھ اب پہلے سے زیادہ کانپنے لگے تھے آنکھوں کی وحشت میں اضافہ ہونے لگا تھا ۔

اُس نے سگریٹ کو اپنے منہ کے ساتھ لگایا اور ایک کش لگایا !!! ۔جیسے ہی سگریٹ کا دھواں اُس کے اندر گیا اُس کو ایک دم سے کھانسی شروع ہو گئی ۔۔۔اُس کا دم گھٹنے لگا ۔۔۔

اُس نے پھر ایک دفعہ سگریٹ اپنے منہ کے ساتھ لگایا اور منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اب کھانسی پہلے سے زیادہ ہو رہی تھی پہلے سے زیادہ دل پہ بوجھ آیا تھا ۔۔مگر اُس نے سگریٹ چھوڑا نہیں تھا اور پیتا رہا ۔۔۔۔

ایک سگریٹ ختم ہوا اُس نے دوسرا لگا لیا ۔ دوسرا لگاتے ہی اُس کو لگا جیسے اب سب ٹھیک ہو رہا ہے اب کھانسی ہونا بند ہو گی تھی ۔ اُس کا ذہن پر سکون ہونے لگا ۔جو اُس کے اندر وحشت تھی وہ ختم ہونے لگی۔ ۔۔۔وُہ زمین پہ بیٹھے سگریٹ پہ سگریٹ پیے جا رہا تھا ۔۔۔

اُس نے بیڈ کے ساتھ اپنا سر رکھا آنکھیں بند کی اور سگریٹ کو ہاتھ سے نیچے چھوڑا۔

جیسے ہی اُس نے آنکھیں بند کیں آج دن کا سارا منظر اُس کے سامنے گھومنے لگا ۔

آج اُس نے اُس لڑکی کو پوری کلاس کے سامنے بے عزت کیا تھا ۔۔اُس کی آنکھوں نمی اُس نے دیکھی تھی پھر بھی وہ چپ نہیں ہوا تھا بولتا رہا تھا۔

۔

اُس کے اندر کچھ درد ہوا ۔وُہ اٹھ کے بیٹھا آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سیلاب نکل رہا تھا۔ اُس نے پھر سے سگریٹ لیا پھِر سے جلانے لگا ۔۔

۔

میں نے تمہیں بے عزت نہیں کیا ملکہ !!!

“میں نے تو خود کو تم سے دور کرنا چاہا ہے دیکھو نا میں خود کو تم سے دور کرنے کے لیے آج خود ہی کو برباد کر رہا ہوں “

۔

اُس نے سگریٹ کو اپنے کانپتے ہوٹوں کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔

پورا کمرہ دھوئیں سے بھر رہا تھا اور وہ سگریٹ پہ سگریٹ پیے جا رہا تھا ۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“اللہ جی سر ایسا کیسے کر سکتے ہیں “

آپ کو پتا ہے آج انھوں نے مجھے پوری کلاس کے سامنے اتنا ذلیل کیا ہے ۔ آپ کو پتا ہے میرا کیا دل کر رہا تھا کہ میں مر جاؤں آج۔۔۔۔۔ میری غلطی تھی ٹھیک ہے میری غلطی تھی میں پہلے ہی کام کر لیتی اپنا ۔۔۔مگر انھوں نے مجھے بتایا ہی کب تھا کے کل آپ کی پریزنٹیشن ہے ۔ وُہ اتنا غلط کیسے کر سکتے ہیں میرے ساتھ۔

۔

وہ جائے نماز پے بیٹھی بچوں کی طرح روتی رہی اور ساتھ اللہ جی کو شکایتں لگتی رہی۔

اُس سے پہلے اُس کو کبھی کسی نے ایسے نہیں ڈانٹا تھا ۔۔۔کسی نے اُس کو ایسے بے عزت نہیں کیا تھا۔ کسی نے اُس کی ایسے

تذلیل نہیں کی تھی آج پہلی بار تھی۔ وہ سہے نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔

اُس نے دن سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔اور اماں کو یہ کہے کر ٹال لیا تھا وہ بعد میں کھا لے گی۔

۔

زری یہ تھماری آنکھیں اتنی سرخ کیوں ہوئی ہوئی ہیں ، روئی ہو تم؟ کیا ہوا ہے؟

اماں نے اُس کی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے کہا !!!!!

نہیں نہیں اماں میں کیوں رونے لگی بھلا وہ میری آنکھیں دُکھ رہی ہیں اُس نے آنکھوں کو مسلتے ہوئے نیچے دیکھ کے کہا !!!!

اُس کو پتا تھا ماں تھوڑی دیر اور اُس کو دیکھتی تو وہ اُن کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے روتی۔

“اماں میں کہنا کہا لوں گی آپ بابا جان کو کھانا دے دیں “

“اچھا ٹھیک ہے کھانا کھا کے سونا بچے”

“جی ماں “

۔

۔

اللہ جی آپ خود پوچھنا سر کو !!!

یہ کہے کر پھر وہ رونے لگی ۔

روتے روتے وہ اچانک چپ ہوئی !!!

خیر ہے زرمینہ خان سواتی صاحبہ ٹیچرز تو اپنے سٹوڈنٹس کو ڈانٹے ہی ہوتے ہیں ۔اس میں اتنا رونے کی کیا بات ہے ۔ یاد نہیں ہے سکول میں تمہیں مس ہنا نے ڈانٹا تھا تب تو آپ اتنا نہیں روئی تھیں تو آج کیا ہو گیا ۔۔

وہ خود سے ہی باتیں کرنے لگی !!!!

بیشک انہوں نے ڈانٹا تھا اُن کی بات اور تھی مگر سر کی بات اور ہے۔ ۔

کیوں سر کی بات اور کیوں ہے؟

۔

۔اچانک سے اُس کے اندر سے آواز آئی ۔ وہ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھی رہی جیسے اُس کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہی نا ہو ۔کیوں سر کی ڈانٹ اُس کے دل کو زخمی کر رہی تھی آخر کیوں ؟ ٹیچرز تو ڈانٹتے ہی ہیں اپنے سٹوڈنٹس کو پھر اُس کو اتنا کیوں برا لگ رہا تھا !!!!!!!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ زمین پہ بیٹھے ویسے ہی بیٹھا تھا ۔۔ویسے ہی سگریٹ پیے جا رہا تھا۔ جیسے وہ خود کو ختم کرنا چاہتا ہو۔

اُس کی آنکھوں کے آگے بار بار اُس کی بیگھی پلکیں آ رہی تھی بار بار اُس کو عجیب سا درد ہو رہا تھا ۔

۔

“اُس نے کیوں کیا ہے ایسا ، اس میں اُس کی کیا غلطی تھی ؟ اُس کو تو پتا بھی نہیں ہے سید وجدان حسین شاہ اُس کے سحر میں جکڑا گیا ہے ۔وجدان اتنا خود غرض کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔۔

وہ ایسا کیسے کر سکتا ہے “

۔

اُس نے ایک ہاتھ میں جلتا سگریٹ لیا اور دوسرے ہاتھ کی ہتھلی پہ لگایا ، درد کی ایک شدت اُس کے اندر پھوٹی ۔اُس نے زور سے ایک آہ لی ۔اُس کا لگا جیسے اُس کا پورا وجود جل گیا ہو ۔اندر سے تو وہ پہلے ہی جل رہا تھا آج اُس نے خود کو باہر سے بھی جلایا تھا ۔۔

وہ پیچھے ہوا ایک گھٹنا اوپر کر کے بیٹھا اور بازو گھٹنے پہ رکھا ۔۔۔اور اپنا جلا ہوا ہاتھ دیکھنے لگا ۔۔۔

۔

کیا اس کو کہتے ہیں محبت ؟ کیا یہ ہوتی ہے محبت؟ جو آپ کو تباہ کر لے ۔ آپ کو ایک شخص کے بغیر کوئی اور نہ دیکھائی دے ۔ آپ پوری دنیا میں بس اُس ایک شخص کو دیکھو اُس کے لیے روتے رہو ۔اُس کو ایک نظر دیکھنے کے لیے تڑپ جاؤ اور جب وہ سامنے ہو اُس کو نظر اٹھا کے بھی نہ دیکھ سکو ۔

“اگر یہ ہوتی ہے محبت تو ہاں ہو گی ہے سید وجدان حسین شاہ کو اُس حجاب والی سے محبت “

“سنو میرے دل کی ملکہ ! وجدان کو تم سے محبت ہو گی ہے “

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *