Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hawas (Epispde 14)

Hawas by Urwa Fatima

شادے یہ بچہ کون ہے،،

بابا سائیں یہ ذیشان ہے کل ہی دو سال قیدِ با مشقت کے پورے کر کہ آیا ہے ادھر،

کم سن ہے،،

جی بابا سائیں پر اللّٰه جانے کیا ہے اس کو بولتا نہیں ہے کچھ، اس کا نام بھی وہ اپنا نوازا ہے نا اس نے بتایا مجھے ،،

اچھا اچھا، بابا سائیں نے دور سے ہی ذیشان کا جائزہ لیا

بابا سائیں آج کا سبق آخری سبق ہے نا تو کل سے ہم کیا پڑھیں گے،

شادے یہ سبق ہے تو آخری سبق لیکن ختم ہونے والا تھوڑی ہے ہم دوبارہ سے شروع کریں گے،

جی بابا سائیں جو حکم،،

۔۔

۔۔

ذیشان یار ادھر بیٹھا ہے تو کب سے ڈھونڈ رہا ہوں میں،،

کیوں ڈھونڈ رہے تھے، ذیشان نے کنکر ہوا میں اچھالا

آ جا چل بابا سائیں کے پاس چلتے ہیں سب وہیں گئے ہیں،،

مجھے کہیں نہیں جانا تم جاو،

یار اب تو بس کر دے کتنا وقت ہو گیا ہے تجھے یہاں،

ذیشان ہنوز خاموش رہا

تجھے پتا ہے جب میں یہاں آیا تھا اٹھارہ سال کا تھا ماں پہلے مر گئی تھی اور باپ کو اسکی دوسری بیوی اور اس کے عاشق نے مار دیا

اور الزام مجھ پر لگا دیا

پندرہ سال قید ہو گئی مجھے جیل میں کوئی دن ایسا نا تھا جب میں روتا نہیں تھا

پھر ایک دن بابا سائیں سے ملاقات ہوئی انکی باتوں نے بہت ڈھارس دی مجھے

ذیشان اللّٰه غم دیتا ہے تو غم کو کم کرنے کے طریقے ساتھ دے دیتا ہے

تین چار سال بڑا ہوں تجھ سے اس لحاظ سے تجربہ بھی ذیادہ ہے میرا،

اچھا تو اللّٰه نواز صاحب کیا کہتا ہے آپ کا تجربہ،،

ذیشان صاحب میرا تجربہ یہ کہتا ہے کہ اللّٰه کا ذکر اور اللّٰه والوں کی محفلیں جہاں اللّٰه کی باتیں ہوں سکونِ قلب کا ذریعہ ہوتی ہیں، نوازا سچ کہہ رہا ہے یار ایک بار چل تو سہی

ذیشان نے غور سے نواز کے چہرے کو دیکھا اور کچھ دیر بعد اٹھ کھڑا ہوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رضا چاۓ بنا دوں،،

نہیں ابھی نہیں ارحم آ جاۓ اس کے ساتھ پیوں گا چاۓ،،

سب پہلے جیسا کب ہو گا رضا،،

انشاء الله بہت جلد اللّٰه کی ذات سے مایوس نہیں ہوتے فرحت بیگم

ویسے کتنا اچھا ہو گیا نا صالحہ اور رافع آ گئے ہم سے ملنے،

ہاں واقعی میرا تو سیروں خون بڑھ گیا فرحت اس دو گھڑی کی ملاقات کے بعد،،

کاش رضا ذیشان وہ سب نا کرتا، فرحت نے بے خیالی میں کہہ دیا

لگتا ہے آج ارحم نہیں آۓ گا تم مجھے چاۓ بنا دو،،

جی اچھا ، فرحت فوراً کمرے سے نکل گئیں

آنٹی روہان بھائی کہاں نے، نمرہ کی نرس ماریہ کمرے سے بھاگتی ہوئی آئی

روہان تو میرا خیال ہے لائبریری گیا ہے لیکن تم کیوں گھبرائی ہوئی ہو نمرہ تو ٹھیک ہے نا،،

نہیں آنٹی نمرہ کی حالت بگڑ رہی ہے اور ڈاکٹر ہارث کال نہیں اٹھا رہے،،

تو تم روہان کو کرو نا فون،،۔

آنٹی ان کا نمبر بھی نہیں مل رہا میں نے ٹراۓ کیا ہے ماریہ پریشانی سے بولی

فرحت تیز تیز قدم اٹھاتی اندر گئیں اور ارحم کو فون کیا

دوسری بیل پہ ہی کال پک کر لی گئی

اسلا و علیکم ممانی،،

ارحم ، ارحم بیٹا وہ ہارث کو لے کر جلدی گھر آو نمرہ کی حالت خراب ہو رہی ہے،،

میں پہنچ رہا ہوں ممانی آپ فکر نا کریں

فرحت فون رکھ کر سیدھا نمرہ نے کمرے میں آئیں،

ایسے لگ رہا تھا جیسے نمرہ کا سانس اکھڑ رہا ہو

ماریہ نے آکسیجن لگا دی لیکن کوئی اثر نا ہوا

قریب قریب آدھے گھنٹے تک ارحم ڈاکٹر ہارث اور روہان کے ساتھ گھر پہنچا

تینوں نمرہ کے کمرے میں آ گئے جہاں فرحت اور رضا پہلے سے موجود تھے

فرحت کے آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے

ماریہ آکسیجن اتار دو،۔

لیکن سر انکا سانس اکھڑ رہا ہے،،

آکسیجن اتار دو، ہارث نے دوبارہ کہا

نیند کا انجکشن تو نہیں دیا،،۔

نہیں سر،،

ڈاکٹر ہارث نے نمرہ کی آنکھیں باری باری چک کیں

یہ انجکشن ابھی لے کر آؤ ڈاکٹر ہارث نے ایک پرچی ارحم کی طرف بڑھائی

جسے لے کر ارحم فوراً چلا گیا

بیٹا کوئی خطرے کی بات تو نہیں ہے رضا صاحب نے ڈرتے ہوۓ سوال کیا

انکل اللّٰه پہ بھروسہ رکھیں،،

دس منٹ بعد ارحم انجکشن لے کر آ گیا

تو ڈاکٹر نے نمرہ کو انجکشن کا ایک حصہ لگایا جس سے نمرہ کے ہاتھ برف کی طرح ٹھنڈے ہو گئے

ماریہ دوسری طرف سے آئیں اور نمرہ کے ہاتھ کی ہتھیلی مسلیں اور دوسرے ہاتھ کو ڈاکٹر ہارث نے خود رب کرنا شروع کر دیا

یہ تمام کاروائی سب کھڑے غور سے دیکھ رہے تھے سب کا سانس سولی پہ لٹکا ہوا تھا کہ ناجانے اب کیا ہو گا

تین گھنٹے گزر گئے نمرہ کی سانسوں کی رفتار مزید بڑھ گئی اتنی کہ وہاں کھڑا ہر شخص اس کی سانسوں کی آواز سن رہا تھا

یک دم نمرہ چینخ اٹھی اور ماریہ اور ہارث سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے

سب کے سب دنگ رہ گئے کیوں نمرہ مسلسل چینخ رہی تھی اور دونوں ہاتھ اپنے کانوں پہ رکھے ہوۓ تھے

ارحم روہان اس کو مضبوطی سے پکڑو ڈاکٹر نے دونوں کو تائید کی

اور پھر نمرہ کو نیند کا انجکشن لگا دیا

کچھ کی منٹوں میں نمرہ ارحم کے بازوؤں میں گر گئی

فرحت بیگم بت بنی دیوار کے ساتھ لگی کھڑی تھیں

روہان اور ارحم نے نمرہ کو بیڈ پہ لٹایا

اور سب کمرے سے باہر نکل آۓ

بہت مبارک ہو انکل اللّٰه نے آپ سب کی سن لی، ہارث نے رضا صاحب ک گلے لگایا

رضا صاحب نے ہارث کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے بیٹا تمہارا احسان ہم کیسے اتاریں گے،

انکل مجھے شرمندہ تو نا کریں میں نے بس اپنا فرض ادا کیا ہے

اور آج مجھے لگ رہا ہے میں کامیاب ہو گیا ہوں کیونکہ اکثر کومہ میں جانے والے لوگ حوش میں نہیں آتے

میرے اللّٰه نے آج سرخرو کر دیا مجھے،،

جیتے رہو بیٹا خدا دنیا کی ساری خوشیاں تمہارے دامن میں لکھ دے، فرحت نے آنسو صاف کرتے ہوۓ دعا دی

بس آپ سب اسی طرح دعاؤں میں یاد رکھیے گا ہمیشہ اور کچھ نہیں چاہیے

باقی رہی بات نمرہ کی تو وہ کل تک نہیں اٹھے گی اور اگر اٹھ بھی گئی تو ماریہ انکو دوبارہ انجکشن لگا دئیں گی

کیونکہ کم سے کم بارہ گھنٹے سونا ضروری ہے نمرہ کے لیے

میں کل آؤں گا ابھی کے لیے اجازت دئیں،،۔

ارے ایسے کیسے بیٹا رات کے کھانے میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے کھانا کھا کر جانا،

نہیں آنٹی آج کی معذرت کیونکہ آج کا کھانا باہر کھانے کی فرمائش ہے بیگم کی

نمرہ بلکل ٹھیک ہو جائے پھر میں ضرور ایک اچھی سی دعوت کرواوں گا آپ لوگوں سے اپنی،

ہارث نے ہنستے ہوئے کہا

ضرور بیٹا ضرور سو بسم الله ،

اوکے جی خدا حافظ،

خدا حافظ بیٹا رضا صاحب نے کہا

ماموں ہماری نمرہ ٹھیک ہو گئی ارحم رضا صاحب کے گلے لگ گیا

یہ سب تمہاری دعاؤں کا اثر ہے میرے بچے،،

ماموں میں آج یہیں رہ جاؤں کیا پتہ نمرہ جاگ جائے اور اسے کسی چیز کی ضرورت ہو۔

بیٹا تم نے سنا تو ہے جو ہارث نے کہا اس لیے آج جاؤ گھر آرام کرو کل رک جانا بلکہ ایسا کرنا عابدہ اعجاز اور فاریہ کو بھی بلا لینا،،

اچھا ماموں جیسا آپ کہیں

فرحت کھانے کا انتظام کرو،، رضا صاحبارحم کے ساتھ کمرے کی جاتے ہوئے بولے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آ جا ادھر بیٹھ نواز نے ذیشان کو اپنے ساتھ بٹھایا

ذیشان نے دیکھا کہ تمام لوگ ترتیب سے بیٹھے ہوئے تھے اور ایک پچاس پچپن سالہ آدمی ان سب کے سامنے بیٹھا تھا جو شاید بابا سائیں تھا

ذیشان خاموشی سے ایک کونے میں جا بیٹھا

۔

اسلام و علیکم و رحمتہ الله وبرکاتہ سامنے بیٹھے شخص نے بلند آواز میں سلام کیا

وعلیکم اسلام و رحمتہ الله و برکاتہ حاضرینِ محفل نے یک زبان جواب دیق

اللّٰه کے لیے آنے والا ایک قدم دنیا کے ہزاروں قدوموں سے بہتر ھے

اور اللّٰه کی بات یعنی قرآن پاک کو خاموشی سی سننا اور سمجھنا ہم پر لازم ہے آج ہم ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں ہم اللّٰه کی باتیں کریں گے

اور اللّٰه کی باتیں کہاں ہوتی ہیں

ذرا توقف کے بعد بابا سائیں دوبارہ بولے

قرآن مجید ،

ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم

کی کتاب ، سر چشمہ ہدایت میں ،،

آج کا سبق ہے “الحمد اللہ” ،

آپ میں سے تقریباً ہر ایک کو الحمد اللہ کا ترجمعہ آتا ہو گا

لیکن آج سے ہم سمجھیں گے کہ ہمارا رب ہمیں اپنے کلام کے ذریعے کیا کہہ رہا ہے

جیسا کہ اللّٰه فرماتا ہے

اس قرآن میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں

تو آج الحمد اللہ کے آغاز سے ہم عقل والا بننے کی کوشش کریں گے

انشاء الله ، حاضرینِ محفل یک زبان بولے

اب تک اس محفل میں قیدیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار بھی شامل ہو چکے تھے

بابا سائیں نے مناسب آواز می انتہائی شگفتہ لہجے میں آغاز کیا

بسم الله الرحمن الرحیم

شروع الله کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے

ہر کام کو اللّٰه کے نام سے شروع کرنا ہر مسلمان کی عادت ہونی چاہیے کیونکہ جس کام میں اللّٰه کا نام نہیں لیا جاتا اس میں برکت کیسی

کیونکہ اللّٰه ہی تو ہے جو ہمشیہ رہنے والا ہے اور ساتھ نبھانے والا ہے یہ تو بندہ ہے جو اللّٰه کو چھوڑ جاتا ہے

لیکن چھوڑ جانے والے کے لیے بھی وہ رب دروازہ کھلا رکھتا ہے

بھلائی کا دروازہ ہدایت کا دروازہ

چلیے سب سے پہلے تو اس بات پہ سب الحمد الله کہیے کہ اس رب نے ہم پہ احسانِ عظیم کیا ہمیں اپنے نبی کا امتی بنایا

احسان ہے نا یہ ،

کیوں بیٹے اگر ہم کافر پیدا ہو جاتے یا عیسائی پیدا کیے جاتے تو کیا کر لیتے ہم، بابا سائیں نے نواز کی طرف دیکھ کر سوال کیا

نواز نے نفی میں سر ہلا دیا، کچھ بھی نہیں بابا سائیں

لیکن اب جبکہ ہم مسلمان پیدا ہو گئے ہیں تو الحمد الله تو کہہ سکتے ہیں نا

تو دل سے کہیے الحمد اللہ

سب نے الحمد الله کہا مگر

ذیشان گود میں اپنے دونوں ہاتھ رکھے نظریں ہاتھوں پہ جماۓ کسی بچے کی طرح خاموش بیٹھا رہا

بابا سائیں کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی

۔۔

سورۃ الفاتحہ قرآن پاک کی پہلی سورت ہے جبکہ ترتیبِ نزولی کے اعتبار سے پانچویں سورت ہے

روایت میں آیا ہے کہ:

الحمد اللہ کا کہنا میزان کو بھر دیتا ہے

(صحیح مسلم)

“سب تعریفیں اللّٰه کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا• بدلے کے دن (یعنی قیامت) کا مالک ہے• ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں• ہمیں سیدھی راہ دیکھا، ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام کیا • ان کی نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ گمراہوں کی “

بابا سائیں نے سورۃ الفاتحہ کا ترجمعہ بلند آواز میں پڑھا

پہلی آیت میں آیا ہے کہ

تمام تعریفیں اللّٰه کے لئے ہیں رب العالمین کے لیے

رب العالمین کون ہے تمان جہانوں کا رب

صرف ہماری دنیا کا نہیں، اگر ہم غور کریں تو یہ صرف ہماری دنیا کی بات نہیں ہو رہی کل کائنات کی بات ہو رہی ہے جس میں ہماری دنیا تو بہت بہت ذیادہ حقیر ہے اور اس حقیر سی دنیا میں ہم گناہوں سے بھرے ہوئے

لیکن وہ رب پھر بھی پھر بھی ہمیں رزق دیتا ہے وہ ہمارے عیبوں کو چھپاۓ بیٹھا ہے

تو کیوں نا شکر ادا کریں ہم

کیوں میرے بچوں شکر تو فرض ہے نا ہم پہ

اور پھر اس شکر کا طریقہ بھی اس پاک ذات نے ہم کو دے دیا کہ اس طرح سے شکر ادا کرو

ایسا ہی ہے نا میرے بچوں بابا سائیں نے مسکرا کر سب کی طرف دیکھا

سب نے اثبات میں سر ہلایا

لیکن ذیشان ویسے ہی خاموش ہاتھوں کو تکے جا رہا تھا

بابا سائیں نے دوبارہ سے بولنا شروع کیا

سب تعریفیں اس اللّٰه کے لیے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے وہ تمہیں بھی پال رہا ہے رزق دے رہا ہے وہ پتھر میں موجود اس کیڑے کو بھی رزق دے رہا ہے جو نظر نہیں آتا

تو کرو شکر اس رب کا جو بڑا مہربان ہے

یہ مہربانی ہی تو ہے کہ وہ دیکھ رہا ہے

ہم نافرمانی کر رہے ہیں وہ دیکھ رہا ہے ہم جھوٹ بول رہ ہیں وہ سب دیکھ رہا ہے پھر بھی کچھ نہیں کہہ رہا کسی کو نہیں بتا رہا

مہربانی ہے نا یہ

اور رحم کرنے والا ہے

ہمارے گناہوں کی حد یہ ہے کہ پہاڑوں سے بڑے ڈھیر بن گئے ہیں اور ایک بار ہم کہتے ہیں بندہ کہتا ہے یا اللہ مجھے معاف کر دے میں توبہ کرتا ہوں

وہ رب اتنا رحیم ہے اتنا رحیم ہے کہ ندامت کہ ایک آنسو پہ معاف کر دیتا وہ نہیں پوچھتا کیا کر کے آۓ ہو وہ نہیں پوچھتا اب کیا کرنے آۓ ہو

وہ بس کہتا ہے لوٹ آۓ ہو آ جاؤ

میرے پیاروں ایک آنسو تو بہاو اس رب کے آگے وہ سات سمندروں کا مالک تمہارے ایک آنسو سے محبت کرتا ہے۔۔

بابا سائیں نے لمبا سانس لیا

بابا سائیں وہ رب اتنی جلدی مان جاتا ہے کیا، محفل میں سے کسی نے سوال کیا

ہاں بلکل وہ مان جاتا ہے وہ جو تمہارے عیبوں کو سارے جہان سے چھپاۓ ہوۓ ہے وہ کیسے نہیں معاف کرے گا

بس اس کے پاس سچے دل اور سچی توبہ کے ساتھ جانا وہ تمہارے گناہوں کو نیکیوں میں بدل ڈالے گا

۔

عشا۶ کا وقت ہو گیا ہے چلیے سب نماز دا کریں آج کا لیکچر یہیں پہ ختم ہوتا ہے

سب اٹھ کھڑے ہوۓ سواۓ ذیشان کے

۔۔

چل بھئ اٹھ لوک اپ میں چل ایک اہل کار نے ذیشان کو آ کے اٹھایا

کیونکہ قیدیوں کے جیل سے باہر احاطے میں آنے جانے کا وقت مقرر تھا

عشاء کے بعد سب کو واپس بند کر دیا جاتا تھا

بابا سائیں نے اہکار سے رک جانے کا کہا تو وہ واپس چلا گیا

کیا ہوا بیٹا،،

ذیشان نے چونک کر آواز دینے والے دیکھا اور دوبارہ منہ نیچے کر لیا

کچھ نہیں ،،

نماز نہیں پڑھتے آپ بیٹا ،،

نہیں،،

مگر کیوں،،

شرم آتی ہے،،

شرم ، شرم کس سے آتی ہے بیٹا آپ کو،،

اللّٰه سے،،

ذیشان نے جیسے بات ختم کی اور اٹھ کر چلا گیا

۔۔

بستر پہ آ کہ ذیشان بابا سائیں کی کہی باتیں سوچنے لگ گیا

کیا اللّٰه واقعی اتنی جلدی سن لیتا ہے

کیا میری بھی سن لے گا

کئی سوال پیدا ہو رہے تھے جن کا جواب ذیشان کے پاس نہیں تھا

اور ان جوابات کے لیے وہ بابا سائیں کے پاس جانے کا ارادہ رکھتا تھا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح سے ہی سب گھر والے نمرہ کے کمرے میں موجود تھے

ارحم ،فاریہ اور عابدہ بھی آ چکے تھے

سب منتظر تھے کہ کب نمرہ اٹھ کر باتیں کرے گی ان سب سے

دوپہر کے ایک بجے نمرہ نے ہلکی سی آنکھیں کھولیں

اور سامنے ماریہ کو دیکھ کر حیران ہو گئی

امی، نمرہ نے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے آواز دی

فرحت بھاگ کر نمرہ کی طرف گئیں

امی صدقے جی میری جان

باقی سب بھی نمرہ کی طرف لپکے

سب کے سب بیڈ کے قریب کھڑے ہو گئے

اتنے میں ماریہ ڈاکٹر ہارث کو بلا لائی جو روہان اور ارحم کے ساتھ لاونج میں موجود تھے

نمرہ حیرانی سے ایک ایک کی طرف دیکھ رہی تھی

امم ہممم ایسے رش نہیں کریں ایک جگہ بیٹھ جائیں آپ سب ورنہ نمرہ کو گھبراہٹ ہو گی

ہارث کے کہنے پر سب ہٹ گئے

امی یہ یہ کون ہے نمرہ نے ہارث کو حیرانی سے دیکھا

یہ ہارث ہے تمہارا ڈاکٹر

کیسی ہو نمرہ، ہارث نے مسکرا کر سوال کیا

نمرہ نے کچھ دیر خاموشی سے ہارث کو دیکھا اور پھر آہستہ سے بولی

ٹھیک،،

اچھا چلیں شاباش پھر اٹھ کر بیٹھیں

ہارث کے اشارہ کرنے پر ماریہ نے نمرہ کو ٹیک لگوا کر بیٹھایا

نمرہ نے محسوس کیا جیسے اس نے کب سے پانی نہیں پیا اور گلا اتنا سوکھا ہوا تھا کہ کانٹے لگ رہے تھے گلے میں

امی پانی،

ماریہ نے پانی کا گلاس فرحت بیگم کو پکڑایا

جسے انھوں نے نمرہ کو اپنے ہاتھوں سے پلایا

نمرہ یہ کون ہے ہارث نے فرحت بیگم کی طرف اشارہ کیا

امی ہیں ،،

اور یہ کون ہے،،

ابو ،،

اچھا نمرہ یہاں پہ کھڑے سب لوگوں کے نام بتاو باری باری،،

عابدہ پھوپھو

روہان بھائی

فا فاریہ

اور یہ ارحم ہیں

ارے واہ نمرہ آپ کو تو سب یاد ہے، ڈاکٹر ہارث نے کہا تو سب نے شکر کا کلمہ پڑھا

ہارث کے کہنے پر روہان نے موبائل میں نائلہ اور بلال کی شادی کی تصویر نکالی اور نمرہ کے آگے کی

اچھا یہ کون ہے نمرہ،،

نائلہ آپی ہیں اور یہ یہ بی بلال بھائی ہیں

بلال کے نام پہ نمرہ نے رک رک کر جواب دیا

ذیشان بھائی کہاں ہیں، نمرہ نے سوال کیا

وہ وہ باہر گئے ہوۓ ہیں روہان نے جواب دیا

امی وہ نائلہ آپی کی شادی ہو گئی، ہاں ہاں ہوگئی

ہاں وہ وہ آیا تھا شادی پہ امی وہ آیا تھا ، نمرہ خود سے ناجانے کیا کیا بولنے لگ گئی

نمرہ کوئی نہیں آیا تھا بیٹا تم سکون کرو مت سوچو کچھ

نہیں امی وہ پھر آجاۓ گا وہ ووہ کہہ رہا تھا مج مجھے لے جائے گا

نمرہ اب نہیں آۓ گا وہ روہان نے نمرہ کے سامنے بیٹھ کر اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے

نہ نہیں بھائی اس نے کہا تھا وہ مار دے گا وہ وہ گن لے کر آیا تھا ، نمرہ نے رونا شروع کر دیا

اب نہیں آۓ گا مر گیا ہے وہ ، روہان نے نمرہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

مر گیا مر گیا وہ ،نمرہ نے روہان کو دیکھتے ہوئے پوچھا

ہاں،

چلو اب تم سو جاو شاباش،،

ہاں ہاں سو جاتی ہوں امی امی یہیں رہنا آپ جانا نہیں

نمرہ نے فرحت بیگم کا ہاتھ تھامے رکھا اور بلکل گٹھڑی کی ماند لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں

ہارث روہان اور ارحم کے ساتھ باہر آگیا

روہان نمرہ کی میموری بلکل ٹھیک ہے الحمد اللہ

اب کرنا یہ ہے کہ وہ جو بولے آپ نے صبر اور خاموشی سے سننا ہے اس کی ہاں میں ہاں ملانی ہے اگر وہ کچھ بھول گئی ہے تو اس کے دماغ پہ ہر گز زور نہیں ڈالنا کہ یاد کرو وہ بات

باقی میری طرف سے الحمدللہ بلکل اوکے ہے نمرہ، ہارث نے تمام احتیاطی تدابیر بتا دئیں

جیسے آپ نے کہا ہم بلکہ ویسا ہی کریں گے، روہان نے جواب دیا

ٹھیک ہے اب میں چلتا ہوں کل نمرہ کو میرے کلینک لے آنا چیک اپ کے لیے

اوکے میں آپ کو چھوڑ آتا ہوں باہر تک ، ارحم ڈاکٹر ہارث کے ساتھ ہو لیا

(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *