Hijab by Amna Khan NovelR50618 Hijab (Episode 29,30)
No Download Link
Rate this Novel
Hijab (Episode 29,30)
Hijab by Amna Khan
!ان آنکھوں کے اشارے سے مری توثیق ہو جائے!
پلک جھپکوں ، مقدر کی خرابی ٹھیک ہو جائے
سمیٹو حاشیہ میرا اگر پوری توجّہ سے
مجھ ایسا بد چلن بندہ بھی نستعلیق ہو جائے
بہاو وقت کا ہے وصل میں مانع ، بھلے جتنا
کنارے سے کنارے کا بدن نزدیک ہو جائے
ترا احساس کھو دوں تو جواز اپنا نہیں رہتا
ترا چہرہ جو بھولوں روشنی تاریک ہو جائے
مجھے اک عشق بونا ہے تری زرخیز مٹّی میں
زمیں زندہ ہے پہلے یہ مجھے تصدیق ہو جائے
تری تصویر کے نعم البدل کی ایک صورت ہے
تری ہم شکل کوئی نظم اگر تخلیق ہو جائے
پڑھو لوحِ ازل اس پر بھی یہ لکھّا نہیں ہو گا
مرا ہونا تمہاری یاد سے تفریق ہو جائے
حسیں عورت کے سب معنی مکمل کھولے جائیں گے
محبت اور ہوس پر ٹھیک سے تحقیق ہو جائے
ہم اپنی ذات کو بھی جسم سے تفریق کر دیں گے
ہمھارے وصل کی تم کو اگر توفیق ہو جائے!!
وہ پوری رات ایک کونے میں بیٹھا کانپتے ہاتھوں کے ساتھ سگریٹ پتا رہا ۔۔۔۔۔۔۔وہ اتنے سگریٹ پینے لگا تھا کہ اُس کو لگا اُس کے اندر بس دُھواں ہی دُھواں ہے ۔۔۔۔۔۔وہ خود کو ختم کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُسے معلوم تھا خودکشی حرام ہے۔ وہ خود کو گولی سے نہیں مار سکتا تھا۔اپنی نصب نہیں کاٹ سکتا تھا ۔۔۔بہت ساری گولیاں کھا کے خود کو ملامت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔۔ وہ خود کو سگریٹ سے مارنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ سگریٹ کو ایک زہر سمجھ کے پیتا تھا ۔۔۔۔جو اہستہ آہستہ اُس کو بِستر مرض تک لے جائے ۔۔۔۔۔ اور وہ اِس ازیت اِس تکلیف سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا لے جو اُس کو ایک ایک پل میں موت دیتی تھی ۔۔۔۔۔
۔
محبت کرنے والوں کے لیے موت ایک نعمت بن کے آتی ہے ۔۔۔۔۔جو اُن کو ہمیشہ کے لیے سکون کی نیند دے دیتی ہے ۔ایسی سکون کی نیند جو دن رات وہ مانگتے ہیں ۔۔۔۔
۔
اُس کے پاس اب مانگنے کے لیے کچھ نہیں بچا تھا ۔۔۔۔۔کل تک جو زرمینہ گل کو مانگتا رہا اج وہ نیند مانگ رہا تھا ۔۔۔۔ایسی نیند جس کے بعد وہ کھبی اٹھ نا سکے ۔۔۔۔کھبی اِس دُنیا میں دوبارہ واپس نہ آ سکے جس دنیا نے اُس کو تکلیف ازیت درد قرب کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔۔۔۔۔۔
۔
“سنو ملکہ ! مجھے بھول تو نہیں جاؤ گی نا ؟”
۔
اُس نے آسمان میں چمکتے چاند کو دیکھا اور کانپتے ہونٹوں کے ساتھ کہا ۔۔۔۔ سگریٹ پینے سے اُس کے ہونٹ کالے ہو گے تھے ۔۔۔۔اُس کے دانت خراب ہو رہے تھے۔ ۔۔اُس کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُس کی بڑھی ہوئی داڑھی ۔۔۔۔۔۔اُس کو قابل رحم بنا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو اِس حال میں کوئی بھی دیکھے تو یہی کہے ۔۔
” ہائے کسی ماں کا جوان بیٹا ، اِس کی حالت پہ ماں کے دل پہ کیا گزرتی ہو گی “
۔
عشق انسان کو مار دیتا ہے ۔۔۔۔۔زمین میں اُتار دیتا ہے ۔۔۔۔
۔
کسی میں سے اگر غرور ختم کرنا ہو تو اُس کو مرضِ محبت کا مزا چکاؤ ۔۔۔۔۔اور پھر دیکھو ۔۔۔۔۔اُس کی موت کا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھو ۔۔۔۔۔دنیا کی کوئی چیز ایک انسان کو نہیں ہارا سکتی ۔۔۔۔بس یہ کم بخت محبت ، تباہ کر دیتی ہے۔ برباد کر دیتی ہے۔۔۔۔۔۔دنیا کے سامنے ذلیل ، رُسوا کر دیتی ہے ۔۔۔۔۔ایک اچھے بھلے انسان کو قابلِ رحم بنا دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔
یہ مرض جس کو لگتا ہے بس وہی اِسکا درد جانتا ہے …..
۔
“یہ وہ درد ہے جس کا علاج بڑے سے بڑا ڈاکٹر کرے تو ہار مان جائے ۔۔۔ اور اگر محبوب کا ایک دیدار فقط ایک دیدار نصیب ہو جائے تو مرتا ہوا عاشق دوبارہ جی اٹھے “
۔
سنو ملکہ ! اِس جہاں میں نہیں تو اگلے جہاں میں میرا انتظار کرنا ۔۔۔میں نے تمہیں خدا سے مانگا ہے۔ کیسے ممکن ہے کوئی اُس سے مانگے تو وہ عطا نا کرے ۔۔۔۔۔یہاں ظلم ہے ، یہ دنیا بہت ظالم ہے ملکہ ۔۔۔۔۔تمھیں میرا کھبی نہیں ہونے دے گی ۔۔۔۔میں تمہیں اُس جہاں میں مانگوں گا۔ ۔
۔
” روزِ محشر لوگ مغفرت مانگیں گے مگر وجدان تمھیں مانگے گا ۔۔۔۔اپنی ملکہ کو مانگے گا “
اُس دِن میری ہو جانا ۔۔۔اُس دن چھوڑ دینا سب کچھ ۔۔۔۔اُس دِن دعا کرنا اللہ میری دعا قبول کرے۔۔۔میں نے تمہیں پانے کے لیے جو دعائیں مانگی ہیں دعا کرنا اللہ سے بولنا وہ اُن پہ کن بولے۔۔
۔
کاش ملکہ میں تمہیں بتا دیتا ، میں کہے دیتا تم سے وجدان تمہارے عشق میں دیوانہ بن کے گھومتا ہے۔ ۔۔۔ملکہ تمھیں وجدان کی اِس دیوانگی کی قسم اُس جہاں میں وجدان کی ہو جانا “
۔
اُس کو لگا جیسے وہ اُس کو دیکھ رہی ہے وہ چاند پہ ہے اور اُس کی دیکھ رہی ہے۔ وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اُس سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔۔اُس نے اِس دوران ایک بار بھی سگریٹ نہیں پیا ۔۔۔۔اُس کا نام لیتے ہی اُس کے ہاتھ سے سگریٹ نیچے گر جاتا ۔۔۔۔آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب بہتا چلا جاتا ۔۔۔۔۔اور وہ کسی اور ہی جہاں میں ہوتا ۔۔۔
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” زرمینہ جلدی تیار ہو جاؤ ۔۔۔۔لیٹ ہو رہا ہوں میں”
سلطان نے چائے کا کپ منہ کے ساتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“زرمینہ کی تو طبیعت ہی بہت خراب ہے وہ نہیں جائے گی “
اماں نے اُس کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“نہیں نہیں اماں میں جاؤں گی میں ٹھیک ہوں”
وہ عبایا پہنے ماں کو دیکھے بغیر کُرسی پہ آ کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔
۔
“لیکن زرمینہ “.
رقیہ بیگم نے آنکھیں نکالتے ہوئے ۔۔۔۔الفاظ پہ زور دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔جیسے اُس کو یاد دلا رہی ہوں ۔۔۔۔۔کہ اُس نے اب یونیورسٹی نہیں جانا ۔۔۔۔۔
۔
“نہیں اماں آپ پریشان نا ہوں میں ٹھیک ہوں”
اُس نے اس قدر ڈیتھ بن کے کہا ماں آگلی بات نہ کر سکی ۔وہ جانتی تھی اُس کی ماں کھبی بھی اُس کے باپ اور بھائیوں کو نہیں بتائیں گی ۔۔۔۔وہ خود اُس کو جانتا مرضی بے عزت کر لیں مگر وہ کسی اور کے سامنے اُس کی تذلیل کھبی نہیں کر سکتیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“ٹھیک ہے زرمینہ گل جاؤ مگر خیال رکھنا”
انہوں نے اِس انداز میں کہا جیسے سب کو لگے وہ اُس کی طبیعت کے سلسلے میں خیال رکھنے کا کہے رہی ہیں ۔۔۔۔۔مگر زرمینہ گل اُن کی آنکھوں کے اشارے سے سمجھ گئی تھی ۔۔وہ اُس کو کس چیز کا خیال رکھنے کا کہے رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“جی اماں میں بہت خیال رکھوں گی آپ پریشان نہ ہوں”
یہ کہتے ہوئے اُس کو اندر سے ایک تکلیف ہوئی ۔۔۔۔وہ کیسی بیٹی ہے ۔۔۔۔کیا ایسی ہوتی ہیں بیٹیاں ؟
۔
“اچھا اب چلو بھی لیٹ ہو رہا ہوں میں”
سلطان نے گھڑی کو دیکھتے ہوئے کہا اور اٹھنے لگا ۔۔۔۔۔وہ بھی بھائی کے پیچھے ایک دم اٹھی ۔۔۔۔وہ اِس وقت ماں کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔وہ اُن سے بچ کے جلد از جلد گیٹ سے باہر جانا چاہتی تھی
۔
۔
وہ جلدی جلدی اٹھی ۔۔۔۔چادر لی ۔۔۔۔۔بیگ پہنا ۔۔۔۔۔جیسے ہی وہ جا رہی تھی ماں نے اسے آواز دی ۔۔۔۔۔اُس کے آگے جاتے قدم ایک دم روکے۔ ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ یہ چادر مجھے دو “
انھوں نے اُس کے کندھے سے چادر اُتارتے ہوئے کہا ۔
“مگر اماں “
اُس کو لگا ،ماں اُس کے کندھے سے چادر نہیں اُتار رہی بلکہ اُس کو زمین میں اُتار رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“اب تمھیں اِس کی ضرورت نہیں رہی زرمینہ “
انھوں نے آنکھوں میں آنسوں لیے کہا ۔جیسے بیٹی کو بتا رہی ہوں ۔۔۔۔۔اُس نے کیا کیا ہے۔ اُس نے اپنے باپ کا غرور کیسے توڑا ہے ۔۔۔۔۔۔یہ چادر جب اوہنوں نے اُس کو اوڑاھی تھی ۔تو اُس کو کہا تھا اِس چادر کو چادر نہیں سمجھنا ۔۔۔اپنے بابا جان کی عزت سمجھنا ۔۔۔۔اُس نے ان کی دی ہوئی چادر کا بھرم نہیں رکھا ۔۔۔۔۔اُس چادر کا مان اُس نے توڑ دیا ۔۔۔اب اُس کا اِس چادر پہ کوئی حق نہیں تھا ۔۔۔۔۔
۔
“اماں نہیں کریں ایسا “
اُس نے روتے ہوئے کہا ۔۔۔۔جیسے اُس سے ماں آج سب سے قیمتی چیز لے رہی ہو ۔۔۔۔ایسی چیز جس کو پہن کے اُس کو ایک تحفظ ملتا ہے
۔
“میں نے نہیں زرمینہ گل یہ تم نے خود کیا ہے ۔۔۔۔تم نے کیا ہے یہ “
ماں نے ہاتھ میں چادر لیے روتے ہوئے کہا اور وہاں سے پلٹنے لگی ۔۔۔۔
۔
وہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔۔اُس کو بہت اچھے سے احساس ہوا ۔اُس نے اِس محبت کی خاطر کیا کھو دیا ہے ۔۔۔۔۔اُس نے اپنی عزت کھو دی۔ ۔۔ایک لڑکی کے پاس عزت ہی تو ہوتی ہے۔ وہی عزت اُس کا غرور ہوتا ہے ۔۔۔۔وہ عزت اُس کی چادر ہوتی ہے ۔۔۔۔۔آج اُس کی ماں نے اُس کو بہت اچھے سے سمجھا دیا تھا ۔۔۔۔ عزت اور ذلت کا فرق آج اُس کی بہت اچھے سے سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
اُس کا دل چاہ زمین پھٹے اور وہ اُس کے اندر اترے ۔۔۔۔۔اُس سے کیسی غلطی ہو گئی ہے۔ ۔۔۔۔جو آج اُس کے کندھے کی چادر بھی چھین لی گی ہے ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ اب چلو بھی “
سلطان نے گاڑی کا ہورن بھجاتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
وہ چونکی۔ ۔۔۔پیچھے مڑی ۔۔۔۔۔گیٹ کھولا اور باہر نکلی ۔۔۔۔آج پہلی بار وہ بغیر چادر کے گھر سے باہر نکلی تھی ۔۔۔۔۔
وہ عزتوں والی بغیر عزت لیے نکلی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیا تکلیف ہے تمھیں ۔کیوں نہیں آئی کل ؟ اگر نہیں مرنا ہوتا یونی تو بتا دیا کر نا ۔۔۔۔۔اور اوپر سے محترمہ کا موبائل بھی بند ہے جیسے بڑا کوئی یہ مصروف ہوں ۔۔۔۔۔”
فضہ نے گیٹ سے اُس کو آتا دیکھا اور جلدی جلدی اُس کے پاس گئی اور وہیں شروع ہو گئی ۔۔۔جیسے اب وہ اُس کا قتل ہی کر دے گی ۔۔۔۔
۔
“بکواس کر رہی ہوں میں کچھ …آگے سے اب کوئی بکواس کرو گی؟ “
اُس نے اُکتا جانے والے انداز میں اُس کو دیکھا جو اُس کو نظریں جھکائے بس سن رہی تھی ۔۔۔۔
۔
“سن رہی ہُوں”
جیسے ہی اُس نے سر اوپر کیا ، وہ جو کچھ وقت پہلے بول رہی تھی وہیں کی وہیں کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔۔اُس کی موٹی موٹی آنکھیں آج بلکل چھوٹی ہوئی وی تھیں ۔۔۔۔۔اُس کے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اُس کو صدیوں کا بیمار ٹھرا رہے تھے۔۔۔۔۔جیسے وہ ایک لمبی بیماری سے آٹھ کے اج آئی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“زری کیا ہوا ہے تمھیں؟”
اُس نے اُس کی آنکھوں کو بہت غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا ۔۔۔۔
۔
“کچھ نہیں “
“کچھ تو ہوا ہے ….یہ ایک دِن میں کیا حالت بنا لی ہے تم نے اپنی ۔۔۔۔۔؟”
“کچھ نہیں ہوا فضہ پریشان نہیں ہو میں ٹھیک ہوں “
“زری بتاؤ نا یار کیا ہوا ہے ۔۔۔ایسا لگتا ہے بہت روئی ہو تم…..جیسے اتنے عرصے سے سوئی نہیں ہو ۔ “
۔
“کچھ نہیں ہوا فضہ بس میں بیمار تھی۔ ۔۔۔تو تب ہی “
اُس نے جھکے سر کے ساتھ اُس کے سوالوں کے جواب دیئے جو کسی صورت مطمئن نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو پتا تھا کچھ تو ہے کچھ تو بہت غلط ہوا ہے۔ ۔۔۔۔مگر وہ حیران تھی اُس لڑکی پہ جو اُس کو اپنی سانسوں کی تعداد بھی بتایا کرتی تھی ۔آج وہ اُس سے چھپا رہی ہے ۔۔۔۔مگر کیا ؟ اور کیوں؟
۔
وہ ایسی ہی تھی ۔۔۔۔محبت کو چھپا کے رکھنے والی ۔۔۔۔۔وہ چھپی محبت کرتی تھی ۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کا نام بھی لے جس کو دیکھنے کے لیے وہ باوضو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی کوئی اُس کی محبت کی بات بھی کرے ۔۔۔۔وہ اُس کو اپنے دل میں چھپا کے رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔اپنی آنکھوں میں قید کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔۔
۔
“ایک دن میں اتنی بیمار ہو گئی کہ ایسی حالت ہو گئی؟ “
۔
“ارے پگلی نہیں پریشان ہو نا میں ٹھیک ہوں ۔چلو اب یہاں سے “
اُس نے ہستے ہوئے بات ٹالی اور آگے آگے چلنے لگی ۔۔۔۔۔تاکہ وہ مزید سوالوں سے بچ سکے۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔وہ آج اتنے دنوں کے بعد لائبریری آئی تھی ۔۔ ہر کوئی اُس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اُس کی آنکھوں کے بگڑے زاویے پہ ہر کوئی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔اور اُس کے زیر بحث ہونے کی آج سب سے بڑی وجہ اُس کا آج بغیر چادر کے ہونا تھا۔ ۔۔۔۔وہ پچھلے دو گھنٹوں سے لائبریری میں چھپ کے بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی کوئی اُس کو دیکھے۔ ۔۔۔۔اُس سے پوچھے زرمینہ گل آج چادر کدھر ہے۔۔۔۔۔۔
۔
آج وہ بہت ازیت میں بہت درد میں تھی۔ ۔۔۔۔اُس کی ماں نے آج اُس کو عزت اور ذلت میں فرق سمجھایا تھا ۔۔۔۔اُس کو بتایا تھا عزت کے ساتھ اور عزت کے بغیر ایک لڑکی کا کیا مقام ہوتا ہے۔۔۔۔۔انھوں نے جب اُس کو چادر اوڑھای تھی تو بولا تھا اس عزت کی حفاظت کرنا ۔۔۔۔۔۔مگر وہ ناکام رہی۔ ۔اُس نے عزت کی حفاظت نہیں کی ۔۔۔۔۔تو اُس سے چادر چھین لی گئی۔۔۔۔۔۔
۔ ۔
۔
وہ اپنے سامنے فاروق اعظم حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کی کتاب کھولے سوچوں میں غرق ہوئے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اچانک اُس کو ایک آواز آئی ۔۔۔۔۔اُس کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹا اور وہ پیچھے مڑی ۔۔۔۔
۔
“اسلام علیکم زرمینہ گل”
“کیسی ہیں آپ ؟ “
اُس نے اپنے سامنے کھڑی اُس لڑکی کو دیکھا جو کالا عبایا پہنے اور اُس کے اوپر کالا ہی حجاب لیے ہوئے تھی ۔۔۔۔ اُس کی آنکھوں کی چمک سے واضع اندازہ ہو رہا تھا وہ مُسکرا رہی ہے ۔۔۔۔
۔
“وعلیکم السلام ۔۔۔میں ٹھیک ہوں عائشہ ۔۔۔۔ “
اُس نے اُس کے سلام کے جواب دیا اور نیچے دیکھنے لگ گئی۔ جیسے وہ نہ چاہتی ہو کہ وہ اُس کے پاس بیٹھے ۔۔۔۔۔اُس سے اُسکی آنکھوں کا حال پوچھے ۔۔۔۔اُس سے اُسکی چادر کا پوچھے ۔۔۔۔۔
۔
ارے آپ آج فاروق اعظم حضرت عمر فاروق کو پڑھ رہی ہیں۔۔۔۔۔اُس نے اُس کی کتاب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔اُس نے تو دیکھا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔۔وہ کون سی کتاب لیے بیٹھی ہے۔ ۔۔۔۔۔
۔
وہ اُس کے پاس کُرسی پہ بیٹھی ۔۔۔۔ اور اپنے مخصوص انداز میں بولنے لگی۔ ۔۔جس کو سن کے ہر کوئی اُس کے سحر میں کھو جائے۔ ۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ مجھے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اہلِ بیت کے بعد اگر کسی سے عشق ہے تو وہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق سے ہے ۔۔۔۔۔۔مجھے کچھ الگ طرح کی ہی محبت ہے اُن سے ۔۔۔۔
۔
وہ آنکھوں کو کتاب پہ رکھے ۔۔۔ایک مسکراہٹ کے ساتھ بولے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔اُس کو سن کے وہ اپنے کچھ وقت پہلے کا درد بھول چکی تھی ۔۔۔۔۔اور اُس کی باتوں میں کھونے لگی ۔۔۔۔
۔
“کیوں آپ کو اُن سے اتنی محبت کیوں ہے ؟”.
اُس نے اُس کی اس قدر شدید محبت دیکھ کے اُس سے ایک بچگانہ سا سوال پوچھا ۔۔۔۔۔اور خود ہی محفوظ ہوئی اُس نے کیسا سوال پوچھ لیا ۔۔۔۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ سے محبت تو اُس کو بھی بہت ہے ۔۔۔۔پھر اُس نے ایسا سوال کیوں پوچھا ۔۔۔۔۔؟
۔
وہ اُس کے سوال پے مسکرائی ۔۔۔۔۔اور اُس کی طرف دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
زرمینہ تمھیں پتا ہے عمر کون ہے؟ وہ میرے نبی کریم کی مانگی ہوئی دعا ہے ۔۔۔۔۔وہ نبی جو محبوب ہے خدا کا ۔۔۔۔۔اُس نے عمر کے مسلمان ہونے کے لیے دعا مانگی ۔۔۔۔۔اور جب فاروق اعظم حضرت عمر فاروق مسلمان ہوئے تو اسلام پوری دنیا میں پھیلا۔۔۔۔۔تم نے وہ واقع نہیں سنا زرمینہ ۔۔۔جب فاروق اعظم مسلمان ہوئے تو اُن کی وجہ سے سرے عام ازان ہوئی ۔۔۔۔۔
وہ محبت اور عقیدت سے بولتی چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔اور سامنے بیٹھی ہوئی لڑکی اُس کو محبت سے سنے جا رہی تھی ۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ مجھے عشق ہے اُس دِن سے جب حضرت عمر مسلمان ہوئے۔۔۔۔۔پتا ہے جب
حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوۓ نماز کا وقت ہوا تو حضور ﷺ نے فرمایا صحابہ تیاری کرو نماز کی، حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پوچھا.. حضور نماز کہاں پڑھیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کسی کونے میں چھپ کے پڑھتے ہیں، عمر فاروق نے کہا حضور آپ کے قدموں پہ میرے ماں باپ قربان، آگر اب بھی چھپ کے نماز پڑھیں تو عمر کے مسلمان ہونے کا کیا فائدہ ؟ عمر فاروق نے کہا حضور آج نماز کعبتہ اللہ میں پڑھیں گے. حضور ﷺنے فرمایا عمر کفار کا بڑا غلبہ ہے ۔
واہ..! میرے خدا، عمر فاروق گھوڑے پے سوار ہوۓ مکہ کے چوکوں پے جا کر.. گلیوں میں جا کر.. اپنے گھوڑے پے سوار ہو کر.. چلتے ہوۓ یہ اعلان کیا کہ مکے والو..! آجاؤ.. آج میں کلمہ پڑھ کے محمّد مصطفیٰ ﷺ کا غلام بن کر آیا ہوں، آج ہم کعبتہ اللہ میں نماز پڑھنے جارہے ہیں، اگر کسی نے اپنی بیویاں بیواہ کروانی ہوں اگر کسی نے اپنے بچے یتیم کروانے ہوں تو آجاۓ عمر کے راستے کو روک کر دکھا دے۔
خدا کی قسم جب عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلمان ہوۓ تو مکے کے کافروں نے گلیوں میں نکل کر ماتم کیا کے ہاۓ آج آدھا مکہ ہم سے چھینا گیا ۔ عمر فاروق واپس آئے حضور ﷺ سے کہا اے میرے حضور..!! آپ آگے چلیں میں آپ کے پیچھے چلتا ہوں بیت اللہ میں نماز پڑھیں گے، میں دیکھتا ہوں کس کافر کی جرات ہوتی ہے جو ہمارا راستہ روکے. با سلامت بیت اللہ کے دروازے پر پہنچے جب بیت اللہ کا دروازہ کھلا تو میرے نبی ﷺ نے خوشی میں نعرہ تکبیر خود بلند کیا،، اللہ اکبر کی صدا مکے میں پہلی بار یوں گونجی کے کفر کے کوٹ بھی گر پڑے بیت اللہ کو بتوں سے پاک کیا اور مسلمانوں نے کھلے عام عبادت کی، اسلام کو طاقت ملی ۔ اور جب میرے نبی نے مکہ سے ہجرت کی اس وقت بھی عمر فاروق نے انوکھی ہجرت کی سب سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا پھر گھوڑے پے سوار ہوۓ اور مکے کی گلیوں میں اعلان کیا کے آج میں ہجرت کر کے جارہا ہوں مدینہ اپنے محبوب محمّد مصطفیٰ ﷺ کے پاس اگر کسی کافر میں جرات ہے تو عمر کے راستے کو روکے ۔
۔
ہائے یہ عمر ۔۔۔۔۔زرمینہ ہم تو عاشق ہیں ہی نہیں عشق تو میرے آقا کے صحابہ کرام نے اُن سے کیا ہے ۔۔۔۔ایسا عشق کیا کے دنیا میں یاد رکھئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور فاروق اعظم کی شان تو دیکھو ۔۔۔۔۔آج بھی وہ آقا جان کے مبارک قدموں میں سوئے ہوئے ہیں ۔۔۔۔۔۔ قیامت تک جو بھی کوئی حضورِ اقدس کے پاس حاضری دینے جائے گا۔ ۔۔۔ابو بکر اور عمر کو سلام کرے گا ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔اور فاروق اعظم کی شان کو دیکھو ۔۔۔شہادت بھی پائی تو اسلامی مہینے کے پہلے ہی دن۔ یعنی یکم محرم الحرام کو ۔۔۔۔۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر فاروق اعظم کے بارے میں خود فرمایا “اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وُہ عمر ہوتا “
۔۔
وہ ایک سرور میں بولتی چلی جا رہی تھی اور وہ اُسی سرور میں اُس کو سن رہی تھی ۔۔۔
۔
وہ جو ایک نامحرم کی محبت میں رو رہی تھی ۔۔۔۔۔اِس وقت وہ اُس کو بھول گئی تھی ۔۔۔۔اِس وقت وہ عمر کے سحر میں تھی ۔۔۔۔جس کے زبان پہ خدا نے حق جاری کیا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ جہاں سے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ گزرتے نا وہاں شیطان اپنا راستہ چھوڑ دیتا ۔۔۔۔۔وہ ہٹ جاتا ۔۔۔۔۔یہ وہ انسان ہے جس نے ۲۲ لکھ مربع میل پے اسلام کا پرچم لہرایا ۔۔۔۔۔پتا ہے کفار اتنا خوفزدہ تھے کے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے اسلام کیوں قبول کر لیا ۔۔۔۔۔۔۔
کفار نے تو یہاں تک کہا ۔۔۔۔۔کے اگر عمر فاروق رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ دس برس اور حکومت کرتے تو پوری دنیا میں آقا جان علیہ السلام کا حکم صادر کر دیتے ۔۔۔۔۔
۔
اور پتا ہے زرمینہ اُن کو اتنی عزت یہ مقام کس سے ملا اقا جان علیہ السّلام سے ۔۔۔۔۔بہت سے لوگ فاروق اعظم سے بغض رکھتے ہیں۔۔۔۔مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے مسلمان ہوتے ہوئے بھی وہ عمر کو نہیں مانتے ۔۔۔۔آخر کیوں کیوں نہیں مانتے وہ عمر کو ۔۔۔۔وہ کیوں نہیں سوچتے کے عمر آقا کی مانگی ہوئی دعا ہیں ۔۔۔۔۔وہ کیوں نہیں سوچتے عمر کی وجہ سے اسلام کھول کے سامنے آیا ۔۔۔۔وہ کیوں اپنی ہی بات کرتے ہیں ۔کیوں وہ اپنی ہی انا کی مستی میں جھول رہے ہیں۔ ۔۔۔۔۔کیوں وہ عمر کو اہلِ بیت کا دشمن مانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ تو وہ امیر المومنین ہے جو شہزادوں کے آنے پہ کھڑا ہو جاتا تھا ۔۔۔۔جو علی کو اپنا مولا کہتا ۔۔۔۔۔پھر کیوں عمر سے حسد رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ بولتے بولتے نیچے ہوئی ۔جیسے بہت تھک گی ہو ۔۔۔۔۔جیسے اب اُس کے بولنے کی سکت نے جواب دے دیا ہو ۔۔۔۔۔وہ اپنی محبت کا اظہار ایک جلال میں کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“اللہ جی میں اِن لوگوں کی طرح محبت کا اظہار کیوں نہیں کر سکتی ؟”
علی والے اُن کی محبت کا اظہار نعرہ لگا لگا کے کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آج یہ فاروق اعظم کے لیے جب بول رہی تھی تو آج جلال میں بولے چلی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ تو آقا جان علیہ السلام کی محبت کو بھی اپنے سینے میں رکھتی ہے ۔۔وہ کسی کو نہیں بتاتی اُن سے کیسی محبت ہے اسکو ۔۔۔وہ اپنی محبت کا اظہار بس آقا سے کرتی ہے۔ ہر وقت اُن پہ درود پاک کا نذرانہ عقیدت محبت سے بجھتی ۔۔۔۔۔۔مگر وہ ان لوگوں کی طرح کیوں نہیں بتاتی سب کو شاید اُس کی محبت ہی ایسی تھی ۔۔۔بس جس سے محبت ہو تو محبوب کو ہی پتا ہو ۔۔۔۔۔۔محبوب کو رو رو کے بتاؤ ہاں مجھے محبت ہے آپ سے ۔۔۔۔ایسے بتاؤ کے محبوب کو آپ کے اشکوں سے محبت کا اندازہ ہو ۔۔۔۔آپ کے عمل سے محبت کا اندازہ ہو ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ کیا سوچ رہی ہیں آپ ؟ “
اُس نے اُس کو گہری سوچ میں پڑتا ہوا دیکھا ۔۔۔۔
۔
“کیا محبت میں اظہار بہت ضروری ہوتا ہے؟ “
اُس نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو کب سے محبت میں بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔عمر سے اظہارِ عشق کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ ہر ایک کا محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔کوئی محبت میں بولتے ہیں اور کوئی محبت میں خاموش ہو جاتے ہیں “
ہر کوئی اپنے اپنے انداز سے محبت کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔جو لوگ محبت میں بولتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں جو خاموش ہیں تو وہ محبت نہیں کرتے۔ ۔۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔محبت کے تو بہت سارے رنگ ہیں اور ہر رنگ کا اپنا ہی ایک الگ رنگ ہے ۔۔۔۔
لیکن زرمینہ محبت میں اظہار بھی بہت ضروری ہوتا ہے محبوب کو پتا بھی تو چلے نا ہم اُس سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ضروری نہیں ہم وہ محبت دنیا کو بتائیں ۔۔۔۔مگر محبوب کو تو پتا ہو نا۔ ۔۔۔۔
۔
“اگر ہمیں کسی نا محرم سے محبت ہو جائے تو۔۔۔۔۔۔”.
اُس نے دبھی آواز میں بس اتنا ہی پوچھا۔۔۔۔ سر کو جھکا کے پھر خاموش ہو گئی۔ ۔۔۔
۔
زرمینہ محبت کوئی گناہ نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔بس محبت کی شرط نکاح ہے ۔۔۔۔۔۔محبت اماں خدیجہ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ کو بھی آقا جان سے ہوئی تھی ۔۔۔اور انہوں نے فوراً نکاح کا پیغام بھیجا ۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ ایک نامحرم سے کتنی بھی پاک محبت کیوں نہ ہو اگر آپ کی منزل نکاح نہیں تو وہ رشتہ حرام ہے ۔۔۔۔۔۔وہ اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہے ۔۔۔۔محبت تو ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔لیکن جب محبت ہو تو نکاح کرو۔ ۔۔۔اگر وہ محبت نکاح تک نہیں جا سکتی تو خاموش ہو جاؤ ۔۔۔اور معجزے کا انتظار کرو ۔۔۔۔۔اگر وہ آپ کے نصیب میں ہے تو آپ کو ضرور ملے گا ۔۔۔۔۔۔سالوں بعد ہی کیوں نہ ملے وہ آپکو مل کے رہے گا ۔۔۔۔۔”
۔
“اگر اُس سے نکاح کسی طرح ممکن نہ ہو تو پھر؟”
زرمینہ پھر دعا کرو اللہ آپ کو اُس کے نصیب میں لکھ لے ۔یہ جو دعا ہوتی ہے نا نصیب بس یہی بدلتی ہے ۔۔۔۔۔اور دعا کے باوجود وہ آپکو نا ملے نا تو سمجھ جاؤ وہ آپ کا ہے ہی نہیں جو آپ کو نہیں ملا ….
۔
وہ پیار سے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔۔اور وہ سنے جا رہی تھی ۔۔۔جس نے محبت کو اپنے سینے میں دفن کیا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
Episode 30
“عائشہ اگر ہم چاہتے ہوئے بھی کسی نا محرم کی محبت کو اپنے دل سے نہ نکال پائیں تو ؟ جب کے ہمیں پتا بھی ہو وہ ہمیں نہیں مل سکتا “
۔
وہ لائبریری میں نظریں جھکائے سامنے بیٹھی لڑکی سے پوچھ رہی تھی۔ ۔۔۔۔جو اُس کو ایک فرشتے سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ جس کی قُربت اُس کو ہمیشہ سکون دیتی تھی ۔۔۔۔
۔
زرمینہ کچھ رشتوں کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔وہ صرف ہمارے لیے ایک آزمائش بن کے آتے ہیں ۔۔۔۔۔ایسی آزمائش جس میں ہم بے اختیار ہو جاتے ہیں ۔۔۔ہمیں پتا ہی نہیں چلتا کیا ہو رہا ہے ۔۔۔ہمارا دل دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ۔۔۔۔۔ہم سمندر کی لہروں کی طرح پانی کے بھاؤ کی طرح بہتے چلے جاتے ہیں ۔۔۔۔ہمیں پتا ہی نہیں چلتا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے کیوں ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔۔اور اِن کچھ رشتوں کی آزمائش تو پھر بھی قابلِ برداشت ہوتی ہے ۔۔۔۔مگر یہ جو نا محرم سے محبت کی آزمائش ہوتی ہے نا ۔۔۔۔۔یہ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتی۔ ۔۔۔۔ہم اپنے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ ۔۔۔۔ہمارا جو دل ہے نا یہ کم بخت دل اِس کو محبت چائیے ہی چائیے ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔کوئی کہے کے اُس کا دل محبت نہیں مانگتا ۔۔ اُس کے دل کو محبت کی طلب نہیں۔ تو میں اُس کو اس جہاں کا سمجھوں گی ہی نہیں ۔۔
پتا ہے زرمینہ ہر دل کو محبت کی طلب ہوتی ہے۔ ۔۔۔ہر دل کو محبت ہوتی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔اب محبت تو ہونی ہی ہے تو کیوں نا ہم اپنے دل کی لو اُس ہستی سے لگا لیں ۔۔۔جس کی محبت ہمیں فیض دیتی ہے۔ ۔۔۔ہمیں دنیا میں ایک عزت دیتی ہے ۔۔۔۔۔۔جس کی محبت ہمیں کھبی ذلیل نہیں کرتی۔ کھبی رسواء نہیں کرتی ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ یہ جو دنیا کی محبت ہوتی ہے نا ایک نا محرم کی محبت یہ ہمیں ذلیل کرتی ہے ۔ہمارے ہاتھ ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا ۔۔۔۔۔۔اور یہی محبت ہمیں دنیا میں رُسوا کر کے خود پیچھے رہ جاتی ہے۔ ۔۔۔۔ہمیں دنیا کا سامنا کرنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتی ہے ۔۔۔۔۔پتا ہے زرمینہ محبت میں رُسوا ہوئے لوگوں کو تو اپنے سگے رشتے بھی قبول نہیں کرتے۔ ۔۔۔۔۔۔
۔
وہ بول رہی تھی ایک دھن میں ایک طرز میں ۔۔۔۔۔۔اور وہ جو بغیر چادر کے حجاب لیے اُس کے سامنے بیٹھی تھی۔ ۔۔۔۔اُس کو بہت اچھے سے ذلیل ہونا سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔۔محبت کے ہاتھوں اپنے ہی رشتوں سے ٹھکرایا جانا سمجھ آ گیا تھا ۔۔۔اُس کو اس کی ماں نے عزت کی خاطر ٹھکرا دیا تھا۔ ۔۔۔۔جس نے اُس جو جنم دیا تھا ۔۔۔۔۔اُس کی پیدائش پہ دگیں چڑھائی تھیں۔ ۔۔۔۔آج اُس ماں نے اُس سے چادر لے لی تھی ۔۔۔۔اُس کو اُس گناہ کی سزا دی تھی ۔۔جس کا اُس نے اعتراف ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ گناہ جس کو اُس نے اپنی زبان سے قبول ہی نہیں لیا تھا ۔۔۔۔۔
۔
پتا ہے زرمینہ یہ جو محبت والے ہوتے ہیں نا ۔۔۔۔جب اِن کو انکا محبوب میسر ہوتا ہے ۔۔۔۔یہ دنیا کو بھول جاتے ہیں ۔۔۔۔۔اِن کی دنیا بس اُس ایک شخص سے ہی شروع ہوتی ہے اور اُسی پہ ختم ہوتی ہے ۔۔۔۔۔محبوب کی قربت اُن کو ساتویں آسمان تک لے جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ زمین پہ رہ کے زمین والوں کو کچھ نہیں سمجھتے۔۔۔۔۔۔محبوب کا نام بھی کسی سے سُن لیں تو اُسکا قتل خود پہ واجب سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔اُنکی انا کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔اُن کا غصّہ اُن کی کمزوری بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ محبوب کا نام کسی اور کے منہ سے سن کے اپنی عقل کھو بیٹھتے ہیں ۔۔۔۔۔اپنے غصے کو خود پہ غالب کر لیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔یہ جو محبت والے ہوتے ہیں نا یہ بہت خر دماغ ہوتے ہیں ۔۔۔۔محبوب کے سواء کسی کو مانتے ہی نہیں ہیں ۔۔۔۔۔
۔
اور پھر یہی لوگ جب محبت میں ہار جاتے ہیں نا تو سب سے پہلے ان کا غرور ٹوٹتا ہے ۔۔۔اِن کی انا کا قتل ہوتا ہے ۔۔۔۔۔وہ جو دنیا میں سر اٹھا کے چلتے ہیں محبت میں ہار جانے کے بعد خود کو زمین دوش کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔کھبی دیکھا ہے تم نے محبت میں ہارنے والوں کو ؟ اُن سے زیادہ خوش اخلاق اور عاجز کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔وہ جو دنیا کو جوتی کی نوک پہ رکھ کے چلتے ہیں محبت میں ہارنے کے بعد مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتے ہیں۔۔۔۔پھر اُن کو غصّہ نہیں آتا ۔۔۔۔۔پھر وہ زمین والوں میں رہ کے خود کو زمین کے ایک کونے میں قید کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔خود کو تنہائی کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ۔۔۔۔اپنے ہی دل کی دنیا خود پہ تنگ کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
۔
“یہ عاشق بھی کچھ عجیب سی مٹی کی پیداوار ہے ۔جب محبت پاس ہے تو آسمانوں کی بلندیوں پے ہوتے ہیں ۔اور جب اُسی محبوب کے ہاتھوں ہارتے ہیں تو خود کو زمین کی گہرائیوں کے حوالے کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔”
۔
“کیا محبت کرنا اتنا بڑا جرم ہے ؟”
اُس نے کھوئے کھوئے ذہن کے ساتھ اُس کی آنکھوں میں دیکھ کے پوچھا ۔۔۔۔
کون کہتا ہے محبت کوئی جرم ہے ؟ محبت بلکل بھی جرم نہیں ہے۔ محبت بس آزمائش ہے۔ ۔۔۔میں نے آپکو بتایا نا زرمینہ کیسی آزمائش ہے یہ محبت۔ ۔۔۔۔بس اتنا کہوں گی اگر یہ آزمائش حد سے تجاوز کر جائے تو محبت سے دسبردار ہونا ہی بہتر ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔اُس محبت سے کنارہ کشی ہی ہماری ذات اور ہماری ذات سے جڑے لوگوں کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ ۔۔۔۔
۔
“یہ دل کب کس کو سنا ہے “
اُس نے اہستہ سے کہا ۔۔۔۔جو سامنے بیٹھی لڑکی کو وضع سنائی دیا ۔۔۔
۔
“زرمینہ ہم اسی دل کے ہاتھوں ، اپنا پورا وجود ذلیل کرواتے ہیں ۔۔۔۔یہ جو دل ہوتا ہے نا ہمیں یہی رُسوا کرواتا ہے ۔۔۔۔”
۔
“بس اللہ سے دعا کیا کریں ، اللہ ہمارے دل کی بنجر زمین میں اپنی محبت کی ہریالی کرے ۔۔۔۔ہمارے دل کو اپنا نور بخشے”
۔
“دیکھیں نا ہم حضرت عمر کی محبت میں بات کرتے کرتے کہاں سے کہاں نکل گے “
اُس نے مسکراتے ہوئے اُس کو دیکھا جو چہرے پہ بغیر کسی تاثر کے اُس کو بس سن رہی تھی۔۔۔۔۔
۔
“عائشہ آپ نے کہا کے مسلمان بھی حضرت عمر فاروق سے حسد رکھتے ہیں ۔۔۔۔کیا کوئی مسلمان صحابہ کرام سے حسد کر سکتا ہے اُن سے بُغض رکھ سکتا اور اُن صحابہ کرام سے جو خلفاء راشدین ہوں ۔۔۔۔۔اپنے وقت کے خلیفہ ہوں “
۔
حضرت عمر کے نام پہ اُس کو پھر سے اُس کی کہی ہوئی پہلی بات یاد آئی ۔۔۔۔۔۔
۔
زرمینہ یہ جو لوگ عمر کو نہیں مانتے نا مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔ یہ کیوں نہیں مانتے ۔۔۔۔کیا یہ اپنے ایمان کو سرکار پاک کے عاشقوں کو نہ مان کے تکمیل تک پہنچا سکیں گے؟ ۔۔۔۔۔۔یہ کس عمر کو ماننے سے انکار کرتے ہیں جو بات کرتا تھا تو اللہ رب العزت آسمان سے آیات اُترتا تھا ۔۔۔اُس کی کہی ہوئی بات آیت بن کے اُترتی تھی ۔۔۔
۔
جب آپ رضی اللہ تعالٰیٰ عنہ نے فرمایا : “اسلام کا پہلا معرکہ بدر ہے لہذا مدینہ سے باہر نکالا جائے”
آپ کی اِس بات پہ اللہ رب العالمین نے ایک دم سورۃ انفال کی آیت نمبر ۵ اُتاری
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَمَاۤ اَخۡرَجَكَ رَبُّكَ مِنۡۢ بَيۡتِكَ بِالۡحَـقِّۖ وَاِنَّ فَرِيۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ لَـكٰرِهُوۡنَۙ
ترجمہ:
(اِس مال غنیمت کے معاملہ میں بھی ویسی ہی صورت پیش آ رہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ) تیرا رب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا
۔
القرآن – سورۃ نمبر 8 الأنفال – آیت نمبر 5
۔۔۔
اور جب فاروق اعظم نے فرمایا ۔۔
” ازواج مطہرات کو پردہ کرنا چاہئے “
۔
تو آسمانوں اور زمینوں کے مالک نے عمر کی بات پہ سورۃ الاحزاب کی آیات نمبر ۵۹ اُتاری
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزۡوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ يُدۡنِيۡنَ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ جَلَابِيۡبِهِنَّ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَنۡ يُّعۡرَفۡنَ فَلَا يُؤۡذَيۡنَ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوۡرًا رَّحِيۡمًا
ترجمہ:
اے نبیؐ، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔۔۔۔
۔القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب – آیت نمبر 59
“اتنا ہی نہیں زرمینہ ایسی لاتعداد باتیں ہیں جو عمر کے منہ سے نکلیں اور آیت بنا کے خدا پاک نے کتاب اقدس میں محفوظ کیں ۔۔۔۔ “
۔
ایک جگہ پہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : “منافقین کی نمازِ جنازہ نا پڑھی جائے”
تو آسمان سے آواز آئی (آیات اُتری)
۔
أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَهُمۡ سَبۡعِيۡنَ مَرَّةً فَلَنۡ يَّغۡفِرَ اللّٰهُ لَهُمۡؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمۡ كَفَرُوۡا بِاللّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖؕ وَاللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِيۡنَ
ترجمہ:
اے نبیؐ، تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو، اگر تم ستر مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہرگز معاف نہ کرے گا اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھاتا
۔القرآن – سورۃ نمبر 9 التوبة – آیت نمبر 80
“مجھے نہیں سمجھ آتی زرمینہ عمر کے منہ سے بات نکلتی تھی اور خدا پاک اُس کو وحی بنا دیتا تھا ۔۔۔۔۔اور یہ لوگ اُس عمر سے بغض رکھتے ہیں؟ ۔”
۔
“یہ جو لوگ گھر والا اور در والا کہتے ہیں تو اِس کا مطلب یہی ہوا نا اہل بیت کے علاوہ کسی کو نہ مانا جائے۔۔۔؟ کیا ان لوگوں کو نہ مان کے ہم خود کو مسلمان کہے سکتے ہیں ۔کیا ہم خود کو مومن کہے سکتے ہیں؟ “
۔
اہلِ بیت کی محبت اپنی جگہ ہے ان کی محبت جتنی محبت ہم چاہ کے بھی کسی سے نہیں کر سکتے ۔۔۔۔تو کیا ہم اُنکی محبت میں اس قدر گم ہو جائیں کے اقا جان کے جان نشین ساتھیوں کو اُن کے دوستوں کو ہی در والا بنا دیں؟
۔
مجھے ان لوگوں کی ایسی باتوں سے مولا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول یاد اتا ہے۔ جو انھوں نے فرمایا تھا ۔۔۔۔۔
“میرے بارے میں دو (قسم کے) شخص ہلاک ہو جائیں گے:
(۱): غالی (اوپر محبت میں ناجائز ) افراط کرنے والا، اور (۲): بغض کرنے والا حجت باز“
(فضائل الصحابۃ للامام احمد ۵۷۱/۲ ح۹۶۴ إسنادہ حسن الحدیث: ۴ص۱۵)
۔
ایک اور جگہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا !
۔
“ایک قوم (لوگوں کی جماعت) میرے ساتھ (اندھا دھند) محبت کرے گی حتیٰ کہ وہ میری (افراط والی) محبت کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہوگی اور ایک قوم میرے ساتھ بغض رکھے گی حتیٰ کہ وہ میرے بغض کی وجہ سے (جہنم کی) آگ میں داخل ہو گی“
(فضائل الصحابۃ ۵۶۵/۲ وإسنادہ صحیح، و کتاب السنۃ لابن ابی عاصم
۔
“بس یہیں سے ہمیں اندازہ ہو جانا چاہیے ۔۔۔جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نہیں مانتے اُن سے بغض رکھتے ہیں اُن کا مقام کیا ہے “
۔
“واللہ عالم “کون حق پہ ہے ۔۔۔۔کوئی صحیح ہے کون غلط ہے ۔۔۔۔”بس اتنا ہی کھوں گی اللہ پاک ہر ایک کو حق پہ چلنے کی توفیق دے ۔۔۔۔جو حق ہے وہ ہمیں مل جائے آمین ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایک خوبصورت انداز میں بول رہی تھی ۔۔۔۔اُس کو ہمیشہ سے اُس کے بولنے کا انداز اچھا لگتا تھا۔ اُس کی باتیں ہمیشہ اُس کے دل میں اترتی تھیں ۔۔۔۔۔
۔
“عائشہ میرا ماننا یہ ہے کہ دین اتنا مشکل نہیں ہے ۔جتنا ہم لوگوں نے آگے سے بنا رکھا ہے ۔۔۔۔ہم کیوں پڑیں اِن فرقوں کے چکروں میں ۔۔۔۔۔جب کے قرآن پاک میں سب کچھ مجود ہے ۔۔۔۔مجھے نہیں سمجھ آتی ہر کوئی قرآن پاک صرف اپنی بات ثابت کرنے کے لیے کیوں کھولتا ہے۔۔۔۔۔قرآن پاک کو صرف اپنے حق میں دلیلوں کے لیے کیوں دیکھتا ہے ۔۔۔۔۔۔اور اپنے مطلب کی دلیلیں ڈھونڈ کے خود بھی گمراہ ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی کرتا ہے۔ ۔
۔
کس نے کہا ہے آپ صحابہ کرام کو نہ مانو؟ کیا آپ صحابہ کو نہیں مانو گے تو اہلِ بیت سے ایسے آپ کی محبت ثابت ہو جائے گی ؟ اہلِ بیت سے محبت تو ایمان کی بنیاد ہے ۔۔۔۔۔۔ایمان کا ستون اُن کی محبت سے پروان چڑھتا ہے ۔۔۔۔جن کے دل میں میرے آقا کریم کی اولاد کی محبت نہیں میں تو اُس کو مسلمان ہی نہیں مانتی ۔۔۔۔ میں تو اُن کو سرے عام کافر کہتی ھوں ۔۔۔۔۔میں اُن پہ سرے عام لعنت بجتی ہُوں ۔۔۔۔۔
۔
لیکن یہ جو لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو در والا کہتے ہیں تو یہ غلطی پہ ہیں ۔۔۔بہت بڑی غلطی پہ ہیں ۔۔۔۔
اگر وہ در والے ہوتے تو گھر والے کھبی نا بنتے ۔۔۔۔جن کو بیٹیاں دی جاتی ہیں ۔وہ گھر والے ہوتے ہیں ۔۔۔در والے نہیں “
۔
“بیشک زرمینہ آپ بلکل ٹھیک کہے رہی ہیں۔۔۔بس خدا پاک مجھ سمیت ہر ایک پہ اپنا کرم کرے اپنا رحم کرے امین “
۔
“آمین آمین ۔۔۔آپ سے بات کر کے ہمیشہ میری روح کو سکون ملتا ہے عائشہ ۔۔۔۔میرا اللہ آپکو بہت خوش رکھے امین “
۔
وہ مسکراتے ہوئے اُس کا شکریہ ادا کرنے لگی جس سے بات کر کے وہ اپنے ہر دُکھ ہر درد بھول گئی تھی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
“فضہ خیر تو ہے آج آپ کی دوست سب سے چھپی ہوئی کہاں بیٹھی ہے؟ “
۔
ہانیہ نے اپنی کرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے دور سے کہا ۔۔۔۔
۔
“اُس کو چھپ کے بیٹھنے کی کیا ضرورت ہے ہانیہ صاحبہ ؟”
فضہ نے بھی اسی انداز میں پنسل کو منہ میں پکڑے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگاتے ہوئے اُس سے بولا۔۔۔۔
۔
“آپ تو برا ہی منا گئیں ہیں ، میں تو ایسے ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔کب سے وہ نظر نہیں آئیں ۔۔”
اُس نے کُرسی کے ساتھ ٹیک لگائے پاؤں سامنے والی کرسی پہ رکھے اُسی طنزیہ انداز میں کہا!!!
۔
“آپ کو فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے محترمہ ۔۔۔۔آپ خود پہ اور اپنے کام پہ دھیان دیں”
اب کی بار اُس کا لہجہ اور انداز ایسا تھا کے ہانیہ کو بہت اچھی طرح سمجھ آ گئی وہ کیا کہنا چاہتی ہے ۔۔۔
۔
“میں خود پہ بھی بہت اچھے سے دھیان دیتی ہُوں اور اپنے کام پے بھی تمھیں مجھے بتانے کی کوئی ضرورت نہیں “
اب کی بار اُس کو تیش آیا اور اُس نے ٹیک ہٹائی اور آگے ہو کے بیٹھی ۔۔۔۔۔
۔
“اسی طرح آپ کو بھی زرمینہ کا پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں “
اُس نے اُسی انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ اور سامنے والی کی خاموش چیخیں نکلنے لگیں ۔۔۔
۔”ارے ہانیہ جی کھبی ہمارا بھی پوچھ لیا کریں “
۔دور بیٹھے مدثر نے شرارتی سے انداز میں اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
۔
“آپ کو لازمی ہوتا ہے اپنی بکواس کرنا “
“سنیں تو سہی آپ ہم تو آپ کے لیے پھول برساتے ہیں ۔۔۔مگر آپ سنتی ہی نہیں ہیں “
“یہ جو آپ میرے لیے پھول برسا رہے ہیں نا یہ کہیں اور جا کے برسائیں “
۔
“لیکن ہانیہ جی “
پتا نہیں کدھر پھس گی میں اِن جاہلوں میں ۔۔۔۔
اُس نے اپنے کندھے سے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
۔
“جدھر بھی پھسی ہو نا ہانیہ علاج ہے تمھارا “
فضہ نے اُس کو مدثر کے ساتھ اُلجھے دیکھ کے اپنے دل میں کہا ۔۔۔۔
۔
“تم دفاع ہوتے ہو اِدھر سے یا میں ہو جاؤں؟”
“ہائے ہانیہ جی ہم تو آپ کے دیدار کے لیے یہاں بیٹھے ہیں بس “
ٹھیک ہے میں ہی چلی جاتی ہیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔
۔
“ابھی نا جاؤ چھوڑ کے کہ دل ابھی بھرا نہیں “
اُس کو جاتا دیکھ کے مدثر نے اپنی بے سوری آواز میں گانا شروع کیا ۔۔۔۔۔اور کلاس میں اونچے اونچے قہقہے سنائی دینے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
۔
“کہاں ہو تم ملکہ ؟”
وہ گراؤنڈ میں کھڑا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔جہاں پہ بھی و اُس کو ایک دفعہ بھی نظر آئی تھی ۔۔۔اُس نے ہر جگہ دیکھا ۔۔۔۔۔کہیں تو وہ اُس کو ایک بار نظر آ جائے ۔۔۔۔۔
۔
“سر وجدان “
“جی “
“آپکو لائبریری میں میم بولا رہی ہیں ۔۔”
“آپ سے ایک ٹاپک ڈسکس کرنا تھا اُنکو “.
وہ اُس کے ڈیپارٹمنٹ کے باہر کھڑا اُس کو اِدھر اُدھر ڈھونڈ رہا تھا کہ ایک لڑکی اُس کے پاس آئی۔۔۔۔اور مم فائزہ کا میسیج دیا ۔۔۔
“لائبریری میں ہیں وہ ؟ “
اُس نے بیزاری سے اُس سے پوچھا ۔۔۔۔جیسے وہ وہاں پہ نہ جانا چاہتا ہو۔ اُس نے تو ابھی اُس کو دیکھنا ہے۔ ۔۔۔۔ لائبریری میں تو بہت وقت لگ جائے گا۔ ۔۔
۔
“جی سر وہ لائبریری میں ہیں ۔۔۔۔۔انھوں نے ٹاپک ریلیٹڈ بوکس وہاں نکالی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔تو وہ کہے رہی تھیں وہیں پہ ڈسکس ہو جائے “.
اُس لڑکی نے اُس کو تفصیل سے بتایا!! ۔
۔
“ٹھیک ہے میں جاتا ہوں لائبریری “
وہ اُس لڑکی کو بجھ کے اپنے اُسی انداز میں دوڑتا ہوا جانے لگا ۔۔۔
۔
۔
“آپ سے بات کر کے ہمیشہ ہی اچھا لگتا ہے عائشہ”
وہ لائبریری میں بیٹھی اُس لڑکی سے باتیں کر رہی تھی!!!
۔
“مجھے بھی آپ سے بات کر کے بہت خوشی ہوتی ہے “
اچھا زرمینہ اب میں چلتی ہوں ….میری کلاس کا بھی وقت ہو گیا ۔۔۔۔۔آج ما شاء اللہ ہماری اچھی بات ہو گی ۔۔۔۔
“آپ یہیں پہ ہیں ابھی زرمینہ ؟”
۔
“نہیں نہیں میں بس آپ کی وجہ سے اتنا بیٹھ گی ۔۔۔میں چلتی ہوں ابھی “
اُس نے اپنا حجاب صحیح کیا اور وہاں سے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔
۔
“وجدان صاحب لیٹ ہو گے ہیں آپ “
مم فائزہ نے اُس کو آتے ہوئے دیکھ لیا تھا ۔اور دور سے ہی دبی آواز میں مسکراتے ہوئے اُس کو بولا ۔۔۔۔۔
۔
وہ جو اٹھنے لگی تھی وہیں کی وہیں رہ گی ۔۔۔۔اُس کا نام سنتے ہی اُس کے اُٹھتے قدم وہیں روک گے ۔۔۔۔محبت کہاں اختیار میں ہوتی ہے ۔۔۔۔۔وہ جو کچھ پل پہلے محبت سے دسبرداری چاہتی تھی ۔۔۔۔اُس کو دیکھتے ہی سب بھول گئی ۔۔۔۔۔
۔
“سوری سوری لیٹ ہو گیا “
وہ وہیں سے معذرت کرتا کرتا آ رہا تھا جیسے ہی اُس کی نظر سامنے بیٹھی اُس لڑکی پہ پڑی۔۔۔۔۔وہ ہل نہ سکا ۔۔۔مزید کچھ بول نہ سکا ۔۔۔۔۔
۔
وہ وہیں کھڑا ہوا ۔۔۔۔آنکھیں بند کیں۔۔۔۔۔دل میں الحمدللّٰہ کی صدا گونجی ۔۔۔اُس کا دل چاہ وہ جو اگلا قدم اٹھائے وہ اُس لڑکی کی طرف ہو جو سامنے نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
۔
“وجدان صاحب کیا سوچ رہیں ہیں جلدی آئیں”
مم فائزہ کی آواز پہ وہ چونکا اور اُنکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
“جی جی میں آ رہا ہوں”
مسکراتے ہوئے وہ اُن کے پاس گیا کُرسی اُس کی طرف کی جہاں سے وہ نظر آئے اور بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
۔
اِس دوران اُس کی نگاہوں نے بس اُسی کا طواف کیا ۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتی تھی ۔۔۔۔وہ جو اُس کے سامنے نظریں جُھکا لیتا تھا۔۔۔۔۔وہ اُس کو غور غور سے دیکھا کرتی تھی ۔۔۔۔وہ اُس کو ایسے دیکھتی تھی ۔۔۔۔جیسے آج آخری بار اُس کا دیدار کر رہی ہے۔ اُس کے بعد یہ لمحے اُس کو کھبی میسر نہیں ھوں گے ۔۔۔۔۔۔
۔
“زرمینہ چلیں پھر “.
عائشہ نے کُرسی سے اپنا بیگ اٹھاتے ہوئے اُس کو کہا جو محبوب کی زیارت کیے بیٹھی تھی ۔۔۔۔اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی ۔جیسے اب وہ کھبی اُس کو دیکھ نہیں پائے گی ۔۔۔۔ وہ اُس کو اپنی آنکھوں میں قید کر رہی تھی ۔۔۔۔۔۔آنکھوں سے دل میں اُتار رہی تھی۔
۔
“زرمینہ چل رہی ہیں آپ”
اُس نے اُس کو کھویا ہوا دیکھا اور ایک بار پھر پوچھا۔۔۔۔۔وہ جو کسی اور ہی جہاں میں تھی ۔۔فوراً اٹھی بیگ لیا اور جانے لگی۔ ۔۔۔۔
۔
وہ اُس کو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ اُس کو روکنا چاہتا تھا ۔۔۔۔اُس سے پوچھنا چاہتا تھا وہ کدھر تھی۔ موبائل کیوں بند ہے ۔۔۔۔۔اُس کو اپنا حال دل سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔اُس کو بتانا چاہتا تھا۔ یہ ہجر کی راتیں اُس پہ کیسی گزرتی ہیں ۔۔۔۔وہ کہنا چاہتا تھا وہ مر جائے گا تمھیں بغیر ۔۔۔۔۔مگر اِس سب سے زیادہ اہم تھی اُس کی عزت ۔۔۔۔۔وہ تو اُس کا نام نہیں لیتا ۔اُس کو اتنے لوگوں میں کیسے روک لے ۔۔۔۔اُس کو لوگوں کی نظروں میں کیوں لے ائے۔۔۔۔۔وہ تو اُس کو اپنے آپ سے بھی چھپاتا تھا ۔۔۔دنیا کے سامنے اُس کو کیسے لے آئے؟ محبت کی پہلی شرط ہی عزت ہوتی ہے ۔۔۔۔عزت کے بغیر محبت کا کوئی وجود نہیں ہوتا ۔۔۔۔وہ محبت سے زیادہ اُس کی عزت کرتا تھا ۔۔۔۔اُس کی عزت کا مان رکھتا تھا۔۔۔۔۔
۔
وہ جا رہی تھی ۔۔۔اور وہ اسکو جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
((((((((اگلی قسط کے لیے شکریہ کا میسج کریں)))))
..
قصہ ابھی حجاب سے ، آگے نہیں بڑھا میں آپ، وہ جناب سے ، آگے نہیں بڑھا
مدت ھوئی کتاب ِ محبت شروع کِیے
لیکن میں پہلے باب سے آگے نہیں بڑھا
لمبی مسافتیں ہیں ، مگر اس سوار کا
پاؤں ابھی رکاب سے ، آگے نہیں بڑھا
رخسار کاپتانہیں آنکھیں تو خواب ہیں دیدار ابھی نقاب سے ، آگے نہیں بڑھا
وہ لذت ِ گناہ سے ، محروم رہ گیا
جو خواہش ِ ثواب سے آگے نہیں بڑھا!!!!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اماں آپ ابو کو منائیں ۔۔۔۔۔ابو کو بولیں وجی اُس لڑکی کے بغیر نہیں رہ سکتا “
فاطمہ ماں کے پاس بیٹھی اُن کو بتا رہی تھی ۔۔۔۔اُن کو بتا رہی تھی اُن کا بیٹا کیسے اُس لڑکی سے دیوانوں کی طرح محبت کرتا ہے۔ کیسے اُس کے عشق میں پاگل ہوا جاتا ہے ۔۔۔
۔
“فاطمہ ہم سید ہیں ۔۔۔۔ہمارا اپنا مقام ہے ہم باہر کسی قوم سے لڑکی کیسے لے آئیں؟”
۔
“اماں جب آپ یہ بات کرتی ہیں نا مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے ۔۔۔۔۔آپ کی اور ابو کی اِن باتوں کی وجہ سے آج ہماری زندگی تباہ ہوئی ہے ۔۔۔۔آپ کو کیا لگتا ہے ہم انسان نہیں ہیں ہماری کوئی خواہشیں نہیں ہیں ؟”
ماں کی اِس بات پہ اُس کا وجود جلا تھا ۔۔۔۔وہ جو سالوں سے چپ تھی ۔۔آج بول رہی تھی ۔۔۔وہ بیٹی تھی۔ آج بھی اپنے حق میں نہیں بول رہی تھی ۔۔۔وہ بہن تھی۔ ۔۔۔۔۔اپنے بھائی کے لیے بول رہی تھی ۔
۔
“تو کیا کریں ہم ؟ تم لوگوں کو پکڑ کے باہر دے دیں؟”
اماں مجھے نہیں سمجھ آتی کب بدلے گی آپ لوگوں کی یہ سوچ ۔۔۔۔کب آپ لوگ اپنی اولاد کا بھی سوچیں گے ۔نا جانے کب آپ لوگوں کو سمجھ آئے گی ۔۔۔ہم بیٹیوں کے سینے میں بھی دل ہے ۔۔۔۔اماں ہر لڑکی کا ارمان ہوتا ہے ۔۔۔اُس کی شادی ہو ۔اُس کے ہاتھوں پہ بھی مہندی لگے ۔۔۔وہ بھی شادی کا سُرخ جوڑا پہنے ۔۔۔۔۔۔اُس کا شوہر ہو ۔۔۔۔جو اُس کا خیال رکھے ۔۔۔۔اُس کا اپنا گھر ہو ۔۔۔۔اُس کے بچے ہوں ۔اُس کو بھی ماں بننے کا شرف حاصل ہو ۔۔۔۔۔اُس کے پیروں کے نیچے بھی جنت ہو ۔۔۔۔۔
۔
وہ ایسے باتیں کر رہی تھی ۔جیسے کوئی خواب سنا رہی ہو ۔جیسے کوئی کہانی ہو ۔جو وہ بڑی چاہوں کے ساتھ ماں کو سنا رہی ہو ۔۔۔۔۔
۔
“فاطمہ بس کر جاؤ “
ماں نے اپنے دل پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ۔جیسے بیٹی کا دُکھ اب اور نہیں سن سکے گی ۔۔۔۔۔اور نہیں برداشت کر سکے گی ۔۔۔۔یہ تو ایک بیٹی بول رہی تھی ۔اب تو باقی چار رہتی تھیں ۔۔۔۔۔جن کے اپنے ارمان ہیں ۔۔۔۔۔اپنے خواب ہیں ۔۔۔۔اپنی خواہشات ہیں ۔۔۔۔۔
